Power in the Courtroom of History

تاریخ کےکٹہرے میں طاقت:ہتھیار،مفادات اورانسانیت کامقدمہ

تاریخ کے اوراق جب بھی خون کے قطروں سے رنگین ہوتے ہیں تووہ محض مقتولوں کی آہ وبکاکانوحہ نہیں لکھتے،بلکہ اپنے حاشیوں پر ان خاموش تماشائیوں، مفادکے سوداگروں اورقوت کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے نام بھی کندہ کردیتے ہیں،جوبظاہرغیر جانبداردکھائی دیتے ہیں مگردرحقیقت زمانے کے دھارے کواپنی منافقتوں ومصلحتوں کے مطابق موڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب وقت کی پیشانی پرسوالیہ نشان ابھرتے ہیں،اور تاریخ اپنے قاضیانہ وقارکے ساتھ انسانیت کوکٹہرے میں کھڑاکردیتی ہے—پوچھتی ہے کہ جب ظلم اپنی انتہاکوپہنچ رہاتھا توتم کہاں تھے؟تمہاری خاموشی کس کے پلڑے میں وزن ڈال رہی تھی؟تمہارے فیصلوں نے کن بستیوں کواجاڑااورکن نسلوں کوبے نام قبروں کے حوالے کیا؟

غزہ کی سرزمین—جوکبھی تہذیبوں کے سنگم،روحانیت کی آماجگاہ اورصبر واستقامت کی ایک زندہ تمثیل تھی—آج ایک ایسے عہدِ ابتلاسے گزررہی ہے جہاں زمین بارودسے اورآسمان معصوم فریادوں کی بازگشت سے بوجھل ولرزاں ہے ۔یہاں صرف عمارتیں نہیں گرتیں،یہاں امیدیں ملبے تلے دبتی ہیں؛یہاں صرف جسم نہیں مرتے،یہاں خواب دفن ہوتے ہیں؛اوریہاں صرف خون نہیں بہتا،بلکہ انسانیت کی حرمت کاوقاربھی پامال ہوتاہے۔یہ منظرنامہ محض ایک جغرافیائی خطے کی داستان نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی عکاسی ہے جس میں طاقت کوقانون پر،اورمفادکواخلاق پرفوقیت حاصل ہوچکی ہے۔

ایسے میں جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظرعام پرآتی ہے تووہ کسی سرکاری دستاویزکی طرح خاموش نہیں رہتی،بلکہ ایک گونجتی ہوئی صدابن کرابھرتی ہے—ایک ایسی صداجوضمیر کے بنددریچوں پردستک دیتی ہے،جوعالمی سیاست کےدبیزپردوں کوچاک کرتی ہے،اورجوہمیں یہ باورکراتی ہے کہ اعدادوشمار محض گنتی کیلئےنہیں ہوتے،بلکہ وہ اپنے اندرایک پوری داستان سموئےہوتے ہیں۔ ہرعدد ایک انسانی چہرہ ہے،ہرکھیپ ایک ممکنہ تباہی کی تمہید،اورہرمعاہدہ ایک ایسے فیصلےکی علامت جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیےجاتے ہیں۔

یہ رپورٹ دراصل ایک اخلاقی استغاثہ ہے—ایک ایسااستغاثہ جس میں مدعی بھی انسانیت ہے اورمدعاعلیہ بھی وہی انسان،جواپنی عقل، اپنی قوت اوراپنی ترقی پرنازاں ہے۔یہ ہمیں اس کربناک حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں؛وہ فیکٹریوں کی مشینوں کے شور میں جنم لیتی ہیں،وہ سفارتی میزوں پررکھے کاغذوں میں سانس لیتی ہیں،اوروہ ان بندکمروں میں پروان چڑھتی ہیں جہاں فیصلے توکیے جاتے ہیں مگران کے اثرات سے بے خبررہنے کادعویٰ بھی کیاجاتاہے۔وہاں جہاں ایک معاہدہ ہزاروں زندگیوں کے زیاں کاپیش خیمہ بن سکتاہے،اورجہاں ایک دستخط تاریخ کے دامن میں ایک نئے المیے کااضافہ کردیتاہے۔

پس یہ لمحہ محض تجزیے کانہیں،احتساب کاہے؛یہ وقت محض بیان کانہیں،شعورکی بیداری کاہے۔سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہورہی ہے ،سوال یہ ہے کہ انسان کہاں کھڑاہے۔کیاوہ طاقت کے ساتھ ہے یاحق کے ساتھ؟کیاوہ خاموشی کے پردے میں خودکومحفوظ سمجھ رہاہے یا سچ کی صدامیں اپناوجود تلاش کررہا ہے؟کیونکہ تاریخ،جب اپنافیصلہ سناتی ہے،تونہ وہ طاقت کو دیکھتی ہے،نہ دولت کو—وہ صرف سچ کوپہچانتی ہے اوراسی کودوام بخشتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں درج 2596کھیپوں کاعددبظاہرایک سرد، بے روح اورمحض شماریاتی حقیقت محسوس ہوتاہے،مگر جب اس پرانسانی بصیرت کی روشنی ڈالی جائے تویہ عدد اپنے اندرایک کربناک داستان سموئے ہوئے نظرآتاہے۔یہ محض گنتی نہیں—یہ ہرہندسہ ایک چیخ ہے،ہرکھیپ ایک آہ،اورہرترسیل ایک ایسے المیے کی تمہیدجوابھی مکمل طورپر تاریخ کے اوراق پررقم ہوناباقی ہے۔ ان کھیپوں میں بندبارود،دھات اورٹیکنالوجی صرف مادی عناصرنہیں بلکہ وہ خاموش طاقتیں ہیں جولمحوں میں آبادبستیوں کوکھنڈر، مسکراتے چہروں کوماتم کدہ،اور امیدوں کوملبے تلے دفن کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ وہ اسلحہ ہے جوکسی سرحدکی حفاظت کے بیانیے میں لپٹاہواسہی،مگراپنے ممکنہ استعمال کے تناظرمیں ایک محصوراوربے بس قوم کی بقاکے خلاف استعمال ہونے کے اندیشوں سے جڑا ہواہے۔یہاں معاملہ صرف ہتھیاروں کی ترسیل کانہیں بلکہ اس شعورکاہے جوان فیصلوں کے پس منظرمیں کارفرماہوتاہے۔ کیاایک ریاست،جواپنے آپ کوعالمی برادری کاذمہ داررکن سمجھتی ہے،اس حقیقت سے بے خبررہ سکتی ہے کہ اس کے بھیجےگئےہتھیارکن ہاتھوں میں جارہے ہیں اورکن جسموں کونشانہ بنارہے ہیں؟

ترسیل ایک ایسے المیے کی تمہیدجوابھی مکمل طورپر تاریخ کے اوراق پررقم ہوناباقی ہے۔ ان کھیپوں میں بندبارود،دھات اورٹیکنالوجی صرف مادی عناصرنہیں یہ سوال محض تکنیکی یاسفارتی نہیں،بلکہ اخلاقی اورتہذیبی بھی ہے کیونکہ تجارت اگرچہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کاایک ناگزیر جزوہے،مگرجب یہ تجارت انسانی جانوں کے زیاں سے وابستہ ہوجائے تووہ محض لین دین نہیں رہتی بلکہ ایک شعوری شمولیت کاتاثر دینے لگتی ہے۔ ہاں یہ امرزیرِغورآتاہے کہ آیایہ کھیپیں صرف ایک معاشی سودے بازی کاحصہ تھیں،یاان کے پیچھے ایک ایسی حکمتِ عملی کارفرماتھی جوعالمی طاقت کے توازن میں اپنامقام مستحکم کرنے کی خواہش رکھتی ہے،چاہے اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں کیوں نہ اداکرنی پڑے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ2596کھیپیں دراصل2596 سوالیہ نشان ہیں—ہرایک اپنے ساتھ یہ پوچھتاہواکہ کیاترقی اورطاقت کی دوڑمیں انسانیت کامقام محض ایک ثانوی شے بن کررہ گیا ہے؟کیااعدادوشمارکی چمک میں وہ چہرے اوجھل ہوچکے ہیں جن پران فیصلوں کے اثرات براہِ راست ثبت ہوتے ہیں؟ اور کیاعالمی ضمیراب اس قدرمصلحتوں کااسیرہوچکاہے کہ وہ چیخوں کوبھی اعدادمیں تبدیل کرکے ان کی گونج کومدہم کردے؟یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی، مگراس کے ابتدائی ابواب ہی اس قدربوجھل ہیں کہ تاریخ کے صفحات بھی ان کا بوجھ محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انسانی تاریخ میں بعض دستاویزات صرف کاغذکے صفحات نہیں ہوتیں بلکہ وہ تہذیب کے اجتماعی ضمیرکی علامت بن جاتی ہیں۔جینوا کنونشن اورنسل کشی سےمتعلق بین الاقوامی قوانین بھی اسی امیدکے مظہرہیں کہ انسان اپنی تباہ کن صلاحیتوں پراخلاقی حدود قائم کرے گا، طاقت کوقانون کاپابندبنائے گا، اور جنگ کےاندھیروں میں بھی انسانیت کےچراغ کوروشن رکھے گا۔یہ قوانین دراصل اس احساس کی پیداوارہیں کہ اگرطاقت کوکسی اخلاقی اصول کاپابندنہ کیاگیاتودنیامحض قوت رکھنے والوں کامیدان بن جائے گی،جہاں کمزوراقوام کی زندگیاں طاقت کے ایوانوں میں کیے گئے فیصلوں کی نذرہوجائیں گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اینیس کالامارکی تنبیہ اسی عالمی ضمیرکے دروازے پرایک گہری دستک ہے۔ان کایہ مؤقف کہ ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعےایک ریاست بین الاقوامی انسانی قانون اورنسل کشی کی روک تھام سےمتعلق اپنی ذمہ داریوں کے سوالات سے دوچارہوسکتی ہے،محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ ایک اخلاقی احتساب کااعلان ہے۔یہ دراصل اس بنیادی سوال کوجنم دیتاہے کہ جب کسی عمل کے ممکنہ نتائج انسانی جانوں کے ضیاع اوربنیادی حقوق کی پامالی سے جڑجائیں توکیا صرف تجارتی یا سفارتی مفادات کی بنیادپراس عمل کوجاری رکھاجاسکتاہے؟

یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستی مفادات اورانسانی اقدارایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف قومی سلامتی،دفاعی صنعت،معاشی مفادات اورسفارتی تعلقات کے تقاضے ہوتے ہیں،جبکہ دوسری طرف انسانی زندگی،عالمی انصاف اوراخلاقی ذمہ داری کا تقاضا۔تاریخ گواہ ہے کہ اکثرمواقع پرطاقتورریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےایسے راستے اختیارکرتی رہی ہیں جن پربعدکےادوار میں سوالات اٹھتے رہے۔یوں قانون اورطاقت کے درمیان ایک خاموش کشمکش جاری رہتی ہے،جس میں اصولوں کی آوازاکثرمفادات کے شورمیں دب جاتی ہے۔

جینواکنونشن کابنیادی فلسفہ یہی ہے کہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کی کچھ حدودباقی رہنی چاہئیں۔دشمنی کے میدان میں بھی کچھ ایسے اصول قائم رہیں جوعام شہریوں،بے گناہ انسانوں اورکمزورطبقات کوتحفظ فراہم کریں۔مگرجب ریاستیں خودان اصولوں کونظر اندازکرنے لگیں توقانون اپنی روح کھونے لگتاہے اور صرف کتابوں میں محفوظ ایک نظری تصوربن کررہ جاتاہے۔ایسامحسوس ہوتاہے جیسے انصاف کامیزان موجودتوہے،مگراس کے پلڑے طاقت کے بوجھ سے متاثرہونے لگے ہیں۔

اینیس کالامارکی آوازدراصل ایک ایسی گھنٹی ہے جوسوئے ہوئے عالمی شعورکوبیدارکرنے کی کوشش کرتی ہے۔یہ آوازصرف کسی ایک ملک یاایک واقعے کے بارے میں نہیں بلکہ پورے عالمی نظام سے سوال کرتی ہے کہ کیابین الاقوامی قانون واقعی سب کیلئےیکساں ہے؟کیاطاقتور ریاستیں بھی اسی احتساب کے دائرے میں آتی ہیں جس کاسامنا کمزورممالک کوکرناپڑتاہے؟یاعالمی قانون کااطلاق صرف ان اقوام پرہوتاہے جن کے پاس اپنے دفاع کیلئےسیاسی ومعاشی طاقت کم ہے؟

یہ سوالات محض سیاسی بحث کاحصہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑے ہوئے سوالات ہیں۔کیونکہ اگرقانون کی روح کمزور پڑجائے اورطاقت کواخلاقی جواب دہی سے بالاتر سمجھ لیاجائے تودنیامیں انصاف کاتصورمحض ایک خوبصورت نعرہ بن کررہ جائے گا ۔تاریخ ہمیں بارباریاددلاتی ہے کہ سلطنتیں طاقت سے قائم تورہ سکتی ہیں،مگرعزت اوردوام صرف انصاف سے حاصل ہوتاہے۔لہٰذابین الاقوامی قانون کااصل امتحان جنگ کے خاتمے کے بعدنہیں بلکہ جنگ کے دوران ہوتاہے؛اصل سوال یہ نہیں کہ طاقتورکیاکرسکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیانہیں کرناچاہتے۔کیونکہ ایک مہذب دنیاکی پہچان اس کی قوتِ بازو سے نہیں بلکہ اس اخلاقی قوت سے ہوتی ہے جو اسے اپنی طاقت کوحدود میں رکھنے پرمجبورکرے۔

جدیددنیامیں کسی شے پردرج “میڈاِن”کانشان محض اس کی پیدائش کی جگہ کاتعارف نہیں ہوتا،بلکہ وہ اپنے اندرایک مکمل معاشی، سیاسی اورتزویراتی داستان بھی سموئے ہوتاہے۔آج کے عالمی نظام میں صنعت اورسیاست ایک دوسرے سے الگ جزیرے نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ کارخانوں میں تیارہونے والی اشیابھی سفارتی پیغامات،سیاسی ترجیحات اور عالمی طاقت کے توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔

اسی تناظر میں میڈاِن انڈیا‘کے عنوان سے سامنے آنے والی رپورٹ اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ انڈیااوراسرائیل کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط یارسمی شراکت داری تک محدودنہیں رہے،بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک گہری معاشی،صنعتی اوردفاعی شراکت داری میں تبدیل ہوچکے ہیں۔یہ تعلق ایک ایسے پیچیدہ نظام کی صورت اختیارکرچکاہے جہاں ٹیکنالوجی،سرمایہ،دفاعی پیداوار اورسیاسی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑگئے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک پہلوکوالگ کرکے دیکھناآسان نہیں رہا۔

دفاعی صنعت کایہ جال دراصل جدیدعالمی سیاست کی ایک نئی حقیقت کوظاہرکرتاہے۔یہاں ہتھیارصرف جنگی سامان نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشی مفادات، روزگار ، تحقیق،صنعتی ترقی اور ریاستی اثرورسوخ کے ذرائع بھی بن جاتے ہیں۔منافع اس پورے نظام کی ایک ایسی رگِ جاں بن جاتاہے جس کے بغیراس تعلق کی بقامشکل محسوس ہونے لگتی ہےلیکن جب یہی صنعت انسانی حقوق اوراخلاقی ذمہ داری کے سوالات کے سامنے آتی ہے توترقی اورتجارت کی چمک کے پیچھے چھپے ہوئے تضادات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

یہاں تجارت محض لین دین کامعاملہ نہیں رہتی،بلکہ ایک ایسی خاموش شراکت داری کی صورت اختیارکرلیتی ہے جس میں ہرپرزے،ہر ٹیکنالوجی اورہرجنگی سازوسامان کے ساتھ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہوجاتی ہے کیونکہ ہتھیاربنانے والے ہاتھ اورانہیں استعمال کرنے والے ہاتھ اگرچہ مختلف ہوسکتے ہیں،

مگر تاریخ اکثردونوں کے درمیان تعلق کونظراندازنہیں کرتی۔یہ دفاعی شراکت داری ایک ایسے درخت کی مانندہے جس کی جڑیں معاشی مفادات کی زمین میں پیوست ہیں اورجس کی شاخیں عالمی سیاست کے افق تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس درخت کی آبیاری سرمایہ، ٹیکنالوجی اورسفارتی ضرورتوں سے ہوتی ہے،مگر اس کے سائے میں کھڑے ہوکریہ سوال بھی اٹھتاہے کہ کیاہر معاشی کامیابی اخلاقی کامیابی بھی ہوتی ہے؟کیاصنعتی ترقی کاہرقدم انسانی ذمہ داریوں سے آزادہو سکتاہے؟

دفاعی صنعت بلاشبہ کسی بھی ریاست کیلئےسلامتی اورخودانحصاری کاذریعہ سمجھی جاتی ہے،لیکن جب یہی صنعت عالمی تنازعات، جنگی کارروائیوں اورانسانی المیوں سے جڑجائے تواس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔پھرمعاملہ صرف پیداواراورتجارت کانہیں رہتابلکہ اس کے ساتھ ایک بڑااخلاقی سوال وابستہ ہوجاتاہے کہ ترقی کی یہ دوڑکس قیمت پرجاری ہے۔

یوں’میڈاِن انڈیا‘صرف ایک صنعتی شناخت نہیں بلکہ موجودہ عالمی سیاست کےاس نئے جغرافیے کی علامت بن جاتاہے جہاں کارخانے، سفارت خانے اور جنگی میدان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ جغرافیہ ہےجہاں نقشے صرف زمینوں سے نہیں بلکہ مفادات،اتحادوں اورفیصلوں سے بھی بنتے ہیں—اورجہاں تاریخ آنے والے وقت میں یہ فیصلہ کرے گی کہ ان شراکت داریوں کو محض معاشی کامیابی کےطورپریادکیاجائےگایاانہیں انسانی ضمیرکےایک بڑے امتحان کےطورپردیکھاجائے گا۔

تاریخ ہمیشہ دعووں اوربیانات سے نہیں لکھی جاتی،بلکہ وہ شواہد،دستاویزات اورحقائق کے ان نقوش سے تشکیل پاتی ہے جووقت کے گزرنے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہدبھی اسی نوعیت کے ہیں،جو23اکتوبر2023 سے 2025 تک کےعرصے میں ہتھیاروں اوردفاعی سازوسامان کی ترسیل کے ایک منظم اورمسلسل عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق انڈیاسے اسرائیل پہنچنے والے جنگی سازوسامان میں ڈرونزکے وارہیڈ،توپ کے گولوں کے خول،بکتربند گاڑیوں کے اجزاء، میزائلوں کے پرزے او دیگردفاعی آلات شامل تھے۔یہ وہ سامان ہےجوجدیدجنگی حکمتِ عملی میں محض معاون حیثیت نہیں رکھتابلکہ جنگی طاقت کابنیادی ستون تصورکیاجاتاہے۔آج کی جنگیں صرف فوجیوں کے مقابلے کانام نہیں رہیں بلکہ ان کا انحصارٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام،درست نشانہ لگانے والے آلات اوردوربیٹھ کرکارروائی کرنے کی صلاحیت پربھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈرونزکے وارہیڈ،میزائلوں کے نظام اوردیگرجدیدجنگی اجزاءکومحض دھات کے ٹکڑے یاصنعتی مصنوعات قرارنہیں دیاجاسکتا۔یہ دراصل ایسی قوت کےمظاہرہیں جوجنگ کے انداز،رفتاراوراثرات کوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایک ڈرون،جو ہزاروں میل دوربیٹھے ایک کنٹرول روم سے چلایاجاسکتاہے،جنگ کومیدانِ جنگ سے نکال کرٹیکنالوجی کے ایک نئے میدان میں لے جاتاہے؛مگراس کے نتائج زمین پربسنے والے انسانوں کیلئےاتنے ہی حقیقی،دردناک اورتباہ کن ہوتے ہیں۔

تحقیقات سے ظاہرہوتاہے کہ یہ سپلائی محض وقتی یااتفاقی معاملہ نہیں بلکہ ایک مربوط دفاعی زنجیرکاحصہ تھی،جس میں صنعتی پیداوار،تکنیکی تعاون اورجنگی ضروریات ایک دوسرے سے منسلک دکھائی دیتے ہیں۔جدیدجنگوں میں ایسے سازوسامان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کسی بھی فوجی آپریشن کی صلاحیت کوکئی گنابڑھادیتے ہیں اورجنگی فیصلوں پربراہِ راست اثراندازہوتے ہیں۔لیکن اس تمام منظرنامے کاسب سے پیچیدہ اورحساس پہلوانسانی پہلوہے ۔ جب ایسے جنگی آلات کسی ایسےخطےمیں استعمال ہوں جہاں بڑی تعداد میں عام شہری،بچے،خواتین اورغیرجنگجوافرادموجودہوں،توہرحملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں رہتابلکہ ایک گہرا اخلاقی سوال بن جاتاہے۔سوال یہ اٹھتاہے کہ جدیدٹیکنالوجی سے لیس جنگی طاقت کواستعمال کرنے والے فریق انسانی زندگی کے تحفظ کوکس حدتک مقدم رکھتے ہیں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدیدجنگوں میں ہدف اورغیر ہدف کے درمیان فاصلہ بتدریج کم ہوتاجارہاہے۔کبھی جنگیں میدانوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں، مگر اب ان کے اثرات شہروں، گھروں،اسپتالوں اورعام شہری زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ٹیکنالوجی نے جنگ کوزیادہ درست بنانے کادعویٰ ضرورکیاہے، مگراس کے باوجودانسانی نقصان کے سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جنگی سازوسامان کی ترسیل کامعاملہ صرف دفاعی صنعت یاتجارتی معاہدوں تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اس کے ساتھ ایک وسیع تراخلاقی اورقانونی ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔کیونکہ ہتھیاربنانے والا،فراہم کرنے والااوراستعمال کرنے والا—تینوں تاریخ کے ایک ہی باب میں درج ہوتے ہیں۔وقت کا قلم صرف میدانِ جنگ میں ہونے والے فیصلوں کونہیں لکھتابلکہ ان فیصلوں کے پس پردہ موجود شراکت داریوں اورذمہ داریوں کوبھی محفوظ کرلیتاہے۔

یوں تحقیقاتی شواہدہمیں یہ سوچنے پرمجبورکرتے ہیں کہ جدیددنیامیں جنگ صرف وہاں نہیں ہوتی جہاں گولیاں چلتی ہیں؛اس کی ابتداان کارخانوں سے بھی ہوتی ہے جہاں ہتھیارتیارہوتے ہیں،ان معاہدوں سے بھی جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں،اوران پالیسیوں سے بھی جہاں انسانیت اورمفادکے درمیان ترجیح کا انتخاب کیاجاتاہے۔

دفاعی صنعت ہمیشہ سے ریاستی سلامتی،خود مختاری اورقومی تحفظ کے تصورات سے وابستہ رہی ہے۔اس کابنیادی مقصدیہ سمجھا جاتاہے کہ ایک ریاست اپنی سرحدوں،اپنے شہریوں اور اپنے مفادات کاتحفظ کرنے کیلئےضروری صلاحیتیں حاصل کرے۔لیکن جب یہی صنعت قومی دفاع کی حدودسے نکل کرعالمی منڈی ،تجارتی مفادات اوربین الاقوامی اثرورسوخ کے ایک بڑے نظام کاحصہ بن جاتی ہے تواس کی نوعیت بھی بدلنے لگتی ہے۔پھرہتھیارصرف دفاع کاذریعہ نہیں رہتے بلکہ ایک ایسی عالمی تجارت کاحصہ بن جاتے ہیں جہاں منافع، سیاست اورطاقت ایک دوسرے کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نشاندہی اسی پیچیدہ تضادکی جانب اشارہ کرتی ہے کہ بعض دفاعی کمپنیاں اپنے تجارتی مفادات کے باعث ایسے دائرے میں داخل ہوسکتی ہیں جہاں معاشی فائدہ اور انسانی ذمہ داری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ایک سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتاہے کہ کیامنافع کی دوڑمیں شامل کمپنیاں اپنے تیارکردہ ہتھیاروں کے آخری استعمال اوران کے انسانی اثرات سے خودکومکمل طور پرالگ سمجھ سکتی ہیں؟

دفاعی صنعت کے کارخانوں میں تیارہونے والی مصنوعات بظاہردھات،ٹیکنالوجی اورمشینری کامجموعہ ہوتی ہیں،مگران کے پس پردہ انسانی زندگیوں پراثرانداز ہونے والی ایک طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔اسی لیے کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھتاہوادھواں محض صنعتی ترقی کی علامت نہیں رہتابلکہ بعض اوقات ان ممکنہ انسانی المیوں کی پیشگی خبربھی بن جاتاہے جوان مصنوعات کے استعمال سے جنم لے سکتے ہیں۔

یہی وہ تضادہے جوجدیددنیا کی دفاعی صنعت کوایک مشکل اخلاقی سوال کے سامنے کھڑاکرتاہے۔ایک طرف تحقیق،ٹیکنالوجی،صنعتی ترقی اورروزگارکے مواقع ہیں؛دوسری طرف انہی ایجادات کے ممکنہ تباہ کن نتائج بھی موجودہیں۔ایک طرف جدیدانجینئرنگ کی کامیابی کاجشن ہےاوردوسری طرف ان ہی صلاحیتوں کے استعمال سے پیداہونے والے انسانی دکھ کامنظر منافع پرمبنی عالمی نظام میں اکثریہ خطرہ پیدا ہوتاہے کہ ہتھیاربنانے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات کومحض ایک تجارتی شے کےطورپردیکھنے لگیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہتھیارعام مصنوعات کی طرح نہیں ہوتے۔ان کاتعلق براہِ راست انسانی جانوں،جنگوں اورامن کے امکانات سے ہوتاہے۔اسی لیے دفاعی تجارت کے ساتھ ایک اضافی اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے،جوصرف قوانین کی پابندی تک محدودنہیں بلکہ انسانی ضمیرکے تقاضوں سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

یہ صورتحال ایک ایسےآئینےکی مانندہےجس میں جدیدتہذیب کادوہرا چہرہ نظرآتاہے۔ایک طرف انسان اپنی ذہانت،تحقیق اورسائنسی ترقی پر فخرکرتاہے ،دوسری طرف وہی ترقی اگربے قابومفادات کے تابع ہو جائے توتباہی کاذریعہ بھی بن سکتی ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی کانہیں بلکہ اس کے استعمال کےمقصداور اخلاقی نگرانی کاہے۔

لہٰذا دفاعی صنعت اورانسانی حقوق کاتعلق دراصل ایک مسلسل امتحان ہے ۔ یہ امتحان ریاستوں کابھی ہے،صنعتوں کابھی،اورپوری عالمی برادری کابھی۔کیونکہ تاریخ میں صرف وہ ہتھیار یادنہیں رکھے جاتے جوبنائےگئے،بلکہ وہ فیصلے بھی یادرکھے جاتے ہیں جنہوں نے طےکیاکہ ان ہتھیاروں کوکس مقصدکیلئےاستعمال کیاجائے گا۔آخرکارسوال یہی ہے کہ کیاانسان اپنی تخلیق کردہ طاقت کامالک رہے گایا اس طاقت کے ہاتھوں اپنےاخلاقی اصولوں کاغلام بن جائے گا؟ یہی وہ نقطہ ہے جہاں دفاعی صنعت کوصرف طاقت کانہیں بلکہ انسانیت کاآئینہ بھی بنناپڑتاہے۔

کسی بھی معاشرے کی اصل تصویرصرف اس کے سرکاری بیانیوں،حکومتی پالیسیوں یاطاقت کے ایوانوں سے نہیں بنتی،بلکہ اس کے اندراٹھنے والی مختلف آوازوں ، اختلافی آرااوراخلاقی سوالات سے بھی تشکیل پاتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہردورمیں ایسے افراداورطبقات موجودرہے ہیں جنہوں نے مروجہ بیانیوں کےسامنےکھڑے ہوکراپنے ضمیرکی آوازکوترجیح دی۔یہی اختلافی آوازیں کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہوتی ہیں،کیونکہ جہاں سوال ختم ہوجائیں وہاں شعوربھی بتدریج زوال پذیرہونے لگتاہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے انڈیاکےاندرسامنے آنے والے ردعمل اسی داخلی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔کانگریس کے رہنماپون کھیڑاکا بیان ایک ایسے اضطراب کی علامت ہے جوایک ایسے معاشرے میں پیداہوتاہے جہاں عدم تشدد،رواداری اورامن کی روایات کوتاریخی شناخت کاحصہ سمجھا جاتارہاہے۔ان کایہ مؤقف کہ کسی بھی ناانصافی کاردعمل ضرورپیداہوتاہے،دراصل تاریخ کےاس اٹل اصول کی یاددہانی ہے کہ ظلم وقتی طورپرخاموش توکیا جاسکتاہے،مگراسے ہمیشہ کیلئےدبایانہیں جاسکتا۔

یہ بیان محض ایک سیاسی اختلاف یاجماعتی تنقیدکے دائرے تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اسے ایک اخلاقی احتجاج کےطورپربھی دیکھاجا سکتاہے۔یہ اس داخلی آوازکی نمائندگی کرتاہے جواپنے ہی معاشرے سے سوال کرتی ہے کہ قومی مفادات، سفارتی تعلقات اورمعاشی فائدے اپنی جگہ،مگرانسانی اقداراوراخلاقی ذمہ داریوں کامقام کہاں ہے؟

ہرقوم اپنی تاریخ کےکسی نہ کسی موڑپرایسے سوالات سے دوچارہوتی ہے جہاں اسے اپنے ماضی کی اقداراورحال کے فیصلوں کے درمیان توازن قائم کرناپڑتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہوتاہے جب ایک معاشرہ خودسے پوچھتاہے کہ کیااس کے اصول صرف کتابوں اورتقریروں تک محدودہیں یاعملی فیصلوں میں بھی ان کی جھلک نظرآنی چاہیے۔عدم تشددکی روایت رکھنے والے معاشروں کیلئےیہ سوال مزیدگہراہوجاتاہے کہ طاقت کےاستعمال اوراخلاقی اصولوں کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے کیونکہ کسی بھی قوم کی عظمت صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتی کہ وہ کتنی طاقت رکھتی ہے،بلکہ اس سے بھی کہ وہ اپنی طاقت کوکس مقصد کیلئےاستعمال کرتی ہے۔

پون کھیڑاکاردعمل اسی وسیع ترانسانی بحث کاایک حصہ ہے۔یہ ایک ایسی آوازہے جوشایداقتدارکے بلندایوانوں میں گونج نہ رکھتی ہو، مگرضمیر کی دنیامیں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔تاریخ میں اکثرایساہواہے کہ ابتدامیں کمزوردکھائی دینے والی آوازیں ہی بعدمیں بڑے سوالات کامرکز بن گئیں۔آخرکارکسی بھی قوم کا اخلاقی سفراسی وقت مکمل ہوتاہے جب وہ اپنے فیصلوں کاجائزہ لینے،اپنے اقدامات پرسوال اٹھانے اوراپنے ضمیرکی آوازسننے کاحوصلہ رکھتی ہو۔کیونکہ طاقت وقتی اثرپیداکرسکتی ہے،مگرتاریخ میں عزت ہمیشہ ان معاشروں کوملتی ہے جو انصاف، انسانیت اوراخلاقی ذمہ داری کومحض الفاظ نہیں بلکہ عمل کاحصہ بناتے ہیں۔

انڈیااوراسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات کی تاریخ دراصل ایک تدریجی مگرمسلسل ارتقاکی داستان ہے،جس نے گزشتہ تین دہائیوں میں ایک رسمی سفارتی رابطے سے نکل کرایک گہری تزویراتی اورصنعتی شراکت داری کی شکل اختیارکرلی ہے۔1992میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعدیہ روابط محض سیاسی ملاقاتوں اورسفارتی بیانات تک محدودنہیں رہے بلکہ دفاع، ٹیکنالوجی،تحقیق اورمشترکہ پیداوارکے میدانوں میں ایک نئے باب کاآغازہوا۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق ایک ایسے پل کی مانند بنتاگیا جس نے دومختلف جغرافیوں،دومختلف معاشی نظاموں اوردومختلف دفاعی ضروریات کوایک دوسرے سے جوڑدیا۔اس پل کی بنیاد ٹیکنالوجی کے تبادلے،دفاعی معاہدوں،مشترکہ منصوبوں اورصنعتی تعاون پر رکھی گئی۔اسرائیل نے اپنی دفاعی مہارت،جدید ٹیکنالوجی اورجنگی نظاموں میں حاصل تجربے کواس شراکت داری کاحصہ بنایا،جبکہ انڈیانے اپنی وسیع صنعتی صلاحیت،افرادی قوت اورپیداواری استعدادکے ذریعے اس تعاون کوایک بڑے پیمانے پرآگے بڑھایا۔

یہ دفاعی اشتراک محض خریدوفروخت کامعاملہ نہیں رہابلکہ مشترکہ پیداواراورتکنیکی تعاون کےایک ایسے نظام میں تبدیل ہواجس میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے گئے۔اسرائیل،جوجدیددفاعی ٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام،میزائل ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک دفاعی صلاحیتوں میں مہارت رکھتاہے،اورانڈیا،جوایک بڑی صنعتی بنیاداوروسیع پیداواری صلاحیت رکھتاہے،دونوں نے اس تعلق کواپنے اپنے تزویراتی مقاصدکیلئےاستعمال کیا۔

اس تعلق کاایک نمایاں پہلویہ بھی ہے کہ بعض دفاعی منصوبوں میں ٹیکنالوجی اورپیداوارکے مراحل دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں۔ایک طرف اسرائیل اپنی تکنیکی مہارت اورتحقیق کاحصہ فراہم کرتاہے،جبکہ دوسری طرف انڈیاصنعتی پیمانے پرپیداواراور تیاری کی صلاحیت فراہم کرتاہے۔اس طرح بعض اوقات ایک ایسادائرہ تشکیل پاتاہے جس میں تیارہونے والادفاعی سامان مختلف مراحل سے گزرکردوبارہ اسی خطے میں پہنچتاہے جہاں اس کی ضرورت یا استعمال کافیصلہ کیاجاتاہے۔

یہ صورتحال جدیددفاعی صنعت کی پیچیدہ حقیقت کوظاہرکرتی ہے،جہاں ہتھیارصرف ایک ملک کی پیداوارنہیں رہتے بلکہ مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی، سرمایہ ،تحقیق اورصنعتی صلاحیتوں کے امتزاج سے وجودمیں آتے ہیں۔آج کے دورمیں دفاعی تعاون دراصل عالمی سیاست کے بڑے نقشے کاحصہ بن چکاہے،جہاں ہرمعاہدہ صرف فوجی ضرورت نہیں بلکہ سفارتی ترجیحات اورتزویراتی مقاصد کی بھی عکاسی کرتاہے۔تاہم اس اشتراک کاایک دوسراپہلو بھی ہے جوعالمی مباحث میں سوالات کوجنم دیتاہے۔جب دفاعی تعاون کسی ایسے تنازعے سے جڑ جائے جہاں انسانی حقوق،جنگی قوانین اورشہریوں کےتحفظ کےمسائل زیرِ بحث ہوں توپھریہ تعلق محض تکنیکی یامعاشی معاملہ نہیں رہتابلکہ اخلاقی اورسیاسی سوالات کاموضوع بھی بن جاتاہے۔

یوں انڈیااوراسرائیل کادفاعی اشتراک ایک ایسے سفرکی داستان ہے جس میں مفادات،ٹیکنالوجی،سفارت کاری اورعالمی سیاست کے کئی رنگ شامل ہیں۔یہ ایک ایساپل ہے جودو ممالک کوقریب لاتاہے،مگراس پل پرگزرنے والے ہرمعاہدے،ہرہتھیاراورہرفیصلے کے ساتھ تاریخ کے سوالات بھی سفرکرتے ہیں۔کیونکہ آنے والاوقت صرف یہ نہیں دیکھے گاکہ کون سی ٹیکنالوجی بنائی گئی،بلکہ یہ بھی دیکھے گاکہ اس طاقت کوکس مقصد کیلئےاستعمال کیاگیا۔عالمی سیاست کی دنیامیں بعض فیصل ایسےہوتےہیں جوسرکاری بیانات کی روشنی میں کم اور خاموش سفارتی راستوں،بندکمروں کی ملاقاتوں اورغیراعلانیہ معاہدوں کےذریعے زیادہ طے پاتے ہیں۔دفاعی تجارت بھی انہی شعبوں میں شامل ہے جہاں ریاستی مفادات،قومی سلامتی، سفارتی ترجیحات اورمعاشی فائدے ایک دوسرے سے اس قدرجڑجاتے ہیں کہ مکمل شفافیت اکثرپسِ منظرمیں چلی جاتی ہے۔

ایک ایسے سفرکی داستان ہے جس میں مفادات،ٹیکنالوجی،سفارت کاری اورعالمی سیاست کے کئی رنگ شامل ہیں۔اسرائیل کی دفاعی صنعت،جس کاحجم اندازاً20 سے 30ارب ڈالر کے درمیان بتایاجاتاہے،جدیدعالمی معیشت کےاس حصےکی نمائندگی کرتی ہے جہاں ٹیکنالوجی،سرمایہ اورتزویراتی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ پیوست نظرآتے ہیں۔یہ صنعت صرف ہتھیاروں کی تیاری کاایک نظام نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک ہے جس میں تحقیق،دفاعی ٹیکنالوجی ،عالمی شراکت داریاں اورسیاسی اثرو رسوخ شامل ہوتے ہیں۔

انڈیا او اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون بھی اسی پیچیدہ عالمی منظرنامے کاحصہ ہے۔دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی کئی دفاعی ڈیلنگز،مشترکہ منصوبے اورتکنیکی تعاون کے معاملات اکثرمحدوددائرے میں رکھےجاتےہیں۔اس کی ایک وجہ قومی سلامتی کے تقاضے بیان کیے جاتے ہیں،جبکہ دوسری طرف یہ حقیقت بھی موجودہے کہ عالمی سیاست میں بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں مکمل طورپرمنظرِعام پرلاناسیاسی طورپرحساس سمجھاجاتاہے۔دفاعی تجارت کی نوعیت عام تجارتی سرگرمیوں سے مختلف ہوتی ہے۔یہاں کسی معاہدے کااثر صرف بازاروں یاصنعتوں تک محدودنہیں رہتابلکہ اس کے نتائج علاقائی طاقت کے توازن،سفارتی تعلقات اورعالمی سیاسی صف بندیوں تک پھیل جاتے ہیں۔اسی لیے ریاستیں اکثردفاعی تعاون کواحتیاط،رازداری اورمحدود ابلاغ کے ساتھ آگے بڑھاتی ہیں۔

ایک ایسے سفرکی داستان ہے جس میں مفادات،ٹیکنالوجی،سفارت کاری اورعالمی سیاست کے کئی رنگ شامل ہیں۔یہ پردۂ اخفامحض اتفاق نہیں بلکہ عالمی سیاست کی ایک حقیقت ہے۔طاقتورریاستیں اکثراپنے تزویراتی مفادات کےتحفظ کیلئےایسے معاملات کومحدوددائرے میں رکھناپسندکرتی ہیں،کیونکہ بعض اوقات کسی معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے سے داخلی سیاسی ردعمل،علاقائی حساسیت یاسفارتی پیچیدگیاں پیداہوسکتی ہیں۔

تاہم شفافیت کاسوال اپنی جگہ برقراررہتاہے کیونکہ جب دفاعی تجارت انسانی تنازعات اورجنگی حالات سے جڑجاتی ہے توعوامی سطح پریہ جاننے کی خواہش بڑھ جاتی ہےکہ ان معاہدوں کے اثرات کہاں تک پہنچتے ہیں اوران کے نتائج کس شکل میں ظاہرہوتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں قومی مفادات اورعالمی اخلاقی ذمہ داریوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔یوں انڈیا اوراسرائیل کے درمیان دفاعی تجارت کی داستان صرف ہتھیاروں ،ٹیکنالوجی اورمعاہدوں کی کہانی نہیں بلکہ عالمی سیاست کےاس پیچیدہ مزاج کی عکاسی بھی ہےجہاں کئی فیصلےروشنی میں نہیں بلکہ سایوں میں تشکیل پاتےہیں۔تاریخ کاتجربہ یہی بتاتاہے کہ جومعاملات آج پردوں کے پیچھے رکھے جاتے ہیں،وقت گزرنے کے ساتھ اکثروہی تاریخ کے سب سے اہم سوالات بن کرسامنے آتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی سیاست کاایک ایسامرکزرہاہے جہاں تاریخ،تہذیب،مذہب،توانائی کے وسائل اورعالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سےجڑے رہےہیں۔یہ خطہ صرف جغرافیے کاایک ٹکڑانہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کاایک حساس محورہے،جہاں ہونےوالی معمولی تبدیلیاں بھی دنیاکےسیاسی نقشے پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔صدیوں سےیہ سرزمین تہذیبوں کےعروج وزوال کی گواہ رہی ہے،اورآج بھی یہ عالمی سیاست کی بساط پرایک اہم ترین میدان کی حیثیت رکھتی ہے۔

حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی فضامیں ہونے والی تبدیلیوں نےاس خطے کوایک نئے جغرافیائی اورتزویراتی مرحلے میں داخل کردیاہے۔ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی، مختلف علاقائی تنازعات،ابراہیمی معاہدوں کےتحت بعض عرب ممالک اوراسرائیل کےدرمیان تعلقات کی بحالی،اورعرب دنیاکی نئی سفارتی ترجیحات نےطاقت کےپرانے تصورات کوتبدیل کرناشروع کردیاہے۔اب خطے کی سیاست صرف روایتی دشمنیوں اوراتحادوں تک محدودنہیں رہی بلکہ معاشی مفادات،توانائی کی ضروریات،سلامتی کےتقاضوں اور عالمی شراکت داریوں نےبھی نئی صف بندیوں کوجنم دیاہے۔

یہ بدلتا ہوامنظرنامہ دراصل ایک ایسی شطرنج کی بساط کی مانندہے جہاں ہرریاست اپنی چال نہایت احتیاط سے چل رہی ہے۔یہاں ایک فیصلہ صرف ایک ملک کی پالیسی نہیں بدلتابلکہ پورے خطےکےتوازن پراثراندازہوسکتاہے۔ایک سفارتی معاہدہ،ایک دفاعی تعاون یا ایک سیاسی قربت آنے والے برسوں میں طاقت کےنئےمراکزتشکیل دے سکتی ہے۔اسی پیچیدہ ماحول میں انڈیاکاکرداربھی قابلِ توجہ بنتا ہے۔انڈیااس خطے میں ایک محتاط مگربڑھتی ہوئی دلچسپی رکھنے والے فریق کے طورپرسامنے آرہاہے۔وہ نہ تومکمل طورپراس سیاسی بساط کامرکزی کردارہے اورنہ ہی ایک غیرمتعلق تماشائی۔توانائی کی ضروریات،معاشی روابط،خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات، اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون اورعالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کے توازن نے اسے ایک ایسے مقام پرکھڑا کردیاہے جہاں اس کی خاموش سفارت کاری بھی معنی رکھتی ہے۔

انڈیا کایہ کرداربظاہرخاموش دکھائی دیتاہے،مگرعالمی سیاست میں خاموشی بھی اکثرایک حکمتِ عملی ہوتی ہے۔بعض اوقات ریاستیں بلند اعلانات کی بجائے محتاط اقدامات کے ذریعے اپنے مفادات کوآگے بڑھاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں انڈیاکی پوزیشن ک نظر اندازنہیں کیاجا سکتا۔تاہم اس نئی صف بندی کاسب سے اہم پہلویہ ہے کہ خطے کےفیصلےاب صرف علاقائی طاقتوں تک محدودنہیں رہے۔امریکہ،روس،چین،یورپی ممالک اوردیگرعالمی قوتیں بھی اس بساط پراپنے مفادات کےمطابق کرداراداکر رہی ہیں۔یوں مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرعالمی طاقتوں کے درمیان اثرورسوخ کی کشمکش کامیدان بن گیاہے۔

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہرقدم کے دوررس نتائج ہوسکتے ہیں۔اگرسفارت کاری،باہمی احترام اورعلاقائی امن کوترجیح دی گئی تویہ تبدیلیاں استحکام کاذریعہ بن سکتی ہیں،لیکن اگرطاقت کاتوازن صرف مفادات کی بنیادپرقائم کیاگیاتویہی صف بندیاں نئے تنازعات کوبھی جنم دے سکتی ہیں۔آخرکارمشرقِ وسطیٰ کی یہ نئی داستان ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی ملک مکمل طورپرالگ تھلگ نہیں رہتا۔ہراتحاد،ہرمعاہدہ اورہرخاموش فیصلہ تاریخ کے بڑے دھارے کاحصہ بن جاتاہے۔آنے والاوقت یہ طے کرے گاکہ اس بدلتی ہوئی بساط پرکون سی چال امن کاراستہ ہموارکرتی ہے اورکون سی چال نئے بحرانوں کے دروازے کھولتی ہے۔

یہ پوری داستان محض ایک رپورٹ،چنداعدادوشماریاسفارتی معاملات کامجموعہ نہیں،بلکہ ایک ایساسوالنامہ ہے جوصرف ایک ملک یا ایک خطےسےنہیں بلکہ پوری عالمی برادری سے جواب طلب کرتاہے۔یہ ان تمام ریاستوں کےسامنےایک آئینہ رکھتی ہے جوخودکو انسانی حقوق،انصاف اورعالمی اخلاقیات کا علمبردارقراردیتی ہیں۔اس آئینے میں صرف ایک ریاست کاچہرہ نہیں بلکہ پوری دنیاکے اجتماعی ضمیرکاعکس دکھائی دیتاہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے معاہدے ہوئے،کتنے ہتھیاربنے یاکتنی تجارت ہوئی؛اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کایہ سفرکس قیمت پرطے کیا جارہاہے؟کیاصنعتی ترقی،معاشی مفاداورسیاسی اثرورسوخ کی دوڑمیں انسانی اقدارکوقربان کیاجاسکتاہے؟کیاتجارت کی چمکتی ہوئی دنیا میں انسان کی جان کی قیمت کم ہوسکتی ہے؟ اور کیامفادات کےبلندایوانوں میں اٹھنےوالی آوازیں مظلوموں کی آہوں کوہمیشہ کیلئےخاموش کرسکتی ہیں؟

تاریخ کافیصلہ ہمیشہ طاقت کےترازوسےنہیں ہوتا،بلکہ اخلاقی سچائی کےمیزان پرہوتاہے۔سلطنتیں اپنےعروج کےزمانےمیں ناقابلِ شکست محسوس ہوتی ہیں ،طاقت کےایوان مضبوط دکھائی دیتےہیں،اورمفادات کےقلعےناقابلِ تسخیرنظرآتے ہیں؛مگرتاریخ کاسفرگواہ ہے کہ وقت کےسامنے ہرطاقت کوجواب دیناپڑتاہے۔وہ آوازیں جوآج کمزورمحسوس ہوتی ہیں،کبھی کبھی آنےوالےزمانوں میں سب سے طاقتورگواہی بن جاتی ہیں۔

مظلوم کی آہ ایک ایسی صداہے جووقت کے فاصلے عبورکرلیتی ہے۔اسے وقتی طورپردبایاجاسکتاہے،اسے سیاسی نعروں کےشورمیں چھپایاجاسکتاہے،مگراسے ہمیشہ کیلئےختم نہیں کیاجاسکتا کیونکہ تاریخ کےسینے میں محفوظ ہرآنسو،ہرچیخ اورہرناانصافی ایک دن سوال بن کرواپس آتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ اسی حقیقت کی یاددہانی ہے کہ دنیاکوایک بارپھرفیصلہ کرناہوگاکہ وہ کس راستے پرکھڑی ہے۔کیاوہ طاقت کے ساتھ کھڑی ہوگی یاانصاف کےساتھ؟کیاوہ مفادکی خاموشی اختیارکرے گی یاانسانیت کی آوازسنے گی؟کیونکہ ایک مہذب دنیاکی پہچان اس کی عسکری قوت،معاشی حجم یاسیاسی اثرورسوخ سے نہیں ہوتی،بلکہ اس بات سےہوتی ہے کہ وہ کمزورانسان کے حق میں کتنی آوازبلند کرتی ہے۔

تاریخ کاقلم کبھی خاموش نہیں رہتا۔وہ بادشاہوں کے فرمان بھی لکھتاہے اورمظلوموں کی فریادیں بھی محفوظ کرتاہے۔وہ جنگوں کے فیصلے بھی ثبت کرتاہے اوران فیصلوں کے پس پردہ چھپے ارادوں کوبھی بے نقاب کرتاہے۔وقت گزرجاتاہے،چہرے بدل جاتے ہیں، طاقت کےمراکزمنتقل ہوجاتے ہیں،مگرتاریخ کےصفحات پرلکھے ہوئے اعمال باقی رہتے ہیں اورجب کبھی تاریخ اپنافیصلہ سناتی ہے تو اس کی سیاہی میں صرف الفاظ نہیں ہوتے،بلکہ صدیوں کی صدائیں شامل ہوتی ہیں؛ان لوگوں کی صدائیں جنہوں نے ظلم دیکھا،ان لوگوں کی صدائیں جنہوں نے سوال اٹھائے،اور ان لوگوں کی صدائیں جنہوں نے انسانیت کے چراغ کواندھیروں میں بھی روشن رکھنے کی کوشش کی۔

آخرکارسوال صرف یہ نہیں کہ دنیانے کیاکیابلکہ یہ بھی ہےکہ دنیانے کیاہونے دیاکیونکہ آنےوالی نسلیں صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ طاقتور کون تھا،بلکہ یہ بھی پوچھیں گی کہ جب انسانیت آزمائش میں تھی توکون اس کے ساتھ کھڑاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں