پاکستان کی سیاسی زندگی میں بعض اوقات ایک جملہ وہ گرداٹھادیتاہے جس میں اصل مسئلے کی صورت بھی دھندلاجاتی ہے۔ایوان کی گفتگوجلسے کاآہنگ اختیار کرتی ہے،اختلاف الزام میں ڈھلتاہے،اورقومی بحث شخصی رنجشوں کی نذرہونے لگتی ہے۔مولانافضل الرحمان کے ریاست سے متعلق متنازع کلمات،محسن نقوی اورخواجہ آصف کے سخت ردعمل نے بھی ایسے ہی بنیادی سوالات پیداکیے ہیں:ریاست اورحکومت میں کیافرق ہے؟مذہبی قیادت کی سیاسی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟قومی مناصب پرفائزرہنے والوں سے کارکردگی کاحساب کیسے لیاجائے؟اورقانون کی عمل داری کوسیاسی انتقام کے شبہے سے کیسے محفوظ رکھاجائے؟
ان سوالات کاجواب محض کسی شخصیت کی حمایت یامخالفت میں نہیں ملتا۔اس کیلئےتاریخ کی شہادت،واقعات کی تحقیق اوراخلاقی میزان،تینوں درکارہیں۔حالیہ سیاسی مرکزی اضطراب قابل فہم ہے:جس سیاسی قیادت نے پاکستان کے ایوانوں،اداروں اورحکومتی بندوبست میں طویل عرصہ حصہ لیاہو،اس سے ریاست کے بارے میں شائستگی اورذمہ داری کاتقاضازیادہ ہونا چاہیے۔تاہم اس استدلال کی قوت اسی وقت قائم رہتی ہے جب تنقیدتحقیق کی حدمیں رہے اورالزام، ثبوت کاقائم مقام نہ بنے۔اکتوبر2026ءکے اواخرمیں سامنے آنے والے اس تنازعے کی اخباری تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ وزیرداخلہ نے سینیٹ میں مولاناسے منسوب ریاست کی تحقیرپرمبنی الفاظ پرشدیداعتراض کیا۔
ریاست کسی وزیر،جماعت یامقتدرشخصیت کادوسرا نام نہیں۔وہ شہریوں کے مشترک سیاسی وجود،قومی خوداختیاری،ادارہ جاتی تسلسل اورباہمی حقوق وذمہ داریوں کاوسیع بندوبست ہے۔حکومت اس بندوبست کے اندراختیارپاتی ہے اوراپنی مدت پوری کرتی ہے؛ریاست نسلوں کے درمیان قائم رہنے والاعہدہوتی ہے۔اسی لیے حکومت کی غلطی پرگرفت اورریاست کی تحقیرایک جیسی چیزیں نہیں۔ان کے درمیان فرق مٹ جائے توحکمران اپنی کوتاہیوں ک قومی وقا کی اوٹ میں چھپانے لگتے ہیں،جبکہ مخالفین اپنے سیاسی غصے میں اجتماعی وجودہی کومجروح کرنے لگتے ہیں۔
اگر مولانافضل الرحمان کے الفاظ فی الواقع ریاست کی تذلیل پرمحمول ہوتے ہیں توان سے وضاحت کامطالبہ درست ہے۔دینی علم اور طویل پارلیمانی تجربہ رکھنے والے رہنماسے توقع ہوتی ہے کہ وہ غصے میں بھی تعبیرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ لفظ محض آواز نہیں؛صاحبِ اثرکی زبان سے نکل کروہ اجتماعی رویہ بن جاتاہے۔جس رہنماکے گردعقیدت کاحلقہ ہو،اس کے کلام کی ذمہ داری بھی معمول سے بڑھ جاتی ہے۔
تاہم ریاستی احترام کااصول شہری حقِ سوال کوساقط نہیں کرتا۔کوئی شخص سرکاری منصب پررہ چکاہوتواس کی ہرآئندہ تنقیدناشکری قرارنہیں پاتی۔عوامی عہدہ ریاست کی عطاکردہ شخصی جاگیر نہیں،ایک ذمہ داری ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اعتراض دلیل پرقائم ہے یا مفادکی محرومی پر؛اورجواب قانون وکارکردگی سے دیاجارہاہے یامنصب کے رعب سے۔سیاسی بلوغت اسی امتیازکی حفاظت کانام ہے۔مذہب سے وابستہ سیاسی قیادت اپنے لیے جس اخلاقی مرتبے کادعویٰ کرتی ہے، اسے اسی کے مطابق جواب دہ بھی ہوناچاہیے۔جب کوئی جماعت عدل،دیانت اوراسلامی نظام کی بات کرتی ہے توعوام اس کی جماعتی زندگی، مالی معاملات اورتقرریوں میں بھی ان اقدارکی جھلک تلاش کرتے ہیں۔یہ توقع بے جانہیں۔ منبر سے دی گئی نصیحت اگراقتدارکے دروازے پراپنی معنویت کھودے توسب سے زیادہ نقصان مذہبی اعتمادکوپہنچتاہے۔
اس موضوع پرعوام اورپارلیمنٹ میں مذہب کوسیاسی منفعت کیلئےاستعمال کرنے کاالزام نمایاں ہے۔ایساالزام محض خطیبانہ شدت سے ثابت نہیں ہوتامگراس کے پیچھے موجودسوال اہم ہے:کیاجماعت کے فیصلے واضح اصولوں کے تابع ہیں؟کیااتحاداورعلیحدگی کی وجوہ عوام کے سامنے رکھی جاتی ہیں؟کیاجماعتی کارکن اپنی قیادت سے سوال کرسکتے ہیں؟کیامالی وسائل کے استعمال کی قابل اعتمادتفصیل موجودہے؟یہ معیارصرف مذہبی جماعتوں کیلئےمخصوص نہیں ہوناچاہیے۔ البتہ مذہبی قیادت کیلئے اس سے گریززیادہ دشوارہے،کیونکہ وہ سیاسی کامیابی کے ساتھ اخلاقی رہنمائی کی دعوے داربھی ہوتی ہے۔اسلامی سیاسی اخلاق میں منصب امانت ہے؛امانت کی تکمیل محض اسے حاصل کرنے سے نہیں،اس کاحساب دینے سے ہوتی ہے۔جس سیاست میں قربانی کارکن کامقدراورآسودگی چندخاندانوں کاحصہ بن جائے، وہاں اصلاح کاسوال ضروراٹھے گا۔
یادرہے کہ قوم ابھی تک مولانا کے اس تلخ جملے کوبھول نہیں پائی کہ”ہمارے اکابرین پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے”۔ تاریخی تحقیق یہاں زیادہ باریک نظرچاہتی ہے۔دیوبندی علمی روایت،برصغیرکی آزادی اورتقسیم کے سوال پریکساں سیاسی مؤقف نہیں رکھتی تھی۔مولاناحسین احمدمدنی اورجمعیت علمائے ہندمتحدہ قومیت کے حامی تھے،جبکہ مولانا شبیر احمدعثمانی نے مسلم لیگ اورقیام پاکستان کی حمایت کی۔عثمانی1945ءمیں قائم ہونے والی جمعیت علمائے اسلام کے نمایاں قائدبنے۔لہٰذاپوری روایت کوقیام پاکستان کی مخالفت کے ایک خانے میں رکھناتاریخی تنوع کونظراندازکرناہے۔
متحدہ قومیت کے حامی ایک جغرافیے میں مختلف مذہبی برادریوں کی مشترک سیاسی زندگی کاامکان دیکھتے تھے؛پاکستان کے حامی علمامسلم اکثریتی ریاست کو مسلمانوں کی سیاسی اوراجتماعی حفاظت کاراستہ سمجھتے تھے۔ان تعبیرات کے نتائج اورکمزوریوں پربحث ہوسکتی ہے،مگربحث کومحض وفاداری اورغداری کے آسان فیصلوں میں سمیٹ دیناتاریخ کی پیچیدگی سے فرارہے۔
مولانافضل الرحمان کی پارلیمانی ذمہ داریوں کاجائزہ صرف کشمیرکمیٹی تک محدودنہیں رہناچاہیے۔بے نظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت میں،1993ء سے 1996ءتک،وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امورکے سربراہ بھی رہے۔اس منصب کی کارکردگی جانچنے کیلئےضروری ہے کہ متعلقہ دوروں کے مقاصد،وفودکی تشکیل،اخراجات اورحاصل شدہ سفارتی نتائج کاریکارڈسامنے رکھا جائے۔قومی خزانے سے ہونے والاہرخرچ عوام کے سامنے جوابدہ ہے؛کسی سفرکی افادیت کافیصلہ مسافت کی طوالت یاملاقاتوں کی کثرت سے نہیں،قومی مفادمیں اس کے قابلِ بیان حاصل سے ہوناچاہیے۔
مولانافضل الرحمان سے یہ سوال بہرحال بنتاہے کہ پاکستان کے سیاسی بندوبست میں طویل شرکت کے باوجودریاست سے کلی بے اعتنائی کاتاثرکیوں پیداہوتا ہے ؟پاکستان جمہوری تحریک کی سربراہی،قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کی ذمہ داری اورکشمیرکمیٹی کی تقریباً ایک دہائی پرمحیط صدارت،قومی سیاست میں ان کی وسیع شرکت کی نشانیاں ہیں۔ان مناصب کاذکراحسان جتانے کیلئےنہیں، جوابدہی کی یاد دہانی کیلئےضروری ہے۔خصوصاًکشمیر کمیٹی کے حوالے سے قوم یہ جاننے کی حق دارہے کہ دستیاب وسائل،سفارتی مواقع اورسیاسی رسوخ نے کشمیریوں کے مقدمے کوآگے بڑھانے میں کیاقابلِ پیمائش کرداراداکیا۔قومی خدمت کامیزان منصب کی مدت نہیں،اس کاحاصل ہوتاہے۔
یوں تومولاناکے اہل خانہ اورقریبی رشتہ داروں سے منسوب مختلف سیاسی وانتظامی مناصب کی طویل فہرست ہے۔مولاناکے اہل خانہ اورقریبی رشتہ داروں تک پھیلے ہوئے سیاسی اثرپر بھی سوال اٹھتاہے۔اس میں مولانااوران کے صاحبزادے کی پارلیمانی شرکت،عطا الرحمان کی سینیٹ کی رکنیت،حاجی غلام علی کی پشاورکی ضلعی نظامت اوربعدازاں گورنری،زبیرعلی کی پشاورکی بلدیاتی قیادت،اور لطف الرحمان کی صوبائی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کی ذمہ داری کاحوالہ بہرحال موجودہے۔مولاناکی سالی شاہدہ اخترعلی صاحبہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی، دوسری سالی نیرسلطانہ صاحبہ بھی رکن قومی اسمبلی،تیسری سالی ریحانہ اسماعیل صاحبہ دومرتبہ ایم پی اے.۔۔۔کیسے کیسے مناصب مختلف اوقات میں مولاناکے گھرانے میں رہے لیکن وہ کہتے ہیں’’ریاست نے انہیں دیاہی کیاہے اورریاست پر تھوکنے کی گالی دے ڈالی ہے۔“
ان نسبتوں اورمدتوں کی درست تعیین متعلقہ ریکارڈمیں بھی موجودہے، محض رشتہ داری کسی شہری کوسیاست سے خارج نہیں کرتی ، لیکن اسے دوسروں پرترجیح کامستقل پروانہ بھی نہیں بنناچاہیے۔ کسی رہنماکابیٹا،بھائی یاقریبی عزیز بھی عوامی تائیداوراہلیت رکھ سکتا ہے۔خرابی وہاں پیداہوتی ہے جہاں جماعتی مقابلہ رسمی رہ جائے،کارکن کیلئےترقی کاراستہ بندہو ۔قیادت کی قربت اور منصب کی بنیادی سندبن جائے۔پھرجماعت اجتماعی سیاسی تربیت گاہ کے بجائے خاندانی اثرکادائرہ محسوس ہونے لگتی ہے۔مگربنیادی سوال واضح ہے: جماعتی کارکن کی اہلیت اورعوامی خدمت کے مقابلے میں خاندانی قربت کاوزن کتنا ہے؟
انتظامی اثرورسوخ کے باب میں اصل معاملہ ضیاءالرحمان کے سابقہ فنی منصب سے صوبائی انتظامیہ میں آنے اوربعدازاں ڈپٹی کمشنر بننے کے طریقۂ کارپر اعتراض کرتاہے۔اسی طرح ایک بھائی کے سیاحتی ادارے کی سربراہی کے دوران مبینہ طورپراستحقاق سے باہر سرکاری گاڑی حاصل کرنے اورواپس نہ کرنے کاالزام بھی درج ہے۔ان معاملات کامنصفانہ فیصلہ تقرری کے احکامات، متعلقہ قواعد، گاڑی کی منظوری اورواپسی کے ریکارڈسے ہوگا۔اگراثرورسوخ کے ذریعے قواعد سے تجاوزثابت ہوتواسے سیاسی ضرورت یامذہبی وجاہت کی اوٹ نہیں دی جاسکتی۔عوامی منصب امانت ہے؛اس سے پیداہونے والی سہولت کوخاندانی استحقاق سمجھ لینااسی امانت کی روح کومجروح کرتاہے۔
اس صورت حال کاعلاج شخصی طعنہ نہیں،قابل جانچ طریقۂ انتخاب ہے۔جماعت بتائے کہ امیدوارکس اصول پرچنے گئے،مخصوص نشستوں کیلئےترجیح کیسے قائم ہوئی،تنظیمی عہدے کیسے تقسیم ہوئے اورانتظامی تقرری میں اہلیت کامعیارکیاتھا۔شفاف طریقہ ہوتوالزام کاجواب آسان ہوتاہے؛طریقہ پوشیدہ ہوتوشبہ جڑپکڑتاہے۔قومی سیاست کاوقاراسی میں ہے کہ کسی شخص کی قربت،عوام کے حق پر فوقیت نہ پائے۔
اکابرِدیوبندسے نسبت کے اظہارپرتفاخرمولاناکاحق ہے تاہم تقابل تاریخی اورانتخابی احتیاط چاہتاہے۔دیوبندکے2022ءکے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی اورعمیرمدنی کے3501 ووٹ،نے دیوبندجماعت کی قلعی کھول دی ہے۔مجوزہ حلقہ میں مسلمانوں کی تقریباً سترفی صد آبادی اوربرجیش سنگھ سے منسوب دیوبندکانام بدلنے کے اعلان کاحوالہ بھی یادرکھناہوگا۔اسی طرح کسی دوسرے ملک میں مسلمانوں کودرپیش مشکلات پاکستان میں شہری آزادی محدود کرنے کی دلیل نہیں بن سکتیں۔اپنے وطن کی قدرکابہتراظہاریہ ہے کہ یہاں قانون،مذہبی آزادی اورحقِ اختلاف زیادہ محفوظ ہوں۔پاکستان سے محبت کا مطالبہ اس کے شہریوں کے احترام کے ساتھ زیادہ مؤثرہوتاہے ۔قومی تعلق احسان گنوانے سے کمزوراورعدل سے مضبوط ہوتا ہے۔زیادہ بامعنی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حاصل اظہار،نمائندگی اور سیاسی اثرکی قدرقیادت کے طرزِعمل میں کس قدرنظرآتی ہے،اس کابھی توکوئی جواب ملناچاہئے۔
حکومت سازی میں اپنی ناگزیریت جتانے والی سیاست،خواہ کسی بھی جماعت کی ہو،آخرکارجمہوری شراکت کوشخصی قوت کے مظاہرے میں بدل دیتی ہے۔ مولاناسے منسوب یہ دعویٰ کہ ان کے بغیرحکومت بن نہیں سکتی اوربن جائے توچل نہیں سکتی،اسی سیاسی خوداعتمادی کااظہارسمجھاجاتاہے؛مگرقومی ریاست کسی رہنماکی شرکت یامحرومی سے اپنی قدرنہیں پاتی۔حکومت سے اختلاف کیجیے، مقتدراداروں کے فیصلوں پرگرفت کیجیے اوراپنے حقوق کیلئے پوری قوت سے آواز اٹھائیے؛البتہ اعتراض کاہدف اورزبان واضح رکھیے۔ پاکستان میں میسرسیاسی گنجائش کی قدراوراس کی خامیوں کی نشاندہی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ریاست کی تحقیرسے منسوب کلمات کی وضاحت اسی لیے ضروری ہے کہ شخصی ناراضی،مشترک قومی وجودکی بے توقیری میں تبدیل نہ ہو۔
کشمیرسے متعلق پارلیمانی ذمہ داریوں کااعتراض جذباتی وزن رکھتاہے۔یہ ایساقومی مسئلہ ہے جس کے ساتھ خاندانوں کی جدائیاں،انسانی حقوق کے سوالات اورخطے کے مستقبل کی تشویش وابستہ ہے۔اس موضوع پرکسی منصب کی قدراعزازات اورملاقاتوں کی تصاویرسے متعین نہیں ہونی چاہیے۔سوال یہ ہونا چاہیے کہ ذمہ دارقیادت نے دستیاب اختیارکوکس نتیجے میں بدلا۔
منصفانہ احتساب کیلئےکمیٹی کے اجلاس،سفارشات،مالی اخراجات،غیرملکی رابطے اورمتعلقہ وزارتوں کی پیروی کاریکارڈسامنے آنا چاہیے۔پھرمعلوم ہوسکے گاکہ کہاں کام ہوا،کہاں اختیارمحدود تھااورکہاں ذمہ داری پوری نہیں ہوئی۔بجٹ کے استعمال کے بارے میں سخت زبان اختیارکی گئی ہے۔تحقیق کاتقاضاہے کہ مالی بے ضابطگی کافیصلہ مستندحساب،جائزے یامتعلقہ قانونی کارروائی کی بنیادپرہو۔ بدعنوانی کاغیرثابت شدہ الزام اصل ناکامیوں کی نشان دہی کوبھی کمزورکردیتا ہے ۔عوام کونعرے سے زیادہ حساب چاہیے؛اورقومی خدمت کادعویٰ اسی حساب میں اپنی قدرپاتاہے۔اسی لیے احتساب کامعیارسب کیلئےیکساں ہوناچاہیے۔ مذہبی رہنماہویاکسی دوسری جماعت کاعہدیدار،عوامی وسائل کے استعمال پرایک ہی سوال اٹھنا چاہیے: کس اختیار کے تحت،کس ضرورت کیلئے،کتنی مدت تک ؟ zجب سوال اصولی ہوتواسے مخالفت کہہ کرٹالنامشکل ہوتاہے۔
حج جیسے مقدس سفراوربیرون ملک قیام میں سرکاری وسائل کے استعمال پربھی امانت وجوابدہی کایہی اصول نافذہوتاہے۔اگرکسی عہدے داریااس کے ہم سفروں کے شخصی اخراجات سرکاری وفد،سفارتی میزبانی یاقومی خدمت کے نام پرخزانے سے اداکیے گئے ہوں توان کی منظوری،ضرورت اوراستحقاق کی تحقیق ہونی چاہیے۔قرآن امانتیں حقداروں تک پہنچانے کاحکم دیتاہے اوراسراف سے روکتاہے؛ چنانچہ عوامی مال کوبلااستحقاق شخصی آسائش کیلئےاستعمال کرنااسلامی امانت داری کے منافی ہے۔تاہم کسی معین شخص پراس اصول کااطلاق ثابت شدہ حقائق کی بنیادپرہوگا۔مذہبی مرتبہ جوابدہی سے استثنانہیں دیتا،بلکہ احتیاط کی ذمہ داری بڑھاتاہے۔عبادت کی عظمت اپنی جگہ،اس کے اخراجات کاجائزہوناایک الگ اخلاقی تقاضاہے۔(النساء:۵۸؛الاعراف)
یادرہے کہ ان اخراجات کے حوالے سے پاکستانی سفارت خانہ دوران حج کی میزبانی،رفقائے سفرکی خاطرتواضع اورمتعلقہ سفری سہولتوں کے وہ تمام واقعات اورمیرے علم کے مطابق،ان کی تفصیلات پاکستان کے اہم اخبارات میں بھی شائع ہوئیں اوران کی کوئی تردید آج تک سامنے نہیں آئی۔تاہم مالی رقوم اور ادائیگیوں کی حتمی تعیین متعلقہ حسابات اورسفارتی ریکارڈسے ہونی چاہیے۔اصل اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم ہے:اگرشخصی آسائش کے اخراجات بلااستحقاق قومی خزانے پرڈالے گئے توان کاجوازکیاتھا؟عوامی مال امانت ہے؛مذہبی وجاہت اس امانت کی جوابدہی کوکم نہیں کرتی،مزیدگراں باربناتی ہے۔
ایران کے دورے سے متعلق تنازعے میں دوالگ امورہیں:وفدکی تشکیل پرسوال اٹھانے کاحق،اورکسی غیرثابت شدہ مقصدکوقطعی حقیقت بناکرپیش کرنا۔ وزیرداخلہ کے بیرونی دورے میں شامل ہونے کی وجہ دریافت کرناپارلیمانی نگرانی کاحصہ ہوسکتاہے۔حکومت کوبھی ممکنہ حدتک واضح جواب دیناچاہیے تاکہ قیاس آرائی کی جگہ معلوم حقیقت لے سکے۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہاکہ وہ وزیراعظم کی خصوصی ذمہ داری پرایران گئے تھے اوردورہ کسی دفاعی معاہدے کیلئےنہیں تھا۔یہ حکومتی وضاحت ہے،جسے اسی حیثیت سے درج کرناچاہیے۔اگرکسی رہنما کے پاس اس کے خلاف دستاویزی شہادت ہوتواسے متعلقہ پارلیمانی طریقے سے پیش کیاجاسکتاہے۔
خارجہ تعلقات کی حساسیت غیرذمہ دارانہ قیاس سے احتیاط چاہتی ہے،لیکن حساسیت مستقل خاموشی کانام بھی نہیں۔حکومت کی معقول وضاحت اورحزب اختلاف کامستندسوال،دونوں ریاستی اعتمادکوتقویت دے سکتے ہیں۔خرابی تب پیداہوتی ہے جب سوال کوتضحیک اور جواب کودھمکی بنادیاجائے۔اس پورے تنازعے کاحاصل کسی ایک شخصیت کی تحقیرنہیں ہوناچاہیے ۔مولانافضل الرحمان پرلازم ہے کہ ریاست سے منسوب متنازع کلمات کا پوراسیاق واضح کریں اور اپنی سیاسی کارکردگی پراٹھنے والے جائزسوالات کاریکارڈکے ساتھ جواب دیں۔وزیرداخلہ کی ذمہ داری ہے کہ سخت اختلاف میں بھی منصب کی متانت برقرار رکھیں اوراپنے الزامات کوقابل جانچ شواہدتک محدودرکھیں۔
مذہبی سیاست کواپنے اخلاقی دعووں کاثبوت جماعتی شفافیت میں دیناہوگا۔ریاستی اداروں کواپنی غیرجانبداری یکساں قانونی عمل سے دکھاناہوگی۔اہل قلم پر بھی فرض ہے کہ وہ پسندیدہ استدلال کی خاطر غلط دعوے کوجگہ نہ دیں۔قلم جب تحقیق سے بے نیازہوجائے تواس کی فصاحت بھی انصاف کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔
وطن ایک مشترک امانت ہے۔اس امانت کااحترام زبان کی شائستگی،اختیارکی جوابدہی اورشہری کے وقارسے ظاہرہوتاہے۔سیاسی اختلاف کودلیل کی زبان ملے تو وہ اصلاح کا وسیلہ بنتاہے؛ذاتی غصے اورغیرثابت شدہ الزام کے سپردہوتوقومی اعتمادزخمی ہوتاہے۔پاکستان کی سیاست کوآج اسی ضبط کی ضرورت ہے جس میں حق بات پوری قوت سے کہی جائے،مگرکسی کے حق پر حرف نہ آئے۔











