چھٹی کادودھ

:Share

پچھلے چندہفتوں سے مہنگے ڈالرنے پاکستانی معیشت کوچھٹی کادودھ یاددلادیاہے۔انٹربینک میں ڈالردوران ٹریڈنگ تاریخ کی بلندترین سطح کوچھو گیامگر مرکزی بینک کی مداخلت سے کچھ نیچے آگیا۔کاروباری ہفتے کے آخری روزانٹر بینک میں ڈالر8روپے اضافے سے تاریخ کی بلندترین سطح 142روپے پرٹریڈ کرنے لگا۔ڈالرکی قیمت بڑھنے سے اسٹاک مارکیٹ میں مندی کارحجان رہا۔100 انڈیکس میں 89پوائنٹس کی کمی کے بعد 40ہزار 540 پرکاروبارہوا۔ڈالرکی قدرمیں اضافے اورپاکستانی روپے کی قدرگرنے سے سونے کی قیمت میں فی تولہ ایک ہزارروپے تاریخ کابلندترین اضافہ ہوا ۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر 3 ڈالرکم ہوکر1122ڈالرفی اونس ہوگئی جبکہ درآمد کنندگان نے کھانے پینے اور گھریلو استعمال کی مختلف اشیاء کے دام بڑھنے کاعندیہ دیاہے۔خشک دودھ ،کھانے پکانے کاتیل، چائے کی پتی اوردالیں 5 سے 10 روپے کلوتک مہنگی ہوگئی ہیں اوراس بات کا خدشہ بھی ظاہرکیا جارہاہے کہ ڈالرکی قدر میں 18روپے کااضافہ ہواہے۔
وریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے عوام کوتسلی دیتے ہوئے کہاکہ روپے کی قدرمیں کمی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کچھ دنوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ،وہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے آسانیاں پیداکررہے ہیں اوروہ اقدام اٹھارہے ہیں جس سے مستقبل میں ڈالرکی کمی نہیں ہوگی جبکہ یہی عمران خان پچھلی حکومت میں روپے کی ایک روپے قدرمیں کمی پر اپنے جلسوں میں بھرپورتنقیدکرتے ہوئے آسمان سرپراٹھا لیتے تھے اورملک پرغیرملکی قرضے کے بڑھ جانے پراپنی شدیدتشویش کااظہارکیاکرتے تھے۔ اب ان کے اپنے حواری اپنے لیڈرکے اسی فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم کے اس یوٹرن پرسراپااحتجاج ہیں۔ادھرسٹیٹ بینک نے آئندہ دوماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ڈیڑھ فیصداضافہ کردیاہے۔ڈیڑھ فیصداضافے سے شرح سودکئی برسوں کے بعددہرے ہندسے میں داخل ہوکردس فیصدتک جاپہنچاہے۔
ذرائع کے مطابق ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت کودیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے کمرشل بینکوں سے رابطے کرکے صرف حقیقی خریداروں کوڈالرفروخت کرنے کے اھکامات جاری کئے جس سے ڈالر142روپے سے نیچے آیا۔گزشتہ ایک سال کے دوراان ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدرمیں 36٪ کمی آئی ہے جبکہ موجودہ موجودہ حکومت کی مدت کے تین ماہ سے زائد کے دوران اب تک ڈالرکی قدرمیں 18روپے کاریکارڈاضافہ ہواہے۔انٹر بینک میں ڈالر مہنگااورروپے کی قدرگرنے سے قرضوں میں760ْارب روپے کااضافہ ہواہے۔انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدرمیں بدترین اور بے رحم کمی کے بعد امریکی ڈالرتاریخ کی بلندترین سطح پرپہنچ گیاہے۔7دسمبرکو مارکیٹ کاآغازہواتواوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت میں اچانک 8 روپے اضافہ ہو گیااورڈالرکی اڑان 142 روپے تک جاپہنچی جبکہ کچھ بینکوں میں ڈالرمزید2روپے اضافے کے ساتھ 144روپے تک ٹریڈ ہوتارہا۔
دوسری جانب روپے کی قدرمیں کمی اوپن مارکیٹ میں بھی دیکھی جارہی ہے اورایک ڈالر138 روپے میں خریدجبکہ 144روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ڈالرکی قیمت بڑھنے سے اسٹاک مارکیٹ میں شدیدمندی کارحجان رہا۔100انڈیکس میں 89پوائنٹس کی کمی کے بعد40ہزار540پر کاروبارہوا۔ ڈالرکی قدرمیں اضافے اورروپے کی بے قدری سے سونے کی قیمت میں فی تولہ مزیدایک ہزار روپے کااضافہ ہوگیا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہاگیاکہ بڑھتی مہنگائی، بلند مالیاتی خسارے اورزرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائرکے سبب پاکستان کی معیشت کودرپیش مشکلات تاحال برقرارہیں۔بینک کے مطابق مالی سال 19-2018 کے ابتدائی چارماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.9پہنچ گئی جبکہ گزشتہ مالی سال اسی دورانئے میں شرح مہنگائی3.5فیصد تھی۔اعلامیے میں امیدظاہرکی گئی کہ دوسری ششماہی میں نجی وسرکاری ذرائع سے بیرونی رقوم آنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے معیشت پرگہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے جو زرمبادلہ کے ذخائرپر موجودہ دباؤ میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔
مانیٹری پالیسی کے حوالے سے سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیاکہ ستمبر 2018ء میں اعلان کردہ مالیاتی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے تھے ارتجارتی خسارے میں واضح بہتری بھی نظرآئی لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بلندمالیاتی خسارے اورزرمبادلہ کے کم ذخائر کے سبب پاکستان کی معیشت کودرپیش مشکلات تاحال برقرار ہیں ۔ زرعی پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیاکہ مہنگائی کے مسلسل دباؤ اورحقیقی شرح سودمیں کمی سمیت دیگرعوامل معیشت میں استحکام کیلئے مزیدکوششوں کاتقاضہ کرتے ہیں اوراسی وجہ سے شرح سود150بیسزپوائنٹس اضافے سے 10٪ کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔حکومت کے پاس زرمبادلہ کے نیٹ ذخائرساڑھے تین بلین ڈالررہ گئے جوتین ماہ کی برآمدات کیلئے بھی ناکافی ہیں۔ معیشت میں بہتری لانے اورآئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ ماننے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،موجودہ حکومت کے پہلے100 دنوں میں ملک پر قرضوں کابوجھ 1450/ارب روپے بڑھ گیا۔
آئی ایم ایف کوبھی پتہ چل گیاکہ اب ہم سے قرضہ لیناپاکستان کی ایک مجبوری بن چکاہے اسی لئے حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے ان کی شرائط پرمن وعن عمل کرناشروع کردیا ہے ۔مخدوش صورتحال اورادائیگوں میں توازن رکھنے کیلئے حکومت نے جنوری کی بجائے گزشتہ ہفتے سے ہی ایم آئی ایف سے مذاکرات دوبارہ شروع کردیئے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کے پاس قرضہ لینے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا اور کوئی چارہ ٔکارنہیں،اسی لئے آئی ایم ایف کے کہنے پرڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی کرنی پڑی اورآئندہ دنوں میں ڈالرمزید مہنگا ہوسکتاہے اورڈالرکے مقابلے میں روپے کی قیمت 145سے150کے درمیان رکھنے کافیصلہ کرلیاگیاہے۔ ماہرین کابھی کہناہے کہ ڈالر مہنگا ہونے اورشرح سودمیں اضافے سے بیروزگاری بڑھے گی،پانچ سے چھ لاکھ ملازمتیں متاثرہونے کاخدشہ پیداہوگیاہے۔افراط زر دہرے اعداد پر چلاگیاہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے کافیصلہ اگر حکومت شروع دنوں میں کرلیتی توشائد ڈالرکے بے مہارفیصلے پرکوئی قدغن لگ جاتی۔اب آئی ایم ایف سے ممکنہ طورپرقرض لینے کے پیش نظرشرح سودمیں اضافہ کیاگیا۔
شرح سودمیں اضافے سے صنعتی سیکٹربراہِ راست متاثرہورہاہے۔بینکوں سے مہنگاقرضہ لینے سے کاروباری لاگت بڑھے گی جبکہ عوام کومہنگائی کوجوتحفہ ملاہواہے،اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔حکومت پرقرضوں کی ادائیگی کابوجھ بدستوربرقرارہے اورخزانے میں پیسے نہیں۔ حکومت کے زرمبادلہ کے وہی ذخائرہیں جوامدادکی مدمیں سعودی عرب سے ملے تھے۔ڈالرکی قیمت میں اضافے کااثرپٹرولیم مصنوعات پرہوگیاہے اور مہنگائی میں مزیداضافے سے پاکستان کی درآمدات میں بھی کمی آنے کاامکان ہے تاہم حکومت کودیوالیہ ہونےسے بچنے کیلئےفوری طورپر لگژری آئٹم پر پابندی لگانی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں