بین الاقوامی سیاست کی بساط پربعض معاہدے اپنی عبارت سے زیادہ اپنے زمانۂ انعقاد،مقام،شرکاءاورخاموش اشاروں کےسبب اہم ہو جاتے ہیں۔سفارت کاری کی دنیامیں ہرمصافحہ دو ہاتھوں کے ملنے کانام نہیں؛بسا اوقات اس کےعقب میں کئی دارالحکومتوں کی خاموش مصلحتیں،اقتصادی ضرورتیں،سلامتی کے خدشات اورآئندہ دہائیوں کے نقشے رکھے ہوتے ہیں ۔
افغانستان ایک ایساہی خطہ ہے جہاں تاریخ بارہ اپنے پرانے اوراق نئے عنوانات کے ساتھ کھولتی رہی ہے۔کبھی یہی سرزمین برطانوی اورروسی رقابت کا میدان تھی،پھرسردجنگ کی آتش گاہ بنی،اس کےبعدامریکی’’وارآن ٹیرر‘‘کامرکزقرارپائی،اوراب ایک نئے عہد میں توانائی،معدنیات،علاقائی راہداریوں،دہشتگردی،خلیجی سرمایہ کاری اوربڑی طاقتوں کی خاموش کشمکش کاسنگم بنتی دکھائی دیتی ہے۔
اسی پس منظرمیں پاکستان،سعودی عرب اورترکی سے منسوب حالیہ دفاعی بندوبست،افغانستان میں سعودی سرمایہ کاری،زلمے خلیل زادکی غیرمعمولی موجودگی ، یمن کے محاذ،پاکستان مخالف مسلح گروہوں اورایران کے اندرسے آنے والے بظاہرمختلف بیانات کوایک ہی تصویرکے مختلف رنگ سمجھ کردیکھنے کی ضرورت ہے۔تاہم تحقیق کاپہلاتقاضایہ ہے کہ قرینہ کوثبوت اور احتمال کوحقیقت نہ بنادیاجائے۔سیاست میں جوبات بظاہرایک ہی زنجیرکی کڑی معلوم ہوتی ہے،ممکن ہے عملی طورپردوبالکل مختلف سلسلوں سے تعلق رکھتی ہو۔
ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھتاہے کہ کیاافغانستان میں سعودی سرمایہ کاری —معاشی منصوبہ،تزویراتی گھیراؤیاپاکستان پردباؤکامنصوبہ ہے؟اس سوال کاجواب جذباتی تاثرکی بجائے اس امرسے شروع ہوناچاہیے کہ افغانستان میں زیرِبحث سرمایہ کاری کی نوعیت حقیقتاًکیا ہے۔باخبرذرائع کے مطابق سعودی عرب میں قائم ڈیلٹاانرجی گروپ نے افغانستان کی وزارتِ کانوں وپیٹرولیم کے ساتھ تیل اورگیس کی تلاش سے متعلق معاہدے کیے ہیں۔منصوبے میں مغربی افغانستان کے تقریباً9ہزارمربع میل علاقے میں ہائیڈروکاربن وسائل کی تلاش، ہرات میں قدرتی گیس کے استعمال کاجائزہ اورتقریباً435میل طویل مجوزہ گیس پائپ لائن شامل ہے۔سب سے زیادہ قابلِ توجہ امریہ ہے کہ دستاویزڈیلٹاانرجی کوسعودی حکومت یاسعودی خودمختارفنڈنہیں بلکہ سعودی عرب میں قائم ایک آزاد توانائی گروپ قراردیتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کسی سعودی کمپنی کی سرمایہ کاری اورسعودی ریاست کی براہِ راست تزویراتی سرمایہ کاری ایک ہی شے نہیں سمجھی جاسکتی۔ہاں،خلیجی ممالک میں ریاست،نجی سرمائے اورخارجہ پالیسی کے درمیان قربت مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ محسوس ہوتی ہے،لیکن محض جغرافیائی نسبت کسی کاروباری منصوبے کوریاستی سازش کاقطعی ثبوت نہیں بنادیتی۔
حالیہ سعودی افغان معاہدہ میں مجوزہ پائپ لائن کوہرات کے قریب ایک نقطے سے قندھارکے علاقے سپین بولدک تک لے جانے کی بات کی گئی ہے،یعنی منصوبہ پاکستان کی سرحد کےعین قریب پہنچتاہے۔اس پائپ لائن پرایک دہائی میں تقریباًدس ارب ڈالرتک سرمایہ کاری کاتخمینہ بھی دیاگیاہے۔یہاں ایک دلچسپ تضادسامنے آتاہے۔اگراس سرمایہ کاری کابنیادی مقصدپاکستان کواقتصادی طورپرگھیرنایااس کا’’بازومروڑنا‘‘ہوتا، توسپین بولدک جیسے سرحدی مقام تک توانائی کی راہداری پہنچاناالٹاپاکستان کے ساتھ مستقبل کی اقتصادی وابستگی کا دروازہ بھی کھول سکتاہے۔جغرافیہ بعض اوقات سیاست سے زیادہ ضدی حقیقت ہوتاہے۔افغانستان سمندرسے محروم ہے؛اسے بڑی منڈیوں اور بندرگاہوں تک رسائی کیلئےبالآخر پاکستان ،ایران یاوسطی ایشیامیں سے کسی نہ کسی ہمسائے پرانحصارکرناپڑتاہے۔
لہٰذاپہلاقابل فہم مفروضہ یہ ہے کہ سعودی کاروباری حلقے افغانستان کومستقبل کی توانائی اورمعدنی سرحدی معیشت کے طورپردیکھ رہے ہیں۔ایک اور امکان یہ ہے کہ ریاض افغانستان میں اپنی اقتصادی موجودگی کوبڑھاناچاہتاہے تاکہ کابل کومکمل طورپرپاکستان، چین،قطریاایران کے زیراثرآنے سے روکا جاسکے۔یہ اقدام سعودی عرب کیلئےپاکستان مخالف ہونے کی بجائے اسٹریٹجک تنوع کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔البتہ پاکستان کیلئےمسئلہ وہاں پیداہوتاہے جہاں اقتصادی مفادات اورسلامتی کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں۔
پاکستان نے چاردہائیوں سے زیادہ عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔اس کے باوجوداسلام آبادطویل عرصے سے یہ مؤقف پیش کرتارہاہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اوربعض دوسرے مسلح عناصرافغانستان میں پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔طالبان حکومت متعدد مواقع پر پاکستانی الزامات کی تعبیر سے اختلاف بھی کرتی رہی ہے۔ چنانچہ یہاں ایک پیچیدہ اخلاقی و سیاسی سوال جنم لیتا ہے:
اگرافغانستان کی سرزمین سے پاکستان کوسلامتی کے سنگین خطرات لاحق ہوں اوراسی دوران اس ملک میں بڑے خلیجی سرمائے کے دروازے کھلیں،توکیاایسی سرمایہ کاری کابل کے رویے کونرم کرے گی یااسے یہ اعتماددے گی کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی برداشت کی جاسکتی ہے؟یہی پاکستان کی اصل تشویش ہونی چاہیے۔
سعودی سرمایہ کاری کوفوری طورپر’’پاکستان کے خلاف منصوبہ‘‘ قراردیناقبل ازوقت ہوگا،مگراسلام آبادکیلئےیہ جاننانہایت ضروری ہے کہ ریاض کابل کے ساتھ اقتصادی قربت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کوکس درجے کی اہمیت دے رہا ہے۔اتحادی کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کیاکہتاہے؛کبھی یہ بھی دیکھناپڑتاہے کہ وہ آپ کے مخالف کے ساتھ کس شرط پرکاروبارکرتاہے۔
دوسرااہم نکتہ زلمے خلیل زادکی موجودگی کاہے — کیاافغانستان میں امریکی سایہ دوبارہ لمباہورہاہے؟یہ خدشہ کہیں کہیں زیادہ نازک ہے۔کابل میں ان معاہدوں پردستخط کی تقریب میں افغانستان کیلئےسابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادموجودتھے۔ان کی موجودگی نے اس معاملے میں ایک ’’قابلِ ذکرجیوپولیٹیکل جہت‘‘کااضافہ کیا۔خلیل زادکوئی عام سفارت کارنہیں۔ان کانام گزشتہ کئی دہائیوں کی افغان تاریخ کے تقریباًہراہم موڑکے ساتھ جڑارہاہے۔وہ امریکی سفارت کاری،طالبان مذاکرات اورافغانستان سے امریکی انخلاکے سیاسی عمل کانمایاں چہرہ رہے ہیں۔اس لیے طالبان حکومت اور سعودی توانائی گروپ کے درمیان بڑے اقتصادی معاہدے کے وقت ان کی موجودگی فطری طورپر سوال پیداکرتی ہے۔
لیکن یہاں بھی حقیقت اورشبہے کے درمیان لکیرکھینچناضروری ہے۔تاہم یہ ذہن نشیں رہے کہ خلیل زاداس وقت نجی شہری ہیں اور امریکی حکومت میں ان کاکوئی سرکاری عہدہ نہیں۔اس کے باوجودوہ طالبان نائب وزیراعظم عبدالغنی برادراورڈیلٹاانرجی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں اورتقریب میں دکھائی دیے،جس سے ان کےکردارکے بارے میں سوالات پیداہوئے۔یہاں سے تین امکانات نکلتے ہیں۔ایک امکان یہ ہے کہ وہ اپنے طویل افغان روابط ، ذاتی جاننے والوں اورواشنگٹن،خلیج اورکابل کے درمیان قائم نیٹ ورکس کااستعمال کرتے ہوئے محض ایک سہولت کاریاثالث کاکرداراداکررہا ہے۔
دوسرا،امریکی پالیسی سازافغانستان کے ساتھ براہ راست سرکاری تعلقات کے بجائے سابق سفارت کاروں،کاروباری اداروں اوراتحادی ممالک کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک قسم کی غیررسمی روابط کاانتخاب کررہے ہیں۔اورتیسرا،زیادہ سنگین مفروضہ یہ ہے کہ امریکی فوجی انخلاءکے بغیرافغانستان میں امریکی سٹریٹجک اثرورسوخ کی ایک نئی شکل پیداہورہی ہے۔مگرتیسرے امکان کوفی الحال ’’امریکی منصوبہ‘‘کہناتحقیقاًدرست نہیں،کیونکہ ہمیں خلیل زاد کی موجودگی تودکھاتی ہے،مگرانہیں امریکی حکومت کانمائندہ ثابت نہیں کرتی۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست میں اکثرلوگ سایہ دیکھ کردرخت کافیصلہ کر لیتے ہیں۔
امریکاافغانستان سے فوجی طورپرنکل چکاہے،مگرافغانستان کاجغرافیہ واشنگٹن کی تزویراتی لغت سےمحونہیں ہوا۔اس خطے کے شمال میں وسطی ایشیا،مشرق میں چین،مغرب میں ایران اور جنوب میں پاکستان ہے۔اس کے قریب روسی اثر،چینی بیلٹ اینڈروڈ،ایرانی سلامتی کے مفادات اورپاکستان کی ایٹمی حیثیت ایک ایسی شطرنج بناتے ہیں جس سے کوئی بڑی طاقت مکمل بے نیازنہیں رہ سکتی۔ چنانچہ خلیل زادکی موجودگی کونظراندازکرناسیاسی سادہ لوحی ہوگی،مگراسے واشنگٹن کےکسی خفیہ منصوبے کاثبوت قراردینابھی تحقیق نہیں بلکہ پیشگی نتیجہ اخذکرنا ہو گا۔
اصل سوال یہ ہوناچاہیے:وہ وہاں کیوں تھے،کس حیثیت سے تھے،کس نے مدعوکیا،کس نے معاوضہ دیا،اورمعاہدے کے مذاکراتی عمل میں ان کاعملی کردارکیاتھا؟اگرکبھی ان سوالات کے دستاویزی جوابات سامنے آجائیں توامریکی کردارکے بارے میں زیادہ مضبوط نتیجہ اخذکیاجاسکے گا۔
تیسرامگراہم سوال یہ ہے کہ حوثی حملے،سعودی اضطراب اورافغانستان سے پاکستان مخالف گروہوں کے معاملے میں مالی سودے بازی کوہم کس نگاہ سے دیکھتے ہیں:یہ حصہ سب سے زیادہ احتیاط چاہتاہے،کیونکہ زمانی قربت ہمیشہ سببی تعلق ثابت نہیں کرتی۔ اگریہ درست ہوکہ کسی دفاعی بندوبست کے بعد حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا،تب بھی محض ’’اس کے بعد‘‘وقوع پذیرہونایہ ثابت نہیں کرتاکہ حملے’’اسی کے سبب‘‘ ہوئے۔
یمن،ایران،بحیرۂ احمر،اسرائیل،امریکااورسعودی عرب کاسلامتی کادائرہ اپنی الگ تاریخ اورمحرکات رکھتاہے۔دوسری طرف افغانستان کی توانائی، دہشتگردی او پاکستان سے سرحدی کشیدگی بالکل دوسری جغرافیائی بساط ہے۔ممکن ہےبڑے ممالک بیک وقت کئی محاذوں پرتوازن پیداکررہے ہوں مگرہر دوواقعات کوایک پوشیدہ معاہدے کی لڑی میں پرودیناتحقیق کوافسانے کے قریب لے جاسکتاہے۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف مسلح عناصرکوسرحدی علاقوں سے دورمنتقل کرنے کیلئےمالی معاونت کامطالبہ اب محض اخباری قیاس یاغیرمصدقہ سیاسی دعویٰ نہیں رہا۔یہ معاملہ پاکستان کی پارلیمانی اورسرکاری سطح پربھی زیرِبحث آچکاہے،جبکہ وزیرِ دفاع کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیاہے کہ افغان طالبان نے ایسے عناصرکی منتقلی کیلئےوسائل اورمالی مددکامسئلہ اٹھایاہے۔ اسلام آبادکی طرف سے اس امکان کوبھی یکسررد نہیں کیاگیاکہ اگرکسی منظم انتظام کےذریعے پاکستان کی سلامتی کے خطرات میں حقیقی کمی آسکتی ہوتومحدودمعاونت پرغورکیاجاسکتاہے۔
لیکن یہاں اصل سوال رقم کی مقدارکانہیں،بلکہ اس رقم کے عوض حاصل ہونے والی سلامتی کی حقیقی اورقابلِ تصدیق ضمانت کا ہے۔اگردہشتگردی کی روک تھام ایک مالی معاوضے سے مشروط ہونے لگے تویہ سوال ناگزیرہوجاتاہے کہ آیاپاکستان کسی مسئلے کا پائیدارحل خریدرہاہے یاایک ایسی روایت کی بنیادرکھ رہاہے جس میں سلامتی خودایک قابلِ فروخت شے بن جائے۔آج ایک مسلح گروہ کوسرحدسے دوررکھنے کیلئےرقم دی جائے،توکل کسی دوسرے گروہ،کسی نئی محفوظ پناہ گاہ یاکسی نئے بحران کیلئےایک اورقیمت طلب کی جاسکتی ہے۔یوں ریاستی ذمہ داری رفتہ رفتہ مالی سودے بازی میں تبدیل ہونے کاخطرہ پیداکردیتی ہے۔
فرض کیجیے پاکستان ایک بڑی مالی معاونت فراہم کرتاہے اورپاکستان مخالف مسلح عناصرکوکنڑ،ننگرہاریادوسرے سرحدی علاقوں سے اٹھاکرافغانستان کے اندرکسی دوردرازمقام پرمنتقل کردیاجاتا ہے۔بظاہرسرحدی خطرہ کم ہوتامحسوس ہوگا،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیااس منتقلی کے ساتھ ان گروہوں کی جنگی صلاحیت بھی ختم ہوگی؟کیاان کے کمانڈاینڈکنٹرول مراکزتحلیل کیے جائیں گے؟کیاان کے مالی ذرائع منقطع ہوں گے؟کیاان کااسلحہ ضبط ہوگا؟کیاان کے تربیتی ڈھانچے ختم کیے جائیں گے؟او سب سے بڑھ کر،کیاافغان حکومت ایسی ذمہ داری قبول کرے گی جسے بعدمیں عملی طورپرجانچااورپرکھابھی جا سکے ؟
اگران سوالات کاجواب واضح طورپراثبات میں نہیں،تومحض جغرافیائی منتقلی مسئلے کاحل نہیں۔یہ ایساہی ہوگاجیسے خطرے کوختم کرنے کی بجائے اسے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کردیاجائے۔مسلح تنظیموں کی طاقت صرف ان کے ٹھکانے میں نہیں ہوتی؛ ان کی قوت ان کے نیٹ ورک، مالیاتی ذرائع، نظریاتی ڈھانچے،مقامی سہولت کاروں،انٹیلی جنس روابط، محفوظ پناہ گاہوں اورسرحدپار رسائی میں ہوتی ہے۔اگریہ سب قائم رہیں توچند سوکلومیٹرکافاصلہ سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
اسی لیے پاکستان کوکسی بھی ممکنہ انتظام میں یہ اصول بنیادی شرط کے طور پر رکھناچاہیے کہ مالی تعاون محض افرادکی نقل مکانی کی قیمت نہ بنے،بلکہ اسے ایک جامع،مرحلہ واراورقابلِ تصدیق سلامتی کے بندوبست سے جوڑاجائے۔ایسابندوبست جس میں متعلقہ مسلح عناصرکی تعداد،مقامات اورنقل وحرکت کی تصدیق ممکن ہو؛ان کی سرحدپارکارروائی کی صلاحیت ختم کرنے کے عملی شواہد سامنے آئیں؛ان کے مالیاتی اورجنگی ڈھانچے پرقدغن لگائی جائے؛اورخلاف ورزی کی صورت میں پہلے سےطے شدہ سیاسی، سفارتی یامالی نتائج موجودہوں۔یعنی پاکستان کوایک ایسے انتظام کی ضرورت ہوگی جس میں قیمت آج اداکردی جائے اورضمانت کسی غیرمعین کل پرنہ چھوڑدی جائے۔
اس پورے معاملے کاایک بنیادی قانونی اوراخلاقی پہلوبھی ہے۔اپنی سرزمین کوکسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونےدینا اصولاًکسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اگرکابل یہ کہتاہے کہ اسے پاکستان مخالف مسلح گروہوں کودورمنتقل کرنے یامحدودکرنے کیلئےمالی وسائل درکارہیں،تواسلام آبادبجاطور پر پوچھ سکتاہے کہ کیایہ ایک انتظامی مشکل ہے جس کے حل میں وقتی معاونت دی جا سکتی ہے،یاپھرایک ایسی ذمہ داری ہے جسے پوراکرنے کیلئےمتاثرہ ملک ہی کوباربارمالی قیمت اداکرنی ہوگی؟دونوں صورتوں میں زمین آسمان کافرق ہے۔
پاکستان اورافغانستان کاتعلق کسی عام ہمسایگی کی کہانی نہیں۔گزشتہ چاردہائیوں میں پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی،افغانستان کے سیاسی انتشار ، جنگ،اسلحے،منشیات، سرحدی بدامنی،دہشتگردی اورمعاشی عدم استحکام کے اثرات برداشت کیے۔اس تاریخی پس منظرمیں اگرپاکستان سے یہ توقع کی جائے کہ اب وہ اپنی ہی سلامتی کویقینی بنانے کیلئےاُن عناصرکی منتقلی پرمالی معاونت کرے جوافغان سرزمین سے اس کے خلاف سرگرم ہیں،توپاکستانی ریاست اورمعاشرے میں اعتراض پیداہونافطری ہے۔
لیکن ریاستی حکمت صرف جذبات سے نہیں چلتی۔اگرایک محدود،شفاف،مشروط اورقابلِ نگرانی مالی بندوبست حقیقتاًدہشتگردحملوں میں نمایاں کمی لاسکتاہو ، ہزاروں انسانی جانیں بچاسکتا ہو اور پاکستان کی مغربی سرحدکوطویل المدت استحکام دے سکتاہو،تواسے محض اصولی سختی کے نام پرمستردکردینابھی دانشمندی نہیں ہوگی۔تاہم ایسی معاونت کی نوعیت محض’’امن خریدنے‘‘ کی نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کوامن خریدنے کی بجائے قابلِ تصدیق امن کا انتظام حاصل کرناچاہیے۔
امن خریدنے کامطلب یہ ہوگاکہ رقم دی جائے،وعدہ لیاجائے اورپھرامیدرکھی جائے کہ وعدہ پوراہوگا۔قابلِ تصدیق امن کامطلب اس کے برعکس ہوگا: واضح شرائط،مرحلہ وارادائیگی، مسلسل نگرانی،انٹیلی جنس تصدیق،عملی نتائج اورخلاف ورزی کی صورت میں متعین ذمہ داری۔اگرافغان طالبان واقعی پاکستان کے ساتھ ایک سنجیدہ سلامتی کابندوبست چاہتے ہیں توانہیں بھی اسی درجے کی جواب دہی قبول کرناہوگی۔پاکستان کیلئےمحض زبانی یقین دہانی اس لیے کافی نہیں ہوسکتی کہ خطے کی گزشتہ تاریخ میں وعدوں،مفاہمتوں اور زمینی حقائق کے درمیان بارہا نمایاں فاصلہ دیکھاگیاہے۔اس لیے اعتمادکامتبادل صرف اعتمادنہیں،بلکہ قابلِ تصدیق نظام ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں افغانستان میں بڑھتی ہوئی سعودی اقتصادی دلچسپی ایک نئے سیاسی مفہوم کے ساتھ سامنے آتی ہے۔اگرریاض افغانستان میں بڑے اقتصادی مفادات قائم کررہاہے توپاکستان کیلئےدانش مندانہ راستہ یہ نہیں ہوگاکہ وہ صرف یہ سوال اٹھائے کہ سعودی عرب کابل میں سرمایہ کیوں لگارہا ہے۔اس سے زیادہ مفیدیہ ہوگاکہ سعودی عرب کے نئے اقتصادی اثرکوافغانستان کے ذمہ دار علاقائی رویے کےساتھ جوڑنے کی کوشش کی جائے۔
اگرکابل سعودی سرمایہ،توانائی،بنیادی ڈھانچے اوراقتصادی شراکت داری سے فائدہ اٹھاناچاہتاہے،توپاکستان یہ سفارتی مؤقف اختیارکر سکتاہے کہ ایسے تعلقات افغانستان کی اس ذمہ داری سے جدانہیں ہونے چاہئیں کہ اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح کارروائیوں کیلئےاستعمال نہ ہو۔یوں سعودی سرمایہ کاری پاکستان پردباؤکاآلہ بننے کی بجائے کابل کے رویے پرمثبت اثرڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہاں پاکستان کیلئےغصے سے زیادہ تدبیراورردِعمل سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔سیاست میں کبھی دروازہ بندکردیناسب سے آسان کام ہوتاہے،لیکن زیادہ مؤثرحکمت یہ ہے کہ دروازے کے دوسری طرف موجود قوتوں کے مفادات کواپنے قومی مفادکے ساتھ اس طرح جوڑدیاجائے کہ تعاون سب کیلئے سودمنداورخلاف ورزی سب کیلئےمہنگی ہوجائے۔افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کویہی اصول اختیارکرناہوگا۔
اگرکوئی مالی معاونت دی جائے تووہ محض نقل مکانی کیلئےنہیں،بلکہ دہشتگردی کے پورے ڈھانچے کوغیرمؤثربنانے کیلئےہو۔مسلح عناصرکوایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل کردینا کافی نہیں؛ان کی تنظیمی ساخت،تربیتی مراکز،مالیاتی نیٹ ورک،ہتھیار،سرحد پارروابط اورعملی صلاحیت ختم کرناضروری ہوگا۔ ورنہ خطرہ اپنی ماہیت نہیں بدلتا،صرف اپناپتہ بدلتاہے اورسانپ کوصحن کے ایک کونے سے اٹھاکردوسرے کونےمیں رکھ دینےسے گھرمحفوظ نہیں ہوجاتا ،اسی لیے پاکستان کیلئےدرست سوال یہ نہیں کہ’’رقم دینی چاہیے یانہیں؟‘‘بلکہ یہ ہے کہ اگررقم دی جائے تواس کے بدلے ایسا کون ساناقابلِ تردیدسلامتی کانظام قائم ہوگاجودہشتگردی کووقتی طورپرنہیں بلکہ ساختی طورپرمحدود کرے؟اگراس سوال کا واضح،دستاویزی اورقابلِ تصدیق جواب موجود نہ ہو،تومالی معاونت مسئلے کاحل کم اورمستقبل کی بلیک میلنگ کیلئےایک خطرناک نظیر زیادہ بن سکتی ہے۔
اس معاہدہ کے بعدچوتھااہم نکتہ سراٹھاتاہے کہ ایران،محسن رضائی اوروزارتِ خارجہ کے مختلف لہجے — کیاایران میں واقعی’’دو حکومتیں‘‘چل رہی ہیں ؟اس سوال میں ایک بنیادی تاریخی تصحیح ضروری ہے۔ایران میں منتخب حکومت اورمذہبی وانقلابی اداروں کے درمیان اختیارات کی دوسطحیں کوئی نئی دریافت نہیں۔یہ نظام1979ءکے انقلاب کے بعدبننے والے ایرانی دستوراورادارہ جاتی ساخت کابنیادی حصہ ہے۔صدر،کابینہ اوروزارتِ خارجہ ایک منتخب سیاسی انتظام کاحصہ ہیں؛لیکن رہبرِاعلیٰ،سپاہِ پاسداران،شورای نگہبان،مجلسِ تشخیصِ مصلحت اوراعلیٰ سلامتی ادارے خارجہ اوردفاعی پالیسی میں غیر معمولی اثررکھتے ہیں۔
اس لیے اگرکسی اہم ایرانی شخصیت کابیان وزارتِ خارجہ کے لہجے سے مختلف ہوتویہ پہلی مرتبہ ظاہرہونے والی’’دوحکومتوں‘‘کا ثبوت نہیں،بلکہ ایران کے مرکب اقتداری نظام کی ایک ممکنہ جھلک ہے۔اگرایک جانب محسن رضائی کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیاکہ مکہ معاہدہ پرایران کواعتمادمیں نہیں لیاگیا، جبکہ دوسری طرف وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ کہاکہ پاکستان ایران کومعلومات دیتارہااورتہران پاکستانی مصالحتی کوششوں کاخیرمقدم کرتاہے،تواس اختلاف کی کم ازکم تین ممکنہ تعبیرات ہیں۔
پہلی تعبیریہ کہ ایرانی ریاستی اداروں کے درمیان واقعی پالیسی یامعلومات کافرق موجودہو۔دوسرایہ کہ بیان داخلی سیاسی حلقے کا مذاکراتی موقف ہے یعنی ایران اپنی ناراضگی کااظہارکرکے نئے دفاعی انتظامات میں زیادہ موثرپوزیشن حاصل کرناچاہتاہے۔تیسری یہ کہ وزارتِ خارجہ نے فوری طورپرزیادہ متوازن بیان دے کرپاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیرضروری بحران پیدا ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہو۔خارجہ پالیسی میں کبھی ایک ہی ریاست بیک وقت دوزبانیں بولتی ہے:ایک زبان داخلی سامعین کیلئےاوردوسری سفارتی میز کیلئے۔اسے ہمیشہ انتشار نہیں کہاجاسکتا۔بعض اوقات یہ منظم اسٹریٹجک ابہام بھی ہوتاہے۔تاہم اگرایران واقعی کسی دفاعی بندوبست میں’’بانی شریک‘‘کی حیثیت چاہتاہے،تواس مطالبے کاتزویراتی مفہوم بہت گہراہوگا۔
ایران یہ قبول نہیں کرناچاہے گاکہ خلیج،پاکستان اورترکی کے درمیان کوئی ایساسلامتی کاڈھانچہ قائم ہوجس میں تہران محض باہرکھڑا تماشائی ہو۔ایران کیلئےایسی تنظیم کاسوال صرف سعودی عرب کانہیں بلکہ اسرائیل،امریکا،خلیجی سلامتی،عراق،شام،یمن اوراپنے مشرقی محاذسے بھی متعلق ہوگا۔دوسری طرف سعودی عرب شایدکسی ایسے دفاعی انتظام سے گریزکرے جس میں ایران کی مکمل شمولیت اس کیلئےاسرائیل،امریکایادوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ نئی پیچیدگیاں پیداکرے۔
یہاں پاکستان ایک مشکل مگرتاریخی موقع کےسامنے کھڑاہوسکتاہے۔پاکستان کے سعودی عرب کےساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں؛ ایران اس کاہمسایہ ہے؛ترکی اس کااہم دفاعی شراکت دارہے؛چین اس کابڑا اقتصادی وتزویراتی ساتھی ہے۔اگراسلام آبادحکمت سے چلے تووہ ان محوروں کےدرمیان پل بن سکتاہے۔اگرجذبات یاگروہی سیاست غالب آجائے تو یہی جغرافیہ پاکستان کومختلف بلاکوں کے درمیان کھینچاہوامیدان بناسکتاہے۔
اگرزیرِبحث دفاعی بندوبست میں واقعی یہ اصول شامل ہےکہ’’ایک رکن پرحملہ سب پرحملہ تصورہوگا‘‘تواس جملے کی معنویت اس کی شاعرانہ قوت میں نہیں بلکہ اس کی قانونی تعریف میں پوشیدہ ہوگی۔مکہ دفاعی تصورکی اصل آزمائش یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ حملہ”کس شے کوکہاجائے گا؟کیاصرف کسی ریاست کی فوج کابراہِ راست حملہ؟یاپراکسی گروہ کی کارروائی بھی؟ ڈرون حملہ؟سائبر حملہ؟ دہشتگردی؟سرحدپارفائرنگ؟اورسب سے اہم سوال یہ کہ کسی رکن پرحملہ ثابت ہونے کے بعددوسرے اراکین پرفوجی مداخلت لازم ہوگی یاصرف مشاورت،انٹیلی جنس تعاون،اسلحہ،فضائی دفاع یاسفارتی مدد؟یہاں تک کہ دنیاکےبڑے اجتماعی دفاعی معاہدے بھی کسی ایک جملےپرمبنی نہیں ہوتے۔ انہیں تعریفوں،کمانڈ ڈھانچے،انٹیلی جنس پروٹوکول ،مشترکہ مشقوں،مالی ذمہ داریوں اورسیاسی طریقہ کارکی حمایت حاصل ہے۔اسی لیے صرف’’ایک پرحملہ سب پرحملہ‘‘کی عبارت سن کراسے مکمل فوجی اتحادسمجھ لینامناسب نہیں۔اگر پاکستان اسے اپنی سلامتی کا حقیقی ستون بناناچاہتاہے تواسے یہ یقینی بناناہوگاکہ غیرریاستی دہشتگردی اورسرحدپارپراکسی تشددبھی اس اتحادکے سلامتی تصور میں واضح طورپرجگہ پائیں۔ورنہ معاہدہ بڑے حملے کیلئےڈھال اورروزمرہ دہشتگردی کے سامنے خاموش تماشائی بن سکتاہے۔
گویاحاصلِ بحث یہ ہے کہ افغانستان آج بھی وہی تاریخی دروازہ ہے جس پرکبھی سلطنتیں دستک دیتی تھیں؛صرف دستک دینے والوں کے لباس بدل گئے ہیں۔کبھی گھوڑوں کی ٹاپ تھی،آج پائپ لائنیں ہیں۔کبھی قلعے فتح کیے جاتے تھے،آج توانائی کے ذخائراورتجارتی راہداریوں پراثرقائم کیاجاتاہے۔کبھی لشکرجغرافیہ بدلتے تھے،آج سرمایہ،بندرگاہیں،معدنیات،ڈرون اورانٹیلی جنس نیٹ ورک سیاست کی نئی زبان بن چکے ہیں۔افغانستان میں سعودی سرمایہ کاری کو فی الحال پاکستان مخالف سازش قراردینادرست نہیں؛فراہم کردہ موادزیادہ مضبوطی سے ایک بڑے توانائی منصوبے کی نشاندہی کرتاہے جس کے اقتصادی اورجیوپولیٹیکل دونوں نتائج ہوسکتےہیں۔
زلمے خلیل زادکی موجودگی یقیناًسوال انگیزہے،زلمے خلیل زادکی موجودگی کومحض ایک سابق سفارت کاریانجی شہری کی شرکت سمجھ کرنظراندازکرنابھی شایدحدسے زیادہ سادہ تعبیرہوگی۔افغانستان ،طالبان،واشنگٹن اورخلیجی دارالحکومتوں کےساتھ ان کےدہائیوں پرمحیط روابط کے باعث ان کی موجودگی بجا طور پرایک غیررسمی امریکی فٹ پرنٹ کےطورپردیکھی جاسکتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی تحریری سرکاری مینڈیٹ کے تحت امریکی حکومت کی نمائندگی کررہے ہوں؛بین الاقوامی سیاست میں سابق سفارت کار،خصوصی ایلچی اورطاقتورنیٹ ورک رکھنے والی شخصیات اکثرریاستوں کیلئےایسے غیررسمی رابطہ کاربن جاتی ہیں جن کے ذریعے رسمی ذمہ داری لیے بغیرماحول کوپرکھا،روابط قائم کیے اورامکانات کاجائزہ لیاجاسکتاہے۔
اس لیے زیادہ محتاط مگربامعنی تعبیریہ ہوگی کہ خلیل زاد کی موجودگی امریکی ریاستی منصوبے کاقطعی ثبوت نہیں،لیکن امریکی تزویراتی دلچسپی،غیررسمی رسائی اورخطے میں واشنگٹن کے باقی ماندہ اثر ورسوخ کاایک اہم قرینہ ضرور سمجھی جاسکتی ہے۔افغانستان جیسے حساس خطے میں ایسی شخصیت کاعین ایک بڑے سعودی – افغان اقتصادی بندوبست کے موقع پرموجودہونامحض اتفاق سمجھ کرنظراندازکرنابھی سیاسی تجزیےکےتقاضوں سےمطابقت نہیں رکھتا۔
طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف گروپوں کی منتقلی کےمبینہ مالی مطالبےکو،اگرمستند دستاویزات سےثابت کیاجائےتواسے ایک معمولی سفارتی سودے کےطورپرنہیں بلکہ سلامتی اور خودمختارذمہ داری کےایک انتہائی سنگین مسئلےکے طورپردیکھاجانا چاہیے۔ اورایران کی طرف سے آنے والے مختلف بیانات کو”دوحکومتوں”کے اچانک ظہورسےتعبیرکرنے کی بجائے انہیں ایران کے دیرینہ دودرجے یامخلوط طاقت کےنظام،داخلی دھڑوں اورخارجہ پالیسی میں متعددادارہ جاتی آوازوں کے پس منظرمیں پڑھنازیادہ درست ہوگا ۔
پاکستان کےسامنےاصل سوال یہ نہیں کہ کون اس کے ساتھ ہے اورکون اس کے خلاف۔اصل سوال یہ ہےکہ پاکستان اپنےجغرافیے، دفاع،تجارت، سفارت اورداخلی استحکام کواس حد تک مربوط کرسکتاہے یانہیں کہ دوسرے ممالک کیلئےپاکستان کونظراندازکرنامہنگا اورپاکستان کے ساتھ تعاون کرنافائدہ مندبن جائے۔قوموں کی قوت صرف توپ کےدہانےسےنہیں نکلتی۔وہ یونیورسٹی کی تجربہ گاہ، صنعت کی بھٹی،بندرگاہ کی گودی،سفارت کارکی میز،سپاہی کےعزم،قانون کی بالادستی اورقوم کےاجتماعی شعورسےبھی جنم لیتی ہے۔
تاریخ کایہی سبق ہے کہ جو قومیں اپنے فیصلے دوسروں کے ارادوں کے تجزیے پرچھوڑدیتی ہیں،وہ ہمیشہ سازشیں تلاش کرتی رہتی ہیں؛اورجواپنی قوت،علم اوراداروں کومضبوط کرتی ہیں،وہ دوسروں کی سازشوں کےباوجوداپناراستہ بنالیتی ہیں۔پاکستان کیلئےاس نئے علاقائی منظرنامے کاموزوں جواب اضطراب نہیں بلکہ تزویراتی خوداعتمادی ہے:سعودی عرب کےساتھ دوستی بھی،ایران کے ساتھ ہمسائیگی کااحترام بھی،ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون بھی،افغانستان سے واضح جواب دہی کامطالبہ بھی،اورہ طاقت ک سامنےاپنے قومی مفادکی وہ صاف لکیربھی جسے دوستی کی حرارت مٹاسکے نہ دباؤ کی سردی۔
کیونکہ اہلِ تدبیرجانتے ہیں کہ دنیاکی سیاست میں مستقل دوست اورمستقل دشمن کم ہوتے ہیں؛مستقل رہنے والی چیزاگرکوئی ہے تووہ قومی مفاد،جغرافیہ او تاریخ کاحافظہ ہے۔











