عالمی سیاست کی بساط پرکبھی مہرے خاموشی سے سرکتے ہیں اورکبھی تقدیرکےفیصلے توپوں کی گھن گرج میں لکھےجاتےہیں۔ اکیسویں صدی کایہ عہد،جسے بظاہر ترقی،سفارت اورعالمی اداروں کی حکمرانی کازمانہ کہاجاتاہے،درحقیقت قوت،مفاداورنظریاتی کشمکش کاایک ایساپیچیدہ تاناباناہے جس میں ہردھاگہ کسی نہ کسی قومی مفادسے بندھاہواہے۔ایران کاجوہری پروگرام بھی اسی عالمی کشمکش کاایک مرکزی باب ہے—ایک ایساباب جس میں سائنس،سیاست،خودمختاری ، مذہب،اورعالمی طاقتوں کی بالا دستی سب ایک دوسرے میں یوں پیوست ہیں جیسے شبِ تاریک میں بجلی کی لپک۔
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کایہ بیان کہ ایران کوپرامن مقاصدکیلئےیورینیم افزودگی کاپوراحق حاصل ہے محض سفارتی جملہ نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری خاموش شطرنج کی ایک چال ہے۔روس،جوخودکومغربی تسلط کے مقابل ایک متوازن قوت کے طورپرپیش کرتاہے،اس اصول کواجاگرکرتاہے کہ معاہدہ عدم پھیلاؤکے تحت ہرریاست کوپرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے۔یہ مؤقف بظاہرقانون اورانصاف کی پاسداری کاآئینہ دارہے، مگراس کے پس منظرمیں ایک گہراسیاسی فلسفہ کارفرماہے۔ روس جانتاہے کہ اگرایران کواس کے حقوق سے محروم کیاگیاتوعالمی نظام میں طاقت کاتوازن مزید یکطرفہ ہوجائے گا—اوریہی وہ نکتہ ہے جہاں اصول اورمفادایک دوسرے سے ہم آغوش نظرآتے ہیں۔
ایران کامؤقف نہایت دوٹوک اورغیرمبہم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے الفاظ میں یورینیم افزودگی ہماراناقابلِ تنسیخ حق ہے—اس پر نہ کوئی بات چیت ہوگی،نہ کوئی سمجھوتہ۔یہ بیان محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک تاریخی شعورکی بازگشت ہے ایران،جس نے صدیوں تک بیرونی مداخلت، استعماری دباؤاورداخلی انقلابات کاسامناکیا،اب اپنی خود مختاری کے ہرپہلو پرپہرہ دینااپناحق ہی نہیں بلکہ فرض سمجھتاہے۔یادرہے کہ قوموں کی خودی کوان کی بقاکی بنیادہوتی ہے،جس قوم نے اپنے حقِ حیات پرسوداکیا،اس نے اپنی تقدیرخود اپنے ہاتھوں سے مٹادی۔
یورینیم افزودگی بظاہرایک سائنسی عمل ہے،مگرجب یہی عمل عالمی سیاست کے دائرے میں داخل ہوتاہے تواس کی حیثیت محض تکنیکی نہیں رہتی بلکہ وہ طاقت کی علامت بن جاتاہے ۔ایران کیلئےیہ توانائی کاذریعہ ہے،سائنسی ترقی کی علامت ہے اورسب سے بڑھ کرقومی وقارکااستعارہ ہے جبکہ امریکااوراس کے اتحادیوں کیلئےیہی عمل ممکنہ جوہری ہتھیارسازی کاپیش خیمہ،علاقائی عدم استحکام کاسبب اورعالمی سلامتی کیلئےخطرہ قراردیاجاتاہے۔یہی تضاداس مسئلے کومحض ایک سائنسی بحث سے اٹھاکرعالمی سیاست کے مرکز میں لےآتاہے۔
ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق امریکانے مذاکرات کی بحالی کیلئےپانچ شرائط عائدکی ہیں،جن میں400کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی بھی شامل ہے۔یہ شرط بظاہراعتماد سازی کااقدام ہے،مگرایران کیلئےیہ اس کی خودمختاری پرایک کاری ضرب کے مترادف ہے ۔یہاں طاقتوراقوام کی پالیسیوں کاوہ منافقانہ اندازِ فکر نمایاں دکھائی دیتاہے جہاں وہ انصاف کے نام پراپنی برتری قائم رکھتے ہیں،اورامن کے نام پردوسروں کی آزادی محدودکرتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ اعلان کہ مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں—سعودی عرب،قطراورمتحدہ عرب امارات—کی درخواست پرایران پرحملہ مؤخرکردیا گیا،اس خطے کی پیچیدہ سفارت کاری کاعکاس اور ایک نہایت معنی خیزسفارتی اشارہ ہے۔یہاں ایک عجیب تضادنظرآتاہے،ایک طرف یہی ممالک ایران کے اثرورسوخ سے خائف ہیں اوردوسری طرف وہ کھلی جنگ کے نتائج سے بھی لرزاں ہیں۔یہ کیفیت بالکل اس شخص کی مانندہے جوسمندرکے کنارے کھڑاہو کرلہروں سے خوفزدہ بھی ہے اورانہی میں کشتی بھی اتارناچاہتاہے۔یا اس شطرنج کی مانند ہے جہاں ہرکھلاڑی دوسرے کومات دیناچاہتاہے،مگرخودشہ مات سے بھی بچنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق ایک ایسامعاہدہ ممکن ہے جوامریکامشرقِ وسطیٰ اوردیگرعالمی طاقتوں سب کیلئےقابلِ قبول ہومگرتاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایسے معاہدے اکثرکاغذپرتوخوشنماہوتے ہیں،مگرعملی دنیامیں مفادات کی آندھی انہیں اڑالے جاتی ہے۔ٹرمپ کایہ کہناکہ اگرمعاہدہ نہ ہواتوفوجی کارروائی کسی بھی وقت ممکن ہے،اس حقیقت کوعیاں کرتاہے کہ عالمی سیاست میں آج بھی قلم کی سیاہی کو تلوارکی دھارکاسایہ حاصل ہوتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اپنی آخری حدوں کوچھوتی ہے اورجنگ کاسایہ افق پرنمودار ہونے لگتاہے۔
امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کایہ بیان کہ صدرنے پاکستان کے کہنے پرپراجیکٹ فریڈم روکا،ایک نہایت اہم انکشاف ہے۔یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان اب بھی عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کرداراداکرسکتاہےاوروہ مشرق ومغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ کردار بظاہر خاموش سہی،مگراس کی گونج عالمی ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کابیان کہ کسی بھی احمقانہ اقدام کانتیجہ سخت اورفیصلہ کن ہوگا۔ان کاسخت لب ولہجہ دراصل ایک نفسیاتی اور دفاعی حکمت عملی کااظہارہے اور اس نفسیات کی عکاسی کرتاہے جس میں قومیں اپنی بقاکیلئےسخت لب ولہجہ اختیار کرتی ہیں اوردشمن کویہ باور کراتی ہیں کہ وہ کمزور نہیں ۔یہ بیان نہ صرف دشمن کوخبردارکرتاہے بلکہ داخلی سطح پرعوامی حوصلہ بلندکرتاہے اورقومی اتحادکومضبوط بناتاہے۔یہی وہ حربہ ہے جواکثر اقوام بحران کے وقت اختیارکرتی ہیں۔
ایران کاجوہری مسئلہ محض یورینیم کی افزودگی کاسوال نہیں بلکہ قومی خودمختاری،عالمی طاقتوں کی کشمکش،علاقائی سیاست اورتہذیبی شناخت کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔یہ ایک ایسامعرکہ ہے جس میں دلیل بھی ہے،طاقت بھی اورتاریخ بھی۔تاہم یہ داستان ابھی ادھوری ہے اس کے اوراق میں ابھی کئی ابواب باقی ہیں—امریکی شرائط کی تفصیل، ایران کی حکمت عملی، اسرائیل کا کردار،اورعالمی طاقتوں کی صف بندی کے بعدہی نتائج کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکانے مذاکرات کی بحالی کیلئےجوپانچ شرائط پیش کی ہیں،وہ بظاہرسفارتی نزاکت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں،مگران کے باطن میں طاقت کی وہی قدیم منطق کارفرماہے جسے تاریخ بارہابے نقاب کرچکی ہے۔ان شرائط میں نمایاں نکات یہ بتائے جاتے ہیں:
400کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی،افزودگی کی سطح کوایک مخصوص حد تک محدودکرنا،بین الاقوامی معائنہ کاروں کومکمل رسائی دینا،جوہری تنصیبات کی شفاف نگرانی اورعلاقائی پالیسیوں میں نرمی اورعسکری اثرورسوخ میں کمی۔یہ شرائط گویاایک ایسے پیمان کی صورت اختیارکرجاتی ہیں جس میں ایک فریق کواپنے وسائل،اپنی سائنسی پیش رفت اوراپنی دفاعی حکمت عملی کوایک عالمی نگرانی کے سپردکرناپڑتاہے۔گویایہاں ذہن میں یہ جملہ گونجتا ہے کہ جب طاقتورقومیں معاہدہ کرتی ہیں تووہ دراصل اپنی شرائط کو اصول کانام دیتی ہیں۔
ایران کاردعمل ان شرائط پرسخت اورغیرلچکدارنظرآتاہے،مگر اس کی جڑیں اس کی داخلی سیاست اورانقلابی تاریخ میں پیوست ہیں۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعدایران نے جس سیاسی فلسفے کواپنایا،اس کی بنیاد تین اصولوں پرتھی،خودمختاری (استقلال،استکبار سے مزاحمت،اسلامی تشخص کا تحفظ ۔یورینیم افزودگی کامسئلہ ان تینوں اصولوں کامظہربن چکاہے لہٰذااس پرسمجھوتہ کرناایران کیلئے محض ایک تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ نظریاتی پسپائی کے مترادف ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت اس مسئلے کوقومی غیرت اور اسلامی وقارکامسئلہ قراردیتی ہے۔
اگرچہ مذکورہ نکات میں اسرائیل کا براہِ راست ذکر نہیں، مگر ایران کے جوہری مسئلے میں اس کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی بقا کیلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ امریکا پر دباؤ ڈالتا ہے،خفیہ کارروائیوں میں ملوث رہتا ہے اور عالمی رائے عامہ کو ایران کے خلاف ہموار کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا غیرمرئی کردار ہے جو پسِ پردہ رہ کر بھی اس پورے کھیل کی سمت متعین کرتا ہے۔
ٹرمپ کایہ بیان کہ اگرمعاہدہ نہ ہواتو فوجی کارروائی ممکن ہے،دراصل جدیدسفارت کاری کی اس حقیقت کوآشکارکرتاہے جس میں مذاکرات اوردھمکی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔امن کی بات کے ساتھ جنگ کی تیاری بھی جاری رہتی ہے۔یہ طرزِعمل ہمیں اس قدیم مقولے کی یاددلاتا ہے کہ امن چاہتے ہوتوجنگ کیلئے تیاررہو ۔پاکستان کانام اس تناظرمیں سامنے آناایک نہایت اہم پیش رفت ہے۔اگرواقعی پاکستان کی مداخلت سے کوئی عسکری اقدام مؤخرہوا،تویہ اس کی سفارتی صلاحیت کاثبوت ہے۔پاکستان کی جغرافیائی اورسیاسی حیثیت اسے ایک منفردمقام عطا کرتی ہے۔وہ اسلامی دنیاکاایک اہم جوہری طاقت کاحامل ملک بھی ہے اورعالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔یہی وہ عناصرہیں جواسے ایک خاموش ثالث بناتے ہیں۔
ایران کے جوہری مسئلے نے دنیاکوایک بارپھردوبڑے حلقوں میں تقسیم کردیاہے۔مغربی بلاک۔۔۔امریکا،یورپی اتحادی،مخالف یامتوازن بلاک ،روس ، چین۔یہ صف بندی کسی سردجنگ کی یاددلاتی ہے،جہاں براہِ راست جنگ کی بجائےسفارت،اقتصادی پابندیاں اورعلاقائی پراکسیزکے ذریعے مقابلہ کیاجاتا ہے۔ادھرمعاہدہ عدم پھیلاؤایک ایسا عالمی فریم ورک ہے جس کا مقصدجوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤکو روکناہے مگرحقیقت یہ ہے کہ کچھ ممالک کے پاس جوہری ہتھیارموجودہیں جبکہ دوسروں کواس سے روکاجاتاہے۔یہ دوہرامعیار اس معاہدے کی اخلاقی حیثیت پرسوالیہ نشان لگادیتاہے۔ایران اسی تضادکو بنیادبناکراپنے مؤقف کومضبوط کرتاہے۔
اس پورے منظرنامے کواگرایک جملے میں سمیٹاجائے تویوں کہاجاسکتاہے کہ یہ محض یورینیم کی افزودگی کاتنازع نہیں،بلکہ طاقت، خودمختاری اورعالمی انصاف کی ایک ہمہ گیرکشمکش ہے۔یہ داستان ابھی اپنے عروج کونہیں پہنچی،ابھی کچھ اوراہم سوالات باقی ہیں جن میں ممکنہ معاہدے کی نوعیت،ایران کی آئندہ حکمت عملی،عالمی معیشت پراثرات اورایک ممکنہ جنگ کے مضمرات وقت کے افق پرمعلق ہیں—اورجن کے جوابات ابھی تاریخ کے قلم نے رقم کرنے ہیں۔
تاریخِ سفارت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاہدے کبھی محض کاغذی دستاویزنہیں ہوتے بلکہ وہ طاقت،مصلحت اورحکمت کے نازک امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان جوممکنہ معاہدہ زیرِبحث ہے،اس کی متوقع شقیں ایک ایسے آئینے کی مانندہیں جس میں ہرفریق اپنامفادتلاش کرتاہے۔اس معاہدے کی پانچ ممکنہ بنیادیں کچھ یوں سمجھی جا سکتی ہیں:
٭افزودگی کی حدبندی(مثلاً 3.67%یااس سے کم،یورینیم کے ذخائر میں کمی،بین الاقوامی معائنہ کاروں کی بلارکاوٹ رسائی،اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اورعلاقائی کشیدگی میں کمی کے وعدے پرمشتمل ہیں۔یہ شقیں بظاہر وازن کی علامت ہیں،مگرحقیقت میں یہ ایک ایسی بساط ہیں جہاں ہرچال کے پیچھے کئی پوشیدہ مقاصدکارفرماہوتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ذہن میں یہ سوال ابھرتاہے کہ معاہدے کی سطریں وہی نہیں ہوتیں جولکھی جاتی ہیں،بلکہ وہ بھی ہوتی ہیں جوخاموشی کے پردوں میں چھپی رہتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے افق پراگرکوئی تنازع مستقل سایہ فگن ہے تووہ ایران اوراسرائیل کے درمیان نظریاتی وتزویراتی کشمکش ہے۔یہ تصادم محض سرحدوں یا وسائل کانہیں بلکہ نظریات کا تصادم،وجودکی جنگ اورعلاقائی بالادستی کی کشمکش ہے۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کواپنی بقاکیلئےخطرہ سمجھتاہے،جبکہ ایران اسرائیل کوایک ناجائزریاست قراردیتاہے،یوں یہ کشیدگی ایک ایسے دہکتے ہوئے الاؤکی مانندہے جس کی چنگاریاں کبھی بھی شعلہ بن سکتی ہیں۔یہی وہ پس منظرہے جوہرمعاہدے کومشکوک اورہرامن کوعارضی بنادیتاہے۔
ایران کامسئلہ محض سیاسی یاعسکری نہیں—یہ عالمی معیشت کے دل میں دھڑکنے والی ایک حساس رگ بھی ہے۔مشرقِ وسطیٰ، خصوصاًخلیجی خطہ،دنیاکی توانائی کا مرکزہے،اگر ایران کے خلاف کوئی بڑی عسکری کارروائی ہوتی ہے توتیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ،عالمی منڈیوں میں بے چینی اورمعاشی عدم استحکام ناگزیرہوجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں جنگ سے گریز بھی کرتی ہیں اوراس کے سائے کوبرقرار بھی رکھتی ہیں—کیونکہ یہی سایہ بعض اوقات ان کے اقتصادی مفادات کوتقویت دیتاہے۔گویایوں کہاجاسکتاہے کہ یہ وہ بازارہے جہاں امن بھی بکتاہے اورجنگ بھی—فرق صرف خریدارکے ارادے کاہے۔
اگرمذاکرات ناکام ہوجائیں اورجنگ کاطبل بج اٹھے تواس کے ممکنہ مناظرنہایت ہولناک ہوسکتے ہیں:
الف:محدودفضائی حملے یعنی جوہری تنصیبات کونشانہ بنایاجائے گا،ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
ب:علاقائی جنگ،لبنان،شام،عراق اویمن میں پراکسی جنگیں شدت اختیار کریں گی۔خلیجی ریاستیں براہِ راست یابالواسطہ ملوث ہوں گی۔
ج:عالمی کشیدگی،روس اورچین ایران کی حمایت میں سامنے آسکتے ہیں۔امریکااوراس کے اتحادی مقابل صف میں ہوں گے۔یہ منظرنامہ گویاایک ایسی زنجیرہے جس کی ہرکڑی ایک نئی تباہی کوجنم دے سکتی ہے۔
ایران کی حکمت عملی تین ستونوں پرقائم ہے،اس کواگرایک لفظ میں بیان کیاجائے تووہ ہےمزاحمتی صبریعنی،سفارتی مزاحمت، مذاکرات میں سخت مؤقف۔ دفاعی قوت کااظہار،عسکری تیاری، علاقائی اثرورسوخ۔یہی وہ مثلث ہے جوایران کوایک کمزورریاست کے بجائے ایک ، اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤمؤثرعلاقائی طاقت بناتی ہے۔
امریکا کا طرزِ عمل ہمیشہ دو پہلوؤں پر مشتمل رہا ہے، زیادہ سے زیادہ دباؤ،سفارتی روابط ۔یہی دوہرارویہ ایران کے ساتھ بھی اختیار کیاگیاہے۔یہ حکمت عملی گویاایک ایسے دریاکی مانندہے جس میں ایک طرف نرم لہریں ہیں اوردوسری طرف تندوتیزدھار۔چین اورروس کاایران کے ساتھ کھڑاہوناعالمی سیاست میں ایک نئی صف بندی کااشارہ ہے۔چین اقتصادی مفادات کے تحت ایران کے قریب ہےاورروس سیاسی وعسکری توازن کیلئے۔یہ اتحادمغربی بالادستی کے مقابل ایک متبادل نظام کی بنیادرکھتادکھائی دیتاہے۔عالمی رائے عامہ بظاہراس تمام کھیل میں ایک خاموش تماشائی معلوم ہوتی ہے،مگرحقیقت میں میڈیا،تھنک ٹینکس اورعوامی دباؤ حکومتوں کے فیصلوں پراثر انداز ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہرفریق اپنی کہانی کودنیاکے سامنے بہتراندازمیں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلامی دنیا کاکرداراس معاملے میں نہایت اہم مگرافسوسناک حدتک منتشرہے۔کچھ ممالک امریکاکے قریب ہیں،کچھ ایران کے اورکچھ خاموش تماشائی۔یہ تقسیم اس امت کی اس کمزوری کو ظاہرکرتی ہے جسے میں بارہا لکھ چکاہوں کہ جب امت اپنی وحدت کھو یتی ہے تو اس کی قوت بھی ریزہ ریزہ ہو اتی ہے۔یہ پورا منظرنامہ ایک ایسے پیچیدہ نقشے کی مانند ے جس میں ہر کیر یک مفاد ے۔ہر نگ ایک نظریہ اورہرزاویہ ایک خطرہ ہے۔ایران کاجوہری مسئلہ دراصل عالمی نظام کے تضادات کاآئینہ ہے—جہاں انصاف اورطاقت،اصول اور مفاد،امن اورجنگ ایک دوسرے سے برسرِپیکارہیں۔
اب یہ داستان اپنے فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس تنازع کے ممکنہ انجام،عالمی نظام پراس کے دیرپااثرات اورایک نئی عالمی ترتیب نیوورلڈآرڈر کےامکانات۔یہ وہ سوالات ہیں جوآنے والی صدی کی سیاست کارخ متعین کرسکتے ہیں۔اب ہم اس داستان کے اس مرحلے پرنہیں پہنچے ہیں جہاں فکراپنے عروج کوہوتی ہے،تاریخ اپنے فیصلے رقم کرنے لگتی ہے،اوراقوام کے مقدرکے دھارے نئی سمت اختیارکرتے ہیں۔تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہرتنازع تین ممکنہ راستوں میں سے کسی ایک کاانتخاب کرتاہے۔تصادم،توازن،مفاہمت۔
ایران کے جوہری مسئلے میں بھی یہی تین راستے سامنے ہیں۔اگرتصادم کاراستہ اختیارکیاگیاتویہ آگ صرف ایران تک محدودنہ رہے گی بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اگر توازن قائم رہاتوکشیدگی ایک مستقل حقیقت بن جائے گی—ایک ایسی خاموش جنگ جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔اوراگرمفاہمت ہوگئی تویہ عالمی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی ہوگی، مگر اس کی قیمت دونوں فریقوں کواپنے اپنے اصولوں میں لچک پیدا کرکے اداکرنی ہوگی۔
یہ تنازع محض ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تبدیلی کاپیش خیمہ ہے۔دنیاآہستہ آہستہ ایک نئی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکاکی یک قطبی بالادستی کمزورپڑرہی ہے۔چین ایک اقتصادی قوت بن کرابھررہاہے۔روس ایک تزویراتی توازن قائم کررہا ہے۔ایران اس نئی ترتیب میں ایک مزاحمتی علامت کے طورپرسامنے آرہاہے—ایک ایسی ریاست جودباؤکےباوجوداپنے موقف پرقائم ہے۔یہی وہ منظرہے جسےہم ایک نئےکثیرقطبی عالمی نظام کے طور پردیکھ سکتے ہیں۔اس پورے قضیے میں امتِ مسلمہ کیلئےکئی گہرے اسباق پوشیدہ ہیں
1۔وحدت کی ضرورت۔۔مسلمان ممالک کی تقسیم ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔اگروہ متحدہوتے توعالمی سیاست میں ان کی آواز کہیں زیادہ مضبوط ہوتی۔
2۔علمی وسائنسی خودکفالت۔۔ایران کاجوہری پروگرام اس بات کی علامت ہےکہ علم اورسائنس ہی اصل طاقت ہیں۔
3۔ خودی اوروقار۔۔۔قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جواپنے اصولوں پرقائم رہتی ہیں—خواہ اس کیلئےکتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔یہی وہ سبق ہے جسے علامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا:
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے بتاتیری رضاکیاہے
پاکستان کیلئےیہ صورتحال ایک امتحان بھی ہے اورایک موقع بھی۔اسے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقراررکھناہوگا۔اسلامی دنیا میں ایک مثبت کردار ادا
کرناہوگااوراپنی داخلی استحکام کومضبوط بناناہوگا۔اگرپاکستان دانشمندی سے کام لے تووہ اس پورے تنازع میں ایک مؤثرثالث بن سکتاہے۔
جنگ ہمیشہ تہذیبوں کیلئےایک امتحان ہوتی ہے۔یہ صرف ہتھیاروں کاٹکراؤنہیں بلکہ اقدارکاتصادم،انسانیت کاامتحان،اورتاریخ کافیصلہ ہوتی ہے ۔اگر انسانیت نے اس باربھی جنگ کوترجیح دی تویہ ترقی کے تمام دعوؤں پرایک سوالیہ نشان ہوگا۔آج کی دنیامیں جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ ٹی وی اسکرینوں پر،سوشل میڈیا پر اورخبروں کے بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔ہرفریق اپنی کہانی کوسچ اوردوسرے کوجھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہی بیانیے کی جنگ جدیددورکاایک اہم ہتھیاربن چکی ہے۔
اس پورے تنازع کاسب سے اہم سوال یہ ہے کیاطاقت ہی حق کامعیارہے؟اگرجواب ہاں میں ہے توپھرانصاف،قانون اوراخلاقیات سب محض الفاظ بن کر رہ جائیں گے۔اوراگر جواب نہیں میں ہے توپھرعالمی نظام کواپنے اصولوں پرازسرِنوغورکرناہوگا۔تاریخ ہمیشہ جلدی فیصلہ نہیں کرتی—وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نتائج مرتب کرتی ہے۔آج جوفیصلے کیے جارہے ہیں،ان کے اثرات آنے والی نسلیں محسوس کریں گی۔یہی وجہ ہے کہ اس تنازع کا ہرقدم نہایت اہم ہے۔اگراس پورے معاملے کوایک جامع زاویے سے دیکھاجائے تویہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کیلئےکھڑاہے۔امریکاعالمی نظام کے تحفظ کے نام پراپنااثرورسوخ قائم رکھناچاہتاہے،دیگر طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت صف بندی کررہی ہیں۔یہ ایک ایساکھیل ہے جس میں ہرکھلاڑی جیتناچاہتا ہے ،مگرشکست پوری انسانیت کی ہوسکتی ہے۔
یہ داستان محض ایران یاامریکاکی نہیں—یہ انسانیت کی مشترکہ کہانی ہے۔یہ ہمیں یہ سوچنے پرمجبورکرتی ہے کہ کیاہم واقعی ترقی یافتہ ہیں؟کیاہم نے جنگ سے کچھ سیکھاہے؟کیاہم امن کوترجیح دے سکتے ہیں؟یہ سوالات آج بھی ہمارے سامنے ہیں،اوران کے جوابات ابھی باقی ہیں۔
یہ پوری تحریرایک فکری سفرتھی،سیاست سے تاریخ تک،سائنس سے تہذیب تک،اورمفاد سے اصول تک۔اگراس کاخلاصہ ایک جملے میں کیاجائے تویوں کہاجاسکتاہے،یہ معرکہ یورینیم کانہیں،انسان کے شعور،وقاراورمستقبل کاہے۔











