بھارتی عدلیہ کی دورنگی

:Share

بابری مسجدکے فیصلے کے بعدبھارتی سپریم کورٹ سے حکومتی زیادتیوں کونظراندازکرنے کی پالیسی کوبخوبی سمجھاجاسکتا ہے لیکن اب بھی سیکولرتجزیہ نگار واویلاکررہے ہیں کہ اگرعدلیہ نے فیصلوں کوغیرمعمولی تاخیرسے دوچاررکھاتونہ صرف وہ کسی بھی پیچیدہ یامتنازع معاملے پررولنگ دینے کی پوزیشن سے قاصررہیں گےبلکہ مستقبل کامورخ بھی ہندوسفاکی میں ان کوشریک کارلکھے گا۔

5/اگست 2019ءکومودی نے بہت ہی دیدہ دلیری سے سات عشروں سے برقرارقانونی نظیرختم کرتے ہوئے جموں وکشمیرکو خصوصی حیثیت سے محروم کرکے اس کی نیم خودمختارحیثیت ختم کردی اورجموں وکشمیرکی قانون سازاسمبلی کوختم کرکے پورے خطے کودوحصوں میں تقسیم کردیااوردونوں کویونین ٹیریٹری یعنی مرکزکاعلاقہ قراردے دیا.اب جموں و کشمیر پرنئی دہلی کی قومی یامرکزی حکومت کابراہ راست تصرف ہے۔اس اقدام نے بھارتی میڈیاکوتالیاں بجانے کی تحریک دی جبکہ جموں وکشمیر میں غیرمعمولی اشتعال پیداہوگیا۔ مودی کے اس اقدام سے آئین کے بارے میں الجھے ہوئےاور پریشان کن سوالوں نے بھی جنم لیا۔

یہ سوال کس کیلئےپریشان کن ہیں؟وادیٔ کشمیرکے80لاکھ افرادیقینی طورپرشدید مضطرب ہیں۔5/اگست سے وادی کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی عملاً محاصرے میں ہے،جو8لاکھ بھارتی فوجیوں کے درمیان پس کررہ گئی ہے۔دہشتگردی روکنے کے نام پرغیر انسانی نوعیت کے قوانین کے ذریعے بھارتی حکومت نے ہزاروں افراد کوکسی جرم میں نہیں بلکہ محض مظاہرے روکنے کیلئے گرفتار کررکھاہے۔وادی کشمیرکے اندر،باہراوراطراف نقل وحرکت انتہائی محدودکردی گئی ہے،فون اورانٹرنیٹ پرمکمل پابندی عائدہے۔اس کے جواب میں کشمیریوں نےاسکول،دکانیں اوربازاربندکرکےمکمل ہڑتال کی شکل میں اپنی پوزیشن مستحکم کررکھی ہے۔دہلی میں رشتہ داروں کے ہاں مقیم ایک کشمیرسول سرونٹ نے کہاکہ ماحول میں انتہائی گھٹن ہے،یہ سب کچھ بالکل ناقابل برداشت ہے۔نوجوانوں کی ذہنی کیفیت انتہائی منتشرہے اوروہ انتقام کے سواکچھ بھی نہیں سوچ رہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کیلئے،بہر حال،یہ سب کچھ کسی بھی اعتبارسے پریشان کن نہیں۔اگست کے آخر میں سپریم کورٹ نے مودی کے اقدام کی آئینی حیثیت کوچیلنج کرنے کے حوالے سے چنددرخواستوں پرغورکیاتوحکومت کوجواب دینے کیلئےایک ماہ کاوقت دیا۔ یکم اکتوبرکوجب سپریم کورٹ کے جج اس حوالے سے پھرمل بیٹھے توکوئی جواب پیش کرنے میں ناکامی پرحکومت کے وکلاء کومعمولی سی بھی سرزنش نہیں کی۔اس کے بجائے انہوں نے خاصی فراخ دلی کامظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کومزیدوقت دے دیا۔واضح رہے کہ جموں وکشمیرکوبھارت کاباضابطہ حصہ بنانے سے متعلق وضع کیاجانے والاجموں اینڈکشمیرری آرگنائزیشن ایکٹ31دسمبر کونافذہوجائے گاگویابھارتی عدلیہ کی ملی بھگت نے مودی کاکام اسان کردیاہے۔

کچھ اسی طورکی لاتعلقی یاعدم تشویش کے ساتھ سپریم کورٹ کے ایک اور(بڑے) بینچ نے اسی دن کشمیرمیں غیرقانونی گرفتاریوں،حراست اورمواصلاتی ذرائع کی بندش سے متعلق کیس کی سماعت ساتویں بارمعطل کی۔ سپریم کورٹ نے حبس بے جا سے متعلق درخواستوں کو(جوقانون کے نظریات کی روشنی میں فوری سماعت کامعاملہ ہوتاہے) جموں وکشمیرہائی کورٹ کو واپس بھیجاہے جبکہ اسے یہ بات معلوم ہے کہ غیر قانونی حراست کے حوالے سے کم و بیش300مظاہرے ہوچکے ہیں اورمتعلقہ درخواستوں کی سماعت صرف دوججوں کے ذمے ہے۔جموں وکشمیرہائی کورٹ میں ججوں کی کمی’’اپاہج کن‘‘ حدتک پہنچ چکی ہے۔ 17ججوں کی گنجائش ہے اورصرف8جج کام کررہے ہیں۔سپریم کورٹ نے جموں وکشمیرہائی کورٹ میں ججوں کے تقررکی منظوری کا معاملہ کئی ماہ سے اٹکارکھاہے۔جموں وکشمیرکے وکلابھی غیرقانونی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیلئےہڑتال پر ہیں ۔

عوام کومعلومات تک رسائی کاحق دینے یاان کی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ متعددمواقع پر حکومت کے سامنے کھڑی ہوئی ہے ۔ قانونی امورکے ماہرین کاکہناہے کہ حالیہ چندبرسوں کے دوران اس حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈزیادہ متاثرکن نہیں رہا۔ قانونی امور کے حوالے سے لکھنے والے وکیل گوتم بھاٹیہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکومت کی طرف جس طرح کاجھکاؤدکھایاہے،اسے آئین سے چشم پوشی کا نظریہ ہی کہاجائے گا۔مودی سرکارکے خلاف رولنگ دینے کے بجائے سپریم کورٹ نے معاملات کومتعددبارغیرمعمولی تعطل کاشکاررکھاہے تاکہ وہ حکومت کے حق میں چلے جائیں۔گزشتہ اپریل میں سپریم کورٹ نے انتخابات کے دوران ایک ایسے کیس کی سماعت سے صاف انکارکردیا جس میں سیاسی جماعتوں کوگمنام ومشتبہ طریقے سے لامحدودعطیات دینے کیلئےمودی سرکارکی طرف سے متعارف کرائے جانے والے الیکٹورل بونڈزکی قانونی حیثیت کوچیلنج کیاگیاتھا۔سپریم کورٹ نے یہ عذرتراشاکہ انتخابی نتائج سے قبل سماعت کیلئےوقت بالکل نہیں بچا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کیس ایک سال سے سپریم کورٹ کے ڈاکیٹ(یادداشت یا فہرست) میں موجودتھا۔قومی سطح کی بایومیٹرک شناختی اسکیم سے متعلق ’’آدھار‘‘کیس میں سپریم کورٹ نے یہ کہنے کیلئےپانچ سال کاانتظارکیاکہ اسے اسکیل بیک کیاجائے۔اس دوران ایک ارب افرادکی انرولمنٹ ہوئی۔سپریم کورٹ کویہ رولنگ دینے میں دوسال لگے کہ مودی سرکارنے دہلی کی مقامی سیاست میں مداخلت کرکے اپنے اختیارات سے تجاوزکیاہے۔

ادھردوسری طرف آسام میں کم و بیش19لاکھ افراد(جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے)کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگاہواہے۔ ان کے حوالے سے کچھ سوچنے کے بجائے ریاستی حکومت حراستی مراکزقائم کرنے میں مصروف ہے۔مودی سرکاریہ جال اب پورے ملک میں پھیلاناچاہتی ہے۔گوتم بھاٹیہ لکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ ریاست کے تین بنیادی ستونوں میں سے ہے مگر اس کے بجائے اب یہ منتظمہ(حکومت)کاحصہ دکھائی دے رہی ہے۔بنیادی حقوق کی پاسداری یقینی بنانے کیلئےمنتظمہ کی کارکردگی کاجائزہ لے کرخامیوں کی نشاندہی کرنے کی بجائے یہ اس کی سہولت کاربنی ہوئی ہے۔

عدلیہ کوجن درخواستوں کی سماعت کرنی ہے ان میں سے ایک میں جموں وکشمیرکے گورنرکوقانون سازاتھارٹی کی حیثیت سے کام کرنے کااختیاردینے میں مودی کاہاتھ ہونے کوچیلنج کیاگیاہے۔گورنرکے دفترکوقانون سازادارے کی حیثیت سے کام پرلگانے کا مقصدجموں وکشمیرکومرکزکے براہ راست تصرف میں آنے والے علاقے کی حیثیت دیناتھاجیساکہ قانونی تقاضا ہے ۔درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ جموں وکشمیرمیں انتخابات ہونے تھے۔ مرکزی حکومت نے عارضی صورت یا بندوبست کوپورے علاقے (جموں و کشمیر) کی بنیادی،مستقل اورغیرتبدل پذیرحیثیت تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیااوراس حوالے سے کشمیریوں سے ان کی رائے جاننے یامرضی معلوم کرنے کی زحمت بھی گوارانہیں کی گئی۔اس نوعیت کے کرتب عدالتوں سے ملی بھگت کے ذریعے ہی دکھائے جاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں