کبھی کبھی تاریخ کی خاموش وادیوں میں ایک صداایسی گونجتی ہے جواپنے عہدکی سرحدیں توڑکرآنے والی صدیوں کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔وہ صدامحض الفاظ نہیں رہتی؛وہ ایک چراغ بن جاتی ہے،ایک عہدبن جاتی ہے،ایک خواب بن جاتی ہے ،ایساخواب جس کی تعبیرکیلئے نسلیں اپناخونِ جگردیتی ہیں اور قومیں اپنی تقدیرکارخ بدلتی ہیں۔اقبال کاتصورِ ملت، مسلم دنیا کا اتحاد اور مکہ سے ابھرتا ہوا نیا دفاعی شعورسے ہمیں ایک بارپھراقبال کی وہ پکارسنائی دے رہی ہے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یہ شعرمحض بحرووزن میں ڈھلاہوا ایک دل نشیں خیال نہیں؛یہ ملتِ اسلامیہ کے بکھرے ہوئے موتیوں کوایک ہی رشتۂ احساس میں پرونے کی آرزوہے۔ یہ اس قافلے کوپھرسے اپنی منزل یاددلانے والی آوازہے جس کی راہوں پرکبھی علم کے چراغ جلتے تھے،کردار کی خوشبوپھیلتی تھی اورخودی کے شاہین بلند فضاؤں سے آشناتھے۔اقبال کے نزدیک وحدت کامفہوم یہ نہ تھاکہ زبانیں مٹ جائیں، سرحدیں تحلیل ہوجائیں یاقومیں اپنی الگ شناخت کھوبیٹھیں؛ان کاخواب یہ تھاکہ مختلف رنگوں،مختلف ثقافتوں اورمختلف جغرافیوں کے باوجوددل ایک بڑے تہذیبی شعورکی دھڑکن پردھڑکیں۔
آج جب پاکستان،سعودی عرب اورترکی اپنے اپنے تجربے،قوت،وسائل اورٹیکنالوجی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دیتے ہیں،تویہ منظر محض سفارت کاری کے سرد کاغذ پرثبت چنددستخطوں کامنظرنہیں رہتا۔کہیں دوراس کے پس منظرمیں اقبال کی وہی صداپھرسنائی دیتی ہے؛جیسے خاکسترمیں دبی ہوئی چنگاری کوہوامل رہی ہو،جیسے ایک دیرینہ خواب اپنی پلکیں کھول رہاہو، جیسے امت کےتھکےہوئے افق پرصبحِ نوکی پہلی کرن نمودارہورہی ہو۔اس تناظر میں یہ محض ایک جذباتی شعرنہیں تھا،بلکہ مسلم دنیا کیلئے ایک فکری،تہذیبی اور سیاسی پیغام بھی تھا۔
اقبالؒ کے نزدیک امت کااتحاداس بات کاتقاضانہیں کرتاکہ تمام مسلم ممالک اپنی قومی شناخت،زبان،ثقافت یاریاستی مفادات ترک کردیں۔ان کاتصوراس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ مسلم اقوام اپنی جداگانہ شناختوں کے باوجودایک بڑے تہذیبی شعور،مشترکہ مفادات اورباہمی ذمہ داری کے احساس سے جڑی رہیں۔
پاکستان اپنے دفاعی تجربے اورعزم کے ساتھ،ترکی اپنی صنعت،سائنس اورجدید ٹیکنالوجی کے ساتھ،اور سعودی عرب اپنی اقتصادی قوت،روحانی مرکزیت اوروسائل کے ساتھ اگرایک دوسرے کی قوت بنیں،تو یہ اشتراک صرف ہتھیاروں کی گھن گرج کانام نہیں ہوگا؛ یہ خودانحصاری،علم،وقاراوراجتماعی اعتمادکی ایک نئی زبان بھی بن سکتاہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی تلواریں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان تلواروں کوتھامنے والے ہاتھوں میں کتنی دانش ، کتنی دیانت،کتنا علم اورکتناکردارہے۔
حرم کی پاسبانی صرف سنگ وخشت کی پاسبانی نہیں۔حرم توایک علامت ہے—اس صفِ واحدکی،جہاں بادشاہ اورفقیر،عرب وعجم، مشرق ومغرب،سب ایک ہی قبلے کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔اگرعبادت میں ہمارے قدم ایک سمت ہوسکتے ہیں توکیاعلم،تحقیق، ٹیکنالوجی،معیشت اوراجتماعی سلامتی کے میدان میں ہماری منزلیں ایک دوسرے کی قوت نہیں بن سکتیں؟شایدآج پھروقت کی پیشانی پروہی سوال لکھاجارہاہے:کیاہم اپنی عظمت کے قصے صرف ماضی کی کتابوں میں پڑھتے رہیں گے،یا اپنی خودی کی آتش سے مستقبل کے اندھیروں میں بھی ایک نیاچراغ روشن کریں گے؟
آج پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کواسی وسیع تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسے محض تین ممالک کے درمیان عسکری تعلق یاسفارتی پیش رفت سمجھناشاید اس کی پوری معنویت کومحدود کردے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیاکے اہم ممالک اپنی سلامتی،دفاعی صلاحیت، ٹیکنالوجی اوراقتصادی قوت کوزیادہ مربوط اندازمیں استعمال کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟اوراگرایساہے تواس تبدیلی کے مستقبل پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
پاکستان،ترکی اورسعودی عرب تین مختلف مگراہم صلاحیتوں کے حامل ممالک ہیں۔پاکستان ایک اہم عسکری قوت،دفاعی تجربے اور حساس جغرافیائی محلِ وقوع کاحامل ہے۔ترکی گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت،ڈرون ٹیکنالوجی،ایوی ایشن اورالیکٹرانک نظاموں میں نمایاں پیش رفت کرچکاہے۔دوسری جانب سعودی عرب توانائی،سرمایہ،اقتصادی وسائل اورعالمِ اسلام میں اپنی غیرمعمولی سیاسی و مذہبی حیثیت کے باعث ایک منفردمقام رکھتاہے۔
اگران صلاحیتوں کوالگ الگ دیکھاجائے توہرملک اپنی جگہ اہم ہے،لیکن اگرعسکری تجربہ،جدید ٹیکنالوجی اوراقتصادی طاقت ایک مربوط نظام کی صورت اختیار کرنے لگیں تومعاملہ محض تین ریاستوں کے درمیان تعاون تک محدود نہیں رہتا۔یہ مسلم دنیامیں اجتماعی خودانحصاری کے ایک نئے تصورکی بنیاد بھی بن سکتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ کاتصورِخودی اپنی جدیدمعنویت کے ساتھ سامنے آتاہے۔اقبالؒ کی خودی غروریادوسروں پرغلبے کانام نہیں۔ یہ اپنی صلاحیت ،آزادیِ فکر،کرداراورخوداعتمادی کواس مقام تک پہنچانے کانام ہے جہاں فردہو یاقوم،اسے اپنی بنیادی سلامتی اوربقاکیلئے ہروقت دوسروں کے سہارے کی ضرورت نہ رہے۔ قومیں اس وقت حقیقی طورپر خودمختار بنتی ہیں جب وہ اپنے فیصلے کرنے،اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اوراپنے مستقبل کی تعمیر کرنے کی صلاحیت خودپیداکریں۔
مسلم دنیاکی جدیدتاریخ اس حقیقت کی متعددمثالیں فراہم کرتی ہے کہ محض معاہدے یابیرونی ضمانتیں مستقل سلامتی کامتبادل نہیں ہوتیں۔ کسی دفاعی بندوبست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب خطرہ حقیقی ہو۔اسی لیے پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے مابین تعاون کی کامیابی کامعیارصرف یہ نہیں ہوناچاہیے کہ کسی بحران میں کون کس کیلئے فوجی کارروائی کرے گا۔اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ کیایہ ممالک اپنی دفاعی صنعت،تربیت،انٹیلی جنس ، سائبرصلاحیت،تحقیق،ٹیکنالوجی اوربحران کے دوران فیصلہ سازی کے نظام کو باہم مربوط کرسکتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں طاقت کاتصوربنیادی طورپربدل چکاہے۔جنگ اب صرف ٹینکوں،توپوں اورجنگی جہازوں تک محدود نہیں رہی۔ ڈرون، سائبرحملے، سیٹلائٹ نظام،مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی جنگ،انٹیلی جنس اورالیکٹرانک وارفیئرجدید سلامتی کالازمی حصہ بن چکے ہیں۔بعض اوقات ایک غلط اطلاع یامربوط سائبرحملہ ایسے نتائج پیداکرسکتاہے جوروایتی ہتھیاروں کے استعمال سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوں۔
اسی لیے کسی بھی نئے دفاعی تعاون کوصرف اسلحے کی خریدوفروخت سے آگے بڑھناہوگا۔اصل طاقت اس وقت پیداہوگی جب مسلم ممالک مشترکہ تحقیق، دفاعی پیداوار،ٹیکنالوجی ٹرانسفر، جدید تربیت اورعلمی اشتراک کی بنیادیں مضبوط کریں گے۔تاہم اس پیش رفت کو فوری طورپر کسی جارحانہ عسکری اتحادیانام نہاد“مسلم نیٹو”کے طورپرپیش کرنامناسب نہیں ہوگا۔بین الاقوامی سیاست پیچیدہ مفادات کا میدان ہے۔سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تاریخی دفاعی تعلقات ہیں،لیکن اسی وقت اس کے بھارت کے ساتھ بھی اہم اقتصادی اور تجارتی روابط موجود ہیں۔ ترکی کی اپنی علاقائی ترجیحات ہیں اورپاکستان کے اپنے جغرافیائی اورسلامتی کے تقاضے ہیں۔لہٰذااہم بات کسی نئے اتحادکوجذباتی نام دینانہیں بلکہ اس کی سمت کوسمجھنا ہے۔
اگریہ سمت اپنے مسائل کوخودسمجھنے،اپنی ترجیحات خودطے کرنے،دفاعی صلاحیتیں باہم مربوط کرنے اورہربحران میں کسی بیرونی طاقت کوواحدضامن نہ سمجھنے کی طرف ہے تو اسے مسلم دنیا کیلئے ایک اہم فکری تبدیلی ضرورکہاجاسکتاہے۔اس تمام بحث کاایک اور پہلوبھی انتہائی اہم ہے حقیقی دفاع کامقصدجنگ شروع کرنانہیں بلکہ جنگ کوروکناہوناچاہیے۔دفاعی حکمتِ عملی میں“ڈیٹرنس یابازدار قوت کی اصل کامیابی میدانِ جنگ میں دشمن کوشکست دینانہیں،بلکہ ممکنہ جارح کویہ احساس دلاناہےکہ جنگ کی قیمت اس کیلئے ناقابلِ برداشت ہوگی۔اگرکسی ملک یااتحادکی مجموعی قوت اتنی واضح ہوکہ مخالف فریق حملے سے پہلےکئی بارسوچنے پرمجبورہو جائے تویہی طاقت کی سب سے مؤثرصورت ہے۔
حقیقی طاقت وہ نہیں جوشہرتباہ ہونے کے بعدسامنے آئے؛حقیقی طاقت وہ ہے جوشہرکوتباہ ہونے سے بچالے۔حقیقی کامیابی گولی چلانے میں نہیں بلکہ بعض اوقات گولی چلنےسےروک دینے میں ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مکہ سے وابستہ اس دفاعی تصورکوکسی دشمن کے خلاف تلواراٹھانے کے اعلان کے بجائے امن اوربازدارقوت کے ایک ممکنہ نظام کے طورپر دیکھنا زیادہ دانش مندانہ ہوگا۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیداہوتاہے کیامسلم دنیاکی طاقت صرف فوجی تعاون سے تعمیرہوسکتی ہے؟اس کاجواب یقیناًنفی میں ہے۔
آج قومی طاقت کامفہوم بہت وسیع ہوچکاہے۔معیشت،توانائی،سفارت کاری،جغرافیہ،انٹیلی جنس،تعلیم،تحقیق،ٹیکنالوجی،مضبوط ادارے اور باہمی اعتماد سب مل کرکسی قوم کی حقیقی طاقت بناتے ہیں۔اگرکسی ملک کے پاس جدیدہتھیارہوں لیکن اس کی معیشت بیرونی فیصلوں کی محتاج ہو، اگر اس کے پاس جنگی جہازہوں مگر اپنی ٹیکنالوجی تیارکرنے کی صلاحیت نہ ہو، یااگراس کے نوجوان صرف صارف ہوں اورتخلیق کارنہ بن سکیں تواس کی دفاعی خودمختاری ہمیشہ محدود رہے گی۔یہیں اقبالؒ کاپیغام ہمارے نوجوانوں کیلئے غیرمعمولی اہمیت اختیارکرلیتا ہے۔اقبالؒ نے کہا تھا:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارہ
قوموں کامستقبل صرف سرحدوں پرکھڑے سپاہیوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ایک سائنس دان،انجینئر،استاد،محقق،معیشت دان،سافٹ ویئر ڈویلپر،صنعت کار،دیانت دارسرکاری افسراور ذمہ دارصحافی بھی قومی سلامتی کے وسیع ترنظام کاحصہ ہوتے ہیں۔اگرمسلم دنیاکوحقیقی معنوں میں خودکفیل بنناہے تواسے اپنی یونیورسٹیوں کوعلم پیداکرنے کے مراکزبناناہوگا۔اسے تحقیق،مصنوعی ذہانت،سائبرٹیکنالوجی، دفاعی صنعت،توانائی،بایوٹیکنالوجی،جدیدانجینئرنگ اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کرناہوگی۔نوجوانوں کومحض ماضی کی عظمت کے قصے سناناکافی نہیں؛انہیں مستقبل کی عظمت تعمیرکرنے کی صلاحیت بھی دیناہوگی۔
اقبالؒ کے نزدیک مسلمان کی عظمت صرف شجاعت میں نہیں بلکہ صداقت اورعدالت میں بھی پوشیدہ ہے:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہ ترتیب انتہائی معنی خیزہے۔شجاعت سے پہلے صداقت اورعدالت کاذکرہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت اگراخلاق، انصاف اورکردارسے خالی ہوتووہ اسلامی تصورِقوت نہیں رہتی۔اسی لیے کسی بھی مسلم دفاعی تعاون کامقصدغلبہ،جارحیت یادوسروں کوخوفزدہ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی بنیادامن،خودمختاری،دفاع، باہمی احترام اوراجتماعی ذمہ داری پرہونی چاہیے۔
مکہ مکرمہ کی علامتی اہمیت بھی اس تصورکوایک منفردمعنویت دیتی ہے۔حرم وہ مقام ہے جہاں رنگ،زبان،قومیت اورجغرافیہ پیچھے رہ جاتے ہیں اورپوری امت ایک قبلے کی طرف کھڑی ہوتی ہے۔پاکستانی،ترک،عرب،افریقی،ایشیائی اوریورپی مسلمان ایک ہی صف میں اپنے رب کے سامنے حاضرہوتے ہیں۔یہ منظراپنے اندرایک بڑاسوال رکھتاہے اگرہم عبادت میں ایک قبلے کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں توعلم،ٹیکنالوجی،معاشی ترقی اور اجتماعی سلامتی کے میدان میں ایک دوسرے کی قوت کیوں نہیں بن سکتے؟یہ اتحادیکسانیت کامطالبہ نہیں کرتا۔پاکستان کوترکی بننے کی ضرورت نہیں، ترکی کو سعودی عرب بننے کی ضرورت نہیں اور سعودی عرب کوپاکستان بننے کی ضرورت نہیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ ہرملک اپنی بہترین صلاحیت کومشترکہ استحکام میں تبدیل کرے۔
پاکستان اپنادفاعی تجربہ لائے،ترکی اپنی جدید ٹیکنالوجی،سعودی عرب اپنی اقتصادی قوت؛اوردوسرے مسلم ممالک اپنی تحقیق،صنعت، توانائی، سرمایہ، جغرافیائی اہمیت اورانسانی وسائل کو اس وسیع ترعلمی اوراقتصادی تعاون کاحصہ بنائیں۔
مگراس خواب کی کامیابی حکومتوں کے معاہدوں سے زیادہ نوجوان نسل کے کردارپرمنحصرہوگی۔آج مسلم نوجوان کوفیصلہ کرناہوگاکہ وہ صرف دنیاکی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرے گایاخودبھی ٹیکنالوجی پیداکرے گا؛وہ دوسروں کی تحقیق پڑھے گایاایسی تحقیق کرے گاجسے دنیاپڑھے؛وہ صرف روزگارتلاش کرے گایاایسے ادارے قائم کرے گاجودوسروں کیلئے روزگارپیداکریں؛وہ فرقوں، قومیتوں اورداخلی تقسیم میں اپنی توانائی ضائع کرے گایاعلم اورتعمیر کواپنی پہچان بنائے گا۔اقبالؒ کانوجوان ماضی کی عظمت پرصرف فخرنہیں کرتا،وہ مستقبل کی عظمت تعمیر کرتا ہے۔یہی شایدپاکستان،سعودی عرب اورترکی کے بڑھتے ہوئے تعاون کاسب سے بڑاممکنہ پیغام بھی ہے۔مسلم دنیاکو اپنی سلامتی کی ذمہ داری صرف بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ علم، معیشت ، ٹیکنالوجی، کردار اورباہمی اعتمادکے ذریعے اٹھانی ہوگی۔
تاریخ کے دریچے سے جب قومیں اپنے ماضی کی طرف دیکھتی ہیں توانہیں صرف فتوحات اورشکستیں دکھائی نہیں دیتیں؛انہیں وہ لمحے بھی دکھائی دیتے ہیں جب ایک فیصلہ نسلوں کی تقدیربدل گیا،جب ایک چراغ نے صدیوں کے اندھیرے کوللکارا،اورجب چند بیداردلوں نے زمانے کی گردش کونئی سمت دے دی۔آج مسلم دنیابھی شایدایسے ہی ایک سنگِ میل کے سامنے کھڑی ہے۔
مکہ کی سرزمین سے اٹھنے والاوحدت کاپیغام ہمیں یاددلاتاہے کہ حرم کی اصل حرمت صرف اس کے میناروں،دروازوں اوردیواروں میں نہیں؛اس روح میں ہے جورنگ، نسل،قومیت اورجغرافیے کی دیواریں گراکرانسانوں کوایک صف میں کھڑاکردیتی ہے۔مکہ معاہدہ اسی علامتی حقیقت کوعلم،ٹیکنالوجی،معیشت اوراجتماعی سلامتی تک وسعت دیتاہے۔
مگرکسی ملت کامقدرصرف معاہدوں کی روشنائی سے نہیں لکھاجاتا۔اس کیلئے نوجوانوں کے ماتھوں کاپسینہ،سائنس دانوں کی راتیں، محققوں کی جستجو،استادکی امانت،انجینئرکی مہارت،صنعت کارکی بصیرت اورکرداروالے انسان کی استقامت درکارہوتی ہے۔قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان دوسروں کی ایجادات پرحیران ہونے کی بجائے خودایجادکرنا سیکھیں، دوسروں کی تحقیق پڑھنے کے ساتھ ایسی تحقیق بھی تخلیق کریں جسے دنیاپڑھنے پرمجبور ہو، اورمحض روزگارکے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے ایسے ادارے قائم کریں جن کے دروازوں سے دوسروں کے رزق کے راستے نکلیں۔
اقبالؒ نے اسی لیے فردکوملت کی تقدیرکاستارہ کہاتھاکیونکہ ایوانوں میں ہونے والے فیصلے اپنی جگہ،مگرقوموں کی اصل تقدیردرس گاہوں،تجربہ گاہوں، کارخانوں ،جامعات،تحقیقی مراکزاور نوجوانوں کے سینوں میں پروان چڑھتی ہے۔خودی کاچراغ جب علم کے تیل، کردارکی لواورعمل کی حرارت سے جلتا ہے توقومیں دوسروں کے سایوں میں پناہ ڈھونڈنے کی بجائے اپناسایہ خودپیداکرتی ہیں۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا باہمی تعاون اگر صرف دفاعی ضرورت کے لمحاتی تقاضوں تک محدود نہ رہے، بلکہ تحقیق، سائبرصلاحیت،مصنوعی ذہانت،صنعت، معیشت،تربیت،تعلیم اورٹیکنالوجی کے ایک وسیع تراشتراک میں ڈھل جائے،توشایدیہ کسی نئے عسکری بلاک سے کہیں بڑھ کرایک نئی فکری بیداری کاآغازبن سکے۔ایسی بیداری جس کی بنیادجارحیت نہیں،بازدارقوت ہو؛غلبہ نہیں،وقارہو؛خوف نہیں،امن ہو؛اورطاقت کے ساتھ صداقت وعدالت بھی ہم سفرہوں۔اورپھرشایدحرم کی پاسبانی کامفہوم بھی ہمارے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوجائے۔
حرم کی پاسبانی یہ ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہوں،مگرہمارے ضمیربھی زندہ ہوں۔
ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں،مگرہمارے دل انصاف سے خالی نہ ہوں۔
ہماری افواج طاقتورہوں،مگرہماری جامعات بانجھ نہ ہوں۔
ہماری معیشتیں وسیع ہوں،مگرہماری فکرغلام نہ ہو۔
ہماری ٹیکنالوجی جدیدہو،مگرہماراکردارماضی کے کھنڈروں میں دفن نہ ہو۔
یہ وہ منزل ہے جہاں اقبال کاخواب،حرم کی وحدت اورجدیدمسلم دنیاکی ذمہ داری ایک ہی نقطے پرآکرملتی ہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کرتابخاکِ کاشغر
صدیاں گزرگئیں،مگریہ صداآج بھی وقت کے ایوان میں گونج رہی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ ہمارے آباؤاجدادنے تاریخ کے اوراق پرکیالکھاتھا۔
سوال یہ بھی نہیں کہ دنیاہمارے بارے میں کل کیالکھے گی۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب آنے والی نسلیں ہمارے عہدکاورق پلٹیں گی توکیاانہیں ایک ایسی نسل نظرآئے گی جواختلافات کے گرداب میں اپنی قوت کھوبیٹھی تھی—یاوہ ایک ایسی نسل کودیکھیں گی جس نے علم کواپنی شمشیر،کردارکواپنی ڈھال،اتحادکواپنی قوت اور خودی کواپناچراغ بنالیاتھا؟
تاریخ کاقلم ابھی خشک نہیں ہوا۔
کتاب ابھی بند نہیں ہوئی۔
کچھ صفحات ابھی سفیدہیں۔
اورشایدتقدیرنے وہ صفحات ہمارے ہی ہاتھ میں دے دیے ہیں۔
قوتِ عمل منتظرہے:— اب فیصلہ ہمیں کرناہے
ہم تاریخ کے حاشیے پرلکھی جانے والی نسل بنیں گے،
یااپنے عزم،علم اورکردارسے تاریخ کانیا باب رقم کریں گے؟











