وفاکے مجرم

:Share

۲۰جولائی۲۰۱۳ء کے ”دی اکانومسٹ”کی اشاعت میں”بنگلہ دیش پالیٹکس:جماعت ٹومارو”کے عنوان سے ایک تفصیلی چشم کشارپورٹ
شائع ہوئی ہےجس میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے بزرگ رہنماؤں کوسزائے موت اورعمرقیدجیسی سنگین سزائیں سناکرپس دیوارزنداں بھیج دینے کے علاوہ جماعت اسلامی کے مستقبل پربھی اظہارِ خیال کیاگیاہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کے فیصلے جاری ہیں۔مزیدرہنماؤں کوسزائیں سنائی گئیں ہیں۔شدیدمشکلات اور تنازعات سے گھری ہوئی ملکی عدالت ”انٹرنیشنل وارکرائمزٹریبونل”نے جماعت اسلامی کے مزیددوسرکردہ رہنماؤں کو۱۹۷۱ء میں سابق مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی اوربنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کی تحریک کے دوران میں نام نہادجنگی جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائیں سنائی ہیں۔پانچ کوپہلے ہی جیل بھیجاجاچکاہے اوران سے کہاگیاہے کہ پھانسی کیلئے تیاررہیں۔ بہت سے دوسرے رہنماؤں کے مقدمات بھی فیصلہ ہونے کی منزل میں ہیں۔جماعت اسلامی پر اب تک پابندی عائدنہیں کی گئی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جماعت کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔
استغاثہ کے وکلاء نے دعویٰ کیاہے کہ طویل مدت تک جماعت اسلامی کی قیادت کرنے والے پروفیسر غلام اعظم نے بنگلہ دیش کے قیام کے وقت ڈھاکہ اوردیگر شہروں میں دانشوروں کے قتل کاحکم دیاتھا،جماعت اسلامی کے اسٹوڈنٹ ونگ پربھی پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے اوربنگلہ دیش کے قیام کی تحریک چلانے والوں کو بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارنے کاالزام عائدکیاگیاہے۔نام نہادانٹرنیشنل وارکرائمزٹریبونل نے ۱۵جولائی ۲۰۱۳ء کو۹۰ سال سے زائدعمرکے پروفیسر غلام اعظم کوجنگی جرائم اورقتل عام کامرتکب قراردیکر ۹۰سال قیدکی سزاسنادی ہے۔کہاجا رہا ہے کہ ان کی بیماری کودیکھتے ہوئے موت کی سزاپرنظرثانی کی گئی۔پروفیسر غلام اعظم کے وکیل کاکہناہے کہ ان کے مؤکل کاجرم صرف یہ تھاکہ انہوں نے مشرقی پاکستان کوپاکستان سے الگ کرنے اوربنگلہ دیش کے نام سے علیحدہ ریاست قائم کرنے کی مخالفت کی تھی۔
محض دودن بعدٹریبونل نے جماعت اسلامی کے ایک اورمرکزی رہنماعلی احسن محمدمجاہدکونام نہادجنگی جرائم کی پاداش میں سزاسناتے ہوئے کہاکہ وہ پھانسی کیلئے تیار رہیں ۔۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۶ء تک سماجی بہبودکے وزیرکی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے علی احسن محمدمجاہدپرالزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک کے دوران میں ہندوؤں کے قتل عام میں مرکزی کردار اداکیا۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں پرالزامات میں کچھ بھی نیا نہیں اوراس سے قبل جماعت اسلامی کے خلاف ملک گیرمظاہروں اوراحتجاج کوبھی کسی اعتبار سے نیا قرارنہیں دیاجاسکتا۔ہاں، مقدمات کی سماعت کومؤخرکیاجاسکتاتھاکیونکہ اس سے قبل جماعت اسلامی کے رہنماؤں کوسنائی جانے والی سزاؤں کے باعث ملک بھرمیں احتجاج کاسلسلہ چل پڑاتھا۔کئی مقامات پرسینکڑوں افرادمارے گئے۔چندماہ کے دوران پولیس نے جماعت اسلامی کے مظاہروں میں شریک ہونے والوں پرفائرنگ کرکے ( محتاط سرکاری اعدادوشمارکے مطابق)سینکڑوں افرادکوموت کوخاک وخون میں نہلادیااورہزاروں کی تعدادمیں مظاہرین کو زخمی کردیا۔حال ہی میں سزاؤں پر زیادہ شدیدردعمل اس لئے دکھائی نہیں دیاکہ ماہِ رمضان المبارک کے دوران میں بنگلہ دیشی مسلمان بھی کوئی
بڑی احتجاجی تحریک چلانے سے گریزکرتے ہیں۔چھ ماہ بعد بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے والے ہیں تب سیاسی اعتبارسے زیادہ ہلچل ہوسکتی
ہے۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی نے(جوجماعت اسلامی کی حلیف رہی ہے)عوامی لیگ کی قیادت بالخصوص وزیراعظم شیخ حسینہ واجدپرالزام لگایاہے کہ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کی تیاری کررکھی ہے۔بی این پی نے حال ہی میں مقامی سطح کے انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے،چندشہروں میں اس کے مئیر منتخب ہوئے ہیں۔ عام انتخابات میں بھی اس کی بھرپورکامیابی کاا مکان ظاہرکیاجارہاہے۔ ایسالگتاہے کہ جنگی جرائم کاٹریبونل دراصل اپوزیشن کواس کے ساتھی (جماعت اسلامی) کے ساتھ غیرمؤثربنانے کی سازش ہے۔حسینہ واجد نے آئین میں ترمیم کرکے نگران حکومت کاباب ختم کردیاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ عام انتخابات موجودہ حکومت کی نگرانی میں ہونگے اورایسے میں دھاندلی کاامکان زیادہ ہے۔حالات کی روش یہ بتارہی ہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ چھ ماہ کی طرح آئندہ چھ ماہ بھی بدامنی رہے گی۔انتخابات تک اپوزیشن اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی اوردوسری طرف حکومت اپناسکہ چلانے کیلئے سرگرداں رہے گی۔
مجیب الرحمان نے جنوری ۱۹۷۲ء میں جودوقوانین نافذکئے ان میں ایک جنگی جرائم کاقانون اوردوسراجنگی جرائم میں مددکاآرڈر تھا۔ جنگی جرائم کے قانون کے تحت پاکستانی افواج کے افسروںاورجوانوں پرمقدمہ چلایاگیااوراس سلسلے میں۱۹۳فوجیوں کوجنگی جرائم کامرتکب قراردیاگیا۔ بھارت کی قید سے ان کی واپسی کامطالبہ کیاگیا۔ حکومت بنگلہ دیش نے پاکستانی حکومت اورافواج کے مددگاروں کی حیثیت سے جن لوگوں کوگرفتارکیاگیاان میں۳۷ہزار۴۳۱پر الزامات عائد کئے گئے مگرمقدمہ صرف دوہزار ۸۴۸پرچلایاگیا،باقی ۳۴ہزار۶۲۳کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کی بنیادپرمقدمہ دائرنہیں کیاجاسکا اوران کورہائی مل گئی۔ان دو ہزار ۸۴۸میں سے بھی جن پر مقدمہ چلایاگیا،عدالت نے صرف۷۵۲کوسزادی،باقی پرکوئی جرم ثابت نہیں ہوسکااوروہ بھی رہاکردیئے گئے۔واضح رہے کہ ان دوہزار۸۴۸میں سے کسی ایک کابھی جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ان دوقوانین کے تحت کاروائی کے ساتھ تیسرااقدام بھی کیاگیا اوروہ بنگلہ دیش کی دستورسازاسمبلی کے بارہ ارکان پرمشتمل ایک کمیٹی تھی جسے جنگی جرائم کے مرتکب افرادکے بارے میں معلومات جمع کرنے کاکام سونپاگیا،اسے ایم سی کمیٹی کہاگیا اورعوامی لیگ کے آفس میں اس کادفترقائم کیاگیا۔اس کے ساتھ پاکستانی فوج کے ستم زدہ لوگوں کوزرتلافی اداکرنے کیلئے انتظام کیاگیااوروزارتِ خزانہ کے سپردیہ کام ہواکہ جس خاندان میں کوئی شخص ماراگیاہے،ان کوزرتلافی دیاجائے،سرکاری اعدادو شمارجوبعدمیں اسمبلی میں پیش کئے گئے ان کی روسے۷۲ہزارافرادنے کلیم دائرکئے اورتحقیق کے بعد۵۰ہزارکوزرتلافی اداکیاگیا۔ جماعت اسلامی سے ان تمام کادوردور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔
سرکاری طورپریہ دعویٰ کیاجارہاتھاکہ۳۰لاکھ افرادکوپاکستانی افواج نے قتل کیاہے اوردولاکھ خواتین کے ساتھ بداخلاقی کاارتکاب کیاگیالیکن دوسال پرپھیلی ہوئی ان تمام کاروائیوں کے جوحقائق سامنے آئے ان کی ان دعوؤں سے کوئی نسبت نہیں تھی اوریہ محض ایک د انستہ پروپیگنڈہ تھاجوپاکستانی افواج کوبدنام اورمکتی باہنی کے مظالم کو چھپانے کیلئے پھیلایاگیا۔حقائق کے بیان میں مبالغے کی حدودکوپامال کرناایک ایسا تاریخی ظلم ہے جوبعدازاں حقیقت کھل جانے کے بعدمجرموں کوبے نقاب کردیتاہے اور تاریخ صدیوں تک ان پرلعنت ملامت کرتی رہتی ہے۔اس کے علاوہ ایک گروہ کی زیادتیوںکونشانہ بنانااوردوسرے گروہوں نے جومظالم ڈھائے ہیں،انہیں نظر انداز کرنابھی انصااف اوراخلاق دونوں کے منافی ہے۔بھارت کی ایک ہندوخاتو ن شر میلابوسی (تحریک آزادی کے ہیروسبھاش چندربوس کی نواسی )نے اپنی کتاب میں تصویرکے دونوں رخ پیش کئے ہیں۔ پاکستانی فوج کا مشرقی پاکستانی افسرلیفٹیننٹ کرنل شریف الحق تھا۔وہ ۱۹۷۱ء میں فرارہوکرمکتی باہنی میں شریک ہوگیاتھا۔اسے بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین اعزاز ”بیراتم”سے نوازاگیاتھا۔ بعدازاں اس نے سفارتکاری کی ذمہ داریاں اداکیں۔اسی کی خودنوشت ”بنگلہ دیش: حقائق جوبتائے نہ گئے”ایک چشم کشا دستاویزہے جس میں مکتی باہنی اورمشرقی پاکستان کی جدائی میں بھارت کے مکروہ کردارکی ”براہِ راست” تفصیلات بیان کی گئی ہیں اوراس تمام منفی پروپیگنڈہ کی نہ صرف بھرپورتردیدکی گئی ہے بلکہ بھارتی فوج اورمکتی باہنی کے غیراخلاق باختہ واقعات کابھی بکثرت ذکرکیاگیاہے کہ کس طرح ڈھاکہ میڈیکل کالج میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے ساتھ نارواسلوک کیاگیاجن کوچھڑانے کیلئے پاکستانی فوج کے چندافرادوہاں پہنچے جن کوقتل کرنے کیلئے مکتی باہنی نے بھارتی فورسزکے تعاون سے اندھادھند فائرنگ کی لیکن ان جوانوں نے بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان پاکستانی خواتین کوان کے چنگل سے نکالابلکہ ایک بڑی تعدادمیں بنگالی مسلمان اورہندوعورتوں کوبھی بچاکران کے گھروں تک پہنچایا ۔اس کے علاوہ شیخ مجیب الرحمان کے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت کے مظالم کانقشہ بھی ذاتی علم کی بنیاد پرکھینچاگیاہے جس کوپڑھ کرروح تک کانپ اٹھتی ہے اوران واقعات کی آج تک تردیدنہیں ہوسکی ۔
احتسابی عمل کا اختتام خوشگوارصورت میں ہوا۔پاکستان،بنگلہ دیش اورہندوستان کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ایک معاہدہ ہواجس پرتینوں ممالک کے وزرائے خارجہ یعنی ڈاکٹر کمال حسین ،عزیزاحمداورسورن سنگھ نے اپریل۱۹۷۴ء میں دستخط کئے اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے ۱۹۵پاکستانی فوجیوں کی واپسی کامطالبہ واپس لے لیااور یہ مطلوب جنگی قیدی باقی جنگی قیدیوں کے ساتھ پاکستان واپس کردیئے گئے۔دوسری قسم کے مطلوبہ افرادجنہیں مددگار کہاگیاتھا،اس کے بارے میں میں نومبر۱۹۷۳ء میں شیخ مجیب الرحمان نے عام معافی کااعلان کیاتھا۔ان چندسزایافتہ افرادکے سواجن کوبہت ہی سنگین جرائم میں سزادی گئی تھی،بعد میں انہیں بھی معافی دے دی گئی اوراس طرح یہ افرادبھی دوسال کے بعدرہا ہو گئے۔۔
ان مسلمہ اورثقہ تاریخی حقائق کوسامنے رکھیں اورایمانداری کے ساتھ فیصلہ کریں کہ حسینہ حکومت کابدنماٹریبونل جوکچھ کررہاہے کیاوہ اس حکومت کی مزید روسیاہی کاسامان نہیں کرے گا؟پروفیسر غلام اعظم کے مشاورتی وکیل ٹوبی کیڈمن کے بیان میں اس روسیاہی کوواضح طورپردیکھا جاسکتاہے۔کیڈمین فرماتے ہیں:کرائمزٹریبونل نے پروفیسر غلام اعظم کے مقدمے میں جوفیصلہ دیااورسزاسنائی ہے،وہ انتہائی پریشان کن اور غیر متوقع ہے۔وکلاء صفائی کی ٹیم اپیل میں جاچکی ہے لیکن اس فیصلے سے واضح ہوچکاہے کہ آزادی اور غیر جانبداری کے لحاظ سے یہ ٹریبونل اپنااعتماد مکمل طورپرکھوچکاہے۔استغاثہ کی جانب سے ٹھوس ثبوت کی عدم فراہمی سے واضح ہوچکاہے کہ کہ ٹریبونل کواس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں نشانہ بننے والے کوانصاف اورمامونیت فراہم کی جائے۔ٹریبونل کے چیئرمین نے واشگاف انداز میں کہاکہ”استغاثہ کی جانب سے جودستاویزات بطورثبوت فراہم کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں”۔لیکن اس کے باوجودپروفیسرغلام اعظم پرفردِ جرم عائدکرتے ہوئے سزابھی سنادی گئی۔
اس ٹریبونل کے قیام کی غرض وغائت یہ بیان کی گئی تھی کہ ۱۹۷۱ء کے فوجی کاروائی کے نومہینے کے طویل دورانئے میں جن لوگوں نے بین الاقوامی شناخت کے جرائم کاارتکاب کیاتھا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔موجودہ ٹریبونل کی ذمہ داری ہے کہ جرائم کی ذمہ داری کاتعین کرتے ہوئے قانون کے مروجہ طریقہ کار کو استعمال کرے۔ایک ملزم کوایسے اقدامات پرسزانہیں دی جاسکتی جن کے بارے میں اسے یہ بھی معلوم نہ ہو مجھے چیلنج کس بات کوکرناہے۔ ایک ملزم کواس بناء پربھی سزانہیں دی جا سکتی کہ اس کاتعلق کسی خلفشارمیں ناکام ہونے والے گروپ سے تھا۔کسی شخص کومحض اس بناء پرسزاکا مستحق قراردیاجاسکتاہے کہ جب بغیر کسی شک و شبہ کے یہ ثابت ہوجائے کہ اس نے کسی جرم کا ارتکاب کیا؟قانونی طورپر ٹریبونل کویہی معیار مدنظر رکھنا چاہئے۔
پروفیسر غلام اعظم پرقائم کئے گئے مقدمے میں وہ معیار مدنظرنہیں رکھا گیاجوسزاکی لازمی شرط قرارپاتاہے۔وکلاء صفائی نے مقدمے کے دوران میں دلائل پیش کئے کہ استغاثے کی جانب سے جوقانونی شہادتیں پیش کی گئی ہیں ان سے پروفیسرغلام اعظم کے خلاف ایک بھی جرم ثابت نہیں ہوتا اور ٹریبونل سے استدعاکی کہ انہیں باعزت بری کیاجائے۔ٹریبونل کی ذمہ داری ہے کہ ”جنگ ”کے دوران نشانہ بننے والوں کوانصاف فراہم کرے لیکن اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ملزم کوانصاف فراہم کرے،انصاف اسی وقت بامعنی ہوسکتاہے جب وہ شفاف ہو۔
اقوام متحدہ کے”ورکنگ گروپ ان آربیٹریری ڈیٹینشن”نے پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری کوغیرقانونی اوربین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیاہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹ نگار برائے تشددانسانی توہین آمیزرویے اورسزاکے علم میں یہ مقدمہ لایاگیا۔علاوہ ازیں ججوں،استغاثہ اوروکلاء کی آزادی اورفوری سزاؤں کے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹ نگارنے اپنے مشترکہ بیان میں ٹریبونل کی غیرجانبداری ہی کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے باوجود اس ٹریبونل نے پروفیسرغلام اعظم مقدمے میں سماعت جاری رکھی۔پروفیسرغلام اعظم کوایک ایسے ادارے نے سزاسنائی ہے جس کے مقدمے سننے اورسزاسنانے کے طرز عمل سے انصاف فراہم کرنے کے طرزِ عمل کو نقصان پہنچاہے اوریہ تعزیراتی جرم ہے۔
اب یہ واضح ہوچکاہے کہ اس مقدمے میں اوراس ٹریبونل کے سامنے پیش کئے جانے والے دیگرمقدمات کے وکلاء صفائی کوان گنت ناانصافیوں اورقانونی ناہمواریوں کا سامنا کرناپڑ ا۔قبل ازیں یہ واضح ہوگیاتھاکہ پروفیسرغلام اعظم اس عدالت سے انصاف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ان ناہمواریوں میں استغاثے کانامناسب رویہ اور حکومت کادباؤ شامل رہالیکن یہ اعتراضات یکسرمستردکردیئے گئے۔ان کے بارے میں تحقیق بھی نہ کی گئی اوراس بنیادپریہ ساراعدالتی عمل شفافیت اورغیرجانبداری سے محروم ہوچکاہے۔وکلائے صفائی کواس مقدمے میں جن مشکلات کاسامنا کرنا پڑاوہ بھی کئی قسم کی ہیں۔مقدمے کی کاروائی کے دوران میںاپنانقطہ نظرپیش کرنے یالگائے گئے الزامات کادفاع کرنے کی کوششوں کوناکام بنادیا گیا ۔استغاثہ کی جانب سے وکلائے صفائی کی طرف سے پیش کئے جانے والے ایک گواہ کودہمکی دی گئی کہ اگراس نے مقدمے میں پیش ہونے کی کوشش کی تو اسے شدیدنقصان اٹھاناپڑے گا۔ملزم کی طرف سے پیش کئے جانے والے ایک گواہ کوپیشی سے قبل ہی گرفتارکرلیاگیا۔
اس ٹریبونل کے قیام کے وقت سے ہی بین الاقوامی اداروں مثلاً بارہیومن رائٹس کمیٹی آف انگلینڈاینڈویلز،ہیومن رائٹس واچ،یواین ورکنگ
گروپ آن آربٹریری ڈی ٹینشن ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ،یوکے ہاؤس آف لارڈزاوریوایس ایمبیسیڈرگلوبل پیس اسٹیفن راپ کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری رہااوراکانومسٹ کے مضمون نے واضح کردیاکہ یہ قانونی ادارے اپنے تحفظات پیش کرنے میں حق بجانب تھے۔اس سب کچھ کے باوجودحکومت تیزی کے ساتھ فیصلے سنارہی ہے تاکہ اپنے سیاسی مخالفین کاعبرتناک انجام سامنے لاسکے۔ ہم اسے اپنے مؤکل پروفیسرغلام اعظم کے
ساتھ سراسرناانصافی سمجھتے ہیں۔اس فیصلے سے شفافیت کے بین الاقوامی معیارات کی بدترین خلاف ورزی ہوئی ہے۔افسوس کہ یہ ٹریبونل بین
الاقوامی قانونی روایات اوراصولوں کی خلاف کررہاہے”۔
پروفیسرغلام اعظم صاحب اوردیگرتمام لوگوں کومحض اس لئے سزاملی ہے کہ انہوں بحیثیت پاکستانی اپنے اس ملک کاساتھ دیا
جس کے ساتھ وفاداری ان کے ایمان کاحصہ تھااوریہ سب عاشقان ِ ملت سرخروٹھہرے ۔ غداری کامقدمہ تومجیب الرحمان اوراس کی باقیات پرچلناچاہئے جوپاکستان کے شہری ہوتے ہوئے بھارتی بنئے کے تنخواہ دارایجنٹ بنے رہے اورآج اسی کی بیٹی حسینہ واجدنے بھارت کی گود میں بیٹھ کراپنے ہی ملک کی فوج کے بیشترافسروںاوران کے اہل خانہ کوبھارتی ”را”کے ایجنٹوں کے ہاتھوں جس بہیمانہ طریقے سے قتل کروایا ہے ،تاریخ صدیوں تک ان غداروں کی روسیاہی کوعبرت کے طورپریادرکھے گی کہ ان غداروں نے اپنے ملک کی آزادی بھارتی بنئے کے پاس گروی رکھ دی ہے ۔میراوجدان گواہی دیتاہے کہ وہ دن دور نہیں کہ جب اسی سرزمین کے سپوت بالآخراس کابدلہ چکائیں گے لیکن مجھے گلہ تو اپنوں سے بھی ہے اگرقیامت کے روزان ”وفا کے مجرموں”نے پاکستان کے اہل اقتدارکی طرف انگلی اٹھاکرروزِ جزاکے مالک سے ان کی مجرمانہ خاموشی کی شکائت کی توان کے پاس کیا جواب ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں