افغانستان میں نئی امریکی گریٹ گیم

:Share

اب امریکا کی بے چینی اورمایوسی کایہ عالم ہے کہ افغانستان میں 17سال سے جاری بحران کے خاتمے کیلئے طالبان کا مذاکرات میں پیش رفت نہ کرنا قابلِ قبول نہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ پھرامریکاپاکستان کوبھی عسکریت پسندوں پردباؤڈالنے کاکہہ رہاہے جس کیلئے پاکستان پردباؤ بڑھانے کیلئے اس نے پاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈکے تین سوملین ڈالرروک لئے ہیں۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی اوروسطی ایشیائی امورکے بیوروکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس ویلزکاصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھاکہ میرے خیال میں افغانستان میں جنگ بندی کے اعلان نے تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کی تحریک فراہم کی ہے اور میرے خیال میں طالبان کیلئے مذاکرات سے انکار کرنا تقریبا ًناممکن ہوتا جارہا ہے۔خیال رہے کہ طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کردیا تھا اور انہوں نے براہ راست امریکا سے مذاکرات کرنے پر زور دیا تھا جبکہ امریکا کی جانب سے ا س پیشکش کا مسلسل انکار کیا جاتا رہا۔ادھرطالبان نے مذاکرات کے لیے اوّلین شرط یہ رکھی ہے کہ تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان سے واپس بھیجا جائے۔اس ضمن میں ایلس ویلزکاکہناتھاکہ امریکااورافغانستان بغیرکسی پیشگی شرائط کے مذاکرات کیلئے تیارہیں اوراب یہ طالبان پرمنحصرہے کہ وہ کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔
ان کامزیدکہناتھاکہ اس وقت طالبان کے رہنماجوافغانستان میں موجود نہیں مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ایلس ویلزکاکہناتھاکہ پاکستان کاکرداربہت اہم ہے تاہم اسلام آباد کی جانب سے ٹھوس اورفیصلہ کن اقدامات دیکھنے میں نظر نہیں آئے،اگرپاکستان نے ہماراساتھ نہ دیاتوہمیں اپنے اہداف حاصل کرنے میں سخت مشکل پیش آئے گی۔اس سلسلے میں افغان صدراشرف غنی نے عیدکے بعدجنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعدایک بیان میں کہاتھاکہ افغانستان اورپاکستان کے مذاکرات کافریم ورک اب تحریری سطح پرہے،اس ضمن میں سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔افغان خبررساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق افغان صدر نے انسداد دہشتگردی کیلئے پاک افغان تعاون میں کچھ تازہ ترین پیش رفت ہونے کا ذکرکیا تاہم مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔طلوع نیوز کی رپورٹ میں امریکی ذرائع ابلاغ نے افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر زاہد نصراللہ کے بیان سے پاکستانی مؤقف شامل کر کے بتایا کہ پاکستان نے عید کے دوران افغانستان میں ہونے والی جنگ بندی کی بھرپور حمایت کی تھی۔
اب ہرآئے دن افغانستان میں امریکاکی ہٹ دھرمی ،جنگ میں پسپائی اورشکست کے واقعات نہ صرف اس کی رسوئی کاسبب بن رہے ہیں بلکہ امریکا کے اہم تھنک ٹینکس ،سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاربھی اب برملاامریکاکی افغان پالیسی پرکڑی تنقیدکررہے ہیں اورموجودہ صدرٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ روّیے کوامریکی سلامتی کیلئے خطرہ قراردے رہے ہیں۔اسی حوالے سے آرلی اے برک چیئر کے سربراہ ہیں،انہوں نے افغانستان کےحوالے سے امریکی محکمہ خارجہ اورمحکمہ دفاع
کیلئے مشیرکی حیثیت سے بھی کام کیاہے۔انہوں نے اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں افغانستان میں امریکاکی ہاری ہوئی جنگ کاقصہ بیان کرتے ہوئے امریکی عوام کوآگاہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ افغانستان میں اگرامریکی فوج کی کوئی حکمت عملی ہے توبس یہ کہ کسی نہ کسی طورپریہ لڑائی جاری رکھی جائے تاکہ خطرات کی سطح اس حدتک گرجائے کہ افغان فوج کیلئے ملک کی سیکورٹی کاانتظام اپنے ہاتھ میں لیناممکن ہوسکے۔ افغانستان کے طول وعرض میں پچھلے سترہ سال کی لڑائی کے بعدبھی کوئی بھی کسی بھی سطح پریہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ افغان فوج کواس قابل بنایاجاچکاہے کہ وہ ملک میں سلامتی برقراررکھنے کی ذمہ داری سنبھال سکیں ۔افغان فوج جیتنے کی پوزیشن میں توخیرآہی نہیں سکی ہے۔پینٹاگون امریکی عوام کواس خوش گمانی میں مبتلاکررہا ہے کہ وہ ہارنہیں رہے تاہم ہان یہ بات ضرورکہی جاسکتی ہے کہ افغان فوج ایک نہ ایک دن امریکی فوج کی مددسے کسی بڑی فتح کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
امریکی حکام افغانستان میں سیاست،نظام حکومت اورمعاشیات کے حوالے سے سویلین سطح پربھی کسی بڑی کامیابی کوممکن بنانے کادعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے البتہ ایک اورخوش گمانی میں مبتلاہیں کہ اگراصلاحات کے پروگرام پرعمل جاری رکھاجائے توایک نہ ایک دن کامیابی ضرور نصیب ہوگی۔تجربے کے مقابلے میں اسے امیدکی فتح قراردیاجا سکتا ہے ۔ افغان جنگ میں امریکااب تک کم وبیش ایک ہزارارب ڈالرسے زائدآگ میں جھونک چکاہے،تصدیق شدہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2200امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں اوربیس ہزارسے زائدزخمی ہوئے ہیں جن میں نصف سے زائدعمربھرکیلئے معذورہوچکے ہیں۔اس کے باوجودیہ جنگ اب بھی اوپن اینڈیڈہے اوررسوائی کے سواکوئی بھی حتمی نتیجہ برآمدنہیں ہو سکا۔اتنی مدت گزرجانے پر بھی امریکااپنے اتحادیوں سے زیادہ سے زیادہ فنڈاورمزیدفوجی امدادفراہم کرنے کی اپیل کررہا ہے ۔یہ بھی واضح نہیں کہ افغانستان پرامریکاکے واضح دشمنوں کے پاس کس قدررقبہ ہے اورافغان حکومت معاملات کوکس حدتک کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہے البتہ اب امریکی میڈیابھی اس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہافغانستان کے سترفیصدرقبے پر طالبان کی عملداری ہے۔
امریکی دفاعی تجزیہ نگارآرلی اے برک کے مطابق امریکاکو افغان فوج کومضبوط بنانے میں تاحال خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ امریکااور اتحادیوںکی بھرپورکوشش ہے مگراس کے باوجودافغان نیشنل سیکورٹی فورسزملک کوکنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہوپائی ،یہ دعویٰ بھی کوئی نہیں کر سکتاکہ افغان فوج اپنے پاؤں پرکھڑی ہوچکی ہے اوراب انہیں کسی بھی قسم کی فنڈنگ یاامریکی زمینی یافضائی امداد کی قطعی ضرورت نہیں۔خیر،اس کایہ مطلب بھی ہرگزنہیں کہ افغان فوج کوتیارکرنے کے معاملے میں امریکااوراوراس کے اتحادی مکمل طورپرناکام رہے ہیں۔ امریکانے افغان فوج کی اعلیٰ تربیت کے ساتھ ساتھ اسے فضائی لڑائی میں بہترین اندازسے معاونت فراہم کرکے معاملات کوبہتربنانے کی بھرپور کوشش کی ہے اس کے نتیجے میں امریکی فوج کیلئے جانی نقصان کاگراف بھی نیچے آیاہے۔انتہائی پریشان کن امریہ ہے کہ افغان فوج اب بھی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ وہ ملک کوبہترین اندازمیں کنٹرول کرسکتی ہیں یایہ کہ وہ طالبان اوردیگرعناصرپرقابوپانے کے حوالے سے بھی کچھ کہنا تاحال ممکن نہیں ہوسکاہے۔ پاکستان کے حوالے سے امریکانے خاصاسخت مؤقف اختیارکیاہے مگراس کے باوجودیہ بات پورے یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ اس کاحتمی نتیجہ کیا برآمدہواہے۔یہ بات بھی بہت واضح ہوچکی ہے کہ روس اورایران اب طالبان کے ساتھ مل کرکام کرنے کوتیارہیں۔ بڑے افغان شہروں میں طالبان اورداعش کے حملوں سے افغان فوج پرعوام کااعتمادمزیدمتزلزل ہورہاہے۔
افغانستان میں اس وقت جوکچھ ہورہاہے وہ بہت حدتک وہی ہے جیساویتنام میں ہواتھا۔تب امریکانے برسوں کی بات چیت کے بعدیاساتھ ساتھ شمالی ویتنام کوپھرقوت کے ساتھ نشانہ بنایاتھا اوردوسری طرف جنوبی ویتنام کواپنی مددکیلئے تیارکیاگیاتھا،یہ گویاامن کوجیتنے اورجنگ کو ہارنے کی حکمت عملی تھی۔شمالی ویتنام کی مزاحمتی فوج کواس بات کایقین تھاکہ وہ جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہیں مزیدیہ کہ وہ اپنی مرضی کے نتائج بھی حاصل کرسکتے تھے۔ دوسری طرف چند امریکی حکام نے آنے والے دورکے خطرات کوبھانپ لیاتھا۔انہیں اندازہ تھاکہ امریکا درحقیقت ہار چکاہے مگرآبروبچانے کی خاطرامن کونافذکرنے کی تیاری کررہاہے۔ویتنام کی جنگ امریکانے ایسی شرائط کے تحت ختم کی تھی جو دراصل شکست کی شرائط تھیں۔چنداورمعاملات بھی ہیں جن میں موجودہ افغانستان اورتب کے ویتنام میں کئی انداز مشترکہ پائی جاتی ہیں۔ امریکانے شمالی ویتنام کوباہر سے ملنے والے مختلف النوع امدادکے بارے میں غلط اندازے قائم کیے تھے اورسب سے بڑھ کریہ کہ اس نے جنوبی ویتنام کے بارے میں یہ خوش فہمی پال لی تھی کہ وہ گورننس اور اقتصادی کارکردگی کے معاملے میں بہت آگے ہے۔غیرمعمولی دم خم رکھتاہے جبکہ ایسانہیں تھا۔امریکی قیادت نے اس حقیقت کویکسرنظر اندازکردیاکہ ویتنامی حکومت بدعنوانی اورنااہلی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی تھی اورنظامِ حکومت کےحوالے سے اس کی کارکردگی بہت خراب تھی۔سویلین اور فوجی دونوں ہی معاملات میں وہ نااہل تھی اور معاشی کارکردگی کے حوالے سے قابل رحم حالت میں تھی اس کے نتیجے میں وہ نام نہادجمہوریت میں کچھ نہ کرسکی جوامریکانے متعارف کروائی تھی۔
اس وقت افغانستان کے حکومتی سیٹ اپ میں بہت سے افسران انتہائی ایمانداراور محب وطن ہیں جیسا ویتنام کے کیس میں تھامگرمسئلہ یہ ہے کہ مجموعی سیٹ اپ ویسا ہی بدعنوان اور نااہل ہے جیساکہ ویتنام میں تھا۔سیاسی اورمعاشی کارکردگی کاگراف گراہواہے۔پوری معیشت آبادی کے ایک چھوٹے سے طبقے کواپنے ثمرات سے مستفیذہونے کاموقع دے رہی ہے۔معاشرے میں تقسیم غیر معمولی ہے،مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں اوران کے حل کی کوئی سبیل نہیں نکالی جارہی۔ ویتنام کی طرح افغانستان میں بھی سویلین اورفوجی سیٹ اپ دونوں ہی ناکام ہیں مگر سویلین سیٹ اپ کی ناکامی زیادہ نمایاں ہے۔سیاسی اعتبار سے افغانستان زیادہ منقسم اورکمزور ترہے اس کے شدیدمنفی اثرات ملک کی معاشی کارکردگی پربھی مرتب ہورہے ہیں۔
افغانستان کی قومی فوج ابھی تک اس قابل نہیں ہوسکی کہ ملک کانظم ونسق بہتراندازسے سنبھال سکے تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیانے سیاسی پہلو کوبہت حدتک نظراندازکررکھاہے۔افغان فوج کاکمزور ہوناایک حقیقت ہے مگرسیاسی پہلوزیادہ بڑی حقیقت کادرجہ رکھتاہے۔ملک میں مجموعی اعتبارسے تعمیروترقی نہیں ہوپارہی۔یہ محض عسکری معاملہ نہیں مجموعی طورپرسیاسی سیٹ اپ ہی نااہل اوربدعنوان ہے،ایسے میں ملک کسی بھی طورآگے نہیں بڑھ سکتا۔منتخب حکومت اپنی ناکامی کا ساراالزام سیکورٹی کی صورتحال کے سرمنڈھنے کیلئے بیتاب رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی سیٹ اپ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے کوئی بھی بہانہ گھڑرہاہے اورمعاملات کومزیدخرابی کی طرف دھکیل رہاہے۔ جنوبی ویتنام میں بھی نااہلی تھی،کرپشن بھی تھی مگرخیر،معاشرے میں غیرمعمولی تقسیم نہیں تھی۔بڈھسٹ اورکیتھولک گروہوں کے درمیان تقسیم کی نوعیت وہ نہ تھی جوافغانستان میں ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ یامسلکی بنیادپر اختلافات بہت زیادہ ہیں،نسلی اورلسانی تقسیم بھی موجود ہے۔عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈجیسے اداروں نے افغانستان میں سویلین حکومت کی نااہلی کی طرف باربار اشارہ کیاہے ۔ ملک میں اب بھی نارکوٹکس اکانومی کاشوربہت زیادہ ہے یعنی پوست کی کاشت پراطمینان بخش تک قابونہیں پایاجاسکاہے۔سیاسی نااہلی سے ایک طرف توملک داؤپر لگا ہواہے اورساتھ ہی ساتھ ترقی کی راہیں بھی مسدودہوتی جارہی ہیں۔ملک بھرمیں غیرمعمولی بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے جومسائل کومزیدگھمبیر و سنگین بنارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مکمل ناکامی سے قبل ویتنامی معاشرہ اس قدرمنقسم نہ تھاجس قدرافغان معاشرہ ہے۔
اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ امریکاکواب افغانستان سے نکلناہے اوروہ اب اس جنگ سے ہر صورت اپنی جان چھڑانے کیلئے پوری کوششیں کررہاہے مگریہ سب کچھ ایساآسان نہیں جیسا دکھائی دیتاہے۔جس جنگ کوچھوڑناہے اسے کسی نہ کسی شکل میں جاری بھی رکھناہے۔یہی سبب ہے کہ امن مذاکرات جنگ جاری رکھنے کاایک طریقہ بھی سمجھاجارہاہے۔ امریکا طالبان سے مذاکرات کے ذریعے سے ایک ایسی فتح چاہتاہے جس سے وہ جان بھی چھڑواناچاہتاہے۔نیپال اور کمبوڈیامیں بھی ضانہ جنگی ہوئی مگران دونوں ممالک کامعاملہ افغانستان اورویتنام سے بھی مختلف رہا۔نیپال اورکمبوڈیامیں جب جنگجوؤں نے دیکھاکہ وہ میدانِ جنگ میں سب کچھ نہیں پا سکتے توانہوں نے بات چیت کی راہ اپنائی اورمذاکرات کی میزسے ایوان اقتدارتک پہنچے۔ کمبوڈیااورنیپال دونوں کے معاملات میں یہ ثابت ہواہے کہ کبھی کبھی امن مذاکرات جنگ کوطول دینے کا سبب بنتے ہیں اور فریقین ایک دوسرے کودھوکہ دینے کیلئے مذاکرات کی میزتک آتے ہیں۔
آرلی اے برک نے امریکی ٹرمپ کومشورہ دیاہے کہ اگرامریکاچاہتاہے کہ افغانستان سے جان چھوٹے تولازم ہے کہ کسی نہ کسی سطح کی فتح کا اعلان کرکے اپنی راہ لے۔طالبان اوردیگرفریقین سے مذاکرات کی صورت میں جنگ صرف گھٹتی ہوئی آگے بڑھتی رہے گی اورکچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ اگراس امیدپرجنگ جاری رکھی جائے کہ طالبان کبھی توتھک کرہارمانیں گے توکچھ بھی ملنے والانہیں۔ایسی صورت میں لڑائی کسی نہ کسی صورت جاری رہے گی۔افغان جنگ جیتنے کا ایک اورطریقہ بھی ہوسکتاہے کہ افغان حکومت کوزیادہ فنڈدیکرمضبوط بنایاجائے۔ملک کامکمل کنٹرول سنبھالنے کی پوزیشن میں لایاجائے مگرایسابہت ہی مشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ افغان کرپٹ مافیاایساہونے نہیں دے گا۔جنگ میں بھی کسی نہ کسی سطح پرتوایماندارہوناہی پڑتاہے۔ امریکاکویہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ دنیابھرمیں یہ تاثرعام ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کبھی حقیقی فتح کادعویٰ یااعلان نہیں کرسکتیں،ایسے میں ایک اچھااقدام یہی ہوسکتاہے کہ فتح کا اعلان کرنے کی بجائے امن کااعلان کرکے اپنی راہ لی جائے ۔ایشیاکے نئے گریٹ گیم میں جیتنے کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کھیلناترک کردیاجائے،اس کے نتیجے میں خرابیاں پاکستان،ایران، روس ،چین اوردیگرممالک کے حصے میں آئیں گی اورجوکچھ امریکانے سہاہے وہی کچھ ان ممالک کوبھی سہناپڑے گالیکن کیاقصرسفیدکافرعون ٹرمپ یہ سبکی برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتاہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں