دنیاایک ایسے دورمیں داخل ہورہی ہے جہاں طاقت کی تعریف تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔بیسویں صدی کی سردجنگ میں دنیادوواضح حصوں میں تقسیم تھی۔ایک طرف امریکااوراس کے اتحادی تھے،دوسری جانب سوویت یونین اوراس کاکمیونسٹ بلاک۔دونوں طاقتوں کے درمیان نظریاتی،عسکری اور سیاسی مقابلہ تقریباًنصف صدی تک عالمی سیاست پرحاوی رہا لیکن آج ابھرنے والی نئی کشمکش مختلف نوعیت رکھتی ہے۔اس بارمقابلہ امریکااورچین کے درمیان ہےاورمیدان صرف ہتھیار،فوجی اتحا یانظریات نہیں بلکہ وسائل،توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی،سپلائی چین،صنعت،معدنیات اورعالمی اقتصادی نظام ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ امریکی–چینی رقابت کومحض ایک تجارتی جنگ سمجھناشایداس کے اصل حجم کوکم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔دونوں طاقتیں اس سوال پرمقابلہ کررہی ہیں کہ آنے والی دہائیوں میں دنیاکی معیشت کس کے بنائے ہوئے قواعدکےتحت چلےگی،نئی ٹیکنالوجی پرکس کاغلبہ ہوگا،توانائی کے وسائل اوراہم معدنیات تک رسائی کس کے پاس ہوگی اور ایشیا،افریقا،مشرق وسطیٰ اورلاطینی امریکاجیسے خطوں میں کس طاقت کاسیاسی ومعاشی اثرزیادہ ہوگا۔1989ءمیں دیوارِبرلن کے انہدام اورچندبرس بعدسوویت یونین کے خاتمے نےعالمی نظام کویکسربدل دیاتھا۔تقریباًنصف صدی تک امریکا کے مقابل کھڑی رہنے والی سوویت سپرپاوراچانک بکھرگئی۔اس کے نتیجے میں امریکادنیاکی واحدحقیقی عالمی طاقت بن کرسامنے آیا۔
1990ءکی دہائی سے لے کراکیسویں صدی کی پہلی دہائی تک امریکی طاقت کادائرہ غیرمعمولی حدتک وسیع ہوگیا۔واشنگٹن عالمی مالیاتی اداروں،تجارت،فوجی اتحادوں،ٹیکنالوجی،میڈیااور سفارتکاری پرغیرمعمولی اثررکھتاتھا۔نیٹومسلسل وسعت اختیارکرتاگیا،امریکی ڈالرعالمی تجارت کابنیادی ستون رہا،سلیکون ویلی نئی ٹیکنالوجی کی علامت بنی اورامریکی فوج دنیاکے مختلف حصوں میں بیک وقت کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔یوں دنیامیں پرانی سردجنگ کاتوخاتمہ ہوگیالیکن امریکی بالادستی کاعالمی خطرہ پیداہوگیا۔
بظاہرامریکانے سردجنگ جیت لی تھی لیکن وقت گزرنے کےساتھ یہ فتح اتنی حتمی ثابت نہیں ہوئی جتناابتدامیں تصورکیاجا رہاتھا۔ امریکی طاقت کابڑاحصہ بیرونی جنگوں،داخلی سیاسی تقسیم، صنعتی پیداوارمیں کمی،بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری،قرضوں،کارپوریٹ مفادات اورسیاسی نظام کے اندربڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دباؤمیں آتاچلاگیا۔عراق اورافغانستان کی طویل جنگوں نے نہ صرف امریکاپربے پناہ مالی بوجھ ڈالابلکہ اس کی عالمی ساکھ کوبھی متاثرکیا۔اسی دوران دنیاکے دوسرے حصے میں ایک ایسی طاقت ابھر رہی تھی جس نے خاموشی کے ساتھ عالمی معاشی نظام کے اندراپنی جگہ بناناشروع کردی تھی اوروہ تھاچین۔
چین کاغیرمعمولی عروج جدیدتاریخ کے حیرت انگیزمعاشی واقعات میں شمارکیاجاتاہے۔چنددہائیاں پہلے تک چین عالمی معیشت میں نسبتاً محدودحیثیت رکھتاتھا لیکن اصلاحات،صنعتی پیداوار ،برآمدات،انفراسٹرکچراورعالمی تجارت میں مسلسل سرمایہ کاری نے اسے دنیاکے سب سے بڑے اقتصادی مراکزمیں شامل کردیا۔چین نے محض سستی مصنوعات تیارکرنے والی معیشت بننے پراکتفانہیں کیا۔وقت کے ساتھ اس نے الیکٹرونکس،ٹیلی کمیونیکیشن،سولرانرجی، الیکٹرک گاڑیوں،بیٹریوں،مصنوعی ذہانت،ریل نیٹ ورک،جہازسازی اورجدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھائی۔
آج عالمی معیشت کی متعدد بنیادی سپلائی چینزبراہِ راست یابالواسطہ چین سے منسلک ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امریکااورچین کے مفادات ٹکرانا شروع ہوئے ۔ امریکاکوخدشہ ہے کہ اگر چین اسی رفتارسے آگے بڑھتارہاتووہ صرف اقتصادی طاقت نہیں بلکہ عالمی سیاسی اورتزویراتی نظام کوبھی تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتاہے۔دوسری طرف بیجنگ امریکی اقدامات کواپنے عروج کوروکنے کی ایک منظم کوشش تصورکرتاہے۔نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی مسابقت وجودمیں آرہی ہے جوسردجنگ کی بہت سی خصوصیات رکھتی ہے،لیکن اس کابنیادی میدان پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
امریکااورسوویت یونین کی سردجنگ بڑی حدتک سرمایہ داری اورکمیونزم کے درمیان نظریاتی تصادم تھی۔امریکااورچین کی موجودہ کشمکش میں نظریاتی اختلاف ضرورموجودہے،مگراصل مقابلہ کہیں زیادہ مادی ہے۔دنیامستقبل میں جن صنعتوں پرانحصارکرے گی ان کیلئے چندبنیادی وسائل انتہائی اہم ہوچکے ہیں۔لیتھیم،کوبالٹ،نکل،تانبہ،نایاب زمینی معدنیات اورسیمی کنڈکٹرزمیں استعمال ہونے والے مخصوص عناصراب صرف تجارتی اشیانہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کےاثاثےبن چکے ہیں۔
الیکٹرک گاڑی ہو،جدیدمیزائل نظام،اسمارٹ فون،سیٹلائٹ،مصنوعی ذہانت،ونڈٹربائن یاسولرپینل—جدیدٹیکنالوجی کے تقریباًہرشعبے کے پیچھے مخصوص معدنیات اورانتہائی پیچیدہ سپلائی چین موجودہے۔جوطاقت ان سپلائی چینزپرزیادہ کنٹرول حاصل کرےگی وہ آنےوالے صنعتی دورمیں زیادہ اثرورسوخ بھی حاصل کرے گی۔چین نے کئی اہم معدنیات کی کان کنی،ریفائننگ اور پروسیسنگ میں نمایاں مقام حاصل کیاہے۔امریکااب اس انحصارکواپنی قومی سلامتی کیلئےخطرہ سمجھتےہوئےمتبادل سپلائی چین بنانےکی کوشش کررہاہے۔یہی وجہ ہے کہ نئی سردجنگ کی اصل جنگ کبھی کسی کان میں،کبھی کسی بندرگاہ پر،کبھی کسی چپ فیکٹری میں اورکبھی کسی سولرپینل کی سپلائی چین میں دکھائی دیتی ہے۔گویانئی سرد جنگ نظریات سے زیادہ وسائل کی جنگ ہے۔
امریکانے حالیہ برسوں میں چین سے آنے والی متعدد مصنوعات پرٹیرف اورتجارتی پابندیاں عائد کیں۔ظاہری طورپران اقدامات کامقصد امریکی صنعت اور روزگارکاتحفظ بتایاجاتاہے،لیکن ان کے پیچھے ایک وسیع ترتزویراتی سوچ بھی موجودہے کہ چین کی صنعتی طاقت کومحدودکیاجائے۔سولرپینلزاس کشمکش کی ایک نمایاں مثال ہیں۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق چینی تجارتی نیٹ ورک نے امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے ایک انتہائی طویل متبادل تجارتی راستہ اختیارکیا جوافریقا اورجنوب مشرقی ایشیاکے مختلف حصوں سے گزرتا تھا۔بتایاگیاکہ اس راستے کے ذریعے ماہانہ سوملین ڈالرسے زیادہ مالیت کی سولرتجارت کوجاری رکھا گیا۔یہ واقعہ ایک بہت اہم حقیقت کو ظاہرکرتاہے۔
اکیسویں صدی کی عالمی معیشت اتنی پیچیدہ ہوچکی ہےکہ صرف ٹیرف لگانے سےکسی بڑے صنعتی حریف کومکمل طورپرروکناآسان نہیں رہا۔کمپنیاں اپناسامان تیسرے ملک کے ذریعے بھیج سکتی ہیں،نئی اسمبلی لائنیں قائم کرسکتی ہیں،بندرگاہیں تبدیل کرسکتی ہیں یا تجارت کے قانونی ڈھانچے کونئے اندازسے ترتیب دے سکتی ہیں یعنی امریکاایک دروازہ بندکرتاہے تو عالمی سپلائی چین دوسراراستہ تلاش کرلیتی ہے۔اسی لیے تجارتی جنگ رفتہ رفتہ عالمی سپلائی چین کی جنگ بنتی جارہی ہے۔چین نے یہ ثابت کردیاکہ امریکی تجارتی ٹیرف بھی اب جیوپولیٹیکل ہتھیارنہیں رہے۔
اگرپہلی سردجنگ میں ایٹمی ہتھیارفیصلہ کن طاقت سمجھے جاتے تھے تونئی سردجنگ میں سیمی کنڈکٹراورمصنوعی ذہانت تقریباًاسی درجے کی تزویراتی اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔جدید مائیکروچپس کے بغیرمصنوعی ذہانت،جدید جنگی طیارے،میزائل،سائبرسسٹمز، سپرکمپیوٹرزیاڈیٹاسینٹرزکام نہیں کرسکتے۔ امریکانے چین کوجدیدترین چپ ٹیکنالوجی اورچپ بنانے والی مشینری تک رسائی محدودکرنے کی متعدد کوششیں کی ہیں۔ اس کامقصدیہ ہے کہ چین ایسے انتہائی جدید کمپیوٹنگ سسٹمز تیارنہ کرسکے جوفوجی یاتکنیکی میدان میں امریکاکوچیلنج کرسکیں۔
لیکن اس پالیسی کادوسرااثربھی سامنے آرہاہے۔چین اب اپنی مقامی سیمی کنڈکٹرصنعت کوتیزی سے ترقی دینے کی کوشش کررہاہے۔یہی نئی سردجنگ کابنیادی تضادہے۔دباؤبعض اوقات مخالف طاقت کوکمزورکرنے کی بجائے خودکفالت کی طرف دھکیل دیتاہے۔اگرچین اگلے چندبرسوں یادہائیوں میں اہم ٹیکنالوجیز میں خودانحصاری حاصل کرلیتاہےتوامریکاکی پابندیوں کی طاقت بتدریج ختم ہوسکتی ہے۔چین دنیاکے بڑے توانائی درآمدکنندگان میں شامل ہے،جبکہ امریکا خود ایک بڑاتوانائی پیداکرنے والاملک بھی بن چکاہے لیکن مستقبل کی توانائی صرف تیل اور گیس نہیں ہوگی۔سولرپینلز،الیکٹرک گاڑیاں،بیٹریاں،گرین ہائیڈروجن اورقابلِ تجدیدتوانائی عالمی معیشت میں تیزی سے اہم ہورہے ہیں۔چین نے سولرپینلزاوربیٹریوں کی تیاری میں غیرمعمولی صنعتی برتری حاصل کی ہے۔اس کامطلب ہے کہ توانائی کی منتقلی اگرتیزہوتی ہے تودنیاکی ایک بڑی تعدادکوچینی صنعتی نظام پرانحصارکرناپڑسکتاہے۔
امریکااسے ایک اسٹریٹجک خطرے کے طورپردیکھتاہے۔اسی لیے واشنگٹن مقامی صنعت کوسبسڈی،ٹیرف اورسرکاری سرمایہ کاری کے ذریعے دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے یوں مستقبل کی توانائی پرغلبہ بھی نئی سرد جنگ کامرکزی محاذبنتاجارہاہے۔امریکااورچین کی کشمکش صرف واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان محدودنہیں رہے گی۔افریقا،لاطینی امریکا،جنوب مشرقی ایشیا،وسطی ایشیااورمشرق وسطیٰ آنے والی عالمی طاقت کی سیاست میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کررہے ہیں۔
افریقامیں معدنی وسائل کےبڑے ذخائرموجود ہیں۔لیتھیم،کوبالٹ، تانبہ ، مینگنیزاوردیگراہم معدنیات نئی ٹیکنالوجی کیلئےلازمی ہیں۔چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں افریقی ممالک میں سڑکوں، بندرگاہوں،ریلوے،توانائی اورکان کنی کے منصوبوں میں بڑے پیمانےپرسرمایہ کاری کی ہے۔امریکااب دوبارہ اس خطے میں اپنی معاشی موجودگی بڑھانے کی کوشش کررہاہے۔یہی صورتحال لاطینی امریکامیں بھی دیکھی جاسکتی ہے جہاں اہم معدنی وسائل کے ذخائرموجودہیں ۔ یوں جوممالک کبھی سرد جنگ میں پراکسی جنگوں کامیدان بنتے تھے،وہ اب سرمایہ کاری، سپلائی چین اورمعدنی وسائل کیلئے بڑے مقابلے کامرکزبن سکتے ہیں۔
امریکا–چین رقابت کاسب سے خطرناک مقام تائیوان ہے۔چین تائیوان کواپنی سرزمین کاحصہ سمجھتاہے جبکہ امریکاتائیوان کے ساتھ مضبوط غیررسمی، اقتصادی اوردفاعی تعلقات رکھت ہے۔تائیوان کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں ہے۔دنیاکے انتہائی جدیدسیمی کنڈکٹرز کی بڑی پیداوارتائیوان میں ہوتی ہے ۔یہی چپس مصنوعی ذہانت،جدیدہتھیاروں،اسمارٹ فونزاور کمپیوٹنگ کیلئے ضروری ہیں۔اگرتائیوان کےگردفوجی تصادم ہوتاہے تواس کااثرصرف ایشیاتک محدودنہیں رہے گا۔عالمی الیکٹرونکس،آٹوموبائل،دفاعی صنعت اورمالیاتی منڈیوں میں شدید بحران پیداہوسکتاہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں معاشی سردجنگ کسی وقت گرم جنگ میں تبدیل ہونے کاسب سے بڑاخطرہ رکھتی ہے ۔گویا مستقبل میں تائیوان سب سے زیادہ خطرناک فلیش پوائنٹ بن سکتاہے۔
امریکا اورچین کودوایسے دیوہیکل حریفوں کے طورپردیکھاجاسکتاہے جواگربراہِ راست ٹکراگئے تواصل نقصان ان ممالک کوبھی ہوگا جواس کشمکش کاحصہ بننا نہیں چاہتے۔عالمی تجارت دونوں ممالک سے جڑی ہوئی ہے۔چین دنیاکے بڑے صنعتی مراکزمیں سے ایک ہے جبکہ امریکاعالمی مالیاتی اورتکنیکی نظام کابنیادی ستون ہے۔اگردونوں ممالک عالمی معیشت کومکمل طورپر دوحصوں میں تقسیم کرنے لگیں توکمپنیوں،حکومتوں اورعام صارفین کیلئے اخراجات بڑھیں گے۔
دنیاکودوالگ ٹیکنالوجیکل نظاموں،دوسپلائی چینز،دومالیاتی بلاکس اورممکنہ طورپردوسیاسی کیمپوں کاسامناہوسکتاہے لیکن پہلی سرد جنگ کے برعکس آج دنیامکمل طورپردوواضح بلاکس میں تقسیم ہونانہیں چاہتی۔بہت سے ممالک امریکاسے دفاعی تعلقات رکھتے ہیں لیکن چین ان کاسب سے بڑاتجارتی شراکت دارہے۔ سعودی عرب امریکاکادیرینہ اتحادی ہے لیکن چین کے ساتھ اس کی تجارت انتہائی اہم ہے۔پاکستان چین کےساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات رکھتاہے لیکن امریکااورمغربی دنیاسےمکمل علیحدگی بھی اس کےمفادمیں نہیں۔ خلیجی ریاستیں واشنگٹن سےدفاعی تعلقات برقراررکھتے ہوئے بیجنگ کےساتھ اقتصادی شراکت بڑھارہی ہیں۔بھارت بھی چین سےمقابلہ کرتاہے،امریکاکے قریب جارہاہے،لیکن اپنی اسٹریٹجک خودمختاری چھوڑنے پرتیارنہیں۔اسی لیے نئی سردجنگ پرانی سردجنگ سے زیادہ پیچیدہ ہوگی۔
امریکی مشکلات کےباوجودامریکاکوکمزوریاغیرمتعلقہ طاقت سمجھناایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔امریکااب بھی دنیاکی سب سے طاقتورفوجی قوتوں میں شامل ہے۔اس کےپاس دنیابھرمیں اتحادیوں کاوسیع نیٹ ورک،جدیدیونیورسٹیاں،عالمی مالیاتی اداروں پراثر،ڈالر، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اورغیرمعمولی تحقیق واختراع کی صلاحیت موجودہے۔دوسری طرف چین کےاپنے سنگین مسائل ہیں۔
آبادی کی عمرمیں اضافہ،کم ہوتی شرحِ پیدائش،قرضوں کابوجھ،پراپرٹی سیکٹرکی مشکلات،بیرونی منڈیوں پرانحصاراورامریکاکے ساتھ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشیدگی بیجنگ کیلئے بڑے چیلنج ہیں۔اس لیے موجودہ مقابلے کوامریکاکے یقینی زوال اورچین کی یقینی فتح کے طورپردیکھنادرست نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقت کاتوازن دوبارہ تشکیل پارہاہے۔
اس نئی سردجنگ کاسب سے خطرناک پہلویہ نہیں کہ امریکایاچین میں سے کون جیتے گا۔اصل خطرہ یہ ہے کہ مسلسل مقابلہ ایک ایسے مقام تک پہنچ سکتاہے جہاں دونوں فریق ہر دوسرے اقدام کودشمنی تصورکرنے لگیں۔ایک ملک اپنی دفاعی صلاحیت بڑھاتاہے تودوسرا اسےحملےکی تیاری سمجھتاہے۔دوسرانئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتاہے توپہلااسے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصورکرتا ہے۔اسے سکیورٹی ڈائلیماکہاجاتاہے۔یہی ذہنیت پہلی سردجنگ میں دنیاکومتعددبارایٹمی جنگ کے انتہائی قریب لے گئی تھی۔
آج امریکااورچین دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔دونوں کے پاس جدیدمیزائل،سائبرہتھیار،خلائی صلاحیت اورمصنوعی ذہانت سے جڑے فوجی پروگرام موجود ہیں ۔اگرتائیوان،جنوبی بحیرہ چین یاکسی دوسرے تنازع میں غلط اندازہ لگایاگیاتومعاشی سردجنگ خطرناک فوجی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
آنے والی دہائی شایداس سوال کافیصلہ کرے گی کہ امریکااورچین اپنی رقابت کوکس حدتک محدودرکھ سکتے ہیں۔مقابلہ ختم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔دونوں ممالک ٹیکنالوجی،تجارت، توانائی،دفاع اورعالمی سفارت کاری میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن مقابلے اورجنگ کے درمیان ایک بہت بڑی لکیرموجودہے۔اگرواشنگٹن اور بیجنگ اس لکیرکوبرقراررکھتے ہیں تو نئی سردجنگ ایک طویل سیاسی اوراقتصادی مقابلہ رہ سکتی ہے۔اگر یہ لکیرختم ہوگئی تواس کے نتائج صرف دونوں طاقتوں کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی اصل جنگ شایدکسی ایک سرحدیامیدان میں نہیں لڑی جائے گی۔یہ بندرگاہوں،مائیکروچپس ڈیٹاسینٹرز،معدنی کانوں، سولرپینلز،تجارتی راستوں،سمندری گزرگاہوں،کرنسیوں اورمصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں میں لڑی جارہی ہے۔یہی نئی سردجنگ کا اصل چہرہ ہے۔اوراس جنگ کافیصلہ شاید اس بات سے نہیں ہوگاکہ کس ملک کے پاس سب سے زیادہ ٹینک یامیزائل ہیں،بلکہ اس سے ہوگاکہ کون سی طاقت عالمی وسائل،ٹیکنالوجی،سرمایہ،صنعت اوراتحادیوں کوایک پائیدارنظام میں جوڑنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
اگردونوں بڑی طاقتیں اسے صفرجمع کی جنگ سمجھتی رہیں—یعنی ایک کی کامیابی لازماًدوسرے کی شکست ہو—تودنیاایک طویل اورخطرناک تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔لیکن اگر مقابلے کے ساتھ تعاون کے کچھ راستے کھلے رکھے گئے،خصوصاًجوہری ہتھیاروں،ماحولیاتی تبدیلی،عالمی تجارت اورمصنوعی ذہانت جیسے معاملات پر،تواس نئی سردجنگ کوایک نئی عالمی جنگ بننے سے روکاجاسکتاہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ کیانئی سردجنگ شروع ہوچکی ہے؟زیادہ اہم سوال یہ ہےکہ یہ سرد جنگ کہاں تک جائے گی،دنیاکوکتنے حصوں میں تقسیم کرے گی،اورکیاامریکااورچین اپنے بڑھتے ہوئے تصادم کواس مقام تک پہنچنےسےروک سکیں گےجہاں اقتصادی اور تکنیکی مقابلہ براہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہوجائے؟یہی آنے والے عالمی نظام کاسب سے اہم سوال ہے۔











