Quiet lobby………loud conspiracies

خاموش لابی………بلندسازشیں

:Share

تاریخ کے اوراق پرجب کبھی انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات ابھرتے ہیں،تب سیاست کی بازیگری،عسکری چالاکی اور سفارتی مکاری اپنے جوبن پرنظرآتی ہے۔حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے افق پروہی کہانی ایک نئے باب کے ساتھ ابھری، جہاں امریکی پینٹاگون میں تیارکی گئی خفیہ حکمتِ عملی نے دنیاکی نظریں ایران کی جوہری تنصیبات سے ہٹاکرایک گمنام جزیرے پر مرکوزکردیں۔گویایہ منظروہی تھاجسے عربی محاورے کے مطابق”چشمِ زدن میں صحراؤں کوگلستان اورگلستانوں کوویرانہ کرنے والی”چال کہاجاسکتاہے۔

امریکااوراسرائیل کاتعلق محض دوریاستوں کادوستانہ رشتہ نہیں،بلکہ بیسویں اوراکیسویں صدی کی تاریخ کاسب سے پیچیدہ،ہمہ گیر اورہمہ جہت باب ہے۔یہ باب محض مادی امداداورسیاسی حمایت تک محدودنہیں،بلکہ تاریخی،تہذیبی،اقتصادی اوراسٹریٹجک پہلوؤں کا ہمہ گیرامتزاج ہے۔اس کی بنیاد محض “دوستی “یا”اتحاد”کی سادہ تعریف میں سمیٹ دیناتاریخ اورسیاسیات دونوں کی توہین ہوگی۔امریکی سیاسی تاریخ میں اسرائیلی لابی کااثرورسوخ محض محاورہ نہیں بلکہ وہ محکم حقیقت ہے،جووائٹ ہاؤس اورکیپیٹل ہِل تک پھیلی ہوئی ہے۔اسرائیل اورامریکاکارشتہ محض دوریاستوں کادوستانہ بندھن نہیں،بلکہ اس کی بنیاد گہری اسٹریٹجک ہم آہنگی،مشترکہ تہذیبی بیانیے اورسرمایہ واثرونفوذکی مضبوط زنجیر پراستوارہے۔

(اے آئی پی اے سی)،(اے ڈی ایل)،(جے آئی این ایس اے)،وہ تمام تنظیمیں ہیں جن کے مختلف کرداراورتوجہ اسرائیل اوریہودی قوم سے متعلق ہے،حالانکہ وہ الگ الگ ادارے ہیں۔اے آئی پی اے سی،امریکامیں اسرائیل نوازلابنگ گروپ ہے۔اے ڈی ایل،(اینٹی ڈیفیمیشن لیگ)سام دشمنی اورنفرت کی دیگراقسام کامقابلہ کرتی ہے،جبکہ اسرائیل سے متعلق مسائل کوبھی حل کرتی ہے۔جے آئی این ایس اے (یہودی انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی امور) امریکی قومی سلامتی اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات پر توجہ مرکوزکرتا ہے، گویاامریکی سیاست میں اسرائیلی لابی کے اثرورسوخ کایہ عالم ہے کہ امریکامیں کوئی بھی جماعت ان کے تعاون کے بغیرحکومت سے قاصررہتی ہے۔

1948ءمیں اسرائیل کی تشکیل کے بعد،سردجنگ کے سائے تلے امریکانے اسرائیل کومحض خطے کااتحادی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کا”نگہبانِ اقتدار”قرار دیا۔اسرائیل کا جغرافیائی محلِ وقوع،اس کی جدیدعسکری صلاحیت اوراس کا سٹریٹجک محاذپرہمہ تن مصروف رہناواشنگٹن کی پالیسی کاحصہ بن گیا۔یوں اسرائیل،امریکی سامراجی پالیسی کامحوری ستون بن کرابھرااور امریکا اور اسرائیل کے مابین حربی اوراسٹریٹجک تانے بانے لازم وملزوم ہوگئے۔امریکاکی سیاسی تاریخ میں اسرائیل کی لابی کااثرورسوخ محض خارجی پالیسی تک محدودنہیں،بلکہ انتخابی مہمات،قانون سازی اور وائٹ ہاؤس کی پالیسی ترجیحات تک پھیلاہواہے۔یہی وجہ ہے کہ1948ءمیں اسرائیل کی ریاست کے قیام کے فوراًبعدامریکااس کاسب سے بڑاسفارتی واقتصادی پشت پناہ بن کرسامنے آیا۔

امریکااوراسرائیل کارشتہ محض ریاستی یااسٹریٹجک اتحادتک محدودنہیں۔یہ تاریخی،تہذیبی اوراقتصادی پہلوؤں کاہمہ گیرحصہ ہے۔ امریکی صدر،خواہ ری پبلکن ہویاڈیموکریٹ،اس ناطے کاحصہ بننے اوراس کاتحفظ کرنے پرمجبورہے۔اے آئی پی اے سی اوردیگر یہودی لابی تنظیمیں امریکاکی داخلی سیاست میں اس درجہ نفوذرکھتی ہیں کہ کسی بھی امریکی صدرکواسرائیل کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے تاریخی نتائج کاسامناکرناپڑسکتاہے۔امریکی تاریخ میں اس امرکی مثالیں موجودہیں کہ اسرائیلی لابی کااثرورسوخ امریکی صدراورپالیسی سازوں پرکس طرح غالب آ سکتا ہے۔

اس تناظرمیں جان ایف کینیڈی،رچرڈنکسن اوربارک اوباما تین ایسے امریکی صدورتھے،جنہوں نے اپنے دورمیں اسرائیل یااس کی پالیسیوں کوچیلنج کرنے کی جرأت کی،یاآزادی سے اقدامات کیے لیکن اس آزادی کی قیمت چکانی پڑی،کیونکہ یہودی لابیوں اور طاقتورتنظیموں نے تینوں کی سخت مخالفت کی۔

1960ء کی دہائی میں جان ایف کینیڈی اوراسرائیل کاتاریخی تناؤاس بات کااولین مظہرہے۔کینیڈی نے اسرائیل کودیمونانیوکلیئرری ایکٹر پرعالمی معائنے کی شرط عائدکرنے کی کوشش کی، اوراس پالیسی نے اسرائیل اوراس کی لابی میں شدیدبے چینی اورمزاحمت کوجنم دیا۔کینیڈی نے اسرائیل پرزوردیاتھاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کوبین الاقوامی معائنے اورکنٹرول میں لائے ۔اس کامقصدمشرقِ وسطیٰ میں جوہری اسلحے کی دوڑکاسد باب تھا۔اسرائیلی حکومت نے اس دباؤکوشدیدناپسندکیا۔

کینیڈی کاکھلے عام قتل اوراس کے اردگردتاریخی سازشوں کاتذکرہ محض سازشی نظریہ نہیں بلکہ امریکی سیاسی ذہن میں پائے جانے والے شکوک کاحصہ بھی ہے۔یہ واقعہ اس امرکی طرف اشارہ کرتاہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اوراسرائیلی لابی کاتناؤمحض سیاسی نہیں،بلکہ تاریخی،اسٹریٹجک اورنفسیاتی محاذکاحصہ ہے۔

رچرڈ نکسن(1969–1974)کادورسردجنگ کاحساس ترین حصہ تھا۔اسرائیل اورعرب ریاستوں کامحاذگرم تھااورامریکا دونوں طرف توازن قائم کرنے کی جدوجہدمیں تھا۔1973ءکی یومِ کپور جنگ میں اسرائیل کی بقاءخطرے میں تھی۔نکسن نے بڑے پیمانے پراسلحہ اورسازوسامان اسرائیل کومہیاکیا،تاہم اس عمل میں اس کی پالیسی میں تذبذب اوردیگرعرب ریاستوں کوبھی انگیج کرنے کی خواہش اسرائیلی لابی کوناگوارگزری۔

اس دورمیں وزیرخارجہ ہینری کسنجر نے عرب۔اسرائیل معاملے میں نسبتاًمتوازن رویہ اپنایالیکن ہینری کسنجرکااعتدال پسندرویہ جو یہودی لابیوں اور اسرائیل کی سخت گیرقیادت کوناپسندتھا۔لابیوں نے نکسن کواسرائیل کی حمایت میں”کمزور”اور”دوغلا”قراردیا۔ مکافاتِ عمل میں واٹرگیٹ اسکینڈل نے نکسن کواقتدارچھوڑنے پرمجبورکردیا۔بعض مبصرین نے اس ضمن میں یہودی لابیوں اورمیڈیا کارویہ غیرمعمولی سخت قراردیاحالانکہ واٹرگیٹ کامعاملہ قانون اوراحتساب کاحصہ تھالیکن اسرائیل اوریہودی تنظیموں نے اس دوران نکسن کی پالیسیوں کوتنقیدکاحصہ بناتے ہوئے اس کی ساکھ اورسیاسی طاقت کومزیدکمزورکرنے کی کوشش کی۔

واٹرگیٹ کامعاملہ محض قانون شکنی کامعاملہ نہیں رہابلکہ اقتدارکے قبل ازوقت خاتمہ کے علاوہ سیاسی محاذپربھی تاریخی دھبہ اور دشمنیوں کاحصہ بن گیا۔ اسرائیل اوریہودی تنظیموں نے یہ پیغام دیاکہ جوامریکی صدراسرائیل یااس کی پالیسیوں پرتنقیدکرے گا،وہ اقتدارمیں مشکلات کاشکارہوسکتاہے۔

بارک اوباما(2009–2017)کادورمشرقِ وسطیٰ میں نئے چیلنجوں اورنئے رجحانات کادورتھا۔عرب اسپرنگ،ایران نیوکلیئرڈیل اور اسرائیل کی بستیاں بسانے کی پالیسی جیسے مسائل اس دور کی نمایاں نشانیاں بنے۔اوبامانے ایران کونیوکلیئرمیدان میں محدودکرنے اور خطے کوبڑے جنگی خطرے سے بچانے کی خاطرجوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن تاریخی معاہدہ کیا۔اسرائیل اور اس کی حامی یہودی لابیوں نے اس معاہدے کواسرائیل کی سلامتی اورامریکی اسٹریٹجک مفادکا”ناقابلِ معافی سودا”قراردیا۔نیتن یاہونے امریکی کانگریس میں خطاب کرتے ہوئے اس معاہدے کی شدیدمخالفت کی،اوراوباماانتظامیہ کواسرائیل دشمن قراردیا۔امریکی یہودی لابی نے اوباماکی پالیسیوں کو”تاریخی غلطی”قراردیا۔

اوبامانے فلسطین۔اسرائیل تنازعے میں دوریاستی حل کی تائیداورمغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیاں بسانے کی مخالفت کی۔اس پالیسی کوامریکی یہودی لابی نے اسرائیل کی سکیورٹی اور بقاءپرحملہ تصورکیا۔اوبامااورنیتن یاہوکی ذاتی اورسیاسی کشمکش وتناؤاس دورکا حصہ رہی۔اس تناؤنے یہ تاثرمضبوط کیاکہ اوبامااسرائیل اوریہودی لابی کی روایتی حمایت سے کچھ فاصلے پرکھڑے تھے۔ایران ڈیل کی حمایت کرنے والاامریکی صدر،اسرائیل اوراس کی لابی کی نظروں میں”مخالف”قرارپایا۔نیتن یاہواوراوباماکی سردمہری نے اسرائیل۔امریکاتعلقات میں عارضی تناؤپیداکیا،تاہم روایتی امداداوراسٹریٹجک اتحادبرقراررہا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ رچرڈنکسن اوربارک اوباماکی مثال اس تاریخی سچائی کاحصہ ہے کہ امریکاکی داخلی سیاسی بساط پریہودی لابیوں اوراسرائیلی اثرورسوخ کاغیرمعمولی اثرہے۔نکسن کادوراس بات کی مثال ہے کہ امریکی صدورکواسرائیل کی پالیسیوں پر آزادی یاتذبذب کی قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔اوباماکادوریہ درس دیتاہے کہ حتیٰ کہ ایک مضبوط صدر،جوسفارت کاری اورامن کی زبان بولے ،بھی لابیوں اورتنظیموں کی طاقت کاسامناکرتے ہوئے تنقید،سیاسی دباؤ اورتاریخی جدوجہدکاحصہ بن سکتاہے۔نکسن اوراوباماکی مثال اس امرکابھی اعلان ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں اوراس کی لابیوں کااثرامریکی نظامِ سیاست اوراقتدارکی راہ گزرپرکس حدتک محیط ہے۔

امریکی سیاسی روایت گواہ ہے کہ اسرائیلی لابی کسی بھی صدریاقانون سازکو،جواس کی پالیسی یامفادات سے متصادم ہو،مختلف محاذوں پرچیلنج کرسکتی ہے۔ میڈیا کااستعمال کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ اوردیگربڑے ذرائع ابلاغ میں اسرائیل نواز بیانیے کافروغ سب سے بڑاہتھیارہوتا ہے۔دوسرا اسرائیلی لابی اپنے مالی اثرورسوخ کااستعمال کرتے ہوئے انتخابی مہمات میں تمام سیاسی پارٹیوں میں چندہ اورسرمایہ کاری کابے دریغ استعمال کرتی ہیں۔

قانون سازمحاذمیں مضبوط عمل دخل کے ساتھ سینیٹ اورایوانِ نمائندگان میں اسرائیل حامی ارکان کامحاذآرائی پرآمادہ ہونابھی اس بات کی دلیل ہے اوراس کے ساتھ ہی پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں اسرائیل نوازبیوروکریٹس کامؤثرانتظامی دباؤبھی حکومت کومجبور کردیتاہے۔تین تاریخی مثالوں سے باآسانی سمجھاجاسکتاہے۔

کینیڈی کااسرائیلی نیوکلیئرپروگرام کی بین الاقوامی نگرانی پرزوردینامحض ایک سفارتی معاملہ نہیں تھابلکہ اس دورکی سردجنگ کی سیاسی وتزویراتی حقیقت کا حصہ تھا۔1963ءمیں جان ایف کینیڈی نے اسرائیل کوخطوط لکھے،جن میں دیموناتنصیبات کامعائنہ کرنے کا سخت مطالبہ کیا۔اسرائیلی قیادت نے امریکی دباؤکومستردکرتے ہوئے اس معاملے کو”قومی بقا”کاحصہ قراردیا۔بعض محققین کاخیال ہے کہ اسرائیلی لابی اورکینیڈی انتظامیہ کاتناؤمحض پالیسی کامعاملہ نہیں،بلکہ اس تاریخی تناؤنے امریکی سیاسی کلچراورخارجہ پالیسی پردوررس اثرات ڈالے۔

نیشنل سیکیورٹی آرکائیو2006ءمیں”اسرائیل حدعبور کرتا ہے”میں ایونرکوہن اورولیم برکی تحریریں اس کاثبوت ہیں کہ کس طرح جان ایف کینیڈی کےساتھ تناؤاور مبہم حالات میں قتل،لابی اورخارجی پالیسی کی یوں سیاہ گٹھ جوڑکی ایسی یادگارمثال ہمارے سامنے ہے کہ آج تک کینیڈی کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

2018ءمیں امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی،اورگولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی حاکمیت کی توثیق گویاٹرمپ کے سابقہ دورمیں اسرائیل اورامریکاکا تعلق بظاہرعروج پردکھائی دیتاتھاتاہم حالیہ برسوں میں بعض امورپردونوں کانقطۂ نظرمتصادم دکھائی دیالیکن ایران کے ایٹمی پلانٹ پرخوفناک حملہ کے جواب میں جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کواپنے میزائلوں کانشانہ بنایاتواس کے فوری بعدایک مرتبہ پھرٹرمپ کی طرف سے سیزفائرکا اعلان کردیاگیااورپہلی مرتبہ ٹرمپ کے بیانات سے اسرائیل کے ساتھ تناؤکی کیفیت کااظہارسامنے آیاجس کی وجہ ایران پرحملے کے طریقہ کارپراسرائیل نے اپنے تحفظات کااظہارکیاجس کے بعداسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اورامریکی مفادات کاتفاوت یعنی بعض حساس خفیہ معلومات کااسرائیل کی جانب سے مبینہ افشاءکاانکشاف بھی سامنے آیا۔

حالیہ دنوں میں،صدرڈونلڈٹرمپ کارویہ بعض اسرائیلی پالیسیوں اوراقدامات پرشدید ناراضگی کاعکاس نظرآرہاہے۔اس کابنیادی سبب عسکری پالیسیوں میں اختلاف یعنی اسرائیل کاایران اوردیگرہمسایہ ممالک پرجارحانہ مؤقف،جوامریکی امن منصوبوں اور”ڈی-اسکلیشن”پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں۔اسرائیل کی جانب سے بعض حساس خفیہ معلومات کالیک ہونایاامریکی توقعات پرپورانہ اترنا، معاہدہ شکنی اوراعتمادکافقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ٹرمپ کامزاج،ذاتی سیاسی تناؤاوراسرائیلی قیادت کارویہ بعض مواقع پرٹکراؤکا باعث بن گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ کی حالیہ ناراضگی یہودی لابی کومتحرک کرسکتی ہے؟امریکامیں اسرائیلی لابی روایتی طورپرری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں میں ہمہ گیراثرورسوخ رکھتی ہے۔حالیہ برسوں میں اس لابی نے ٹرمپ کواسرائیل نوازپالیسیوں،جیسے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اورگولان کی پہاڑیوں کواسرائیلی حصہ تسلیم کرنے جیسے اقدامات پرسراہا۔تاہم،حالیہ ناراضگی اورتنقید اس لابی میں بے چینی کاباعث بن رہی ہے۔اس کاممکنہ نتیجہ ہوسکتاہے۔
آئندہ انتخابی مہم اوردیگرسیاسی حمایت میں لابی کی جانب سے سردمہری کے طورپرمالی امدادمیں کمی ہوسکتی ہے۔
اسرائیل نوازمیڈیاپلیٹ فارمزاورتھنک ٹینکس کی جانب سے ٹرمپ مخالف بیانیے کافروغ کاامکان بھی ہوسکتاہے جس سے امریکی رائے عامہ میں ٹرمپ کے خلاف مہم شروع کی جاسکتی ہے۔
قانون سازایوانوں میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے سینیٹرزاورارکانِ کانگریس کی مخالفت کی شکل میں سیاسی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے۔۔
اندرونی بیوروکریسی اوراسٹیبلشمنٹ میں لابی کااستعمال کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں ٹرمپ کوغیرمؤثرکرنے کی کوششیں اور خفیہ دباؤکاامکان بھی ہے۔

امریکی سیاسی تاریخ شاہدہے کہ اسرائیل کی لابی محض خارجی پالیسی کاحصہ نہیں،بلکہ امریکی سیاسی عمل کاحصہ ہے۔ماضی میں جان ایف کینیڈی اوردیگر رہنماؤں کی مثال یہ باورکراتی ہے کہ اسرائیل کی لابی محض”مشیر”یا”حامی”نہیں، بلکہ بعض مواقع پر پالیسی سازی کی سمت اوربعض اوقات تقدیرِسیاست تک متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تاہم ٹرمپ اوراسرائیل کاحالیہ تناؤمحض وقتی اختلافِ رائے نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاسی امتحان ہے۔اسرائیلی لابی،ماضی کی روایات اورتاریخی مثالوں کی بنیادپر،اس پوزیشن میں ہے کہ اگرٹرمپ اسرائیل مخالف یااس کی مرضی سے ہٹ کرکوئی راہ اختیارکرتے ہیں تویہ لابی محض تنقیدتک محدود نہیں رہے گی۔یہ لابی،ماضی کی مانند،سیاسی،ابلاغی اورمالی محاذوں پرمتحرک ہوکرامریکی صدرکیلئے ایسے چیلنج کھڑے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،جن کاتاریخی باب جان ایف کینیڈی کی داستان کاحصہ بن چکاہے۔

اس صورتحال میں کیاامریکااسرائیل کی پالیسی کایرغمال بن چکاہے؟محققین کی اس کے متعلق کیارائے ہے؟آئیے دیکھتے ہیں!
جان مئرشائمراوراسٹیفن والٹ”دی اسرائیل لابی اوریوایس فارن پالیسی،2007کی رپورٹ میں اسرائیلی لابی اوراس کی امریکی پالیسی پر گرفت کاتفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کونمایاں کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کی حمایت محض اسٹریٹجک ضرورتوں تک محدودنہیں بلکہ داخلی سیاسی وانتخابی مصلحتوں کاحصہ ہے۔مشہورزمانہ نوم چومسکی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کومحض امدادنہیں دیتابلکہ اس کی دفاعی صنعت اورخطے میں جارحانہ پالیسیوں کاحصہ بن کراس سے مادی،تزویراتی اورسیاسی فوائدسمیٹتاہے۔

امریکاکی اسرائیل سے بے پناہ حمایت محض”ہمدردی”یا”مذہبی ہم آہنگی”کامظہرنہیں۔یہ تاریخی،سیاسی اوراقتصادی مصلحتوں کا مرکب ہے۔اسرائیل، امریکی اسلحہ سازکمپنیوں اورسیاسی لابیوں کانقطہ اتصال بن چکاہے۔یوں واشنگٹن اورتل ابیب کارشتہ محض دو ریاستوں کامعاملہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت اور مصلحت کامعرکہ ہے۔امریکاکی اس”مجبوری”کومحض اقتصادی یافوجی تناظرتک محدود نہیں رکھاجاسکتا۔یہ ایک ہمہ جہت،تاریخی اورتہذیبی تعلق ہے،جوحال اورمستقبل کی عالمی سیاست کی راہ متعین کرتاہے۔

امریکااوراسرائیل کارشتہ محض دوریاستوں کاسفارتی یااقتصادی لین دین نہیں،بلکہ تاریخی،اسٹریٹجک،تہذیبی اورسیاسی مصلحتوں کا گہراامتزاج ہے۔ مغرب میں تہذیبی ہم آہنگی اورامریکی سیاست میں عیسائی-یہودی روایت،بائبل اور”وعدہ کی گئی سرزمین”جیسے تاریخی بیانیے کااثرغالب ہے۔اسرائیل کومشرقِ وسطیٰ کا”ناقابلِ تسخیر قلعہ”بناتے ہوئے امریکانے خطے میں روس،چین اورایران جیسے حریفوں کاراستہ روکنے کی حکمت عملی اختیارکررکھی ہے۔

اسرائیل امریکی دفاعی صنعت کاسب سے بڑاگاہک ہے۔اس لیے یہ محض”امداد”نہیں بلکہ ایک مربوط اقتصادی چکرہے۔اسرائیل نوازلابیاں اوردیگرگروہ امریکی انتخابی میدان اورقانون سازی پرگہرااثررکھتے ہیں۔نوم چومسکی نے کئی دہائیوں تک امریکی پالیسی اورجارحیت پربے لاگ تنقید کی ہے۔چومسکی کی تحریریں امریکی سامراج،اسرائیل کی حمایت اورمڈل ایسٹ میں فوجی مداخلت کاپردہ چاک کرتے ہوئے واشنگٹن اورتل ابیب کی ہمہ گیرہم آہنگی کوعریاں کرتی ہیں۔

چومسکی اپنی کتاب”تسلط یابقاء”میں لکھتے ہیں:امریکااسرائیل کو محض مشرقِ وسطیٰ کاگڑھ تصورنہیں کرتابلکہ اپنی پالیسی کا حصہ بناچکاہے۔اسرائیل اور امریکا کاتعلق محض دوستانہ یااتحادی نہیں،بلکہ دونوں کاسامراجی مقصدمیں شراکت کارشتہ ہے۔اپنی کتاب”قسمت کی تکون”میں چومسکی نے تفصیل سے بتایاہے کہ کس طرح اسرائیل اورامریکامل کرفلسطین اورعرب خطے پر تسلط قائم کرتے ہیں۔چومسکی نے اس رشتے کو”استعماری سہ رخی کھیل”قراردیا۔ امریکااوراسرائیل کاگٹھ جوڑمحض خطے کی سکیورٹی کامعاملہ نہیں،بلکہ دونوں کامقصدخطے کواپنے تابع بنائے رکھناہے۔ایک اورکتاب”مینوفیکچرنگ کی رضامندی”میں چومسکی اورایڈورڈہرمن نے دکھایاہے کہ کس طرح امریکی میڈیااورلابی سسٹم اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اورامریکی توسیع پسندانہ اقدامات کو”قومی مفاد”اور”جمہوری جدوجہد”کارنگ چڑھاکرپیش کرتے ہیں۔

نوم چومسکی اوردیگرمحققین کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکاکااسرائیل سے تعلق محض اس لیے مضبوط نہیں کہ یہ دوجمہوری ریاستیں ہیں،بلکہ اس لیے ہے کہ دونوں کامقصدایک ہے:خطے کوکنٹرول کرنا،اقتصادی فوائدسمیٹنا،اوراسٹریٹجک توازن کواپنے حق میں بدلنا۔ چومسکی اس پالیسی کوجدیداستعماراورہمہ گیر جارحیت کاحصہ قراردیتے ہیں۔

امریکاکااسرائیل کی بے پناہ حمایت کرنامحض”دوست ریاستوں”کامعاملہ نہیں،یہ طاقت اوراسلحے کاکھیل ہے۔اسٹریٹجک قبضے اور وسائل پرکنٹرول کی داستان ہے۔اندرونی لابیوں اورعالمی بینکنگ سسٹمزکی کارفرمائی ہے۔تہذیبی،تاریخی اورسیاسی ہم آہنگی کاحصہ ہے اورسب سے بڑھ کر،”عالمی بالادستی” اور”نئے سامراجی عہد”کاتسلسل ہے۔نوم چومسکی جیسے محققین نے اس تعلق کومحض دوستانہ یااتحادی اندازمیں نہیں،بلکہ اس دورکاسب سے طاقتور “استعماری گٹھ جوڑ”قراردیاہے۔ چومسکی جیسے محققین کی بے لاگ تنقید اس حقیقت کاپردہ چاک کرتی ہے کہ یہ تعلق محض”امداداورحمائت”کانہیں بلکہ “بالادستی،توسیع اوراقتدار”کاتاریخی باب ہے۔یہ باب ماضی،حال اورشایدمستقبل تک پھیلاہواہے۔

امریکااسرائیل کی حمایت محض اس لیے نہیں کرتاکہ اسرائیل اس کااتحادی ہے،بلکہ اس لیے کرتاہے کہ اسرائیل عالمی سیاست اور اقتصادیات کامرکزبن چکاہے۔عرب ریاستوں،ایران اور دیگرعلاقائی طاقتوں کومعتدل یامحدودرکھنے کاامریکی عزم اسرائیل کی طاقت اوربقاسے جڑاہے۔ان دوریاستوں کاتعلق یہ ہے کہ یہ “عالمی اقتدار،جدیداستعماراوراقتصادی جارحیت”کاحصہ ہیں۔ چومسکی جیسے محققین اس ربط کو تاریخی تناظر میں محض اتحاد یا دوستی کی صورت میں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کواس مقصد کا محوری ستون کہتے ہیں۔

امریکااوراسرائیل کاربط محض فوجی یاسیاسی نہیں،بلکہ تاریخی،تہذیبی اور اقتصادی میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔یہ”امداد، حمایت، اتحادی”جیسے عام الفاظ سے ماوراہے۔اس کامقصدمحض ریاستوں کاتحفظ یامفادات کاتبادلہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت اوراقتدارکاہمہ گیر ڈھانچہ تشکیل دیناہے۔نوم چومسکی جیسے محققین کی بے لاگ تنقیداس تاریخی سچ کوعریاں کرتی ہے،اوراس تاریخی جبرکاپردہ چاک کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ اسرائیل محض”حمایت یافتہ ریاست”نہیں بلکہ “استعمارکاحصہ”ہے۔امریکااوراسرائیل کارشتہ محض دو ریاستوں کاگٹھ جوڑنہیں،بلکہ تاریخی،تہذیبی اورسیاسی میدانوں کاہمہ گیرامتزاج ہے۔

یہ کہانی صرف ایران،امریکااوراسرائیل کی نہیں،یہ دراصل طاقت،مفادات اورحکمتِ عملی کی اس بازیگری کانام ہے جس میں انسانیت کی بقاباربارسوال بن کرابھرتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی دھرتی پرامن کی صبح طلوع کب ہوگی،اس کاجواب فی الحال تاریخ کے اوراق منتظرہیں۔مگریہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک طاقتوراپنے مفادات کی بھینٹ کمزوروں کوچڑھاتے رہیں گے،جنگ کاشعلہ کبھی بجھ نہ پائے گا۔

یہ سارامنظر محض دویاتین ریاستوں کاتنازعہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت،تاریخی جدوجہداورتہذیبی بقاءکاحصہ ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی ویران بستیوں اورخستہ حال ملبے میں یہ سبق بھی مضمرہے کہ تاریخ محض عہدوں کانام نہیں،یہ عبرت اوربصیرت کاچراغ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں