کانٹے بوکرپھولوں کی تمنّاحماقت ہے

:Share

یہ بات محتاجِ وضاحت نہیں کہ بھارت کشمیرمیں اوراسرائیل غزہ فلسطین میں مسلمانوں کا صفایاکررہاہے اوردونوں ایک ہی قسم کے انسانیت سوز مظالم میں مصروف ہیں۔مودی پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں جنہوں نے جولائی۲۰۱۷ءمیں صہیونی ریاست اسرائیل کی یاتراکرکے عالم اسلام کوپیغام دیاکہ اسلام اورمسلمان دشمن بھارت اسرائیل کامشترکہ ایجنڈاہے۔ مودی کے دورۂ کے جواب میں نیتن یاہونے بھی۱۴جنوری کوبھارت کا دورۂ کیا،نیتن یاہوجونہی دہلی پہنچے تو مودی گرمجوشی اور فرط محبت میں گلے لگاکردیرتک ان سے لپٹے رہے۔ مودی کاکہناتھاکہ نیتن یاہوکادورۂ دونوں ملکوں کی دوستی کومضبوط ومستحکم کرے گاجبکہ نیتن یاہو نے ایک ہی سانس میں مودی کوعالمی اورانقلابی لیڈرقراردیاکہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں انقلاب برپاکردیاہے،اب اسرائیلی کمپنیاں دفاعی شعبے میں بھارتی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے اختیارکرنے کوتیارہیں۔ دفاعی(صحیح ترالفاظ میں جنگی)اشتراک عمل سے ریاستی دہشتگردمودی اورنیتن یاہوکے انقلابی مزاج کی صراحت ہوجاتی ہے۔نیتن یاہونے اپنے دورۂ بھارت کو اسرائیل کے عالمی معاشی،سیکورٹی،فنی اورسیاحتی تعلقات کومزیدمستحکم کرنے کا موجب قراردیتے ہوئے مودی کواپنا”پکایار” قرار بھی دیا۔بھارتی کارپوریٹ میڈیا نیتن یاہوکے دورۂ بھارت کاتاریخی قراردیاہے۔
یہودوہنودکے گٹھ جوڑ میں اضافے سے پوراخطہ مزیدسنگین خطرات میں گھرگیا ہے،اسی لئے ہرامن پسندشخص پیچ وتاب کھارہاہے۔ان خطرات میں نیتن یاہوکے دورۂ بھارت کے دوران دونوں مسلم دشمنوں کابغل گیرہوناجہاں امت مسلمہ کیلئے آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے وہاںمسلم امہ کیلئے کھلاچیلنج بھی ہے۔اسی لئے ہرامن پسند شخص پیچ وتاب کھارہاہے ۔نیتن یاہوکے بھارت پہنچتے ہی قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرکے ضلع بارہ مولاکے اوڑی علاقے میں چھ نوجوان کشمیریوں کوایک فرضی جھڑپ میں یہ کہتے ہوئے بے رحمی سے شہید کردیاکہ یہ آزادکشمیرسے اوڑی علاقے میں دراندازی کے مرتکب ہوئے تھےاور ان کاتعلق جیشِ محمدسے تھا۔نیزبھارتی فوج نے پاکستان کی چوکیوں پرحملہ کرکے افواج پاکستان کے چار نوجوانوں کوبھی شہیدکردیا۔
بھارت اسرائیل اسٹرٹیجک تعلقات کاباقاعدہ آغاز۱۹۶۲ءمیں ہواجب بھارت چین جنگ کے دوران اس وقت کے وزیراعظم جواہرلال نہرونے باضابطہ طورپراسرائیل سے ہتھیار بھیجنے کی درخواست کی۔نہرونے اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان کوپیغام بھیجاکہ جس بحری جہازمیں ہتھیاربھیجے جائیں ان پراسرائیل کا جھنڈانہ لہرایاجائے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ اورخلیجی ممالک سے بھارتی تعلقات متاثرہونے کاخدشہ تھا۔بھارت کیلئے خلیجی ممالک سے تعلقات وہاں آباد بھارتی شہریوں کی طرف سے ترسیلات زرکے باعث بہت اہمیت رکھتے تھے تاہم بن گوریان نے اس بات سے انکارکردیااور اصرارکیاکہ ہتھیاروں سے لدے جہازپراسرائیل کاجھنڈاضرورلہرایاجائے گا۔بھارت نے جب بن گوریان کی اسرائیلی جھنڈے کی شرط قبول کی توپھراسرائیلی اسلحے سے سے لداہوا جہاز بھارت روانہ کیاگیا۔
۱۹۷۱ءکی پاک بھارت جنگ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزیدمستحکم ہوئے ۔سری ناتھ راگھون نے اپنی کتاب میں اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کے مشیر پی این اسکرکے حوالے سے لکھاکہ اگرچہ اسرائیل بھارت کوبراہِ راست ہتھیارفراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھامگرپاکستان کے خلاف وہ بھارت کی درخواست پرکچھ بھی کرنے کیلئے تیارتھا۔اسرائیلی وزیراعظم گولڈامیئرنے ہتھیاروں سے لدے جہازکو بھارت کی جانب موڑدیا۔اس جنگ کے دوران اسرائیل نے جاسوسی کے شعبے میں بھی بھارت کو بھرپورتعاون فراہم کیا،اس کے جواب میں گولڈا میئرنے بھارت کو اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیاتاہم اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں بھارت کو مزید۲۱برس کاعرصہ لگا،بالآخربھارت نے فلسطینی رہنماء یاسرعرفات کو اعتمادمیں لیتے ہوئے ۱۹۹۲ءمیں اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کااعلان کردیا۔یاسرعرفات اس وقت بھارت کے دورے پرتھے اور اس وقت بھارتی وزیراعظم نرسمہاراؤ سے ملاقات کے بعد بیان دیاکہ اسرائیل میں سفارت خانہ قائم کرنااور سفارتی تعلقات قائم کرنابھارت کااپنااستحقاق ہے اوروہ اس کا احترام کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکانے بھی بھارت پردباؤڈالاکہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون بڑھائے۔بھارت کوہتھیارفراہم کرنے والاسب سے بڑاملک سوویت یونین تھا ،سوویت یونین کے خاتمے کے بعدبھارت نے بڑی تیزی سے اپنے پرانے حلیف سے آنکھیں پھیرلیں اورہتھیاروں کے حصول کی خاطرنئی منڈیوں کی تلاش میں امریکاکی جھولی میں گرگیا تاہم امریکانے ہتھیارفراہم کرنے کیلئے یہ شرط عائد کی کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کومناسب اہمیت دے۔ بھارت اور اسرائیل کی سوچ اورطریقہ واردات یکساں ہے جبکہ دونوں کاپولیٹیکل آؤٹ ملتا جلتاہے۔اسرائیل نے سفارت،سیاسی اوردفاعی لحاظ سے بھارت کویہ بتایاہے کہ جس طرح اسرائیل کے آس پاس کئی اسلامی ممالک ہیں،اسی طرح انڈیاکے سامنے بھی اسلامی خطرہ موجودہے اوربھارت کے اندرسے کئی اورپاکستان بننے کے امکان ہیں۔اسرائیل گزشتہ بیس سال سے انڈیاکودفاعی سازوسامان دینے کے معاملے میں چوتھاسب سے بڑاملک ہے۔اس حوالے سے امریکا، روس، فرانس بھارت کی جنگی بھوک مٹانے میں ہلاکت خیزاسلحہ بھارت کوفروخت کرتے ہیں۔اسرائیل نے بھارت کوکئی طرح کے میزائل سسٹم ریڈاراوردوسرے کافی حساس ہتھیارفراہم کئے ہیں۔اسرائیل بذاتِ خودبڑے پیمانے پربعض بڑے ہلاکت آفریں اور جہازنہیں بناتالیکن وہ میزائل راڈارسسٹم بناتاہے۔گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں اسرائیل پربھارت کے انحصار میں اضافہ ہواہے۔گزشتہ سال جولائی میں مودی کے دورۂ اسرائیل کے دوران جودفاعی معاہدے ہوئے ان پرکئی برسوں سے بات چیت چل رہی تھی۔یادر ہے کہ دونوں اپنے تعلقات مستحکم بنانے اور سامان جنگ کی خریدو فروخت کیلئے بات چیت خفیہ طورپرکرتے ہیں۔
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہی کے سلسلے میں مودی کے دورۂ اسرائیل کے تین ماہ بعداسرائیلی فوج کے گراؤنڈفورسزکے کمانڈکے سربراہ میجرجنرل یاکوکوبی براک کی قیادت میں ایک وفد۳۱/اکتوبر۲۰۱۷ء کومقبوضہ جموں پہنچااورادھم پور میں قائم قابض بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈ کوارٹرکاتفصیلی دورۂ کیا۔ بھارت کے دفاعی ذرائع نے بتایاکہ اسرائیلی فوجی کمانڈرنے بھارتی فوج کے شمالی کمان کے کمانڈنگ انچیف لیفٹیننٹ جنرل دیوراج انبوسے ملاقات کی جس دوران مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
اسرائیلی فوج سے وابستہ سنیئرافسران ماضی میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیرکے دورۂ پرآتے رہے ہیں جس دوران وہ بطورخاص کشمیرکی تحریک آزادی ٔ کے خلاف منصوبوں کے بارے میں بھی بھارتی فوجی کمانڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے رہے۔ان دوروں کوعمومی طورپرصیغۂ رازمیں رکھاجاتا ہے تاہم اس باراسرائیلی فوجی کمانڈرکی معیت میں اسرائیلی فوجی وفدکی مقبوضہ کشمیرمیں آمدکے حوالے سے بھارتی فوج کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیاگیاجس میں اسرائیلی وفد کے دورۂ جموں کے بارے میں بتایاگیا۔اس طرح گولڈامیر نے جوکچھ بھی بھارت سے۱۹۷۱ءمیں تقاضہ کیاتھا،وہ بالآخر۲۹جنوری ۱۹۹۲ءکوممکن ہوگیا۔بعدمیں بھارت نے جب ۱۹۹۸ءمیں ایٹمی دہماکے کئے توامریکا نے بھارت پراقتصادی اورفوجی پابندیاں عائد کردیں لیکن بھارت ان تمام پابندیوں سے متاثرہونے سے صاف بچ گیا جب اسرائیل کے ذریعے سے بھارت کوامریکی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہی پھر۱۹۹۹ءکی کارگل کی جنگ کے دوران ہی بھارت اسرائیل فوجی تعلقات عروج پرپہنچ گئے۔اسرائیل نے بھارت کو بھاری توپیں،نگرانی کرنے والے ڈرون اور لیزر گائیڈڈ میزائلوں کے ساتھ ساتھ ہی جاسوسی کے شعبے میں تعاون بھی فراہم کیا۔
۲۰۰۰ءمیں بھارت کی بی جے پی سرکارکے وزیر داخلہ کے ایل ایڈوانی اوروزیرخارجہ جسونت سنگھ نے اسرائیل کاسرکاری دورۂ کیاجس سے اسرائیل کیلئے بھارت کے وزارتی سطح کے دوروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۲۰۰۰ءمیں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم شیرون سرکاری دورے پر بھارت پہنچے ،یہ کسی اسرائیلی وزیراعظم کاپہلاسرکاری دورۂ بھارت تھاجس کے اختتام پر دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اورتعاون کے معاہدے پردستخط کیے گئے۔اس موقع پراسرائیل کے نائب وزیراعظم یوسف لیپڈنے باضابطہ اعلان کیاکہ بھارت اوراسرائیل کے درمیان دفاعی شعبے میں قریبی تعاون موجودہے اوراسرائیل بھارت کوہتھیارفراہم کرنے والاسب سے بڑاملک ہے۔
۲۰۱۴ء میں بھارتی انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوئی تواسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے پرجوش خیرمقدم کیا۔آج بھارت اوراسرائیل کاگٹھ جوڑ اس آخری حد تک جا پہنچاہے جس کی جستجومیں دونوں ظالم اورسفاک حکومتیں برسوں سے سرگرداںہیں۔بھارت میں مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے قیام کے بعدبھارت اسرائیل کے بہت قریب آیاہے۔مودی بطوروزیراعظم بھارت جبکہ حکمراں جماعت کے صدرسمیت کئی اہم وزاراء اسرائیل کادورۂ کرچکے ہیں اور اسرائیل بھارت کے دفاعی شعبے کوتقویت دینے میں سب سے زیادہ ممدو معاون بن کرسامنے آرہاہے۔بھارت کے پاس اس وقت جس قسم کابھی جدیدجنگی سازو سامان ہے اس میں اسرائیل کابڑاحصہ شامل ہے۔بھارت اسرائیل تعلقات کس نہج پرہیں اس کا اندازہ رواں برس جولائی میں مودی کے دورۂ اسرائیل سے نہائت آسانی سے لگایاجاسکتاہے۔
نیتن یاہواعلانیہ کہتے ہیں کہ اب بھارت اسرائیل کے درمیان رشتوں کی حدآسمانی ہے۔بھارت اوراسرائیل کے موجودہ وزرائے اعظم کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب رواں سال ماہ جولائی میں مودی نے اسرائیل کادورۂ کیاتواس وقت مودی کے دورۂ اسرائیل پرمشرقِ وسطیٰ سے کوئی ردّ ِ عمل نہیں آیا ۔ایسالگ رہا تھاکہ اب صہیونی ریاست کے بارے میں عرب ممالک بے پرواہ ہیں اوراپنے ازلی دشمن پرکوئی توجہ دینے کی بجائے گہری نیندسوئے ہوئے ہیںیاپھروہ اندرونی طورپرآپس ہی میں دست وگریباں رہنا ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ عرب ممالک ہی نہیں پوری اسلامی دنیااپنے دشمنوں کے گٹھ جوڑسے بے بہرہ ہے اسی لئے انہیں اپنے مشترکہ دشمن کے اصل عزائم سے اوّلاًپوری طرح آگہی نہیں اوراگرفرض کرلیاجائے کہ آگہی ہے توپھران کی مجرمانہ غفلت اورخاموشی پراظہارِ الم کے بغیر چارۂ نہیں۔
مشترکہ دشمن کے اصل عزائم کی ایک جھلک نیتن یاہونے اپنے دورۂ بھارت کے دوران یہ کہہ کردکھائی کہ اسلامی دہشتگردی کے خلاف اسرائیل بھارت سے بھرپورسیکورٹی تعاون کرے گا۔نیتن یاہونے اسلامی دہشتگردی کی اصطلاح استعمال کرکے دہشتگردی کومختلف ادیان میں تقسیم کردیا ہے جیسے نیتن یاہوکا کہناہے کہ وہ اسلامی دہشتگردی کے خلاف بھارت کی بھرپورمددکرے گاتوپھر یہودی اورہندی دہشتگردی کے خلاف مسلمانوں کوبھی اتحادقائم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسرائیل فلسطین میں جوکچھ غضب ڈھارہاہے ،جس طرح بچوں کی جانب سے پتھرپھینکنے کے جواب میں گولیاں اورٹینک کے گولے برسارہے ہیں،یہ یہودی دہشتگردی کہلائے گی اور مقبوضہ کشمیرسمیت پورے بھارت میں ہندودہشتگردجس اندازمیں غیرہندوؤں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں،جس طرح گائے کے ذبیحے کی افواہ پرجس وحشیانہ انداز میں مسلمانوں اور مسیحیوں کوغیرانسانی تشددکا نشانہ بنارہے ہیں اور مقبوضہ وادی میں جس طرح عوام کاقتل عام کررہے ہیں توپھریہ ہندودہشتگردی ہوگی۔اس طرح میانمارمیں جس طرح مسلمانوں کودہشتگردی کانشانہ بنایاگیا اور وہ اپناوطن چھوڑکر غریب الدیارکی حیثیت میں زندگی گزارنے پرمجبورہوئے ہیں اس کوبودھ دہشت گردی کہیں گے۔اگر دہشتگردی کایہ پیمانہ بنالیاجائے توپھرسب سے زیادہ یہودی اوردہشتگردی کایہ پیمانہ بنالیاجائے توپھرسب سے زیادہ یہودی اورہندو دہشتگردی نظرآئے گی اورپھرعالمی برادری کواس کانام لیکراعتراف اور تدارک بھی کرنا ہوگا۔
جہاں تک نیتن یاہوکے بقول اسلامی دہشتگردی کاسوال ہے توفلسطین میں یہودی دہشتگردی کے جواب میں ظاہرہوئی اور جنوبی ایشیامیں ہندو دہشتگردی کے جواب میں معرضِ وجود میں آئی یعنی ہردوصورتوں میں کہیں یہودی دہشتگردی کے ردّ ِعمل میں اورکہیں ہندودہشتگردی کے ردّ ِعمل میں ظاہرہوئی،یعنی بنیادی طورپر دہشتگردی یہودیت اورہندومت کا شاخسانہ ہے۔اب نیتن یاہواس تشخیص کے بعدعالمی برادری کیلئے دہشتگردوں کی پہچان بہت آسان ہوگئی ہے۔اب عالمی برادری خوددیانتداری سے اس کافیصلہ کرے کہ دہشتگردی کاآغازکس نے کیا، وہی اصل مجرم ہے اورجودہشتگردی اس کے ردّ ِعمل جوابی طورپرظاہرہوئی وہ دہشتگردی نہیں کہلائے گی کیونکہ وہ تویہودی اورہندودہشتگردی کے ستائے ہوئے اس میدان میں اترے۔نیتن یاہونے اپنی دہشتگردی سے خودہی نقاب اٹھادیا اورمودی نے بھی اس کی بھرپورتائیدوحمائت کرکے اوراپنی دہشتگردی کو بڑھاوادینے کیلئے اسرائیلی یہودی اسلحے کے مزیدانبار لگانے کافیصلہ کرکے اپنی اصلیت کے بارے میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہنے دیا۔کانٹے بوکر پھولوں کی تمناحماقت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں