حق سے گریزاورظلمتوں سے محبت

:Share

پچھلے دنوں دبئی میں بھارتی ہندو فلم سٹارکثرت ِشراب نوشی کی بناء پر کمرے کے باتھ روم میں ڈوب کرمرنے کی خبرنے ہمارے میڈیانے سارے ملک میں صدمے کی ایسی لہردوڑادی کہ ہرکسی کے تعزیتی پیغام نشرکروانے کی دوڑلگ گئی لیکن کسی کویہ خبرنہیں کہ شام کے شہرغوطہ میں روسی اور شامی اندھا دھند بمباری سے ۶۰۰سے زائدمعصوم اوربیگناہ بچے،عورتیں ، بوڑھے اورنوجوان شہیدکردیئے گئے لیکن یوں معلوم ہوتاہے کہ میرے رب نے بالخصوص پڑوس میں عیش و نشاط میں ڈوبے پتھردل مسلمانوں اوربالعموم عالم اسلام کے سربراہوں سے احتجاج کی توفیق بھی سلب کرلی ہے۔
ادھردوسری طرف ہندوکوہندوہونے پرفخرہے،سکھ اپنے سکھ ہونے پرناز کرتا ہے،یہود کو اپنی یہودیت پرگھمنڈ ہے اور اب عیسائی اپنی عیسائیت مسلمانوں پر غالب کرنے کی فکر میں ہیں اور ایسے میں ہم مسلمان اپنی قوتِ ایمانی چھوڑ رہے ہیں اور ادیانِ عالم میں اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔ شائد اس دنیا میں ہم ایسی کم مائیگی کا شکار ہیں جس کی اجازت نہ ہمیں دین اسلام دیتاہے اورنہ ہی ملی غیرت ۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ہماری عقل و دانش ”امریکی و افرنگی” ہے اور ہمارامیڈیا شب وروزلبرل اورسیکولر تعلیمات کی تبلیغ کررہاہے ۔ہندو مت کے مطابق اپنے روزوشب گزار رہے ہیں۔چند پراگندہ ذہن کے لوگوں نے ہم ہندی روایات میں ڈوبے ہوؤں کو باقاعدہ ”زنار”پہنا دی ہے۔ان کے قلم کے منہ میں اللہ اللہ ہے اور دل میں رام رام کاراگ بسا ہوا ہے۔ان کے اس نام نہاد حسنِ اخلاق نے ہماری بیباکی دبا کر رکھ دی ہے،حق سے گریزاور ”ظلمتوں” سے محبت ہمارا و طیرہ ہو گیا ہے اور ہم اپنا تشخص ہی نہیں اپنا ثبات بھی کھوچکے ہیں۔
نجانے مجھے آج ۱۳سال پہلے کاوہ منظرشدت سےیادآرہاہے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ صدر پرویز مشرف کے پاس اپنی پتلون کی عقبی جیب میں ایک فہرست سمیت پہنچا اور اس نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کے ایک حالیہ اجلاس میں صدر بش نے اس بات پر ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا کہ اس فہرست میں شامل زیادہ تر دہشت گرد امریکا کے ایک اتحادی پاکستان کی سرزمین میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔اجلاس کے شرکا ء کے مطابق مشرف نے اس معاملے پر توجہ دینے کا وعدہ کیا اور ایک ماہ سے کم عرصے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس فہرست کے سب سے اہم فرد کو گرفتار کرلیا۔امریکی خفیہ ایجنسی کے سابقہ اعلی عہدیدار کے مطابق سچائی تویہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کی جنگ میں بڑی حدتک امریکاکاسب سے بہترشریکِ کاررہا ہے۔ کسی اور نے پاکستانیوں سے زیادہ دشمنوں کو میدانِ جنگ سے باہر (گرفتار کرکے) نہیں نکالا لیکن اس کے باوجود ایک ہی سانس میں امریکا ناقابل فہم اور پریشان کن ”ڈومور”کے مطالبے کے ساتھ پاکستان کوموردِ الزام بھی ٹھہراتارہا کہ وہ القاعدہ اورپاکستانی طالبان کے خلاف تومکمل تعاون کرتاہے لیکن درپردہ افغان طالبان اور حقانی گروپ کی مدد بھی رہاہے۔اُن دنوں دو مرتبہ سی آئی اے کا سابقہ قائم مقام ڈائریکٹر مائیکل موریل ایک فہرست کے ساتھ یہ امیدلے کرآیا کہ پاکستان ان لوگوں کوگرفتارکرے گایاگرفتارکرنے کی کوشش کرے۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس بھی اسی قسم کے مشن پرپاکستان آئے کہ پاکستان کودہشتگردی سے سختی سے نپٹنا چاہیے اوران کے سارے محفوظ ٹھکانے بند کردینے چاہئیں۔
ٹرمپ تیسرے صدرہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے اس غصہ ومایوسی کااظہارکیااور ٹوئیٹ کیاکہ‘‘گزشتہ۱۵سالوں میں امریکانےاحمقانہ طورپرپاکستان کو۳۳؍ارب ڈالرکی امداددی اورانہوں نےاس کےبدلےہم سےجھوٹ بولااورہمیں بیوقوف بنایا ‘‘۔تین دن بعد ٹرمپ حکومت سابقہ امریکی حکومتوں سے ایک اور قدم آگے چلی گئی،بقول ایک اعلیٰ حکومتی افسرکے”جب تک پاکستان افغان طالبان،حقانی نیٹ ورک اورایسےتمام گروہوں،جوافغانستان میں امریکی مفادات اورامریکی فوجی اہلکاروں کیلئے خطرہ بن رہے ہیں،کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرے گا اس وقت تک کیلئے محکمہ خارجہ نے پاکستان کیلئے تمام فوجی سازوسامان کی فراہمی اورمالی امدادکومعطل کرنے کا اعلان کردیاہے۔اس ساری امدادکی مالیت تقریباًدوارب ڈالرہے،بشمول اس فوجی سازوسامان کے جوپاکستان نے ۲۰۱۳ء میں آرڈرکیاتھالیکن ابھی تک پاکستان کے حوالے نہیں کیاگیا۔امریکی حکام پاکستان کی دورُخی پالیسی کے بارے میں اندھے نہیں تھے، بلکہ اوباما حکومت کے ایک سابقہ قومی سلامتی کے مشیر جوشوا وہائیٹ کے مطابق یہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی قیمت میں شامل تھی”۔
سی آئی اے کے ایک اعلی عہدیدارکے مطابق”عمومی طورپرامریکاکی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت اچھاتعاون کیا،ان کی حکومت نے سی آئی اے کو اپنے قبائلی علاقوں پرجہاں بہت سارے مزاحمت کارچھپتے تھے مسلح ڈرون اڑانے کی اجازت دی بلکہ سی آئی اے نے ابتدائی طورپرڈرون پاکستان کی سرزمین پربھی رکھے،جس میں سی آئی اے اورآئی ایس آئی مشترکہ طورپرمطلوبہ دہشتگردوں کی فہرست پرکام کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ ٹارگٹ کی فہرست پرموجودافرادکونشانہ بنایا جاتااورنئے نام جن میں زیادہ ترالقاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی راہنماہوتے شامل کردیے جاتے۔ یہ قریبی تعاون اس وقت خراب ہوا،جب۲۰۱۰ء میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف جوناتھن بینکس کا نام پاکستانی اخبارات میں افشاہوااورامریکیوں کوشبہ تھاکہ یہ آئی ایس آئی نے جان بوجھ کرکرایاہے”۔
“اس کی جگہ مارک کیلٹون بہت بُرے وقت پرآئے۔ اس کی آمدکے اگلے ہی دن سی آئی اے کے ایک کنٹریکٹرریمنڈڈیوس کے ہاتھوں لاہورمیں دوافرادمارے گئے (اس کا دعویٰ ہے کہ اسے لوٹنے کی کوشش کی گئی تھی)۔ کیلٹون اس وقت بھی وہیں(پاکستان میں)تھا،جب۲۰۱۱ء میں امریکی بحریہ کے سیل (کمانڈوز) نے ہیلی کاپٹرکے ذریعے پاکستان میں حملہ کرکے القاعدہ کے راہنمااسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈمیں گھس کراسے قتل کردیا۔ایک مرحلے پراس وقت کے آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشانے امریکی سفیرکیمرون منٹرکو(درشت لہجے میں)کہا ’’کیلٹون کودیکھ کرایک چلتی پھرتی لاش کاخیال آتاہے‘‘۔ اس کے چند دنوں کے بعدہی کیلٹون پراسرارطورپربیمارہوگیااس کے خیال میں اسے زہردیاگیاتھا۔
آخرکارسی آئی اے نے آئی ایس آئی کوڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کا سلسلہ بندکردیا،دوسری طرف کئی سابقہ حکام کے مطابق پاکستانی حکام بھی امریکی ڈرون حملوں میں مرنے والے شہریوں کی تعدادبڑھاچڑھاکربیان کرتے تھے۔ حکام کے مطابق سی آئی اے پوری کوشش کرتی تھی کہ شہریوں کی موت سے بچاجائے۔ مثال کے طور پرمئی۲۰۱۳ء میں پاکستانی طالبان کانائب امیرولی الرحمن گرمیوں کے موسم میں ایک گھرکی چھت پردیکھاگیا۔فضا میں گھومتے ڈرون کیلئے وہ آسان شکارتھالیکن مسئلہ یہ تھاکہ ہیڈکوارٹرمیں بیٹھے ہوئے سی آئی اے کے افسرکوفکرتھی کہ براہ راست فائرپورے گھرکوتباہ کردے گااورنہ جانے کتنی عورتیں اوربچے مارے جائیں گے۔ کئی گھنٹوں تک اس مقام کاجائزہ لینے کے بعدآخرکاروہ ایک ایسازاویہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے،جوصرف ولی الرحمن اوراس کے ساتھیوں کولگے اورباقی بلڈنگ محفوظ رہے۔ڈرون نےانتہائی نیچے آکرکئی میزائل اس طرح سے فائرکیے جوچھت کوچھوتے ہوئے نکل گئے اورکوئی شہری نہیں ماراگیا۔
۲۰۱۵ءتک سی آئی اے کی پاکستان کی حدتک القاعدہ کے مطلوب ٹارگیٹس کی فہرست خالی ہونے لگی۔اس سال صرف دس ڈرون حملے ہوئے تھے جبکہ ۲۰۱۰ء میں حملوں کی تعداد۲۲۱ تھی۔ جوشوا گیلٹزر، (اوباما کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سابقہ سینئر ڈائریکٹر) نے مجھے بتایا کہ’’القاعدہ کیلئے بنیادی طور پر(جنگ کا)مرکزثقل پاکستان سے شام کی طرف منتقل ہو رہا تھا‘‘۔
حالانکہ ٹرمپ حکومت نے اپنی نئی پالیسی کوامریکاکی پاکستان کے ساتھ ناکامیوں کے جواب کے طورپیش کیا ہے لیکن درحقیقت موجودہ اور سابقہ قومی سلامتی کے افسران کے مطابق سی آئی اے کی دہشتگردی کے خلاف کامیابی اورپاکستان میں القاعدہ کی کمزورہوتی حیثیت نےٹرمپ کو اس بات کا موقع فراہم کیا۔ مختصر یہ کہ القاعدہ کی پاکستان میں کارروائیاں اب پہلے کی طرح خطرہ نہیں ہیں (اس لیے پاکستان کو ڈمپ کرنے کا بہترین موقع ہے) ۔سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے سی آئی اے کے ڈرون پروگرام پر تبصرہ یا تصدیق کرنے سے معذرت کرلی، لیکن اس نے ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا۔ ’’ٹرمپ کو اعتماد ہوگا کہ ہم نے صورت حال کو اتنا تبدیل کردیا ہے کہ اب اگر اس پالیسی کا کوئی نقصان بھی ہوگاتوقابل برداشت ہوگالیکن القاعدہ واحددہشتگردگروپ نہیں ہے جومزاحمت کار بالخصوص حقانی نیٹ ورک افغان فوج،شہریوں اورامریکی فوج پرہلاکت خیز حملے جاری رکھے ہوئے ہیں”۔شمالی ایشیا کے سابق مشیر وائیٹ کا کہنا ہے کہ ’’القاعدہ کی باقیات کی فہرست شاید چھوٹی ہوگئی ہے، لیکن حقانی نیٹ ورک کی فہرست بڑھتی جارہی ہے‘‘۔ امریکی حکام کی درخواست پاکستانی فوجی و انٹیلی جنس افسران سے یہ ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے پیچھے جائیں۔ کبھی کبھی معمولی ایکشن نظر آتا ہے لیکن عموماً ہم ایک دیوار سے سر ٹکرا رہے ہیں۔
ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر میک ماسٹر نے افغان طالبان کے خلاف جنگ میں نئی توانائی لانے کیلئے پاکستان کے خلاف سخت رویے کی حمایت کی۔ گزشتہ سال میک ماسٹر نے لیزکرٹزاورحسین حقانی کی مشترکہ رپورٹ ’’پاکستان کیلئے امریکاکانیاطریقہ کار‘‘دیکھی،جس میں ان دونوں نے ٹرمپ حکومت کومشورہ دیا کہ یہ سوچناکہ پاکستان امدادروکنے کی دھمکی کے بعدممکنہ طورپربعض دہشت گردگروپوں کے خلاف اپنی پالیسی تبدیل کردے گا، ایک سراب ہے لہٰذا اس کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دے۔ پاکستان امریکا کا اتحادی نہیں ہے۔
میک ماسٹر نے کرٹز کو (جوکہ سی آئی اے اورمحکمہ خارجہ میں کام کرچکی ہے اورپاکستان کاتجربہ رکھتی ہے)قومی سلامتی کمیٹی میں بطورسنیئر ڈائریکٹر جنوبی وسطی ایشیاکے متعین کیاہےاوربعض ذرائع کے مطابق یہ پیپرزجواس نے حسین حقانی کے ساتھ مل کرلکھے ہیں وہ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کابلیوپرنٹ بن گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے امدادکی معطلی کے بعداگلاسوال یہ ہے کہ اب مزیدکیاکیاجاسکتا ہے؟ اپنے مقالے میں کرٹزاورحسین حقانی کامشورہ ہے کہ امریکاپاکستان کودہشت گردی کی اسپانسرحکومتوں میں شامل کرنے کی دھمکی دے۔ اگرایساہواتویہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل تعلقات توڑنے کے مترادف ہے اورممکن ہے موجودہ اورسابقہ پاکستانی حکام پرپابندیاں بھی لگ جائیں۔
پینٹاگون اورمحکمہ خارجہ نے نئی سخت روی کی پالیسی کی مزاحمت کی تھی اورکہاتھاکہ پاکستان ممکنہ طورپرزمینی اورہوائی راستے جوکہ امریکی فوج کو افغانستان سپلائی کیلئے اہم ہیں بندکرسکتا ہے۔ محکمہ خارجہ کے حکام ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے کے ٹوئٹ پرششدررہ گئے تھے۔
امریکی وزیر دفاع جان میٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دوسرے حکام کو دھمکیاں دینے سے منع کیا تھا۔ ایک اعلیٰ افسر کے بقول میٹس ابھی تک اس معاملے میں اپنی بات پرقائم ہیں لیکن اس نے اس بات کی تردید کی کہ محکمہ خارجہ اوردفاع نئی پالیسی بنانے کے حامی نہیں ہیں۔کرٹزاورحقانی کے مقالے (جس کو بلیوپرنٹ کے طورپراستعمال کیاجارہاہے) کے بارے میں کہاکہ دراصل ایک تفصیلی پروسیس چل رہا جس میں مختلف ایجنسیاں مشاورت میں شامل ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں کااعلان ٹرمپ حکومت کی ہمہ جہت پالیسی کااظہارہےجس کے مطابق طالبان وافغان حکومت کے درمیان ایک سیاسی حل ڈھونڈا جائے لیکن حکام کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک طالبان و حقانی نیٹ ورک خودکوپاکستان میں محفوظ سمجھیں گے،انہیں مذاکرات کی میز پرآنے کی اتنی زیادہ تمنانہیں ہوگی۔
ایک سابق انٹیلی جنس افسر کے مطابق”وہ ٹرمپ حکومت کی سخت پالیسی سے ہمدردی رکھتاہے لیکن یہ توقع رکھناکہ آئی ایس آئی طالبان وحقانی سے قطع تعلق کرلیں گے اتنی ہی معصوم اوربچکانالگتی ہے جتناکہ افغانستان میں امریکی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پرڈالنا۔ اس نے کہااگرپاکستان انتہائی فرمانبردار ملک بن بھی جائے تب بھی افغانستان سوئٹزرلینڈ نہیں بننے جارہا”!
قارئین!ان حالات میں رسولِ خدامحمد مصطفیٰۖ کی طرف مددکیلئے بڑھنابہت ضروری ہے کہ پھراسی رحمتِ عالم کی بدولت ہماری جھوٹی زناریت اورغلیظ رنگ امریکیت،بدبودارافرنگیت ہمارے خاکی پتلے سے نکل جائےاورہم میں بقول حفیظ جالندھری”قوتِ اخوتِ عوام”پیدا ہو جائے۔جس پھندے میں آج کل پھنسے ہوئے ہیں اس سے باہر نکلنا اتنا آسان نہیں ،باقاعدہ ایک گروہ نے برسوں کی محنت سے ہمیں اس دام میں پھنسایاہے۔آج ہم تختۂ دارپربھی انہی کے راگ الاپ رہے ہیں جنہوں نے ہمیں ذہنی طور پر بے سرو ساماں کر کے موت کی اس وادی میں اتارا ہے ۔ہم نا سمجھ بھی نہیں لیکن ایک نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں اوروہ نشہ ہے دولت مندی یادولت مندی کی خواہش کا،جس کے پیچھے گناہوں کی ہوس کاری ہے۔دین پرغضب ٹوٹے یادین داروں کے گلے کاٹے جائیں،ہمیں اس سے کوئی دکھ نہیں ہوتا،ہوس کسی اچھے خیال کودل میں آنے ہی نہیں دیتی۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے بارے میں زبانِ مخبرِ صادق محمد ۖسے یہ ارشادِ برحق ہوا تھا کہ”ہر امت کیلئے ایک فتنہ ہے،میری امت کیلئے فتنہ دولت ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں