How Does The Political Camel Sit?

سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے؟

:Share

بالآخرعمران خان نے23دسمرکو زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیوخطاب کرتے ہوئے پنجاب اورخیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں توڑنے کااعلان کرتے ہوئے فوری طورپرسارے ملک میں عام انتخابات کروانے کامطالبہ کیاہے۔ان کاکہناہے کہ آج پاکستان میں70فیصد لوگ انتخابات چاہتے ہیں اوردونوں اسمبلیاں توڑنے سے66فیصد پاکستان الیکشنزمیں چلاجائے گا۔تاہم اس اعلان کے غیرمتوقع نتائج بھی نکل سکتے ہیں اوربقول رانا ثنا اللہ کے عمران خان اس اعلان پریوٹرن لے سکتے ہیں۔پرویزالہٰی نے عمران خان کواسمبلیاں توڑنے سے روکنے کی کوشش کی مگروہ عمران کوقائل نہیں کرسکے، تاہم وہ23دسمبرسے پہلے کوئی “داؤ”کھیلیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اسمبلیاں توڑنا وزرائے اعلیٰ کی صوابدیدہے مگرکیاوجہ ہے کہ وہ خوداسمبلیاں توڑناچاہتے ہیں،اورکیاایسا کرنے سے وہ قبل از وقت انتخابات کامقصد حاصل کرسکیں گے؟اس سے پہلے تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے بھی استعفے دے کرحکومت کواپنے مطلب کی قانون سازی کرنے کیلئےکھلا میدان دے دیا۔ اسمبلی سیاسی وجوہات پرتوڑنے کاکہاجارہاہے اس لیے یہ معاملہ عدالت میں بھی جاسکتاہےکیونکہ آئین اسمبلی توڑنے کااختیارتووزیرِاعلیٰ کودیتاہے مگراس کی وجہ بھی بتانی پڑتی ہے۔پنجاب میں منظوروٹواوربلوچستان میں میرظفر اللہ جمالی اوروفاق میں خود قاسم سوری کی سپیکرکے طورپر رولنگ کے خلاف عدالتوں نے فیصلے دیے اوراسمبلیوں کوبحال کیا۔

تاہم آخری خبریں آنے تک ممکنہ طور پر اسلام آباد اورراولپنڈی میں مفاہمتی فارمولے پرکام جاری ہے جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن دونوں کوالیکشن کے ایک درمیانی وقت پرلایاجائے،اسی لیے اُنہوں نے ایک ہفتے کا ٹائم دیا ہے۔تاہم پاکستان میں ایک دہائی سے جمہوری عمل ڈیڈلاک کاشکارہےاورایک خاص ذہنیت ڈائیلاگ کی جانب نہیں آنے دیتی۔ہماری سیاسی بدقسمتی یہ ہے کہ حکمران جماعتیں عوام سے رجوع کرنے سے ڈرتی ہیں۔اپریل میں عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل عمران خان کے پاس بھی یہ آپشن تھااوراب موجودہ حکومت کے پاس بھی یہ آپشن موجودہے لیکن دونوں کااپنے دوراقتدارمیں یہی روّیہ تھا۔اگر وزرائے اعلیٰ کے پاس اسمبلی توڑنے کااختیارہے تواپوزیشن کے پاس بھی وزیرِاعلیٰ کے خلاف تحریکِ عدم اعتمادلانے کاآپشن ہے۔

اس طرح کا قدم اٹھاناآسان نہیں ہوتالیکن عمران خان اپنے اوپردباؤاس قدربڑھاچکے تھےکہ انہوں نے کوئی اعلان توکرناہی تھا۔ میرے خیال میں عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہترہوتے نظرنہیں آرہے تاہم کہیں نہ کہیں ان کی بیک ڈورحکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی ممکنہ طور پربات ہورہی ہوگی۔ عمران خان اپنی جماعت اور(ق)لیگ میں غالب ہیں،کیونکہ(ق)لیگ جانتی ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ رہے گی تبھی ان کی پوزیشن انتخابات میں مضبوط ہوگی،اس کے علاوہ کے تمام عوامل عمران خان کے خلاف ہیں۔تاہم عمران خان کے اعلان کے غیرمتوقع نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔

اگرنگراں حکومت ان کی مرضی کے خلاف بن جاتی ہے،الیکشن کمیشن الیکشن نہیں کرواتا،پنجاب اورخیبرپختونخواکی حکومتوں کی عدم موجودگی میں وفاقی حکومت ان کوگرفتارکرنے کی کوشش تیزکرے،تویہ سارے خدشات موجودہیں اوربہت سے مسائل ہو سکتے ہیں،اس لئےعمران خان کیلئےیہ آسان نہیں ہوگاکہ اسمبلی تحلیل کریں مگراس سے بھی مشکل ہوگاکہ وہ اس معاملے پر یوٹرن لے لیں۔ کیاپی ڈی ایم اس حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے ؟پی ڈی ایم میں شروع میں توکافی ہلچل نظرآئی تھی کہ عمران خان فیصلہ کریں گے توگورنرراج لگایاجائے گایااعتمادکاووٹ لینے کاکہاجائے گا،یاعدم اعتماد لائی جائے گی،توکیاوہ انتظارکررہے تھے کہ عمران خان فیصلہ کریں؟یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعداعتمادکاووٹ لینےکاکہنایا گورنر راج لگانااتناآسان نہیں رہا اوراگرتحریکِ عدم اعتمادلائی جاتی ہے تواس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدیہ گنجائش بھی نہیں کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ٹوٹ کر پی ڈی ایم میں آجائیں اوروہ یہ ووٹ جیت لیں تاہم “ق”لیگ”کے اراکین پرکام جاری ہے اورچوہدری شجاعت اس سلسلے میں اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔تاہم پی ڈی ایم کی طرف سے زرداری اورشہبازشریف کی ملاقاتیں اس بات کی چغلی کھارہی ہیں۔

پی ڈی ایم کیلئےیہ آسان نہیں ہے اور وہ بھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائیں گے۔حکومت کوشش کرے گی کہ ضمنی انتخاب ہوں یاصرف ان دو اسمبلیوں کے انتخابات ہوں لیکن میراخیال ہے یہ اب ممکن نہیں ہو گا۔بہترتویہ ہے کہ اب عام انتخابات کی طرف جانا چاہیے کیونکہ اگر کے پی اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوجاتے ہیں توعام انتخابات کے وقت مرکزمیں نگران حکومت ہوگی جبکہ ان دو صوبوں میں منتخب حکومت ہوں گی تواس وقت آئین اورسیاسی صورتحال کاکیاہوگا؟کیونکہ اگران دواسمبلیوں کی تحلیل لے بعدعام انتخابات ہوتے ہیں تویہ اسمبلیاں پھراگلے پانچ سال کیلئے ہوں گی اور 1973کے آئین کے بعدپہلی مرتبہ یہ بڑی دلچسپ اورعجیب صورتحال ہوگی۔

تاہم کسی بھی صوبے کے وزیراعلیٰ کے پاس یہ اختیارہے کہ وہ جب چاہیے الیکشن کااعلان کرسکتاہےتاہم یہ الگ وجہ ہے کہ اس وقت ملکی حالات ومعاشی صورتحال اس کیلئےسازگارنہیں ہیں۔عمران خان کی جانب سے اس جارحانہ اقدام کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ عمران خان کوخطرہ ہے کہ اگروہ جارحانہ اقدامات نہیں اٹھاتے توحکومت ان کونااہل کردے گی اوران کی سیاست اورشخصیت عوام میں جہاں آہستہ آہستہ غیرمقبول ہوجائے گی وہاں جماعت بھی تقسیم ہوسکتی ہے۔اسی لئےعمران خان نے حکومت سے پہلے یہ ایکشن لے لیاہے تاکہ حکومت الیکشن کی طرف جانے پرمجبورہوجائے۔انہیں علم ہے کہ اسٹیبشلمنٹ ان کے ساتھ نہیں ہے اورانہیں روکنا چاہتی ہے،اس لیے بھی یہ خوفزدہ ہیں۔

عمران خان کااسمبلیاں توڑنے کیلئےایک ہفتے کا وقت دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ ان کے اتحادی اورساتھی انہیں جلدی نہ کرنے کامشورہ دے رہے ہیں اوراسمبلیاں تحلیل نہ کرنے پرکچھ مزاحمت کررہے ہیں لہذاعمران خان نے ان سب کے مشورے کو کم از کم ایک ہفتے کیلئےمان لیا ہے۔دوسری طرف عمران خان کے اس اعلان کےردّعمل میں حکومت پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لاکران کواسمبلیاں تحلیل کرنے سے روکنے کی کوشش ضرورکی جائے گی اور وفاقی سطح پر بھی کوشش ہوگی کہ انتخابات میں جتنی تاخیرممکن ہو وہ کی جائے۔اب دیکھیں یہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں