Asia Andrabi: A question that could not be answered

آسیہ اندرابی:سوال جودبایانہ جاسکا

وہ کہانی جوفیصلہ مانگتی ہے
کشمیر… ایک نام نہیں،ایک زخم ہے—ایسازخم جووقت کے ساتھ مندمل ہونے کی بجائے اورگہراہوتاچلاگیا۔تاریخ کے اوراق پراگر کبھی آنسوؤں کی روشنائی سے کوئی داستان لکھی گئی ہو،تو وہ یقیناًکشمیرکی داستان ہے۔یہاں کی برفانی چوٹیاں صرف حسن کی علامت نہیں بلکہ صدیوں کے دکھوں کی گواہ بھی ہیں۔یہاں کی ہوائیں جب چلتی ہیں تووہ محض موسم نہیں بدلتی،وہ اپنے ساتھ چیخوں کی بازگشت، بچھڑنے والوں کی صدائیں،اورادھوری تمناؤں کابوجھ اٹھائے پھرتی ہیں۔

یہ وہ سرزمین ہے جہاں بچپن خوف کے سائے میں پروان چڑھتاہے،جوانی سوالوں میں گم ہوجاتی ہے،اوربڑھاپاانتظارکی دہلیزپربیٹھارہتا ہے۔جہاں ہر دروازے کے پیچھے ایک کہانی ہے،ہ آنکھ میں ایک خواب دفن ہے،اورہردل میں ایک بے نام سی کسک۔کشمیرصرف نقشے کاایک حصہ نہیں—یہ ایک زندہ حقیقت ہے،ایک مسلسل آزمائش،ایک ایسامقدمہ جوابھی تک تاریخ کی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔

اوراسی المیے کے بیچ کچھ کردارایسے ابھرتے ہیں جووقت کے دھارے کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔آسیہ اندرابی بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہیں—ایک نام، جوصرف ایک فردکی پہچان نہیں بلکہ ایک سوچ،ایک مزاحمت،ایک سوال کی صورت اختیارکرچکاہے۔ان کی کہانی ہمیں اس مقام پرلاکھڑاکرتی ہے جہاں ہمیں فیصلہ نہیں،بلکہ محسوس کرناپڑتاہے؛جہاں ہمیں سننانہیں،بلکہ دل سے سنناپڑتاہے۔

کشمیربرصغیرکاوہ خطہ ہے جوگزشتہ سات دہائیوں سے سیاسی،جغرافیائی اورانسانی بحران کامرکزبناہواہے۔کشمیرصرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ المیہ ہے—ایک ایساالمیہ جس میں نسلیں پلتی ہیں،جوان ہوتی ہیں۔کشمیرکی برف پوش وادیوں میں جب ہواچلتی ہے تووہ صرف درختوں کی شاخوں کونہیں ہلاتی،بلکہ اپنے ساتھ ایک طویل تاریخ کی آہیں،سسکیاں اور ادھوری دعائیں بھی بہالے جاتی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں خوبصورتی اورکرب ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔جہاں جھیلوں کاپانی شفاف ہےمگردلوں کے اندربرسوں کی بے قراری موجزن ہے۔اس تنازعے نے نہ صرف دوایٹمی طاقتوں،پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کوجنم دیابلکہ لاکھوں کشمیریوں کی زندگیوں کوبھی شدیدمتاثرکیا۔اسی پس منظرمیں کشمیری حریت پسند قیادت کے چندنمایاں نام سامنے آتے ہیں،جن میں آسیہ اندرابی ایک اہم اورمتنازع شخصیت کے طورپرابھرتی ہیں۔آسیہ اندرابی—جوکسی کے نزدیک مزاحمت کی علامت ہے، کسی کے نزدیک تنازع، مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسی عورت ہیں جن کی زندگی جدوجہد،قربانی اوردکھوں کی ایک طویل داستان بن چکی ہے۔آسیہ اندرابی،ان کی زندگی ایک فردکی کہانی نہیں بلکہ ایک عہد،ایک نظریہ اورایک مسلسل جدوجہدکی علامت بن چکی ہے۔

آسیہ اندرابی1960کی دہائی میں کشمیر میں پیداہوئیں۔ان کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانےسے تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم سرینگرمیں حاصل کی اوربعدازاں سائنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ تاہم،ان کی زندگی کارخ اس وقت تبدیل ہواجب انہوں نے کشمیرمیں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اورعوامی ردعمل کوقریب سے دیکھا۔ان کے ذہن میں جلدہی یہ خیال مضبوط ہوگیاکہ کشمیرکے مسئلے کوصرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پربھی اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہی سوچ بعدمیں ان کی عملی جدوجہدکی بنیادبنی۔1980اور1990کی دہائی میں کشمیرمیں بڑھتی ہوئی مزاحمت اورعوامی بے چینی نےانہیں عملی جدوجہدکی طرف مائل کیا۔حوالہ جاتی طورپردیکھاجائے تواس دور میں کشمیرمیں مسلح اورغیر مسلح دونوں طرح کی تحریکیں ابھررہی تھیں،جنہوں نے نوجوان نسل کو شدید متاثرکیا۔

آسیہ اندرابی نے1980کی دہائی میں دختران ملت کی بنیادرکھی۔دختران ملت کاقیام آسیہ اندرابی کی زندگی کاایک اہم موڑتھا۔یہ تنظیم بنیادی طورپرکشمیری خواتین کومتحرک کرنے،اسلامی شناخت کواجاگرکرنے اوربھارت کے خلاف سیاسی مزاحمت کومنظم کرنے کیلئے قائم کی گئی تھی۔اس تنظیم کامقصد کشمیری خواتین کونہ صرف سماجی بلکہ سیاسی شعوردینابھی تھا۔یہ تنظیم ایک منفردماڈل پیش کرتی ہے جہاں خواتین کومحض متاثرہ فریق نہیں بلکہ فعال مزاحمت کارکے طورپرپیش کیاگیا۔اس نےکشمیرکی تحریک میں صنفی کردارکو بدلنے کی کوشش کی۔یہ تنظیم دیگرحریت پسندگروہوں سے اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس نے خواتین کوبراہ راست سیاسی اور نظریاتی جدوجہدکاحصہ بنایا۔آسیہ اندرابی کامانناتھاکہ آزادی کی تحریک میں خواتین کاکردار نہایت اہم ہے۔

کشمیر کامسئلہ1947کی تقسیم ہندکے بعدایک متنازع خطہ بن گیا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کوحق خودارادیت دینے کی بات کی گئی،مگریہ وعدہ آج تک عملی شکل اختیارنہ کر سکا۔بین الاقوامی قانون،خاص طورپراقوام متحدہ کےچارٹر،میں حق خودارادیت کوایک بنیادی اصول تسلیم کیاگیاہے۔تاہم،اس اصول کااطلاق اکثرسیاسی مفادات کی نذرہوجاتاہے۔کشمیری قیادت،بشمول آسیہ اندرابی،اس بات پرزوردیتی رہی ہے کہ کشمیری عوام کواپنے مستقبل کافیصلہ خودکرنے کاحق حاصل ہے،جوکہ بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت حق خودارادیت ایک بنیادی انسانی حق ہے۔آسیہ اندرابی اوران جیسے دیگررہنمااسی اصول کی بنیادپراپنی جدوجہدکوجائزقراردیتے ہیں۔بھارتی حکومت،دوسری جانب،اس تحریک کوعلیحدگی پسندی اورریاستی سالمیت کے خلاف قراردیتی ہے جوعالمی قوانین کے بھی خلاف ہے۔اسی تضادنے کشمیرکوایک مسلسل تنازعہ بنادیاہے۔

بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی کے خلاف مقدمات درج کیے جن کی بنیادیو اے پی اے اوربھارتی پینل کوڈکی دفعات مثلاً120پررکھی گئی۔نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق،ان کی سرگرمیاں ریاستی سالمیت کے خلاف تھیں۔یواے پی اے ایک سخت قانون ہے جسے بھارت میں دہشتگردی اورریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف استعمال کیاجاتاہے،مگرناقدین کے مطابق اس کااستعمال اکثراوقات سیاسی مخالفین کے خلاف بھی کیاجاتاہے۔

آسیہ اندرابی کی جدوجہدصرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی۔ان کی تقاریرمیں مذہبی اورقومی شناخت کاگہراامتزاج نظرآتاہے۔آسیہ اندرابی نے کئی دہائیوں تک تقاریر،تحریروں اوراحتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی آوازبلندکی۔وہ اکثرکشمیری عوام کے حق میں ریلیوں اورمظاہروں میں شریک رہیں۔ان کی تقاریرمیں مذہبی رنگ نمایاں ہوتاتھا،جس کی وجہ سے انہیں ایک نظریاتی رہنمابھی سمجھا جاتاہے۔ ان کی جدوجہدپرکچھ حلقے تنقیدبھی کرتے ہیں،جبکہ دیگر انہیں مزاحمت کی علامت قراردیتے ہیں۔تاہم یہ پہلوانہیں دیگرحریت رہنماؤں سے ممتازکرتاہے،کیونکہ وہ تحریک کوایک نظریاتی اورمذہبی بنیادپربھی پیش کرتی ہیں اورکشمیرمیں نوجوانوں کی اکثریت ان کواپنے دل کی آوازسمجھتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی پرمتعدد مقدمات قائم کیے،جن میں سب سے اہم مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیاگیا۔انہیں یواے پی اے اوربھارتی پینل کوڈکی دفعات کےتحت قصوروارقراردیاگیا۔عدالت نے انہیں عمرقیدکی سزاسنائی،جبکہ ان کی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اورناہیدہ نسرین کوبھی طویل قید تیس سال کی سزادی گئی۔

آسیہ اندرابی کے شوہرقاسم فکتو بھی ایک معروف کشمیری رہنماہیں،جوکئی دہائیوں سے جیل میں قیدہیں۔ان پربھی بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائدکیے گئے۔ان کی طویل قید کو انسانی حقوق کے حلقوں میں ایک اہم مسئلہ سمجھاجاتاہے۔کہاجاتاہے کہ انہوں نے جیل میں شدید مشکلات اورتنہائی برداشت کی،مگر اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ان کی طویل قید انسانی حقوق کے تناظر میں ایک اہم کیس کے طورپردیکھی جاتی ہے،جہاں طویل قبل ازسزاحراست اورمنصفانہ ٹرائل جیسے سوالات اٹھتے ہیں۔

جیل صرف ایک قانونی سزانہیں بلکہ ایک نفسیاتی آزمائش بھی ہے۔آسیہ اندرابی اوران کے شوہردونوں نے جیل میں طویل تنہائی کا عرصہ گزاراہے لیکن وہ ابھی تک اپنے جائزمؤقف پرانتہائی استقامت سے ایک چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔رپورٹس کے مطابق،انہیں محدودسہولیات، طبی مسائل اوراہل خانہ سے دوری جیسے مسائل کاسامناکرناپڑا۔یہ حالات انسانی حقوق کے عالمی معیارکے مطابق ایک سنجیدہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیاقیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک کیا جارہاہے یانہیں۔ہیومن رائٹس واچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے عام طورپرایسے معاملات کوانسانی حقوق کےتناظرمیں دیکھتے ہیں،خاص طورپرجب قیدطویل ہواورحالات سخت ہوں۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ عموماً ایسے معاملات پرآوازاٹھاتی رہی ہیں،مگر بعض ناقدین کے مطابق آسیہ اندرابی کے معاملے پران کی خاموشی یامحدودردعمل سوالیہ نشان بن چکاہے۔یہ خاموشی کئی وجوہات کی بناپرہوسکتی ہے ،جن میں سیاسی دباؤ،معلومات کی کمی،یاعلاقائی حساسیت شامل ہیں۔

یہ ایک اہم سوال ہے کہ عالمی اداروں کاردعمل کیوں محدودنظرآتاہے۔ممکنہ وجوہات،سیاسی حساسیت،علاقائی طاقتوں کادباؤ،معلومات تک محدودرسائی، تاہم،اصولی طورپرانسانی حقوق کی تنظیموں کوہرایسے کیس پرغیر جانبدارانہ آوازاٹھانی چاہیے۔

کشمیرکامسئلہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کاایک پیچیدہ مسئلہ ہے،جہاں بڑی طاقتیں اکثراپنے مفادات کوترجیح دیتے ہوئے اکثراپنے مفادات کے تحت اس مسئلے پرخاموشی اختیارکرتی ہیں۔اسی وجہ سے انسانی حقوق کےمسائل اکثرپس منظرمیں چلے جاتے ہیں،اورمتاثرہ افرادعالمی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام،بشمول آسیہ اندرابی،خودکوعالمی سطح پرتنہامحسوس کرتے ہیں۔

آسیہ اندرابی کی شخصیت متنازع ہے۔کچھ لوگ انہیں آزادی کی علامت سمجھتے ہیں،کچھ کے نزدیک وہ مزاحمت کی علامت ہیں جبکہ دیگرانہیں شدت پسندی سے جوڑتے ہیں۔حقیقت شایدان دونوں کے درمیان کہیں موجودہے۔ان کی جدوجہدکوسمجھنے کیلئے جہاں کشمیر کے پیچیدہ سیاسی،مذہبی اورسماجی تناظرکومدنظر رکھنا ضروری ہے وہاں ایک متوازن تجزیہ کیلئے دونوں نقطہ نظر کوسمجھناضروری ہے۔

ایک خاتون رہنماکے طورپرآسیہ اندرابی کی جدوجہدایک الگ اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے نہ صرف ذاتی مشکلات برداشت کیں بلکہ اپنے نظریے کیلئے قربانیاں بھی دیں۔ان کی کہانی صرف سیاست نہیں بلکہ انسانی جذبات،قربانی اوراستقامت کی بھی عکاس ہے۔آسیہ اندرابی کی کہانی کسی عام انسان کی کہانی نہیں۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی کے آرام،اپنے گھرکی سکون بھری دیواریں،اوراپنے خاندان کی قربت سب کچھ ایک نظریے کیلئے قربان کردیا۔ایک ماں،ایک بیوی،ایک بیٹی—ان سب رشتوں کے پیچھے ایک ایسادل دھڑکتارہاجو اپنے لوگوں کےدرد س جڑاہواتھا۔

جب وہ جوان تھیں،تب شاید ان کے خواب بھی عام لڑکیوں جیسے ہی ہوں گے—ایک پرسکون زندگی،ایک خوشحال گھر،بچوں کی ہنسی، اورایک محفوظ مستقبل ۔ مگرکشمیرکی گلیوں میں پھیلی بے چینی،سڑکوں پرگونجتے نعروں کی بازگشت،اورگھروں میں پھیلے خوف نے ان کے خوابوں کارخ بدل دیا۔وہ خاموش تماشائی نہ بن سکیں۔انہوں نے سوال کیا،اورپھروہ خودایک سوال بن گئیں—ایساسوال جس کا جواب آج تک دنیاتلاش نہیں کرسکی اورجوان کو سمجھ پائے،انہوں نے اسے ایک عظیم مجاہدہ اور مومنہ پایا جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر دوبارہ اللہ کی غلامی میں دینااپنی زندگی کامقصدبنالیا ہے ۔

دختران ملت کی بنیادرکھناصرف ایک تنظیم بنانانہیں تھا،بلکہ یہ ایک اعلان تھا —ایک اعلان کہ کشمیری خواتین صرف گھروں تک محدودنہیں رہیں گی،بلکہ وہ بھی تاریخ کاحصہ بنیں گی۔آسیہ اندرابی نے عورتوں کووہ آوازدی جو صدیوں سے دبائی جاتی رہی تھی۔ انہوں نے انہیں سکھایاکہ خاموشی بھی ایک جرم ہوسکتی ہے،اوربولناایک فرض۔مگرہرآوازکی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور آسیہ اندرابی نے وہ قیمت اپنی آزادی کی صورت میں اداکی۔

جیل کی سلاخیں صرف لوہے کی نہیں ہوتیں،وہ وقت کی زنجیریں بھی ہوتی ہیں۔وہ انسان کواس کے اپنوں سے،اس کے خوابوں سے،اور کبھی کبھی خود اس کی ذات سے بھی جداکردیتی ہیں۔آسیہ اندرابی نے اپنی زندگی کے کئی سال ان سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ہرگزرتا دن ایک صدی کی طرح،ہر رات ایک نہ ختم ہونے والی خاموشی کی طرح۔سوچیں،ایک ماں جو اپنے بچوں کواپنے ہاتھوں سے کھانانہ کھلا سکے،جوان کے سرپرہاتھ نہ رکھ سکے،جوان کے آنسونہ پونچھ سکے — وہ ماں کس کرب سے گزرتی ہوگی ؟ جیل کی دیواریں شاید اس کے آنسوؤں کو جذب کرلیتی ہوں،مگر اس کے دل کی چیخیں کہاں جاتی ہوں گی؟

اورپھران کے شوہر،قاسم فکتو—ایک اورداستان، ایک اورقید،ایک اورطویل انتظار۔ایک ایساشوہرجوبرسوں سے جیل کی دیواروں کے پیچھے ہے،جس نے اپنی جوانی،اپنی زندگی کے قیمتی سال،سب کچھ قیدمیں گزاردیے۔ایک ایسارشتہ جوملاقاتوں کےچندلمحوں تک محدودہوگیا،جہاں باتیں بھی نگاہوں سے کی جاتی ہیں،اورخاموشی بھی ایک زبان بن جاتی ہے۔یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں،یہ ہزاروں خاندانوں کی کہانی ہے۔مگرآسیہ اندرابی اوران کے شوہرکی کہانی اس لیے زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں قربانی کی شدت زیادہ ہے،تنہائی کی گہرائی زیادہ ہے،اورانتظار کی لمبائی زیادہ ہے۔

انسانی حقوق کی بات کرنے والی دنیاکہاں ہے؟وہ آوازیں کہاں ہیں جوظلم کے خلاف اٹھتی ہیں؟وہ تنظیمیں کہاں ہیں جوہرمظلوم کیلئے بولنے کادعویٰ کرتی ہیں؟ کیاکچھ کہانیاں اتنی خاموش ہوتی ہیں کہ وہ سنائی ہی نہیں دیتیں،یاکچھ خاموشیاں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ انہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی؟یہ سوال صرف آسیہ اندرابی کانہیں،یہ سوال ہراس انسان کاہے جوانصاف پریقین رکھتاہے۔

کشمیر کی راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان جب اندھیراچھاجاتاہے،تولگتا ہےجیسے وقت رک گیاہو۔ایسے میں کسی جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھی ایک عورت شایدآسمان کی طرف دیکھتی ہوگی،اورسوچتی ہوگی—کیاآزادی بھی کبھی اتنی ہی قریب ہوگی جتنے یہ ستارے؟یہ ایک عجیب تضاد ہے—آسمان آزادہے،پرندے آزاد ،ہواآزادہے،مگرانسان قیدہے۔ اس کےخواب قیدہیں،اس کی خواہشیں قیدہیں،اس کی زندگی قید ہے۔آسیہ اندرابی کی کہانی ہمیں مجبور رتی ہے کہ ہم رک کرسوچیں۔یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے،ہمیں بے چین کرتی ہے،اورہم سے سوال کرتی ہے—کیاہم واقعی ایک انصاف پسند دنیا میں رہ رہے ہیں؟یہ مضمون کسی فیصلے کیلئے نہیں،کسی کودرست یاغلط ثابت کرنے کیلئے نہیں۔یہ صرف ایک انسانی کہانی ہے—ایک ایسی کہانی جو آنسوؤں سے لکھی گئی ہے،صبر سے سنواری گئی ہے،اوروقت کے ہاتھوں آزمائی گئی ہے۔

جب ایک عورت اپنے نظریے کیلئے سب کچھ قربان کردیتی ہے،تووہ صرف ایک فردنہیں رہتی،وہ ایک علامت بن جاتی ہے۔آسیہ اندرابی بھی ایک ایسی ہی علامت ہیں—کسی کیلئے امیدکی،کسی کیلئے مزاحمت کی،اورکسی کیلئے ایک نہ ختم ہونے والے تنازع کی۔مگر ایک بات طے ہے—ان کی کہانی سنی جائے گی۔ کیونکہ سچائی چاہے کتنی ہی دب جائے،ایک دن وہ خودکوظاہرکردیتی ہے۔اورشاید اسی دن، کشمیرکی ہوامیں شامل آہیں دعاؤں میں بدل جائیں،آنسو مسکراہٹوں میں ڈھل جائیں،اورقید کی دیواریں یادوں کاحصہ بن جائیں۔تب تک،یہ کہانی زندہ رہے گی—دلوں میں، لفظوں میں،اوران آنکھوں میں جواسے پڑھ کرنم ہو جاتی ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس معاملے پرفعال کرداراداکرتے ہوئے درج ذیل اقدامات پر فوری عملدرآمد کریں۔
٭اقوام متحدہ کے تحت ایک غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن قائم کیاجائے جوآزادانہ تحقیقات کرکے اقوام عالم کے سامنے ظالم اورمتعصب ہندو کاچہرہ بے نقاب کر سکے۔
٭ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ تفصیلی رپورٹس شائع کر کے عالمی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔
٭عالمی برادری کے ذریعے بھارت پردباؤڈالاجاسکتاہے کہ وہ قانونی عمل کوشفاف بنائے۔جیلوں میں قیدیوں کے حقوق اوران پرہونے والے مظالم کوروکنے کیلئے عالمی مبصرین بھیجے جا ئیں۔

پاکستان اس معاملے میں مختلف سطحوں پرکرداراداکرسکتاہے۔
٭اقوام متحدہ اور یگر المی فورمز پر سئلہ اجاگر کرنےکیلئے سفارتی سطح پرآوازاٹھائی جائے۔
٭عالمی این جی اوزکے ساتھ مل کرکیس کونمایاں کرنے کیلئے انسانی حقوق کی مہم چلائی جائے۔
٭عالمی میڈیامیں اس معاملے کومؤثرانداز میں پیش کیاجائے۔بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے ذریعے کیس کوعالمی عدالتوں تک لے جانے کی کوشش کی جائے۔

یہ کہانی صرف سیاست کی نہیں،انسانوں کی ہے۔ایک عورت،جو برسوں سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک شوہر،جوعمربھر قیدمیں رہااوراب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک خاندان،جووقت کے ساتھ بکھرگیا۔یہ سب ہمیں ایک سوال کی طرف لے جاتاہے،کیا انصاف واقعی سب کیلئے یکساں ہے؟

آسیہ اندرابی کامعاملہ کشمیرکے وسیع ترمسئلے کی ایک جھلک ہے۔یہ کہانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ سیاسی تنازعات کے پیچھے انسان ہوتے ہیں،ان کے خواب،ان کے دکھ،اوران کی امیدیں اورجن کی اپنی کہانیاں،درداورامیدیں ہوتی ہیں۔کشمیرکامسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتاجب تک کشمیری عوام کوان کابنیادی حق —یعنی حق خودارادیت—نہیں دیاجاتا،اورجب تک تمام فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کی میزپرنہیں آتے۔جب تک انصاف،شفافیت اورانسانی وقارکوترجیح نہیں دی جائے گی،ایسی کہانیاں جنم لیتی رہیں گی—اوردنیاخاموش تماشائی بنی رہے گی۔یہ مضمون ایک دعوتِ فکرہے—ایک سوال،ایک آئینہ،اورشایدایک خاموش چیخ۔

وقت گزرجائے گا…شایدسرحدیں بھی بدل جائیں،شاید نقشے بھی نئے بن جائیں،مگرکچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جوکبھی ختم نہیں ہوتیں۔ آسیہ اندرابی کی کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے—ایک ایسی داستان جوقیدکی دیواروں سے ٹکراکربھی زندہ ہے،جوخاموشی میں بھی بولتی ہے،اورجوہراس دل میں دھڑکتی ہے جودردکو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ کہانی ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم اپنے ضمیرسے سوال کریں—کیاانصاف واقعی طاقت کامحتاج ہے؟کیا انسانی حقوق صرف الفاظ ہیں،یاان کی کوئی عملی حقیقت بھی ہے؟اورسب سے بڑھ کر،کیادنیاواقعی ہر مظلوم کی آوازسنتی ہے،یاکچھ صدائیں ہمیشہ کیلئے خاموش کردی جاتی ہیں؟

کشمیر آج بھی وہیں ہے—اپنی خوبصورتی کے ساتھ،اپنے دکھوں کے ساتھ۔ جھیلیں اب بھی شفاف ہیں،مگران میں جھانکیں توشایدآنسوؤں کی نمی دکھائی دے ۔ پہاڑاب بھی بلندہیں، مگران کے سائے میں دبے خواب شایدآج بھی آزادی کے منتظرہیں۔

اورکہیں،کسی جیل کی تاریک کوٹھڑی میں،ایک عورت اب بھی اپنے یقین کے ساتھ زندہ ہے۔وقت اسے تھکانہیں سکا،تنہائی اسے توڑ نہیں سکی،اورقید اس کی سوچ کومحدود نہیں کر سکی۔یہی اس کی طاقت ہے،یہی اس کی کہانی ہے۔یہ مضمون کسی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک احساس کی دعوت ہے۔اگراس کہانی کوپڑھ کردل میں ایک لمحے کوبھی دردکی لہر اٹھے ،آنکھوں میں نمی اترآئے،یاذہن میں کوئی سوال جنم لے—توشاید یہی اس کامقصدتھا۔
کیونکہ کچھ کہانیاں سنی نہیں جاتیں،وہ محسوس کی جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں