I am one to guard the Muslim holy shrine

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

آج کادن…صرف ایک تاریخ کانشان نہیں…بلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن محض ایک تاریخ کانشان نہیں،بلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن صرف ہمارے ملک کے جغرافیائی وجودکی خوشی کاوہ دن ہے جومسلمانوں کی قربانیوں، استقلال اوراتحادکی بدولت ممکن ہوا۔ پاکستان ایک معجزہ ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدرفرمایا، اور یہ معجزہ صرف ہمارے اہل ایمان کےاتحاداورقربانی کی بدولت ممکن ہوا۔ پاکستان،یہ معجزاتی ریاست،صرف سرزمین کی بنیادپرنہیں بلکہ قربانی، اتحاد،اوراسلامی شعورکی بنیادپروجودمیں آئی۔ہرگوشہ،ہرپتھر،ہرگلی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہاں ایک خواب حقیقت میں بدلا— پاکستان صرف ایک سرزمین نہیں، بلکہ ایک معجزہ ہے،جس کی بنیادقرآن وسنت کے اصولوں،اقبال کے نظریات اورقربانی کے جذبے پررکھی گئی ایک خواب اورپیش گوئی، قائداعظم کی قیادت اورلاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کاثمرہے۔بقول اقبال ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

یہ صرف ایک شعرنہیں،بلکہ ایک عملی اصول ہے جوہمیں یاددلاتاہے کہ ہرمسلمان کی اولین ذمہ داری اس کے ایمان،تہذیب اور وطن کی حفاظت ہے۔یہ ذمہ داری صرف ایک فوجی فرض نہیں،بلکہ علم،اخلاق اوربصیرت کی بنیادپربھی لازم ہے۔یہ محض الفاظ نہیں… یہ ایک عملی اصول ہے۔ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔یہ شعرنہیں،بلکہ ایک عملی اصول ہمیں یاددلاتاہے کہ ہرپاکستانی کی اولین ذمہ داری ایمان،تہذیب اوروطن کی حفاظت ہے۔یہ ذمہ داری صرف فوج کی ہی نہیں بلکہ علمی،اخلاقی،اورفکری طورپربھی لازمی ہے۔آج کادن، پاکستان کی عظمت اوربقاکی یاددلاتاہے،جب ایک قومی جذبے اورمسلم اتحادنے تاریخ کے صفحات میں روشن باب رقم کیا۔علامہ اقبال کے یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسی فرمانبرداری اورقربانی کی پکار ہے جوہرمسلمان کے دل میں زندہ رہنی چاہیے۔

پاکستان کی بنیادایک طویل اورصبروتحمل کی جدوجہدکے بعدرکھی گئی۔مسلمانوں نے اپنے مذہبی،ثقافتی اورسیاسی حقوق کی خاطرقربانی دی۔برصغیرکے مسلمانوں نے صدیوں تک اپنی پہچان کیلئےجدوجہدکی۔آزادی کی راہیں خون سے سینچی گئیں برصغیرکے مسلمانوں نے اپنے مذہبی،ثقافتی اورسیاسی حقوق کیلئےجدوجہد کی۔یہ وہ قوم تھی جوقرآن کی تعلیمات پرعمل کرتے ہوئے اپنی پہچان کومحفوظ رکھناچاہتی تھی۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی حدودنہیں،بلکہ ایک نظریہ،ایک معجزہ ہے،جسے قرآن کریم نے ہمارے لیے مقدرفرمایالیکن قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہمیں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ قرآن کریم نے ہمیں اتحادکی اہمیت بتائی ہے:وَاعْتَصِمُوابِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًاوَلَاتَفَرَّقُوا، یعنی اللہ کے رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور بٹو نہ۔ یہی رسی ہمیں ایک قوم اورایک مقصد میں باندھتی ہے۔

یہ اتحادہی ہمیں مضبوط بناتاہے،اورہمیں یاددلاتاہے کہ ہماری طاقت،ہماری شناخت،اورہماری بقااسی میں مضمرہے۔ہماری طاقت، ہماری شناخت، اور ہماری بقااسی اتحادمیں مضمرہے۔پاکستان اسی اتحاد کی صورت میں ایک حقیقت بن کرہمارے سامنے آیا۔یہ اتحاد کی طاقت تھی جس نے ہمیں غلامی کے سائے سے نکال کرایک روشن مستقبل کی طرف گامزن کیا۔پاکستان صرف سرزمین نہیں، بلکہ ایک نظریاتی مشعل راہ اورایک اخلاقی فرض ہے۔

علامہ اقبال نے مسلمانوں کویہ شعوردیاکہ وہ اپنی تہذیب، اپنی زبان،اوراپنی دینی پہچان کوزندہ رکھیں۔وہ ہمیں یاددلاتے ہیں کہ مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کااتحادہے۔ان کے اشعارصرف شاعری نہیں،بلکہ مسلمانوں کیلئےفکری مشعلِ راہ ہیں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کویہ شعوردیاکہ وہ صرف جسمانی آزادی تک محدودنہ رہیں، بلکہ اپنے فکری اورروحانی وجودکوبھی آزادکریں۔ان کاتصورپاکستان صرف ایک ریاست نہیں،بلکہ ایک فکری وروحانی منزل تھا۔انہوں نے ہمیں سکھایاکہ خودی کوبلند کرنااوراللہ کی رضاکے مطابق عمل کرناہرمسلمان کافرض ہے۔ انہوں نے فرمایا
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے،بتاتیری رضاکیاہے

یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ اپنی ذات کومضبوط کرنااوراللہ کی رضا کے مطابق عمل کرناہرمسلمان کافرض ہے۔یہ کلمات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ ہماری قومی بقااورعظمت اسی میں مضمرہے کہ ہم اپنے اندرمضبوطی پیداکریں،علم حاصل کریں،اوراپنی دینی وثقافتی اقدار کوزندہ رکھیں۔اقبال ہمیں یاددلاتے ہیں کہ ایک مضبوط خودی ہی قوم کوبقااورعظمت کی طرف لے جاتی ہے۔ہمیں اپنی خودی… اپنے شعور…اور ایمان کوبلندکرناہوگا۔

تاریخ کابانکپن،فکری تمکنت اور لسانی آراستگی کاحسین امتزاج ایک ایسے سبق کی طرح ہے جس کاازبریادرہناہماری ذمہ داریوں شامل ہے۔موجودہ حالات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آزادی کاتحفظ فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ علم،اخلاق اوربصیرت کاساتھ بھی ضروری ہے۔قوم کی بقاکارازصرف سرزمین میں نہیں،بلکہ علم،تربیت اوراخلاق میں مضمرہے۔قوم کی بقااورعظمت آزادی کی راہوں کوروشنی بخشتے ہیں۔قومیں صرف زمین پرنہیں جیتی جاتی،بلکہ دلوں،ذہنوں اورروحوں میں بستی اورزندہ رہتی ہیں۔ یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ ہرفردکی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی شعورکوزندہ رکھے۔

ہمیں یہاں یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ قوم کی بقاکیلئےصرف دفاع کی ضرورت کے ساتھ ثقافت،ادب اورزبان کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ علم وادب کے چراغ جلانے سے قوم کی روح زندہ رہتی ہے۔قوم وہ ہے جواپنی زبان کی مٹھاس اورادب کی روشنی سے زندہ رہے۔یعنی ہمارے افواج کے ساتھ ساتھ،ہماراادب،ہماری زبان،اورہماری تہذیب بھی وطن کی حفاظت کاایک مضبوط حصّہ ہیں۔اگرہم اپنی تہذیب کوبھی بچانے کی فکرکریں تو دشمن کبھی ہمیں کمزورنہیں کرسکتا۔اس لئے ضروی ہے کہ ان دنوں سوشل میڈیاپردشمن کی پھیلائی باتوں کایقین کرنے کی بجائے ان کی سازشوں سے باخبررہیں کہ اس حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعددشمنوں کی توپوں کارخ سوشل میڈیاپرہماری نوجوان نسل کواپنی ہی فوج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ میں شب وروزکام کررہاہے تاکہ وہ کسی طریقے سے اپنی شکست اورہزیمت کابدلہ لے سکیں۔یادرکھیں کہ ہماراادب،ہماری زبان،اورہماری ثقافت… وطن کی حفاظت کانہ صرف ایک مضبوط حصّہ ہیں بلکہ آج بھی ہمارے لئے چراغِ راہ ہیں۔

جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی بنیادایک اسلامی نظریے پررکھی گئی۔پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طورپروجودمیں آیا،اوراس کی بقاکا دار و مدارایمان،اتحاداوراسلامی اصولوں پرہے۔قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہرمسلم کافرض ہے کہ وہ اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہے،اپنی زندگی اور قوم کواللہ کی رضاکے مطابق سنوارے۔یادرکھیں کہ فتح وکامیابی اللہ کی طرف سے ہے،اور اس کیلئےہمیں اپنی جان ومال،علم اورکردارکومضبوط کرناہو گا۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی،کرداراوراعمال کے ذریعے اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہیں اور پاکستان کوایک مضبوط،اسلامی نظریہ پر قائم رہنے والاملک بنائیں۔اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہنا،اپنے کردار،اپنی نظریاتی اوراخلاقی تربیت کومضبوط کرنا،اوراپنی زندگی کودینی اصولوں کے مطابق ڈھالناہرمسلمان کی ذمہ داری اورہمارے فرض کاحصہ ہے۔

حال ہی میں ہماری افواج نے شجاعت،اتحاداورایمان کے ذریعے دشمن کے عزائم کوخاک میں ملادیا۔یہ فتح صرف فوجی طاقت کی نہیں،بلکہ قومی اتحاد،ملی جذبہ،قربانی اوراللہ پریقین اور ایمان کی بدولت حاصل ہوئی۔ہمارے شہداءکی قربانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ پاکستان کی حفاظت ہرفردکی ذمہ داری ہے۔ ان کی قربانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ قومیں شہداء کے خون سے جنم لیتی ہیں اور قربانی سے زندہ رہتی ہیں۔ قرآن فرماتا ہے فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے۔

ہمیں یادرکھناہوگاکہ دشمن کبھی بھی غافل نہیں ہوتا۔لہٰذاہمیں نہ صرف فوجی،بلکہ اقتصادی،تعلیمی اورفکری محاذپربھی مضبوط رہناہوگا۔ہرشہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذاتی اورقومی زندگی میں اسلام کی تعلیمات کواپنائے اوراپنی سرزمین کی حفاظت کرے۔ہم نے اقبال کے فلسفے سے سیکھاہے کہ خودی،اتحاداورقربانی ہی قوم کومضبوط بناتے ہیں۔یعنی ہرفردکی ذاتی اوراجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن اوردین کی حفاظت کرے۔اس لیے نہ صرف فوج بلکہ ہرشہری کواقتصادی،تعلیمی،اورفکری محاذپر مضبوط رہناہوگا۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کااتحادہے۔

ہرشہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوپہچانے اوراسلام کی حفاظت میں اپناکرداراداکرے۔ پاکستان ایک معجزاتی ریاست ہے۔ قرآن نے فرمایا: مومنو(کسی بات کے جواب میں)خدااوراس کے رسول سے پہلےنہ بول اٹھاکرواورخداسے ڈرتے رہو۔بےشک خداسنتاجانتاہے۔

ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔پاکستان کی سرزمین پرہم نے اللہ کی مددسے اپنی تقدیرخودلکھی۔ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرہ قائم کرناہے،اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔یہ نعمت ہمیں یاددلاتی ہے کہ وطن کی حفاظت اورترقی ہرمسلمان کی مقدس ذمہ داری ہے ۔ آج،اس یومِ آزادی پر،ہمیں اقبال کے اس شعر کوصرف یادنہیں کرنابلکہ عملی زندگی میں اسے نافذکرناہوگا،ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے!

قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جووقت کی گردمیں چُھپ نہیں سکتے،جوصدیوں کے اندھیروں میں چراغِ راہ بن کر جگمگاتے رہتے ہیں۔جب تاریخ کے اوراق پرنگاہ دوڑائی جاتی ہے توکچھ دن محض دن نہیں رہتے،وہ ایک عہدکی پہچان،ایک خواب کی تعبیراورایک قوم کی روحانی بیداری بن جاتے ہیں۔پاکستان کایومِ آزادی بھی ایساہی دن ہے—یہ دن محض جغرافیائی آزادی کانہیں،بلکہ ایمان،قربانی،اوروحدت کی صداکادن ہے۔یہ محض ایک تقویمی تاریخ نہیں بلکہ ایک فکری بیداری،ایک روحانی انقلاب،اورایک سیاسی معجزہ ہے۔

یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ اللہ کی مشیت جب کسی قوم کے ساتھ ہوتوغلامی کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں،اورایک ایسی مٹی جنم لیتی ہے جومعجزے کی مانند تاریخ کے سینے میں ہمیشہ روشن رہتی ہے۔یہ وہ دن ہے جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں،جب ایک خواب حقیقت میں ڈھلا،اورجب دنیانے دیکھاکہ ایمان اورقربانی سے مسلح قومیں کس طرح تاریخ کادھاراموڑدیتی ہیں۔پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے—وہ نظریہ جس کی جڑیں قرآن وسنت کی تعلیمات میں پیوستہ ہیں،جس کی آبیاری لاکھوں شہداءکے خون سے ہوئی،اورجسے اقبال کے افکاراورقائداعظم کی قیادت نے جلابخشی۔یہ سرزمین ہمارے لیے امانت ہے،اور امانتیں صرف زمین پرنہیں،دلوں میں بسائی جاتی ہیں۔

آج کا دن ہمیں صرف جشن منانے کیلئے نہیں،بلکہ خوداحتسابی اورعہدِنو کیلئے پکاررہاہے۔دشمن آج بھی بدلتے ہتھیاروں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔کبھی وہ توپ وتفنگ سے حملہ آور ہوتا ہے اورکبھی سوشل میڈیاکے پردے میں ہمارے نوجوانوں کے اذہان کو مسموم کرنے نکل کھڑاہوتاہے۔ دشمن کی یہ سازشیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ آزادی کی حفاظت صرف بندوق کے دہانے سے نہیں ہوتی بلکہ قلم،علم،کرداراوراتحاد سے بھی کی جاتی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں سوچناہوگاکہ کیاہم اپنی فکری واخلاقی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں؟کیاہم اپنی زبان،ادب اورتہذیب کے چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں؟کیاہم اقبال کے اس پیغام کوزندہ رکھے ہوئے ہیں کہ مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کااتحاد اوراس کاشعورہے؟یہ دن ہمیں جھنجھوڑتاہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں پرفخرنہ کریں،بلکہ اپنے حال کواس قربانی کے شایانِ شان بنائیں۔

یہ دن ہمیں بتاتاہے کہ پاکستان کسی حادثے کانام نہیں،بلکہ لاکھوں شہیدوں کی اذانوں،لاکھوں ماؤں کی دعاؤں اورلاکھوں نوجوانوں کی قربانیوں کاوہ مقدس حاصل ہے،جوقرآن وسنت کے نورسے روشن ہوا۔آج کادن ہمیں جھنجھوڑتاہے کہ ہم محض ایک قوم نہیں، بلکہ ایک امانت کے وارث ہیں—وہ امانت جس کامحافظ ہرفرد،ہرقلم،ہرتلواراورہردعا ہے۔

اے وطن تیری مٹی پربہایاگیاہرقطرۂ خون ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ قومیں محض سرحدوں سے نہیں بلکہ ایمان،علم اورقربانی سے زندہ رہتی ہیں۔آج کادن ہمیں اس عہدکی تجدید پرمجبورکرتا ہے کہ ہم اقبال کے خواب اورقائداعظم کی قیادت کواپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں،اوردشمن کی سازشوں کے مقابل صرف ہتھیارسے نہیں،بلکہ علم،کرداراوراتحادکے چراغ سے بھی جواب دیں۔

اے پاکستان توایک معجزہ ہے،وہ معجزہ جسے اللہ نے ایمان اورقربانی کی بدولت ہمیں عطاکیا۔تیری سرزمین پربہایاگیا خون ہمیں ہر لمحہ یاددلاتاہے کہ آزادی کی حفاظت صرف فوجی مورچوں میں نہیں بلکہ ہرگھر،ہرقلم،ہردل اورہرزبان پرفرض ہے۔

اے پاکستان تومحض ایک خطۂ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے—وہ نظریہ جوقرآن وسنت کی روشنی میں پروان چڑھا،وہ خواب جس نےاقبال کی فکرسے جنم لیااوروہ حقیقت جوقائداعظم کی قیادت اورلاکھوں شہداءکی قربانیوں سے وجودمیں آئی۔تیری سرزمین پربہایاگیاخون ہمیں بتاتاہے کہ آزادی کی حفاظت کسی ایک ادارے یافردکانہیں بلکہ پوری قوم کافرض ہے۔

آج کے دورمیں دشمن نے جنگ کاطریقہ بدل دیاہے۔آج دشمن نے اپنی چالیں بدل لی ہیں۔اب وہ توپ و تفنگ سے زیادہ فتنہ اور جھوٹ کے ساتھ حملہ آورہے،پروپیگنڈے کے تیرچلاتاہے۔سوشل میڈیاپروہ نوجوانوں کے ذہنوں کومسموم کرنے کی کوشش کرتا ہے،وہ ہماری نئی نسل کوشکوک و شبہات کے دلدل میں دھکیلناچاہتاہے،تاکہ وہ اپنی فوج،اپنی تاریخ اوراپنے دین پراعتمادکھو بیٹھے ۔ہماری فوج پرسوالیہ نشان لگانے کی تدبیریں کرتا ہے ،اورہماری ثقافت وزبان پرحملے کرتاہے۔مگریادرکھواگرہم نے شعور،اتحاد اورایمان کواپناہتھیاربنایاتویہ سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔جس قوم کے نوجوان شعورکے ہتھیارسے لیس ہوں،وہ کبھی شکست نہیں کھاسکتے۔یہی وقت ہے کہ ہم اپنی تعلیمی اداروں کوعلم وتحقیق کے گڑھ بنائیں، میڈیا کی فضاکوصداقت کامیدان بنائیں، اوراپنے گھروں کواخلاق اورتہذیب کی پناہ گاہ بنائیں۔پاکستان کی بقاصرف زمین پرنہیں،بلکہ ہمارے کردارمیں ہے۔ہماری فوج کے شجاع جوان مورچوں پر قربانیاں دیتے ہیں توہمیں بھی اپنے قلم،اپنی سوچ اوراپنے کردارکومورچہ بناناہوگا۔یہ وطن ہمارے ایمان ، ہماری ثقافت اورہمارے اتحادکانام ہے۔اگرہم نے قرآن وسنت کواپنی اصل قوت بنایا،اگرہم نے اقبال کے فلسفے کوعملی جامہ پہنایا، اوراگرہم نے دشمن کے پروپیگنڈے کواپنے اتحاداوربصیرت سے توڑا،توکوئی طاقت ہمیں زیرنہیں کرسکتی۔یہی وہ وقت ہے کہ ہم محض نعروں پرنہ رکیں،بلکہ آج ہی 5عملی اقدامات کریں۔

٭پہلا کام نوجوان نسل اپنی توجہ صرف ڈگری لینے تک محدودنہ رکھے بلکہ علم کوہتھیاراورتحقیق کوعادت بنائے۔مضبوط قومیں کتاب اورتحقیق سے بنتی ہیں۔
٭دوسرا کام ہرنوجوان یہ عہدکرے کہ دشمن کے پروپیگنڈے کاشکارنہیں ہوگا،بغیرتحقیق کسی خبرکوآگے نہیں بڑھائے گا،اوراپنی زبان وقلم کوسچائی اوراتحادکاترجمان بنائے گا۔
٭تیسرا کام ہماری زبان،ہماراادب،ہماری تہذیب دشمن کے نشانے پرہیں۔ہمیں اپنی نسل کواردو،اسلامی تاریخ اوراپنی تہذیبی قدروں سے جوڑناہوگا تاکہ شناخت محفوظ رہے۔
٭چوتھا قدم یہ تعلق صرف نعرے یاپریڈتک محدود نہیں ہوناچاہیے۔ہمیں اپنی فوج کے ساتھ ہرمحاذپرکھڑاہوناہوگاخواہ وہ تعلیمی ہو، سائنسی ہویامعاشی۔
٭پانچواں قدم کرپشن،جھوٹ،اوراخلاقی کمزوری دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں۔اگرہم اپنی ذاتی زندگی میں ایمان داری اورقربانی کواپنا اصول بنالیں توکوئی طاقت پاکستان کوشکست نہیں دے سکتی۔

پاکستان محض ایک خطۂ زمین نہیں…یہ اللہ کی عطاکردہ ایک امانت ہے۔اقبال کاخواب،قائداعظم اوران کے ساتھیوں کی جدوجہد، ہمارے لاکھوں شہیدوں کے خون اورقربانی سے ملایہ زمین کاٹکڑہ،اس سرزمین کاہرذرہ،ہرگلی،ہروادی ہمیں یہ صدادیتی ہے کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں—یہ قربانیوں کاصلہ ہے یہ ایمان کاانعام ہے۔آج کے دن ہمیں یہ یادرکھناہوگاکہ دشمن آج بھی ہمارے سامنے ہے لیکن اس باروہ بارودکے دھویں میں نہیں،سوشل میڈیاکے پردوں میں چھپاہواہے۔وہ ہماری نوجوان نسل کوگمراہ کرناچاہتاہے، ہماری فوج پرانگلی اٹھاناچاہتاہے،ہماری زبان اورہماری تہذیب پرحملہ آور ہے لیکن دشمن سن لے جس قوم کے نوجوان علم،شعور اورایمان سے مسلح ہوں،اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم محض نعرے نہ لگائیں،بلکہ عمل کے میدان میں اتریں۔ ہمیں پانچ عہدکرنے ہیں:

٭ہم تعلیم کواپنی سب سے بڑی طاقت بنائیں گے،تحقیق کواپناہتھیاربنائیں گے۔
٭ہم سوشل میڈیاپردشمن کے پروپیگنڈے کوشعوراورتحقیق سے توڑیں گے۔
٭ہم اپنی زبان،اپنے ادب اوراپنی تہذیب کے چراغ جلائے رکھیں گے تاکہ ہماری پہچان محفوظ رہے۔
٭ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے—چاہے محاذ بندوق کاہو،چاہے علم اورمعیشت کا۔
٭اورسب سے بڑھ کر،ہم اپنی زندگیوں میں ایمان داری،قربانی اوراخلاص کواپناشعاربنائیں گے۔
یادرکھیں قومیں توپ وتفنگ سے نہیں جیتی جاتیں،قومیں اتحاد،کرداراورایمان سے زندہ رہتی ہیں۔اگرہم نے قرآن وسنت کواپنی اصل طاقت بنایا،اگرہم نے اقبال کے فلسفے کوعملی جامہ پہنایا،اگرہم نے دشمن کے پروپیگنڈے کواپنی بصیرت سے توڑا—توان شاءاللہ کوئی طاقت پاکستان کوزیرنہیں کرسکتی۔

قومیں صرف توپوں سے نہیں بلکہ علم واخلاق اوراتحادسے زندہ رہتی ہیں۔آج کے دن ہم یہ عہدکریں کہ پاکستان کونہ صرف محفوظ رکھیں گے بلکہ اسے قرآن و سنت کی روشنی میں عدل وانصاف کامرکز،علم وتحقیق کاگہوارہ اوردنیاکے مظلوموں کیلئے امید کی کرن بنائیں گے۔

یادرکھیں پاکستان کوئی عام سرزمین نہیں—یہ اللہ کی عطا کردہ امانت ہے۔اگرہم نے اسے قرآن وسنت کی روشنی میں سنواراتویہ دنیامیں عدل وروشنی کامیناربنے گا،ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

آئیے ہم سب ایک بارپھر وہی عہد دہراتے ہیں،ہم علم کواپنی تلوار،اتحادکواپنی ڈھال،اورقربانی کواپنی پہچان بنائیں گے۔ہم پاکستان کونہ صرف محفوظ رکھیں گے بلکہ اسے دنیاکے سامنے اسلامی فکراوراخلاقی عظمت کی جیتی جاگتی تصویربنادیں گے۔

آئیے آج کے دن ہم سب مل کریہ عہد کریں ہم اپنی جان سے،اپنے قلم سے،اپنے کردارسے،پاکستان کی حفاظت کریں گے۔ہم اس معجزاتی وطن کو دنیاکیلئے عدل وانصاف کامینار،علم و تحقیق کاگہوارہ اوراسلام کی عظمت کی جیتی جاگتی تصویربنادیں گے۔ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے،ہم اپنی زبان،اپنے ادب اوراپنی تہذیب کوزندہ رکھیں گے،ہم دشمن کی سازشوں کواپنے علم اوراتحادسے خاک میں ملادیں گے،اورہم پاکستان کوایک ایسی ریاست بنائیں گے جوقرآن وسنت کی روشنی میں دنیا کیلئے عدل وانصاف کامینارہو۔

اللہ پاکستان کوقیامت تک سلامت رکھے،اسے دشمن کی ہرچال سے محفوظ فرمائے،اورہمیں اپنی جان،اپنے قلم،اوراپنے عمل سے اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطاکرے۔اسے دشمن کی ہرسازش سے محفوظ فرمائے،اورہمیں اپنے خون،اپنے قلم اوراپنے عمل سے اس کی حفاظت کاشرف عطا کرے۔اس کے شہداءکے خون کوقبول فرمائے،اورہمیں اخلاص بھرے قول وفعل سے اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا کرے۔

ہمارافرض ہے کہ ہم علم،اتحاد،قربانی،اورایمان کےساتھ پاکستان کی حفاظت کریں۔یہ ہماری پہچان،ہماری ذمہ داری اورہماری تاریخ ہے۔آئیے ہم سب مل کراس معجزاتی وطن کومضبوط، بامعنی اورروشن مستقبل کیلئےتیارکریں۔تاکہ یہ معجزاتی ریاست اپنی بقااورعظمت کے ساتھ دنیامیں روشنی کامینار بنے۔اللہ پاکستان کوسلامت رکھے اورہمیں اپنے دین اوروطن کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے اورہمیں اپنے خون،قلم اورکردارسے اس کی حفاظت کا شرف عطاکرے۔اللھم آمین یارب العالمین
پاکستان زندہ بادوہمیشہ پائندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں