مجبوری بمقابلہ خودی

:Share

افغانستان میں اگر امریکی فوج کی کوئی حکمتِ عملی ہے تو بس یہ کہ کسی نہ کسی طورلڑائی جاری رکھی جائے تاکہ خطرات کی سطح اس حدتک گر جائے کہ افغان فوج کیلئےملک کی سیکورٹی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینا ممکن ہو سکے۔ افغانستان کے طول و عرض میں سترہ سال کی لڑائی کے بعد بھی کوئی بھی کسی بھی سطح پر یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ افغان فوج کو اس قابل بنایا جاسکا ہے کہ وہ ملک میں سلامتی برقرار رکھنے کی ذمہ داری سنبھال سکیں ۔ افغان فوج جیتنے کی پوزیشن میں توخیر آہی نہیں سکی ہے۔ زیادہ سے زیادہ دعویٰ کیاجاسکتا ہے کہ وہ نیٹو اورامریکی افواج کے سہارے افغان فوج کی وری پہنے اپنی شناخت کیلئے موجودہیں۔ اور ہاں،پینٹاگون ابھی تک وائٹ ہاؤس کویقین دلارہاہے کہ وہ ایک نہ ایک دن امریکی فوج کی مدد سے کسی بڑی فتح کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی تاہم سیاست، نظام حکومت اورمعاشیات کے حوالے سے سویلین سطح پر بھی کسی بڑی کامیابی کوممکن بنانے کادعویٰ کوئی نہیں کر رہا۔ یہ بات ضرور کہی جارہی ہے کہ اگر اصلاحات کے پروگرام پر عمل جاری رکھا جائے تو ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور نصیب ہوگی۔ تجربے کے مقابلے میں اِسے امید کی فتح قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ہرآنے والا دن زمینی حقائق کی تصدیق کرتے ہوئےطالبان کو مکمل فتح سے قریب کررہاہے ۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغان جنگ میں امریکا اب تک کم و بیش ایک ہزاردوسوپچاس ارب ڈالر جھونک چکا ہے۔ تصدیق شدہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2200؍ امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں اور20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں60فیصدزندگی بھرکیلئے معذورہو چکے ہیں اورایک رپورٹ کے مطابق ایک ارب ڈالرسالانہ ان زخمیوں کی ادویات اورعلاج معالجہ کیلئے صرف ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ جنگ اب بھی ’’اوپن اینڈیڈ‘‘ہے یعنی کوئی بھی حتمی نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ اتنی مدت گزر جانے پر بھی امریکا اپنے اتحادیوں سے زیادہ سے زیادہ فنڈ اور مزید فوجی فراہم کرنے کی اپیل کر رہا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ افغانستان میں امریکا کے واضح دشمنوں کے پاس کس قدر رقبہ ہے اور افغان حکومت معاملات کوکس حد تک کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ 70فیصدسے زائدافغان سرزمین پرطالبان کاکنٹرول ہے۔
امریکا نے افغان فوج کو مضبوط بنانے میں تاحال خاطر خواہ حد تک کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ امریکا اور اتحادیوں نے بھرپور کوشش کی مگر اس کے باوجود افغان ’’نیشنل سیکورٹی فورسز‘‘ ملک کو کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہو پائی ہیں تاہم پینٹاگون ابھی تک یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ افغان فوج اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی ہے، اب انہیں فنڈنگ یا امریکا سے فضائی امداد درکار نہیں۔خیر،اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغان فوج کوتیارکرنے کے معاملے میں امریکا اوراتحادی مکمل ناکام رہے ہیں۔امریکانے افغان فوج کی اعلیٰ تربیت کے ساتھ ساتھ اُسے فضائی لڑائی میں بہترین انداز سے معاونت فراہم کرکے معاملات کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ہےلیکن اس کے باوجودامریکی فوج کیلئےجانی نقصان کا گراف بھی نیچے آیا ہے جومسلسل جاری ہے۔
انتہائی پریشان کن امر صرف یہ ہے کہ افغان فوج اب بھی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ وہ ملک کو بہترین انداز سے کنٹرول کرسکتی ہیں یا یہ کہ وہ طالبان اور دیگر دشمنوں کو قابو میں رکھنے کی پوزیشن میں آچکی ہیں۔ طالبان اور دیگر عناصر پر قابو پانے کے حوالے سے بھی کچھ کہنا تاحال ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے امریکا نے خاصا سخت موقف اختیار کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ بات پورے یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا برآمد ہوا ہے۔ یہ بات بھی بہت واضح ہوچکی ہے کہ روس اورایران اب طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئےتیار ہیں۔اس میں شک نہیں اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق بہت سے شواہد موجود ہیں کہ امریکانے بالآخراپنی مکمل شکست سے بچنے کیلئے داعش کوعراق وشام سے افغانستان میں منتقل کیاہے تاکہ افغانستان کونہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں مبتلاکرکے امریکی اورنیٹو افواج کی موجودگی کاجوازقائم رکھاجا سکے لیکن پینٹاگون کواپنی اس سازش میں بھی بری طرح ناکامی کاسامناکرناپڑرہاہے اوربڑے افغان شہروں میں طالبان اور داعش کے حملوں سے افغان فوج پر عوام کااعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔
افغانستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت حد تک ویسا ہی ہے جیسا ویت نام میں تھا۔ تب امریکا نے برسوں کی بات چیت کے بعد یا ساتھ ساتھ شمالی ویت نام کو بھرپور قوت کے ساتھ نشانہ بنایا تھا اور دوسری طرف جنوبی ویت نام کو اپنی مدد کیلئےتیار کیا تھا۔پینٹاگون اس پالیسی کوامن کوجیتنے اورجنگ کوہارنے کی حکمت عملی قراردے رہاتھا۔ شمالی ویت نام کی مزاحمتی فوج کو اس بات کایقین تھاکہ وہ جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اپنی مرضی کے نتائج بھی حاصل کرسکتے تھے۔ دوسری طرف چند امریکی حکام نے آنے والے دور کے خطرات کو بھانپ لیا تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ امریکا در حقیقت ہار چکا ہے مگر آبرو بچانے کی خاطر امن کو ’’نافذ‘‘ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ویت نام کی جنگ امریکا نے ایسی شرائط کے تحت ختم کی تھی جو دراصل شکست کی شرائط تھیں۔
چند اور معاملات بھی ہیں جن میں موجودہ افغانستان اور تب کے ویت نام میں کئی اقدارِ مشترک پائی جاتی ہیں۔ امریکا نے شمالی ویت نام کو باہر سے ملنے والی مختلف النوع امداد کے بارے میں غلط اندازے قائم کیے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے جنوبی ویت نام کے بارے میں یہ خوش فہمی پال لی تھی کہ وہ گورننس اور اقتصادی کارکردگی کے معاملے میں بہت آگے ہے، غیر معمولی دم خم رکھتا ہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔ امریکی قیادت نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کردیا کہ ویت نامی حکومت بدعنوانی اور نا اہلی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی تھی اور نظامِ حکومت کے حوالے سے اس کی کارکردگی بہت خراب تھی۔ سویلین اور فوجی دونوں ہی معاملات میں وہ نا اہل تھی اور معاشی کارکردگی کے حوالے سے قابل رحم حالت میں تھی۔ اس کے نتیجے میں وہ نام نہاد جمہوریت بھی کچھ نہ کرسکی جو امریکا نے متعارف کرائی تھی۔
اس وقت افغانستان کے حکومتی سیٹ اپ میں بہت کم افسران انتہائی ایمانداراورمحب وطن ہیں جیسا کہ ویتنام کے کیس میں تھامگر مسئلہ یہ ہے کہ مجموعی سیاسی سیٹ اپ ویسا ہی بدعنوان اورنااہل ہے جیسا کہ ویتنام میں تھا۔سیاسی اور معاشی کارکردگی کا گراف گرا ہوا ہے۔ پوری معیشت آبادی کے ایک چھوٹے سے طبقے کو اپنے ثمرات سے مستفید ہونے کا موقع دے رہی ہے۔ معاشرے میں تقسیم غیر معمولی ہے۔ مسائل ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں اور اُن کے حل کی کوئی سبیل نہیں نکالی جارہی۔ویتنام کی طرح افغانستان میں بھی سویلین اورفوجی دونوں ہی سیٹ اپ ناکام ہیں، مگرسویلین سائڈ کی ناکامی زیادہ نمایاں ہے۔ سیاسی اعتبار سے افغانستان زیادہ منقسم اور کمزور تر ہے۔ اس کے شدید منفی اثرات ملک کی معاشی کارکردگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
افغانستان کی قومی فوج اب تک اس قابل نہیں ہوسکی کہ ملک کا نظم ونسق بہتر انداز سے سنبھال سکے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے سیاسی پہلو کو بہت حد تک نظر انداز کر رکھا ہے۔ افغان فوج کاکمزورہوناایک حقیقت ہے مگرسیاسی پہلوزیادہ بڑی حقیقت کادرجہ رکھتاہے۔ ملک میں مجموعی اعتبار سے تعمیر و ترقی ممکن نہیں ہو پارہی۔یہ محض عسکری معاملہ نہیں۔مجموعی طورپرسیاسی سیٹ اپ ہی نا اہل اور بدعنوان ہے۔ ایسے میں ملک کسی بھی طور آگے نہیں بڑھ سکتا۔ منتخب حکومت اپنی ناکامی کا سارا الزام سیکورٹی کی صورتحال کے سرمنڈھنے کیلئےبے تاب رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی سیٹ اپ اپنی نااہلی چھپانے کیلئےکوئی بھی بہانہ گھڑ رہاہے اورمعاملات کومزید خرابی کی طرف دھکیل رہاہے۔جنوبی ویت نام میں بھی نا اہلی تھی، کرپشن بھی تھی مگر خیر، معاشرے میں غیر معمولی تقسیم نہ تھی۔ بدھسٹ اورکیتھولک گروہوں کے درمیان تقسیم کی نوعیت وہ نہ تھی جو افغانستان میں ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ یامسلکی بنیاد پراختلافات بہت زیادہ ہیں۔ نسلی اور لسانی تقسیم بھی موجودہے۔ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ جیسے اداروں نے افغانستان میں سویلین حکومت کی نااہلی کی طرف بار باراشارہ کیاہے۔ملک میں اب بھی ’’نارکواکانومی‘‘کااثربہت زیادہ ہے،یعنی پوست کی کاشت پر اطمینان بخش حد تک قابونہیں پایاجاسکاہے۔سیاسی نااہلی سے ایک طرف تو ملک میں سلامتی کا معاملہ داؤپرلگاہواہے اورساتھ ہی ساتھ ترقی کی راہ بھی مسدود ترہوتی جارہی ہے۔ ملک بھرمیں غیرمعمولی بے روزگاری پائی جاتی ہے جومسائل کومزیدسنگین بنارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکمل ناکامی سے قبل ویت نامی معاشرہ اُس قدر منقسم نہ تھاجس قدر افغان معاشرہ ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکاکواب افغانستان سے نکلناہے اوروہ اس جنگ سے کسی نہ کسی طرح مکمل طورپرجان چھڑاناچاہتاہے مگر یہ سب کچھ ایساآسان نہیں جیسادکھائی دیتاہے۔ جس جنگ کوچھوڑناہے اُسے کسی نہ کسی شکل میں جاری بھی رکھناہے۔ یہی سبب ہے کہ امن مذاکرات جنگ جاری رکھنے کاایک طریقہ بھی سمجھے جارہے ہیں۔ امریکاطالبان سے مذاکرات کے ذریعے ایک ایسی’’فتح‘‘چاہتاہے جس سے وہ جان بھی چھڑاناچاہتاہے۔نیپال اورکمبوڈیا میں بھی خانہ جنگی ہوئی مگر اِن دونوں ممالک کامعاملہ افغانستان اورویتنام سے بہت مختلف رہا۔ نیپال اورکمبوڈیامیں جب جنگجوؤں نے دیکھا کہ وہ میدانِ جنگ میں سب کچھ نہیں پاسکتے توانہوں نے بات چیت کی راہ اپنائی اورمذاکرات کی میزسے ایوانِ اقتدار تک پہنچے۔ کمبوڈیااورنیپال دونوں کے معاملات میں یہ ثابت ہواہے کہ کبھی کبھی امن مذاکرات جنگ کوطول دینے کاباعث بنتے ہیں اور فریقین ایک دوسرے کودھوکا دینے کیلئےمذاکرات کی میزتک آتے ہیں۔
خطے کے معاملات پرگہری نظررکھنے والے سمجھتے ہیں کہ اگرامریکا چاہتا ہے کہ افغانستان سے جان چھوٹے تولازم ہے کہ کسی نہ کسی سطح کی فتح کااعلان کرکے اپنی راہ لے۔ طالبان اور دیگر فریقین سے مذاکرات کی صورت میں جنگ صرف گھسٹتی ہوئی آگے بڑھتی رہے گی اور کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ اگر اس امید پرجنگ جاری رکھی جائے کہ طالبان کبھی توتھک ہارکرہار مانیں گے توکچھ بھی ملنے والانہیں۔ ایسی صورت میں لڑائی کسی نہ کسی صورت جاری رہے گی جبکہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت اورکرزئی گروہ امریکاکویہ فریب دینے کی کوششوں میں مگن ہے کہ افغان جنگ جیتنے کاایک اورطریقہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ افغان حکومت کوزیادہ فنڈز دے کر مضبوط بنایاجائے،ملک کاکنٹرول مکمل طورپرسنبھالنے کی پوزیشن میں لایاجائے مگرایسا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جنگ میں بھی کسی نہ کسی سطح پرتوایماندارہوناہی پڑتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکاایک مرتبہ پھرپاکستان پراپنادبائوبڑھانے کی کوشش کررہاہے۔نئی حکومت کومبارکباددینے کیلئے پومپیو نے جب عمران خان سے فون پر”ڈومور”کامطالبہ کیاتواس پرکافی تنازعہ کھڑاہوگیاتھا۔عمران خان کی جانب سے اس تاثرکوجب ردکیاگیاتووائٹ ہائوس نے ٹیلیفون پر ہونے والی ساری گفتگوکامتن جاری کردیاجس کے جواب میں پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دفترکومکمل خاموشی کاپیغام دیکر معاملے کودبانے کی کوشش کی کیونکہ چند دنوں کے بعدانہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے جاناتھااوروہاں پرامریکی وزارتِ خارجہ سے ملاقات بھی طے ہوچکی تھی۔ذرائع کے مطابق یہ معلوم ہواہے کہ وزیرخارجہ نے افغانستان کے معاملے پرتعاون کی یقین دہانی توکروائی ہے لیکن امریکی وزارتِ خارجہ کواس بات کابھی علم ہے کہ افغان طالبان پرپاکستان ایک حدتک دبائوڈال سکتاہے جبکہ افغان طالبان اب اس معاملے پرمکمل طورپراپنی مشاورتی کمیٹی کے پابندہیں اوروہ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کانہ توکوئی حصہ بننے کوتیارہیں اورنہ ہی ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہیں اورامریکاکے ساتھ مذاکرات بھی افغانستان سے تمام بیرونی افواج کے انخلاء سے مشروط ہے۔
ادھرامریکا کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اسے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے ،امریکا پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات چاہتا ہے۔امریکاکوبھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہماری امیدیں ویسی ہی ہیں جیسی دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہیں۔امریکا پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کاخواہاں ہے۔عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعدامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی حکومت کے ساتھ تعمیری اور مثبت مذاکرات کیے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات کاسلسلہ جاری رہے۔ہم جنوبی ایشیا کی حکمت علمی پر مکمل طور پر کار بند ہیں کہ ہم خطے میں ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ دہشت گردوں کی ہر قسم کی کارروائیوں اور پراکسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشترد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس سوال کے جواب میں کیا پاکستان کی نئی حکومت نے امریکا کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ دہشتگرد گروپ جو افغانستان میں امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں انہیں پاکستان میں پناہ نہیں دی جائے گی، ایلس ویلز نے کہا کہ ہم پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ان بیانات جن میں انہوں نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن کی بات کی ہے ،کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کریں گے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے حوالے سے امریکا پاکستان سے کیا چاہتا ہے،کے سوال پر نائب سیکریٹری نے کہا پاکستان کو خطے میں ایک ہمسائے کے طور پر بہت اہم کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اوراستحکام کی حمایت کرنی ہے خاص طور پر افغانستان سے آنے والی اشیا کو انڈیا پہنچانے کی اجازت دینا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سب سے زیادہ اہم ہے جس سے مشرق اور مغرب کی تجارت کو سینٹرل ایشین مارکیٹ تک رسائی ملے۔ امریکی نائب سیکریٹری کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینیجمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں کسی بھی کراس بارڈر دہشتگردی کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کا ایڈوانٹیج اٹھا رہی ہے۔ہم افغانستان اور پاکستان کے افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی بحالی کیلئے سخت محنت کررہے ہیں،اس لئےامریکا کی پوری کوشش ہے اور وہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں ملا فضل اللہ جیسے دہشتگرد گروپ کا مکمل طور پر صفایاہو۔خطے میں امن قائم کرناسب سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں نے حالیہ برسوں میں تشدد کی لہر کا سامنا کیا ہے اور دونوں ممالک میں خود کش حملوں کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جس کا مکمل خاتمہ خطے کے امن کیلئے بہت ضروری ہے۔افغانستان کی کوشش ہے کہ طالبان کو امن مذاکرات کیلئے قائل کرے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کیلئے اہم کردارادا کرناہے اورافغانستان میں موجود طالبان کومذاکرات کی میزپرلاناہے۔
ابھی حال ہی میں واشنگٹن میں امریکاکے تمام معروف دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگاروں نے مشہور امریکی تھنک ٹینک’’سینٹر فاراسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘کے اجلاس میں انتھونی کارڈزمین جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک’’سینٹر فاراسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ میں اسٹریٹجی کے حوالے سے آرلی اے برک چیئرکے سربراہ بھی ہیں،انہوں نے افغانستان کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ اورمحکمہ دفاع کیلئے مشیرکی حیثیت سے کام بھی کیاہے،امریکاکومشورہ دیاہے کہ”امریکاکویہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ دنیابھرمیں یہ تاثرعام ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کبھی حقیقی فتح کادعویٰ یااعلان نہیں کرسکتیں۔ ایسے میں ایک اچھا اقدام یہی ہوسکتا ہے کہ فتح کااعلان کرنے کے بجائے امن کااعلان کرکے اپنی راہ لی جائے۔ایشیا کے نئے’’گریٹ گیم‘‘میں جیتنے کاایک اچھاطریقہ یہ بھی ہے کہ کھیلناترک کردیاجائے۔اس کے نتیجے میں خرابیاں پاکستان،ایران،روس،چین اوردیگرممالک کے حصے میں آئیں گی اورجو کچھ امریکانے سہاہے وہی کچھ اِن ممالک کوبھی سہناپڑے گا”لیکن محسوس یہ ہورہاہے کہ بعض نادیدہ قوتوں نےٹرمپ حکومت کی آنکھوں پرایسی پٹی باندھ رکھی ہے جس نے امریکاکےمستقبل کی بربادی کو دیکھنے کی قوت کوسلب کررکھاہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ تعلقات کے حوالے سے عمران خان کاکہناتھا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہترکرے گا کیونکہ پاکستان کوامن کی ضرورت ہے۔نئی حکومت جواس وقت سخت معاشی مسائل میں بری طرح پھنس چکی ہے اورپاکستانی کی تاریخ میں پاکستانی روپے کی10٪قدرکم ہوجانےکی وجہ سے ایک ہی لمحے میں پاکستان پر928/ارب کے قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ گیاہے جس کی بناء پرآئی ایم ایف کے سامنے دست درازکرناپڑگیاہے جس کیلئے بہرحال امریکاکاناجائزدباؤکابھی سامناکرناپڑے گا۔ یقینًاعمران خان کی خودی کاسارادعویٰ مجبوریوں کے طوفان میں تنکے کی طرح بہہ گیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں