جدہ کی خاموش سفارت کاری:پردۂ رازمیں چھپے طاقت کےنئےنقشے

تاریخ کبھی محض واقعات کابے جان سلسلہ نہیں ہوتی،بلکہ وہ اپنے دامن میں زمانوں کی سرگوشیاں،تہذیبوں کی کشمکش اورقوموں کے خواب سمیٹے رکھتی ہے۔ آج جدہ کے ساحلِ احمرپرجو سفارتی ہلچل برپاہے،وہ کسی رسمی ملاقات کامعمولی منظرنہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ باب کاآغازہے جوآنے والے برسوں میں مسلم دنیاکی تزویراتی سمت کاتعین کرسکتاہے۔پاکستانی وزیرِ اعظم شہبازشریف،فیلڈمارشل عاصم منیر،ترکی کےصدراردوغان اورسعودی عرب کےولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کاایک ہی میزپرجمع ہوناگویاتاریخ کےدھارے میں ایک نئے سنگِ میل کی نویدہے۔

یہ اجتماع محض شخصیات کاملاپ نہیں بلکہ تین مختلف جغرافیوں،تین قوتوں اورتین تہذیبی روایتوں کاایسااتصال ہے جواگرہم آہنگ ہو جائے تومشرقِ وسطیٰ سے لے کرجنوبی ایشیاتک ایک نئے توازنِ قوت کی بنیادرکھ سکتاہے۔اس منظرکو قرآنِ حکیم کی اس ابدی ہدایت کی روشنی میں دیکھاجائے تواس کی معنویت اوربھی گہری ہوجاتی ہے یعنی “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”اتحادہی قوت ہے اورافتراق کمزوری۔

اگرہم تاریخ کے آئینے میں جھانکیں توخلافتِ راشدہ سے لے کرسلطنتِ عثمانیہ تک مسلم دنیاکی قوت کارازہمیشہ وحدتِ فکراوراشتراکِ عمل میں پوشیدہ رہا ہے۔آج کایہ ممکنہ سہ فریقی اتحاد اسی گمشدہ روایت کی بازیافت کی ایک سنجیدہ کوشش معلوم ہوتاہے—گویاوقت کا پہیہ ایک نئے دائرے میں داخل ہورہا ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ جدہ کایہ لمحہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری سوال بھی ہے:کیامسلم دنیاایک بارپھراپنے منتشراجزاءکو یکجا کرکےایک مؤثر،باوقاراوربااختیاراجتماعی قوت میں ڈھل سکتی ہے؟

جدہ کا ہ اجتماع بظاہر یک رسمی سفارتی نشست دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر یں ایک گہری تزویراتی حرکت کارفرما ہے۔ پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے مابین ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ گزشتہ ایک سال سےزیرِغوراور پردۂ اخفامیں رکھاگیا،لیکن بالآخراس کاباضابطہ اعلان کل مکہ مکرمہ گویاحرمِ کعبہ کے سایہ میں انجام پاگیا۔تاہم سفارتی حلقوں میں اس کی بازگشت واضح طورپر محسوس کی جارہی ہے۔یہ ممکنہ معاہدہ محض ایک دفاعی دستاویزنہیں ہوگابلکہ ایک ایسے اتحادکی بنیادرکھ دی گئی ہے جس میں عسکری طاقت،سیاسی بصیرت اور تزویراتی ہم آہنگی یکجاہوکر ایک مربوط قوت کی صورت اختیارکریں گی۔اس تناظرمیں سفارت کاری اپنی روایتی حدودسے آگے بڑھ کرطاقت کی ایک نئی تعبیر پیش کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں الفاظ کے ساتھ عملی اشتراک اورمشترکہ مفادات کا وزن بھی شامل ہوگیاہے۔

مغربی تھنک ٹینکس، خصوصاًکارنیگی مڈل ایسٹ سنٹراورچیتھم ہاؤس اس پیش رفت کوایک ابھرتاہوئے مسلم اسٹریٹجک بلاک کے طور پردیکھ رہے ہیں۔ان کے تجزیات کے مطابق یہ اتحادمکمل طورپر نہ صرف خطے میں امریکی اثرو رسوخ کو متوازن کرنے کی صلاحیت رکھتاہے بلکہ چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی جہتیں پیداکرسکتاہے۔مزید برآں،اس ممکنہ شراکت داری کی نوعیت صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں رہے گی،بلکہ اس میں انٹیلی جنس کےتبادلے،مشترکہ فوجی مشقوں،دفاعی پیداوارمیں اشتراک اوروسیع تر تزویراتی ہم آہنگی جیسے عناصربھی شامل ہوسکتےہیں۔یوں یہ پیش رفت ایک مکمل سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتی ہے،جہاں علاقائی استحکام اورخود انحصاری کومرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔یوں جدہ کی یہ ملاقات محض سفارت اور دفاعی معاہدہ کاایک مرحلہ نہیں بلکہ ایک ایسےممکنہ عالمی توازن کی تمہیدہے جس میں مسلم دنیاپہلی بارایک منظم اوربااثر بلاک کی صورت میں ابھر سکتی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ بظاہرمحتاط اورعمومی نوعیت کاحامل ہے،مگراس کے بین السطورمیں ایک گہری تزویراتی معنویت پوشیدہ دکھائی دیتی ہے۔شہباز شریف کے6سے8اگست تک کے دورۂ سعودی عرب کے دوران علاقائی اورعالمی امورپرگفتگو کا ذکردراصل ایک وسیع ترخاکے کی طرف اشارہ ہے،جہاں دفاعی تعاون او اسٹریٹجک ہم آہنگی مرکزی حیثیت اختیارکرتےنظرآتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کی دنیامیں خاموشی محض غیرموجودگیِ کلام نہیں بلکہ ایک بامعنی طرزِاظہارہوتی ہے۔ اسی تناظر میں قرآنِ حکیم کی یہ رہنمائی بھی قابلِ غورہے۔: اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جوزمین پرنرمی اورعاجزی کے ساتھ چلتے ہیں،اورجب جاہل لوگ ان سے(سختی یا نادانی سے)مخاطب ہوتے ہیں تووہ کہتے ہیں:سلام۔)
گویا حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر بات کو فوری اعلان کا حصہ نہ بنایا جائے، بلکہ مناسب وقت اور موقع کا انتظار کیا جائے۔

یہ سفارتی احتیاط دراصل ایک آزمودہ حکمتِ عملی کی عکاس ہے،جسے مغربی تجزیہ کار”اسٹرٹیجک ابہام”سےتعبیر کرتے ہیں—یعنی ایسی دانستہ ابہامیت جو بڑے منصوبوں کوقبل ازوقت منظرِعام پر آنےسے محفوظ رکھتی ہے۔سردجنگ کے دوران امریکا اورسوویت یونین کی خفیہ سفارت کاری بھی اسی طرزِعمل کی نمایاں مثال تھی،جہاں بڑے فیصلے خاموشی کے پردے میں ترتیب پاتے اورپھر مناسب وقت پرسامنے آتےتھے۔

تاریخی طور پربھی یہ حقیقت واضح رہی ہے کہ بڑے اتحاد اچانک وجود میں نہیں آتے،بلکہ وہ پہلے فکری سطح پرتشکیل پاتے ہیں،پھر سفارتی تعامل میں ڈھلتے ہیں اوربالآخرعملی صورت اختیار کرتے ہیں۔جدہ کی یہ نشست بھی اسی تدریجی عمل کی ایک اہم کڑی معلوم ہوتی ہے،جہاں خاموشی دراصل آنے والے ممکنہ فیصلوں کی گہرائی اورسنجیدگی کوظاہرکررہی ہے۔یوں یہ سفارتی سکوت کسی خلا کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی ہے جہاں الفاظ سے زیادہ حکمت،اوراعلانات سے زیادہ تیاری کوترجیح دی جارہی ہے۔

یہ ممکنہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی اچانک سیاسی خیال یاوقتی ضرورت کانتیجہ نہیں،بلکہ ایک طویل سفارتی سفر،مسلسل مذاکرات اوربدلتے ہوئے علاقائی حالات کاحاصل ہے۔جنوری میں ترکی کے وزیرِخارجہ خاقان فیدان کی جانب سے ایک “جامع پلیٹ فارم”کی ضرورت پرزوردینااسی وژن کی ابتدائی جھلک تھی،جواب ایک عملی شکل اختیارکرتادکھائی دے رہاہے۔پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوارکی جانب سے ایک سالہ مذاکرات کے بعدمعاہدے کے مسودے کی تیاری کی تصدیق اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تصورمحض سفارتی گفتگوتک محدودنہیں رہابلکہ عملی مراحل طےکرچکاہے۔ریاستوں کے درمیان بڑے تزویراتی فیصلے اکثر خاموش سفارتی عمل،مسلسل مشاورت اورتدریجی اعتمادسازی کےذریعے تشکیل پاتے ہیں،اوریہی عمل اس ممکنہ اتحادکے پس منظر میں بھی دکھائی دیتاہے۔

یہاں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان پہلےسے موجوددفاعی وسلامتی کاتعاون اس نئے بندھن کیلئےایک مضبوط بنیادفراہم کرتاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ مجوزہ سہ فریقی معاہدہ کسی نئے سفرکاآغازہی نہیں بلکہ ایک ایسے راستے کی توسیع ہےجس کی بنیادپہلے ہی باہمی اعتماداور مشترکہ مفادات پررکھی جاچکی ہے۔

تاریخ کے صفحات پرنظرڈالیں تومعلوم ہوتاہے کہ معاہدات ہمیشہ صرف سیاسی ضرورت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات وہ آنے والے ادوار کی سمت متعین کرنے والے تاریخی موڑثابت ہوتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ اس کی ایک روشن مثال ہے،جسے اپنے وقت میں بعض لوگوں نےبظاہرایک مشکل سمجھوتہ تصورکیا،مگروقت نے ثابت کیاکہ وہ حکمت،تدبر اور دوراندیشی پرمبنی ایک ایسافیصلہ تھا جس نے مستقبل کیلئےنئے امکانات کےدروازے کھول دیے۔ اسی تاریخی اصول کے تحت موجودہ دفاعی تعاون کوبھی دیکھاجاسکتاہے کہ ریاستوں کے درمیان پائیدارتعلقات ایک ہی لمحے میں تشکیل نہیں پاتے بلکہ اعتماد، مشترکہ مفادات اورمسلسل رابطوں کےمراحل سے گزرتے وئے مضبوط ہوتےہیں۔

اس تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے درمیان ممکنہ سہ فریقی شراکت داری ایک تدریجی ارتقاکاحصہ معلوم ہوتی ہے،جہاں ماضی کے تجربات، موجودہ علاقائی ضرورتیں اور مستقبل کے تزویراتی تقاضے ایک نقطے پرجمع ہورہے ہیں۔گویایہ معاہدہ ایک ایسے درخت کی نئی شاخ ہے جس کی جڑیں پہلے ہی تاریخ،اعتماد اورباہمی تعاون کی زمین میں پیوست ہوچکی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت عالمی سیاست کے ایک ایسے نازک دوراہے پرکھڑاہے جہاں پرانے طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اورنئے علاقائی و عالمی اتحادتشکیل پارہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی،غزہ کابحران،شام اور یمن جیسے تنازعات،توانائی کے بدلتے ہوئے تقاضے اوربڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت نےخطےکےسیاسی منظرنامے کوایک نئی شکل دے دی ہے۔ایسے حالات میں مسلم دنیاکیلئےیہ سوال اہم ہوجاتاہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےکس نوعیت کی اجتماعی حکمتِ عملی اختیارکرے۔موجودہ دورمیں محض جغرافیائی قربت کافی نہیں،بلکہ سیاسی بصیرت،معاشی قوت،دفاعی صلاحیت اورسفارتی ہم آہنگی ہی ریاستوں کو عالمی نظام میں مؤثرکردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے۔

بین الاقوامی سیاست اب روایتی یک قطبی نظام سے نکل کر ایک کثیر قطبی عالمی نظم کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اور باہمی اتحاد عالمی فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں ۔ رانڈکارپوریشن اوربروکنگزانسٹیٹوٹ جیسے اداروں کے تجزیات بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے عشروں میں علاقائی شراکت داریاں عالمی سیاست کے اہم ستون بن سکتی ہیں۔اسی تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کاممکنہ اتحادایک ایسے”علاقائی طاقت کامحور” کےطورپردیکھاجاسکتاہے جس میں تین مختلف نوعیت کی قوتیں یکجاہوتی ہیں۔پاکستان کی جوہری صلاحیت اورعسکری تجربہ،ترکی کادفاعی وسفارتی اثرو رسوخ اورسعودی عرب کی معاشی وتوانائی کی طاقت اگرمشترکہ حکمتِ عملی کےتحت بروئے کارآئے تویہ امتزاج خطے میں ایک نئے توازنِ قوت کو جنم دے سکتا ہے ۔

یہ ممکنہ شراکت داری صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جنوبی ایشیا،وسطی ایشیااورعالمی سفارت کاری کے وسیع تر دائرے میں بھی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔اس اتحاد کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ طاقت کے مقابلے کے بجائے طاقت کے توازن کے تصورکوفروغ دے سکتاہے—جہاں علاقائی ممالک اپنی خودمختاری،سلامتی اورمشترکہ مفادات کےتحفظ کیلئےایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔یوں بدلتاہواعالمی منظرنامہ اس حقیقت کو اجاگرکرتاہے کہ موجودہ صدی میں وہی اقوام مؤثرکرداراداکرسکیں گی جوانتشارکی بجائے اشتراک،انفرادی قوت کی بجائے اجتماعی حکمت اوروقتی مفادات کی بجائے طویل المدتی وژن کوترجیح دیں گی۔

تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ریاستوں کے تعلقات کبھی جامد نہیں رہتے۔وقت کےساتھ ساتھ حالات،ترجیحات اورعالمی تقاضے بدلتے رہتے ہیں،اوریہی تبدیلیاں کبھی فاصلے پیداکرتی ہیں توکبھی قربت کے نئے راستے کھول دیتی ہیں۔ترکی اورسعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی حقیقت کی ایک مثال ہیں۔

جمال خاشقجی کے واقعے کے بعددونوں ممالک کے درمیان جوسفارتی کشیدگی پیداہوئی،اس نے تعلقات میں ایک طویل سردمہری کوجنم دیا،مگروقت کے گزرنے کے ساتھ یہ احساس غالب آیاکہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یادائمی دوستی کی بجائےقومی مفادات،علاقائی استحکام اورباہمی ضرورتیں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔آج ترکی اورسعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی محض ایک وقتی سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک گہرے تزویراتی ادراک کانتیجہ ہے۔دونوں ممالک نے یہ محسوس کیاکہ بدلتے ہوئےعالمی منظرنامے میں باہمی اختلافات کوطول دینے کی بجائے مشترکہ امکانات کوفروغ دینازیادہ دانش مندانہ راستہ ہے۔

یہ مفاہمت ہمیں تاریخ کےان ادوارکی یاددلاتی ہے جب مسلم دنیاکی مختلف ریاستیں داخلی اختلافات کے باوجودبڑے چیلنجز کے مقابلے کیلئے مشترکہ مفادات کے دائرے میں تعاون کرتی رہی ہیں۔اندلس کی تاریخ میں بھی ایسے ادوارملتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات کے باوجود تہذیبی اور علمی روابط نے معاشروں کو قریب رکھا۔آج کادوربھی اسی حقیقت کا تقاضا کرتا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کومستقبل کے امکانات پرغالب نہ آنے دیا جائے ۔ترکی اورسعودی عرب کے تعلقات میں آنے والی بہتری اس بات کااظہارہے کہ دوراندیش قیادتیں تاریخ کے بوجھ تلےدبنے کی بجائے مستقبل کےراستے تلاش کرتی ہیں۔یوں یہ مفاہمت محض دوریاستوں کے تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ اس وسیع ترحقیقت کی علامت ہےکہ عالمی سیاست میں طاقت،استحکام اوراثرورسوخ انہی اقوام کو حاصل ہوتاہے جواختلافات کے باوجود تعاون کے امکانات کوزندہ رکھنے کاہنرجانتی ہیں۔

ترکی کی اس ممکنہ سہ فریقی شراکت داری میں دلچسپی محض ایک محدوددفاعی تعاون تک منحصرنہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایک وسیع ترعلاقائی وژن کارفرما دکھائی دیتاہے۔انقرہ اس امر کوبخوبی سمجھتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کےموجودہ مسائل کی جڑصرف عسکری تنازعات میں نہیں بلکہ باہمی عدم اعتماد،سیاسی تقسیم اورمشترکہ حکمتِ عملی کےفقدان میں بھی پوشیدہ ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ترکی کامقصد ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل ہے جہاں مختلف قوتیں اپنے اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرسلامتی،استحکام اور مشترکہ مفادات کیلئےتعاون کر سکیں ۔اگرپاکستان،سعودی عرب،ترکی اپنے اس اتحاد کے بعد ممکنہ طورپرمصرجیسے اہم ممالک کسی مشترکہ فریم ورک کےتحت قریب لے آئیں تویہ اتحادمحض دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پربھی ایک مؤثرآوازبن سکتاہے۔

یہ تصوربظاہرایک بلندخیال محسوس ہوسکتاہے،مگرتاریخ گواہ ہے کہ بڑے اتحاد ہمیشہ پہلے ایک خیال کی صورت میں جنم لیتے ہیں اورپھر حالات کی ضرورت انہیں حقیقت کے قالب میں ڈھال دیتی ہے۔یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے اتحاداور ایشیامیں ابھرنے والی علاقائی شراکت داریاں اس حقیقت کی مثال ہیں کہ مشترکہ مفادات کبھی کبھی مختلف ریاستوں کوایک نئے راستے پراکٹھا کردیتے ہیں۔

ترکی کاوژن اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجاسکتاہے۔یہ صرف عسکری تعاون کامنصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے علاقائی توازن کی تلاش ہے جس میں سفارت کاری ،دفاع،معیشت اورسیاسی اثر ورسوخ ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔رجب طیب اردوغان کی خارجہ پالیسی میں یہ تصورنمایاں نظرآتاہے کہ ترکی کوایک ایسی قوت کےطورپراپناکرداراداکرناچاہیےجویورپ،مشرقِ وسطیٰ اورایشیاکے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہو۔

بعض مغربی تجزیہ کاراس سوچ کو”نیوعثمانی اسٹریٹجک آؤٹ لک”کے عنوان سے بیان کرتے ہیں،اگرچہ اس اصطلاح کے مختلف سیاسی مفاہیم ہیں،تاہم اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترکی اپنی تاریخی،جغرافیائی اورتہذیبی اہمیت کوجدید سفارتی اورتزویراتی کردارمیں تبدیل کرنے کی کوشش کررہاہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دورمیں علاقائی مسائل کاحل صرف بیرونی طاقتوں کے ذریعےتلاش نہیں کیا جا سکتا،بلکہ خطے کے ممالک کوبھی اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کااحساس کرناہوگا۔اسی لیے ترکی کایہ وژن ایک ایسے نئے علاقائی تصورکی طرف اشارہ کرتاہے جس میں اتحادکوغلبے کی بجائے استحکام،اورطاقت کوتصادم کی بجائے توازن کیلئےاستعمال کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔

ترکی کی دفاعی صنعت کاسفرجدید دنیامیں خودانحصاری،تحقیق اورقومی عزم کی ایک نمایاں مثال بن کرسامنے آتاہے۔ایک وقت تھاجب ترکی اپنی دفاعی ضروریات کیلئےبڑی حدتک بیرونی ذرائع پرانحصارکرتاتھا،مگرمسلسل منصوبہ بندی،ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور مقامی صلاحیتوں کےفروغ نےاسےایک ایسے مقام پرپہنچادیاہے جہاں وہ نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنےکی کوشش کررہا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں ایک اہم برآمدکنندہ کےطورپربھی ابھررہاہے۔یہ تبدیلی محض عسکری پیداوارمیں اضافے کی داستان نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی سوچ کی علامت ہے۔قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: اوران کے مقابلے کیلئےجہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیاررکھو۔یہ آیت اس اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ امن، سلامتی اورخودمختاری کے تحفظ کیلئےاقوام کواپنی صلاحیتوں کومضبوط بنانا چاہیے۔ترکی نےاسی تصورکو جدیدتقاضوں کےمطابق اختیارکرتے ہوئے دفاعی تحقیق،مقامی پیداواراورجدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

خصوصاًترک ساختہ جنگی ڈرونزنے یوکرین،شام،لیبیااوردیگرتنازعات میں اپنی عملی صلاحیت کامظاہرہ کرکے عالمی سطح پرتوجہ حاصل کی۔ان ڈرونزکی کامیابی نے یہ ثابت کیاکہ جدیدجنگ صرف بڑے پیمانے کی روایتی فوجی طاقت کانام نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت،نگرانی کے نظام اورکم لاگت مؤثردفاعی صلاحیتیں بھی فیصلہ کن کرداراداکرسکتی ہیں۔ترکی کی دفاعی صنعت کایہ ارتقاممکنہ سہ فریقی اتحادکیلئےبھی ایک اہم عنصربن سکتاہے،کیونکہ دفاعی تعاون اب صرف فوجی معاہدوں تک محدودنہیں رہابلکہ تحقیق،پیداوار،ٹیکنالوجی کے تبادلے اورمشترکہ دفاعی منصوبوں تک پھیل چکاہے۔

یوں ترکی کی دفاعی صنعت ایک ایسی تزویراتی قوت میں تبدیل ہورہی ہے جواسے نہ صرف علاقائی سیاست میں زیادہ خودمختارکردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے بلکہ عالمی طاقت کے نظام میں بھی ایک بااثرمقام فراہم کرتی ہے۔یہ داستان اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جو قومیں علم،تحقیق اورخود انحصاری کواپناشعار بنالیتی ہیں،وہ بدلتے ہوئےعالمی منظرنامےمیں اپنی جگہ خودتراش لیتی ہیں۔

دفاعی طاقت کاتعین اب صرف فوجی تعداد،روایتی ہتھیاروں یادفاعی بجٹ کے حجم سے نہیں کیاجاتا،بلکہ جدید دورمیں ٹیکنالوجی، تحقیق،جدت، مقامی پیداوار اورخود انحصاری وہ عناصرہیں جو کسی بھی ریاست کی حقیقی تزویراتی قوت کاتعین کرتے ہیں۔اسی تناظر میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی دفاعی صنعت سے متعلق درجہ بندی ترکی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ایک اہم مظہر پیش کرتی ہے۔

“سپری”کی رپورٹ میں ترک دفاعی کمپنیوں کی شمولیت محض چند اعدادوشمارکا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی کی علامت ہے۔ اسلسان،بایکاراوردیگرترک اداروں کی عالمی درجہ بندی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ترکی نے دفاعی پیداوار کے میدان میں ایک طویل سفرطے کیاہے اوراب وہ صرف دفاعی ضروریات پوری کرنے والاملک نہیں رہابلکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طورپر اپنی شناخت قائم کررہاہے۔یہ پیش رفت اس وسیع ترحکمتِ عملی کاحصہ ہے جس کے تحت ترکی نے بیرونی انحصارکو کم کرنے،مقامی تحقیق کوفروغ دینے اورجدید دفاعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کوترجیح دی ہے۔ آج طاقت کامفہوم بدل چکا ہے؛جس ریاست کے پاس جدید ٹیکنالوجی،تحقیقاتی صلاحیت اوردفاعی پیداوارکا مضبوط نظام موجودہو،وہ عالمی سیاست میں زیادہ خود مختارفیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔

ترکی کی دفاعی صنعت کایہ ارتقاممکنہ سہ فریقی اتحادکیلئےبھی ایک اہم عنصربن سکتاہے۔دفاعی تعاون کےجدید تصورات میں اب صرف ہتھیاروں کی فراہمی شامل نہیں بلکہ مشترکہ تحقیق ،ٹیکنالوجی کی منتقلی،دفاعی پیداواراورصنعتی شراکت داری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے ترکی کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اس ممکنہ اتحاد کیلئےایک”زبردست بڑھتی ضرب”ثابت ہو سکتی ہے۔یوں سپری کی درجہ بندی محض ایک عالمی فہرست نہیں بلکہ اس بات کاآئینہ ہےکہ ترکی نےدفاعی خودکفالت کےراستے پرچلتے ہوئے اپنی حیثیت کوایک صارف سے ایک تخلیق کاراوربرآمد کنندہ کی سطح تک بلندکرلیاہے۔یہ تبدیلی نہ صرف ترکی کیلئےاہم ہے بلکہ علاقائی طاقت کے نئے توازن میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

اٹلانٹک کونسل کےتجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحادگیم چینجرثابت ہوسکتاہے،خاص طورپراگراس میں اقتصادی اورتوانائی کےشعبے بھی شامل ہوجائیں۔اسی طرح کونسل آن فارن ریلیشن نےاسے ایک“وازنہ سازقوت”قراردیاہے،جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کوتبدیل کرسکتی ہےمگرکچھ مغربی حلقے اسے تشویش کی نگاہ سےبھی دیکھتےہیں،کیونکہ یہ اتحادمغربی اثرو رسوخ کومحدود کر سکتاہے۔اسلامی تعلیمات میں اتحاد،عدل اورقوت کومرکزی حیثیت حاصل ہے ۔اگراس ممکنہ معاہدے کوان اصولوں کےمطابق تشکیل دیا جائےتویہ نہ صرف ایک دفاعی اتحادہوگابلکہ ایک اخلاقی وتہذیبی تحریک بھی بن سکتاہے۔یہی وہ پہلو ے جو سے دیگر عالمی اتحادوں سے ممتازکرتاہے۔

ہربڑااتحاداپنے ساتھ مواقع اورچیلنجز دونوں لاتاہے۔اس سہ فریقی معاہدے کے سامنے بھی داخلی اختلافات،عالمی دباؤاورعلاقائی پیچیدگیاں جیسے مسائل ہوں گے مگراگر قیادت بصیرت،صبر اور حکمت سے کام لے تویہ اتحادایک نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔

یوں محسوس ہوتاہے کہ جدہ کی یہ نشست محض ایک وقتی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدہے جہاں مسلم دنیااپنی کھوئی ہوئی وحدت کودوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔اگریہ معاہدہ کامیاب ہوتاہے تویہ نہ صرف ایک دفاعی اتحادہوگابلکہ ایک فکری بیداری، تہذیبی احیااورسیاسی خودمختاری کی علامت بھی بن سکتاہے۔تاریخ کے اوراق شایدآنے والے برسوں میں اس لمحے کواس عنوان سے یاد کریں گے کہ یہی وہ ساعت تھی جب بکھری ہوئی قوتوں نے ایک مرکزکی تلاش شروع کی—اورشاید اسے پابھی لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں