تاریخ کے اوراق کبھی کبھارایسے خون آلودواقعات کے ساتھ رقم ہوتے ہیں،جوانسانی شعورکوجھنجھوڑدیتے ہیں اورانصاف کے پرانے پیمانوں پرسوالیہ نشان لگاتے ہیں۔بھارت کی موجودہ سیاست کی تلخ حقیقتیں ان مظالم کاآئینہ ہیں،جن کاسنگین اثرنہ صرف سکھ برادری بلکہ عالمی ضمیر پربھی پڑا۔1984کاسانحہ سکھ قوم کے دلوں میں آج بھی ایک دردناک زخم ہے،جوکسی لمحے بھی بھلایانہیں جاسکتا۔اس سانحے میں دو لاکھ سے زائدسکھوں کومحض اس لیے شہیدکردیاگیاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئےآوازبلندکررہے تھے۔
گولڈن ٹیمپل،جونہ صرف سکھ قوم کی روحانی روشنی بلکہ انسانیت کے پرامن پیغام کامرکزہے،اس مقدس مقام پربمباری کی گئی۔یہ ایک ایسا عمل تھاجس نے مذہب ،اخلاق،اورانسانی وقار کے سب سے بنیادی اصولوں کوپامال کردیا۔ہزاروں سکھ مرد،عورتیں،اوربچے موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔اس مظالم کی تاریخ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلویہ تھاکہ اس آپریشن کیلئےایک سکھ جنرل کاانتخاب کیاگیا،تاکہ قوم کے اپنے ہی زخموں میں نمک چھڑکنے کاعذاب محسوس ہو۔
لیکن بھارت کایہ ظلم وستم صرف اسی سانحے تک محدودنہ رہا۔اس نے اپنی مکاری اورسازش کی عادت کے تحت کشمیری آزادی کی تحریک کوبھی بدنام کرنے کی کوشش کی۔امریکی صدر بل کلنٹن کے دورے کے موقع پرجموں کے گوردوارہ چھتی سنگھ پورہ میں سکھوں کوبے رحمی سے گولیوں کانشانہ بنایاگیااوریہ سانحہ کشمیری مجاہدوں پرڈال دیاگیا۔یہ ایک ایسابدترین انسانیت سوزاورمکروہ ظالمانہ کھیل تھاجو ریاستی طاقت،سازش اوربین الاقوامی سیاست کے خطرناک امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی دباؤکے نتیجے میں بھارت نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی،جسٹِس(ریٹائرڈ)اجیت سنگھ بینزپنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین،جو انسانی حقوق کے تجربہ کارمقررتھے۔سرداراندرجیت سنگھ جائیجے موومنٹ اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن کے کنوینر،جوریاستی ظلم و ستم کے خلاف سرگرم رہنماتھے۔لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)کرتارسنگھ گل جوموومنٹ اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن اورپنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (پنجاب تنظیمِ حقوقِ انسانی)کے مشیر،جن کے پاس عسکری اور حقوقِ انسانی دونوں میدانوں کاتجربہ تھا۔یہ کمیٹی واقعے کی تحقیق کے بعد واضح طورپرانڈین خفیہ ایجنسی”را”کوذمہ دارقراردے چکی ہے،مگربھارت نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس رپورٹ کودبایاجائے مگرظلم کا سایہ اتناگہرانہیں ہوتاکہ وہ چھپ سکے،اوریہ رپورٹ عالمی سطح پرمنظرِعام پرآگئی۔
یہ تمام واقعات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ متعصب ہندوتواحکومت کس حدتک جمہوریت کی آڑمیں اپنے سیاسی مقاصد کیلئےانسانیت کوپامال کر سکتی ہے۔دولاکھ سکھوں کی قربانی،گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی،چھتی سنگھ پورہ کاخون اوربعدکی بین الاقوامی سازشیں ایک واضح مثال ہیں کہ طاقت،مذہب اورسیاست کے کھیل میں انسانی زندگی کس قدربے بس ہوسکتی ہے۔یہ تاریخی فریب اورمجرمانہ سازشیں عالمی ضمیر کیلئےایک انتباہ ہیں کہ انصاف اورانسانی حق کی حفاظت کے بغیرآزادی محض ایک فریب ہے۔
یادرہے کہ دنیاکی سیاست ایک سائے داردرخت کی مانندہے،جس کی شاخوں میں طاقت،سازش اورخفیہ منصوبے پنپتے اورجکڑے ہوتے ہیں ۔دنیاکی سیاست ایک بے رحمانہ میدان اور ایک سنہری کتاب کی مانندبھی ہے،جس کے صفحات پرخون اورانصاف کے درمیان جدوجہدلکھی جاتی ہے۔جہاں طاقت اوراثرورسوخ کے کھیل اکثرپردے میں چھپے رہتے ہیں۔دنیاکی اس سیاسی بزم میں،جہاں طاقت اورسیاست کے کھیل اکثر رازکی چادرمیں لپٹے ہوتے ہیں،ایک ایساواقعہ ہواجس نے عالمی ضمیرکوجھنجھوڑدیا۔
نیو یارک کی عدالت میں پیش ہوئے54سالہ نکھل گپتانے وہ رازفاش اوراس درخت کی سب سے اندھیری شاخ کوبے نقاب کیاجوپردوں میں چھپا تھا:گپتانے یہ انکشاف کیاکہ انڈیاکی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پرباقاعدہ خفیہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی گھناؤنی سازش تیارکی تھی اورذرائع مہیاکرکے قتل کااہتمام کیاتھا۔یہ انکشاف ایک ایسی پردہ داری کوبے نقاب کرتاہے جس میں انسانیت کے بنیادی اصول دبی ہوئے ہیں،اورطاقت کی سیاہ موجیں انصاف کی روشنی پرچھاجاتی ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوانسانی ضمیر کوجھنجھوڑدیتی ہے۔یہ سازش جیسے انسانی ضمیرکی آزمائش کاایک آئینہ پیش کرتی ہے،اوریہ بتاتی ہے کہ طاقت کبھی کبھارانصاف کی روشنی پرسایہ ڈال دیتی ہے۔
نکھل گپتانے تین سنگین جرائم تسلیم کیے:قتل کیلئےمالی امدادلینا،اجرت کے عوض قتل،اورمنی لانڈرنگ کی سازش۔ممکنہ سزا40سال تک کی قیدہے۔اس سازش کاہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنّوں تھے،جوخالصتان تحریک کے پرجوش حامی ہیں۔ایک تحریک جوسکھ قوم کیلئے علیحدہ وطن کاخواب سجائے ہوئے ہے۔یہ تحریک سکھ قوم کیلئےعلیحدہ وطن کے خواب کا امین ہے،یہ تحریک سکھ قوم کیلئےعلیحدہ وطن کے خواب کی تجلی ہے جس کے رنگ بیرون ملک بھی جھلکتے ہیں جسے اندرون اوربیرون ملک کے لاکھوں حامی بھی دلوں کی گہرائیوں سے سپورٹ کرتے ہیں۔
امریکی وکیل جے کلیٹن نے عدالت میں کہانکھل گپتانے امریکی سرزمین پرایک شہری کوقتل کرنے کی سازش کی،صرف اس لیے کہ وہ اپنے اظہاررائے کے جائزحق کواستعمال کررہے تھے۔یہ بیان اس بات کی گواہی ہے کہ ایک آزادملک میں بھی طاقتوربیرونی قوتیں انسانیت کے بنیادی حقوق کودباسکتی ہیں۔یہ الفاظ اس حقیقت کی آئینہ دارہیں کہ آزاد ملک بھی بعض اوقات طاقتوربیرونی قوتوں کی چھاؤں میں انسانی حقوق کے معیارسے محروم ہوجاتے ہیں۔یہ الفاظ اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آزاد ممالک میں بھی طاقتورقوتیں انسانی حقوق کی دھوپ میں سائے ڈال سکتی ہیں۔
یہ جملہ ہمیں یاددلاتاہے کہ آزادی کاروشن چراغ کبھی کبھی طاقت کے سائے میں مدھم پڑسکتاہے،مگر انصاف کی روشنی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ الفاظ اس بات کابھی ثبوت ہیں کہ آزادی اورانصاف کی روشنی اورحقیقت کی کرن ہمیشہ روشن رہتی ہے۔گپتاایک خودساختہ تحفظ کے شکنجے میں تھااورخودکوایک محفوظ خلاءمیں سمجھ رہاتھا، اس نے سوچاکہ انجام تک پہنچنے والاعمل اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گااور اس سازش سے کچھ نہ بگڑے گاکہ اس کی پشت پرمودی جیساظالم وسفاک آدمی کھڑاہے ۔لیکن قانون کی روشنی نے اس فریب کی پردہ داری کوفاش کرتے ہوئے اسے اس کے اعمال کے آئینے اورانصاف کے دروازے پرکھڑاکردیاجیسے اندھیری راہ میں چراغ جل جائے۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے گپتاکے اعتراف کوعدالتی تصدیق کی سندقراردیا،جوثابت کرتی ہے کہ مودی حکومت نے امریکی زمین پرقتل کیلئے منصوبہ بندی کی سازش کی تھی۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوعالمی سیاست کے پیچ وخم کوآشکارکرتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کے اوراق پرسچائی کے حروف لکھ دیے گئے۔بھارت نے پنّوں کودہشتگردقراردے رکھاہے،لیکن وہ خوداپنے آپ کومحض کارکن کہتے ہیں۔سکھ برادری بھارت کی مجموعی آبادی کادو فیصد ہیں،مگرکچھ حلقے ان کیلئےعلیحدہ وطن کی آرزو اورخواب سجائے ہوئے ہیں۔بیرون ملک مقیم حامی خالصتان کیلئےآوازبلند کرتے ہیں،جو ایک قومی فطرت کی عکاسی او تجلی ہے جوصبرواستقامت کی علامت ہے۔
استغاثہ کے مطابق،مئی2023میں انڈین حکومت کے ملازم وکاش یادونے گپتاکوگرپتونت سنگھ پنّوں کوقتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔دہلی میں ملاقات کے ذریعے قتل کی ممکنہ منصوبہ بندی کی گئی۔یادوکابینہ سیکریٹریٹ میں کام کرتے تھے،جہاں انڈین خفیہ ایجنسی”را”کادفتربھی موجودہے۔یہ منظرسیاسی سازشوں کی کالی جالی کی مانندہے۔یادوشی حکم پرگپتانے امریکی خفیہ افسرسے رابطہ کیا،جوخودکوقاتل ظاہرکر رہاتھا۔اس نے قاتل کاکرداراداکرکے گپتاکو پنّوں کی معلومات فراہم کیں،جن میں گھراورفون نمبرشامل تھے۔یہ ایک تمثیل ہے کہ جہاں دھوکہ اور مکاری چھپی ہو،وہاں انصاف کی آنکھ ہمیشہ جاگتی ہے۔مبینہ طورپرگپتانے نجرکے قتل کے بعد مزید اہداف کی فہرست”اجرتی قاتل”کودی۔ کینیڈانے ان الزامات کی روشنی میں انڈیاپر تنقید کی،مگر بھارت نے ان کی سختی سے تردیدکی۔یہ واقعہ عالمی سیاست کے پیچ وخم میں اخلاقی امتحان کی ایک دلیل ہے۔
پنّوں نے1990 ی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی، ندی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے دنوں سے ہی وہ سیاست کے رنگ میں رنگے ہوئے، اور امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سکھس فار جسٹس کی بنیاد کھی۔ ہ عوامی طورپرخالصتان کے قیام کی اپیل کرتے رہے،جوایک تاریخی جدوجہدکی داستان ہے۔
6مئی2024کوکینیڈاکی پولیس نے تین انڈین شہریوں کوگرفتارکیا،جونجرکے قتل میں ملوث تھے۔ نجر وینکوورکے گرونانک سکھ گرودوارے کے صدرتھے اور18جون2023کوقتل ہوئے۔ گرفتار افراد کرن برار،کرن پریت سنگھ،اورکمل پریت سنگھ ہیں،جو مغربی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ سازش سے پتہ چلتاہے کہ سازش صرف کسی ایک فردتک محدودنہیں، بلکہ یہ ایک جالی دار منصوبہ ہے۔
14ستمبر2023کوخالصتانی رہنماؤں کے پراسرارقتل اورتجارتی معاہدے پرجھٹکےکے باعث کینیڈااورانڈیا کے کشیدہ تعلقات عروج پرپہنچ گئے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے انڈین حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کاالزام لگایا،جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجہاں سیاست اور اخلاقیات کاٹکراؤعیاں ہوا۔
جی20اجلاس میں شریک کینیڈاکے وزیراعظم ٹروڈودودن تک انڈیامیں پھنسے رہے،اورکینیڈا نے تجارتی بات چیت معطل کردی۔کینیڈاکی وزیر تجارت میری این کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دوطرفہ تجارتی مذاکرات روک دیے گئے ہیں۔یہ ایک سبق ہے کہ عالمی سیاست میں بھی ہر کارروائی کے اثرات کی گہرائی کوپہچاننا ضروری ہے۔مودی اور روڈو ے درمیان گرما رم بات چیت ہوئی، س میں سکھ علیحدگی پسند تحریک اور فارتی مسائل زیر حث آئے۔جی20اجلاس میں کشیدہ ملاقات کے دوران مودی اورٹروڈو کے درمیان گرما گرم بحث میں سکھ علیحدگی پسند تحریک اورسفارتی مسائل زیربحث آئے۔یہ منظرسیاسی ڈرامے کی مانندہے،جس میں ہرلفظ کاوزن ہے۔مودی حکومت سکھ علیحدگی پسندوں کی بین الاقوامی مقبولیت اورانڈین سفارتکاروں کے خلاف تشددسے ناخوش تھی۔یہ ایک تاریخی منظرہے جہاں طاقت اور مزاحمت کی کشمکش عیاں ہوتی ہے۔
ٹروڈونے کہاکہ انڈیا کی کارروائیاں کینیڈاکی ملکی سیاست میں مداخلت کے مترادف ہیں۔یہ ایک عبرت آموزواقعہ ہے کہ یہ تمام واقعات عالمی سیاست میں طاقت، اثرورسوخ،اوراقلیتوں کے حقوق کے تناظرمیں ایک نیااورمتنازع باب کھولتے ہیں۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ دنیاکی سیاست بھی ایک شطرنج کی طرح ہے،جس میں ہرچال کی قدر دانی ضروری ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جوسچائی اوراخلاقیات کی روشنی میں پڑھی جاتی ہے۔یہ سلسلہ اس بات کاروشن ثبوت ہے کہ سیاسی،مذہبی، اور سفارتی طاقتیں انسانی حق وانصاف کے آئینے میں کس طرح جھلکتی ہیں۔ہرواقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ آزادی، قانون،اورانصاف کی روشنی میں حقیقت کوچھپایانہیں جاسکتا،اورعالمی ضمیرہمیشہ بیداررہتاہے۔
یہ خون آلودصفحات،یہ مجرمانہ سازشیں،اوریہ تاریخی مظالم ہمیں یاددلاتے ہیں کہ طاقت،سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اور وقارکوکبھی ختم نہیں کرسکتا۔ان تمام مظالم کی روشنی میں یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ بھارت کی طاقتورحکومتیں جمہوریت کے نام پرنہ صرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق کودباتی ہیں،بلکہ عالمی سطح پربھی خوف ودھمکی کے سائے ڈالتی ہیں۔1984کے گولڈن ٹیمپل حملے میں شہید ہونے والے دولاکھ سکھوں کی قربانی اورچھتی سنگھ پورہ میں بے رحمانہ قتل عام یہ ثابت کرتاہے کہ ریاستی طاقت کس طرح مذہبی اور نسلی منافرت کے آڑمیں انسانی وقارکوپامال کرسکتی ہے۔گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی،اورچھتی سنگھ پورہ کاخون تاریخ کے صفحات پرہمیشہ زندہ رہیں گے،تاکہ نسل درنسل یاددلایاجاسکے کہ ظلم کی انتہاکہاں تک جاسکتی ہے۔
یہ سانحات نہ صرف سکھ برادری کیلئےایک تاریخی زخم ہیں،بلکہ عالم انسانیت کیلئےایک عبرت ہیں۔ان مظالم کی حقیقت کوچھپانا،تاریخ کی روشنی کومسخ کرنے کے مترادف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انڈین خفیہ ایجنسی را”کی منصوبہ بندی اورریاستی سازشیں اقلیتوں کی آزادی اور انسانی حقوق کیلئےایک مسلسل خطرہ رہی ہیں۔یہ سازشیں،چاہے وہ امریکی زمین پرقتل کی منصوبہ بندی ہویاکشمیری آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش،ایک واضح مثال ہیں کہ طاقت کے غلط استعمال کاانجام صرف ظلم اورخون ریزی کے سواکچھ نہیں ہوتا۔
اقوام عالم کویہ یادرکھناچاہیے کہ بھارت کے اس تعصب اورمکاری کے سائے میں جمہوریت کے مینارجھک گئے ہیں۔یہ وہ لمحے ہیں جب انسانی ضمیربیدارہوناچاہیے، تاکہ آئندہ نسلوں کو ایسے مظالم سے محفوظ رکھاجاسکے۔تاریخ کی عدالت میں یہ تمام واقعات ہمیشہ ریکارڈرہیں گے،اورسچائی کے علمبردارکبھی خاموش نہیں رہیں گے۔دولاکھ سکھوں کی قربانی،ہزاروں معصوم جانوں کاخون،اورعالمی دباؤکے باوجود دبائی جانے والی رپورٹیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ظلم کی جڑیں گہری ہوسکتی ہیں، لیکن حقیقت کبھی چھپ نہیں سکتی۔
یہ سانحات،یہ خون آلودصفحات،اوریہ مجرمانہ سازشیں ایک سبق ہیں:طاقت،سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اوروقارکوکبھی نہیں مٹاسکتا،اور عدل وانصاف کی کرن ہمیشہ ظلم کے سائے میں روشنی ڈالتی رہے گی۔اقوام عالم کویادرکھناچاہیے کہ بھارت کی مکاری اور متعصب ہندوتواکی حکمرانی کے سائے میں جمہوریت محض ایک فریب ہے۔مگرحقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،اور انصاف کی کرن ظلم کی تاریکی میں بھی روشنی ڈالتی ہے۔یہی سبق ہے جوانسانی ضمیر، تاریخ، اورآئندہ نسلوں کیلئےضروری ہے۔











