قیامت سے پہلے قیامت

:Share

آج سے 72برس پیشترامریکی جریدے’’لائف‘‘ (LIFE) کے جنوری 1948ءکے شمارے میں شائع بانی پاکستان قائد اعظم نے امریکی صحافی مارگریٹ بورک وائٹ کوانٹرویو میں یہ پیش گوئی کردی تھی:’’پاکستان دنیامیں مرکزی حیثیت رکھتاہے، اس کامحل وقوع ایسے مقام پرہے جہاں دنیاکے مستقبل کا انحصار ہوگا‘‘۔ہرگزرتادن یہ ثابت کررہا ہے کہ قائد اعظم کی بات درست تھی۔

یوں توان دنوں عالمی طورپرکرونانے ایسی دیشت پھیلادی ہے کہ مغرب وامریکا جیسے مضبوط ممالک بھی معاشی بدحالی کابھی نشانہ بن رہے ہیں اوربیک وقت کئی محاذ کھل گئے ہیں۔ جب تمام معاملات جڑے ہوں تب کسی ایک چیزکے خراب ہونے پردوسری بہت سی چیزوں کاخراب ہوجانابھی فطری امرہے۔اس وقت یہی ہو رہاہے۔امریکااوریورپ مل کرجوکچھ کرتے ہیں وہ کئی ممالک ہی نہیں بلکہ خطوں کوبھی ہلاکررکھ دیتے ہیں۔ان دنوں امریکااوریورپ کیلئےبہت کچھ تبدیل ہو رہاہے۔ تبدیلیاں توخیرپوری دنیامیں آرہی ہیں مگر امریکاویورپ کیلئےیہ معاملہ بہت ہی اہم ہے کہ کروناکی وجہ سےعالمی سیاست ومعیشت کامرکزاب ایشیا کی طرف منتقل ہورہاہے۔ چین،جاپان،روس اورترکی کی معیشت غیرمعمولی رفتارسے مستحکم ہو رہی ہیں۔جنوبی کوریااورملائیشیاوغیرہ کااستحکام بھی اس معاملے میں روشن مثال کادرجہ رکھتاہے۔ امریکا چاہتاہے کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اس کی فیصلہ کن حیثیت برقراررہے۔واحدسپر پاورہونے کے ناطے امریکاکے ساتھ یورپ نے بھی تین عشروں کے دوران بھرپورفائدہ اٹھایاہےمگراب یہ دَوررخصت ہوتادکھائی دے رہاہے۔امریکااوریورپ نے مل کردنیاکو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی جوبھرپورکوشش کی ہے،وہ ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

تین عشروں کے دوران چین تیزی سے ابھراہے،جس نے امریکااوریورپ دونوں ہی کیلئےخطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔چینی معیشت کافروغ تیزرفتاررہاہے۔ چین خودبہت بڑی مارکیٹ ہے،اس لیے بہت بڑے پیمانے پرپیداواری عمل اس کیلئےہر اعتبار سے موزوں اور سودمندہے۔امریکااوریورپی ممالک اس معاملے میں اس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔امریکانے محسوس کرلیاہے کہ یورپ اپنی راہ بدل رہاہے اورہرمعاملے میں اس کاساتھ دینے کوتیارنہیں۔ یورپ وہی کررہاہے،جوعقل کاتقاضاہے۔یورپ کی بیشترقوتیں افریقا اورایشیاکے حوالے سے اپنی پالیسیاں تبدیل کرچکی ہیں۔وہ اب سافٹ پاورپریقین رکھتی ہیں۔انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ ہرمعاملے کو ہارڈپاورکے ذریعے درست کرنانہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ بہت سی خرابیوں کی راہ بھی ہموارکرتاہے۔

چارپانچ سال کے دوران چین نے باقی دنیاسے اپنامعاشی رابطہ بہتربنانے کی بھرپورتیاری کی اوراس حوالے سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تیارکیا۔انہی خطوط پرچین نے پاکستان کے ساتھ مل کرسی پیک شروع کیا۔یہ منصوبہ سنکیانگ سے بحیرہ عرب تک صرف ہائی وے نہیں بلکہ میگا پروجیکٹس پرمشتمل ایک سلسلہ ہےجس کے ذریعے پاکستان بین الاقوامی تعلقات میں اپنی غیرمتحرک حیثیت کوتبدیل کرکے تیزی سے بدلتے عالمی نظام میں اہم مقام حاصل کرلے گا۔اس مرکزی راہداری کے “یوریشیا”یورپ اورایشیاکے جڑنے کے بعدپاکستان کومرکزی حیثیت حاصل ہوجائے گی جس سے پاکستان کے معاشی امکانات امید افزاہیں۔

سی پیک(CPEC)بیجنگ کے وژن ’ایک خطہ ایک سڑک‘‘کامنصوبہ ہے،اس کی مددسے عوامی جمہوریہ چین کیلئےبحیرہ جنوبی چین اورآبنائے ملاکاکے بحری راستے سے گریزکرتے ہوئے مشرق وسطیٰ اورافریقاتک رسائی کاقابلِ اعتبارراستہ ممکن ہوسکاہے۔ساتھ ساتھ چین کی معیشت کیلئے توانائی کے ذرائع اورچینی مصنوعات کیلئےبڑی منڈی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ’’ایک خطہ ایک سڑک منصوبہ‘‘عالمی تجارتی راستوں کارخ مغرب سے مشرق کی جانب موڑرہاہے اوراس کے ساتھ ہی کثیر قطبی عالمی نظام کی بنیادرکھ رہاہے۔سی پیک میں پاکستان کے اہم کردارکوسامنے رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ چین کایہ شراکت دارمستقبل کیلئےبیجنگ کے عالمی منظر نامے کالازمی جْزہے۔اس سے پاکستان کی مرکزی حیثیت کااندازہ ہوتاہے لیکن معاملہ یہاں تک محدودنہیں۔اسی وجہ سے پاکستان نےبارہاعالمی برادری کومتوجہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دے اورپاکستان کی متوقع پیداواری صلاحیت سے فائدہ حاصل کرنے کاموقع نہ گنوائے ۔

ادھرعمران خان نے وزیراعظم کامنصب سنبھالتے ہی یوٹرن لیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لیے بغیربات نہیں بنے گی کیونکہ قومی خزانے میں کچھ نہیں۔امریکاکواسی موقع کی تلاش تھی اوروہ آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان پرایسی شرائط نافذ کرانے کی ساش میں مصروف ہے کہ جنہیں پورا کرنے میں اس کی ساری ترقی ڈھیرہوجائے۔ امریکاچاہتاہے کہ سی پی میں غیر معمولی تبدیلیوں کی راہ ہموارکی جائے۔اسی لئے وہ پاکستانیوں کوباورکرانے کیلئے پچھلے ڈھائی سال سے مسلسل یہ راگ الاپ رہاہے کہ سی پیک کی تکمیل سے پاکستان عملاًچین کاغلام ہوجائے گا۔چین نے کئی ممالک کوقرضوں کے جال میں جکڑلیاہےاوراب پاکستان کوبھی قرضوں کے شکنجے میں کسناچاہتاہے۔امریکاکےعلاوہ یورپ کے میڈیاآؤٹ لیٹس بھی سی پیک کےحوالےسے تحفظات پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔چین نے بارہاوضاحت کی ہے کہ ایساکچھ بھی نہیں۔

15/اکتوبر2018ءکوچینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے میڈیاکوبریفنگ کے دوران بتایاتھاکہ چین آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کوبیل آؤٹ پیکیج دیے جانے کے حوالے سے سی پیک اوردیگرامورکاجائزہ لینےکاحامی ہے۔پاکستان کو قرضوں کاپیکیج دینے سے قبل بہترہے کہ سی پیک اورپاکستانی قرضوں کابھرپورجائزہ لیاجائے،تاہم یہ سب کچھ حقیقت پسندی کے ساتھ ہوناچاہیےتاکہ پاک چین تعلقات کونقصان نہ پہنچے۔سی پیک دوممالک کے درمیان طویل مشاورت کے بعدطے پانے والامعاہدہ ہے جسے آسانی سے ختم یا تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔اس میں کسی بھی بڑی تبدیلی غیرمعمولی دانش مندی کامظاہرہ ہوگا۔چینی دفترخارجہ کی بریفنگ اس بات کی مظہر تھی کہ چین سی پیک کوغیرمعمولی اہمیت دیتاہے۔پاکستان کیلئےبھی بہت مشکل مرحلہ تھا۔ایک طرف اسے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج بھی لیناتھااوردوسری طرف چین سے اپنے خصوصی تعلق کوبھی سنبھال رکھناہے۔یہ گویادودھاری تلوارسے بچنے کامعاملہ تھا ۔امریکا چاہتا تھاکہ اس مرحلے پرچین اورپاکستان کے تعلقات زیادہ بارآورثابت نہ ہوں اوردونوں ممالک مل کرروس اورترکی کے اشتراک سے ایشیاکوعالمی سیاست ومعیشت کامرکزبنانےمیں ناکام ہوجائیں۔ اس کیلئےاب بھی امریکاجوکچھ کرسکتاہے وہ کررہاہے۔ ایسے میں پاکستان کوثابت کرناہے کہ وہ اپنے مفادات کوزیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کیلئےکسی بھی ملک کے دباؤکوایک خاص حد تک ہی برداشت کرسکتاہے۔

پاکستان کے اُمیدافزااقتصادی امکانات،عالمی برادری سے روابط کی صلاحیتوں،بے مثل جیواسٹریٹجک محل وقوع کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ معیاری فوج اور دہائیوں پرمبنی تجربہ کارسفارت کاری نے جنوبی ایشیاکے اس ملک کواکیسویں صدی کی عالمی توجہ کی حامل ریاست بنادیاہے۔اہل بصیرت کیلئےیہ حیران کن بات ہو گی کہ21ویں صدی میں دنیاکی توجہ کامرکز چین،امریکایاروس نہیں پاکستان ہوگا۔ افسوسناک امریہ ہے کہ امریکااوربھارت نے کئی دہائیوں پرمحیط سائبروار کے ذریعے عالمی سطح پرپاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچایالیکن جنوبی ایشیا کی اس ریاست کی جیواسٹریٹجک اورداخلی صلاحیتیں اس بات کامظہرہیں کہ پاکستان آنے والی صدی کے خدوخال ڈھالنے کی بہترین حالت میں ہے۔اس لیے یہ حیران کن نہیں کہ چین نے اپنے دیرینہ دوست کی قابلیت کاکسی اورملک سے پہلے ادراک کیااوراب دوسری عالمی قوتوں جیسے روس نے بھی پاکستان کی اہمیت کو سمجھ لیاہے۔

اس طرح پاکستان عالمی منظرنامے پرتزویراتی اہمیت کاحامل ملک بنتاجارہاہے۔ اس میں کچھ تعجب نہیں کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے بڑے سرمایہ کارملک اپنے حریفوں سے پہلے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے میدان میں آئے ہیں اورچاہتے ہیں کہ مسابقت کے اس دورمیں وہ عالمی منڈی میں اپنے قدم جما لیں کیونکہ پاکستان ان کی معیشتوں اور چین کے درمیان مختصرترین تجارتی راہداری بن گیاہے۔یہی نہیں،پاکستان سی پیک کوشمال،مغرب اورجنوب میں وسعت دیکر خود کو وسط ایشیا،روس،مغربی ایشیا(ایران،ترکی)اورافریقاسے جوڑرہاہے،جوتہذیبوں کے ارتکازکاسبب بن سکتاہے اورساتھ ہی دنیاکے مشرقی حصے کیلئے’’تقسیم کرواور حکومت کرو‘‘پرمبنی امریکی پولیٹکل سائنس دان (Samuel Huntington) سیموئل ہنٹنگٹن کے نظریے ’’تہذیبوں کاتصادم‘‘کا تریاق یعنی زہرختم کرنے کاذریعہ بن سکتاہے۔

سی پیک،تہذیبی اورجغرافیائی روابط کے امکانات کویقینی بناکرپاکستان’’یوریشیا‘‘(یورپ اورایشیا)کوجوڑنے میں اپناکردار ادا کرسکتاہے ، اس کیلئےدوفریقوں یعنی ایران،ترکی کے ساتھ چین وروس کے ساتھ اپنے سہ فریقی اتحادکوایک پلیٹ فارم پر لاناہوگا۔عالمی طاقتوں پر مبنی یہ’’گولڈن رنگ‘‘ یوریشیاکے وسط میں قائم ہوگا۔افغانستان سے امریکی انخلاکے بعداسلام آباد کاکرداراس سلسلے میں بہت معاون اورفیصلہ کن ثابت ہوگا۔پاکستان اس سارے عمل کوکامیابی سے چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتاہے۔چاہے امریکااورچین ہوں یاسعودی عرب اورایران،اسلام آبادسفارت کاری کے ذریعے کئی طاقتوں سے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کاکامیاب تجربہ رکھتاہے اورپاکستان کی بہترین صلاحیتوں کی حامل اورایٹمی ہتھیاروں سے لیس فوج کے بھی ان ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں۔

سادہ سی زبان میں یہ کہاجاسکتاہے کہ پاکستان وہ مرکزی ریاست ہے جس پرچین کے مستقبل کے منصوبوں کاانحصارہے،اسی لیے اِسے نئی سردجنگ اور21ویں صدی میں تیزی سے پروان چڑھتی کثیرقطبی دنیاکابادشاہ گربنایاجارہاہے۔پاکستان اپنی ذات میں بھی مرکزی حیثیت رکھتاہے،جویوریشیا کی کئی قوتوں کوجوڑنے اورمشرقی کرہ کی مختلف تہذیبوں کوایک جگہ جمع کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ قوتیں گولڈن رنگ کے فریم ورک یاسانچے میں منظم ہونے جارہی تھیں کہ کرونانےایک عالمی وباکی صورت میں وقت کی لگام کواپنے ہاتھ میں لے لیاہے۔

کرونا وائرس ساری دنیامیں پھیل چکاہے.کاروبارِحیات بندہوچکا۔تجارت،تعلیم،مذہبی اجتماعات،سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی انجماد کی حالت میں چلے گئے ہیں۔پوری دنیاکی سات ارب آبادی شدیدذہنی دباؤ،خوف وہراس میں مبتلاہے۔ بیماری کی نہ توعلامات واضح ہیں نہ ہی وجوہات،بیماری کایقینی ٹیسٹ بھی تا حال ممکن نہیں.کم ترقی یافتہ ممالک تو دور،ترقی یافتہ ممالک بھی اس وائرس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔اس ساری صورتحال کے تناظرمیں یقیناًیہ سوال بہت اہم ہے کہ کیایہ کروناوائرس واقعی ایک وباہے یابائیوٹیررازم کاحصہ ہے؟یہ طاعون جیسی بیماری قدرتی طورپر پیداہوئی ہے یایہ حیاتیاتی جنگ کاایک حصہ ہے؟یہ ایک سانحہ ہے یاباقاعدہ منظم سازش،جس نے صنعتی ترقی سے مستقبل میں بدلتی دنیاکانقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے؟میڈیاپرمختلف سازشی تھیوریزکےانکشافات نے دنیامیں تہلکہ مچارکھا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر10مارچ2020ءکوفورٹ ڈیٹرک کی معلومات کے حوالے سے ایک پٹیشن جاری کی گئی جس میں کئی ایک مشکوک واقعات کاذکرکیاگیاہے جواس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ کووڈ۔19 امریکا میں سی آئی اے کی حیاتیاتی ہتھیار بنانے والی فورٹ ڈیٹرک لیبارٹری میں تیارکیاگیاتھا۔معلومات وحقائق سے واقفیت رکھنے والے سائنسدان اورماہرین کادعویٰ ہے کہ یہ قدرتی طورپرپھیلنے والاوائرس نہیں بلکہ لیبارٹری سے تیارشدہ ہے اور اس کامقصد لوگوں میں خوف وہراس کاماحول پیداکرنے کے ساتھ ساتھ چند بڑی یورپین طاقتوں کے عالمی،سیاسی و اقتصادی ایجنڈاکوپوراکرناہے۔یہ ایک انتہائی شاطرانہ شیطانی منصوبہ ہے جس کے بہت سے حصے اوربہت سے اقدامات ہیں اوریہ کثیرجہتی منصوبہ ہے اوراس پورے منصوبے کالب لباب”کرس” یہ ہے:
one world government کادنیامیں قیام
اone world religion کادنیا میں نفاذ
one world currency کادنیامیں نفاذ
اورآخرمیں”ون ورلڈ لیڈر”یعنی کرائسٹ دجال کوحاکم اعلیِٰ تسلیم کرانےپرساری دنیا کااتفاق:
ان مقاصد کوحاصل کرنے کیلئے پلان کومزید چھوٹے پلانزمیں تقسیم کیاگیاہے جن میں سب سے خطرناک پلان دنیا کی آبادی کوسات ارب سے کم کرکے ایک ارب یاپچاس کروڑتک لاناہےاوریہی وہ منصوبہ ہے جس کاجہاں براہِ راست تعلق‫ کرونا وائرس وبا سے ہے وہاں چین اوراس کے ساتھ منسلک تمام منصوبوں کوسبوتاژکرنابھی مقصودہےگویاقیامت سے پہلے قیامت بپا کرنے کامنصوبہ بنایاگیاہے۔‬‬‬‬‬‬‬‬

اپنا تبصرہ بھیجیں