آج کا مسلمان نوجوان—خصوصاً وہ جو مغربی معاشروں میں پروان چڑھا ہے—صرف دنیاوی چیلنجز سے نہیں لڑ رہا، بلکہ ایک اندرونی کشمکش سے بھی گزر رہا ہے۔ یہ کشمکش اس کے ایمان اور اس کی شناخت کے درمیان ہے،اس کے سوال اوراس کے سکھائے گئے جواب کے درمیان ہے۔وہ مسجد میں جاتا ہے تو ایک بات سنتا ہے،سوشل میڈیا کھولتا ہے تو دوسری، گھر میں تیسری،اور یونیورسٹی میں چوتھی۔
وہ پوچھتا ہے:
“اگر سب اسلام پر ہیں، تو سب ایک جیسے کیوں نہیں؟”
“اگر حق ایک ہے، تو اتنے راستے کیوں ہیں؟”
یہ سوالات بغاوت نہیں،یہ بیداری کی علامت ہیں۔یہ انکارنہیں“اگر قرآن ایک ہے، تو اس کی تشریح اتنی مختلف کیوں ہے؟”
—یہ تلاش ہے۔یہ کمزوری نہیں،یہ شعورکی پہلی کرن ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان سوالات کو دبانے کی کوشش کی،ہم نے نوجوان کو جواب دینے کے بجائے خاموش کرانے کی کوشش کی،ہم نے اسے سوچنے سے روکا—جبکہ وہ سمجھنا چاہتا تھا۔نتیجہ؟وہ یا تو کنفیوژن میں چلا گیا،یا دین سے دور ہو گیا،یا پھر کسی ایک سخت گیر شناخت میں پناہ لے کر باقی سب کو رد کر دیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا:
کیا ہم نے دین کو مشکل بنا دیا ہے؟
یا دین واقعی اتنا پیچیدہ تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا آغاز سادگی سے ہوا تھا،ایک کتاب، ایک رسول، ایک واضح راستہ۔مگر آج نوجوان جب دین کو دیکھتا ہے تو اسے ایک جنگل دکھائی دیتا ہے،جہاں راستے زیادہ ہیں، مگر منزل دھندلی ہے۔
یہ ابتدائیہ اسی نوجوان کے نام ہے جوسچ چاہتاہے مگرشورمیں کھوگیاہے،جودین چاہتاہے مگرتقسیم میں کھوگیا ہے اور ہم اس سے صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں:
تمہاری الجھن غلط نہیں—
مگر تمہارا رک جانا غلط ہوگا۔
کبھی کبھی تاریخ اپنے اوراق سمیٹ کرہمارے سامنے ایک سوال کی صورت میں کھڑی ہوجاتی ہےایساسوال جومحض ذہن کونہیں، روح کوجھنجھوڑدیتاہے۔ایسا سوال جودلیل سے نہیں، ضمیرسے جواب مانگتاہے۔ایساسوال جس کاجواب کتابوں میں نہیں،ہمارے اپنے دل کے اندردفن ہوتاہےمگرہم اس کی طرف دیکھنے سے کتراتے ہیں،جیسے کوئی شخص آئینہ دیکھنے سے گریزکرے کہ کہیں اپنی حقیقت عیاں نہ ہوجائے۔آج ہم اسی سوال کے روبروکھڑے ہیں۔یہ سوال ہماری عبادات کانہیں،ہماری شناخت کاہے۔یہ سوال ہمارے مسلک کانہیں، ہمارے دین کاہے۔یہ سوال ہماری معلومات کانہیں،ہماری بصیرت کاہے۔
اگریہ کہاجائے کہ ہم اس مقام سے بہت نیچے آچکے ہیں جہاں سے اسلام کاآغازہواتھاتوکیاہم اسے محض ایک خطیبانہ جملہ سمجھ کر نظراندازکردیں گے؟یا ہمارے اندرکوئی آوازاٹھے گی،خاموش مگرگہری،جو ہمیں جھنجھوڑکرکہے”یہ بات سچ بھی ہوسکتی ہے؟”یہی وہ لمحہ ہے جہاں بیداری جنم لیتی ہےاوریہی وہ لمحہ ہے جہاں اکثرلوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ذراتصورکی آنکھ کووسعت دیجیے ،اورتاریخ کے پردے کوایک لمحےکیلئےہٹادیجیے۔سوچیےاگروہ ہستی،جس کے قدموں کی دھول سے زمانہ منورہوا،جس کے اسوہ نے انسانیت کوتاریکیوں سے نکالا،اگروہ رسولِ اکرم ﷺآج ہمارے درمیان تشریف لے آئیں تووہ کیا دیکھیں گے؟کیا وہ ایک امت دیکھیں گے؟یا امت کے نام پر بٹی ہوئی ایک منتشرجماعت؟
وہ دیکھیں گے کہ ایک ہی کلمہ پڑھنے والے لوگ مگر دل جدا،ایک ہی قرآن ماننے والےمگر فہم جدا،ایک ہی رسول سے نسبت رکھنے والے مگر راستے جدا۔ ہرگروہ اپنے آپ کوحق کاعلم بردارسمجھتا ہے،اوردوسرے کوگمراہی کے دائرے میں دیکھتاہے۔یہ منظر صرف ایک تاریخی المیہ نہیں،یہ ایک روحانی سانحہ ہے۔اوراگراس لمحے رسولِ رحمت ﷺہم سے سوال کریں،تم میں میرادین کہاں ہے؟وہ سادگی کہاں ہے؟وہ وحدت کہاں ہے؟ ہ اخوت کہاں ہے؟توکیا ہمارے پاس کوئی جواب ہوگا؟یہ سوال ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم رکیں سوچیں اوراپنے آپ سے پوچھیں،کیاہم واقعی اس دین پرکھڑے ہیں جسے رسول ﷺ چھوڑکرگئے تھے؟یاہم اس کے گردبنے ہوئے دائروں میں گم ہوچکے ہیں؟
قارئین!یہ محض ایک تمہید نہیں یہ ایک دروازہ ہے۔ایک دروازہ جویاتوہمیں حقیقت کی طرف لے جائے گایاہم اسے بندکرکے خودکو مطمئن کر لیں گے۔
مگریاد رکھیے،تاریخ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو والوں سے فرار ختیارکرتی ہیں۔
کبھی کبھی ایک سوال پورے وجودکوہلادیتاہے۔اس لئے نہیں کہ اس کاجواب مشکل ہوتاہے،بلکہ اس لیے کہ اس کاجواب ہمارے اندرپہلے سے موجود ہوتا ہے،مگرہم اس کاسامنا نہیں کرناچاہتے۔اگرمیں آپ سے یہ عرض کروں کہ ہم میں سے اکثریت اس مقام سے بہت نیچے کھڑے ہیں جہاں سے اسلام کا آغاز ہواتھاتوکیا آپ اس بات کومحض ایک خطیبانہ مبالغہ سمجھ کرٹال دیں گے؟یاآپ کے دل کے کسی گوشے میں ایک ہلکی سی چبھن محسوس ہوگی؟ایک ہلکی سی کسک پیداہوگی؟کیا آپ کے اندریہ خواہش جاگے گی کہ ہم اس زوال سے عروج کی طرف پلٹیں؟یاہم اسی مقام کواپنی منزل سمجھ کرمطمئن بیٹھے رہیں گے؟ توکیاہمارے اندروہ جرأتِ بازگشت موجودہے کہ ہم دوبارہ اس اوج کی طرف قدم بڑھائیں؟
ذرا تصور کی آنکھ کھولیے،اگررسولِ ہاشمی ﷺآج ہمارے درمیان تشریف لے آئیں،وہ اس امت کودیکھیں جواپنے آپ کوآپ ﷺ کاامتی کہتی ہے تووہ کیادیکھیں گے؟ایک امت؟یاامتوں کاہجوم؟وہ دیکھیں گے کہ ایک ہی کلمہ،ایک ہی قرآن،ایک ہی رسول کوماننے والے لوگ،ایک ہی قبلہ رکھنے والے لوگ ،مختلف ناموں،مختلف شناختوں،مختلف خیموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ہرایک اپنے حصے کے دین کو مکمل سمجھتاہے،اوردوسرے کوناقص،تو ان کے قلبِ اطہرپرکیاگزرے گی؟کیا وہ ہمیں پہچان لیں گے؟یاوہ حیرت سے رک جائیں گے اورشاید یہ سوال کریں؟تم سب ایک ہی دین کو ماننےوالے ہو،تمہارے درمیان یہ فاصلے،دیواریں اورتفرقہ کیسااورکیوں ہے؟اورپھرایک اورسوال وہ کس کے خیمے میں جائیں گے؟کہاں انہیں اپناوہ دین ملے گا،جسے وہ چھوڑکر گئے تھے؟
یہ سوال محض جذباتی اورایک فکری مشق نہیں،بلکہ تہذیبی ضمیرکوجھنجھوڑدینے والاسوال ہے،اوریہ سوالات محض جذباتی اپیل نہیں، بلکہ ایک فکری زلزلہ ہیں جوہمارے ایمان کی بنیادوں کوجھنجھوڑدینےکیلئےکافی ہیں۔یہ ایک آئینہ ہے،جس میں ہم اپناچہرہ دیکھنے سے گھبراتے ہیں۔
اسلام کاآغاز کسی پیچیدہ نظام سے نہیں ہواتھا۔یہ نہ فلسفے کامجموعہ تھا،نہ فقہی ضابطوں کاجال،نہ روحانی خانقاہوں کانظام۔نہ کوئی مسلک،نہ کوئی مکتبِ فکر،نہ کوئی اصطلاحی پیچیدگی۔اسلام کاآغازایک نہایت سادہ،شفاف مگربے حدعمیق حقیقت اوربے غبارمرکز سے ہواتھا۔وہ مرکزنہ کسی فلسفے کامحتاج تھا،نہ کسی ادارے کا،نہ کسی گروہ کا۔ایک کتاب اورایک انسان۔کتاب جوآسمان سے نازل ہوئی،انسان جواس کتاب کاجیتاجاگتانمونہ،مجسم پیکراورعملی مظہرتھا۔ہدایت براہِ راست تھی،دل سے دل تک،عمل سے عمل تک۔رسول ﷺنے دین کوصرف بیان نہیں کیا،بلکہ جیا۔آپﷺکی ذات ایک ایسی روشن مثال تھی جس میں قرآن سانس لیتاہوامحسوس ہوتاتھا۔یہی وہ مقام تھاجہاں دین اپنی اصل میں تھا۔صاف، سادہ، اور رکزیت سے لبریز۔
یہ وہ زمانہ تھاجب دین ایک چشمۂ صافی کی طرح تھا،شفاف،رواں،بے تکلف۔یہ وہ زمانہ تھاجب دین نہ کسی مکتبِ فکرکامحتاج تھا،نہ کسی تشریح کااسیر، مگر پھر تاریخ کے دھارے میں انسان نے اس سادگی اورچشمے کےگرددائروں کی تعمی شروع کردی۔یوں دین،جو ایک روشن چشمہ تھا،تشریحات کی ندیوں میں تقسیم ہوتاچلاگیا۔
مگرتاریخ کبھی ساکن نہیں رہتی۔وقت کے ساتھ،حالات بدلے،انسان بدلے،ترجیحات بدلیں اوردین کے گردتعبیرات کے دائرے بننے لگے۔یہ دائرے ابتدامیں ضرورت تھےمگرآہستہ آہستہ شناخت بن گئے۔انحراف کی ابتدااوردائرے بنتے گئے،مرکزدھندلاتاگیا۔یہ انحراف یک لخت نہیں ہوا،بلکہ تدریجی داستان کے چارحصوں نے ہمیں اپنے حصارمیں لے لیا۔
٭پہلا دائرہ سیاست کا،اقتدارکی کشمکش نے دلوں میں دراڑڈالی،رسولﷺکے وصال کے بعدسب سے پہلااختلاف اقتدارکے سوال پرپیداہوا۔ یہ اختلاف وقتی تھامگراس کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔یہ دراڑ،جوابتدامیں سیاسی تھی،رفتہ رفتہ عقیدے کارنگ اختیارکرگئی۔یوں امت دو بڑے دھڑوں شیعہ وسنی میں تقسیم ہوگئی۔
٭دوسرادائرہ فقہ کا،وقت کے ساتھ مسائل بڑھے،حالات پیچیدہ ہوئے تواہلِ علم نے دین کوسمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی۔یہ کوشش فقہ کی صورت میں سامنے آئی۔مگرجوچیز ایک فکری کاوش تھی،وہ ایک جامد نظام بن گئی،پھرادارہ،پھرشناخت۔حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی، سلفی جیسے خیمے قائم ہوگئے۔
٭تیسرادائرہ روحانیت کا،دل کی پاکیزگی،اللہ سے تعلق،نفس کی اصلاح،یہ سب تصوف کے ذریعے سامنے آیا۔مگریہاں بھی وہی ہوا،کیفیت، راستہ،سلسلہ بن گیا۔گویاتزکیۂ نفس کی راہیں شناخت بن گئیں قادری،نقشبندی،چشتی،سہروردی وغیرہ
٭چوتھا دائرہ مزید تقسیمات،انسان نے خودکومحدودکرلیا۔جہاں ہم نے اپنے لیے نام رکھ لیے،خانے بنالیے،اوران خانوں کوہی دین سمجھ لیا۔یہ وہ مقام تھاجہاں دین ایک اکائی نہ رہا،بلکہ تعبیرات کامجموعہ بن گیا۔انسان نے اپنے لیے نام رکھ لیے،دیوبندی،بریلوی،اہل حدیث، سلفی وغیرہ،یہ نام ابتدا میں وضاحت کیلئےتھے،مگراب یہی شناخت بن گئے۔دراصل یہ زینے منزل نہیں،بلکہ انحراف کی سیڑھیاں ہیں۔نقطۂ انحراف وہاں پیداہواجہاں متن سے زیادہ تشریح کواہمیت دی گئی۔رسول ﷺکی وصیت،خواہ کتاب اللہ ہو،اہل بیت ہویا سنت،سب محفوظ رہیں،مگران کی تعبیرات مختلف ہوگئیں۔یہاں ایک نہایت باریک مگرفیصلہ کن حقیقت سامنے آتی ہے۔
اختلاف روایت میں نہیں،بلکہ روایت کی تفہیم میں ہے۔اس پورے سفرکواگرایک تمثیل میں بیان کیاجائے تویوں کہہ سکتے ہیں،ایک بلند مقام ہے جہاں صرف دوچیزیں ہیں،کتاب اللہ اوراسوۂ رسول ﷺ۔پھرہم نیچے اترتے ہیں،پہلی سیڑھی شیعہ وسنی ،دوسری سیڑھی فقہی مکاتب،حنفی، شافعی،مالکی،حنبلی، سلفی،تیسری سیڑھی صوفی سلسلے،قادری، نقشبندی،چشتی سہروردی،چوتھی سیڑھی جدیدمسلکی شناختیں دیوبندی،بریلوی،اہل حدیث،سلفی اورہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم منزل پرہیں۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سمجھناضروری ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے؟مسئلہ روایت کانہیں، بلکہ روایت کی تشریح کاہے۔اصل انحراف متن سے تشریح تک کے سفرکاہے۔نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب وصیت،چاہے وہ کتاب اللہ ہوں،یا اہل بیت،یا سنت،یہ سب اپنی جگہ موجودہیں۔یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے،یہ وہ مقام ہے جہاں دین متن سے نکل کرتعبیرات اورتشریح میں داخل ہوجاتاہے۔ قرآن محفوظ،رسولﷺمتفق علیہ مگرجیسے ہی ہم ان کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،اختلاف شروع ہوجاتاہے۔اہل بیت کی تعریف کیا ہے؟سنت کی حدود کیاہیں؟حدیث کامعیارکیاہے؟یہ سوالات خود مسئلہ نہیں مگران کے جوابات میں اختلاف،مسئلہ بن جاتا ہے۔لہٰذادین کی بنیادوہی ہوگی جس پرامت کا اتفاق ہے،نہ کہ وہ جس پراختلاف ہے۔
تاریخ کے سفرمیں ہم نے اتھارٹی کوپھیلایا،حدیث کو،فقہ کو،تصوف کو،حتیٰ کہ تاریخ کوبھی فیصلہ کن درجہ دے دیا۔نتیجہ؟مرکزدھندلا گیا،اوراطراف نمایاں ہوگئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ اتھارٹی کو دوبارہ مرکزمیں سمیٹا جائے۔جب ہرطرف اختلاف ہو، و ہاںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین کی بنیاد کہاں رکھی جائے ؟ یہاں ایک اصول سامنے آتا ے،بنیاد وہاں رکھی جائے گی جہاں اتفاق ہو،نہ کہ جہاں اختلاف ہو۔قرآن سب مانتے ہیں،اسوۂ رسولﷺسب مانتے ہیں لہٰذایہی بنیادہے۔لہٰذا دین کی بنیادانہی دوچیزوں پر ہو گی۔ یہی وہ فکری موڑہے جہاں ہمیں ایک بڑی تبدیلی درکارہے۔ہم اختلاف سے نہیں،اتفاق سے آغازکریں گے
ہم نے اپنی تاریخ میں ایک بڑی غلطی کی،ہم نے اتھارٹی کوپھیلادیا۔ہم نے حدیث کو،فقہ کو،تصوف کو،حتیٰ کہ تاریخ کوبھی اتھارٹی بنا لیا،سب کوفیصلہ کن درجہ دے دیا۔نتیجہ؟مرکزدھندلا گیا،اوراطراف نمایاں ہوگئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اتھارٹی کودوبارہ مرکزمیں سمیٹیں۔قرآن ہی اصل اتھارٹی ہے،اوراسوۂ رسولﷺاس کی عملی تعبیر۔جہاں قرآن واحادیث متفق،اسوہ رسول و نت موجودہو، وہاں اختلاف ممکن نہیں ہے کیونکہ سنت اور اسوہ ہمارے دین کااہم امتیازہے۔
اسوہ محض الفاظ نہیں،یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔رسولﷺنے دین کوصرف بیان نہیں کیا،انہوں نے اسے زندگی میں ڈھال کردکھایا۔آپﷺنے نمازسکھائی کتاب کے ذریعے نہیں،عمل کے ذریعے،آپﷺنے اخلاق سکھایا،نظریہ کے ذریعے نہیں،کردارکے ذریعے،یہی وہ مقام ہے جہاں دین، زندگی بن جاتاہے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم تعبیراتی ادب کی درجہ بندی کریں۔
اب سوال یہ نہیں کہ حدیث، فقہ،تصوف یاتاریخ کورد کیاجائے بلکہ یہ کہ انہیں صحیح مقام دیاجائے۔حدیث ہماراعلمی وتاریخی ذخیرہ ہے ،فقہ انسانی فہم واجتہاد ہے،تصوف،روحانی تعبیروتجربہ ہے اورتاریخ انسانی بیانیہ ہے۔یہ سب دین نہیں،بلکہ دین کوسمجھنے کی کوششیں اورذرائع ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم امتیاز سامنے آتاہے،اسوہ زندہ نمونہ ،سنت مدون روایت۔اور اسوہ وہ ہے جوجیاگیا،سنت وہ ہے جولکھا گیااورجہاں لکھاجائے،وہاں اختلاف ممکن ہے۔
دین کی منتقلی کتاب نہیں زندگی کے ذریعے معرضِ وجودمیں آئی۔نبیﷺنے دین کوصرف الفاظ میں نہیں دیا،انہوں نے اسے انسانوں کے اندرمنتقل کیا ۔نمازکتاب سے نہیں،عمل سے سیکھی گئی،صحابہ نے دیکھا،سیکھا،اپنایااورآگے منتقل کیا۔وضوروایت سے نہیں،مشاہدے سے،یہی ہے تواترِعملی،ایک ایسا تسلسل جونسل درنسل جاری رہا۔نماز روزہ،حج یہ سب پہلے جئے گئے،پھرلکھے گئے۔سوال یہ ہے کہ پھرواپسی کیسے ممکن ہو؟
واپسی کوئی جذباتی نعرہ نہیں،یہ ایک شعوری،ایک فکری انقلاب اورمرحلہ وارعمل ہے۔اس کے چنداصول ہیں۔
پہلامرحلہ شناخت کی تجدیدہے۔ہم خودکودوبارہ متعارف کراتے ہیں کہ میں مسلم ہوں،دوسرامرحلہ اتھارٹی کے تعین کاہے،قرآن اور اسوہ رسولﷺہی فیصلہ کن ہیں،بس۔تیسرامرحلہ مطالعے کانیازاویہ اپنایاجائے،براہِ راست قرآن سے آغازکیاجائے،چوتھامرحلہ لٹریچرکی درجہ بندی کی جائے،سب کچھ اپنی جگہ،مگراتھارٹی صرف وحی الٰہی،یعنی کتاب اللہ۔سب کچھ اپنی جگہ مگرمرکز ایک،پانچواں مرحلہ عمل کی اصلاح کاآغازاس طرح کیا جائے کہ عبادات کو مسلکی نہیں،نبوی شعورسے ادا کیا جائے۔چھٹامرحلہ اختلاف کانیازاویہ،نیا اسلوب اختیارکیاجائے کیونکہ اختلاف کوتعبیرسمجھنا،دین نہیں ہے اورساتواں مرحلہ اندرونی تبدیلی بہت ضروری ہے یعنی تکبرکی جگہ تواضع کی طرف سفر،تعصب کی جگہ تحقیق کاراستہ اختیارکیاجائے۔
جب دین اپنے اصل مرکزپرلوٹ آتاہے تودین بحث نہیں،زندگی بن جاتاہے،اختلاف تصادم نہیں،تنوع بن جاتاہے،شناختیں مٹتی نہیں،مگر غالب نہیں رہتیں اورسب سے بڑھ کرمیں حنفی،بریلوی،دیوبندی،سلفی اوردیوبندی ہوں کی جگہ”میں مسلم ہوں”کاشعوربیدارہوتاہے۔یوں دین کااحیاءاورامت کی بیداری کاآغاز ہوجائے گا اورتفرقہ،گروہ بندیاں دم توڑدیں گی اوریہ واپسی ایک فکری اورعملی انقلاب کاپیش خیمہ بن کرامت مسلمہ کے اتحادکا سبب بن جائے گا۔
پہلے ہم اختلاف کوجنگ سمجھتے تھے،اب ہم اسے تعبیرسمجھیں گے،پہلے ہم دفاع کرتے تھے،اب ہم فہم تلاش کریں گے،اختلاف ختم نہیں ہوگا،مگراس کا مزاج بدل سکتاہے، پہلے ہم اختلاف کوتصادم اورجنگ سمجھتے تھے،اب ہم اسے تعبیرسمجھیں گے،پہلے ہم دفاع کرتے تھے،اب ہم فہم تلاش کریں گے گویا ہمیں اختلاف کانیا زاویہ اپناناہوگاجس کے بعدآپس کااحترام سبقت لے جائے گا۔
جب یہ تبدیلی آتی ہے توتکبرختم ہوتاہے،گروہی برتری ختم ہوتی ہے،سیکھنے کاجذبہ پیداہوتاہے،یہ ایک اندرونی انقلاب ہے۔یہ واپسی صرف ذہنی نہیں،یہ باطنی بھی ہے۔گویافردکا انقلاب باطن کی تطہیربن کردلوں کی کدورت کودورکرکے محبت کے آئینے کی ساری دھند کوصاف کردیتاہے۔جب مرکزایک ہو جائے ،دیواریں خودگرنے لگتی ہیں،توامت خودبخود قریب آ جاتی ہے۔لیبلزاپنی اہمیت کھودیتے ہیں، دین زندگی بن جاتاہے اورسب سے بڑھ کرایک نئی شناخت ابھرتی ہے،نیاشعوربیدارہوتاہے کہ میں مسلم ہوں او یوں وحدت کی یہ پالیسی امت کی خوشگوار تبدیلی اورمضبوط طاقت بن جاتی ہے۔
جب ایک قوم اپنی حقیقت کوپہچان لیتی ہےتواس کی تاریخ بدل جاتی ہےاورجب ایک قوم اپنی اصل سے کٹ جاتی ہےتووہ صرف نام کی قوم رہ جاتی ہے۔آج ہم اسی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ایک راستہ وہ ہے جوہمیں انہی دائروں،انہی شناختوں،انہی مناظروں اورانہی تقسیمات میں الجھائے رکھے گاجہاں ہم صدیوں سے کھڑے ہیں۔اوردوسراراستہ وہ ہے جوہمیں اس اصل کی طرف واپس لے جائے گاجہاں دین سادہ تھا،واضح تھا،اور سب کیلئےیکساں تھا۔
یہ واپسی کوئی ماضی پرستی نہیں،یہ حقیقت پسندی ہے۔یہ کسی مسلک کا انکار نہیں،یہ دین کی بازیافت ہے۔یہ کسی روایت کی نفی نہیں، یہ مرکزکاتعیین ہے۔یہ ایک اندرونی ہجرت ہےجس میں انسان اپنے تعصبات سے نکل کر ق کی طرف سفرکرتاہے۔جب یہ واپسی ہوتی ہے توکیاہوتاہے؟دل بدلتے ہیں،سوچ بدلتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری امت کامزاج بدل جاتاہے۔وہ لوگ جوپہلے ایک دوسرے کوغلط ثابت کرنے میں مصروف تھے،اب سچ کو مجھنے میں لگ جاتے ہیں،وہ زبانیں جوپہلے تفرقہ پھیلاتی تھیں،اب وحدت کی بات کرتی ہیں،وہ دل جوپہلے نفرت سے بھرے تھے،اب اخوت کی خوشبوسے مہکنے لگتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دین دوبارہ زندہ ہوتاہے۔دین کتابوں سے نکل کرکردار میں آتاہے،نمازرسم سے تعلق بن جاتی ہے،قرآن تلاوت سے ہدایت بن جاتا ہےاور نسان ایک چلتی پھرتی دلیل بن جاتاہےدین کی۔مگر یہ سب خود بخود نہیں ہوگا۔یہ ایک فیصلہ مانگتاہے،ایک جرأت مانگتاہے،ایک سچائی مانگتا ہے،ہمیں فیصلہ کرناہوگا،کیا ہم اپنی شناختوں کے ساتھ جڑیں رہیں گے؟یاہم اپنی اصل شناخت“مسلم”کو دوبارہ اختیارکریں گے؟کیاہم اختلاف کوجنگ بناتے رہیں گے ؟ یااسے فہم کاذریعہ بنائیں گے؟کیاہم دین کوکتابوں میں بندرکھیں گے؟یااسے اپنی زندگی میں اتاریں گے؟یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ایک بارپھر ہمیں پکار رہی ہے۔
یاد رکھیےامتیں نعروں سے نہیں، شعورسے بدلتی ہیں اورشعورسوال سے شروع ہوتاہےاورعمل پرختم ہوتاہے۔آپ اگر س پیغام کوسمجھ گئے ہیں تواب آپ صرف ایک قاری نہیں رہے، آپ ایک ذمہ داربن چکے ہیں۔آپ پرلازم ہے کہ خود اس پرعمل کریں،اپنے اردگردکے لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں، اختلاف کوختم نہ کریں،مگراس کامزاج بدل دیں اورسب سے بڑھ کر دین کودوبارہ سادہ بنادیں۔کیونکہ جب دین سادہ ہوتاہےتودل قریب آتے ہیں اورجب دل قریب آتے ہیں تو امت بن جاتی ہےاور ب امت بن جاتی ہےتو تاریخ بدل جاتی ہے۔
ہم بہت دورنہیں گئے،ہم نے بس راستہ کھودیا ہے۔راستہ آج بھی وہیں ہے۔اللہ اورآقاﷺکے لائے ہوئے دین کےاحیاءکیلئے واپسی اب بھی ممکن ہے، کیونکہ قرآن اپنی روشنی کے ساتھ موجودہے،اوررسولﷺکا اسوہ اپنی آب وتاب کے ساتھ روشن ہے۔دین کوکتابوں سے نکال کراپنی زندگی میں لاناہوگا ، پھرنمازبھی سکون بن جاتی ہے،قرآن قدم قدم پررہنمائی کرتاہےاورانسان ایک زندہ مثال بن جاتاہے۔مگر صرف ان کیلئےجوواقعی واپس جاناچاہتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ راستہ کہاں ہے،سوال صرف یہ ہے کیاہم اس پہلی سیڑھی پردوبارہ قدم رکھنےکیلئےتیار ہیں؟
آخرمیں صرف ایک سوال رہ جاتاہے۔اوریہ سوال اب آپ کیلئےہے:
کیاآپ اس واپسی کاحصہ بنیں گے؟یاصرف پڑھ کرآگے بڑھ جائیں گے؟
اے نوجوان!تم وہ نسل ہو جو صرف دین کوصرف وراثت میں نہیں بلکہ اسے دوبارہ سمجھ کر جئے گی۔تم وہ نسل ہوجوسوال کرے گی اور پھر جواب تلاش بھی کرے گی۔تم وہ نسل ہو جو اگر چاہےتو اس صدی کی سب سے بڑی فکری بیداری کا آغاز کر سکتی ہے۔مگر اس کے لیے تمہیں ایک فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا تم اپنے آپ کو صرف ایک لیبل تک محدود رکھو گے؟
یا تم اپنی اصل شناخت—“مسلم”—کو دوبارہ زندہ کرو گے؟
کیا تم اختلاف کو لڑائی بناؤ گے؟
یا اسے سمجھنے کا ذریعہ بناؤ گے؟
کیا تم دین کو لوگوں کے ذریعے سمجھو گے؟
یا براہِ راست اس کے اصل ماخذ—قرآن اور اسوۂ رسول ﷺ—سے؟
یادرکھو!تمہارا دین تمہاری پہچان ہے مگر تمہاری پہچان کسی ایک گروہ کی قید نہیں ہونی چاہیے۔تمہارا رب ایک ہے،تمہاری کتاب ایک ہے،تمہارا رسول ایک ہے،تو تمہاری بنیاد بھی ایک ہونی چاہیے۔اگر تم نے یہ فیصلہ کر لیاتو تم نہ صرف اپنی الجھن سے نکل آؤ گےبلکہ دوسروں کے لیے روشنی بن جاؤ گے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فرد،ایک تحریک بن جاتا ہے۔تم جہاں کھڑے ہو—وہیں سے آغاز ہو سکتا ہے:
جب تم قرآن کو خود پڑھو گے ،جب تم اسوہ کو زندگی میں دیکھو گے ،جب تم اختلاف کو برداشت کرو گے ،جب تم خود کو “مسلم” کہو گے—بلا کسی اضافے کے تو ایک نئی فضا پیدا ہوگی۔آہستہ آہستہ دل قریب آئیں گے،فاصلہ کم ہوگا،اور امت—جو بکھر چکی تھی—پھر جڑنے لگے گی۔یہ کوئی خواب نہیں،یہ ایک—ممکن حقیقت ہے مگرشرط صرف ایک ہے:
تم شروع کرو۔کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کے ہاتھ میں لکھی جاتی ہےجو سوال سے نہیں ڈرتے اور جواب کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔کیا تم اس بیداری کا حصہ بنو گے؟یا اسی الجھن کا حصہ رہو گے؟