“شوگرکوٹڈ”

:Share

ایک ہزارایک راتوں تک کہانی کہنے کافن عربوں نے ایجاد کیا۔وہ فن جس کی معراج الف لیلیٰ کی داستان ہے۔کہانی میں سے کہانی نکلتی ہے اور کردار سےکردارجنم لیتے ہیں،ایسے کردارجوآج بھی زندہ ہیں اورپوری دنیاکی ضرب المثل اورکہاوتوں میں نظرآتے ہیں۔الف لیلیٰ کایہ داستانی ادب اس تہذیب کاعکاس ہے جواپنے زمانے کے سب سے متمدّن شہربغدادمیں جلوہ گر تھی،عباسیوں کے سنہرے دورکی یادگار۔الف لیلیٰ کی یہ کہانیاں ایک بادشاہ شہریارکے ایک فیصلے سے جنم لیتی ہیں شہریار کایہ خیال تھاکہ دنیا کی تمام عورتیں بے وفااورناقابل اعتبارہیں۔یوں وہ اپنی شادی کی پہلی رات ہی اپنی بیوی کو قتل کردیتا،یہ سلسلہ تین سال تک چلتارہتاہے۔بادشاہ کاایک وزیرجواس کیلئے لڑکیاں ڈھونڈتاہے تاکہ وہ ان سے شادی کر سکےلیکن ایک دن وہ بے بس ہوجاتاہے اوراسے اس ظالمانہ کاروائی کےلئے کوئی لڑکی نہیں ملتی۔

اپنی اس پریشانی کاذکروہ اپنی بیٹی شہرزارسے کرتاہے۔شہرزاراپنے باپ کواس پریشانی سے بچانے کےلئے کہانی سنانے پر رضا مندہوجاتی ہے اورپھر پہلی رات وہ ایک بیل اورگدھے کی کہانی شروع کرتی ہےاوراس میں سے دوسری کہانی جنم لیتی ہے اورصبح کی اذان ہوجاتی ہےاوراس کی جان بچ جاتی ہے۔یوں وہ ایک ہزارایک راتوں تک کہانی سے کہانی نکال کرسناتی رہتی ہے جن میں علی باباچالیس چورسے لیکرچہاردرویش،سوتے جاگنے کی کہانی سے لیکرالہ دین اورطلمساتی چراغ تک سب کاذکرآتاہے۔کردارجنم لیتے ہیں اورپھردنیاکے ہرمعاشرے،تہذیب وتمدّن تک پھیل جاتے ہیں ۔ ان کہانیوں کے کرداروں میں سے ایک کردارسندبادکابھی ہے۔

ایک غریب لکڑہاراجواپنے اللہ کی مہربانیوں سے بہت بڑاتاجربن جاتاہے جس کے جہازسات سمندرہروقت سفر میں رہتے ہیں جواپنے معرکوں اور کارناموں کی وجہ سے پورے بغدادمیں مشہورہے۔سندبادکے سفرکی کہانیاں دنیابھرکے ادب کانچوڑ ہیں ۔ دنیاکی شائدہی کوئی ایسی زبان ہوجس میں ان کہانیوں کاترجمہ نہ ہواہو۔سندبادکے کردارپرہالی وڈمیں فلمیں بننے کاآغاز 1940ءمیں ہواجب اس پرپہلی فلم”بغدادکاچور“بنی اورپھراس پر طرح طرح کی کردارنگاریاں کی گئیں۔کارٹون فلمیں بنیں۔بچوں کےلئے بے شمارکہانیاں تخلیق کی گئیں،اسے”پوپائی دی سیلر“سے ملایاگیا۔ جادوئی قالین پراڑایاگیا،اسے ملکوں ملکوں پھرایا گیا،لیکن ان تمام فلموں،کہانیوں،کارٹونوں میں کبھی بھی اس سے اس کا شہربغداد،اس کا مذہب اسلام ،اس کا رسول ﷺاوراس کا خلیفہ ہارون الرشیداس سے نہیں چھیناگیا،اسے وضح وقطع میں عرب ہی رہنے دیا گیااوراسے مسلمان ہی بتایا گیا۔

لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ہالی وڈ اوردوسرے مغربی ممالک بچوں کےلئے جوفلمیں بنارہے ہیں،ان فلموں میں مسلمانوں سے ان کی شناخت اور پہچان کےہرحوالے کوچھیننے والوں نے فلموں میں سندباد کویونان کے شہرسارائیکورس کارہنے والا بتایا ہے،جووہاں کے دیوی دیوتاوں کومانتا ہے اوراسی شہرکےحاکموں اوررئیس گھرانوں میں اٹھتابیٹھتاہے۔جن لوگوں کی مسلمانوں سے نفرت کایہ عالم ہوکہ وہ قصے کہانیوں میں،خیالی اورماورائی کرداروں میں جوصدیوں سے لوگوں کے گھروں میں نسل درنسل چلے آرہے ہوں،مسلمان کانام،ان کے شہروں کاتذکرہ،ان کی بتائی ہوئی حمداور شکرکاذکرسننابرداشت نہ کریں،جن کی پوری توانائی اس بات پرخرچ ہورہی ہوکہ مسلمانوں کے نصابِ تعلیم سے،ان کے کھیل کودسے،ان کی زندگی کے خوابوں سے وہ تمام ہیروکھرچ کرپھینک دیں جوانہیں ایک ملت ِاسلامیہ کے رشتے میں پروتے ہیں،وہ کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ علی باباچالیس چور،الہ دین یاسندباداس بغدادکاذکرکرے جہاں ہرروزان کے فوجیوں کو خاک چاٹنا پڑی،امریکااورمغرب کے کسی ہوائی اڈے پررات کے سناٹے میں خاموشی کے ساتھ ان فوجیوں کے تابوت اتارکران کے لواحقین کواس شرط کے ساتھ حوالے کئے گئےکہ اس کی کوئی تشہیرنہ ہونے پائے۔

وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ لوگ امن وسلامتی کے ضامن دین کی بات کریں جسے وہ پچھلے سوسال کے پروپیگنڈے سے دہشتگردثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس سب کے باوجودبھی مجھے بالکل کوئی حیرت نہیں ہوتی ،اس لئے کہ یورپ اورامریکانے توایساکرناہی تھا۔مجھے حیرت صرف اپنے لوگوں پرہے جوگنگ ہیں،چپ ہیں۔سندباد ہماری تاریخ تھی ،اس کا نام ونسب بدل دیاگیا۔غیرت مند قومیں نام ونسب کی گالیاں نہیں سناکرتیں لیکن کمال ہے ہمارے حکمرانوں کی غیرت نجانے کہاں کھوگئی ہے کہ جو ہمارے ساتھ یہ سلوک کرتاہے ہم اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔اپنی وفاداریوں کااعلان کرتے ہیں اوردنیابھرکے میڈیاکے سامنے یہ کہتے ہوئے ذرابھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ امریکاکشمیرمیں ثالثی کروائے ۔

ہوسکتا ہے کہ کل تک ہم یہ بھی کہہ دیں کہ الف لیلیٰ کاخالق توشکاگومیں پیداہواتھا۔ہیروارث شاہ کے رومانوی کردار تو اسکاٹ لینڈ میں پیداہوئے تھے اوراس کی تاریخ آکسفورڈیونیورسٹی میں لکھی گئی،سسی پنوں ایریزوناکے صحراؤں کی داستان ہے جوہارورڈیونیورسٹی کے کسی پروفیسر کی تخلیق ہےلیکن ایک بات طے ہے کہ بادشاہ شہریارتوایک ہزاررات کہانی سنانے پرشہزادی شہرزارکی جان بخش دیتاہے لیکن ہم دس ہزاررات بھی ان لوگوں کواپنی وفاداری کی کہانی سنائیں، ہماری جان نہیں بخشی جارہی۔غیرت ہے تواس حجلہ عروسی سے بھاگ جاؤ ورنہ صبح تک جلّاد کی تلوارہوگی اورآپ کاسر۔ لیکن شائد یہ تاریخ کاجبرہے کہ انسان وقت سے سبق حاصل نہیں کرتاکیونکہ اس میں وقت بہت درکارہوتاہے۔جب کمپنی کاسی ای اوخود مارکیٹ میں اپنی پراڈکٹ فروخت کرنے کےلئے نکل آئے تواس کامطلب یہ ہے کہ کمپنی کانمائندہ یاسیلزمین نالائق ہے اور کمپنی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہیں ہوتاکہ ایسے نالائق سیلزمین کوفارغ کردیاجائے۔امریکی سفارتی تاریخ میں ٹرمپ پہلاصدرہے جوعالم اسلام کی مارکیٹ میں خودبہ نفس ِ نفیس اپنی پراڈکٹ کی مقبولیت کےلئے میدان میں اترآیاہے اور اپنی کمپنی”امریکا“اوراپنی خصوصی پراڈکٹ ”مودی” کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرجلسہ میں شرکت کیلئے آن پہنچالیکن کرونانےکمپنی اوران کے سیلزمینوں کے بارے میں اپنی رائے سے ان کوبڑے بہتر طریقے سے سمجھا دیا کہ اب کشمیرمیں بھی افغانستان کی طرح ”شوگرکوٹڈ“ری ایکشن”زہرکاری ایکشن” انہیں بھی بہرحال برداشت کرناپڑے گا!

اپنا تبصرہ بھیجیں