Friendship or utility?

دوستی یامفاد؟

قوموں کے تعلقات بھی بسااوقات انسانوں کے رشتوں کی ماننددکھائی دیتے ہیں،مگران کے باطن میں جذبات سے زیادہ مفاد،اخلاص سے زیادہ مصلحت اوردوستی سے زیادہ طاقت کا حساب کارفرماہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست کی بزم میں مسکراہٹیں ہمیشہ محبت کی دلیل نہیں ہوتیں،مصافحے ہمیشہ اعتمادکی علامت نہیں ہوتے اورمعاہدوں کی روشن سطروں کے پیچھے بھی بعض اوقات مفادات کے ایسے سائے حرکت کرتے رہتے ہیں جنہیں وقت کی آنکھ پوری طرح وقت گزرنے کے بعدہی دیکھ پاتی ہے۔

پاکستان اورامریکاکے تعلقات بھی اسی پیچیدہ دفترِسیاست کاایک طویل باب ہیں۔کہیں گرمجوشی،کہیں سردمہری؛کہیں فوجی تعاون،کہیں پابندیاں؛کہیں ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘کاخطاب اورکہیں بے اعتمادی کے تلخ سوالات—یہ تعلق سیدھی لکیرمیں کبھی نہیں چلا۔ اس کی تاریخ گویاایک ایسی موج ہے جوکبھی ساحل سے بغلگیرہوتی ہے اورکبھی اسی ساحل سے ٹکراکر واپس پلٹ جاتی ہے۔

زیرِ نظرمضمون کابنیادی استدلال بھی یہی ہے کہ پاک–امریکاتعلقات کودائمی دوستی کے تصورسے نہیں بلکہ مفادات کی تبدیلی،علاقائی طاقت کے توازن اوربڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی کے تناظرمیں پڑھاجاناچاہیے۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکاایک ایسا اتحادی ہے جس کے تعلقات مستقل رفاقت کی بجائے وقتی ضرورت کے تابع رہے ہیں۔اس زاویۂ نگاہ کوسمجھنے کیلئے لازم ہے کہ ہم سات دہائیوں کے سفر پرنگاہ ڈالیں۔

1947ءمیں پاکستان نےآزادی حاصل کی تواس کےسامنےصرف ریاست سازی کامسئلہ نہ تھا؛اسےشدیداقتصادی مشکلات،دفاعی کمزوریوں،کشمیرکے تنازع اوربھارت کے مقابل ایک غیرمتوازن علاقائی صورتِ حال کابھی سامناتھا۔دوسری جانب دنیاسردجنگ کے دو بڑے خیموں—امریکااورسوویت یونین—میں تقسیم ہورہی تھی۔پاکستان کی قیادت نے جلدہی مغربی دنیا،بالخصوص امریکاکے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات استوارکیے۔1950ءکی دہائی میں پاکستان سیٹو اور سنٹوجیسے دفاعی انتظامات سےوابستہ ہوا۔امریکا کیلئےپاکستان سوویت اثرورسوخ کومحدودکرنےوالی جغرافیائی زنجیرکی ایک اہم کڑی تھا؛پاکستان کیلئے امریکا دفاعی سازوسامان،مالی معاونت اورسیاسی پشت پناہی کوممکنہ ذریعہ کے طورپرلازم ظاہرکیاگیا۔

یہیں سے تعلق کی بنیادی ساخت واضح ہونے لگتی ہے:دونوں ریاستیں ایک ہی میزپرضروربیٹھی تھیں مگران کے مطلوبہ نتائج یکساں نہ تھے۔پاکستان بھارت کے مقابل دفاعی تحفظ چاہتاتھاجبکہ واشنگٹن کی نگاہ ماسکوپرمرکوزتھی۔یوں مفادات کی یہ پہلی ہم آہنگی ایک ایسے نکاحِ مصلحت کی مانند تھی جس میں دونوں فریق ایک ہی چھت کے نیچے توتھے مگر دونوں کے خواب جداتھے۔

1965ءکی پاک–بھارت جنگ نے پاکستانی ریاستی اورعوامی شعورمیں امریکاکے بارے میں ایک گہراسوال پیداکیا۔پاکستان میں ایک مضبوط تاثرابھراکہ جن دفاعی رشتوں اورمعاہدوں کو سلامتی کی ضمانت سمجھاگیاتھا،آزمائش کے وقت وہ توقع کے مطابق مددگارثابت نہ ہوسکے۔امریکی اسلحہ پابندیوں نے پاکستان میں یہ احساس بڑھایاکہ بڑی طاقتیں چھوٹی ریاستوں کے ساتھ تعلقات اصولوں کی بنیادپرکم اوراپنے عالمی حساب کے مطابق زیادہ چلاتی ہیں۔یہ تجربہ محض ایک سفارتی واقعہ نہ تھا؛اس نے پاکستانی سیاسی حافظے میں ایک ایسانقش چھوڑاجوبعدکے عشروں میں باربارنمایاں ہوا۔جب بھی واشنگٹن سے اختلاف پیداہوا ، 1965 ء کی یادایک خاموش گواہ کی طرح سامنے کھڑی ہوگئی۔

تاریخ کا سبق بھی عجیب ہے:وہ کبھی اپنے فیصلے بلندآوازسے نہیں سناتی،مگرقوموں کی اجتماعی یادداشت میں ایسے نشانات چھوڑ جاتی ہے جنہیں نئی نسلیں بھی پڑھ لیتی ہیں۔1971ءکا سانحہ پاکستان کی قومی تاریخ کے دردناک ترین ابواب میں شمارہوتاہے۔مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران،خانہ جنگی،بھارتی مداخلت اوربالآخربنگلہ دیش کے قیام نے پاکستان کی علاقائی اور نفسیاتی ساخت بدل دی۔

اس دورمیں واشنگٹن اوراسلام آبادکے درمیان رابطہ موجودرہااورپاکستان نے امریکااورچین کے تاریخی ملاقات میں ایک اہم سفارتی پل کاکرداربھی اداکیا۔اس کے باوجودجنگ کے حتمی مرحلے میں امریکی کردارکے بارے میں پاکستان میں شدیدمایوسی نے جنم لیا۔یہاں ایک بارپھروہی سوال ابھرا:کیاعالمی طاقتوں کی دوستی چھوٹی ریاستوں کیلئے سلامتی کامستقل قلعہ ہوسکتی ہے؟جوقوم اپنی بقاکی چابی دوسرے کے صندوق میں رکھ دے،اسے ہمیشہ یہ اندیشہ رہتاہے کہ وقتِ ضرورت صندوق کھلے گابھی یانہیں۔

1979ءمیں سوویت یونین کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعدوہی پاکستان جس پرامریکی جوہری پروگرام کے باعث تحفظات بڑھ رہے تھے،اچانک واشنگٹن کی تزویراتی ضرورت بن گیا۔افغان جہادکے زمانے میں پاکستان امریکی،سعودی اورمغربی حکمتِ عملی کامرکزی خطہ بن گیا۔مالی وسائل آئے،اسلحہ آیا،انٹیلی جنس تعاون بڑھااورپاکستان کوسوویت توسیع کے مقابل فرنٹ لائن ریاست کامقام حاصل ہوا۔لیکن جب سوویت افواج افغانستان سے نکلیں تو جغرافیائی سیاست کاموسم بھی بدل گیا۔

1990ءکی دہائی میں پریسلرترمیم اورجوہری پروگرام سے متعلق پابندیوں نے تعلقات کوپھرسردکردیا۔پاکستان میں یہ احساس مزیدگہراہوا کہ امریکاکی قربت اکثرضرورت کے موسم تک قائم رہتی ہے؛موسم بدلے توسایہ بھی سمٹ جاتاہے۔یہی تاریخی پس منظرانتہائی اہم ہے کہ عارضی یااپنے مفادکے تحت تعلقات کےتصورکوقوت دیتاہے،اگرچہ ہردورکواس کے جداگانہ حالات کےساتھ سمجھناضروری ہے۔

11ستمبر2001ءکے حملوں نے عالمی سیاست کانقشہ بدل دیا۔افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف امریکی جنگ شروع ہوئی اور پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکی حکمتِ عملی کاناگزیرحصہ بن گیا۔پاکستان کو بڑے نان اتحادی کادرجہ ملا،اربوں ڈالرکی معاونت ہوئی، عسکری وانٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوا؛لیکن اسی دورنے پاکستانی معاشرے کودہشتگردی،داخلی انتہاپسندی، نقل مکانی،خودکش حملوں اورسیاسی انتشارکی بھاری قیمت بھی اداکروائی جس کاسلسلہ ہنوزجاری ہے۔

واشنگٹن کی طرف سے پاکستان پرطالبان اورحقانی نیٹ ورک کے حوالے سے’’دوہری پالیسی‘‘کے الزامات لگتے رہے،جبکہ پاکستان میں یہ شکایت مسلسل موجود رہی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کرنے کے باوجودپاکستانی قربانیوں کومناسب اعتراف نہیں ملا۔یوں دونوں ممالک بظاہراتحادی تھے مگراعتمادکی میزپردونوں اپنی اپنی تلواربھی رکھے ہوئے تھے۔دوستی کاچراغ جلتا رہا،مگراس کے شیشے پرشک کی دھندکبھی پوری طرح صاف نہ ہوسکی۔

2011ءمیں ایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی نے تعلقات میں ایک غیرمعمولی بحران پیداکردیا۔امریکامیں سوال اٹھا کہ بن لادن پاکستان میں کیسے موجود تھا؛پاکستان میں سوال اٹھاکہ ایک اتحادی ریاست کی خودمختاری کواطلاع کے بغیر کیسے پامال کیا گیا۔اسی زمانےمیں سلالہ کاواقعہ،ڈرون حملے اورافغانستان سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے۔یہ واقعات اس حقیقت کی علامت بن گئے کہ پاک–امریکا تعلق میں تعاون اوربدگمانی بیک وقت چل سکتےہیں۔بین الاقوامی سیاست میں یہ کوئی انہونی بات نہیں؛طاقت اورضرورت بعض اوقات ایسے دوگھوڑے ہیں جن پرریاستیں بیک وقت سواررہتی ہیں، اگرچہ دونوں کارخ ہمیشہ ایک نہیں ہوتا۔

اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے چین کامعاشی اورتزویراتی ابھارعالمی طاقت کے توازن کامرکزی مسئلہ بننے لگا۔پاکستان اور چین کے درمیان پرانی دفاعی رفاقت سی پیک کے ذریعےایک نئے اقتصادی اورجغرافیائی مرحلے میں داخل ہوئی۔سی پیک پاکستان کیلئے صرف سڑکوں، توانائی اورانفراسٹرکچرکامجموعہ نہیں؛اس کے حامی اسے اقتصادی اتصال،صنعتی ترقی اورعلاقائی تجارت کے وسیع تصور سے جوڑتے ہیں۔لیکن دوسری طرف امریکی حکمتِ عملی کاایک مقصدسی پیک اورگوادرکی مکمل فعالیت کومؤخرکرنااورچین کیلئے بحرِہندتک نسبتاًآسان رسائی کومحدودرکھناہوہے۔

یہاں تحقیق کی میزان ہاتھ سے نہیں چھوڑنی چاہیے۔امریکااورچین کی عالمی تزویراتی مسابقت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے،اورواشنگٹن نے سی پیک کے بعض مالی وتزویراتی پہلوؤں پر تحفظات بھی ظاہرکیے ہیں؛تاہم ہرپاکستانی داخلی بحران کوبراہِ راست اسی منصوبے کا نتیجہ قراردیناالگ اورکہیں زیادہ بڑے ثبوت کامحتاج دعویٰ ہے۔فرق یہی ہے جوسنجیدہ تحقیق کو سیاسی خطابت سے ممتازکرتاہے۔

گزشتہ دودہائیوں میں امریکااوربھارت کی تزویراتی قربت میں نمایاں اضافہ ہوا۔سول نیوکلیئرتعاون،دفاعی معاہدے،انڈوپیسیفک حکمتِ عملی اورکواڈ جیسے انتظامات نے نئی دہلی کی عالمی حیثیت کوتقویت دی۔امریکاکی نگاہ میں بھارت،بالخصوص چین کے بڑھتے اثرکے مقابل،ایک اہم ایشیائی شراکت دارہے۔ پاکستان کیلئے یہ تبدیلی فطری طورپرتشویش کاباعث بنتی ہےکیونکہ جنوبی ایشیامیں طاقت کے توازن کاہربڑاتغیربراہِ راست اس کی سلامتی کے حساب پراثر ڈالتا ہے۔

حال ہی میں کشمیرسے متعلق امریکی سفارتی بیانات کوبھی اسی وسیع ترتبدیلی کی علامت ہےاورپاک–امریکاتعلق کی محدودگہرائی کے ثبوت کے طورپر پاکستان کو سخت تشویش بھی ہے جس کی بناء پرپاکستان نے باقاعدہ طورپر اسلام آباد میں امریکی سفیرکوبلاکرسخت احتجاج بھی کیاہے۔البتہ کسی ایک سفارتی بیان کوپوری پالیسی کامکمل آئینہ سمجھنامناسب نہیں۔بڑی طاقتوں کی زبان میں لفظ بھی کبھی کبھی شطرنج کے مہرے ہوتے ہیں؛ایک جملہ ایک سامع کیلئے،دوسراکسی اور دارالحکومت کیلئے ہوتاہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق سب سے سخت الزام یہ ہے کہ امریکی قیادت نے پاکستان کوایک سٹرٹیجک فریب کے ذریعے جال میں پھنسایااوراس تصورمیں اسرائیل،بھارت اورمتحدہ عرب امارات کوبھی شریک قراردیاگیاہے۔اسی سلسلے میں پاکستان کے اندردہشت گردی،معاشی کمزوری اورسیاسی عدم استحکام بھی ایک وسیع منصوبے سے مربوط کرنے کے واضح اشارے ہیں اوریہ الزامات اپنی نوعیت میں نہایت سنگین ہیں۔

تحقیق کاوقاراسی میں ہے کہ جہاں دستاویزی شہادت نہ ہووہاں یقین کاجامہ نہ پہنایاجائے۔ریاستوں کے درمیان خفیہ تعاون،انٹیلی جنس سرگرمیاں اورپراکسی مقابلے عالمی سیاست کاحصہ رہے ہیں،لیکن کسی مخصوص دہشتگردی کی لہریاداخلی سیاسی بحران کوکسی بین الاقوامی مشترکہ منصوبے سے قطعی طورپرجوڑنے کیلئے سرکاری دستاویزات،معتبرانٹیلی جنس شواہد،عدالتی مواد یا متعددآزادذرائع درکارہوتے ہیں۔اس لیے اس مفروضے کوایک تجزیاتی دعوے کے طورپرپڑھنا زیادہ ذمہ دارانہ ہے۔شک تحقیق کادروازہ کھولتاہے،مگر ثبوت کے بغیرشک کوفیصلہ بنادینا تحقیق کادروازہ بندکردیتاہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فلسطین کامسئلہ محض خارجہ تعلقات کاایک خانہ نہیں؛یہ تاریخی،مذہبی،اخلاقی اورعوامی جذبات سے گہراتعلق رکھتاہے۔پاکستان نے طویل عرصے سے فلسطینی حقِ خودارادیت اورایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔اسی لیے اسرائیل کوتسلیم کرنے کامسئلہ پاکستان میں ہمیشہ غیرمعمولی حساسیت رکھتا ہے۔تاہم یہ خدشات موجودہیں کہ واشنگٹن پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ میں اثرورسوخ،ایران اوردیگرمسلم ممالک کے ساتھ اس کے روابط کواستعمال کرتے ہوئے اسے ابراہام اکارڈکے وسیع تر سیاسی ماحول کی طرف لاناچاہتا ہے لیکن ابھی تک اس کاکوئی ثبوت موجودنہیں۔

یہاں یہ سمجھناضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب پرانے سانچوں میں محدود نہیں رہا۔سعودی عرب،ایران،ترکیہ،امارات،قطر،اسرائیل اور امریکاسب اپنےاپنے مفادات کے دائروں میں نئی صف بندیاں تشکیل دیتے رہے ہیں۔پاکستان کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ نہ کسی ایسے اتحاد میں بے سوچے سمجھے جذب ہوجس سے اس کی تاریخی پالیسی متاثرہو،نہ ایسی جذباتی تنہائی اختیار کرے جس سے اس کے معاشی و سفارتی مفادات مجروح ہوں۔دانائی کاراستہ اکثردوانتہاؤں کے درمیان سے گزرتاہے۔

پاکستان کی جغرافیائی تقدیرنے اسے ایک ایسے سنگم پرکھڑاکیاہے جہاں چین،بھارت،ایران،افغانستان،بحیرۂ عرب اورخلیجی دنیاسب اس کے براہِ راست تزویراتی ماحول کاحصہ ہیں۔ایران پاکستان کاہمسایہ ہے؛سعودی عرب اورخلیجی ریاستیں گہرے اقتصادی،مذہبی اور انسانی روابط رکھتی ہیں؛امریکاعالمی مالیاتی وعسکری نظام میں اہم کرداررکھتاہے؛چین پاکستان کاسب سے نمایاں تزویراتی شراکت دار بن چکاہے۔ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی ایک محورکی غلام نہیں ہوسکتی۔وہ کشتی جوایک ہی لنگرپرپوراسمندرعبورکرنا چاہے،پہلی بڑی آندھی میں خطرے میں پڑجاتی ہے۔

پاکستان کی اصل ضرورت سٹریٹجک خودمختاری ہے-ایک آزادخارجہ پالیسی جس میں تعلقات شامل ہوں لیکن انحصارنہیں،تعاون لیکن ماتحتی نہیں،اوردوستی لیکن قومی مفادکی قیمت پر نہیں۔

کیاامریکا واقعی ہمیشہ’’ناقابلِ اعتماد‘‘رہا؟یہ سوال جذبات سے نہیں،تاریخی میزان سے جواب مانگتاہے۔یہ کہنادرست ہوگاکہ پاک–امریکا تعلقات میں بارہا شدیداتارچڑھاؤآیا،امریکی پالیسی اکثر اس کے عالمی مفادات کے تابع رہی،اورپاکستان میں کئی مواقع پریہ احساس پیداہوا کہ ضرورت ختم ہوتے ہی امریکی ترجیحات تبدیل ہوگئیں لیکن مکمل تاریخ کادوسرارخ بھی موجودہے۔امریکاکئی ادوارمیں پاکستان کابڑا تجارتی شراکت دار،ترقیاتی امدادکاذریعہ،دفاعی معاون ،تعلیمی مواقع کامرکزاورعالمی مالیاتی نظام میں اہم رابطہ رہا۔دونوں ملکوں کے عسکری،سفارتی،کاروباری اورعوامی روابط سات دہائیوں سے موجود ہیں۔ لہٰذا مسئلہ شایدیہ نہیں کہ امریکا’’دوست‘‘ہے یا’’دشمن‘‘۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اس تعلق کوکس حدتک مفادات کے حقیقت پسندانہ ادراک کے ساتھ چلایا،او کس حدتک شخصیات،وقتی مراعات یافوری سیاسی ضرورتوں کے تابع کردیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں شخصی مفادکے تابع ہونے سے پاکستان کی خودمختاری کوشدیدنقصان اورامریکاکوخوب فائدہ ہواہے۔یہ نکتہ پاکستان کیلئے اندرونی احتساب کادروازہ بھی کھولتاہے اوراس احتساب کی زدمیں یقیناًاشرافیہ اورسیاسی رہنماؤں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

ہرناکامی کاسبب بیرونی ہاتھ قراردے دینےسےقومیں اپنے داخلی کمزورہاتھوں کودیکھنابھول جاتی ہیں۔سوال یہ ہےکہ پھراصل مسئلہ کیاہے؟ خارجہ پالیسی یاداخلی کمزوری؟دنیامیں کمزور معیشت کے ساتھ مکمل خودمختارخارجہ پالیسی قائم رکھنادشوارہوتاہے۔قرض مانگنے والی ریاست کی آوازاورقرض دینے والی ریاست کی آوازکاوزن عالمی مجلس میں یکساں نہیں ہوتا۔سیاسی عدم استحکام،کمزور ادارے،توانائی بحران،برآمدات کی کمی،پالیسیوں کاعدم تسلسل اورداخلی تقسیم کسی بھی بیرونی قوت کیلئے اثراندازہونے کے امکانات بڑھادیتے ہیں۔

اگرپاکستان چاہتاہے کہ واشنگٹن،بیجنگ،ریاض،تہران،انقرہ یاابوظہبی کے ساتھ اس کے تعلقات قومی مفادکی بنیادپرہوں توپہلی جنگ کسی بیرونی دارالحکومت میں نہیں بلکہ اپنے گھرکے اندرجیتناہوگی۔اقتصادی خودانحصاری،ادارہ جاتی استحکام، قانون کی حکمرانی،قومی اتفاقِ رائے اورانسانی سرمائے میں سرمایہ کاری وہ قلعے ہیں جنہیں میزائلوں سے زیادہ دیرپادفاع حاصل ہوتا ہے۔
قرآنِ حکیم کااصول ہے:
یقیناً اللہ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا، جب تک وہ قوم خود اپنے اندر کی حالت، اپنے اعمال اور اپنے رویّے کو بدلنے کا فیصلہ نہ کرے۔
قوموں کی تقدیرکاقلم صرف بیرونی ہاتھ نہیں لکھتے؛بہت سی سطریں ان کےاپنے کردارسے بھی رقم ہوتی ہیں۔ان خطرات سے بچنے کیلئے پاکستان کوکیاکرنا چاہیے ؟

پاکستان کے سامنے راستہ امریکادشمنی یاامریکاپرستی میں سے کسی ایک کاانتخاب نہیں۔اسے پاکستان دوستی کاانتخاب کرناچاہیے۔امریکاکے ساتھ تجارت،سرمایہ کاری،ٹیکنالوجی،تعلیم اور انسدادِ دہشتگردی میں تعاون ہوسکتاہے؛چین کے ساتھ سی پیک،دفاعی شراکت اورصنعتی ترقی آگے بڑھ سکتی ہے؛ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی اورتجارت بہترہوسکتی ہے؛سعودی عرب،ترکیہ اورخلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون گہراہوسکتاہے۔یہ سب ایک دوسرے کی نفی کیے بغیر ممکن ہیں،بشرطیکہ اسلام آباد کی پالیسی کاقبلہ بیرونی دارالحکومت نہیں بلکہ پاکستان کا دیرپا قومی مفادہو۔

سی پیک اورگوادرکوبھی نعرے سے نکال کرحقیقی اقتصادی فعالیت میں بدلناہوگا۔بندرگاہ صرف کنکریٹ کے ساحل کا نام نہیں؛اسے ریل،شاہراہ، صنعت ، توانائی،امن،مقامی آبادی کی شمولیت اورعالمی تجارت سے مربوط کرناپڑتاہے۔ورنہ نقشے پرکھینچی ہوئی عظیم شاہراہ بھی زمینی معیشت میں محض ایک خواب رہ جاتی ہے۔نتیجہ،دوستیاں نہیں،مفادات مستقل ہوتے ہیں۔

پاکستان اورامریکاکی75برس سے زائدتاریخ ہمیں ایک سادہ مگرگراں قدرسبق دیتی ہے:بین الاقوامی سیاست میں دائمی محبتیں بہت کم اور دائمی مفادات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔امریکانے جہاں اپنے مفادمیں پاکستان سے قربت اختیارکی،وہیں پاکستان نے بھی اپنے دفاعی،معاشی اورسفارتی مفادات کیلئے امریکاسے تعاون کیا۔مسئلہ تعاون میں نہیں؛مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہےجب تعاون کودائمی وفاداری کانام دے دیا جائے۔

ریاستیں درویشوں کی خانقاہیں نہیں ہوتیں کہ وہاں تعلق بے غرض عقیدت پر قائم ہو۔وہ بازارِسیاست کی وہ دکانیں ہیں جہاں ہرمسکراہٹ کے پیچھے حساب اور ہرمصافحے کے نیچے مفاد کی نبض دھڑکتی ہے۔مگراس حقیقت کامطلب بدگمانی،تنہائی یاہرحادثے کے پیچھے سازش تلاش کرنابھی نہیں۔بصیرت کامقام ان دونوں انتہاؤں سے بلندہے۔پاکستان کوامریکاکے بارے میں نہ وہ سادہ لوح خوش فہمی زیب دیتی ہے جس میں ہروعدہ عہدِوفا معلوم ہو،نہ وہ بے لگام بدگمانی جس میں ہربحران کے پیچھے واشنگٹن کاہاتھ دکھائی دے۔ قومی حکمت وہ ہے جودوست کی مسکراہٹ بھی پڑھے،حریف کی خاموشی بھی؛معاہدے کی سطربھی دیکھےاوراس کے حاشیے میں چھپی مصلحت بھی۔

پاک–چین تعلق ہویاپاک–امریکارابطہ،گوادرہویاسی پیک،کشمیرہویافلسطین،ایران ہویاخلیجی دنیا—ہرسمت پاکستان کوایک ہی چراغ لے کرچلناہوگا: اپناقومی مفاد،اپنی اقتصادی قوت،اپنی سیاسی خودمختاری اوراپنے اصولوں سے وفاداری،کیونکہ تاریخ کادریاکمزورکشتیوں سے رحم نہیں کرتا۔وہ قومیں جوہرنئے بادبان کونجات دہندہ سمجھ لیتی ہیں،اکثرہواکے رخ کے ساتھ بہتی رہتی ہیں؛مگرجواپنے جہازکی کیل مضبوط کرتی،قطب نمادرست رکھتی اورملاح کومنزل کاشعو دیتی ہیں،وہ طوفانوں کے درمیان بھی اپناراستہ بنالیتی ہیں۔

پاکستان کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکاکب تک ہمارادوست رہے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب اس قدرمضبوط،خودداراور معاشی وسیاسی طورپر مستحکم ہوگاکہ کسی دوسرے ملک کی دوستی یاناراضگی اس کی قومی تقدیرکافیصلہ نہ کرسکے؟یہی سوال ماضی کے آئینے میں حال کاچہرہ بھی دکھاتاہے اورمستقبل کے دروازے پردستک بھی دیتاہے۔اورشایدتاریخ کاسب سے معتبرسبق یہی ہے:جوقوم اپنی تقدیرکاقلم خودتھام لے،دنیااس کیلئے فیصلے لکھنے کی بجائے اس کے ساتھ فیصلے کرنے پرمجبورہوجاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں