کہاں سوگیاضمیرہمارا

:Share

کون نہیں جانتاکہ مقبوضہ کشمیرمیں پچھلی سات دہائیوں سے زائدمتعصب بھارتی ہندو درندوں کے مظالم برداشت کرنے والے مظلوم ومقہور کشمیری اہالیان پاکستان کواپنا بھائی،دوست،محسن اوروکیل سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے تمام معاملات میں نہ صرف گہری دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ ہروقت پاکستان کیلئے سلامتی اورخیرکی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔کشمیری عوام پاکستانی عوام سے کبھی لاتعلق نہیں رہتے یا یوں کہنا زیادہ بہترہوگاکہ یہ ان کی سرشت میں ہی نہیں کہ وہ خودکوپاکستان سے الگ سمجھیں۔کشمیریوں کوپاکستان میں انتخابی مہم اورگہما گہمی سے قریب قریب اتنی ہی دلچسپی رہی جتنی پاکستانی عوام کوبلکہ کوئی دن ایسانہیں جب مجھے ڈھیروں تعدادمیں ای میلزاورواٹس ایپ پر پاکستان کی جاری صورتحال پران کی فکرانگیزاوردعاؤں سے لبریزپیغامات موصول نہ ہوتے ہوں۔کشمیری قوم کی نظر میں مسلسل پاکستان کے انتخابات پرمرکوزرہیں مگرجب انہوں نے دیکھاکہ اس دوران میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے منشورمیں کشمیرکو مناسب حیثیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی توانہیں شدید دکھ ہوااوربعض حوالوں سے ان کااظہارِ ناراضگی بھی سامنے آیااورمیرے پاس ان کے اس جائزگلے شکووں کوکوئی جواب بھی ماسوائے شرمندگی کے نہیں تھا۔
عیدین کے مواقع پرجب ہلال عید کی دیدکامبارک موقع آتاہے تواس وقت بھی کشمیری عوام بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں کہ یہاں چاندنظرآیاہے کہ نہیں،کشمیری بھائی بہنیں اپنی گھڑیاں بھی پاکستانی وقت کے مطابق رکھناپسندکرتے ہیں۔مجھے اس بات کاکئی مرتبہ اس وقت احساس ہواجب کبھی ان سے فون پربات ہوتی ہے تووہ ہمیشہ پاکستانی وقت کاحوالہ دیتے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں پاکستان زندہ بادکے نعرے گونجتے رہتے ہیں حتیٰ کہ شہادت کارتبہ پانے والے کشمیریوں کوپاکستانی سبزقومی پرچم میں لپیٹ کرسپردِ خاک کیاجاتاہے۔کشمیریوں پرسبز ہلالی پرچم لہرانے کے ”جرم”میں بغاوت کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں،انہیں گھروں سے جبراً اٹھاکرجیلوں کی کال کوٹھریوں میں ڈال دیا جاتا ہے،ان کے سینوں پربراہِ راست گولیاں برسائی جاتی ہیں،پیلٹ گن کے ظالمانہ استعمال سے اب تک سینکڑوں کشمیری نوجوان نوجوانوں اور بچیوں کو بصارت سے ہمیشہ کیلئے محروم کردیاگیاہے مگران کی پاکستان سے محبت اوروفامیں کمی آنے کی بجائے مزیدشدت پیداہوتی جارہی ہے جس نے مکارہندوبنئے کوزچ کرکے رکھ دیاہے۔
آج بھی ہم دیکھیں توکشمیرکی گلی کوچوں میں پاکستان کے قومی پرچم لہراتے نظرآتے ہیں اورجب کوئی کشمیری ظالم بھارتی درندوں کے ہاتھوں شہید ہوتاہے تواس کے جسدِ خاکی کوسبزہلالی پرچم میں لپیٹ کردفن کرنااعزازسمجھاجاتاہے۔انتخابات پاکستان میں ہورہے تھے توکشمیرکی گلی کوچوں میں یہ موضوع زدِعام تھااورہرمردوزن جانناچاہتاہے کہ پاکستانی انتخابات میں کون جیت رہاہے اورآئندہ حکومت کون بنارہاہے؟ کشمیری قیادت اورعوام میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورزیرِ بحث رہے ،کشمیری عوام اتنی باریک بینی سے صورتحال کومانیٹرکرتے رہے کہ انہیں یہ تک معلوم تھاکہ پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت نے اپنے منشورمیں کشمیرکاذکر کیاہے، کیابھی ہے یانہیں اوراگرکیاہے توتنازع کشمیرکوکیا اہمیت اورحیثیت دی ہے۔
مقبوضہ کشمیرمقبوضہ کشمیرکی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم حریت کانفرنس سمیت ودیگرکشمیری جماعتیں اس بات پرسخت ناراض ہیں کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنے منشورمیں کشمیرکوجس طرح سے ترجیحی حیثیت دیناتھی وہ نہیں دی گئی۔کشمیری تنظیموں نے تومحبت بھرے اندازمیں اس کاصرف شکوہ ہی کیالیکن بھارتی میڈیانے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکرکشمیری عوام کوبددل کرنے کیلئے ایک منظم پروپیگنڈہ کی مذموم ومسموم مہم چلائے رکھی۔ بھارتی الیکٹرانک وپرنٹ میڈیاکی جانب سے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری اب پاکستان کے چہیتے نہیں رہے۔اپنے آپ کوبڑی سیاسی جماعت قراردینے والی مسلم لیگ ن نے اپنے انتخابی منشورمیں کشمیرپرصرف دوسطریں لکھی ہیں۔عمران خان کی پی ٹی آئی نے بھی اپنے منشورمیں صرف دودفعہ ہلکااورواجبی ساذکرکیاہے جبکہ بلاول بھٹوجواپنی جماعت پیپلز پارٹی کا چالیس صفحات کامنشورلہراتے ہوئے سارے ملک میں انتخابی مہم میں مصروف رہے،ان کا منشور بھی عمران خان کی پارٹی سے کوئی مختلف نہیں تھا۔
اسی طرح مذہبی جماعتوں کے نمائندوں ومتحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے)سے متعلق بھی کہاگیاہے کہ اس نے توکشمیرکانام تک نہیں لیاالبتہ حافظ محمد سعید جوکشمیریوں کے حق میں بات کرنے والی پاکستان کی سب سے زیادہ مضبوط وتواناآوازسمجھی جاتی ہے،ان کی نومولودسیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے حوالے سے کہاگیاہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے منشورکے بنیادی نکات بلکہ اپنی انتخابی مہم میں بڑے زورشورسے کشمیرمیں ہونے والے بھارتی درندوں کی طرف سے ہونے والے مظالم ودہشتگردی اورپاکستانی دریاؤں پرڈیموں کی ناجائزتعمیرکونشانہ بنائے رکھاجس کے خلاف بھارتی چینلزبھی کافی زہراگلتے رہے اوران کی تقاریرکے مختلف حصوں کوچلاکرہرزہ سرائی کرتے رہے لیکن کشمیری عوام نے اسے اپنی دل کی آواز جانتے ہوئے حافظ محمدسعیدکو اپناصحیح ہمدرداورشریک غم سمجھا۔
بھارتی ٹی وی چینلزپاکستانی سیاسی جماعتوں کے منشورکے حوالے سے مسلسل زہراگلتے رہے اوریہ سلسلہ انتخابی مہم کے دوران اوراب بھی جاری ہے اورکہاجارہاہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کشمیرکواپنے انتخابی منشورمیں کم حیثیت دینے سے واضح ہوگیاکہ پاکستانی عوام کیلئے اب کشمیرکاتنازع اب کوئی اتنااہم نہیں رہا ہے جتناسیاسی رہنماء بتاتے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ کسی بھی پاکستانی سیاسی جماعت نے اپنے منشورمیں کشمیرکامسئلہ ابھی شامل بھی کیاہے تو محض ایک دوسطروں سے زیادہ کچھ نہیں لکھا۔بھارتی میڈیانے مزیدہرزہ سرائی کرتے ہوئے یہ بھی دہرایاکہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شدت پسندی اوردہشتگردی جیسے حالات پرضروربات کی ہے اوراسے ملک کیلئے بہت بڑاخطرہ قراردیا ہے لیکن کشمیرکے مسئلے پرچپ سادھ رکھی ہے۔
بھارتی میڈیانے اپنے مخصوص متعصب مقاصدکے تحت پروپیگنڈہ کرتے ہوئے مزیدکہاکہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کواس بات کابھی احساس ہے کہ بنیادی اورمقامی مسائل کو چھوڑکر کشمیرکا راگ الاپنانقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔شائدیہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں نے کشمیرکے مسئلے کوترجیح نہیں دی۔غاصب بھارت سرکاراوراس کامیڈیاہر وقت کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کمینی کوششوں میں مصروف رہتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں کیلئے بھی تویہ لمحہ فکرہے کہ آخران کی کوتاہ اندیش سیاسی حکمت عملی نے یہ روزبددکھایا۔بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کی وارداتوں پربھی جہاں پرکشمیری زخموں سے چورتھا،وہیں بھارتی میڈیاکی طرف سے یہ پروپیگنڈہ کیاجارہاتھا کہ یہاں کے لوگوں کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں جس کی وجہ سے سیاسی علیحدگی پسندی کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔حریت کانفرنس کے چیئرمین جناب سیدعلی گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق نے مستونگ تاپشاور،بنوں اوردیگر مقامات پرہونے والے بم دہماکوں میں سراج رئیسانی،ہارون بلوراوردیگرافرادکی شہادت اور متعدد افرادکے زخمی ہونے پرگہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے واضح طورپراسے گہری سازش قرار دیااورکہاکہ پاکستان کوسرحدپار دہشتگردی کاسامناہے اورایک سازش کے تحت انتخابات سے قبل پاکستان میں دہشتگردی کوہوادی گئی۔
پاکستان حق خوداردایت کے حصول کیلئے کشمیرکی پرامن جدوجہدکوتنازعہ کشمیرکے اہم فریق کی حیثیت سے سیاسی سفارتی اوراخلاقی محاذوں پر بھرپورحمائت فراہم کرنے کی کوشش کر رہاہے اس لئے بھی اسے عدم استحکام سے دوچارکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ عالمی امن واستحکام کیلئے پاکستان کامستحکم ہونا بے حدضروری ہے۔حریت قائدین کاکہناتھاکہ دہشتگردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا۔اپنے پیاروں کے بچھڑنے کادکھ اورصدمہ کشمیریوں سے زیادہ کون جان سکتاہے جنہیں ہر وقت بھارتی ریاستی دہشتگردی کا سامناکرناپڑرہا ہے۔ کشمیری قوم مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اوراس کے تحفظ کیلئے شب و روزدعاگوہے۔مقبوضہ کشمیرمیں حریت پسندقائدین اور کشمیریوں کواس وقت سخت ذہنی اذیت سےگزاراجارہاہے۔بزرگ قائدسیدعلی گیلانی کی طرح میرواعظ عمرفاروق ، محمدیاسین ملک، محمد اشرف صحرائی اوردیگررہنماؤں کومسلسل نظربندیوں کاسامناہے۔
دختران ملت مقبوضہ کشمیرکی سربراہ محترمہ سیدہ آسیہ اندرابی اورفہمیدہ صوفی کوتحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے سرینگرکی سنٹرل جیل سے نئی دہلی لیجایاگیا اوراب مقامی عدالت میں پیش کرکے ایک ماہ کاریمانڈحاصل کرکے تہاڑجیل دہلی میں بھیج دیاگیاہے جہاں ان کے ساتھ بدترین سلوک کیاجارہاہے۔ان تینوں محترم خواتین کوالگ الگ چھوٹے چھوٹے سیلوں میں بندکرکے جہاں ذہنی ٹارچردیاجارہاہے وہاں انہیں خوراک بھی آہنی لوہے کے دروازے سے نیچے پلاسٹک کے تھیلیوں میں دھکیل دیا جاتاہے جیسے یہ انسان نہیں بلکہ کسی خطرناک خونی جانورسے سلوک کیاجاتا ہے۔ سیدہ اندرابی شدیدعلیل ہیں اورانہیں اس وقت طبی سہولیات سے بھی محروم کردیاگیا ہے۔ناقص غذانے رہی سہی کس پوری کر دی ہے ۔ سیدہ آسیہ اندرابی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کوفوری مداخلت کی اپیل کی ہے کیونکہ ان کی زندگی کوسخت خطرہ لاحق ہوگیاہے۔ دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی پریوم پاکستان کے موقع پردوسری خواتین کوجمع کرکے سبزہلالی پرچم لہرانے میں یہ مقدمہ درج کیاگیاجس کی پاداش میں وہ اس وقت اپنی دوساتھیوں سمیت بھارتی سفاک درندوں کے مظالم برداشت کررہی ہیں اورآج تک پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کواللہ کی طرف سے اتنی بھی توفیق میسرنہیں ہوئی کہ وہ بھارتی درندگی پرکوئی احتجاجی آوازاٹھاسکیں اورنہ ہی ہمارے میڈیامیں کوئی ایسی تحریک اٹھی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کواس ظلم وستم کے خلاف آگاہ کرسکیں۔ نجانے کہاں سوگیاہے ضمیرہمارا۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے پرکشمیری رہنماؤں پرجھوٹے مقدمات قائم کرکے ان کی اندھا دھندگرفتاریاں جنگی ہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی حقیقت پوری دنیاپرواضح ہوچکی ہے۔ حریت پسندلیڈرشبیراحمدشاہ سمیت متعددکشمیری رہنماؤں کوپہلے ہی بھارتی جیلوں میں قید رکھاگیا اوراب دوسرے حریت پسندکشمیری لیڈروں،متحرک سیاسی کارکنوں، تاجروں،وکلاء اورصحافیوں پرمقدمات قائم کرکے انہیں جیلوں میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں اب عمران خان کوپاکستانی عوام نے اپنے اعتمادکاووٹ دیکر ملک کا اقتدارسونپاہے جوکلی طورپر رب العزت کی طرف سے پاکستانی عوام کی امنگوں کی امانت ہے اورپاکستانی عوام کادل ہمیشہ سے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتاہے۔ اب تک پاکستانی حکمران کشمیری بہن بھائیوں کی لازوال قربانیوں کے مقروض ہیں اورعمران خان کی جماعت کانام بھی تحریک انصاف ہے ،اس لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عمران خان سے اپنے منشورمیں جوغلطی یاکوتاہی ہوئی ہے ،اب یہ ان کافرض بنتاہے کہ اس کافوری ازالہ کریں۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ جب انتخابات کے غیرسرکاری نتائج سن کرانہوں نے بنی گالہ سے قوم سے مختصرخطاب کیاتھا،انہوں نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت تودی لیکن کیاہی بہترہوتاکہ اس کے ساتھ ہی کشمیرمیں انسانی حقوق کاتذکرہ کرتے ہوئے ان مجبورومقہورکشمیریوں پرمظالم کاتذکرہ کرتے ہوئے کم ازکم محترمہ آسیہ اندرابی اوران کی دوخواتین ساتھیوں کاذکرکرتے تومقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی نہ صرف دلجوئی ہوجاتی بلکہ بھارتی میڈیاجودن رات پاکستانی انتخابات میں سیاستدانوں اور جماعتوں کے منشورکاحوالہ دیکرکشمیریوں کی دل شکنی کر رہا ہے اس کامنہ توڑجواب تو چلاجاتا۔
عمران خان کی حکومت کو ایک اوربہت بڑاسنگین چیلنج مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی وہ گھنائونی سازش ہے۔ مودی حکومت سازشوں میں مصروف ہے کہ بھارتی آئین موجود یہ حفاظتی دیوارگراکر کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار یہاں بساکر کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کردیاجائے اوربعدازاں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پرعمل درآمدکرکے رائے شماری کانتیجہ اپنے حق میں کروالیاجائے۔ ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور حکومت میں1927ء سے 1932ء کے درمیان مرتب کیے گئے قوانین کو1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیاتھاگویا انڈین آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ اے35کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا،یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتااورنہ کشمیرمیں آزادانہ طورسرمایہ کاری کرسکتا ہے۔
ہندو قوم پرست جماعت(بی جے پی)گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود ان تمام حفاظتی دیواروں کوگراناچاہتی ہے جو جموں کشمیرکودیگربھارتی ریاستوں سے منفردبناتی ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کئی سال سے ہورہی ہے اور اکثر اوقات سماعت مؤخرہوجاتی ہے۔ آئینی ماہرین کاکہناہے کہ اگرکوئی فردیا جماعت آئین کی کسی شق کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرے تو حکومت ہند عدالت میں اس کا دفاع کرتی ہے لیکن مودی ی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔
اس لئے اب یہ انتہائی ضروری ہوگیاہے کہ اقتدارسنبھالتے ہی پہلی تقریرمیں بھارتی سازش کوناکام بنانے کے عملی عزم کااعلان کیاجائے اورکشمیری لیڈروں،طلباء،صحافیوں اوردیگر آزادی پسندوں پرمقدمات کے اندراج،انہیں جیلوں میں ڈالنے اورخوف وہراس پھیلانے کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں اورعالمی قوتوں پردباؤ بڑھایاجائے کہ وہ نہتے کشمیریوں پربھارتی ظلم وبربریت کانوٹس لیتے ہوئے جنت ارضی کشمیرسے بھارتی درندوں کا فوجی تسلط ختم کرانے کیلئے فوری بھرپور کرداراداکرے۔کشمیری تحریک حریت اورقیدوبندکے مصائب جیلنے والی خواتین،مردوں اور نوجوانوں میں قدرتی طورپرپاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورمیں مسئلہ کشمیرپرسردمہری دیکھ کرتاسف کی جولہرپیداہوئی ہے ،اس کاازالہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جس طرح کشمیری بہن بھائی پاکستان کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہتے ہیں اسی طرح پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ جدو جہد آزادیٔ کوکامیاب بنانے کیلئے مؤثرسفارتی وسیاسی کرداراداکیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں