بارہ ستمبر2026ء کودی اکانومسٹ میں شائع ایک مضمون”پردوں اوراندیشوں کے بیچ”میں یورپ کے بعض حکام کی سیاسی اسلام اور انتہاپسند تنظیموں سے متعلق تشویش بیان ہوئی ہے؛ساتھ ہی ان سیاستدانوں کے اقوال بھی نقل ہوئے ہیں جومسلمانوں کے مذہبی وجودہی کویورپی معاشرے کیلئےخطرہ بناکرپیش کرتے ہیں۔تحریریہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ یورپ کے بہت کم مسلمان جمہوری نظام کواندرسے کمزورکرناچاہتے ہیں۔اس لیے دیانت کاتقاضاہے کہ پورے مضمون کومسلمانوں کے خلاف ایک ہی حکم میں نہ باندھاجائے۔مگریہ سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب چندتنظیموں کی چھان بین کے پہلوبہ پہلوکروڑوں انسانوں کی شناخت،عبادت اورروزمرہ زندگی کوشبہے کی زبان میں پڑھاجانے لگے تواس کا اثران انسانوں پرکیاپڑتاہے؟
یہ سوال محض صحافت کانہیں،شہری زندگی کے اخلاق کاہے۔قانون کسی شخص کے عمل کی تحقیق کرسکتاہے؛سیاست کوبھی ایسے نظریات پرتنقید کاحق ہے جودوسروں کے حقوق سلب کرناچاہیں۔لیکن ایک مسلمان عورت کاحجاب،ایک خاندان کی عید،کسی محلے کی مسجدیاکسی نوجوان کی مذہبی وابستگی،بذاتِ خود، جمہوریت کے خلاف شہادت نہیں۔اگرشک کادائرہ اتنا پھیل جائے کہ بے ضررمذہبی عمل بھی صفائی طلب جرم معلوم ہونے لگے،توانصاف کاترازو وزن کرنے سے پہلے ہی ایک جانب جھک چکاہوتاہے۔
یورپی مباحث میں’’اسلام‘‘،’’مسلمان‘‘ ’’اسلام پسندی‘‘اور’’پُرتشددانتہاپسندی‘‘کے الفاظ اکثرایک دوسرے کے قریب رکھے جاتے ہیں۔ حالاںکہ ان کے معنی اورقانونی نتائج یکساں نہیں۔مذہب کسی شخص کے عقیدے اورعبادت سے متعلق ہے؛سیاسی نظریہ ریاست اور معاشرے کی تشکیل کے بارے میں اس کی رائے ہوسکتاہے؛تشدد ایک قابلِ گرفت فعل ہے۔ان سب کوایک نام دے دیناتحقیق کوآسان نہیں بناتا،اسے بے اعتباربنادیتاہے۔
مضمون ہی میں اس امتیازکی ضرورت کاسامان موجودہے۔وہ بعض افراداورتنظیموں سے متعلق حکومتی خدشات بیان کرتاہے،پھرایسے مبصرین کی رائے بھی لاتاہے جوخطرے کے حجم پر سوال اٹھاتے ہیں۔وہ یہ بھی دکھاتاہے کہ یورپ کے عوامیت پسندحلقوں میں بعض آوازیں مخصوص تنظیموں کی نگرانی سے بہت آگے نکل کرمسجد،اذان اورمسلمان ہونے کے حق کو نشانہ بناتی ہیں۔یہی وہ موڑہے جہاں جائز اختلاف،اجتماعی بدگمانی میں بدل سکتاہے۔
اگرکوئی تنظیم واقعی جمہوری اداروں کودھوکے یاجبرسےکمزورکرنےکی کوشش کرتی ہے تواس کے بارے میں ثبوت جمع کیے جائیں، قانون کے مطابق کارروائی ہو،اورفیصلے پرعدالتی نظرِثانی کاراستہ کھلارہے۔مگرکسی تنظیم پرالزام کوہمسائے،دکاندار،استاد،طالبہ اور ڈاکٹرتک منتقل کردینامنطق بھی نہیں اور انصاف بھی نہیں۔ فردکے عمل کافیصلہ فردکے عمل سے ہوناچاہیے۔ایک پورے مذہبی طبقے کو مستقل جواب دہی کی حالت میں رکھناشہری مساوات کے تصورکوزخمی کرتاہے۔
برطانیہ کے اعداداس اندیشے کی انسانی قیمت بھی دکھاتے ہیں۔انگلینڈاورویلزکی2021ء کی مردم شماری میں تقریباً39لاکھ افرادنے خود کومسلمان بتایا،جو آبادی کا6٫5فیصدتھے۔دوسری طرف،سرکاری اعدادکے مطابق مارچ2025ءمیں مسلمانوں کوہدف بنانے والے4478 مذہبی نفرت پرمبنی جرائم درج ہوئے۔ان اعدادسے ہرفردکاتجربہ معلوم نہیں ہوتا،مگر یہ ضرور واضح ہوتاہے کہ مسلمان دشمنی صرف مباحثے کالفظ نہیں؛اس کے حقیقی متاثرین ہیں۔نفرت ہمیشہ ہاتھ میں پتھرلے کرنہیں آتی۔کبھی وہ ایک مسلسل اشارے کی شکل میں آتی ہے: یہ لوگ ہمارے جیسے نہیں؛ان کی عبادت کے پیچھے کوئی منصوبہ ہوگا؛ان کی خاموشی بھی مشکوک ہے اوران کااحتجاج بھی۔ایسے ماحول میں ایک شہری سے کہاجاتاہے کہ وہ کام بھی کرے،قانون بھی مانے،پڑوسی بھی بنے، اور ہرصبح اپنی بے گناہی کانیاثبوت بھی پیش کرے۔یہ مطالبہ کسی آزادمعاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
تعمیرِنوکی تاریخ میں کس کے ہاتھ تھے؟دوسری جنگِ عظیم کے بعدبرطانیہ کوافرادی قوت،خدمات اورپیداوارکی ضرورت تھی۔اس تعمیرمیں ملک کے اندر موجودکارکنوں کے ساتھ دولتِ مشترکہ سے آنے والے لوگوں نے بھی حصہ لیا۔پاکستانی تارکینِ وطن کی ایک قابلِ ذکرتعدادمغربی یارکشائراورلنکاشائرکی کپڑے کی صنعت،خصوصاًبریڈفورڈجیسے شہروں،سے وابستہ ہوئی۔دوسری برادریوں کے افرادنے ٹرانسپورٹ،کارخانوں اورصحت کی خدمت میں کام کیا۔ برطانیہ کے تاریخی ادارے ہسٹورک انگلینڈ کی دستاویزی تحریراس محنت کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہاں بھی تاریخ کونعرے کی خاطرسادہ نہیں کرناچاہیے۔یقیناًبرطانیہ کی تمام صنعت مسلمان تارکینِ وطن اوردیگرممالک سے آنے والے محنت کشوں نے بحال کی،اورہرمحنت کش کاتعلق ایک ہی مذہب سے بھی نہیں تھالیکن یہ کہنادرست ہوگاکہ تعمیرِنوایک مشترک،طویل اورپیچیدہ عمل تھا۔درست بات، اور کہیں زیادہ مضبوط بات،یہ ہے کہ مسلمان پس منظررکھنے والے بہت سے تارکینِ وطن کی اکثریت اس مشترک محنت میں شریک تھی۔ان کے ہاتھوں کی کمائی،ان کی رات کی شفٹوں اوران کے بچوں کی آئندہ نسلوں کوقومی تاریخ کے کسی بھی حاشیے میں یادنہ رکھنایقیناً ایک زیادتی ہوگی۔
برطانوی قومی صحت کی خدمت،این ایچ ایس،کی تاریخ بھی ہمیں مشترک خدمت کاسبق دیتی ہے۔اس کے ابتدائی برسوں میں بیرونِ ملک سے آنے والے کارکنوں،بالخصوص کیریبین سے آنے والی ونڈرش نسل،نے اہم کرداراداکیا۔اس مثال میں مسلمان تارکینِ وطن کوبھی کھاتے میں لکھناہوگا؛اس کااصل سبق وسیع ترہے:برطانیہ کے عوامی ادارے مختلف پس منظروں کے لوگوں کی خدمت سے مضبوط ہوئے۔جوشخص آج ہجرت کی پوری تاریخ کوایک خطرے کے عنوان میں بندکرناچاہتاہے،اسے ان اداروں کی تاریخ بھی پڑھنی چاہیے جن سے وہ روزفائدہ اٹھاتاہے۔
اس مشترک تاریخ کی جڑیں جنگ کے زمانے تک جاتی ہیں۔دوسری جنگِ عظیم میں غیرمنقسم ہندوستان کی فوج کی تعدادتقریباً25لاکھ تک پہنچی تھی۔ان سپاہیوں کے مذہب اورقومیتیں مختلف تھیں،اوران کے تجربات کوایک سادہ،یک رنگ داستان میں سمیٹانہیں جاسکتا۔ پھربھی یہ حقیقت یادرکھنے کے قابل ہے کہ یورپ کی آزادی اورجنگی کوششوں کی تاریخ صرف یورپ کی سرزمین پرنہیں لکھی گئی۔ برصغیرکے لوگوں کی شرکت بھی اس کے اوراق میں درج ہے۔
تاریخ سے شکرگزاری کامطالبہ ضرورکیاجاسکتاہے،مگرشہری حقوق کی بنیادصرف ماضی کی خدمات پرنہیں رکھی جاسکتی۔اگرکسی مسلمان کوعبادت،اظہار، تعلیم یاتحفظ کاحق اس لیے حاصل نہیں کہ اس کے دادانے کسی مل میں کام کیاتھاتاہم وہ حق اسے برابرکے انسان اورشہری ہونے کی وجہ سے ضرورحاصل ہے۔خدمات کاحوالہ اس حق کوروشن کرتاہے؛حق کوپیدانہیں کرتا۔
جنگوں کی تاریخ کیاکہتی ہے؟اسی طرح یہ دعویٰ بھی باطل ہے کہ جنگ وفسادکاسرچشمہ اسلام یامسلمان بحیثیتِ مجموعی ہیں۔تاریخ کاقلم نہ کسی ایک تہذیب کی دائمی بریت لکھتاہے نہ کسی ایک مذہب کی دائمی فردِجرم۔اقتدارکی ہوس،سرزمین پرقبضے کی خواہش،نسل پرستی، ریاستی تشدداورمذہبی تعصب مختلف زمانوں میں مختلف ہاتھوں سے برآمدہوئے ہیں۔
گزشتہ ایک صدی سے زائدعرصے کی تاریخ پر نظرڈالی جائے توواضح ہوتاہے کہ دنیاکی مہلک ترین جنگوں کوکسی ایک مذہب یاقوم کی فطرت سے منسوب نہیں کیاجاسکتا۔پہلی جنگِ عظیم میں متعددسلطنتوں کے باہمی تصادم نے دنیاکوخونریزی میں ڈبویا۔اس کے بعد نازی جرمنی کی جارحیت اورشاہی جاپان کی توسیع پسندی نے دوسری جنگِ عظیم کوایسی تباہی میں بدلاجس میں ایک تخمینے کے مطابق تقریباًچھ کروڑانسان ہلاک ہوئے۔اس عہدمیں نازی حکومت اوراس کے معاونین نے تقریباًساٹھ لاکھ یہودیوں کومنظم نسل کشی کا نشانہ بنایا،تاہم یہ ثابت ہے کہ اس ہولوکاسٹ میں یادونوں عالمی جنگوں میں کہیں بھی اسلام یا مسلمانوں کاہاتھ نہیں تھاجبکہ چین اورایشیا وبحرالکاہل کے دوسرے خطوں نے جاپانی جنگی مہمات کی بھاری قیمت اداکی۔بعدکے عشروں میں ویتنام،افغانستان اورعراق کی جنگوں نے بھی بے شمارخاندان اجاڑے۔افغانستان پرروسی اورامریکی جارحیت کے دوران جہاں60لاکھ سے زائد افغان ہلاک کردیئے گئے وہاں ایک لاکھ سے زائدپاکستانی بھی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اوریہ واقعات کسی قوم کے تمام افرادکومجرم ٹھہرانے کیلئےنہیں،بلکہ اس اصول کوسمجھنے کیلئےیادرکھے جانے چاہییں کہ جنگ کاحساب حکمرانوں کے فیصلوں،فوجی کارروائیوں اوران کے نتائج کی بنیادپر کیا جاتاہے۔پوری جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعدادکو کسی ایک ملک کے ہاتھوں براہِ راست قتل ہونے والوں کی تعدادکہنابھی درست نہیں۔تاریخ کایہی دیانتدارانہ مطالعہ اس دعوے کی تردیدکرتاہے کہ دنیاکی جنگوں اوربربادی کاذمہ داراسلام یامسلمان بحیثیتِ مجموعی ہیں؛ظلم جہاں بھی ہو،اس کی ذمہ داری ثبوت کے ساتھ متعلقہ افراداوراقتدارکے مراکزپرعائد ہونی چاہیے،پوری مذہبی آبادی پرنہیں۔
1994ءکے روانڈامیں توتسیوں کے خلاف نسل کشی میں8لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے؛ہلاک ہونے والوں میں وہ اعتدال پسندہوتوبھی شامل تھے جنہوں نے ظلم کی مخالفت کی۔یہاں بھی انسانی زندگی کی تباہی کوسمجھنے کیلئےپروپیگنڈے،اقتداراورمنظم تشددکامطالعہ ضروری ہے۔تاریخ ہمیں باربارمتنبہ کرتی ہے کہ جب کسی آبادی کوپہلے خیالی خطرے کے طورپرپیش کیاجائے تواس کے بعدحقیقی ظلم کیلئےزمین ہموارہوسکتی ہے۔مختلف واقعات کوایک جیساقراردینا درست نہیں،مگراس طریقۂ فکرسے خبرداررہناضروری ہے جوانسانوں کونام اورچہرے کی بجائے خوف کی ایک علامت بنادیتاہے۔
بوسنیاکے شہرسربرینیتسامیں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی اوراس پرقائم بین الاقوامی عدالتی ریکارڈبھی یاددلاتاہے کہ یورپ کی جدیدتاریخ میں مسلمان صرف بحث کاموضوع نہیں،ظلم کے شکارانسان بھی رہے ہیں۔ان سانحات کاذکرکسی دوسرے سانحے کی اہمیت گھٹانے کیلئےنہیں،بلکہ اصول کی یاد دہانی کیلئےہے:ہرجان کی حرمت یکساں ہے،خواہ مقتول کی عبادت گاہ کانام کچھ بھی ہو۔
قرآنِ مجید،سورۂ مائدہ کی آیت32میں،ایک بے گناہ جان کے قتل کوپوری انسانیت کے قتل اورایک جان بچانے کوپوری انسانیت کوبچانے کی مانندبیان کرتا ہے ۔یہ نہایت بلنداخلاقی معیارہے۔اسے دہراتے ہوئے اتنی دیانت بھی ہونی چاہیے کہ کسی بھی معاشرے کے مسلمان اپنے اعمال کواسی معیارپرپرکھیں۔ مذہبی تعلیم کی عظمت اس وقت معتبرگواہی بنتی ہے جب وہ دوسروں کیلئےرحم،امانت اورانصاف کی صورت میں ظاہرہو۔
اسلام سے اختلاف رکھنے والے شخص کوسوال اٹھانے کاحق ہے۔وہ مذہبی احکام،تاریخی تعبیرات،تنظیموں کے مطالبات اورسیاسی نظریات پرکھلی بحث کر سکتاہے۔مگرسوال اورالزام میں فرق ہے۔سوال جواب مانگتاہے؛الزام پہلے ہی فیصلہ لکھ کرلاتاہے۔علمی تنقید کسی دعوے کی دلیل کوجانچتی ہے؛تعصب دعوے سے پہلے دعویٰ کرنے والے کانام دیکھتاہے۔یقیناًاسلامی تعلیم کے مطابق مسلمان معاشروں کے اندربھی مکالمہ ضروری ہے۔مذہبی آزادی کادفاع خواتین کی آواز،نوجوانوں کے سوال،دوسرے مذاہب کے حقوق یامذہب سے اختلاف رکھنے والے افرادکی شہری حیثیت کونظراندازکر نے کی اجازت نہیں ۔اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کیلئے خصوصی احکام موجودہیں،اگرایک مسلمان شہری اپنے لیے ضمیرکی آزادی چاہتاہے تواسے دوسرے شہری کیلئےبھی یہی برابری کااصول مانناہوگا۔ مساوات ایک ایساچراغ ہے جس کی روشنی اپنی دہلیزپرروک دی جائے تووہ جلدبجھ جاتاہے۔
مضمون میں جن خدشات کاذکرہے،ان کا بہترین جواب یہ نہیں کہ ہرتشویش کوبد نیتی کہہ کرردکردیاجائے۔جہاں تشدد،دھمکی،دھوکایا اداروں کے غلط استعمال کاقابلِ جانچ ثبوت ہو،وہاں آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔جہاں صرف مذہبی قدامت پسندی یاکسی متنازع رائے کا معاملہ ہو،وہاں جمہوری معاشرے کواختلاف برداشت کرنے کی اپنی صلاحیت دکھانی چاہیے۔قانون کی لکیرمبہم ہوتوکمزورشہری پہلے اس کی زدمیں آتاہے۔اس لیے قانون کوواضح،متناسب اورسب پریکساں لاگوہوناچاہیے۔
سیاست میں خوف ایک فوری نفع دینے والی جنس ہے۔معاشی دشواری،رہائش کی قلت یاعوامی خدمات پردباؤکے پیچیدہ اسباب سمجھانے میں محنت لگتی ہے؛کسی قابلِ شناخت اقلیت کوان سب کی تصویربنادیناآسان ہوتاہے۔ایک نعرہ اعدادکی جگہ لے لیتاہے،ایک اشتعال انگیز تصویرپورے محلے کی زندگی پرغالب آ جاتی ہے،اورووٹرکے سامنے مسئلے کی بجائے ایک فرضی چہرہ رکھ دیاجاتاہے۔
یہ ہرسیاسی اختلاف کے بارے میں فیصلہ نہیں۔ہجرت کی رفتار،رہائش،ملازمت،تعلیم اورمعاشرتی ہم آہنگی پرسنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مقامی آبادیوں کی مشکلات کومحض تعصب کہہ کر ٹالابھی نہیں جاسکتا۔مگردرست بحث تبھی ممکن ہے جب مسئلے کانام ٹھیک رکھا جائے۔رہائش کی پالیسی کی ناکامی کاجواب کسی نمازی سے نہیں مانگاجاسکتا؛کسی فردکے جرم کی جواب دہی پوری نسل یامذہب پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
ابلاغِ عامہ کی ذمہ داری یہاں اوربڑھ جاتی ہے۔صحافت کافرض خطرے کوچھپانانہیں؛اس کی حد،ثبوت اورسیاق واضح کرناہے۔اگرکسی رپورٹ میں چند درجن افرادسے منسوب تنظیمی سرگرمیوں کاذکرہواوراس کے اردگردلاکھوں عام مسلمانوں کی زندگی بھی بیان کی جائے توقاری کودونوں کے درمیان واضح فاصلہ دکھائی دیناچاہیے۔ورنہ اعدادکی صحت کے باوجودمجموعی تاثر گمراہ کن ہوسکتا ہے۔ الفاظ کاانتخاب محض اسلوب کامعاملہ نہیں؛وہ اس بات پراثرانداز ہوتا ہے کہ ایک طالب علم اپنے ہم جماعت کوکیسے دیکھے گااورایک ہمسایہ اپنے ہمسائے کے دروازے پرکس احساس سے دستک دے گا۔
برطانیہ کی سرکاری رہنمائی بھی مسلمانوں کے خلاف دشمنی اورمذہبی عقائدپرجائزتنقیدمیں فرق کرتی ہے۔اس فرق کی حفاظت سب کے حق میں ہے۔اس سے مسلمان شہری نفرت اور ہراسانی کے خلاف تحفظ مانگ سکتے ہیں،اوردوسرے شہری مذہب یاسیاست سے متعلق اپنی رائے آزادی سے بیان کرسکتے ہیں۔ آزادمعاشرے میں دونوں حقوق کوسنبھالنے کیلئے نعرے سے زیادہ باریک بینی درکارہوتی ہے۔ یورپ کامسلمان کوئی ایک چہرہ نہیں۔وہ مختلف زبانیں بولتا ہے ،مختلف تاریخی تجربے رکھتاہے،اپنے مذہب کوبھی مختلف طریقوں سے سمجھتاہے۔کوئی ابھی ہجرت کرکے آیاہے؛کوئی اسی شہرمیں پیداہواجہاں اس کے والدین اوران کے والدین رہے۔اس تنوع کومٹاکرمسلمان کاایک فرضی مجسمہ تراشناپہلے علم کے ساتھ ناانصافی ہے، پھرلوگوں کے ساتھ۔
اس کے جواب میں مسلمانوں کوبھی اپنے گرددیوار کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں۔محلے کی انجمن،اسکول،اسپتال،مقامی حکومت اور روزمرہ میل جول وہ مقامات ہیں جہاں اجنبیت کا دھندلکاچھٹتاہے۔مکالمہ اس وقت بامعنی ہوتاہے جب اس میں مشکل سوالوں کی گنجائش ہو،مگرہرشریک کوپہلے سے مجرم نہ سمجھا جائے۔ایک طرف حقوق کی پاسبانی ہو،دوسری طرف شہری ذمہ داری کی ادائیگی؛دونوں ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔
ہمارے عہدکااصل امتحان شایدیہی ہے:کیاہم خطرے کی تحقیق کرتے ہوئے انصاف کوسلامت رکھ سکتے ہیں؟کیاہم مذہبی آزادی کی حفاظت کرتے ہوئے تشدداورجبرکی بے لاگ مخالفت کرسکتے ہیں؟کیاہم ماضی کی مشترک محنت کویادرکھتے ہوئے آج کے حقیقی مسائل پرکھل کرگفتگوکرسکتے ہیں؟ان سوالوں کا جواب کسی ایک اخبار،جماعت یابرادری کے پاس مکمل نہیں۔اسے معاشرے نے مل کر اپنے طرزِعمل میں لکھناہے۔
برطانیہ کی ملوں میں کام کرنے والے ہاتھ،بیمارکی چارپائی کے پاس کھڑے صحت کے کارکن،اسکول جاتے بچے،عبادت کیلئےنکلتے خاندان اورقانون کی پاسداری کرتے شہری—یہ سب اس سرزمین کی زندہ تصویرکاحصہ ہیں۔اس تصویرمیں اختلاف بھی ہے،کمزوری بھی،امیدبھی؛مگراسے ایک فرضی خطرے کے سیاہ رنگ سے ڈھانپ دینانہ تاریخ سے وفاہے نہ مستقبل سے۔
اندیشے کودلیل کے سامنے لانادانش مندی ہے۔اندیشے کوسیاست کاہتھیاربناکرانسانوں پرتان دینادانش مندی نہیں۔پردے چاہے لباس کے ہوں یاہماری نگاہ پرپڑے ہوئے تعصب کے،انصاف کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم ان کے پارموجود انسان کودیکھیں۔











