اسلام آبادکی فضاؤں میں جب تاریخ اپنےاوراق الٹتی ہےتوبعض ایسے لمحے بھی ابھرتے ہیں جنہیں محض سفارتی واقعات کہناان کی قدرومنزلت کوکم کر دیتاہے۔یہ وہ نادرساعتیں ہوتی ہیں جب قوموں کی تقدیرایوانِ اقتدارکی سخت وسنگین فضاسے نکل کرقلم،بصیرت اورتدبرکی نرم مگرمؤثرگرفت میں آ جاتی ہے۔اسلام آبادامن معاہدہ بھی اسی نوع کی ایک درخشاں مثال ہے—ایک ایسا باب جومحض سیاسی تاریخ تک محدودنہیں بلکہ فکری،تہذیبی اورعالمی شعورکی کشمکش کاآئینہ دارہے،جہاں الفاظ نے وقتی طورپراسلحہ کی گھن گرج کوخاموش کیا،مگرسوالات کی بازگشت اب بھی فضائے وقت میں معلق ہے۔
یہ معاہدہ اپنے اندرایک ایسی رمزیت رکھتاہے جس میں تحریرکے ساتھ ساتھ سکوت بھی معنی خیزہوجاتاہے۔سفارت کے چراغ جب اس شہرکے افق پر روشن ہوتے ہیں توان کی روشنی صرف دستاویزات کونہیں بلکہ امیدکے ان نازک ریشوں کوبھی جگمگاتی ہے جوایک بہترمستقبل کی نویددیتے ہیں۔یوں محسوس ہوتاہے کہ یہ عہدنامہ الفاظ کامحض مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری اورعملی بیانیہ ہے،جس کےہرجملےمیں تاریخ کی دھڑکن سنائی دیتی ہے اورہرسطرمیں آنے والے کل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
اسی احساس کے تحت اب اس معاہدے کے مختلف پہلوؤں کواس اندازسے پیش کیاجاسکتاہے کہ اس کی معنویت میں کوئی تکرارنہ رہے اورہرنکتہ اپنی انفرادیت کے ساتھ ایک مکمل تصویرکی صورت اختیارکرلے—ایسی تصویرجس میں سیاست کی سنجیدگی،تاریخ کابانکپن اورادب کی لطافت ایک ساتھ جلوہ گرہوجائیں۔
اسلام آبادامن معاہدہ بظاہرایک سادہ سفارتی دستاویزدکھائی دیتاہے،مگراس کے پس منظرمیں عالمی سیاست کی کئی پرتیں اورپیچیدہ حکمتِ عملیاں کارفرماہیں ۔اس عہدنامے کابنیادی مقصد فوری جنگ بندی،قیدیوں کاباوقارتبادلہ،سرحدی کشیدگی میں تدریجی کمی،اور ایک ایسے جامع فریم ورک کی تشکیل تھاجس کے تحت فریقین مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے اپنے دیرینہ اختلافات کوحل کرسکیں۔ اس میں انسانی بنیادوں پراقدامات،جیسے امدادی راہداریوں کی فراہمی،متاثرہ علاقوں تک رسائی،اوربین الاقوامی مبصرین کی نگرانی کو ھی کلیدی حیثیت دی گئی، اکہ امن کے تقاضے محض سیاسی نہ رہیں بلکہ انسانی سطح پر بھی محسوس کیے جا کیں۔
اسی کے ساتھ اس معاہدے کی ساخت میں ایک مربوط تدریج اور صیرت آمیز حکمتِ عملی شامل تھی۔ مرحلہ وار اعتماد سازی”کے اصول کے تحت فریقین کواپنی عسکری سرگرمیوں کو محدود کرنے،سرحدی علاقوں میں غیرفوجی زون قائم کرنے،اورکشیدگی کےمراکزکو وقتی طورپرغیرمؤثربنانے کی تجاویزدی گئیں۔مزیدبرآں،اقتصادی وتجارتی روابط کی بحالی کوبھی ایک مؤثرذریعۂ امن تصورکیاگیا، اس یقین کے ساتھ کہ تجارت کی شاہراہیں اکثرتوپ وتفنگ کی گھن گرج کومدھم کردیتی ہیں۔یوں یہ معاہدہ محض جنگ کے تعطل کا اعلان نہیں بلکہ ایک ایسے تدریجی عمل کی بنیادتھاجس میں امن کی شمع کوطوفانی ہواؤں کے درمیان بھی روشن رکھنے کی کوشش کی گئی۔
امن کی جستجوکبھی سیدھی شاہراہ پرنہیں چلتی؛یہ اکثرایسے پُرخارراستوں سے گزرتی ہے جہاں ہرقدم پرآزمائش منتظرہوتی ہے۔ اسلام آبادامن معاہدہ بھی انہی پیچیدہ مراحل سے گزرکروجودمیں آیا ۔اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتمادکافقدان تھا، جسے تاریخی مخاصمتوں،سیاسی مفادات کی کشمکش، عسکری اداروں کے تحفظات،اورعوامی جذبات کی شدت نے مزیدگہراکر دیا۔یہ معاہدہ محض رسمی مذاکرات کانتیجہ نہ تھا،بلکہ اس کے پس پردہ طاقت کے وہ غیرمرئی دھارے بھی کارفرماتھے جوعالمی سیاست کی سمت متعین کرتےہیں۔
انہی نازک حالات نے معاملے کواس نہج تک پہنچادیاکہ امریکی قیادت کواسرائیل کوسخت وارننگ دیناپڑی۔یہ وارننگ محض ایک رسمی سفارتی بیان نہ تھی ، بلکہ اس میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھاکہ عالمی طاقتیں کسی بھی غیرمتوقع عسکری اقدام کوبرداشت کرنے کیلئےتیارنہیں۔اس تنبیہ میں جہاں طاقت کاعکس جھلکتاتھا،وہیں ایک گہری تشویش بھی نمایاں تھی—کہ اگر معاہدے کی روح مجروح ہوئی تواس کے اثرات صرف خطے تک محدودنہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن بھی اس کی لپیٹ میں آسکتاہے۔یوں یہ لمحہ ایک ایسی کیفیت کامظہرتھاجہاں اخلاقی اپیل اورسیاسی مفاد،دونوں ایک ہی سانس میں ہم آہنگ ہوکر بولتے محسوس ہوتے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کابنظرِغائرجائزہ لیاجائے توایک پہلوغیر معمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے—جوہری معاہدے کاعدم ذکر۔ یہ خاموشی محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہری سفارتی حکمتِ عملی کی آئینہ دارمحسوس ہوتی ہے۔بظاہریہ سکوت ایک خلاکاتاثردیتاہے،مگردرحقیقت اسی میں معنی کی ایک پوری دنیاپوشیدہ ہے،جہاں الفاظ سےزیادہ ان کہی باتیں اپنااثر دکھاتی ہیں۔
ایسامعلوم ہوتاہے کہ ایران نے شعوری طورپراپنے جوہری پروگرام کواس معاہدے کے دائرے سے خارج رکھا،تاکہ اسے ایک علیحدہ اورزیادہ مضبوط سفارتی محاذپرزیرِبحث لایاجاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پیش کردہ نکات میں علاقائی خودمختاری،بیرونی مداخلت کی نفی،اورداخلی استحکام کونمایاں حیثیت دی گئی—گویاترجیحات کاایک واضح نقشہ ترتیب دیاگیاہو۔اس تناظرمیں یہ معاہدہ ایران کیلئے ایک عارضی سفارتی پل کی حیثیت رکھتادکھائی دیتاہے،نہ کہ ایک ہمہ گیرحل؛ایک ایساپل جس کے ذریعےوہ اپنےبڑےمقاصدکی سمت پیش قدمی کرناچاہتا ہے،بغیر اس کے کہ اپنی اسٹریٹجک قوت کے بنیادی عناصرکو فوری سودے بازی کاحصہ بنائے۔
تاریخ کایہ اٹل سبق ہے کہ جب اعتماد کی بنیادیں کمزورپڑجائیں تومعاہدے اپنی معنویت کھوکرمحض کاغذی تحریروں میں ڈھل جاتے ہیں۔اسلام آبادامن معاہدہ بھی اسی کڑی آزمائش سے دوچارہوا،اوربالآخرجنگ کادوبارہ بھڑک اٹھنااس امرکی علامت بن گیاکہ کسی نہ کسی سطح پراس کی روح سے انحراف کیاگیا مگربین الاقوامی سیاست کی فضامیں“قصور”کاتعین اکثردھندلارہتاہے ،کیونکہ حقیقت بیانیوں کی گردمیں چھپ جاتی ہے اورہرفریق اپنے مؤقف کے حق میں دلائل کی ایک مضبوط فصیل قائم کرلیتاہے۔
بعض اوقات ایک معمولی واقعہ،جسے تدبراورتحمل سے سلجھایاجاسکتاتھا،حالات کےبہاؤمیں شدت اختیارکرکے بڑے تصادم کاپیش خیمہ بن جاتاہے۔یہی وہ نازک مرحلہ ہوتاہے جہاں سفارت کاری کی نرمی پس منظرمیں چلی جاتی ہے اورعسکریت کی سختی نمایاں ہو جاتی ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک بارپھراپنے آپ کودہرارہی ہے—جہاں الفاظ کی قوت دم توڑدیتی ہے اورہتھیاروں کی زبان غالب آجاتی ہے،اورمعاہدے کی روشن سطوردھندلاکررہ جاتی ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم اوربنیادی حیثیت رکھتاہے کہ کیا اسلام آبادامن معاہدے میں خلاف ورزی کرنےوالےفریق کیلئےکوئی واضح اورمؤثر تعزیری نظام متعین کیاگیاتھا؟اگرایساکوئی سخت طریقۂ کارموجودنہ ہوتوپھراس معاہدے کی پائیداری کاانحصارکن عوامل پرقائم رہے گا؟
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ بتاتی ہےکہ اکثرمعاہدے محض قانونی دفعات کےسہارے نہیں چلتےبلکہ اخلاقی دباؤ،سفارتی تنہائی، عالمی ردِعمل اورممکنہ اقتصادی پابندیوں جیسے عوامل ان کے تحفظ کاذریعہ بنتے ہیں۔تاہم یہ نظام اپنی جگہ ایک کمزوری بھی رکھتا ہے،کیونکہ جب قومی مفادات،داخلی سیاسی دباؤیاطاقت کےتقاضےغالب آجائیں تومحض اخلاقی اپیلیں اورسفارتی دباؤہمیشہ کافی ثابت نہیں ہوتے۔اسلام آبادمعاہدے کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ کیافریقین وقتی مفادات سے بلندہوکراس کی روح کااحترام کریں گے یاطاقت اور مصلحت کی کشمکش اسے کمزورکردے گی؟کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ امن کے معاہدے صرف دستخطوں سے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ اعتماد،سیاسی بصیرت اورذمہ دارانہ طرزِعمل سے زندہ رہتے ہیں۔اگریہ عناصرکمزورپڑجائیں توبہترین تحریری معاہدے بھی وقت کی گردمیں دب سکتے ہیں،اوریہی وہ مقام ہے جہاں اس معاہدے کے مستقبل پرایک اہم سوالیہ نشان قائم ہوجاتاہے۔
بین الاقوامی معاہدے جامدپتھر کی لکیرنہیں ہوتے بلکہ بدلتے ہوئے حالات،نئے چیلنجزاورسیاسی حقائق کے مطابق ارتقاپذیررہتے ہیں۔ اگرفریقین اس معاہدے کومحض وقتی جنگ بندی کی بجائے ایک دیرپاامن کی بنیادبناناچاہتے ہیں تومستقبل میں اس میں مزیدمؤثراور واضح شرائط شامل کی جاسکتی ہیں۔ان ممکنہ اصلاحات میں سخت نگرانی کے جدیدنظام،ڈیجیٹل مانیٹرنگ کےطریقۂ کار،مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیوں کاقیام،خلاف ورزی کی صورت میں واضح اورقابلِ عمل اقدامات،اورفوری ثالثی کے مؤثرمیکانزم شامل ہوسکتے ہیں، تاکہ کسی بھی اختلاف کودوبارہ تصادم میں تبدیل ہونےسےپہلےحل کیاجاسکے۔
تاہم پائیدارامن صرف سرکاری معاہدوں اورسفارتی دفعات سے قائم نہیں ہوتابلکہ عوامی سطح پراعتماد سازی بھی اس کابنیادی ستون ہوتی ہے۔عوامی روابط، ثقافتی تبادلے اورانسانی سطح پرقربت کے فروغ سے وہ خلیج کم کی جاسکتی ہے جواکثرسیاسی تنازعات کو مزیدگہراکردیتی ہے۔کیونکہ تاریخ کاتجربہ یہی بتاتاہے کہ کبھی کبھی سرحدوں کےفاصلےسے زیادہ خطرناک دلوں کے فاصلےہوتے ہیں۔یوں اگراس معاہدے کووقت کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایاجائے،شفاف نگرانی کے اصولوں سے جوڑاجائے اوراعتمادسازی کے عمل کوفروغ دیاجائے تویہ محض ایک عارضی وقفہ نہیں بلکہ خطے میں ایک نئےامنیاتی ڈھانچےکی بنیادبن سکتاہے۔
بین الاقوامی سفارت کاری کی دنیامیں اکثروہ فیصلے پسِ پردہ طےپاتےہیں جن کااعلان بعدمیں تاریخ کے صفحات پرہوتاہے۔خاموش رابطے،غیررسمی ملاقاتیں اورخفیہ سفارتی راستے کئی مرتبہ وہ کام انجام دیتےہیں جوکھلے مذاکرات کی میزپرممکن نہیں ہوتے۔یہی بیک ڈورچینلزدراصل سفارت کاری کے وہ خاموش دریاہیں جوبظاہرنگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں،مگرعالمی سیاست کی بنجرزمین کو امکانات کی نمی فراہم کرتے ہیں۔
اسلام آبادامن معاہدے کے پس منظرمیں بھی پاکستان کے علاوہ دیگرعلاقائی اورعالمی اثرورسوخ رکھنے والے ممالک کے سفارتی روابط اورپسِ پردہ کوششوں کواہمیت حاصل رہی۔یہ وہ سفارتی شطرنج ہے جس میں اصل چالیں اکثردکھائی نہیں دیتیں،مگران کے اثرات دوررس نتائج کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں۔ان خاموش ذرائع کےذریعےنہ صرف مختلف فریقوں کےدرمیان پیغامات کاتبادلہ ممکن ہوتاہے بلکہ بحران کے نازک لمحات میں فوری رابطہ،غلط فہمیوں کاازالہ اورمذاکرات کےدروازےکھلےرکھنےمیں بھی مدد ملتی ہے۔
درحقیقت بیک ڈورسفارت کاری کی اصل طاقت یہی ہے کہ یہ شورسے دوررہ کرکام کرتی ہے۔یہاں الفاظ کم اوراشارے زیادہ بولتے ہیں،اورکبھی کبھی ایک محتاط جملہ یاایک خاموش ملاقات وہ راستہ کھول دیتی ہے جوطویل رسمی مذاکرات بھی نہیں کھول پاتے۔یہی وجہ ہےکہ عالمی بحرانوں کے حل میں پسِ پردہ سفارت کاری کوہمیشہ ایک اہم اورمؤثرہتھیارسمجھاجاتا ہے۔
جنگ کاتسلسل کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدودنہیں رہتابلکہ اس کے ارتعاشات عالمی معیشت کےہرگوشے تک پہنچتے ہیں۔اگر کشیدگی برقراررہتی ہے توتوانائی کی منڈیوں میں بے یقینی،تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ،تجارتی راستوں میں رکاوٹیں،اورسرمایہ کاری کے بہاؤمیں کمی جیسے عوامل عالمی اقتصادی نظام کوشدیددباؤمیں مبتلاکرسکتے ہیں۔معاشی دنیاایک ایسے حساس توازن پرقائم ہے جہاں کسی ایک خطےکابحران پوری دنیاکی منڈیوں میں اضطراب پیداکرسکتاہے۔ایک چھوٹی سی چنگاری بھی عالمی بازاروں میں ایسی لہریں پیداکرسکتی ہے جن کے اثرات ہزاروں میل دورموجودمعیشتوں تک محسوس ہوتے ہیں۔توانائی کے بحران کےساتھ ساتھ کرنسیوں کی قدرمیں عدم استحکام،مہنگائی میں اضافہ،اورعوامی زندگی پربڑھتے ہوئے معاشی دباؤجنگ کے وہ خاموش اثرات ہیں جوتوپوں کی آوازسے کہیں زیادہ دیرتک سنائی دیتے ہیں۔
درحقیقت جنگ صرف سرحدوں پرنہیں لڑی جاتی؛اس کی قیمت منڈیوں، صنعتوں ، روزگاراورعام انسان کی روزمرہ زندگی میں بھی ادا کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی امن محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ معاشی بقاکابھی بنیادی تقاضاہے،کیونکہ دنیاکی معیشت کا جہازامن کی پرسکون لہروں میں ہی اپنے سفرکو محفوظ طریقے سے جاری رکھ سکتاہے۔
پاکستان کیلئےاسلام آبادامن معاہدہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک کٹھن آزمائش،ایک تاریخی موقع اورایک ذمہ داری بھی ہے۔ایک طرف پاکستان امن کے داعی اورذمہ دارریاست کے طورپرعالمی سطح پراپناکردارمضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے،تو دوسری جانب اسے داخلی سطح پرسیاسی کشمکش، معاشی دباؤ،سلامتی کے چیلنجز اور مختلف نوعیت کی آزمائشوں کا سامناہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی کامیابی کاانحصارصرف بیرونی حکمتِ عملی پرنہیں بلکہ داخلی استحکام اورقومی یکجہتی پربھی ہوتا ہے۔
اس معاہدے کی قیمت صرف سفارتی محنت،مذاکرات اورعالمی رابطوں تک محدودنہیں بلکہ اس کیلئےداخلی سطح پربھی کئی قربانیاں، محتاط فیصلےاورغیرمعمولی تدبردرکارہیں۔پاکستان کوایک ایسے نازک توازن کوبرقراررکھناہے جہاں ہ قدم سوچ سمجھ کراٹھانا ضروری ہے،کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں معمولی سی لغزش بھی بڑے نتائج کوجنم دے سکتی ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ بیرونی محاذپرکامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اندرونی صفیں مضبوط،متحداورپُراعتماد ہوں۔ایک منتشر قوم عالمی میدان میں اپنی آوازمؤثراندازمیں بلندنہیں کرسکتی،جبکہ اتحاد،سیاسی بصیرت اورقومی اتفاقِ رائے کسی بھی سفارتی کوشش کومضبوط بنیادفراہم کرتے ہیں۔آخرکاراسلام آبادامن معاہدہ صرف ایک سفارتی دستاویزنہیں بلکہ قوموں کی نیت،قیادت کی بصیرت اورانسانیت کےاجتماعی شعورکا امتحان ہے۔اگراسے اخلاص،حکمت،ذمہ داری اورامن کےاصولوں کےساتھ آگے بڑھایاگیاتویہ تاریخ کےصفحات میں ایک روشن باب کی حیثیت اختیارکرسکتاہے؛لیکن اگر مفادات،عدم اعتماداوروقتی سیاسی تقاضے اس پرغالب آگئے تویہ بھی ان بے شمارمعاہدوں کی طرح ایک ادھوری امیدبن کررہ جائے گاجووقت کی گردمیں کہیں گم ہوجاتے ہیں۔
اختتامیہ کے طورپریہ کہاجاسکتاہے کہ اسلام آبادامن معاہدہ محض چندصفحات پرمشتمل ایک سفارتی دستاویزنہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی داستان ہے جس میں امیداوراندیشہ،تدبراورتضاد،سفارت کاری اورطاقت کی کشمکش،سب ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔یہ معاہدہ ایک ایسےخطےمیں امن کی کوشش کی علامت ہے جہاں دہائیوں سےبداعتمادی،تنازعات اورجغرافیائی سیاسی رقابتوں کے سائے موجود رہےہیں۔یہاں ہرمعاہدہ صرف الفاظ کامجموعہ نہیں ہوتابلکہ اس کے پیچھے قوموں کےمفادات،عوام کی امیدیں،عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملیاں اورآنے والی نسلوں کامستقبل وابستہ ہوتاہے۔
اسلام آبادامن معاہدہ اگرچہ ایک شمع کی مانندہے،مگرتاریخ گواہ ہے کہ شمع صرف روشن ہونے سے منزل تک نہیں پہنچاتی؛اسے طوفانی ہواؤں سے بچانے کیلئےمسلسل نگہداشت، بصیرت اورعزم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس شمع کاایندھن صرف دستخط شدہ کاغذات نہیں بلکہ وہ اعتمادہے جوفریقین کے درمیان قائم ہوتاہے،وہ حکمت ہے جومشکل فیصلوں کی رہنمائی کرتی ہے،اوروہ مشترکہ ذمہ داری کااحساس ہے جووقتی مفادات سے بلندہوکرامن کے وسیع تر مقصد کوترجیح دیتاہے۔
اس معاہدے کے تمام پہلوہمیں یہ یاددلاتے ہیں کہ امن کاراستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔جنگ بندی کے باوجوداصل امتحان اعتمادسازی کا ہوتاہے؛کیونکہ کمزوراعتمادمضبوط معاہدوں کوبھی متزلزل کرسکتاہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ نگرانی کے مؤثرنظام،خلاف ورزیوں کے واضح طریقۂ کار،مسلسل مذاکرات اورسفارتی رابطوں کوبرقراررکھاجائے،تاکہ کوئی بھی چھوٹااختلاف دوبارہ ایک بڑے تصادم کی صورت اختیارنہ کرسکے۔
اس معاہدے کے پس منظرمیں عالمی طاقتوں کاکرداربھی ایک اہم حقیقت ہے۔امریکاکی سفارتی پوزیشن،ایران کےمحتاط بیانات،علاقائی طاقتوں کے مفادات ، اورپاکستان سمیت دیگر ممالک کی پسِ پردہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدیددنیامیں کوئی بھی علاقائی بحران اب صرف ایک خطے تک محدودنہیں رہتا۔توانائی،تجارت،سلامتی اورعالمی معیشت ایک دوسرے سے اس قدرجڑچکے ہیں کہ ایک خطےکی بے چینی پوری دنیاکے معاشی اورسیاسی نظام کومتاثر کرسکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی امن معاہدے کی اصل طاقت صرف بیرونی ضمانتوں میں نہیں بلکہ فریقین کے داخلی ارادے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اگرسیاسی قیادتیں اپنے وقتی مفادات کووسیع ترقومی اورعلاقائی مفادات پرقربان کرنے کاحوصلہ دکھائیں،اگرعوامی سطح پرنفرت کی بجائے اعتماد کوفروغ دیاجائے،اوراگرسفارت کاری کوجنگ کے متبادل کے طورپرحقیقی اہمیت دی جائے تویہی معاہدہ ایک نئے دورکی بنیادبن سکتاہے۔
پاکستان کیلئےبھی یہ مرحلہ ایک تاریخی ذمہ داری کی حیثیت رکھتاہے۔امن کے عمل میں کرداراداکرناصرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ داخلی استحکام،قومی اتحاداورمتوازن خارجہ پالیسی کاتقاضا بھی کرتاہے۔ایک مضبوط اورمتحدپاکستان ہی عالمی سطح پرمؤثرکردارادا کرسکتاہے،کیونکہ بیرونی میدان میں کامیابی کی بنیادہمیشہ اندرونی استحکام پرقائم ہوتی ہے۔
بالآخراسلام آبادامن معاہدہ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتاہے کہ طاقت کااصل کمال جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ امن قائم رکھنے میں ہے۔ تاریخ ان قوموں کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سےدیکھتی ہےجو اپنی قوت کوتباہی کیلئےنہیں بلکہ تعمیر، نصاف اورانسانی بہبود کیلئے استعمال کرتی ہیں۔اگریہ معاہدہ اخلاص،حکمت، شفافیت اورمشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تویہ صرف ایک خطے کیلئےنہیں بلکہ پوری دنیاکیلئےامیدکی ایک روشن مثال بن سکتاہے لیکن اگرعدم اعتماد،طاقت کی سیاست اوروقتی مفادات اس پرغالب آگئے تویہ بھی ان بے شمار معاہدوں کی طرح تاریخ کےاوراق میں ایک ایسی تحریربن جائےگاجسےکبھی امیدکےساتھ لکھاگیاتھا،مگرعمل کی کمی کےباعث وقت کی گردمیں کھو گئی۔
کیونکہ تاریخ کاسب سے بڑاسبق یہی ہےکہ امن صرف دستخطوں سےپیدانہیں ہوتا،بلکہ نیتوں،کرداراورمسلسل جدوجہدسے زندہ رہتا ہے۔اگرطاقت چراغ ہے توحکمت اس کی روشنی ہے، اور اگرامن منزل ہے تواعتمادوہ راستہ ہے جس کے بغیر کوئی قوم اس منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔








