Aircraft accidents and the tragedy of power

فضائی حادثات اور اقتدار کا المیہ

:Share

تاریخ کے اوراق پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تومحسوس ہوتاہے کہ آسمان کبھی کبھی صرف بادل نہیں گراتا—قیادتیں بھی گرادیتا ہے۔ فضاؤں میں اڑتے ہوئے یہ طیارے جب تباہ ہوتے ہیں تومحض لوہانہیں ٹوٹتا،قوموں کے حوصلے بھی چکناچورہوجاتے ہیں۔ان تباہ حال ملبوں کے درمیان صرف لاشیں نہیں ملتیں،ادھورے خواب،نامکمل منصوبے اورٹوٹی ہوئی امیدیں بھی ملتی ہیں۔

عصرِحاضرکی سیاست کاایک کڑواسچ یہ بھی ہے کہ عالمی طاقتیں اوراستعماراپنے مفادات کیلئےایسی راہوں پربھی چل پڑتے ہیں جن پراخلاق،انسانیت اور قانون ساتھ نہیں دیتا۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب تیسری دنیاکی قیادتیں خودمختاری،معاشی آزادی اور قومی وقارکی بات کرتی ہیں توان کے گرد سازشوں کے بادل گہرے ہونے لگتے ہیں۔کہیں حادثہ کہہ دیاجاتاہے، کہیں تکنیکی خرابی کا عنوان دے دیاجاتاہے،مگرسوال زندہ رہتاہے،کیایہ سب کچھ محض اتفاق ہے؟یاطاقت کی عالمی شطرنج پرچلی جانے والی وہ خاموش چالیں ہیں جوفائلوں میں محفوظ رہتی ہیں اورزبانوں پرنہیں آتیں؟

ان فضائی سانحات نے خاص طورپرایشیا،افریقااورمسلم دنیا کی سیاسی وعسکری قیادت کونشانہ بنایا۔تیسری دنیاکی قومیں بارباراس المیے سے گزریں—کبھی صدررخصت ہوا،کبھی سپہ سالار،کبھی پوری قیادت ایک ساتھ۔،نتیجہ ہمیشہ ایک رہا:انتشار،غیریقینی صورتحال،کمزورحکومتیں اورعوام کی ٹوٹی ہوئی کمر۔آج کی تیسری دنیاانہی زخموں کے ساتھ زندہ ہے۔وہ جانتی ہے کہ اس کی کمزور معیشتیں،اس کے قرضوں میں جکڑے ہوئے نظام اور اس کی منتشرسیاست کوعالمی طاقتیں اپنے مفادات کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔مگراسی دنیامیں بیداری کی لہربھی جنم لے رہی ہے۔ قومیں سوال پوچھ رہی ہیں،تاریخ کونئے سرے سے پڑھ رہی ہیں،اوراپنی قسمتوں کودوسروں کے اڈوں اورایوانوں کے بجائے اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کررہی ہیں۔یہ تحقیقی مطالعہ انہی کہانیوں کامجموعہ ہےجہاں حادثات صرف حادثے نہیں لگتے،اور جہاں آسمان کے نیچے صرف پرندے ہی نہیں گرتے،کبھی کبھی پوری تاریخ گرپڑتی ہے۔

تاریخِ انسانیت میں اقتدار،قیادت اورموت کاباہمی تعلق ہمیشہ سے غیرمعمولی دلچسپی اورتجسس کاموضوع رہاہے۔قیادتیں عموماًزمین پرپروان چڑھتی ہیں، مگرکثیرتعدادمیں اختتام آسمانوں میں ہواکے سپردہوا۔ہوائی سفر—جوجدیدتہذیب کی علامت ہے—بعض اوقات تاریخ کے مہلک ترین موڑبھی لے آتاہے۔یہ مقالہ انہی سانحات کاتحقیقی مطالعہ ہے جن میں سربراہانِ ریاست،فوجی سپہ سالار، حکومتی اعلیٰ قیادت،شاہی خاندان کے افراد،فضائی حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔یہ مطالعہ محض حادثات کی فہرست نہیں بلکہ ان کے تاریخی پس منظر، تکنیکی وموسمی عوامل،سیاسی اثرات اورپیداشدہ سازشی نظریات کاتطبیقی جائزہ بھی پیش کرتاہے۔

23دسمبر2025کی سردصبح ترکی کی فضاؤں میں ایک ایساسانحہ ظہورپذیرہواجس نے جہاں اہلِ خردکوچونکادیاوہاں اس نے عالمِ اسلام اوراہلِ لیبیاکے دل دہلادیے۔قومی اتحاد کی حکومت کے فوجی سربراہ جنرل محمدالحدادایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔اجل نے پروازکے دوران ان کوآلیااوروہ اپنے رب کے حضورحاضرہوگئے اورسفرزمینی نہ رہا،آخرت کاہوگیا۔تقدیرکی ہوا نے اُن کیلئےپروازکوسفرِآخرت بنادیا۔

انقرہ سے طرابلس کی جانب گامزن یہ پروازابھی آسمان سے ہمکلام ہی ہوئی تھی کہ رابطے کے تارٹوٹ گئے۔چندساعتوں کے بعد انقرہ سے 105 کلومیٹر دور ایک دیہات کی خاموش زمین کی مٹی نے اس بکھرے ملبے کوگواہی کے طورپرسینے سے لگاکراس حادثے کی گواہی دے دی کہ جانے والے دوبارہ اس دنیا میں واپس نہیں آتے۔

یہ صرف ایک فردکی نہیں،قیادت کے ایک قافلے کی رخصتی تھی۔اس پرواز میں صرف ایک سپہ سالارنہیں بلکہ قیادت کے کئی چراغ فروزاں تھے۔لیبیاکے بری افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل الفتوری،ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئرجنرل محمودالقطاوی،اورچیف آف جنرل اسٹاف کے مشیرمحمدالعسوی دیاب—سب اسی پروازمیں سوار تھے،اورسب کے سب اجل کے بلاوے پرلبیک کہتے ہوئے شربتِ شہادت نوش کر گئے ۔

یہ حادثہ ایک تنہاواردات نہ تھا؛یہ حادثہ گویایادداشتوں کے دریچوں پردستک تھا،اس نے ماضی کے اُن المیوں کی یادتازہ کردی جن میں عظیم عسکری وسیاسی شخصیات پروازکے دوران تقدیرکے سپردہوگئیں۔اس نے ماضی کے اُن سانحات کوبھی بیدارکردیاجن میں سیاسی قائدین،عسکری رہنمااورشاہی خانوادوں کے افرادآسمانوں ہی میں وقت کی امانت کے طورپرلوٹ گئے۔پروازکے فوراًبعدرابطہ منقطع،انقرہ سے تقریباً105کلومیٹرکے فاصلے پرگرکرتباہی،ملبے کے پھیلاؤسے طیارے کے شدیددھماکے کاعندیہ،فوجی وسیاسی قیادت کااکٹھاجاں بحق ہونا،یہ واقعہ لیبیاکے پہلے ہی غیرمستحکم سیاسی ماحول میں طاقت کے توازن کومتاثرفیصلہ سازی کے تسلسل کومنقطع اوربین الاقوامی دلچسپی کومزیدگہراکرگیا۔

مئی 2024 میں ایران کے صدرابراہیم رئیسی بھی فضائی حادثے کے نتیجے میں اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔اُن کاہیلی کاپٹر آذربائیجان کی سرحد کے قریب پہاڑی خطے میں گرکرتباہ ہوا، جس میں وزیرِخارجہ اوردیگررفقابھی سوارتھے۔جب وہ مشترکہ ڈیم کے افتتاح کے بعدواپسی کے سفرمیں تھے۔قومی سطح پر وسیع سوگ،قیادت کے تسلسل میں وقتی خلل،عوامی بیانیے میں سازش کے عناصرکی شمولیت،خطے کی سیاست پرفوری ردِعمل،یہ حادثہ“سیاسی قیادت کی ناپائیداری”کے مباحث کودوبارہ زندہ کرگیا۔

تبریزکی سمت سفرکاارادہ تھا،مگرتقدیرنے اورہی سمت متعین کررکھی تھی۔اس منصوبے کے افتتاح سے واپسی پرتبریزپہنچنے سے پہلے ہی ہیلی کاپٹرحادثے کاشکارہوا۔تحقیقات نے کہا—شدیددھندسبب بنی—مگراہلِ نظراوراعلیٰ اہلکاروں کے مطابق موسم صاف تھا—تاریخ کی نظرمیں گویاسوال باقی اورفضا میں معلق رہ گیا۔نقادوں نے تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی اورعالمی سیاسی عیوب اورخدشات کادریچہ کھولا،عوامی گفتگو میں شکوک وشبہات کے چراغ جل اٹھے۔حکومت پر حقائق دبانے کے الزامات،اورعوامی سطح پرقیاس آرائیاں ہوتی رہیں،اورامرِواقعہ کوچھپانے کے الزامات بھی اٹھتے رہے۔حادثہ خبرنہ رہا،معمہ بن گیا۔

اگست2023میں روس کے شہرماسکوکے قریب ایک طیارہ حادثے میں یوگینی پریگوزن اپنے دس ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔وہی شخص جویوکرین کی جنگ میں کرائے کے جنگجوؤں کے طاقتورگروہ کی قیادت کررہاتھااورجس نے دوماہ قبل پوتن کے خلاف بغاوت کاعلم بلندکرکے دنیاکوچونکادیا۔نیٹواورامریکاجلدہی فتح کی نویدکیلئے بے چین دکھائی دینے لگے مگراچانک حادثے کے پہلو،دس ساتھیوں سمیت ہلاکت،حادثہ یاگرادیاجانا؟ریاستی ردِعمل کی خاموشی،اس واقعہ نے عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال اوراس کے انجام پرگہری بحث چھیڑدی۔

پاکستان کی تاریخ بھی بہاولپورکے آسمان کی تلخ گواہی رکھتی ہے۔1988میں فوجی صدرجنرل ضیاءالحق طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے،امریکی سفیرآرنلڈ رافیل سمیت دیگرکئی اعلیٰ افسران بھی ساتھ تھے۔پاکستان کی تاریخ میں بھی بہاولپورکی فضائیں اس غم سے واقف ہیں اوربہاولپورکے آسمان کی تلخ گواہی بھی موجودہے۔1988میں پاکستان کے فوجی صدرجنرل محمدضیاء الحق ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔امریکی سفیر آرنلڈرافیل سمیت کئی پاکستان کے اعلیٰ فوجی افسران بھی اسی حادثے میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔اس حادثے پربین الاقوامی ذرائع نے بے شمارنظریات پیش کیے،نظریات وقیاس آرائیوں کادرواکردیا۔کبھی میزائل کاشائبہ،کبھی بیرونی ہاتھ کاشاخسانہ اورکبھی عالمی سازش کے اشارے—مگرقطعی فیصلہ تاریخ کے قلم نے نہ لکھااورآج تک حقیقت کے پردے کوکوئی مکمل چاک نہ کرسکااوران دبیزپردوں میں ہمیشہ کیلئےان حقائق کومستورکردیاگیا۔جنرل ضیاء الحق کے بڑے بیٹےاعجازالحق نے آم کی پیٹیوں میں دھماکہ خیزموادکی بات کی،مگرآج تک یہ الزام تصدیق کی منزل نہ پاسکااورشبہ کے ہاتھوں آج بھی انجام کی خاک چاٹ رہاہے۔آج تک اعجازالحق کے اس الزام کوتاریخ کے دفترسے ثابت شدہ سچائی کادرجہ نہ مل سکا۔

تاہم جنرل اسلم بیگ کی سوانح اقتدارکی مجبوریاں اس حادثے کی فضائی رودادسناتی ہے۔جنرل اسلم بیگ نے اپنی کتاب اقتدارکی مجبوریاں میں اس دن کی رودادلکھی—فضامیں معائنہ،نیچے اٹھتادھواں،گرتاہواطیارہ،اورپھرفیصلہ کہ جائے حادثہ نہیں،سیدھا راولپنڈی لوٹاجائے—کیونکہ بعض فیصلے موقعے پرنہیں،تقدیرکے بڑے صحیفے میں لکھے جاتے ہیں۔

17/اگست1988کوبہاولپورکی سرزمین پروہ المناک لمحہ آیاجوبیک وقت سیاسی،عسکری اورقومی تاریخ کااہم موڑبن گیا۔جب ایک مبینہ فضائی حادثے نے پاکستان کے سیاہ وسفید کے مالک صدرجنرل ضیاالحق،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل اختر عبدالرحمٰن اورامریکاکے سفیرآرنلڈلوئیس رافیل سمیت لگ بھگ تیس انسانوں کی زندگی کاچراغ گل کردیا۔یہ حادثہ محض افراد کی موت نہ تھا،ایک پورے عہدکے اختتام کااعلان تھا۔تحقیقات کی پرتیں، اس واقعے کے بعدکے تمام مراحل ٹینک الخالد کی کہانی، عسکری فیصلوں کے پس منظر،آئینی تقاضوں کی پاسداری،اورحادثات کی اسرارانگیزی—سب گویاتاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں۔

یہ سانحہ اس موقع پرپیش آیاجب پاکستان عسکری اعتبارسے ایک نئے موڑپرکھڑاتھا،اورعلاقائی سیاست کے نقشے بدل رہے تھے۔ جنرل ضیاءالحق سوویت یونین کے ٹوٹنے اور چھ حصوں میں تقسیم کے بعدنئی چارمسلم ریاستوں کےقیام کے بعدان تمام ریاستوں سمیت پاک افغان کی شمولیت کے ساتھ نہ صرفا ایک عظیم مسلم کنفڈریشن کے خواب دیکھ رہے تھے بلکہ دنیامیں ایک نئی توانامسلم طاقت کے ظہورکیلئے اپناہوم ورک مکمل کرکے اس پرعمل پیراہونے کیلئے اپنی عملی کوششوں کاآغازکرچکے تھے کہ حادثے کی گونج سرحدوں سے آگے تک پہنچ گئی۔حادثے کے بعدپورے ملک میں سوگ کی فضاچھاگئی اور اقتدارکی بساط بھی نئے اندازسے اس طرح بچھائی گئی کہ جنرل ضیاءالحق کامنصوبہ پروازسے پہلے ہی دفن کردینے کاپیغام پہنچادیاگیا۔

تحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پرسوالات قائم رہے—حادثہ تھایاسازش؟یہ عقدہ پوری طرح کبھی نہ کھلا۔واقعے کے بعدریاستی اداروں نے حادثے کے اسباب تلاش کرنے کی سعی کی،مگرہررپورٹ کے باوجودایک سوال اضطراب کی طرح باقی رہا—تحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پر سوالات قائم رہے—حادثہ تھایاسازش؟یاکوئی پردہ نشین ہاتھ ملوث تھا؟یاپھرآنے والوں کی اقتدارکی مجبوریوں نےاس کی حقیقت سامنے لانے کی ہمت نہیں کی؟یہ عقدہ آج تک پوری طرح کبھی نہ کھلااورنہ ہی مستقبل قریب میں اس کی امیدہے بلکہ وقت کے ساتھ اس واقعے کوعوام کی یاداشتوں سے محو کر دیاگیاہے ۔

عالمی میڈیانے مختلف امکانات کی نشان دہی کی—مگرسچائی دھوئیں کی طرح اوجھل رہی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نےبھی اس حادثے کے ممکنہ اسباب پر مختلف آراپیش کیں۔کہیں مکینیکل اورفنی خرابی کاذکرہوا،کہیں سازشوں کے تانے بانے بنے گئے مگر تاریخ نے فیصلہ نہ سنایا—یاپھرتاریخ کوبھی ظلمتوں کے رازافشا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اوراس نےبھی ہمیشہ کی طرح صرف سوالات محفوظ کرلیے۔

یہ سانحہ اُس دورمیں پیش آیاجب الخالد ٹینک کے تجربات جاری تھے اورعسکری قیادت اسی پس منظرمیں بہاولپورپہنچی تھی۔الخالد ٹینک کی آزمائش کے پس منظرمیں فوجی قیادت بہاولپور میں مجتمع تھی۔اسی تناظرمیں یہ فضائی سفراختیارکیاگیاتھاجس نے اب ابدی سفرکی صورت اختیارکرلی۔الخالدٹینک چین اور پاکستان کی مشترکہ سعی کاانتہائی کامیاب نتیجہ تھااورامریکی ایم ون ابراہم اس کا مدِّمقابل۔طاقت،ٹیکنالوجی اورسیاست کے دھاگے ایک دوسرے میں گویا الجھے ہوئے تھے۔جنرل اسلم بیگ بھی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ اس دورمیں پاکستان اورچین کے اشتراک سے الخالدٹینک کی تشکیل جاری تھی۔ امریکی ایم ون ابراہم ٹینک اس کا حریف سمجھاجارہاتھا۔طاقت اورٹیکنالوجی کایہ مقابلہ بھی پسِ پردہ حالات کاحصہ تھا۔

ہندوستان نے بھی ٹینک سازی کاخواب دیکھامگراس کی تمام کوشش ناکام رہیں۔اس ناکامی نے یہ سبق دیاکہ تنہاانحصارنہیں،اشتراک اورحکمت کامیابی کازینہ ہیں۔نتیجہ یہ نکلاکہ صنعت تنہانہیں کھڑی ہوسکتی—حکمت،تجربہ اوراشتراک اس کے ستون ہیں۔پاکستانی ماہرین نے مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی کوجوڑتوڑاورتدبرسے یکجاکرکےالخالدکی شکل میں ایک کارگراورکارآمد ٹینک تیارکیا—یہ محض صرف لوہے کی مشین نہ تھی،جس نے یہ کامیاب رستے نکالے بلکہ ایک قوم کے عزم کی تمثیل تھی۔

جنرل اخترعبدالرحمٰن نے شکوہ کیاکہ انہیں پہلے گروپ میں کیوں شامل نہیں کیاگیا۔جواب ملااصول یہ ہے کہ تمام سینیئرافرادایک ہی طیارے میں سفر نہیں کرتے لیکن تقدیراورقضاءکویہ اصول بھی منظورنہ تھاتاہم تقدیروقضاء کے اصول کچھ اورہوتے ہیں—زندگی موت کی امانت ہوتی ہے اوراس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی گوارہ نہیں ہوتی،آخرکاروہ بھی قضاء کی انگلی تھامےاسی پروازمیں سوارہوگئے تھے۔

17اگست کوجنرل ضیاءالحق بہاولپورپہنچے توجنرل اسلم بیگ پہلے سے منتظرتھے۔عسکری وغیرملکی شخصیات اس قافلے میں شامل تھیں۔کسی کوخبرتک نہیں تھی کہ یہ استقبال دراصل ایک الوداعی لمحے کاپیش خیمہ ہے۔کسی کو اندازہ نہ تھاکہ یہ استقبال، دراصل ایک الوداعی اثبات اوردائمی جدائی کاپیش خیمہ بن جائے گا۔خودراقم نے جب جنرل بیگ کاتفصیلی انٹرویوجوآج بھی سوشل میڈیاپرموجودہے،عوام الناس کے ذہنوں میں پائے جانے والے اس حادثے پرکئی سوالات کئے جس کے جوابات آپ وہاں سن سکتے ہیں۔

ٹامے والی فائرنگ رینج میں الخالداورایم ون ٹینک کاعملی مقابلہ ہوا۔الخالد کامیاب رہا—گویاملکی محنت کی لاج رکھ لی گئی۔اس کامیابی کی خوشی ابھی ذہنوں میں پوری طرح اتری بھی نہ تھی کہ سانحے کی کالی گھٹااُمڈآئی اورحادثے نے سب آوازیں ساکت کر دیں۔آزمائش کے بعدقافلہ واپس بہاولپورروانہ ہوا۔نماز، معمول کی مصروفیتیں جاری تھیں،اورپھرایئرپورٹ کاقصد—زندگی اپنی معمول کی رفتار میں جاری تھی،مگرجہاں وقت کی ریت آخری حد پرپہنچ چکی تھی وہاں تقدیرچپکے چپکے اپنافیصلہ لکھ چکی تھی جس پرقضاءنے اثبات اوریقین کی مہرلگادی تھی۔

ضیا الحق نے روانگی سے پہلے مسکراتے ہوئے آخری جملہ کہا—“آپ بھی ساتھ چلیں”—گویا ایک خاموش وداع تھاجس کی معنویت بعدمیں سمجھی گئی۔یہ دراصل دنیاکی آخری دعوتِ سفرثابت ہوئی۔وہ جہازمیں سوارہوگئے—اورکہانی نے نیاموڑلے لیا۔کچھ ہی دیر بعد“پاکستان ون” سے رابطہ منقطع ہوا۔ ریڈیوخاموش ہوااوردلوں میں بے نام ساخوف اوراندیشے جاگ اٹھے۔وہ خوف جوآنے والے حادثے کی پیشگی آہٹ ہوتاہے۔دورکہیں دھواں اٹھتانظر آیا۔قریب پہنچ کرمعلوم ہوا—سی130تباہ ہوچکاہے۔آگ کے شعلے آسمان سے ہمکلام تھے اورپھرملبہ،پھر شعلے۔انسانی وجودراکھ ہوکربکھرچکے تھے۔ اورپھرتاریخ کاایک باب بندہوگیا۔

جنرل اسلم بیگ نے فیصلہ کیاکہ اقتدارآئین کے مطابق منتقل ہو—ضمیرنے آوازدی اورقدم نے اس پرلبیک کہا۔جنرل اسلم بیگ کے مطابق فیصلہ کن لمحہ تھا—اقتدارسنبھالیں یاآئین کے حوالے کریں؟ضمیرنے دستک دی،باپ کی نصیحت یادآئی،اورطے پایاکہ اقتدار عوام کی امانت ہے اوربقول مرزا بیگ کہ انہوں نے اس اہم اورتاریخ سازموقع پرنصیحت پرلبیک کہنے کافیصلہ کرلیا۔چنانچہ آئینی تقاضوں کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کواقتدارمنتقل کرنے کافیصلہ ہوا۔رات دس بجے قوم سے خطاب ہوا—یوں چند گھنٹوں میں نظام حکومت نے خودکونئے سانچے میں ڈھالتے ہوئے دستوری عمل نے خودکو بحال کرلیا۔

شدیدحادثے کے باعث شناخت مشکل ہوگئی تھی۔جوجسدِخاکی کے ٹکڑے اورباقیات میسرآئیں،انہیں جمع کرکے امانت سمجھ کرسپردِ خاک کیاگیا۔بعدکی میڈیکل رپورٹوں میں کسی کیمیکل یا زہریلے مادے کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔شکوک مگرباقی رہے تاہم باوجود شکوک کی راکھ کے نیچے کبھی کبھی چنگاری آج بھی سلگتی محسوس ہوتی ہے۔

متعددانکوائریاں قائم ہوئیں—ملٹری انٹیلیجنس،آئی ایس آئی، ایئر فورس—سب نے اپنی اپنی آنکھ سے حقیقت کودیکھنے کی کوشش کی۔مگرحقیقت نے توکبھی مکمل چہرہ دکھایااورتلاش کیا جاسکا اورنہ ہی کبھی مکمل طورپرمسکرائی—وہ بس پردے کے پیچھے سے کئی رازآج تک جھلک رہے ہیں مگران کی حقیقت شائدہی کبھی سامنے آسکے۔تین ہفتوں کے اندراندررپورٹس حکومت کے حوالے کردی گئیں،اس کے بعدتاریخ نے اپنی گواہی کاباب بندکردیا، اور سیاست نے اپنااگلاباب کھول لیا۔

سی ون تھرٹی چونکہ فضائیہ کے سپردتھا،اس لئے اس کی ذمہ داریاں بھی اسی کے کاندھوں پرتھیں۔سیکیورٹی کے اصول سخت تھے—تمام اصول اپنی جگہ —حادثہ اپنی جگہ۔۔۔۔مگر حادثات اصول نہیں دیکھتے،صرف موقع دیکھتے ہیں۔انکوائریوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کسی گیس یاکیمیکل کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔پائلٹ کی خاموشی،ایس اوایس کانہ دیاجانا، اور اچانک جھکاؤنے سازش کے شکوک کوزندہ رکھا—مگرثبوت کاہاتھ خالی رہا۔تاہم خاموشی کبھی کبھار سب سے بڑاسوال بن جاتی ہے—اسی لئے سازش کے خدشات کبھی مکمل ختم نہ ہو سکے۔

بے نظیربھٹواورنوازشریف کے ادوارمیں کمیشن قائم ہوئے،بلکہ بے نظیربھٹونے بندیال کمیشن بنایا،نوازشریف نے شفیع الرحمن کمیشن—مگرہرراستہ جاکرحادثہ ہی ثابت ہوا،اورشایدتاریخ نے بھی یہی مناسب سمجھاکہ فیصلہ وقت پرچھوڑدیاجائے،آخری حکم کسی اورعدالت نے سناناہے—فیصلہ آخری عدالت پرچھوڑدیاگیاجہاں بے انصافی کبھی نہیں ہوتی۔

اب رخ اردن کی جانب مڑتاہے۔فروری1977میں شاہ حسین کی اہلیہ ملکہ عالیہ الحسین بھی ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں اس دنیاسے رخصت ہوئیں۔اس حادثے نے صرف ایک ملکہ نہیں،کئی ریاستی ستونوں کولرزاڈالا۔اس حادثے میں وزیرِصحت اوردیگرشخصیات بھی ہلاک ہوئیں—ایک پوراقافلہ لٹا۔ گویا قدرت کایہ اعلان سامنے آیاکہ حادثات شاہی محلوں کی دیواروں سے بھی نہیں رکتے۔شاہی خاندان کے محل بھی حادثات کی آندھی سے محفوظ نہیں رہتے ۔ اس حادثے نے یہ واضح کیاکہ شاہی پروٹوکول،جدیدٹیکنالوجی اور حفاظتی انتظامات بھی تقدیرکی دیوارنہیں گراسکتے۔چالیس دن بعدعمان ایئرپورٹ کواُن کے نام سے منسوب کرناقومی یادداشت کا استعارہ بنا۔یادرکھنے کاایک قومی عہد۔گویا ایک قومی خراجِِ عقیدت،جوپتھراورلوہے میں ڈھل کریادگاربن گیا۔

عراق کے صدرعبدالسلام عارف بھی اپریل1966میں ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں انتقال کرگئے۔بصرہ کے قریب یہ حادثہ ہوا—اور ھر ان کے بھائی عبدالرحمان عارف نے اقتدار سنبھالا،مختصرحکومت،مگرزیادہ دیرنہ ٹھہرسکے۔بہت سے اہلِ فکرنے اس حادثے کوپراسرارکہا—تاریخ نے وہاں بھی سوال چھوڑدیے،جوآج بھی تحقیق کے دروازے پردستک دیتے ہیں ۔یہ سب حادثات خطے کی سیاست کوبراہِ راست متاثرکرتے رہے۔

مندرجہ بالایہ اشاریے نہیں—یہ تاریخ کے بدنصیب چراغ ہیں جن کی حقیقت نہ صرف پراسراربلکہ ناقابل یقین حدتک دنیاکی نظروں سے مستوررہے گی۔ہرمقتدرچراغ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طاقت عارضی ہے،پروازمحدودہے اورانجام یقینی ہے۔ان تمام نکات کی یہ رودادہمیں بتاتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں پروازکرنے والے بھی تقدیرکے ایک اشارے کے محتاج ہیں۔طاقت،اقتدار،شاہی جاہ و جلال—سب کچھ ایک لمحے کی خطایاایک جھٹکے کےساتھ ریزہ ریزہ ہوسکتاہے۔ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿سورۃالرحمن٢٦﴾جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والے ہیں۔

فضائی حادثات میں عموماً درج ذیل عوامل کارفرماپائے جاتے ہیں،موسمی رکاوٹیں دھند،آندھی،برفانی طوفان،مشینی خرابی،انجن فیل، ہائیڈرولک نقص،الیکٹرانک نظام کی ناکامی،انسانی غلطی،تربیت ونگرانی کی کمی لیکن جب مسافروں میں عالمی قیادت شامل ہوتو اس فہرست میں ایک اورعنصرشامل ہوجاتاہے اوروہ ہے سیاسی مفاد،اسی لیے محققین حادثے اورسازش کے درمیان فرق کوہمیشہ کھلارکھتے ہیں اوریہی فرق ان تمام حادثات میں دکھائی دیتاہے۔

جس حادثے میں ریاست کاسربراہ،انٹیلی جنس کاچیف یافوجی کمانڈرہلاک ہوجائے،وہاں حادثہ محض حادثہ نہیں رہتا۔عوامی ذہن میں کچھ سوال مستقل جنم لیتے ہیں۔کس کوفائدہ ہوا؟کیا حفاظتی نظام ناکام تھا؟کیایہ قدرتی واقعہ تھا؟یاطاقت کی بساط پرچلی گئی چال؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سچ ہمیشہ دستاویزمیں محفوظ نہیں رہتا—کبھی قبرمیں بھی دفن ہوجاتاہے۔

اس تحقیق سے چندبنیادی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔قیادت کی موت قوموں کی تقدیرکارخ موڑدیتی ہے،فضائی حادثات جدیدسیاست کے اہم موڑثابت ہوئے۔سائنسی تحقیق کے باوجود بعض سوال غیرحل شدہ رہتے ہیں،طاقت کی معراج بھی انسانی کمزوری کے سامنے بےبس ہوجاتی ہے،تاریخ کے بڑے فیصلے آسمانوں میں بھی لکھے جاتے ہیں۔

بہاولپورکے آسمان سے لے کرعمان کے ہوائی اڈے تک،اردن کی ملکہ عالیہ سے عراق کے صدرعبدالسلام عارف تک—ہرحادثہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ اقتدار،قوت اورجاہ وجلال سب پروازکی مانندہیں؛ایک جھونکا،اورسب کچھ ریزہ ریزہ۔۔۔ان سب نکات کوآپ کی فراہم کردہ ترتیب کے مطابق محفوظ کیاگیاہے—کہیں معاملہ عسکری حکمتِ عملی کاہے،کہیں سیاست کے تخت وتاج کا،اورکہیں انسانی تقدیرکے اس نہ بدلنے والے قانون کا۔ان تمام واقعات کویکجاکرکے دیکھیں توایک دل گرفتہ منظرہماری آنکھوں کے سامنے ابھرتاہے۔طیاروں کاملبہ، سیاہ دھواں،بین کرتی ہوئی مائیں،خاموش ہوتی ہوئی فوجی چوکیاں،اوراقتدارکے ایوانوں میں پھیلی ہوئی سرد وحشت۔یہ محض افسوسناک حادثات نہیں بلکہ وہ موڑہیں جنہوں نے قوموں کی تقدیر بدل دی،سیاسی نقشے الٹ دیے،اورتاریخ کے دھارے کودوسری طرف موڑدیا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی استعمارنے ہمیشہ طاقت کے توازن کواپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی۔کہیں براہِ راست جنگ،کہیں اقتصادی شکنجہ،کہیں حکومتوں کی تبدیلی،اورکہیں ایسے پراسرارحادثات جن کے بارے میں سچ آج تک مکمل ظاہرنہ ہوسکا۔تیسری دنیاکے بہت سے قائدین جب خود مختاری،وسائل پرملکیت،یاعالمی معاشی نظام سے بغاوت کی بات کرتے ہیں تووہ اکثرحادثوں، ہلاکتوں یاسیاسی تنہائی کاشکارہوجاتے ہیں۔

یہ سب کچھ محض داستانیں نہیں،یہ وہ دردناک سچائیاں ہیں جوتاریخ کے سینے میں دفن بھی ہیں اورزندہ بھی۔تاہم تصویرکادوسرارخ بھی موجودہے۔تباہ حال قومیں ہمیشہ ختم نہیں ہوتیں—وہ اٹھتی بھی ہیں۔تیسری دنیاآج اپنے زخموں کے ساتھ کھڑی ہے۔غلامی کے طویل ادوار،سازشوں کے گرداب اورحادثات کے طوفانوں کے باوجوداس کے نوجوان شعورحاصل کررہے ہیں،دانشورقلم اٹھارہے ہیں،اورعوام اپنے حقِ خودارادیت کااعلان کررہے ہیں۔یہ جدوجہدآسان نہیں،مگرتاریخ گواہ ہے کہ جوقومیں روتے ہوئے بھی چلتی رہیں،وہ آخرکارمنزل تک پہنچ گئیں۔

ان فضائی سانحات نے اگرایک طرف قیادتیں چھین لیں تودوسری طرف قوموں کویہ سبق بھی دے دیاکہ آزادی کی قیمت ہوتی ہے، خودمختاری کاراستہ خطرناک ہوتاہے اوراستعمارسے ٹکرانے والوں کاانجام اکثر“حادثہ”لکھاجاتاہےمگریہ بھی حقیقت ہے کہ حادثوں سے تاریخ نہیں رکتی—صرف صفحہ پلٹتاہے۔

آج تیسری دنیاکے لوگ اپنی بکھری ہوئی قیادتوں کی یادمیں سوگ بھی مناتے ہیں اوراسی یادکواپناحوصلہ بھی بناتے ہیں۔شایدآنے والی صبح انہی آنسوؤں سے جنم لے—اورپھرآسمانوں میں پروازیں ہوں تووہ خوف کی علامت نہیں بلکہ آزادی کی نویدبنیں۔ان سانحات کی واحدمشترکہ روح یہ بتاتی ہے کہ تاریخ صرف واقعات کاسلسلہ نہیں،عبرت کادفتربھی ہے۔قیادتیں جاتی ہیں،مگرسوال چھوڑجاتی ہیں—طاقت کس کی؟اختیارکس کا؟اورانجام کیا؟

ان فضائی حادثات کی یہ ہولناک روداد ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ قوموں کی تقدیرکے جہازصرف آسمانوں میں نہیں،دلوں اوراصولوں کے افق پربھی پروازکرتے ہیں۔

نومبر کے دوسرے عشرے کے آخر میں عالمی اقبال کانفرنس کی فکری ساعتیں ابھی جاری تھیں، مکالمے برپا تھے، قافلۂ اہلِ دانش رواں تھا کہ اسی دوران محترم حافظ طاہر صاحب—سابق سیکرٹری ہائر ٹیکنیکل ایجوکیشن صوبہ بلوچستان اور حالیہ “او ایس ڈی” نے نہایت محبت و شفقت اور بے حد اصرار سے مجھے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر لے گئے،وہی رہائش گاہ جہاں آج کل وہ اپنی دیانت کی سزا کے بقیہ دن سکوت کے ساتھ کاٹ رہے ہیں۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب وقار، سنجیدگی اور خاموش احتجاج گھلا ہوا تھا —ایسا لگتا تھا جیسے دیواریں بھی گواہ ہوں کہ بعض اوقات سچ بولنے کا سب سے بڑا انجام تنہائی اور جرم ٹھہرتا ہےلیکن جس چیز نے میرے دل کو واقعی ہلا دیا، وہ ان کے دروازے کے باہر آویزاں ایک سادہ سی تختی تھی جس پر یہ آیت لکھی تھی:
﴿وَماالْحَياةُ الدُّنياإِلّامَتاعُ الغُرورِ﴾
“اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا ایک ساز و سامان ہے۔”

میں دیر تک اس تختی کو تکتے ہوئے سوچتا رہا—یوں لگا جیسے یہ الفاظ پتھر پر نہیں، میرے دل پر لکھے جا رہے ہوں۔ کاش ہم اس پیغام کو محض پڑھیں نہیں، اس میں اتر کر خود کو پرکھ سکیں؛ شاید تب ہمیں معلوم ہو کہ اصل سزا کیا ہے اور اصل انعام کس کا نام ہے۔ کاش ہم کبھی ٹھہر کر اپنے رب کے اس کلام میں اتر سکیں، اپنے آپ کو تول سکیں، اور جان سکیں کہ ہم نے زندگی کو کس دھوکے کے عوض بیچ رکھا ہے۔ اس ایک جملے نے یوں اندر تک لرزا دیا کہ دل نے پہلی بار یہ خواہش کی—کاش ہم اپنے رب کے اس پیغام میں اتر کر خود اپنا محاسبہ کر سکیں؛ شاید تب ہمیں معلوم ہو کہ اصل خسارہ کیا ہے اور اصل کامیابی کس کا نام ہے۔

فضائی حادثات میں بکھرتی قیادتیں، ٹوٹتی سلطنتیں، بدلتے تخت و تاج، سب اسی ایک سچ کی شرح ہیں۔اقتدار ہو یا شہرت، سب کچھ ہوا کے ایک جھونکے کا محتاج ہے۔دل نے آہستہ سے کہا:کاش ہم اپنے رب کے اس پیغام میں اتر کر اپنا محاسبہ کر سکیں؛کاش ہمیں یہ ادراک ہو جائے کہ اصل پرواز روح کی پرواز ہے،اور باقی سب کچھ صرف دھوکے کی چمک ہے۔اسی لمحے یہ آیت دل میں گونجی:﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔اور پھر یہ حقیقت اور بھی روشن ہو گئی کہ تاریخ کے ایوانوں میں گرنے والی قیادتیں،اور آسمانوں میں ٹوٹنے والے جہاز،ہمیں یہ سبق دے جاتے ہیں کہ پروازیں لمبی ہو سکتی ہیں، مگر ابدی نہیں۔

یہ مقالہ دراصل انسانی تقدیراورطاقت کے رشتے کی رودادہے۔فضائی حادثات میں بکھرجانے والی یہ قیادتیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ پروازلمبی ہوسکتی ہے مگرابدی نہیں۔اقتداربلندہوسکتا ہے مگرلافانی نہیں۔کاش۔۔۔اے کاش۔۔۔ہم اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں