طالبان کی شرائط پرمذاکرات؟

:Share

افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کیلئے امریکانے افغانستان میں اپنے آخری ہتھیارایف٣٥بی طیاروں کا استعمال بھی شروع کردیاتاہم افغان طالبان پربمباری کرنے والاطیارہ واپسی پرگرکرتباہوگیااوریہ طیارہ طالبان کے کسی بھی ٹھکانے کوصحیح طورپرنہ تونشانہ بناسکااورنہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکا جس کے بعدامریکانے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے ان خصوصی خطرناک قسم کے طیاروں کے استعمال کوفوری طورپرختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے طالبان سے براہ راست غیرمشروط مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔طالبان کی جانب سے فوری کوئی ردّ ِ عمل توسامنے نہیں آیالیکن شنید یہ ہے کہ دورکنی امریکی ٹیم نے زلمے خلیل زادکی سربراہی میں دوحہ قطرمیں طالبان کے دفتر میں طالبان سے ملاقات کی جس میں طالبان نے افغان کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات سے انکاراورامریکاسے مذاکرات کیلئے افغانستان سے امریکی اورتمام غیرملکی افواج کے انخلاء کی تاریخ کے اعلان اور طالبان قیدیوں کی رہائی کااپنا پرانا مطالبہ دہرایاتاہم طالبان نے امریکااورافغان حکومت کی جانب سے اسلام آباداورکابل کے علماء پرمشتمل کانفرنس کے حوالے سے پاکستانی علمائے کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کانفرنس میں ہرگزشرکت نہ کریں کیونکہ اپنی شکست کوبدلنے کیلئے اب علماء کو استعمال کرناچاہتاہے۔یہی علماء جب امریکاکوافغانستان پرحملہ سے روکنے کی کوشش کرتے رہے توانہیں دہشتگردقراردیاگیالیکن اب انہی علماء سے اپیلیں کی جارہی ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے پشتومیں جاری ایک بیان میں علماء سے درخواست کی گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی استعمارہماری لازوال قربانیوں اور آپ سب کی دعاؤں سے فوجی لحاظ سے بری طرح شکست کھاچکاہے اوراب اس رسوائی کاسامناکرنے بعدکوششیں کررہاہے کہ اپنی ناکامی کو مختلف طریقوں سے پیش کرکے اپنی جارحیت کی کامیابی کے دیگرجنگی طریقے تلاش کررہا ہے۔اس مقصدکیلئے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پینٹا گون حکام کومنصوبہ دیاکہ افغانستان میں جاری جہادکے خلاف دینی علماء سے فائدہ اٹھائے۔جہادکے خلاف ان سے فتویٰ جارے کرادے۔ دھرنوں کے نام سے صلح کے نقارے بجادے اورمیڈیامیں جعلی مذاکرات کی رپورٹس شائع کراکر فوجی ناکامیوں سے عوام کی توجہ کسی اور جانب مبذول کرائے۔درج بالاباتوں کی وضاحت افغانستان میں سابق امریکی کمانڈرجنرل نیکولسن کی جانب سے بھی ہوئی تھی کہ طالبان پرمذہبی دباؤ ڈالیں گے اوراس ہفتے کے شروع میں امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس نے بھی واضح طورپر بھی کہاکہ طالبان کے خلاف دینی علماء سے فائدہ اورموجودہ جہادکے خلاف فتویٰ جاری کرناان کی ذمہ داری ہے اور ان سے فائدہ حاصل کیاجائے گا۔
بدقسمتی سے اس امریکی منصوبے کی روسے ملک کے اندراورباہرعلماء کرام کی کانفرنسوں کا انعقادہوا۔اب ایک مرتبپ پھرپاکستان اورافغانستان میں علماء کرام کی کانفرنسوں کے انعقادکی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے افغان طالبان نے پاک افغان کے حقیقی علماء کو امریکی پینٹاگون اورسی آئی اے کے اس خوفناک منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ استعمار کی نئی چال اورسازش کے جھانسے میں نہ آئیں اورسترہ سال کے بعدافغان جہادکیلئے نیامفہوم تلاش نہ کریں اورغیرمستقل طورپر امریکی جارحیت سے تعاون نہ کریں۔ہم جانتے ہیں کہ علماء حق یہ کام نہیں کرتے بلکہ انہوں نے گزشتہ سترہ سال موجودہ جہادکی نہ صرف کھل کر حمائت کی بلکہ اپنی ذمہ داری بڑے ہی احسن طریقے سے اداکی ہے جس کیلئے نہ صرف افغان جہادکی تاریخ میں ان کانام سنہری حروف سے لکھاجائے گابلکہ یہ انہی کی دی ہوئی تعلیم کانتیجہ ہے جس نے ہمیں حق کیلئے اس جہاد میں استقامت عطاکی۔ہم اب بھی ان سے امیدکرتے ہیں کہ وہ ان سازشوں کاڈٹ کرمقابلہ کریں گے اوروہ دین فروش علماء جوان سازشوں میں امریکی سازشوں میں ان کاآلۂ کاربنیں گے تووہ یادرکھیں کہ قیامت کے دن مجاہدین،شہداء، یتیموں بیواؤں اوران تمام مظلوموں کاہاتھ ان کے گریبان میں ہوگا،اس لئے کہ اس عظیم جہادمیں لاکھوں شہداء کاخون شامل ہے۔اب ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی حمائت اوران کے کہنے پر ہدف پرپہنچنے والے جہادکی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کرناناقابل معافی جرم عظیم ہوگا اگر خدانخواستہ اس میں کوئی ایک بھی علماءحق شامل ہوا۔امریکا اپنی شکست کوبچانے کیلئے اپنی ان نئی سازشوں کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بھاری رقوم کا استعمال بھی کررہاہے اوردیگرلالچ کے پیام بھی بھیج رہا ہے ۔
سعودی عرب اورکابل کی کانفرنسوں میں آپ پرثابت ہواہوگاکہ علماء سے کسی نے شرعی رائے نہیں لی اورنہ ہی کسیکی دلیل کوسناگیابلکہ صرف کانفرنسوں میں ان کی موجودگی سے ناجائزفائدہ اٹھایااورمیڈیامیں کابل انتظامیہ کے امن کونسل کی جانب سے مرتب شدہ مقالہ کوفتویٰ کے نام سے اعلان کیاگیا،اسی لیے علمائے کرام کوشرعی اورملّی ذمہ داری کاادراک ہوناچاہئے اورسازشوں کاشکارنہیں بنناچاہئے۔دوسری جانب افغان طالبان کے خلاف امریکانے ایف٣٥بی طیاروں کوگزشتہ روزقندھاراورہلمندمیں طالبان کے مبینہ ٹھانوں پرفضائی حملے کئے گئے تاہم ان حملوں میں طالبان کاکوئی نقصان نہیں ہوااورپہاڑی سلسلے کی بناء پرامریکی حملے بری طرح ناکام ہوگئے لیکن کچھ عام معصوم اوربے گناہ شہری اس امریکی ظالمانہ کاروائی کانشانہ بنے تاہم ان حملوں میں شریک ایف٣٥بی طیاروں میں سے ایک طیارہ کاروائی کے بعدامریکی کی ریاست جنوبی کیرولیناکے ایک فوجی اڈے کے قریب گرکرتباہ ہوگیا ۔باوثوق ذرائع کے مطابق خودامریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گرنے والاطیارہ افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پرحملہ کرنے میں شامل تھا اوربمباری کے بعداس کی پروازواپسی اورٹارگٹ ایکوریسی کوجانچنے کیلئے امریکالے جایاگیاتھا لیکن وہ پرواز کے دوران گرکرتباہوگیالہندااس طرح امریکاانتہائی قیمتی طیارے کے تباہی کے بعد افغانستان میں ایف٣٥بی جیسے جدید ترین طیاروں کاآپریشن بھی ناکام قراردے دیاگیا۔اس ناکامی کے بعدبالآخرامریکانے طالبان کوغیرمشروط مذاکرات کی پیشکش کردی جس کے بعددوہاقطرمیں زلمے خلیل زادنے ملاقات میں پہل کی ہے۔
ادھرطالبان نے افغانستان میں امریکاکے خلاف حملے مزیدتیزکردیئے ہیں اورقندھاروہلمندپربمباری کے ایک روزبعدوردگ اورلوگرمیں طالبان نے دو امریکی فوجیوں کوحملوں کے دوران ماردیاجبکہ دیگرامریکی تھکانوں پربھی حملے کئے ہیں جس سے امریکی فوج کونہ صرف شدیدنقصان پہنچا ہے بلکہ مزیدسراسیمگی پیداہوگئی ہے۔امریکی ایف٣٥بی طیاروں کے ناکام حملوں کے بعدطالبان نے اپنے حملوں میں شدت پیداکردی ہے۔دوسری طرف افغانستان میں مذاکرات کیلئے بڑے پیمانے پرتیاریاں جاری ہیں تاہم افغان طالبان نے امریکاکوپانچ سال قبل کی جانے والی پیشکش میں مزید سخت مؤقف اختیارکرتے ہوئے کہاہے کہ پانچ سال قبل طالبان نے امریکاکوپانچ اڈوں تک محدود ہونے اورپانچ سال کے اندراندرانخلاء پرمذاکرات پررضامندی ظاہرکی تھی لیکن اب امریکاکی دواڈوں تک محدودہونے کی پیشکش کوبھی طالبان نے مستردکردیاہے تاہم تین سال کے دوران انخلاء پرطالبان اب بھی رضامندہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں