Treatment Of Obsessive India

جنونی بھارت کاعلاج

:Share

بھارت گزشتہ دنوں پھردنیاکی توجہ کامرکزرہا،وجہ اس کااسلام فوبیاتھا۔مودی جنتاکے چہیتے اوربی جے پی کے میڈیاونگ کے دو رہنماؤں نوپورشرما اورنویدجندل نے پیغمبراسلام ﷺ سے متعلق متنازع اوربیہودہ بیانات دیکرعالم اسلام کادل بری چھلنی کیا ہے۔اس متنازعہ بیان کامعاملہ بین الاقوامی سطح پربھی اٹھ رہاہے اوراسلامی ممالک کے بڑھتے ہوئے غصے کودیکھ کر انڈیااسلامی دنیامیں اپنے دوست ممالک کووضاحتیں دینے پرمجبورہو گیاہے۔قطرکی وزارت خارجہ نے دوحہ میں انڈیاکے سفیردیپک متل کوطلب کرکے باقاعدہ سرکاری نوٹ حوالے کیاجس میں انڈیاسے سخت ناراضگی کااظہارکرتے ہوئےمعافی مانگنے کامطالبہ کیا ہے جبکہ کویت اورسعودی عرب نے بھی اس معاملے پرشدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انڈین سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

سعودی عرب،اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی)قطر،کویت اوردیگرعرب ملکوں نے انڈیاکی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی خاتون ترجمان نوپور شرمااورنویدجندل کی جانب سے ٹی وی مباحثے کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف تکلیف دہ تبصرے کی شدیدمذمت کی ہے۔سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے اتوارکوبیان میں کہا کہ”سعودی عرب، بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے پیغمبر اسلام کی توہین پرمشتمل بیان کی شدید مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب نے دین اسلام کی مقدس ہستیوں کی توہین کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔آج بھی یہ موقف ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔ سعودی عرب تمام مذاہب کی مقدس شخصیات اور مذہبی علامتوں کی توہین کو مسترد کرتا ہے۔وزارت خارجہ نے اس عزم کااعادہ کیاکہ”سعودی عرب تمام مذاہب اوران کے عقائد کے احترام پرزوردیتاتھا،ہے اوررہےگا”۔

اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) نے انڈیا کی حکمراں جماعت کے عہدیدار کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کی۔ایس پی اے کے مطابق اوآئی سی نے بیان میں کہاکہ”بی جے پی کے عہدیدارنے پیغمبراسلام کی شان میں جوگستاخی کی ہے وہ انڈیا میں اسلام کے خلاف نفرت اوراسے بدنام کرنے والی شدت پذیرمہم کاایک حصہ ہے۔انڈین مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بنداقدامات کیے جارہے ہیں۔متعددصوبوں کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی،مسلمانوں کی املاک منہدم کرنے والے اقدامات اوران پربڑھتے ہوئے تشددکے واقعات کے سلسلے کی کڑی ہے۔اوآئی سی نے انڈین حکام کومتنبہ کرتے ہوئے مطاالبہ کیاکہ وہ اسلام کے خلاف ہرطرح کی ہرزہ سرائی اورتوہین آمیزاقدامات کاسختی سے نوٹس لیں۔ اشتعال پھیلانے والوں اورمسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اورتشددکے جرائم کرنے والوں کوعدالت میں پیش کریں اوران کی پشت پناہی کرنے والوں کااحتساب کیاجائے۔مسلمانوں کے حقوق اوران کی مذہبی وثقافتی شناخت،ان کے وقاراوران کی عبادت گاہوں کے تحفظ کویقینی بنائیں”۔ اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیاکہ”وہ انڈین مسلمانوں کے خلاف تشددبند کرانے کیلئے ضروری اقدامات اورانسانی حقوق کونسل خصوصی کاروائی کرے۔

بی جے پی رہنماؤں کے تبصروں سے کئی مسلم ممالک میں غم وغصے کی لہردوڑگئی ہے۔ پاکستان کےوزیراعظم شہبازشریف اورعمران خان کے علاوہ دیگرپاکستان کی دینی اورسیاسی جماعتوں نے بھی بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے ہمارے پیارے نبی کے بارے میں تکلیف دہ تبصرہ کی شدیدترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔مودی کے زیرقیادت مذہبی آزادیوں کوکچلااور مسلمانوں کوظلم کا نشانہ بناناایک معمول بن گیاہے۔پیغمبراسلام کے ساتھ ہماری محبت سب سے بالاترہے اورپیغمبرکی محبت اورناموس کیلئے تمام مسلمان اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

بھارت کسی نہ کسی بہانے عالمی میڈیامیں اِن رہتا ہے،کبھی گولڈن ٹیمپل،کبھی بابری مسجدپرحملے کی وجہ سے،گجرات یا اڑیسہ جیسے واقعات اورکبھی اندراگاندھی، راجیو گاندھی کے قتل کی وجہ سے یا کبھی اپنے ہاں کی اقلیتوں سے ان کی شہریت ختم کرنے کے قوانین متعارف کروانے کی وجہ سے یااپنی ابھرتی ہوئی معیشت یادن بدن بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے،کبھی کسی فلم ،ثقافت یاتہوارکی وجہ سے اوراب مسلسل اپنے ہاں اقلیتوں پربیجا ظلم وستم ڈھانے،اپنے ہاں تمام اقلیتوں کودوبارہ ہندومذہب میں جبراًداخل کرنے کی شدھی تحریک کےدوبارہ آغازسے انسانی حقوق کوبری طرح پامال کرنے کے مکروہ طریقوں سے دنیا بھر میں اپنامنہ پرکالک ملنے کی بدنامی کی وجہ سے عالمی میڈیامیں اس کاچرچاہے۔

بھارت کے کئی روپ ہیں۔معیشت کے حوالے سے ماہرین کے مطابق مستقبل میں چین کے بعدیہ دنیاکی سب سے بڑی معیشت ہوگی۔اس وقت اس کی جی ڈی پی تین اعشاریہ 535ٹریلین ڈالرہے۔اس کی صنعتی ترقی کی رفتار11.8فیصد سالانہ ہے جوکہ چین کے بعددنیامیں تیزترین شائدہی ہے۔اس کے پاس زرِمبادلہ کے ذخائر593.28بلین ڈالرکے ہیں جودنیامیں پانچویں نمبرپرہیں۔ کوئی ملٹی نیشنل کمپنی ہوگی جس کاکارخانہ یادفتر بھارت میں نہ ہو۔اس کے تجارتی علاقے اورشاپنگ سنٹریورپ اورامریکاکا مقابلہ کررہے ہیں۔غیرملکی سرمایہ کاروں کوسرمایہ کاری کرنے کیلئے اب مزید مواقع نہیں مل رہے ہیں، آئی ٹی کی صنعت اپنے عروج پرہے۔اس کی یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ آئی ٹی ماہرین،معاشی ماہرین وغیرہ تیار کر رہی ہیں جو کہ نہ صرف ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ پوری دنیامیں ان کی مانگ ہے۔

اس کے بڑھتے ہوئے موٹرویز،تیزرفتارریلویز،جدیدانٹرسٹی ٹرانسپورٹ سسٹم،مصروف ترین ایئرپورٹس اوربندرگاہیں اس کی معاشی ترقی کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔تاریخی عمارتیں خاص کرتاج محل اوردیگرسیاحتی علاقے دنیابھرکے سیاحوں کی توجہ کا مرکزہیں۔انڈین فلموں نے دنیاکواپنے سحر میں لیاہواہے،اس کی فلمی صنعت ہالی وڈکے بعددنیاکی دوسری بڑی فلمی صنعت ہے اورتوقع کی جارہی ہے کہ جلدہالی وڈکو بھی پیچھے چھوڑجائے گی ۔ اس کے رائٹرزنے بھی دنیامیں ایک مقام بنایا ہواہے جن کی باتیں دنیامیں پڑھی اورسنی جاتی ہیں۔

اسی بھارت کے53کروڑ68لاکھ شہری خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں جودنیامیں کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔ دنیابھر میں96کروڑ30 لاکھ انسان بھوک کاشکارہیں جن میں21کروڑسے زیادہ بھارتی ہیں جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہیں، اس کے9کروڑ23لاکھ بچے غذائی قلت کاشکار ہیں جودنیامیں سب سے بڑی تعدادہے اوراسی طرح دنیامیں58لاکھ40 ہزار بچے ہرسال مرجاتے ہیں جن میں25لاکھ سے زائد تعدادبھارتی بچوں کی ہے جوکسی بھی ملک سے بہت زیادہ ہے۔دنیا میں ایک ارب21کروڑ16لاکھ 52ہزارانسانوں کوپینے کاصاف پانی میسرنہیں ہے جن میں سے41کروڑسے زائدبھارتی ہیں جو کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہیں۔دنیاکے دوارب60کروڑ10لاکھ انسانوں کوصحت وصفائی کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جن میں بھارتیوں کاحصہ62کروڑ65لاکھ سے زائدہے (بعض اداروں کے مطابق ایک ارب دس کروڑہے)جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔

دنیابھرمیں4کروڑ20لاکھ لوگ ایڈزکاشکارہیں جن میں سے61 لاکھ 90 ہزاربھارتی ہیں جوکہ دنیاکے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔ بھارتی سرکار کے مطابق ان میں سے ہر سال5لاکھ سے زائدہرسال مرجاتے ہیں۔دنیابھرکے20کروڑٹی بی کے مریضوں میں سے 47 لاکھ بھارتی ہیں جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہیں،ان میں سے5لاکھ کے قریب ہرسال مرجاتے ہیں جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔دنیامیں ہرسال5لاکھ 25ہزار6سو خواتین زچگی کی حالت میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں جن میں سے 98ہزار بھارتی خواتین ہیں جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔بھارت کے43کروڑ افراد اب بھی ناخواندہ ہیں جودنیامیں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے5کروڑبچے تعلیم سے اب بھی محروم ہیں اور3 کروڑ فٹ پاتھوں پررہتے ہیں جوکسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔ہر سال اس کے سوالاکھ انسان خودکشی کرتے ہیں اورایک لاکھ50ہزارخواتین جہیزنہ لانے پرقتل کردی جاتی ہیں۔ جہاں43 کروڑافرادناخواندہ ہیں،جہاں5کروڑسے زائدبچے تعلیم سے محروم اور3کروڑ سے زائدبچے فٹ پاتھوں پررہتے ہیں،وہیں 70.60ارب امریکی ڈالرزسالانہ دفاع پرخرچ ہوتے ہیں۔ 14لاکھ فوج،11لاکھ 55ہزارریزروفوج اور12لاکھ93ہزارپیرا ملٹری فوج کاخرچہ برداشت کیاجاتا ہے ۔ان کومؤثربنانے کیلئے4300 ٹینک، 8700آرمڈوہیکل،1260لڑاکا فوجی طیارے،ایک ایئر کرافٹ کیریئر اور60ایٹم بم بھی ہیں۔ان سے بھی دل نہیں بھرا تو اسرئیل سے تین جدید ترین اواکس جنگی طیارے اورفرانس سے رافیل طیارے حاصل کرکے جنگی جنون کوتسکین پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس انتہائی پسماندگی کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ جوکچھ بھارت میں ہوتاہے،مہذب دنیامیں اس کاتصوربھی نہیں ہے۔20کروڑ اچھوت جانوروں سے بھی زیادہ بدترزندگی گزارنے پرمجبورہیں جن کوبنیادی انسانی حقوق دیناتودورکی بات انسان تک نہیں سمجھاجاتاہے۔27کروڑمسلمانوں کاحال تواچھوتوں سے بھی بدترہے۔ انتہاپسندہندوجماعتوں کے23لاکھ سے زیادہ جنونی کارکن ہیں جنہوں نے پورے بھارت میں اقلیتوں کاجینادوبھرکیا ہواہے۔ہندومسلم فسادات روزکامعمول ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے سکھوں سے مل کرتقسیم کے وقت فسادات اورہجرت کے دوران10لاکھ مسلمانوں کاقتلِ عام کیا،بعدمیں تاریخی بابری مسجد اور ہزاروں مسلمانوں کوشہیدکردیا،گجرات میں درندہ صفت وزیرِاعلیٰ نریندرمودی کی حکومتی سرپرستی میں5ہزارمسلمانوں کودن دیہاڑے شہیدکردیاگیاجس میں ڈھائی ہزارکوزندہ جلادیاگیا،ان کی املاک کولوٹااورجلایاگیااوران کاروائیوں پرفخرکرتے ہوئے اورمزیدکرنے کاعہدکیاگیا۔اس قتلَ عام میں مودی نے سرکاری مشینری کاکھلے عام استعمال کیااورجس انسان دشمن وزیراعلیٰ نریندرمودی کی سرپرستی میں یہ ظلم وستم کاڈرامہ کھیلاگیااسے کوئی عبرتناک سزادینے کی بجائے دیوتاکامقام دیا گیا۔ ان فسادت اورظلم وستم میں ملوث سرکاری اداروں کے سپاہیوں کوجہاں فرض شناسی اوربہادری کے انعامات اور ترقیوں سے نوازاگیاوہاں اس درندہ صفت مودی کوملک کا وزیر اعظم بنادیاگیا۔

ہندوستان میں 2020 کے کوروناوائرس وبائی امراض کے معاشی اثرات نے بھی بڑے پیمانے پرخلل ڈالاہے۔وزارت شماریات کے مطابق مالی سال 2020کی چوتھی سہ ماہی میں ہندوستان کی نموکم ہوکر3.1فیصدرہ گئی ہے۔حکومت ہندکے چیف معاشی مشیرنے کہاکہ اس کمی کی بنیادی وجہ ہندوستانی معیشت پرکوروناوائرس وبائی اثرات ہیں۔خاص طورپرہندوستان میں بھی وبائی امراض کی کمی کاسامنارہاہے اورعالمی بینک کے مطابق موجودہ وبائی املاک نے”ہندوستان کے معاشی نقطہ نظر کیلئےپہلے سے موجودخطرات کوبڑھادیاہے”۔

ورلڈبینک اورریٹنگ ایجنسیوں نے ابتدائی طورپرمالی سال2021میں ہندوستان کی نمومیں نظرثانی کی تھی جس کی مددسے 1990کی دہائی میں ہندوستان کی اقتصادی لبرلائزیشن کے بعدہندوستان نے تین دہائیوں میں خسارہ کی حدودکوچھولیاہے تاہم وسط مئی میں معاشی پیکیج کے اعلان کے بعد،ہندوستان کے جی ڈی پی کے تخمینے کومنفی اعداد و شمار میں اوربھی گھٹا دیا گیا،جوایک گہری مندی کا اشارہ ہے۔(اس عرصے کے دوران30سے زیادہ ممالک کی درجہ بندی کو کم کیا گیا ہے)26مئی کو کرسیل نے اعلان کیاکہ یہ شایدآزادی کے بعدسے ہندوستان کی بدترین کساد بازاری ہوگی۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تحقیق میں میں جی ڈی پی میں40فیصدسے زیادہ کے سنکچن ہونے کاتخمینہ لگایاگیاہے۔یکم ستمبر2020کو،وزارتِ شماریات نے مالی سال21کیلئےجی ڈی پی کے اعدادوشمارکو جاری کیا(جس میں اپریل سے جون)مالی سال21تھا،جواس سے پہلے کے اسی عرصے کے مقابلے میں24فیصدکی کمی کامظاہرہ کرتاتھااوراس کے بعداب تک بتدریج جی ڈی پی روبہ زوال ہے۔

نریندرمودی نے جب ایک سخت کوروناوائرس لاک ڈاؤن نافذکیاتوجون کی اختتامی سہ ماہی میں ہندوستان کومعیشت میں 23.9 فیصدگراوٹ کاسامناکرناپڑاجس نے بھارتی صتعتکاروں کوہلاکررکھ دیااوراب تک بھارتی حکومت اپنے وعدے کے مطابق ان کے نقصانات کاازالہ کرنے سے قاصرہے۔بیشترتجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے مقابلے میں مجموعی گھریلو مصنوعات کا سلسلہ بالکل ٹھپ ہوکررہ گیاہےجس سے جہاں بیروزگاری میں اضافہ ہواوہاں بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ایک اندازے کے مطابق مودی جنتاکی غلط پالیسیوں کی بناءپر165ملین افرادبیروزگارہوئے۔

ادھردوسری طرف متعصب ہندوپالیسیوں کایہ حال ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں1988ءکے بعداب تک ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کوشہیدکر دیا گیاہے۔حال ہی حریت رہنماء یٰسین ملک کوایک جعلی مقدمے میں عمرقیدکی سزاسنادی گئی جبکہ اس سے قبل آسیہ اندرابی اوراس کے شہردنیاکی بدترین زندانوں میں ہرقسم کے انسانی حقوق سے محروم دنیاکے انسانی حقوق کے چیمپئن ملکوں کے ضمیرپربھی ایک بدنماداغ کی طرح کچوکے لگارہے ہیں۔اڑیسہ میں40ہزارسے زائدعیسائی گھرانوں کو انتہائی ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا جو نقل مکانی پرمجبورکر دیئے گئے۔ان کے گھر بار لوٹ لئے گئے، سینکروں گھر جلا دیئے گئے،پادریوں اور ننوں کو زندہ جلا دیا گیا۔کئی ہزار عیسائی اپنی جان بچانے کی غرض سے ہفتوں جنگل میں چھپے رہے۔صرف ناگالینڈ ریاست میں1948ء سے لیکر آج تک تین لاکھ عیسائی اور ڈھائی لاکھ سکھوں کو قتل کر دیا گیاہ ے۔انتہا پسندجنونی ہندوؤں کے ظلم وستم سے تنگ آ کران کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کیلئے اس وقت بھارت کی22ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن کے خلاف بھارت کی8لاکھ سے زائد فوج لڑرہی ہے،صرف شمال مشرقی ریاستوں اورمقبوضہ کشمیرمیں195تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔صرف منی پور میں39 اور آسام میں36تنظیمیں آزادی کی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ملک کے تقریباً چالیس فیصدحصے پرماؤ نواز باغیوں کا قبضہ ہے۔

کاش!جنونی ہندو کو یہ بات کوئی سمجھائے کہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے، پاکستان کو سبق سکھانے،اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے،کشمیر پر بزور طاقت قابض ہونے،آزادی کی تحریکوں کوبزور قوت ختم کرنے اور اقلیتوں کو غلام بنانے کی غرض سے سالانہ 28کھرب روپے فوج اور اسلحے پر خرچ کرنے کی بجائے کشمیر کو آزاد اور پاکستان کو صدقِ دل سے قبول کرلے اوریہ خطیر رقم اپنی ننگی بھوکی عوام کی فلاح و بہبود پرخرچ کرے۔اس رقم سے اپنے53 کروڑ68 لاکھ شہری جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اورغربت کے ہاتھوں روزانہ مر رہے ہیں،ان بھوکے افراد کے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرے،سالانہ9کروڑ 23لاکھ بچے جو غذائی قلت کا شکار ہیں اورسوا لاکھ کسانوں کو مرنے سے بچائے،اپنے 60 کروڑ 10لاکھ انسانوں کو صحت و صفائی کی سہولتیں فراہم کرے،61 لاکھ 90ہزار بھارتی ایڈز اور 47لاکھ ٹی بی کے مریضوں کو مرنے سے بچائے۔ 5کروڑ بچے جو تعلیم سے اب بھی محروم ہیں اور 3کروڑسے زائد بچے جو فٹ پاتھوں پر رہتے ہیں،ان کی تعلیم اور ان کو چھت فراہم کرنے کا بندوبست کرے۔یہ نہ صرف اس کے اپنے ایک ارب15 کروڑ عوام بلکہ خطے کے ڈیڑھ ارب اور دنیا کے6 ارب 79کروڑ لوگوں پر احسانِ عظیم ہو گا،نہیں تو جہاں بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتاہ ے وہاں یہ بھی کہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف، تعصب پرست،عیار، مکار، چور، بھوکا، غریب ترین ان پڑھ اور جاہل ملک بھی ہے،کیونکہ یہ بھی تو اسی کی خصوصیات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں