Agreement of destination

عہدِنوکاسنگِ میل

تاریخ کے صفحات پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں نظرآتی ہے کہ امتیں صرف شمشیروسناں سے نہیں بلکہ اتحادویکجہتی، بصیرت وحکمت اورباہمی اعتماد سے زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔حجازکی سرزمین،جہاں سے کلمة اللہ کی صدابلند ہوئی اور برصغیرکی خاک،جس نے اسلام کے رنگ میں اپنی تہذیب کوسنوارا،آج ایک ایسے سنگِ میل پرکھڑی ہیں جہاں دونوں کاہاتھ ملانا محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ تاریخ کے نئے باب کاآغازہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دوملکوں کادفاعی اشتراک نہیں،بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی طاقت کاعکس دیکھ سکتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جس پراہلِ دانش کہتے ہیں کہ زمانہ اپنے نئے موڑپرآن کھڑاہواہے۔ایک طرف ہندوستان کی نگاہیں اضطراب میں ہیں،دوسری طرف چین اورترکی جیسے رفیق کاراس منظرنامے میں نئی جہتوں کااضافہ کررہے ہیں۔گویامشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیامیں طاقت کاتوازن بدل رہاہے اورپرانے سانچے ٹوٹ رہے ہیں ۔

یہ مقالہ انہی تغیرات کاتجزیہ ہے۔سعودی–پاکستان دفاعی معاہدے کے محرکات،اس کے خطے پراثرات،چین وامریکاکی بدلتی پالیسیاں، اورفلسطین وایران کے تناظرمیں اٹھتے سوالات۔مقصدیہ ہے کہ ہم واقعات کومحض خبریں نہ سمجھیں بلکہ انہیں تاریخ کی اس کڑی کے طورپرپڑھیں جس کاانجام آنے والی نسلوں کے نصیب لکھنے والاہے۔

ہندوستان کی سفارتی لغت میں دھچکاکوئی معمولی لفظ نہیں۔جب سعودی عرب جیسی عظیم قوت،جس کی دولت،سیاست اوردینی حیثیت مسلمہ ہے،پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتی ہے،تواس کامطلب یہ ہواکہ دہلی کی خوابگاہوں میں اضطراب کی تیزہواچلنے لگتی ہے۔یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے کی طاقتوں کے توازن میں نئی ترتیب پیداہورہی ہے،اورہندوستان اپنی تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے۔

ہندوستان کی سیاست کیلئے یہ معاہدہ کسی زلزلے سے کم نہیں۔وہ سرزمین جسے دہلی کی نگاہ میں محض تیل کے ذخائراورسرمایہ کاری کامرکزسمجھاجاتاتھا،آج اپنی سلامتی کیلئےاسلام آبادکی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ دہلی کیلئےایساہے جیسے صدیوں کے پرانے قلعے کی دیوارمیں اچانک دراڑپڑجائے۔پاکستان،جواپنے ایٹمی ہتھیاروں اورتجربہ کارفوج کے سبب پہلے ہی عالمِ اسلام کی ڈھال سمجھاجاتاتھا،اب سعودی عرب کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنی حیثیت کومزیدمضبوط کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کے خواب بکھرجاتے ہیں اورنئی حقیقتیں ابھرتی ہیں۔

دہلی کے ایوانِ حکومت میں ہلچل محض سیاسی نہیں بلکہ فکری بھی ہے۔یہ صرف حکومتِ ہندنہیں جوبے چین ہے،بلکہ اس کے دفاعی ماہرین بھی اپنی تحریروں اورتقریروں میں اندیشوں کااظہارکررہے ہیں۔وہاں کے دفاعی ماہرین کے چہروں پرپریشانی کی لکیریں کچھ اورہی کہانی سنارہی ہیں۔ایک طرف یہ اندیشہ کہ پاکستان کی جوہری حیثیت اس معاہدے کوغیر معمولی وزن دے رہی ہے،اوردوسری طرف یہ خوف کہ خطے کے عرب ممالک اب دہلی کی بجائے اسلام آبادکواپنا محافظ سمجھنے لگیں گے۔

ان کے خدشے یہ ہیں کہ پاکستان کی جوہری طاقت اگرعرب دنیاکے ساتھ جڑگئی،توخطے میں طاقت کاتوازن یکسربدل جائےگا۔خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کیلئےدہلی کی بجائے اسلام آبادپرانحصارکریں گے۔ہندوستان کی سرمایہ کاری اورتعلقات کے باوجودسعودی عرب نے پاکستان کومنتخب کیا،جودہلی کیلئےایک سیاسی شکست ہے۔یہ سب کچھ دہلی کیلئےاس وجہ سے بھی پریشان کن ہے کہ یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ مستقبل کیلئےایک نئی سفارتی سمت متعین کررہی ہے۔

یہ معاہدہ قطر پراسرائیلی حملے کے بعدطے پایا۔گویاتاریخ نے ایک نیاباب کھولاہے کہ جب عربوں کی سلامتی پرحملہ ہواتوپاکستان نے اپنے بازو کھول دیے،یہ معاہدہ محض کاغذی کارروائی نہیں،بلکہ ایک جنگی فضاکے سائے میں وجودمیں آیا۔دوحہ پرحملہ نے عالمِ عرب کیلئےخطرے کی گھنٹی بجادی۔ایسے میں پاکستان نے اپنے دفاعی تعاون کی پیشکش کی۔وزیرِدفاع خواجہ آصف کاکہناکہ اگردیگر عرب ممالک چاہیں تووہ بھی اس میں شریک ہوسکتے ہیں،اس حقیقت کااعلان ہے کہ پاک،سعودی دفاعی معاہدہ محض دوملکوں کانہیں بلکہ ایک پورے خطے کیلئے سلامتی کی ڈھال بننے پرآمادہ ہے۔دراصل یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نیادروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جوصدیوں پہلے بغدادکے درودیوارپرحملہ ہواتو امت کادردبیدارہوگیاتھا۔

یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ ہربڑامعاہدہ اپنی سرحدوں سے باہراثرڈالتاہے۔ یہ معاہدہ صرف سعودی عرب یاپاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مغربی اور جنوبی ایشیا،دونوں خطوں میں اس کے اثرات نہ صرف دیکھنے کوملیں گے بلکہ اس کی واضح گونگ بھی سنائی دے گی۔ایک طرف اسرائیل کی سیاست لرزاں ہے،دوسری طرف ہندوستان کی حکمتِ عملی میں رخنہ پڑتا ہے۔مغربی ایشیامیں اسرائیل کوایک نئی مزاحمت کاسامناہوگا،اورعرب ممالک اپنی اجتماعی طاقت کومحسوس کرنے لگیں گے۔جنوبی ایشیامیں ہندوستان اپنی تنہائی کومزیدگہرامحسوس کرے گا،اورخطے کے ممالک یہ سوچنے پرمجبورہوں گے کہ اصل طاقت کامرکزاب کہاں ہے۔یوں یہ معاہدہ تاریخ کے دھارے میں جہاں ایک نئے موڑکی حیثیت رکھتا ہے وہاں دوبراعظموں کی سلامتی کاسنگِ میل بن سکتاہے۔

معاہدے کے متن میں صاف کہاگیاہے کہ کسی بھی جارحیت کودونوں ممالک کے خلاف جارحیت سمجھاجائے گا۔یہ جملہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک عہد ہے ۔یہ جملہ دراصل عہدِجدید کے میثاقِ مدینہ کی مانندہے—جہاں مختلف قبائل نے ایک دوسرے کی سلامتی کواپنی سلامتی قراردیاتھا۔یہ اعلان خطے کے ہر جارح کوپیغام دیتاہے کہ اگروہ ریاض پرنظرڈالے گاتواسلام آباد سامنے آجائے گا،اوراگراسلام آبادکوللکارے گاتوریاض جواب دے گا—گویاپاکستان اورسعودی عرب نے اپنی تقدیروں کوایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیاہے۔وزیرِ دفاع نے خاص طورپرواضح کیاکہ اس میں کوئی خفیہ شق نہیں،اورنہ ہی کوئی جارحانہ پہلو۔یہ دفاعی ڈھال ہے،تلوارنہیں۔

سفارتکاروں کے بقول پاکستان اب مغربی ایشیا میں کلیدی حیثیت اختیارکررہاہے،جبکہ ہندوستان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ہندوستانی سفارتکارخود اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان مغربی ایشیا میں زیادہ مؤثرہورہاہے۔خلیجی ممالک اپنی سلامتی کیلئےترکی،چین اور پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔یہ حقیقت دہلی کیلئے دوہری ضرب ہے۔ایک تویہ کہ وہ خطے کے فیصلوں میں غیر متعلق ہوتاجارہا ہے۔یہ منظرنامہ ہندوستان کیلئےکسی بھیانک خواب سے کم نہیں،کیونکہ کل تک جس دہلی کوعربوں کے ساتھ دوستی پرنازتھا،آج وہ اجنبی دکھائی دے رہاہے۔دوسرایہ کہ یہ تینوں ممالک(پاکستان،ترکی،چین)ہندوستان کی سفارتکاری میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ یادرہے کہ کارگل اورآپریشن سندورکے وقت سفارتی طورپربھی یہ ممالک دہلی کے مقابلے پردکھائی دیے تھے۔

یہ حقیقت کہ سعودی عرب جیسے ملک نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیاجوکہ دہلی کاپراناشراکت داربھی رہاہے—بے حدمعنی خیز ہے ۔تیل سے لیکرسرمایہ کاری تک،ہندوستان نے اربوں ڈالرکے تعلقات قائم کررکھے ہیں لیکن اب یہی ملک پاکستان کے ساتھ دفاعی بندھن باندھ رہاہے۔یہ دہلی کیلئےاس سے بڑھ کردھچکااورکیاہوسکتاہے کہ اس کاقریبی دوست اب اس کے حریف کادفاعی ساتھی بن گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی آراء مختلف ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ پاکستان ایک نئی اوربلند پوزیشن پرکھڑاہوگیاہے۔البتہ یہ رائے بھی اپنی جگہ موجودہے کہ یہ معاہدہ ہر جنگ کو روکنے کا ضامن نہیں ہوگامگرسفارتی توازن میں پاکستان کے پلڑے کویقیناًبھاری کردیاہے اورمئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعدمودی کی یہ شکست فاش ان کے سیاسی کیرئیرکے برے انجام تک پہنچاکر دم لے گی۔

وزارتِ خارجہ نے ایک محتاط بیان دیاہے کہ وہ اس معاہدے کے مضمرات کامطالعہ کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بیان میں طاقت نہیں بلکہ اندرسے خوف واضطراب اورکمزوری جھلکتی ہے۔یہ اس عاجزانسان کی مانندہے جوطوفان کودیکھ کرمحض اپنی آنکھیں بندکرلیتاہے۔یہ اعلان گویاایک مدافعانہ اور منافقانہ رویہ ہے،جواپنی کمزوری کوچھپانے کی کوشش کررہاہے۔

کنول سبل،انڈین سابق سیکریٹری خارجہ،نے صاف کہاکہ اب ہندوستانی اس معاہدے کومحض کاغذی نہیں سمجھتے۔سعودی فنڈزاب پاکستانی فوج کومزید مضبوط کریں گے۔یہ بات دہلی کیلئے سب سے بڑااندیشہ ہے،کیونکہ پاکستان کی فوج پہلے ہی دنیاکی ایک منظم اورتجربہ کارفوج ہے۔اگرسعودی سرمایہ کاری اوروسائل اس کے ساتھ مل جائیں توخطے میں طاقت کانقشہ ہی بدل سکتاہے۔دراصل دہلی کے اس اندیشے کااعلان ہے کہ پاکستان خطے میں ایک عملی طاقت کے طورپرابھررہاہے اوراسرائیل کے خلاف عربوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کاامکان ہندوستان کیلئےناقابلِ برداشت ہے۔

یہ معاہدہ محض موجودہ لمحے کانہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کاآئینہ دارہے۔یہ معاہدہ محض ایک آغازہے،انجام نہیں۔اس کے ممکنہ اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ پاکستان،ترکی اورچین کی مثلث مزیدمضبوط ہوگی۔اگرپاکستان،ترکی اورچین جیسے ممالک خلیجی دنیاکے ساتھ کندھے سے کندھاملاکرکھڑے ہو گئے تو ہندوستان کیلئےاپنی حیثیت برقراررکھنامشکل ہوجائے گا۔عرب دنیا پاکستان کواپنامحافظ سمجھے گی،اوردہلی کیلئےان کے دروازے بندہونے لگیں گے۔مزیدیہ کہ سعودی عرب کی قربت پاکستان کونہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی محاذپربھی مستحکم کرے گی۔یہی وہ بات ہے جوہندوستان کیلئےسب سے بڑی پریشانی کا سبب بنے گی۔اگرخلیجی ممالک ایک اجتماعی دفاعی ڈھانچہ قائم کرلیتے ہیں توہندوستان کی خطے میں موجودگی محض تماشائی کی حیثیت اختیارکرجائے گی۔

چین نے مغربی ایشیا میں محض تجارت نہیں،بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی تعمیرکابیج بویاہے جوسفارت،تجارت اورڈِپلومیسی میں تیز رفتاری سے پھل پھول رہا ہے۔چین کی سیاست کامرکزی فلسفہ ہمیشہ پرامن ترقی رہاہے۔بیجنگ نے اپنی عسکری طاقت کی بجائے معاشی قوت کوبطورہتھیاراستعمال کیا،اوریہی اس کی اصل قوت بھی ہے۔بیجنگ نے سعودی-ایران مفاہمت میں ثالثی کرکے اپنے آپ کو وسطِ میدان پرکھڑاکیا—ایک ایساکردارجواضطراب کوکم کرکے اس خطے کوچین کے عالمی اقتصادی دھاگے سے باندھتاہے۔یہ عمل محض صلحِ صفائی نہیں بلکہ اثرورسوخ کانرم مگرمستقل اضافہ ہے۔چین اب خطے میں امن کا مترجم بھی نظرآتاہے اورسرمایہ کاری کاسب سے بڑاواسطہ بھی۔

چین نے اپنے تجارتی انفراسٹرکچروژن کے ذریعے خودکوایک لازم وملزوم قوت کے طورپرمنوایاہے جوکسی تنازعہ میں بروقتمفاہمت کروا بھی سکتا ہے اور بحران میں اپنی معیشتی چھتری بھی فراہم کرسکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبلِ مغربی ایشیامیں چین کا کردارغیرمتکلم طاقت نہیں بلکہ فعال،باضابطہ اورمستقل اتحادی کے طورپراُبھرتادکھائی دیتاہے۔چین نے حالیہ برسوں میں نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کومضبوط کیاہے بلکہ ایران کے ساتھ صلح کرانے میں بھی فیصلہ کن کرداراداکیا۔یہ قدم صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش نہ تھابلکہ دنیا کو یہ پیغام دیناتھاکہ اب امن کی ثالثی واشنگٹن کے ہاتھ سے نکل کربیجنگ کے حصے میں آ رہی ہے۔ ستقبل قریب میں چین مغربی ایشیامیں دورخوں سے طاقتورہوگا۔
(1)سرمایہ کاری اورتکنیکی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے،اور
(2)سفارتی ثالثی کے کردارکے ذریعے۔
اس کاسب سے بڑااثریہ ہوگاکہ خلیجی ممالک کی سلامتی کیلئےصرف امریکاپرانحصارکم ہوگااوروہ چین کوبھی اپنے سرپرست کے طور پر دیکھنے لگیں گے۔چین اورایران کے درمیان25سالہ اسٹریٹجک تجارتی معاہدہ ہوچکاہے،جس کی مالیت اربوں ڈالرہے۔اس معاہدے نے ایران کے ساتھ ہندوستان کی سرمایہ کاری اورتجارتی اثرکوکمزورکردیا،کیونکہ دہلی امریکی دباؤکے باعث اپنی منصوبہ بندی آگے نہ بڑھاسکا۔

چین اورسعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری اورتکنیکی شراکتیں محض افسانوی دعوے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں۔سعودی عرب میں بھی چین تیزی سے جگہ بنارہاہے۔نیوم سٹی، توانائی،تیل کی پروسیسنگ،اورخاص طورپرریلوے اورجدیدانفراسٹرکچرمیں چین کی فنی مہارت سعودی حکومت کی اولین ترجیح بنتی جارہی ہے۔ولی عہدمحمد بن سلمان کے سعودی ویژن2030 کا ایک بڑاحصہ چینی سرمایہ اورمہارت پراستوارہے اور2024–2025کے دوران چینی اداروں کوسعودی انفراسٹرکچرکے اہم معاہدے ملے ہیں—جس نے ریاض کو چینی فنی مہارت اورسرمایہ کیلئےکھول دیا۔اس پس منظرمیں سعودی سرکار کا چین کے ساتھ ریلوے اورقومی انفراسٹرکچرکی بات چیت کرنا، محض لفظی گزرگاہ نہیں بلکہ تکمیل کیلئےعملی سطرِنقشہ ہے۔یوں سعودی عرب کی داخلی ترقی اور بیرونی سلامتی دونوں میں چین ایک لازم وملزوم کرداربن چکاہے۔ہندوستان کیلئےیہ ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے کیونکہ جس مقام پروہ اپنے لیے اقتصادی مواقع دیکھ رہاتھا،وہاں چین نے سبقت لے لی ہے۔

یہ بھی لازم ہے کہ چین کاسرمایہ محض مواصلاتی تعمیرِاورراستوں تک محدود نہیں—وہ ڈیجیٹل،توانائی اورلاجسٹکس میں بھی داخل ہورہاہے،جس کااثریہ ہوگاکہ سعودی معیشت کی تہہ میں چین کانقش گہراہوتاجائے گا—اورجب فوجی یاسکیورٹی معاہدے بھی سامنے آئیں،تویہ اقتصادی وابستگی سیاسی وسکیورٹی فیصلوں میں وزن ڈال سکتی ہے۔

چابہاربندرگاہ ہندوستان کیلئےایک اسٹریٹجک گوہرکی حیثیت رکھتی تھی،کیونکہ یہ افغانستان اوروسطی ایشیا تک دہلی کی براہِ راست رسائی کاذریعہ تھی۔حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ انڈیاکوایران کے چابہاربندرگاہ کے سلسلے میں جوسابقہ استثنٰادیتی رہی تھی،اسے واپس لینے کااعلان کیاہے—یہ فیصلہ29 ستمبر(نوٹس کے مطابق)سے مؤثرہوگالیکن اب اس استثنٰاکے واپس لینے سے پہلا تجارتی رسداورلاجسٹک نقصان یہ ہوگاکہ ہندوستان اب اس بندرگاہ کے ذریعے افغانستان تک رسائی برقرارنہیں رکھ پائے گااوراسے ورچوئل متبادل راستے جولمبے اورمہنگے تلاش کرنے ہوں گے جوبھارتی تجارت کی کمرتوڑکررکھ سکتے ہیں۔

چابہارمنصوبہ دہلی کے اس خیال کاجزتھاکہ ایران کے ساتھ بندرگاہی تعاون کے ذریعے افغانستان تک تجارتی اورسماجی اثرکو مضبوط کیاجائے؛استثنٰاختم ہونے سے دہلی کی اس علاقائی رسائی اوراثررسوخ کمزورپڑسکتاہے۔امریکاکی یہ پالیسی تبدیلی دہلی کیلئےدُوراندیشی کاسبب ہے—جویہ ظاہرکرتی ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے مطابق استثنٰاواپس لے سکتاہے،اورلہٰذانئی سفارتی حکمتِ عملی یامتبادل اتحادی تلاش کرنابھارتی خارجہ پالیسی کے سامنے ضروری بن جائے گا جس کیلئے مودی نے چین یاتراسے حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش توکی لیکن وکٹری پریڈ سے دوررکھ کرمودی کے دورے کی ناکامی سامنے آگئی ہے۔

سیاسی نقصان یہ ہے کہ یہ فیصلہ ظاہرکرتاہے کہ واشنگٹن دہلی کے ساتھ تعلقات کوہمیشہ اپنی شرائط پررکھتاہے۔اس سے ہندوستانی سفارتکاری کودھچکالگا ہے ۔اوردہلی کوسٹریٹجک نقصان یہ ہوگاکہ جو حکمتِ عملی وسطی ایشیامیں اثرورسوخ بڑھانے کی تھی،وہ اب کمزورپڑگئی ہے،جبکہ ایران مزیدچین اورروس کی طرف جھک گیاہے۔مختصریہ کہ چابہارسے متعلق امریکی اقدام نے ہندوستان کو مادی،اسٹریٹجک اورسفارتی طورپرنقصان پہنچانے کاامکان بڑھادیاہے—اوریہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کی منصوبہ بندی کودوبارہ ورق وار کرنالازمی ہوجاتاہے کہ مودی کے دہرے کردارپرکیسے پردہ ڈالاجائے۔

میڈیارپورٹس،جوحالیہ دنوں میں آئیں،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہبازشریف اورٹرمپ کے درمیان اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے دائرے میں ملاقات کے امکانات زیرِغورہیں—رپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ یادیگردفاعی اعلیٰ حکام بھی ممکنہ گفت وشنید میں شریک ہوسکتے ہیں مگریہ ملاقات حتمی طورپرطے شدہ نہیں بلکہ ممکن کی صفت سے جڑی ہے؛اگریہ ملاقات ہوتی ہے توپاک–سعودی دفاعی معاہدہ لازماًزیرِبحث آئے گاکیونکہ امریکا اس معاہدے کے خطے پراثرات اورخاص طورپراس کے اسرائیل و ہندوستان پراثرکوسمجھنے کا خواہاں ہوگا۔

لہٰذااس حوالے سے کہاجا سکتا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں پاک–سعودی دفاعی معاہدہ بطورِموضوع ممکنہ طورپرآئندہ بات چیت کاحصہ بن سکتا ہے،خاص طورپراگرامریکی انتظامیہ خطّے میں اس معاہدے کے جیوپولیٹیکل پرسوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔واشنگٹن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب صرف اس کی چھتری کے نیچے رہے،لیکن اب جبکہ پاکستان اس کادفاعی شریک بن رہاہے،توامریکاکویقیناًخدشہ ہوگا۔اس ملاقات میں پاکستان کے جوہری پروگرام پربھی سوال اٹھ سکتاہے،اورواشنگٹن یہ سمجھنے کی کوشش کرے گاکہ کیااسلام آباداپنی ایٹمی صلاحیت کوعرب دنیاکی طرف جھکاسکتاہے یانہیں۔

سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ایسی ملاقاتیں فوری نتائج کی ضامن نہیں ہوتیں—مگراگرملاقات ہوتی ہے تو1)امریکی مفادات،2)خلیجی رشتے،اور3)جوہری سکیورٹی کے موضوعات لازمی زیرِبحث آئیں گے۔اس میں پاک–سعودی معاہدے کے دفاعی وسیاسی مضمرات پرواشنگٹن کی فکری جانچ پڑتال متوقع ہے۔

حالیہ دورے کے دوران صدرٹرمپ نے برطانوی قیادت کی اس ممکنہ مرضی—کہ وہ فلسطینی ریاست کوتسلیم کرے —پرکھلے لفظوں میں اختلاف ظاہرکیا کہ یہ ایک متنازع اقدام ہے اوروہ اس سے اتفاق نہیں کرتے؛یہ اعتراض دراصل امریکاکی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ اسرائیل کے ہراقدام کی پشت پناہی کرتاہے اورفلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنتاہے۔برطانیہ میں داخلی سیاست کادباؤہے کہ وہ فلسطین کے ساتھ انصاف کرے اوراسے ریاست تسلیم کرے لیکن امریکااس کوامن کے خلاف اقدام قرار دے رہاہے۔

برطانوی وزیراعظم کی طرف سے خلافِ توقع فلسطینی ریاست کی تائیدپرغورنے عالمی طبقے میں بحث چھیڑدی ہے۔اس بیان پر عالمی وعلاقائی ردِ عمل متعدد رنگوں میں آیا،ایک طرف برطانیہ کے داخلی سیاسی حلقے نے اپنے فیصلے کی حمایت کی،تودوسری جانب اسرائیلی اورکچھ امریکی حلقوں نے تحفظات کااظہار کیا ؛ عرب دنیااورفلسطینی قیادت نے عمومی طورپراس رجحان کوخوش آئند سمجھا۔اس اختلافِ رائے نے عالمی سطح پریہ واضح کردیاہے کہ فلسطینی مسئلے پریورپ اورامریکاایک صفحے پرنہیں ہیں۔عرب دنیا کیلئے یہ امیدکی کرن ہے کہ شایدیورپ میں کچھ ممالک فلسطینی عوام کی آوازسنیں گے،لیکن امریکاکااعتراض اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے معاملے پرواشنگٹن کسی نرمی کاقائل نہیں۔

سیاسی معنویت یہ ہے کہ برطانیہ جیسابڑایورپی ملک اگرفلسطینی ریاست کوتسلیم کرے توعالمی سفارتکاری ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے—اورامریکی صدرکی مخالفت اس بات کی علامت ہے کہ اس معاملے میں عالمی دائرہ کارمیں اختلافات عیاں ہیں۔یہ جھگڑافلسطینی مسئلے کے حل کی راہ میں نئی سیاسی محاذ آرائیاں کھڑاکردے گااورخطّے کی سفارتی حکمتِ عملیوں پرنمایاں اثرڈال سکتاہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دوحکومتوں کے درمیان کاغذی دستخط نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات پرلکھاگیاایک نیاباب ہے۔اس میں خطے کی سیاست کارخ بدلنے کی صلاحیت ہے۔اگر ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توایسے معاہدے کبھی بھی وقتی نہیں رہے—یہ آنے والے زمانوں کی سیاست کے خدوخال تراشتے ہیں۔

تاریخ وہ آئینہ ہے جوآنے والے کل کے نقش پڑھاتی ہے—اسی طرح دیکھاجاسکتاہے کہ چینی اقتصادی وسفارتی توسیعات،سعودی–پاکستان دفاعی بندھن ،اورامریکی پالیسیوں کی تبدیل شدہ بیانئے کاایک نیاجغرافیائی وسیاسی نقشہ تیارکررہی ہیں۔ہرنکتہ آزادنثرکاایک شفافہ ہے چین کابڑھتاہواقِبِلہ،سعودی–پاکستان معاہدے کاہندوستان پراثر،امریکاکی غیریقینی پالیسیاں اور برطانیہ کی ممکنہ سفارتی پیش رفت جیسے فیصلوں کے ذریعے ایسامنظربناتے ہیں جوجنوبی اورمغربی ایشیا کی سیاست کودشواریانیارخ دے سکتے ہیں۔

یہ معاہدہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں بلکہ تاریخ کانیاموڑہے۔یہ وہ لمحہ ہے جوآنے والے زمانے کی سیاست کونئی راہیں دکھائے گا۔ اگرآج دہلی کویہ معاہدہ دھچکالگ رہاہے توآنے والے کل میں یہ اس کیلئےکمرتوڑبوجھ ثابت ہوسکتاہے۔پاکستان نے یہ پیغام دے دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں،بلکہ امتِ مسلمہ کی ڈھال ہے۔

ہردورکی سیاست اپنے پیچھے نشان چھوڑتی ہے،اورقوموں کے فیصلے یاتوانہیں عظمت کی شاہراہ پرگامزن کرتے ہیں یازوال کی کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ سعودی–پاکستان معاہدہ دراصل اس تاریخی سوال کاجواب ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی سلامتی کے باب میں کس سمت بڑھ رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کیلئےیہ ایک بڑادھچکاہے،مگراصل اہمیت اس حقیقت کی ہے کہ مسلمان ممالک اب اپنی تقدیرکے فیصلے خودکرنے لگے ہیں۔چین کی ثالثی، سعودی عرب کی تعمیرنو،اورپاکستان کی دفاعی قوت یہ بات یاددلاتے ہیں کہ اگردلوں میں اتحاداورقدموں میں عزم ہوتودنیاکی کوئی طاقت راہوں کی دیوارنہیں بن سکتی۔

اقوامِ متحدہ کی مجالس ہوں یاعالمی ایوانوں کی سیاست، فلسطین کاسوال ہویاایران کابحران—سب اسی اٹل سچائی کی گواہی دیتے ہیں کہ طاقت اب یک رُخی نہیں رہی۔یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی تاریخ کے سبق دہراتے ہوئے وحدت کی لڑی میں نظرآئے جیساکہ اقبال نے کہاتھا:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملّت کے مقدّرکاستارہ

ان نکات سے واضح ہوتاہے کہ چین خطے میں نئی طاقت کے طورپراُبھررہاہے،جوصرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ سفارتی ثالثی بھی فراہم کررہاہے۔سعودی عرب کی ترقی اورسلامتی کے منصوبوں میں چین کی گہری شمولیت ہندوستان کومزیدپیچھے دھکیل رہی ہے۔امریکاکی پالیسیوں کابدلاؤدہلی کیلئےمسائل پیداکر رہاہے،خصوصاًچابہارجیسے منصوبے میں۔اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورمزپر پاکستان کے پاس اپنی پوزیشن مزیدمضبوط کرنے کاموقع ہے۔

فلسطین کامسئلہ ایک بارپھرعالمی سفارتکاری میں مرکزیت اختیارکررہاہے،اوریورپ وامریکاکے درمیان اس پراختلاف کھل کرسامنے آرہاہے۔یہ معاہدہ محض آج کا واقعہ نہیں بلکہ آنے والے کل کااشارہ ہے۔تاریخ کے پنوں پریہ باب اسی صورت میں سنہری ہوگاجب امت اس سے بیداری،اتحاد اورخود اعتمادی کا سبق لے کرآگے بڑھے۔یہی وہ پیغام ہے جواس مقالے کے ہرنکتے سے دینامقصودہے،اوریہی وہ چراغ ہے جس سے قاری کے دل میں روشنی کی لَوپیدا کرنے کی ایک ادنیٰ کوشش کی ہے۔

رہے نام میرے رب کا،جودلوں کی حال سب سے بہترجانتاہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں