اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

:Share

غورکرنے والے اگرغورکرتے توانہیں ادراک ہوکررہتاکہ کشمیرکوئی بوجھ نہیں بلکہ ایک اثاثہ ہے۔پچھلی سات دہائیوں سے کشمیریوں نے سفاک برہمن کواپنے سینے کی دیوارپرروک رکھاہے،کیاان کی کوئی قیمت نہیں؟

اختلافِ رائے میں کوئی حرج نہیں۔آخری پیغمبرمحمد ﷺ کواپنے پیروکاروں سے مشورہ کرنے کاحکم دیاگیاجن کاتکیہ کلام ہی یہ تھا:اللہ اوراس کا رسول ﷺبہترجانتے ہیں اورقرآنِ کریم فرقانِ حمیدآنجناب حضوررسولِ اکرم ﷺ کی اس روش کوان کی عظمت اوربلندی کی دلیل ٹھہراتا ہے۔چینی مفکرماؤزے تنگ نے کہاتھا کہ(لیٹ دی ہنڈرڈفلاوربلوم)”سوپھول کھلنے دیں”کے مصداق میرے آقاکے فرمان ہیں۔جہاں تہاں سے ہزاروں آوازیں اٹھتی ہیں بالآخران میں ایک آہنگ ابھرتاہےمگریہ کیاقرینہ ہے کہ خودپاعتمادہی باقی نہ رہے۔اپنامقدمہ کتناہی سچاہو،آپ ہمیشہ اپنی قوم پہ شرمندہ اورشرمسارہی رہیں۔جنابِ علی ابی ابن طالب نے ایسی ہی کسی ساعت میں ارشادکیاہوگا”مصیبت میں گھبراہٹ ایک دوسری مصیبت ہے”۔

کیا حادثات نے ہمیں تھکادیااورایک مریضانہ خودسپردگی بخش دی؟مذاکرات کئے جائیں اورضرورکئے جائیں،امن تلاش کیا جائے اورپورے عزم کے ساتھ کیاجائے لیکن احساسِ شکست کیسا؟اوراتنی بے مثال قربانیوں کے بعدمرعوبیت کاکیا مطلب؟ جاننے والے یہ کیوں نہیں جانتے کہ:
یہاں کوتاہیٔ ذوقِ عمل ہے خودگرفتاری
جہاں بازوسمٹتے ہیں،وہیں صیّادہوتا ہے

نجانے کتنی دیراورہمیں ایسی بدنصیبی کامنہ دیکھناپڑے گاکہ مملکتِ خداداد کی تمام نعمتیں استعمال کرتے ہوئے کچھ ایسے حضرات بھی ہمارے حصے میں آئے ہیں جوکھاتے تواس ملک کاہیں لیکن حقِ نمک کسی اورکااداکرتے ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان میں اپنے آپ کوایک دانشورکہلانے اورلکھوانے والے نے کہا”کشمیرکوبھول جائیں”۔کسی نے ان سے مڑکریہ سوال نہیں پوچھا،،اتنی بیش بہاقربانیوں اوراتنے گہرے زخموں کے بعدکیسے بھلا دیاجائے؟”

افراداورقبائل،اقوام اورامتوں کیلئے اچھے اوربرے وقت آتے ہیں اوریہی وقت بتاتے ہیں کہ کوئی شخص یاگروہ نیکی اور عدل پرکتناقائم ہے۔ان کیلئے کتنی قربانی دے سکتاہے۔صرف یہی توایک معیارہے جوافراداوراقوام کی قدروقیمت کاتعین کرتا ہے۔ ایک آدمی کتنااوپراٹھے گااورایک قوم سرفرازی کی کتنی منزلیں سرکرے گی؟

وقت بدلتاہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ بدلتانہیں ہے۔طوفان پانیوں کوبدل نہیں دیتے اوربحران زندگی کے حقائق تبدیل نہیں کرتے۔ طلوع وغروب مہ ومہرکاسلسلہ جاوداں ہے۔ہزاروں منزلیں ہیں،ہزارمنتظرہیں،چودھویں کاچاندچمکے توطوفان اٹھتے ہیں تو کیاپھرپانی قرارنہیں پالیتا؟
کشمیرتوایک اثاثہ ہے،بیش بہاقیمتی،جاں سے بھی زیادہ عزیز،اس نے ہمیں تاب وتوانائی بخشی اورزندہ رکھا،ورنہ ہم ایک کم کوش اوراتنے سہل طلب تھے کہ شائدتاریخ کے کسی چوراہے پرلمبی تان کے سوجاتے،پھر کبھی اس پربھی توغورکروکہ ایک قوم کے دوحصوں میں سچے اورکھرے تعلق کی یہ کیسی مثال ہے گویاجسم اورروح ہیں جویکجاہونے کوتڑپتے رہتے ہیں۔

عہدِجاہلیت کے قیس عامری کی کہانی اب بھی باقی ہے۔نوشیرواں عادل کاعہدتاریخ کی تاریکیوں میںگم ہوچکالیکن شیریں فرہادکے ذکرسے فارسی اشعاراب بھی شاداب ہیں۔شکنتلااوروشنت چوتھی صدی کے اوائل کاقصہ ہے لیکن بھارت اسے بھولنے پرتیارنہیں۔سندھ کے صحراؤں اور پنجاب کے میدانوں میں چاندچمکے توماروی اورہیررانجھے کی کہانیاں کہی اور سنائی جاتی ہیں۔چرواہے اورکسان زادے پلکیں بھگوتے اوردردکی دولت فراواں کرتے ہیں۔کہنے والویہ توکہو!کیاکشمیراور پاکستان کے لاکھوں جواں مردوں کے پاکیزہ،سچے اورکھرے لہومیں نہائی ہوئی داستانِ الفت اتنی معتبربھی نہیں،اگرنہیں تو پھرکیا چیزمعتبرہے؟

فیصل آبادکاایک رئیس زادہ ڈاکٹرجوماں باپ کااکلوتاچشم وچراغ تھا،جس کااوراس کے آباءاجدادکابظاہرکشمیرکی سرزمین سے کوئی تعلق بھی نہ تھالیکن اپنے مجبورو مقہور کشمیری بہن بھائیوں پربھارتی بنئے کے مظالم اوران کی فریادپراپناسب کچھ تج کرکے وہاں پہنچ جاتاہے کیونکہ قرآن کابھی تویہی حکم ہے۔اس کی شجاعت کی داستانیں ایک افسانہ معلوم ہوتی ہیں ،اس کے ساتھی بڑے عزم اورفخرکے ساتھ ان واقعات کوسنارہے تھے جس کیلئے اس نے ان تمام دنیاوی آسائش سے منہ موڑلیا۔ کس جوانمردی سے اس بوڑھے باپ نے کہاکہ صرف مبارکباد کے پیغام کے ساتھ گلے ملیں، میرابیٹا مسیحاتھااوراس نے ہماری آخرت کی تمام بیماریوں کاپیشگی علاج کردیاہے۔لاہورکے فیصل محمودکے بوڑھے باپ نے دروازہ کھولااوریہ کہا: “کوئی تعزیت نہ کرے،آج صرف وہ لوگ اس گھرمیں داخل ہوں جومبارکباددینے کاحوصلہ رکھتے ہوں”۔

سوپورکی نوربی بی کے ننھے سے اکلوتے بیٹے کوان ظالموں نے ندی میں لٹکایااورغوطے دیئےمگروہ اپنے جواب پرقائم رہی”میں مجاہدین سے واقف ہوں اورنہ ان کے اسلحے سے آشنا…….حالانکہ اسلحہ اس کے گھر میں دفن تھا۔وہ کم نصیب اپنے معصوم اوربے گناہ بچے کی لاش بھی وصول نہ کرسکی اوروہ دریائے جہلم کی لہروں کی نذرہوتاہواپاکستان کی حدود میں پہنچ گیا۔باغ کابشارت عباسی سرینگرکے لال چوک میں پاکستان کاپرچم بن کرلہرایا حتیٰ کہ اس کاسینہ چھلنی کردیا گیا۔ برادرم راجہ عتیق اپنے جواں سال عثمان کی شہادت کی مبارکبادیں کس عزم اورحوصلے سے وصول کررہاتھا کہ گویا کوئی بہت بڑاخزانہ ہاتھ لگ گیا ہو!حزب المجاہدین کاسربراہ محمدصلاح الدین اپنے خاندان کے تمام افرادقربان کرچکالیکن اب بھی ساراسال سفرمیں رہتاہے لیکن پہاڑساآدمی اس موضوع پربات ہی نہیں کرتا۔ علی گیلانی بوڑھاہوگیااوراس کے سینے پردشمنوں سے زیادہ دوستوں کے لگائے زخم ہیں لیکن وہ آج بھی سروقامت کھڑاہے۔ خدایا!کبھی کسی نے اپنادردیوں بھی تھاماہے،کیا کسی نے ایساایثاربھی کیاتھا۔

کسی ایک آدمی کاکیاذکر،ہرقریہ میں ایک قبرستان ہے اورہرقبرمیں ایک شہیدسورہاہے۔کسی دلہن کادولہا،بہنوں کابھائی ،کسی یتیم کے ننگے سرپر شفقت بھراہاتھ،انار،انگور،آلوچے اورخوبانی کے باغ اجڑ گئے،ندیاں،جھیلیں اورسبزہ زاراپنے باغباں اوربانسری بجانے والے کیلئے اداس ہیں لیکن آنسوؤں کے خزانے اب بھی باقی ہیں اورعزائم اب بھی شمشیروں کی طرح تابعدار ہیں….. کئی برس پہلے مقبوضہ کشمیر کے ایک گمنام سے گاؤں سے ایک گمنام شہید کاجنازہ اٹھا۔کون اس کیلئے نغمہ لکھتا، بستی کی عورتیں اس شب ایک گھرکے دالان میں جمع ہوئیں اورمل جل کرانہوں نے مرثیہ کہا:
غم مہ بھر چائن کانہ بنی تی بوی چھن ی
وچھ کل تلحتھ تھود ایس چھ چائےن بای بائی بارن
وچھ ساری بویتھ گیے لیدھر وچھ ساری درو بام گیے خاموش۔
زروزکھ ہروزہرساتہ سانن خابنن منز
(غم نہ کرکہ تیری کوئی بہن اورکوئی بھائی یہاں نہیں)
(دیکھ،سراٹھاکردیکھ، ہم تیرے بہن بھائی ہیں)
(دیکھ سب چہرے مرجھا گئے،دیکھ سب دروبام خاموش ہیں)
(تابہ ابد توہمارے خوابوں میں جئے گا)

انہیں گمنام شہیدوں نے کشمیرکے ہرگاؤں اورشہرکواپنی یادوں اوروفاؤں سے معمورقبرستان آبادکرکے یہ پیغام دیاکہ گواہ رہنا کہ ہم توتمہاری حرمت پرکٹ گئے۔پچھلے72سالوں کاسچ تویہ ہے کہ صدیوں پرپھیلی داستان،لاکھوں شہید،لاکھوں سر بکف ،ہزارمشعلیں اورحدِنظرتک چراغاں،ناصحو،پندگرد،راہ گزرتودیکھو،صدیوں پرانی کسی گمنام،گمشدہ محبت پہ سوگوار ہو جانے والے یہ توکہیں کہ کیااس داستان کوبھلایاجا سکتا ہے،کس طرح بھلایاجائے؟؟

بھوک کے خوف سے آد می گرتاہے اورکبھی زندگی پرجاگرتاہے۔عرصہ گہہ امتحان میں یقین اورایمان سے محروم قومیں بھی گاہے گرپڑتی ہیں تب وہ گردبن کے اڑجاتی ہیں۔وقت کاروندتاہوااورپامال کرتاہوالشکرایک گہراپرملال سناٹااوراگلے زمانوں میں چندآنسو،بیماراوربے ہمت قوموں کااس کے سواکوئی انجام نہیں۔

پھرکیاہم انہیں بھلادیں،جنہوں نے پچھلے72برسوں سے ظالم اورمکاربنئے کواپنے سینے کی دیوارپرروک رکھاہے،کیا ان سے بے وفائی کی جائے اور انہیں بیچ دیاجائے،ایک لقمۂ ترکے عوض انہیں بیچ دیاجائے،کیاکبھی کسی نے اپنااثاثہ یوں بھی بربادکیا ہو گا،اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے ؟ ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں