سورج کی شہہ پہ تنکے بھی بیباک ہوگئے

:Share

امریکااورحامدکرزئی کے درمیان اختلافات اس نہج پرپہنچ گئے ہیں کہ اب امریکانے افغان الیکٹرانک اورپریس میڈیا میں کرزئی کے خلاف اشتہارات کی ایک بھرپورمہم شروع کر دی ہے جس کے جواب میں حامدکرزئی نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان تمام اخبارات اورٹی وی چینل کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیاہے جواس وقت امریکی ڈالروں سے استفادہ کرتے ہوئے امریکی مہم میں شامل ہیں ۔ حامد کرزئی نے اپنے ایک بیان میں میڈیاکو متنبہ کیاہے کہ اخبارات اورٹی وی چینل نے امریکی سرمایہ سے جو مہم شروع کررکھی ہے وہ افغان قانون کی صریحاًخلاف ورزی ہے، میڈیاایسے کاموں میں پڑنے کی بجائے افغان مسائل اجاگرکرے۔افغانستان کے تحقیقاتی اداروں نے کہاہے کہ ان اشتہارات اورمہم کے پیچھے بیرونی طاقت موجودہے جو بڑے پیمانے پرمیڈیامیں ڈالرزتقسیم کررہی ہے۔حامدکرزئی نے اس تشہیری عمل کوافغان حکومت اورعوام کے خلاف بیرونی دنیاکاکھلااعلان جنگ قراردیاہے۔کرزئی کاکہناہے کہ اس تشہیری مہم کے ذریعے بین الاقوامی برادری افغان قوم کو ڈرا رہی ہے کہ وہ امداد بند کر دیں گے ۔افغانستان کے تحقیقاتی ادارے کے سربراہ بصیرعزیزی کاکہناہے کہ مختلف ٹی وی چینلزاوراخبارات میں جاری یہ مہم غیرقانونی ہے اورکچھ بیرونی عناصراپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مہم کی پشت پناہی کررہے ہیں،اگراب کسی نے اس طرح کے اعلانات اورمہم جاری رکھی تواس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔یہ بھی پتہ چلاہے کہ کرزئی نے بعض اخبارات اور چینلز کے خلاف کاروائی کاحکم بھی جاری کردیاہے۔
دوسری جانب چندروزقبل افغان صدرنے کابل میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران امریکاپرشدیدتنقیدکرتے ہوئے کہاکہ امریکاکے ساتھ سیکورٹی معاہدہ طالبان سے امن مذاکرات سے مشروط ہے اورہم اس معاہدے کواسی صورت قبول کریں گے جب امریکاافغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان سے بات چیت کے آغازمیں مددکرے وگرنہ افغانستان میں نہ توکسی چیزکوقبول کریں گے اورنہ ہی اس معاہدے پردستخط کریں گے۔ کرزئی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم امن چاہتے ہیں اوراگرہماری شرائط امریکااوراس کے اتحادیوں کومنظورنہیں تو جب چاہیں افغانستان سے جاسکتے ہیں،افغانستان امریکااوراس کے اتحادیوں کے بغیربھی قائم ودائم اورچلتارہے گا۔یکم جولائی ۲۰۱۴ء امریکی فوجیوں کا انخلاء شروع ہوجائے گا اوردسمبر۲۰۱۴ء تک ایک لاکھ سے زائدامریکی فوجی واپس چلے جائیں گے جس کے بعد امریکا کاافغانستان کے اندراڈوں کافضائی کنٹرول کم ہوجائے گاجبکہ انسداددہشتگردی کی کاروائیوں میں افغان فورسزکی مددکیلئے ۲۰۱۴ء کے بعددس ہزارامریکی فوجیوں کورکھا جائے گااوردس ہزارامریکی فوجی مزاحمت کاروں کے خلاف کاروائی کیلئے انتہائی کم ہیںتاہم یہ دس ہزارامریکی فوجی اسٹرٹیجک تنصیبات جس میں جدید جاسوسی کانظام اور ڈرون طیاروں کی حفاظت شامل ہے اوریہ فوجی صرف امریکی تنصیبات کی حفاظت کیلئے قندھار،بگرام،ہرات،جلال آباد، خوست اورمزارشریف میں رہیں گے۔تاہم یہ فوجی چھ اڈوں پرتقسیم کئے جائیں توانتہائی کم رہ جاتے ہیںجبکہ امریکانے کرزئی سے نوفوجی اڈے مانگے ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکاچاہتاہے کہ دس ہزارکے قریب اتحادی فوجی بھی اس کاساتھ دیں تاہم اتحادی ممالک نے ابھی تک اس بارے میںکوئی فیصلہ نہیں کیاہے۔
دوسری جانب طالبان نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کافیصلہ کیاہے اورپہلی باریکم اپریل سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں افغانستان کے صوبہ قندھار، ہلمند، زابل، ارزگان اوروسطی افغانستان جبکہ مشرقی افغانستان میں بھی بچیوں کی تعلیم پرعائدپابندی کوختم کرنے کااعلان کردیاہے ۔ اس حوالے سے افغان طالبان کے امیرملا عمرنے بچیوں کی تعلیم شروع کرنے کیلئے اپنے کمانڈروں کوخصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بچیوں کے اسکولوں کونشانہ بنانے اورانہیں تعلیم سے روکنے کی پالیسی ختم کردیں جس کے بعدان صوبوں میں قائم طالبان کی قیادت نے افغان حکومت کوآگاہ کردیاہے کہ وہ اس سال کے تعلیمی آغازپربچیوں کے اسکول کھولنے کیلئے تیارہیں جس کے بعدہلمند ،ارزگان میں بڑے پیمانے پربچیوں کے اسکولوں میں تعلیمی کتب پہنچائی جارہی ہیں اوراس سال افغانستان میں بڑی تعدادمیں بچیاں اسکول جاسکیں گی۔
ادھرامریکااوردیگرممالک نے انخلاء شروع کرنے ،افغان صدر کے ڈٹ جانے اورطالبان کے خالی کئے جانے والے علاقوںپرقبضے کے بعدپوست کی کاشت ختم کرنے کیلئے پوست کے بدلے اجناس دینے کی ایک پالیسی پرغورشروع کردیاہے ۔طالبان کے ایک باوثوق ذرائع کے مطابق افغان طالبان ،امریکاکے انخلاء کی صورت میں افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ہونے دیں گے اوراس کیلئے طالبان ایک وسیع البنیادحکومت قائم کرنے کیلئے تیارہیںاوران کی کوشش ہے کہ افغانستان میں تمام فریقوں کوملاکرایک معتدل اسلامی حکومت قائم کی جائے تاکہ طالبان افغانستان پربغیرکسی جنگ وجدل کے کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
دوسری جانب حامدکرزئی سابق امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس کی کتاب میں انکشافات کے بعد خاصے ناراض دکھائی دے رہے ہیں جس میں رابرٹ گیٹس نے تذکرہ کیاہے کہ امریکانے کرزئی کوانتخابات میں ہرانے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کی تھیں لیکن پاکستان نے کرزئی کوشکست سے بچالیا۔ حامدکرزئی کوجب مختلف اخباری ذرائع سے اس بات کاپتہ چلاتووہ خاصے برہم ہوئے اور انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھاکہ پاکستان نے کس طرح انہیں شکست سے بچایاتوان کوبتایاگیاکہ پاکستان کے تیس لاکھ سے زائدافغان مہاجرین کو پاکستان کے اندرصدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی سہولیات مہیا کی گئی تھیں جس کی وجہ سے پاکستان میں دس لاکھ میں سے نو لاکھ سے زائد ووٹ حامد کرزئی نے حاصل کئے اورافغان صدرنولاکھ ووٹوں سے ہی کامیاب ہوئے تھے اور حامد کرزئی کویہ بات معلوم ہوگئی کہ امریکانے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں پاکستان کے خلاف اکسایا۔ اس طرح حامدکرزئی معاہدے پردستخط سے انکاری ہیں۔ان کاکہناہے کہ اگرامریکی جانا چاہتے ہیں تووہ نکل جائیں۔
گزشتہ دنوں کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حامدکرزئی نے کہاکہ جب تک امریکااورپاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتے ، میں سیکورٹی معاہدے پردستخط نہیں کروں گا ۔ امریکاکوافغانستان میں آپریشن کاکوئی اختیارنہیں ہے،طالبان ہمارااندرونی معاملہ ہے ۔افغانستان امریکا اوراتحادیوں کے بغیربھی چل سکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سلامتی کی ضمانت کے بغیر امریکاکے ساتھ سیکورٹی معاہدے کاکوئی فائدہ نہیں ہے ،جب تک افغان حکومت کویقین نہیں ہوجاتاکہ معاہدے سے افغانستان کو فائدہ ہوتاہے ،وہ دستخط نہیں کریں گے۔امریکاافغانستان سے جانا چاہتا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔امریکانے کسی کولاکھوں ڈالر کے کنٹریکٹ دیئے ہیں اورکسی کو بموں سے نوازاہے ، بگرام جیل میں عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط کے الزام میں رکھے گئے قیدیوں پرتشددکرکے افغانوںکانظریہ عسکریت پسندوں کی طرف مائل کیاجارہاتھاہمیں معلوم ہے کہ طالبان کے ساتھ کیاکرناہے،یہ ہمارااندرونی معاملہ ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ لویہ جرگہ اس لئے بلایاگیاتھاکہ افغان عوام امریکاکے افغانستان میں رہنے کے مخالف نہیں ہیں لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ امریکاجوچاہے کرے۔
لہرارہی ہے برف کی چادرہٹاکے گھاس
سورج کی شہہ پہ تنکے بھی بیباک ہوگئے

اپنا تبصرہ بھیجیں