Your Pain Is Greater Or My Grief

تمہارادرد بڑاہے یا میراغم ،بولو

:Share

سب جگ سے پیاری اورمن موہنی پیاری ماں جی!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللہ سے دعاگوہوں کہ آپ کودونوں جہانوں کی تمام نعمتوں سے سرفرازفرمائے ثم آمین
جناب محترم افضل صاحب کے رحمتِ حق سے جاملنے کے حادثہ کی اطلاع عزیزم سجادکے وائس میسیج پرجب ملی تومیں بالکل سکتے کی حالت میں چلاگیاجبکہ ایک دن پہلے ان کے فون پرلمبی گفتگوکاایک ایک لفظ لائن بناکرمیرے سامنے مجھے شرمندہ کرنے کیلئے میرامنہ چڑارہے تھے۔خودکوسنبھالااورفوری طورپر اپنےآپ کو تیار کرناشروع کر دیا اورجب ان کے تمام الفاظ پر غور کرنا شروع کیا تو حیرت ہونے لگی کہ کس قدرسچی باتیں ان کے منہ سے نکل گئیں جوبعدمیں حقیقت کاروپ دھار گئیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ کہ یہ ان کی زندگی کی آخری فون کال تھی جو میرے ساتھ ہوئی اورپہلی مرتبہ انہوں نے اس حساس موضوعات پربھی بات کی جس کیلئے انہوں نے کبھی بھی بات نہیں کی۔ وہ مجھے اس طرح صفائیاں دے رہے تھے کہ مجھے بے اختیار ان کی معصومیت پرپیارآرہاتھا اورمیرادل بھی گواہی دے رہاتھاکہ ان کا ایک ایک لفظ درد اورسچائی سے ڈوباہواہے.
آپ کوفون کرنے کی تین مرتبہ کوشش کی لیکن خودہی اپنے ہاتھوں کال کومنقطع کردیتاتھاکہ ان قیامت کی گھڑیوں کاکس منہ سے ذکرکروں۔بالآخرہمت کرکے سوچاکہ آپ کی دلجوئی وغم گساری کیلئے آپ سے فون پردوبارہ رابطہ کرکے آپ کے دائمی غم کوہلکاکرنے کی کوشش کروں۔اب کئی دنوں سے سوچ رہاتھاکہ اپنے انتہائی عزیزخاموش طبع،،سادہ اورمنکسرمزاج شخص کیلئے کچھ تحریرکروں لیکن جب بھی لکھنے بیٹھتا تو آپ سب کے اور بالخصوص ان کی اکلوتی بیٹی کے جذبات کے سامنے گنگ ہو جاتا ہوں اور الفاظ میراساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔پھر یہ خیال میرے رگ وپے میں گونجنے لگتاہےکہ تم جواب تک 45 کتابوں کے علاوہ سینکڑوں مقالات لکھنے کے باوجوداس معاملے میں خودکواس قدربے بس محسوس کررہے ہوتو پھرایک ہمدردومخلص اہلیہ اوراکلوتی بیٹی کے علاوہ ان کے بیٹوں کے جذبات کودلاسہ دینے کیلئےسمونے کیلئے الفاظ کہاں سے مستعار لو گے۔ میں اس سے واقف ہوں کیونکہ خود مجھ پر جدائی کاصدمہ کچھ ایساطاری ہوتاہے کہ میں پچھلے چار سالوں سے اپنی اہلیہ کیلئے ایک لفظ سپردقلم نہیں کرسکاحالانکہ لکھنے سے پہلے الفاظ کے کئی بحرقلزم اپنی طوفانی جولانیوں کے سبب سینے میں ٹھاٹھیں ماررہے ہوتے ہیں۔
میں چشم تصورمیں آپ کااوراہل خانہ کابالخصوص اکلوتی بیٹی کاحزن وملال سے ڈوباہواچہرہ دیکھ رہاہوں اوریوں محسوس کررہاہوں کہ ان سب کے معصومانہ چہرے پرلکھی ہوئی دائمی فراق کی داستان کوچراکراپنے سینے میں جذب کر لوں اوراس صدمے کی حالت میں اپناکندھااورسینہ پیش کرکے اُس صبرکی تلقین کروں جوبعض اوقات روٹھ کرمجھے بھی ازحدبے چین کردیتاہے۔آج بھی اسی محاسبے اورکچوکے لگانے والے لمحات میں یہ تحریرمعرضِ وجود میں آگئی جوممکن ہےآپ کے صدمہ کووقتی طورپر ڈھارس کاکام دے سکےاورآپ کوپرسہ دینے میں میرے لئے بھی آخرت کیلئے کوئی زادِ راہ جمع ہونے کی کوئی سبیل نکل آئے۔آپ کیلئے اپنی عزیزترین ہستی کاراہِ حق سے ملنے کی اندوہناک اوردلخراش داستان برداشت کرناکچھ اس قدرآسان بھی نہیں لیکن میری اپنی قلبی کیفیت جوپہلے ہی اہلیہ کی اس دارِ فانی سے رخصت ہونے کی وجہ سے ضعف کی طرف مائل ہے اس کی غیرمتوازن دھڑکن کئی مرتبہ اپنے رب کی طرف متوجہ بھی کرتی رہتی ہے لیکن رب کے نیک بندوں کااس دنیاسے کوچ کرجانے کی خبریں ایک تلاطم پیداکردیتیں ہیں۔قرآن کریم میں ارشادہے:
اے اطمینان والی روح،اپنے راب کی طرف لوٹ چل ،تواس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پس میرے بندوں میں شامل ہواور پس میرے بندوں میں شامل ہوجا۔الفجر۔27۔30
اورشدت سے نبی کریم ﷺکافرمان مبارک یادآتاہے کہ”دنیاایک جیل ہے”۔
پہلے میں نے آج صبح سوچا کہ پہلے آپ کوٹیلیفون پردوبارہ پرسہ دوں پھرخیال آیا کیوں نہ پہلے تحریری طور پرکچھ باتیں کرلی جائیں جوآپ کے دل کے لئے کسی حدتک باعث سکون بن سکیں بس اسی خیال کی وجہ سے اس جا نکاہ حادثہ کی تعزیت کیلئے فوراًیہ تحریرقلم کی نوک پرآ گئی ہے کہ شا یداس تحریرسے میرااور آپ کے غم کا بوجھ کچھ ہلکاہوسکے ۔
پیاری ماں!اس صدمے نے آپ کے قلب وذہن پریقیناًایک بہت گہرااثرچھوڑاہےلیکن مو ت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہم سب لاپرواہ ہیں۔ دراصل مو ت سے زیادہ خوفناک شے موت کا ڈرہے، جیسے جیسے زندگی کاشعوربڑھتاہے زندگی کی محبت بڑھتی ہے،پھر موت کاخوف بھی بڑھنے لگتا ہے ۔جس کوزندگی سے محبت نہ ہواسے بھلامو ت کا کیا خوف!جب انسان کے دل میں موت کاخوف پیدا ہوجائے تواس کی حالت عجیب ہوتی ہے ایسے جیسے کوئی انسان رات کےاندھیرے سے بھاگ جا ناچاہے یادن کوسورج سے بھاگ جانالیکن بھاگ نہیں سکتا۔
کہتے ہیں کہ ایک آدمی کوموت کاخطرہ اورخوف لاحق ہوگیا وہ بھا گنے لگا تیزبہت تیز،اسے آوازآئی ”پگلے موت تیرے پیچھے نہیں بلکہ تیرے آگے ہے” وہ آدمی فوراًالٹی سمت بھا گنے لگا پھر آواز آئی ”نا دان موت تیرے پیچھے نہیں بلکہ تیرے آگے ہے” آدمی بولا ”عجیب بات ہے پیچھے کو بھا گتاہوں توپھربھی مو ت آگے ہے،آگے کودوڑتاہوں توپھربھی موت آگے ہے” آوازآ ئی ”موت تیرے ساتھ ہے،تیرے اندرہے، ٹھہرجا،تم بھا گ کرکہیں نہیں جا سکتے۔ جوعلا قہ زندگی کاہے وہ ساراعلا قہ موت کاہے”اس آدمی نے کہا”اب کیاکروں؟”جواب ملا ”صرف انتظار کروموت اس وقت خود ہی آجائے گی جب زندگی ختم ہوجائے گی اورزندگی ضرورختم ہوگی کیونکہ زند گی موت کی امانت ہے اورکسی کی جرأت نہیں کہ اس میں خیانت کرسکے۔ز ندگی کاایک نام موت ہے،زندگی اپناعمل ترک کردے تواسے موت کہتے ہیں یازندگی کاانجام!”اس آدمی نے پھرسوال کیا”مجھے زندگی کی بہت تمنّاہے لیکن تومجھے موت کی شکل دکھا دے تاکہ میں اسے پہچان لوں” آوازآئی” آئینہ دیکھو موت کاچہرہ تیرا اپنا چہرہ ہے،اسی نے میّت بننا ہے،اسی نے مردہ کہلانا ہے،موت سے بچنا ممکن نہیں”۔
مو ت کے خوف کا کیا علاج!لاعلاج کابھی بھلا کوئی علاج ہے۔لاعلاج مہلک مرض صرف زندگی کاعارضہ ہے جس کاانجا م صرف موت ہے۔زندگی ایک طویل مرض ہے جس کاخا تمہ موت کہلا تا ہے۔روزاوّل سے ز ندگی کایہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ زندگی کاآخری مرحلہ موت ہے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ توزندگی کاحصّہ ہے،بس اس کی تیّاری کی فکرہونا ضروری ہے ۔ ہم کشاں کشاں اس کی طرف سفرکرتے ہیں،ہم خودہی اس کے پاس چل کرآتے ہیں۔ زندگی کے امکانات تلاش کرتے کرتے ہم اس بند گلی تک آجا تے ہیں جہاں سے مڑنا ناممکن ہوتاہے۔ آگے راستہ بند ہوتا ہے، ہم گھبراجاتے ہیں اورپھرشور مچاتے ہیں،خوب شورمچا تے مچاتے بالآخرہمیشہ کیلئےخاموش ہو جاتے ہیں۔
موت نہ ہو تو شاید زندگی ایک المیہ بن جائے،ایک طویل دورانئے کا بے ربط ڈرامہ کہ ٹی وی پر چلتارہے اورلوگ بورہوکرسوجانا پسند کریں۔ ایک یونانی کہاوت کے مطابق لا فانی دیوی کوایک خوبرولیکن فانی انسان سے محبت ہوگئی۔اس نے غلطی کومحسوس کیا کہ یہ فانی انسان ہے،مر جائے گا۔وہ دیوتاؤں کی ایک عظیم سردارکے پاس روتی ہوئی گئی کہ اے عظیم دیوتا! میرے محبوب کو لافانی بنادو۔دیوتا نے بڑی محبت سے سمجھایا کہ یہ ناممکن ہے،انسان کوموت کاحق داربنایاجاچکا ہے۔دیوی نے گریہ وزاری کے ساتھ اصرارکیاتوفیصلہ دیوی کی خواہش کے مطابق کردیا گیاکہ اسے موت نہیں آئے گی۔دیوی من کی مرادپانے پرخوش ہوگئی۔وقت گزرتاگیا، بڑھاپاآیا ،خوبصورت چہرے پرجھریوں نے ڈیرہ ڈال دیا،توانائی کمزوری میں تبد یل ہوگئی،و قت کے ساتھ بینائی بھی رخصت ہو گئی،یادداشت نے ساتھ چھوڑ دیا۔”مضمحل ہو گئے قوأ سارے،” وہ انسان چلّا یا” اے دیوی خدا کیلئےمجھے نجات دلاؤ میں اس عذاب کو برداشت نہیں کرسکتا۔” دیوی نے اپنی دوسری غلطی کوبھی محسوس کیا،پھردیوتاؤں کے سردارکے پاس حاضرہوئی کہ اے دیوتاؤں کے بادشاہ میرے محبوب کوموت عطا کر،انسان کوانسان کا انجام دے دو۔بس یہی راز ہے کہ انسان کو انسان کا انجام ہی راس آتاہے۔بات سمجھنے کی ہے،گھبرانے کی نہیں، مقام غورکا ہے خوف کانہیں۔ زندگی صرف عمل ہی نہیں عرصہ بھی ہے۔اگر صرف عمل ہوتاتوکوئی ہرج نہ تھا، اس عمل کیلئے ایک وقت بھی مقررہوچکا ہے۔اس وقت کے اندراندرہی سب کچھ ہوناہے کیونکہ اس وقت کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔ہمارا ہونا صرف نہ ہونے تک ہے۔اگرہم زندگی کودینے والے کاعمل مان لیں تواس کے ختم ہونے کا اند یشہ نہ رہے۔دینے والاہی زندگی لینے والاہے ۔ڈرکی کیا بات ہے،دن بنانے والے نے ہی رات بنائی ہے اوررات بنانے والاہی دن طلوع کرتا ہے۔پہاڑ بنانے والادریا وسمندربناتا ہے،صحرابنانے والانخلستان پیدا فرماتا ہے۔زندگی تخلیق کرنے والاموت کوپیدافرماتا ہے،یہ اس کے اپنے اعمال ہیں،ہم صرف اس کے عطا کیے ہوئے حال پرزندگی گزارنے پرمجبورہیں۔اس نے زندگی اورموت کواس لیے پیداکیا کہ دیکھا جائے کہ کون کیاعمل کرتا ہے۔اس کائنا ت میں کوئی بھی ایسانہیں آیاجوگیا نہ ہو۔ کوئی پیدائش موت سے بچ نہیں سکتی،جوکچھ بھی ہے نہ ہوگا۔ہرشے لاشے ہوجائے گی مگرصرف میرے رب کی ذات ہے جوہمیشہ ہمیشہ رہے گی۔باقی سب فناہے۔
بے مصرّف زندگی کی سزاموت کاخوف ہی ہے،بامقصد حیات موت سے بے نیاز،موت کے خوف سے آزاد،اپنے مقصد کے حصول میں مصروف رہتی ہے۔عظیم انسان بھی مرتے ہیں لیکن ان کی موت ان کی عظمت میں اضافہ بھی کرتی ہے اوروں کیلۓ باعث صد رشک بھی۔موت انسان سے اس کی بلندنگاہی،بلندخیالی اوربلند ہمّتی نہیں چھین سکتی۔وہ لوگ موت کے سائے میں زندگی کے ترانے گاتے ہیں،زندگی کا نغمہ الاپتے ہیں،زندگی کے اس مختصر عرصے میں جواں ہمّت تو آسمانوں کو چھوآئے۔۔عالی مرتبت عرش کی بلندیاں سرکرآئے اورکم حوصلہ اپنے اندیشوں کے خول سے باہرنہ نکلے۔موت فانی زندگی کودائمی حیات میں بدل دیتی ہے۔فناء سے بقاء کاسفر گھوڑے کی پشت پرہوتاہے۔موت کیلئے تیاررہو،موت کا خوف نہ کرو،بس یہی موت کا پیام ہے۔
موت کا غم اس لیے ہوتاہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے عزیزوں اورپیاروں سے جداہوجائیں گے ۔عزیزوں کوتوہم اپنی زندگی میں ہی جداکردیتے ہیں۔ بیٹیوں کی رخصتی کیلئے کتنی دعائیں کرتے ہیں،کس قدرمناجات اورگڑگڑاکرجلدرخصتی کی تمنّا دل میں رکھتے ہیں۔ہم صاحب تاثیر اسی بزرگ کوکہتے ہیں جو ہماری بیٹیوں کوجلد رخصت کروادے اورآج کچھ صاحب تاثیر ہیں کہ اپنی جدائی کیلئےدعاؤں میں نہ صر ف بخل کرتے ہیں بلکہ اس کے تصوّر سے بھی کانپ ا ٹھتے ہیں۔جدا ئی توایک دن ہوہی جانی ہے۔
ایک آدمی کاباپ فوت ہو گیا،وہ بڑارویا،بڑاپریشان ہوا! موت نے بڑاظلم کیا،اسے چین نہ آیا۔آخرکار اس نے ایک بزرگ استاد سے رجوع کیا۔اس نے جواب دیا”تم اتنے پریشان کیوں ہوتے ہو؟کچھ دنوں کی ہی توبات ہے تم بھی اپنے باپ کے پاس پہنچادیئے جاؤگے۔”بس یہی ہے موت کارازیا زندگی کا راز۔ہم کچھ عرصہ اپنی اولاد کے پاس رہتے ہیں اورپھراپنے ماں باپ سے جا ملتے ہیں۔بس یہ الگ بات ہے کہ بعض اچانک اورجلد اس سفرکو طے کر لیتے ہیں بلکہ ایک ہی جست میں ساری مسافت پھلانگ کرمنزل پرجاپہنچتے ہیں اوربعض اپنے مولا کے احکام کی بجا آوری میں مصروف رہتے ہیں۔بس! یہی موت اور زندگی کا فلسفہ ہے بلکہ ہرموت اپنے لواحقین کیلئےیہ پیغام چھوڑ جاتی ہے کہ جلد یابدیرآپ نے بھی مجھے وہاں آکرملناہے۔جہا ں ہم سب بے بس اپنے مولاکی مغفرت کے منتظر ہوں گے۔
ذرااس حقیقت پربھی غورکریں کہ کتابِ زندگی کے ورق برابرالٹ رہے ہیں ہرآنے والی صبح ایک نیا ورق الٹ دیتی ہے یہ الٹے ہوئے ورق بڑھ رہے ہیں اورباقی ماندہ ورق کم ہورہے ہیں اورایک دن وہ ہوگاجب ہم اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہوں گے، جونہی آنکھیں بند ہوں گی یہ کتاب بھی بندہو جائے گی اور ہماری یہ تصنیف محفوظ کردی جائے گی…کبھی غورکیا اس کتاب میں ہم کیا درج کررہے ہیں،روزانہ کیا کچھ لکھ کرہم اس کاورق الٹ دیتے ہیں ہمیں شعورہویانہ ہو ہماری یہ تصنیف تیارہورہی ہے اورہم اس کی ترتیب وتکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس میں ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو ہم سوچتے ہیں دیکھتے ہیں سنتے ہیں اورسناتے ہیں اس میں صرف وہی کچھ نوٹ ہو رہا ہے جوہم نوٹ کررہے ہیں،اس کتاب کے مصنف ہم خودہیں ۔ذرا سوچیں…غورکریں کہ ہم اپنی کتابِ زندگی میں کیا درج کر رہے ہیں جبکہ میرے آقاکے ایک فرمان کے مطابق ملک الموت ہرروزہرذی نفس کے گھرکر دروازے پرتین مرتبہ یہ منادی کرتاہے کہ”میں تمہارے گھرمیں باربارآتارہوں گا،یہاں تک کہ تم میں سے کسی کوبھی باقی نہ چھوڑوں گا۔”
یہ الفاظ اس کے ہیں جوہرگھر،ہرعالیشان محفل اورہراس جگہ آتا ہے جہاں کوئی متنفس رہتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کے پاس ملک الموت نے نہیں آنا۔ہرایک کے پاس آناہے،شاہ وگدا کے پاس بھی،امیروغریب کے پاس بھی،صحت منداوربیمارکے پاس بھی،نبی اورولی کے پاس بھی،کوئی حاجب ودربان،کوئی چوکیداراورپہرے داراورکوئی تالہ ودروازہ اسے اندرجانے سے نہیں روک سکتا۔
حافظ ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ملک الموت ہرگھر میں تین مرتبہ روزانہ چکرلگا کردیکھتے ہیں کہ کس کارزق پوراہوگیا، کس کی مدت عمر پوری ہوگئی۔جس کارزق پوراہوجاتاہے۔اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اورجب اس کے گھروالے اس کی موت پرروتے ہیں توملک الموت دروازے کی چوکھٹ پرکھڑے ہوکرکہتے ہیں۔”میراکوئی گناہ نہیں۔مجھے تواسی کاحکم دیاگیاہے۔واللہ!میں نے نہ تواس کارزق کھایااورنہ اس کی عمر گھٹائی ،نہ اس کی مدت عمرسے کچھ حصّہ کم کیا۔ میں تمہارے گھروں میں باربارآتا رہوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑوں گا۔”
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اگر میت کے گھر والے ملک الموت کا کھڑا ہونا دیکھ لیں اور اس کا کلام سن لیں تواپنی میت کو بالکل بھول جائیں اور اپنے اوپررونا شروع کردیں۔
محترم ومرحوم افضل صاحب اس فانی دنیاسے داربقاء کی طرف تشریف لے گئے ہیں۔اس عا رضی زندگی کی بہاروں اور گلوں کی خوشبو سے منہ موڑکردا یٔمی بہار،سدا خوشبوؤں ومہک کے گلستانوں میں براجمان ہو گے ہیں۔اپنے ہرتعّلق رکھنے والوں کو چھوڑکراپنے مولا کے ساتھ مضبوط تعلق ورشتہ جوڑچکے ہیں اورپھر موت توکوئی نئی چیزنہیں۔ موت ہرایک کو آنی ہے۔موت کے قا نون سے نہ توکوئی نبی مستثنیٰ ہے نہ کوئی ولی۔جوبھی آیا ہے اپنا وقت پورا کرکے اس دنیا سے رخصت ہوجاتاہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ہم سب اس کی امانت ہیں ، پھرکس کی مجال جواس میں خیانت کرسکے۔موت لکھی نہ ہوتوموت زندگی کی خودحفاظت کرتی ہے اور جب مقدرہوتوزندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے۔زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مرنہیں سکتا۔
انتہائی پیاری ماں!میرا کریم رب یقیناً ان سے بڑا فیاضانہ سلوک فرمائیں گے اوریقیناًمرحوم کاجمعتہ المبارک کے روزاپنے رب سے جاملناایک بہت ہی نیک فال ہے اوروہ اپنے تمام حسنات کے طفیل بہت ہی شاداں اورفرحاں ہوں گے۔آپ نے زندگی بھر اپنے ربّ کریم سے کئی مناجات کی ہوں گی اوریقیناً میرا کریم رب اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کوضرورقبول کرتا ہے۔ ربّ رحمان سے میری دعا ہے کہ آپ سب کو اس دنیااورآخرت میں اس صبر کا بہت ہی احسن نعم البدل عطا فر مائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اورروزِ جزاکے دن ہمارے اورآپ سب کے آقاختم الرسولﷺکے دستِ مبارک سے حوضِ کوثرپر شفاعت کاپروانہ نصیب ہواور ہم سب کو بھی موت کی تیّاری کی فکر نصیب فرمائے۔آ مین
رب العزت کی بارگاہ میں مرحوم کے درجات کی بلندی اوراس دعاکے ساتھ آپ سے اجازت چاہتاہوں کہ بارالہ۔۔۔ہماری جنت کااپنی جنت میں خوب خیال رکھنا۔ میری طرف سے بالخصوص ان کی اکلوتی بیٹی کوخصوصی پرسہ دینے کی درخواست ہے۔میرے مرحوم والدصاحب فرمایاکرتے تھے کہ جس طرح باپ اپنی بیٹیوں کورخصت کرتاہے،اسی طرح صرف بیٹیاں ہی اپنے والدین کے جنازے کواپنے غم بھرے آنسو ؤ ں اوردعا ؤ ں سے سجاکردائمی منزل کی طرف رخصت کرتی ہیں۔میری آنکھوں میں وہ لمحات ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگئے ہیں جب مسجد میں ان کی آخری زیارت کے وقت ان کے تابوت پرتختہ کھینچ کران کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے بظاہرہماری آنکھوں سے اوجھل کردیاگیالیکن وہ لمحات ہمیں ہماری موت کویاددلاتے رہاکریں گے۔اللہ تبارک تعالیٰ آپ سب کواس صدمہ کوبرداشت کرنے کی توفیق عطافرمائے،اس کادنیاوآخرت میں بہترین اجرعطافرمائے،آپ سب کوآئندہ زندگی میں خوش وخرم رکھے اور دونوں جہانوں کی تمام نعمتوں سے سرفرازفرمائے۔ آ مین۔ ربّ العزت ہمیں دنیاکے تمام امتحانات میں سرخروفرمائے اورروزِ قیامت اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے محفوظ فرمائے۔ثم آمین
ان چند اشعارکے ساتھ اجازت چاہتاہوں:
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا
زیادہ کس سے کہوں اورکس کوکم ،بولو
تم اہل خانہ رہے اور میں یتیم ہوا
تمہارادرد بڑاہے یا میراغم بولو
تمہارا دورتھا گھر میں بہارہنستی تھی
ابھی تودرپہ فقط رنج وغم کی دستک ہے
تمہارے ساتھ کاموسم بڑا حسین رہا
تمہارے بعد کا موسم بڑا بھیانک ہے
ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے
مجھے وہ قرض چکانے کا موقع تودیتے
تمہاراخون مرے جسم میں مچلتا رہا
ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تودیتے
بڑے سکون سے تم سو گئے وہاں جا کر
یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھرمیں
ہر ایک شب میں فقط کروٹیں بدلتا ہوں
تمہاری قبر کے کنکر ہوں جیسے بستر میں
میں بوجھ کاندھوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں
تمہارا جیسے جنازہ اٹھا کے چلتا تھا
یہاں پہ میری پریشانی صرف میری ہے
وہاں کوئی نہ کوئی کاندھا توبدلتا تھا
تمہاری شمع تمنا بس ایک رات بجھی
چراغ میری توقع کے روز بجھتے ہیں
میں سانس لوں بھی تو کیسے کہ میری سانسوں میں
تمہاری ڈوبتی سانسوں کے تیر چبھتے ہیں
میں جب بھی چھوتا ہوں اپنے بدن کی مٹی کو
تو لمس پھر اسی ٹھنڈے بدن کا ہوتا ہے
لباس روز بدلتا ہوں میں بھی سب کی طرح
مگر خیال تمہارے کفن کا ہوتا ہے
بہت طویل کہانی ہے میری ہستی کی
تمہاری موت تو اک مختصر فسانہ ہے
وہ جس گلی سے جنازہ تمہارا نکلا تھا
اسی گلی سے مرا روز آنا جانا ہے
میں کوئی راہ ہوں تم راہ دیکھنے والے
کہ منتظر تومراپرنہ انتظارمرا
تمہاری موت مری زندگی سے بہتر ہے
تم ایک بار مرے میں تو بار بار مرا
فی امان اللہ
والسلام،خیراندیش واحقر
سمیع اللہ ملک

اپنا تبصرہ بھیجیں