تاریخِ اقوام میں بعض اختلافات توپ وتفنگ کی گھن گرج سے ظاہرنہیں ہوتے؛ان کی پہلی آہٹ بینک کی خاموش کھڑکی،تجارت کی سست رفتارنبض،سفارتی جملوں کی محتاط ساخت اور ذرائع ابلاغ کے لہجے میں سنائی دیتی ہے۔ ریاستوں کے باہمی تعلقات بھی انسانی تعلقات کی طرح ہوتے ہیں: جب اعتمادکی عمارت میں پہلی دراڑپڑتی ہے توبسااوقات دروازے بند ہونے سے پہلے کھڑکیوں کے شیشے چرچرانے لگتے ہیں۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کئی دہائیوں تک خلیج کے سیاسی،معاشی اورسلامتی کے نظام میں باہمی قربت،اشتراک اورمشترکہ مفادات کی علامت سمجھے جاتے رہے مگرباوثوق ذرائع ایک ایسےمنظرنامے کی تصویرپیش کرتے ہیں جس میں دونوں ریاستوں کے تعلقات اب محض دوستانہ مسابقت تک محدود نہیں رہے،بلکہ مالی نگرانی،تجارتی بے یقینی،یمن،ایران ، تیل کی سیاست،ذرائع ابلاغ کی محاذآرائی اورعلاقائی اتحادوں کےاختلاف نےاس رشتے کوایک نئی آزمائش سے دوچارکردیاہے۔
یہ صورتِ حال محض دوعرب ریاستوں کااختلاف نہیں۔خلیج کی سیاست میں سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات دوایسے ستون ہیں جن کی سمت میں تبدیلی پوری عمارت کے توازن پر اثرڈال سکتی ہے۔اگرریاض اورابوظہبی کی ترجیحات ایک دوسرے سے دورہوتی ہیں تو اس کاسایہ تیل کی منڈیوں سے لے کریمن، ایران،اسرائیل،پاکستان،ترکی اوروسیع ترمسلم دنیاتک پھیل سکتاہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی طرف جانے والی مالی رقوم کی منتقلی پرنگرانی سخت کردی ہے،اوراسے دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ علامت اوراختلاف کی خاموش دستک قراردیاجارہاہے۔یادرہے کہ معاشی تعلقات میں مالی ترسیلات خون کی گردش کی حیثیت رکھتی ہیں۔جب تجارت کے دروازے کھلے ہوں لیکن بینکنگ نظام احتیاط کے قفل چڑھانے لگے تومعاملہ صرف ضابطے کانہیں رہتا،اعتمادبھی سوال کی زدمیں آجاتاہے۔سفارت کاری میں بہت سے فیصلے اعلان سے پہلے عمل کی زبان بولتے ہیں۔کبھی سفیرواپس نہیں بلایاجاتا،کوئی قراردادمنظورنہیں ہوتی،مگربینکوں کی احتیاط ہی آنے والے موسم کاپتادے دیتی ہے۔
اسی لیے مالی نگرانی میں اضافہ اگرواقعی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف کےپس منظرمیں ہواہے تواسے محض تکنیکی اقدام قراردینامشکل ہوگا۔یہ اس امرکی علامت بن سکتا ہے کہ ریاستی اعتمادکاوہ سرمایہ،جو برسوں میں جمع ہواتھا،اب محتاط حساب کتاب کا موضوع بن رہاہے۔یہاں سب سے اہم پہلویہ ہے کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت محض دوطرفہ کاروبارنہیں، بلکہ خلیجی معیشت کے باہم مربوط ڈھانچے کاحصہ ہے۔لہٰذا مالی ضابطوں کی سختی کااثربالآخرتجارت،سرمایہ کاری اورنجی شعبے کے اعتمادتک پہنچ سکتاہے۔
دراصل اضافی مالی نگرانی عموماًان ممالک کیلئے مخصوص ہوتی ہے جنہیں غیرقانونی مالی ترسیلات کےاعتبارسے زیادہ خطرے کا حامل سمجھاجاتاہے،اورذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کوسعودی نظام میں ایسے ممالک کے زمرے میں شامل کیاگیاہے۔یہ معاملہ اپنی ظاہری صورت میں مالی ضابطہ ہے،لیکن ریاستی تعلقات میں الفاظ کاوزن صرف لغوی نہیں،سیاسی بھی ہوتاہے۔کسی قریبی اتحادی کومالی خطرے کی بلندسطح پررکھنا،اگرایساباضابطہ طورپرکیاگیاہو،محض کاغذی کارروائی نہیں رہتی۔یہ اعتمادکی میزان میں ایک بھاری باٹ بن جاتاہے۔
تاہم اسی مقام پراحتیاط لازم ہے۔ذرائع کے مطابق یہ اقدامات باضابطہ طورپراعلان شدہ نہیں تھے۔اس لیے انہیں حتمی ریاستی پالیسی کے بجائے فراہم کردہ ذرائع سے منسوب صورتِ حال کے طورپردیکھنازیادہ مناسب ہے۔اس کے باوجودسیاسی علامت اپنی جگہ اہم ہے۔ کبھی ریاستیں زبان سے دوستی برقراررکھتی ہیں مگرادارے خطرات کی نئی فہرستیں مرتب کرنا شروع کردیتے ہیں۔یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارتی مسکراہٹ اورادارہ جاتی بے اعتمادی ایک ہی میزپر بیٹھنے لگتی ہیں۔تاہم اعلیٰ خطرے کی مالی درجہ بندی ایک ضابطہ سے کہیں بڑھ کرسیاسی پیغام بھی سمجھاجاتاہے۔
اس اہم خبرمیں متعدد کاروباری شخصیات کاحوالہ دیاگیاہے جن کے مطابق سعودی بینکوں نے مختلف کرنسیوں میں متحدہ عرب امارات سے متعلق ادائیگیوں کومؤخرکیایاواپس بھیج دیا۔دوسری جانب سعودی مرکزی بینک کسی مخصوص ملک کے خلاف براہِ راست پابندی کی تردیدکرتاہے،جبکہ اماراتی عہدیداربھی نجی شعبے سے غیرمعمولی مشکلات کی اطلاع نہ ملنے کی بات کرتے ہیں۔یہاں ایک عجیب مگرمعروف سفارتی کیفیت سامنے آتی ہے:بازارکچھ کہتاہے،ادارے کچھ اور۔
بین الاقوامی تعلقات میں سرکاری تردیدہمیشہ اس بات کاثبوت نہیں ہوتی کہ زمینی سطح پرکوئی مسئلہ نہیں،اورنجی شکایت بھی ہمیشہ منظم ریاستی پالیسی کاناقابلِ تردیدثبوت نہیں ہوتی۔دونوں کے درمیان ایک وسیع خاکستری علاقہ موجودرہتاہے جہاں ضابطہ،احتیاط، سیاسی اشارہ اورکاروباری بے یقینی باہم مل جاتے ہیں۔اصل خطرہ اس وقت پیداہوتاہے جب سرمایہ کار یقین کھوبیٹھیں۔سرمایہ خوف کا مسافرہے؛اسے جہاں راستہ دھندلادکھائی دے،وہ منزل بدلنے میں دیرنہیں لگاتا۔کاروباری دنیاکی شکایات اورسرکاری تردید —دوبیانیوں کافاصلہ بڑھنے گے اوراس کے ساتھ ہی اگرکاروباری اداروں کویہ محسوس ہونے لگےکہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان مالی نقل وحرکت سیاسی حالات کے تابع ہوسکتی ہے تووہ متبادل راستے،نئے بینکنگ مراکزاورہنگامی منصوبے اختیارکرنے لگیں گے۔
یاد رہے سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے مفادات میں اختلاف کئی برسوں سے موجودتھا،مگرحالیہ دورمیں تیل،یمن اورایران سے متعلق علاقائی جنگ کے معاملے نے اختلاف کی جڑوں کومزید تواناکرتے ہوئے اسے زیادہ نمایاں کردیا۔درحقیقت اتحادی ریاستوں کے درمیان اختلاف کاآغازاکثردشمنی سے نہیں،ترجیحات کےفرق سے ہوتاہے۔جب تک منزل ایک ہو،راستوں کااختلاف برداشت کیاجاتا ہے؛لیکن جب منزلیں ہی جداہونے لگیں توپرانا اتحاددباؤمیں آجاتاہے۔
تیل سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات دونوں کی طاقت کابنیادی ستون ہے،مگراسی لیے پیداوار،قیمت،حصص اورعالمی منڈی میں اثرورسوخ کامعاملہ دونوں کوکبھی شریک اورکبھی حریف بناسکتاہے۔یمن میں بھی دونوں کے مفادات ہرمرحلے پریکساں نہیں رہے۔ ایک ہی جنگ میں شریک قوتیں جب مختلف مقامی گروہوں سے تعلقات استوارکریں تومشترکہ محاذکے اندردوسرا محاذپیداہوجاتاہے۔ موجودہ حالات ایران کے معاملے میں دومختلف طرزِفکر کی نشاندہی کرتے ہیں:ایک زیادہ جارحانہ،دوسرا نسبتاًمحتاط اورمصالحتی۔یہی فرق مستقبل میں خلیجی سلامتی کے تصورکونئی شکل دے سکتاہے۔
یہ خدشہ ظاہرکیاگیاہے کہ سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات کےبعض کھاتوں میں رقوم کی منتقلی میں تاخیریارکاوٹ دونوں ہمسایہ ممالک کی باہمی تجارت کومتاثرکرسکتی ہے۔ریاستی تعلقات کی اصل آزمائش ہمیشہ سربراہی ملاقاتوں میں نہیں ہوتی؛کبھی اس کافیصلہ کمپنی کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہوتاہے۔ جب کاروبارکومعلوم نہ ہوکہ رقم کب پہنچے گی،ادائیگی واپس ہوگی یاکلیئرہوگی،توسیاسی کشیدگی اقتصادی لاگت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف اشرافیہ کے ایوانوں سے نکل کربازارمیں داخل ہوتاہے۔
اگرسعودی اوراماراتی کمپنیوں کوایک دوسرے کے ساتھ لین دین میں زیادہ دستاویزات،طویل انتظار،اضافی بینکنگ جانچ یاادائیگی کے خطرات کاسامناکرنا پڑے توسپلائی چینزمتاثرہوسکتی ہیں اورنئے سرمایہ کاری فیصلے مؤخرہوسکتے ہیں۔معیشت شیشے کی طرح ہے؛ بظاہرمضبوط دکھائی دیتی ہے مگراعتماد کی ایک ضرب اسے باریک دراڑوں میں تقسیم کرسکتی ہے۔خلیج جیسی تیزرفتار اورسرمایہ دوست معیشت میں رقوم کی تاخیراورتجارت پرگہرااورخطرناک سایہ جیسی یہ دراڑیں معمولی نہیں ہوتیں۔
مئی سے سعودی بینکوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنیوں اوردبئی کے بعض افرادکے کھاتوں میں بھیجی جانے والی ادائیگیاں روکنے یاواپس کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔یہ تفصیل اہم ہے،کیونکہ اگرمسئلہ چندانفرادی لین دین تک محدودنہ ہوبلکہ ایک عمومی رجحان کاتاثرپیداکرے توسیاسی اختلاف کامعاملہ ادارہ جاتی سطح تک پہنچتامحسوس ہوتا ہے ۔ریاستیں ایک دوسرے سے ناراضی کااظہارکئی طریقوں سے کرتی ہیں۔کبھی سفارتی بیان،کبھی تجارتی ضابطہ،کبھی سرحدی پالیسی اور کبھی مالی نگرانی۔ جدید دنیامیں بینکنگ نظام بھی سفارت کاری کاخاموش آلہ بن چکاہے۔تاہم چونکہ سعودی مرکزی بینک نے مخصوص ملک کے خلاف پابندی کی تردیدکی ہے،اس لیے اس صورتِ حال کو’’اعلان شدہ مالی پابندی‘‘ کہنادرست نہیں ہوگا۔زیادہ محتاط تعبیریہی ہے کہ فراہم کردہ خبرمیں ایسے متعددواقعات یعنی مئی سے ادائیگیوں کی مبینہ واپسی — کشیدگی کاادارہ جاتی رنگ کاذکرہے جنہوں نے کاروباری حلقوں میں سیاسی محرکات کے شبہے کوتقویت دی ہے۔
خبر میں دبئی کی ایک صحت کے شعبے سے وابستہ کمپنی کاحوالہ دیاگیاہے،جس کے ایک عہدیدارکے مطابق مئی کے وسط سے ایک دیرینہ سعودی صارف کی متعددادائیگیاں روک کرواپس کردی گئیں۔بڑی سیاسی کشمکش کی حقیقت کبھی ایک چھوٹے واقعے میں پوری طرح نمایاں ہوجاتی ہے۔ایک کمپنی،ایک گاہک اورچندواپس ہونےوالی ادائیگیاں شایدعالمی سیاست میں معمولی دکھائی دیں،مگرکاروباری دنیاکیلئے یہی واقعات خطرے کی گھنٹی بنتے ہیں۔
اگربرسوں سے جاری کاروباری تعلق بھی اچانک مالی رکاوٹ میں پھنس جائے توکمپنی یہ سوال ضرورپوچھتی ہےکہ آیامسئلہ تکنیکی ہے یااس کے پس منظرمیں کوئی وسیع ترریاستی تبدیلی کار فرماہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشی عدم اعتمادسیاسی اختلاف کوکئی گنابڑھادیتا ہے۔حکومتیں ایک دوسرے سے بات کرسکتی ہیں، مگر اگر تاجروں نے اپنے خطرات کاحساب بدل لیاتو تعلقات کی بحالی زیادہ دشوارہو جاتی ہے اوربڑے تنازعہ کاچھوٹاآئینہ بھی خطرات کی گھنٹی ثابت ہوجاتا ہے۔
دسمبرکے ایک واقعے کوسعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کانمایاں مظہرقراردیاگیاہے،جس میں یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل کیلئے بھیجے جانے والے فوجی سازو سامان سے متعلق ایک کھیپ پرسعودی کارروائی کاذکرہے جبکہ متحدہ عرب امارات کواس تنظیم کااتحادی بھی قراردیاجارہاہے۔یمن برسوں سے صرف یمنیوں کی جنگ نہیں رہا؛وہ خطے کی طاقتوں کے مفادات، سلامتی کے خدشات اورسیاسی منصوبوں کاسنگم بن گیاہے۔اگردواتحادی ایک ہی ملک میں مختلف مقامی قوتوں کوترجیح دینے لگیں تو اتحادکی بنیادمیں تضادپیدا ہوناناگزیرہے۔
اس واقعے کے بعدسعودی اوراماراتی میڈیا،تجزیہ کاروں اورمعروف سوشل میڈیااکاؤنٹس کے درمیان شدید لفظی کشمکش سامنے آئی، حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے العربیہ کے بعض ایکس اکاؤنٹس پرپابندی کاذکر بھی کیاگیاہے۔جب حکومتوں کا اختلاف ذرائع ابلاغ تک پہنچ جائے توسمجھناچاہیےکہ پردےکےپیچھےکی خاموشی کمزورپڑرہی ہے۔میڈیااکثراس جنگ کا نقارہ بن جاتاہےجسے سفارت کاری ابھی نام دینے سے گریزاں ہوتی ہے تاہم یمن کایہ مسئلہ میدانِ جنگ سے خلیجی تعلقات کے قلب تک سرایت کرگیاہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف جنگ میں نسبتاًجارحانہ رویہ اختیارکیاہےاوراس کی عملی شمولیت ابتدائی اندازوں سے زیادہ گہری تھی۔اگراس دعوے کودونوں ممالک کے تعلقات کے فریم میں دیکھاجائےتویہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سلامتی کی سوچ کےدرمیان بنیادی فرق کی طرف اشارہ کرتاہے۔متحدہ عرب امارات کی علاقائی حکمتِ عملی، زیادہ فعال،براہِ راست اورخطرہ مول لینے والی نظر آتی ہے۔ اس طرزِفکرمیں چھوٹی ریاست اپنی جغرافیائی جسامت کے باوجود بڑی طاقت کے طورپرپہچان بنانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے ۔
مگرطاقت کاہرمظاہرہ اپنے ساتھ قیمت بھی لاتاہے۔خلیج میں ایران کے ساتھ براہِ راست محاذآرائی تجارت،توانائی،سمندری راستوں اور شہری مراکز کیلئے غیرمعمولی خطرات پیداکرسکتی ہے۔جس خطےنےخوشحالی کی عمارت استحکام پرتعمیرکی ہو،وہاں جنگ کی ایک چنگاری بھی سونے کے محل کودھوئیں میں چھپا سکتی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ اوراماراتی جارحانہ طرزِعمل کوجواب میں خدانخواستہ بلندوبالا عمارات کے جنگل جنگ کے معمولی زلزلے کے جھٹکے کھنڈرات کاپیش خیمہ قیامتِ صغریٰ کانقشہ پیش کر سکتےہیں۔
تاہم سعودی عرب کارویہ متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور متوازن دکھائی دیتاہے۔ریاض نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پرحملوں کی مذمت کی،امریکی افواج کیلئے طائف کے کنگ فہدایئربیس کے استعمال پرآمادگی ظاہرکی،مگراسی دوران اسلام آبادکے ذریعے تہران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش بھی جاری رکھی۔یہ بیک وقت تلواراورزیتون کی شاخ تھامنے کی حکمتِ عملی ہے۔سعودی عرب کیلئے ایران صرف ایک حریف نہیں،ایک ایساہمسایہ بھی ہےجسے جغرافیہ سے نکالانہیں جاسکتا۔ریاستیں دشمن بدل سکتی ہیں،پڑوسی نہیں۔اسی لیے ریاض کیلئے مکمل جنگ کی قیمت شایدکسی بھی محدودسیاسی کامیابی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکستان کانام بطورسفارتی رابطہ سامنے آنابھی اہم ہے۔پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھتاہے اورایران کے ساتھ بھی سرحدی وسفارتی رشتہ رکھتاہے۔چنانچہ اسلام آباد نے ایک ایسے پل کاکرداراداکیاہے جس پروہ فریق بھی چلنے پرآمادہ ہوگئےہیں جوبراہِ راست ایک دوسرے کے دروازے تک جانے میں ہچکچاتے تھے۔
ادھردوسری طرف نگاہ دوڑائیں توعالمی سیاسی مبصرین کیلئے اوپیک سے اماراتی علیحدگی کادعویٰ اورتیل کی سیاست کی یہ خبر حیران کن تھی کہ متحدہ عرب امارات نے تقریباًساٹھ برس کی رکنیت کے بعداوپیک سے علیحدگی اختیارکی اوراس کے بعداپنی تیل کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ کردیا۔چونکہ اس مخصوص دعوے کی آزاد بیرونی تصدیق اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ممکن نہیں،اسے خبرکے طورپرپڑھناچاہیے کہ سیاسی استدلال میں اس نکتے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اوپیک صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کاتکنیکی فورم نہیں؛وہ دہائیوں سے توانائی اورعالمی معیشت پراثرانداہونے والی اجتماعی طاقت کی علامت رہاہے۔
سعودی عرب اس نظام کاسب سے بااثرمحورتصورکیاجاتاہے۔اگرکسی بڑے خلیجی پیداواری ملک کی ترجیحات اس اجتماعی نظم سے الگ ہونے لگیں تومعاملہ صرف بیرلوں کی تعدادکانہیں رہتا۔یہ اس سوال کوجنم دیتاہے کہ آیاخلیج میں توانائی کی سیاست اب مشترکہ نظم سے نکل کرقومی معاشی مفادات کی زیادہ سخت مسابقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔تیل کاکنواں بظاہرزمین میں ہوتاہے،مگراس کاسایہ سفارتکاری کے ایوانوں تک جاتاہے۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے تعلقات کو’’ایک دوسرے کے خلاف معاشی تھکن کی جنگ‘‘سے تعبیرکیاجاسکتاہے اوریہ وہ مقابلہ ہے جس میں گولی نہیں چلتی لیکن اس کے بھیانک معاشی اثرات دنیاکوہلادینے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔تاہم کاروباری ادارے ممکنہ مزید کشیدگی کے پیشِ نظرمتبادل منصوبے تیارکررہے تھے۔یہ تعبیراپنے اندرایک پوری سیاسی داستان سمیٹے ہوئے ہے۔جدیدریاستوں کی جنگ ہمیشہ میدان میں نہیں لڑی جاتی۔بندرگاہیں،سرمایہ کاری،ایئرلائنز،مالیاتی مراکز،سیاحت،ٹیکنالوجی،کمپنیوں کے علاقائی دفاتر اورتیل کی پیداواربھی مقابلے کے ہتھیاربن سکتے ہیں۔
سعودی عرب اپنی معیشت کووسعت دینے،غیرملکی سرمایہ کھینچنےاورعلاقائی کاروباری مرکزبننےکی کوشش کرے،اوراسی وقت دبئی اپنی پہلے سے قائم تجارتی برتری محفوظ رکھنےکیلئے سرگرم ہو،تودونوں کے درمیان مسابقت فطری ہے۔لیکن مسابقت اورمخاصمت کے درمیان فاصلہ باریک ہوتاہے۔جب کاروباری دنیاہنگامی منصوبے بنانے لگےتویہ اس بات کی علامت ہے کہ بازارسیاسی خطرے کو سنجیدگی سے لینے لگاہے۔
یادرہے کہ2اکتوبر2018کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل نےدنیابھرکے میڈیامیں ایک ہلچل پیدا کردی تھی اوراس کے بعدسعودی حکومت پرعائد ہونے والے الزامات اورسعودی تردیدکاسلسلہ بھی میڈیامیں خوب اچھالاگیا۔بعض ذرائع ایک ایسے دعوے کابھی ذکرکرتے ہیں جس کے مطابق اس قتل کے پس منظرمیں سعودی قیادت کوبدنام کرنےکیلئے متحدہ عرب امارات کی کسی خفیہ سازش کی بات سامنے آئی تھی۔یہاں تاریخی احتیاط سب سے زیادہ ضروری ہے۔
خاشقجی قتل ایک حقیقی اورعالمی سطح پرشدیدردِعمل پیداکرنے والاواقعہ تھا،مگرحالیہ کشیدگی میں میں مذکوراماراتی سازش کے دعوے کوثبوت شدہ حقیقت کے طورپرپیش نہیں کیاجاسکتا۔اسے اسی طرح بیان کرنامناسب ہے:یعنی ایک ایسادعویٰ یاخبرجوبعض حلقوں میں جمال خاشقجی کے قتل اورسازشی بیانیوں کاسایہ کے طورپرگردش کرتی رہی۔سیاست میں افواہ بھی کبھی کبھی ہتھیاربن جاتی ہے۔ اگردواتحادی ریاستوں کے تعلقات میں بدگمانی پیداہوجائے توپرانے واقعات بھی نئے معنی اختیارکرنے لگتے ہیں۔جوقصہ کلمحض قیاس سمجھاجاتاتھا،آج سیاسی الزام کی صورت اختیارکرسکتاہے۔یہی بداعتمادی تعلقات کے زوال کاسب سے خطرناک مرحلہ ہوتی ہے۔
ادھرمتحدہ عرب امارات نے ابراہیمی معاہدات قبول کرکے اسرائیل کے ساتھ سفارتی،تجارتی اورسیاحتی تعلقات تیزی سےبڑھائے،اور ابراہیمی معاہدات، اسرائیل اورامارات کی جداگانہ شناخت کایہ عمل اسے خطے میں ایک الگ طاقت کی شناخت قائم کرنےکی اماراتی کوشش سے جوڑتاہے۔اس اقدام نے خلیجی سیاست کاایک پرانا قاعدہ بدل دیا۔فلسطین کامسئلہ طویل عرصے تک عرب دنیاکی اجتماعی سیاسی شناخت کابنیادی حوالہ رہا،مگراسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنےکےفیصلےنےیہ ظاہرکیا کہ بعض ریاستیں اب قومی مفادکوپرانے اجتماعی عرب موقف سے الگ تعریف کرنے پرآمادہ ہیں۔
اس پالیسی نے مسلم عوامی رائے میں امارات کی مقبولیت میں کمی کاایک ریکارڈقائم کردیاہے۔یہ تجزیہ اپنی نوعیت میں سیاسی ہے،تاہم اس سےایک بڑاسوال ضرورجنم لیتاہے: کیا معاشی ترقی،سفارتی چابک دستی اورعالمی طاقتوں سے قربت کسی ریاست کیلئے اتنی کافی ہوتی ہےکہ وہ اپنےوسیع ترتہذیبی اورعوامی حلقے کی ناراضی کونظراندازکرسکے؟ریاست کی طاقت صرف اس کے خزانے میں نہیں ہوتی۔کچھ طاقت ساکھ میں،کچھ اعتمادمیں اورکچھ اس اخلاقی سرمائے میں ہوتی ہے جونسلوں کے احساسات سے بنتاہے۔
آخری نکتہ دراصل پوری مضمون کاسب سے بڑاسوال ہے۔کیا متحدہ عرب امارات مسلم دنیاسے الگ رہ کراپنی طاقت برقراررکھ سکتا ہے؟اگرمتحدہ عرب امارات کی علاقائی صف بندی اسے مسلم دنیاکے وسیع عوامی جذبات سے دورلے جاتی ہے تووہ کب تک ایک جداگانہ طاقت کے طورپراپنی پوزیشن برقراررکھ سکتاہے۔اسی کے ساتھ اسرائیل،شام،ترکی،پاکستان اور سعودی عرب سے متعلق ایک ممکنہ نئی دفاعی صف بندی کاذکربھی سامنے آرہاہے۔یہاں ہمیں پیش گوئی کی بجائے اصول کودیکھناچاہیے۔کوئی بھی چھوٹی یادرمیانی ریاست صرف دولت سے بڑی طاقت نہیں بنتی۔جغرافیہ،آبادی،عسکری صلاحیت،سفارتی تعلقات،عوامی قبولیت،تجارتی راستے اور اتحادیوں کااعتمادمل کرطاقت کی عمارت بناتےہیں۔اگران میں سےچند ستون کمزورپڑجائیں تودولت تنہاپوری چھت نہیں سنبھال سکتی۔
پاکستان،سعودی عرب اورترکی اگرسلامتی کے معاملات میں مزید قریب آرہے ہیں جس سے خلیج اورمشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط میں ایک نیامحورتشکیل پارہا ہے۔تاہم مذکورسہ فریقی دفاعی معاہدے اورحالیہ عسکری واقعات کی آزادانہ تصدیق کےبغیرانہیں قطعی حقیقت کی بجائے سیاسی منظرنامے کاحصہ سمجھنا چاہیے ۔البتہ ایک بات تاریخی تجربے سے اخذکی جاسکتی ہے: خطے میں مستقل امن صرف طاقت کےتوازن سے نہیں آتا،بلکہ مفادات کےتوازن سےآتاہے ۔جس دن ریاستیں اپنے فوری فائدے کوپورے خطے کےاجتماعی استحکام پرترجیح دینے لگیں،اسی دن جنگ کے بادل افق پرنمودارہونے لگتے ہیں۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے تعلقات کی موجودہ تصویرایک ایسے اتحادکی کہانی ہے جس کے اندرمفادات کے نئے دریچے کھل گئےہیں۔مالی نگرانی،بینکنگ رکاوٹوں کی شکایات،یمن میں مختلف ترجیحات،ایران کے بارےمیں الگ حکمتِ عملی،تیل کی سیاست، میڈیاکی کشمکش اوراسرائیل سے تعلقات—یہ سب الگ الگ جزیرے نہیں بلکہ ایک ہی سمندرکی لہریں ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ریاض اورابوظہبی ایک دوسرے سےمکمل طورپرجداہوجائیں گےیانہیں۔ریاستی تعلقات شطرنج کی بساط ہوتے ہیں ، نکاح نامہ نہیں کہ ایک اختلاف پررشتہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے۔دونوں کے درمیان تجارت،جغرافیہ ،سلامتی اورمشترکہ مفادات ایسے مضبوط دھاگے ہیں جنہیں ایک جھٹکے میں توڑناآسان نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ خلیج کی قیادت کاتصورکس سمت جارہاہے؟کیاآنے والا دورسعودی مرکزیت کاہوگا؟کیامتحدہ عرب امارات اپنی الگ عالمی شناخت مزیدمضبوط کرے گا؟کیاترکی،پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان سلامتی کاتعاون ایک نئے مسلم سیاسی محورکوجنم دے گا؟اورکیااسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی عرب ریاستیں اپنے عوام اوروسیع ترمسلم دنیاکے جذبات کےدرمیان توازن پیداکرپائیں گی؟
یہ سوال ابھی تاریخ کے کاتب کے سامنے کھلے پڑے ہیں۔زمانہ اپنے فیصلے فوراًنہیں سناتا۔بعض اوقات کئی دہائیوں بعدمعلوم ہوتاہے کہ جس واقعے کوایک معمولی بینکنگ ضابطہ سمجھا گیا تھا،وہ دراصل ایک بڑے سیاسی عہدکی ابتداتھی؛اورجس اختلاف کووقتی بدمزگی کہاگیاتھا،وہ خطے کی نئی صف بندی کاپہلا ورق تھا۔
خلیج آج دولت کےاعتبارسےپہلےسےکہیں زیادہ طاقتورہے،مگرطاقت جتنی بڑھتی ہے،ذمہ داری کاپیمانہ بھی اتناہی وسیع ہوجاتاہے۔اگر اس خطے کی ریاستیں باہمی مسابقت کودشمنی میں بدلنے کی بجائے تعاون،تدبراورمشترکہ سلامتی کی بنیادبناسکیں توعرب دنیاایک نئے عہدمیں داخل ہوسکتی ہے لیکن اگرقومی مفادات کی کشتیوں نے اجتماعی ساحل سے رشتہ توڑلیاتوممکن ہےدولت کےبلندمینارباقی رہیں، مگرسیاسی افق پرسکون کاچراغ مدھم پڑجائے۔
تاریخ بارہایہ سبق دے چکی ہے کہ اقتدارکی سب سے بلند فصیل بھی تدبرکے بغیرمحفوظ نہیں رہتی،اوردولت کاسب سے گہراخزانہ بھی اعتمادکی ایک مٹھی خاک کابدل نہیں بن سکتا۔ریاستوں کی عظمت صرف اس میں نہیں کہ دنیاان سے خوف کھائے؛اصل عظمت یہ ہے کہ دنیاان کے فیصلوں میں وزن،ان کی دوستی میں اعتماداوران کی طاقت میں خیرکاپہلومحسوس کرے۔اورشاید خلیج کے موجودہ بحران کا سب سے بڑاسبق بھی یہی ہے۔











