کیاہم اس دورِآشوب میں ایک نئی سفارتی کشمکش کے ابھرتے نقوش نہیں دیکھ رہے،جہاں الفاظ تلواروں کی طرح چمک رہے ہیں اور بیانات بارودکی طرح پھٹ رہے ہیں؟کیاحالیہ ایام میں امریکااوراسرائیل کے درمیان تلخی کی لہریں ابھرتی ہوئی محسوس نہیں ہورہیں؟ عصرِحاضر کی بین الاقوامی سیاست اگرایک وسیع سمندرہے توامریکااوراسرائیل کے تعلقات اس سمندرکی وہ موج ہیں جوکبھی پرسکون دکھائی دیتی ہے اورکبھی طوفانی۔عصرِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست میں جومنظرنامہ ابھررہاہے،اس میں امریکااوراسرائیل کے مابین لفظی کشاکش ایک غیر معمولی واقعہ محسوس ہوتی ہے۔
الفاظ کی یہ جنگ گویاسفارتی ایوانوں سے نکل کرذرائع ابلاغ کی گلیوں میں گونج رہی ہے،جہاں ہرجملہ ایک تیراورہربیان ایک تلواربن چکاہے۔یہ کشمکش محض الفاظ کی نہیں،مفادات اور بیانات کی آہنی دیواروں کی بازگشت ہے۔بظاہریہ بیانات کی جنگ ہے،مگردرحقیقت یہ مفادات،ترجیحات اورطاقت کے نئے توازن کی علامت ہے۔امریکااوراسرائیل کے درمیان حالیہ تلخ بیانی محض وقتی اشتعال نہیں بلکہ ایک ایسے زیرِزمین لاوے کی علامت ہے جومدتوں سے پک رہاتھا۔ایران کے ساتھ طے پانے والے اسلام آبادمفاہمتی معاہدے نے اس لاوے کوسطح پرلاکھڑاکیاہے۔یہ محاذآرائی دراصل خاموش اختلافات کی بلندہوتی صداہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں کے درمیان جولفظی کشیدگی ابھرکرسامنے آئی ہے،وہ محض بیانات کاتبادلہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور اسٹریٹیجک اضطراب کااظہار ہے جومدتوں سے اندرہی اندر پرورش پارہاتھا۔اسلام آبادمیں طے پانے والاایران۔امریکامفاہمتی معاہدہ گویا اس خاموش آتش فشاں کےدہانے کوچھیڑنے کاسبب بنااوریوں ایران کے ساتھ اسلام آبادمیں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے نے اس کشیدگی کونمایاں کردیاہے۔اسرائیل،جوہمیشہ امریکاکاقریبی حلیف رہا،اس پیش رفت کوشک وشبہ کی نگاہ سے دیکھ رہاہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری اوراسٹریٹیجک مفادات ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ محض الفاظ کی جنگ نہیں بلکہ مفادات کی تہہ میں چھپی ہوئی بے چینی کی ترجمانی ہے۔اسرائیل،جوخودکوامریکی خارجہ پالیسی کاغیراعلانیہ مرکزسمجھتا رہا،اس پیش رفت کواپنے کردارکی تحدیدکے طورپر دیکھ رہا ہے۔جیسا کہ برٹرینڈرسل نے کہاتھا” طاقت جب تقسیم ہوتی ہے توبے چینی جنم لیتی ہے۔یہ کشمکش دراصل طاقت کےتوازن میں باریک مگرمعنی خیز تبدیلی کااعلان ہے”۔
لبنان کی سرزمین پرگرتے بم اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ عالمی معاہدے اکثرمیدانِ عمل میں اپنی تاثیرکھودیتے ہیں۔لبنان کی سرزمین آج بھی دھوئیں میں لپٹی ہوئی ہے، حالانکہ معاہدوں کی میزپرامن کے چراغ جلائے گئے تھے۔لبنان پراسرائیلی حملوں کاتسلسل اس امرکی واضح دلیل ہے کہ عالمی معاہدے اکثرزمینی حقیقتوں کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔اسرائیل کے حملے اس حقیقت کااعلان ہیں کہ عالمی سیاست میں معاہدے اکثرنیتوں سے زیادہ کمزورہوتے ہیں۔
یہاں طاقت کاسکہ چلتاہے،تحریری وعدے اکثربے وزن ہوجاتے ہیں۔اسلام آبادمفاہمتی یادداشت کے بعدبھی لبنان پراسرائیلی حملوں کا تسلسل اس امرکی علامت ہے کہ زمینی حقیقتیں کاغذی معاہدوں کی پابندنہیں ہوتیں۔یہاں طاقت کاقانون،معاہدے کی سیاہی پرغالب دکھائی دیتاہے۔ایران کی شرائط میں جنگ بندی شامل تھی،ایران نے جنگ بندی کواپنی شرط بنایا،مگراسرائیل نے اپنے عسکری اہداف اورعسکری تسلسل کوترجیح دی۔یہ صورتحال ہمیں یاددلاتی ہے کہ طاقت کی سیاست میں معاہدے محض ایک عارضی وقفہ ہوتے ہیں، مستقل حل نہیں۔ یہاں طاقت کااصول معاہدوں کی تحریرپرغالب آتادکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہی منظرہے جوہمیں تاریخ کے اوراق میں بارہانظرآتاہے کہ جب بندوق بولتی ہے توسفارت خاموش ہوجاتی ہے۔یادرہے کہ سیاست میں اخلاق کاچراغ اکثرطوفانوں میں بجھ جاتاہے۔یہاں بھی معاہدہ ایک تحریرہے،جبکہ طاقت ایک حقیقت۔
امریکی قیادت کے بیانات اوراسرائیلی وزراکی مخالفت ایک ہی رشتے میں دومختلف زاویۂ نگاہ کوظاہرکرتی ہے۔اسرائیلی وزراکی مخالفت اورامریکی قیادت کے بیانات ایک داخلی تضادکو ظاہرکرتے ہیں امریکی قیادت اوراسرائیلی وزراکے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں،گویاایک ہی سازپرمختلف دھنیں بج رہی ہوں۔گویاامریکی قیادت کے بیانات اوراسرائیلی وزرا کی مخالفت گویاایک ہی کشتی کے مسافروں کے درمیان سمت کے اختلاف کااظہارہیں۔ٹرمپ کاسخت لہجہ اوراسرائیلی وزراکی مزاحمت ایک داخلی تناؤکی عکاسی کرتی ہے۔یہ ہم آہنگی کے پردے میں چھپاہوااختلاف ہے اوریہ اختلاف اتحادکےاندرپوشیدہ اضطراب کی علامت ہے۔
ٹرمپ کاجارحانہ لہجہ اوراسرائیلی قیادت کاردعمل گویاایک ہی رشتے میں مختلف ترجیحات کی کشمکش ہے۔یہ تضادہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ اتحادہمیشہ یکساں سوچ کانام نہیں ہوتا۔یہ اختلاف اتحادکےاندرچھپی ہوئی فکری دراڑوں کااظہارہے۔ایک طرف عالمی استحکام کادعویٰ،دوسری طرف علاقائی غلبے کاعزم—یہ تضادمحض پالیسی کانہیں بلکہ فکرکا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد اپنی اصل آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ اختلاف دراصل یک جہتی کے تصورمیں دراڑکی پہلی پتلی لکیرہے۔
یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہے کہ آیایہ کشیدگی وقتی ہے یادیرپااورمستقل،یہ کشیدگی وقتی بادل ہے یاکسی طوفان کاپیش خیمہ؟کیایہ اختلاف وقتی ہے یاتاریخ کے کسی نئے موڑ کی تمہید؟تاریخ کےآئینے میں دیکھاجائےتوہربڑے اتحادکے اندرایسے ہی لمحات آتے رہے ہیں۔وقت ہی اس معمہ کی گرہ کشی کرے گا۔یہ سوال بین الاقوامی مباحث کامرکزبن چکا ہے ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے اتحاد اکثرایسے ہی بحرانوں سے گزرتے ہیں۔ہیگل کانظریۂ جدلیات ہمیں بتاتاہے کہ تضادہی ارتقاکوجنم دیتاہے۔تاریخ تضادات کے تصادم سے آگے بڑھتی ہے۔یہ کشمکش اورتصادم شایدایک نئے عالمی توازن کی بنیادرکھ رہاہے۔شایدیہ لمحہ بھی کسی نئے توازن کی تمہیدہو۔یہ کشمکش ممکنہ طورپرایک نئے عالمی باب کی دیباچہ نویسی ہے۔
امریکاکی امن کی خواہش اوراسرائیل کی عسکری جارحیت ایک ایسے تضادکوجنم دیتی ہے جوتاریخ کے اوراق میں بارہادہرایاگیاہے۔ امریکاایک طرف جنگ کے خاتمے کاخواہاں ہے اور امن کے قیام کی طرف مائل دکھائی دیتاہے،جبکہ اسرائیل اپنی عسکری برتری برقراررکھنے پرمصرہے۔امریکاکی خواہش ہے کہ خطہ ایک نئے سفارتی توازن کی طرف بڑھے،جبکہ اسرائیل طاقت کے ذریعے سفارتی توازن کواپنے لئے خطرہ سمجھتاہے۔یہ تضاددراصل امن بمقابلہ غلبہ کی ازلی کشمکش ہے یہ وہی تضادہے جسے ہنری کسنجر نے طاقت اورسفارت کے درمیان دائمی کشمکش قراردیاتھااوریہ کشمکش عالمی سیاست کی روح ہے۔کسنجرکے الفاظ میں سفارت کاری طاقت کے بغیربے معنی ہے،اورطاقت سفارت کے بغیراندھی۔یہ تضاد عالمی سیاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔یہ تضاد پالیسی اورطاقت کے درمیان دائمی کشمکش اورموجودہ بحران کی جڑہے۔
امریکی نائب صدرکے سخت بیانات سفارتی روایت سے ہٹ کرانحراف کااظہار ہیں،جواس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اختلافات اب پردے میں نہیں رہے۔ گویاضبط کابندٹوٹ گیا ہو ۔یہ بیانات دراصل ایک گہری بے چینی کااظہارہیں جواب سطح پرآچکی ہے جواب تک جواندرہی اندرپل رہی تھی۔یہ الفاظ خاموش اضطراب کی بلندہوتی ہوئی آوازہیں۔یہ بیانات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب مفادات خطرے میں اندر ہی اندرپل رہی تھی۔یہ الفاظ خاموش اضطراب کی بلندہوتی ہوئی آوازہیں۔یہ بیانات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ جب مفادات خطرے میں ہوں تو زبان بھی تلواربن جاتی ہے۔یہ الفاظ دراصل پوشیدہ بے چینی کی آشکارصورت اورخاموش ناراضگی کی بلندآوازہیں۔
ٹرمپ اوروینس کی کھلی تنقیداس امرکی دلیل ہے کہ اختلاف اب پردوں کے پیچھے نہیں رہابالخصوص ٹرمپ کی کھلی تنقیداس امرکی غمازہے کہ اب اختلافات کوچھپاناممکن نہیں رہا۔جیساکہ جارج اورویل نے کہا“سچائی کاانکارخودایک جرم ہے”۔سچائی جب خطرے میں ہوتوخاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ہرسچائی پہلے مذاق بنتی ہے،پھرمخالفت، اور آخرکارحقیقت تسلیم کرلی جاتی ہے۔یہ تنقیدخاموشی کے خاتمے کااعلان ہے۔گویایہ بیانات سفارتی پردوں کے چاک ہونے کی علامت ہیں۔یہ شفافیت نہیں بلکہ مجبوری کی بے نقابی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اختلافات وقتی ہیں کیونکہ امریکااوراسرائیل کے مفادات گہرائی میں جڑے ہوئے ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ عسکری،معاشی اورنظریاتی سطحوں پراستوارہے ۔یہ رشتہ دریاکی مانندہے—سطح پرموجیں،مگرگہرائی میں سکون۔یہ تعلقات وقتی ناراضی سے متاثرہوسکتے ہیں مگرٹوٹ نہیں سکتے۔یہ رشتہ وقتی ناراضیوں کے باوجوداپنی بنیادمیں مستحکم ہے ۔یہ رشتہ درخت کی جڑوں کی مانندمضبوط ہے،چاہے شاخیں ہلتی رہیں۔درخت ہل سکتاہے،مگر جڑیں آسانی سے نہیں اکھڑتیں۔
امریکامیں یہ احساس پیداہورہاہے کہ شاید اسرائیل نے صورتحال کی مکمل تصویرپیش نہیں کی اوراسرائیل نے جنگی حقائق کوخوفناک حدتک بڑھاچڑھا کرپیش کیا۔یہ احساس اعتماد کے ستون اوریقین کےشیشے میں پہلی دراڑہے ۔ یہ احساس اعتماد کے رشتے کومتاثراور بدگمانی کے بحران کوجنم دے سکتا ہے ، کیونکہ سیاست میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ ہوتاہے ۔ یہ بدگمانی اعتمادکے ستون میں ایک باریک مگرخطرناک دراڑہے۔
اسرائیلی میڈیاکی تنقیددراصل ایک خوف کی عکاسی ہے—کہ کہیں سفارت کاری عسکری برتری کومحدودنہ کردے۔یہ خوف طاقت کے زوال کانہیں بلکہ اختیارکے تنگ ہونے کا ہے ۔یہ خوف طاقت کے توازن کے بدلنے کاہے۔یہ وہی خوف ہے جوہرطاقتورریاست کولاحق ہوتاہے جب اس کی آزادیٔ عمل کم ہونے لگے۔ا وریہی اندیشہ اختیارکےمحدودہونے کاعکاس ہے۔یہ اضطراب اختیارکے دائرے کے سکڑنے کاعکس ہے۔
معاہدے کودھوکہ قراردینااسرائیل کے اسٹریٹیجک خدشات اورعالمی تنہائی کے اندیشے کااظہارہے۔یہ آوازتحفظ کے نام پربے یقینی کی صداہے۔ہابس کے مطابق بقاکاخوف ریاستوں کو ہر حدتک لے جاتاہے۔یہ ردعمل بقاکی نفسیات کافطری عکس ہے،یہ خوف بقاکی نفسیات کا فطری اظہارہے اوریہ خوف بقاکے اضطراب سے جنم لیتاہے۔بقاکاخوف ریاستوں کے رویے کومتعین کرتاہے۔ایک اورجگہ تھامس ہابس نے کہاہے انسان کاسب سے بڑاخوف تنہائی ہے،اور ریاست کابھی یہی حال ہے۔
خودانحصاری کی باتیں اسرائیلی قیادت کے ذہنی ارتقاکی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ خودی کااعلان ایک نئے دفاعی نظریے کی نشاندہی کرتی ہے،مگرپس منظرمیں انحصار کی حقیقت اورنئے دفاعی بیانیے کی تشکیل بھی موجودہے۔یہ تبدیلی اس بات کاثبوت ہے کہ اسرائیل اپنے مستقبل کیلئےنئی حکمت عملی تیارکررہاہے ۔اسرائیل اب شایداس حقیقت کوتسلیم کررہاہے کہ مکمل انحصارکسی ایک طاقت پرممکن نہیں۔یہ اعلانِ خودی ہے مگرپس پردہ انحصارکی گونج باقی ہے۔خود انحصاری کی باتیں ایک نئے دورکی ذہنی تیاری ہیں،مگرپس منظر میں خوف کی دھندبھی ہے۔
داخلی اختلافات کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بحران صرف خارجہ پالیسی تک محدودنہیں رہا۔سخت گیربیانات داخلی سیاست کی شدت کوظاہر کرتے ہیں جواب داخلی سیاست کاحصہ بن چکاہے۔یہ کشمکش اندراورباہردونوں محاذوں پرجاری ہے۔یہ بحران خارجہ سے زیادہ داخلی نوعیت اختیارکرتاجارہا ہے۔یہ صورتحال داخلی استحکام کیلئےخطرہ بن سکتی ہے۔اسرائیلی حکومت کے اندر تقسیم اوراختلافات ایک واضح سیاسی صورت اختیارکرچکےہیں۔یہ تقسیم ریاستی بیانیے کومتاثراوراس کی کمزوری کی علامت ہے۔یہ تقسیم مستقبل میں سیاسی تبدیلیوں کاسبب بن سکتی ہے اوریہ اختلافات سیاسی نظام کی کمزوری کی علامت ہیں اورموجودہ اسرائیلی ریاست کی بقاءشدیدترین خطرات سے دوچارہوسکتی ہے۔
جمہوریت میں عوامی رائے سب سے بڑی قوت ہوتی ہے۔یہ خاموش تبدیلی مستقبل کے سیاسی طوفان اورسیاسی زلزلے کاپیش خیمہ ہو سکتی ہے۔یہ عوامی اعتماد کے زوال کی ابتدائی علامت ہے۔عوامی سطح پرحمایت میں کمی ایک اہم اشارہ ہے جوخاموش بغاوت کی پہلی سرگوشی اورآنےوالے سونامی کی پہلی دستک ہے۔جو سیاسی قیادت کیلئےایک چیلنج بن سکتا ہے۔
کیااسرائیل امریکاکے بغیر قائم رہ سکتاہے؟یہ سوال اب محض نظری نہیں بلکہ ایک بنیادی اورعملی حیثیت اختیارکرچکاہے۔یہ سوال بقا کے بنیادی فلسفے کوچیلنج کرتاہے اوریہ سوال وجودی نوعیت اختیارکرچکاہے۔یہ محض سیاست کانہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ممکن نظر نہیں آتا۔اعدادوشمارواضح کرتے ہیں اوراس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسرائیلی عوام کااعتمادکم اور متزلزل ہورہاہے۔اعدادخاموش ہوتے ہیں،مگرحقیقت بلندآوازسے بیان کرتے ہیں۔اعدادحقیقت کی خاموش مگرمضبوط گواہی ہیں۔اعدادکبھی جھوٹ نہیں بولتے،مگرکہانیاں ضرورسناتے ہیں۔یہ صورتحال پالیسی سازی پراثر اندازہوسکتی ہے۔
امریکا اوراسرائیل کےتعلقات تاریخی طورپربےمثال اورمضبوط،غیرمعمولی قربت کے حامل رہے ہیں۔یہ تعلقات نظریاتی اور اسٹریٹیجک بنیادوں پرقائم ہیں اورمشترکہ مفادات اورنظریاتی ہم آہنگی پرمبنی ہیں۔یہ رشتہ تاریخ کی گہرائی اورگہرے دھارے میں پیوست ہےجیسا کہ کینیڈی نے کہاتھایہ تعلق محض مفادنہیں،ایک اخلاقی وابستگی اورنظریاتی ہم آہنگی کاآئینہ بھی ہے۔ہر دورمیں یہ تعلقات نئی شکل اختیارکرتے رہے ہیں۔یہ رشتہ جامدنہیں بلکہ ارتقائی ہے۔ یہ تبدیلیاں عالمی سیاست کے تقاضوں کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔یہ رشتہ ارتقا کی مسلسل داستان ہے،جامد نہیں۔یہ تبدیلی وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوتی رہی ہے۔تاریخ کادھارابدلتارہا،مگررشتہ قائم رہا۔
کیا یہ تعلق اب کمزوراورمتزلزل ہورہا ہے؟یہ سوال ابھی کھلاہے۔یہ شک کی ایک نئی فکراوریقین کے سمندرمیں ایک نئی لہرہے۔حقیقت یہ ہے کہ مکمل علیحدگی کاتصوربعید ازقیاس ہے ۔یہ تعلق محض چاہت کانہیں بلکہ ضرورت کی زنجیرسے بندھاہواہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئےناگزیرہیں۔یہ تعلق ضرورت کےرشتےکی بنیادپرقائم ہے۔
اسپیشل ریلیشن شپ اب بھی قائم ہے،مگراس کی نوعیت بدل رہی ہے۔یہ تبدیلی وقت کے ساتھ فطری ہے۔یہ تعلق اپنی شکل بدل رہا ہے، ختم نہیں ہورہا جیسا کہ فوکونے کہاطاقت ہمیشہ اپنی شکل بدلتی ہے،مگرختم نہیں ہوتی۔یہ تعلق بھی نئے سانچے میں ڈھل کرنئی صورت اختیارکررہاہے۔یہ رشتہ اب جذبات سے زیادہ حساب کاہوچکاہے۔دفاعی تعاون کے تسلسل سے واضح ہوتاہے کہ اختلافات کے باوجود اشتراک باقی ہے۔جواس تعلق کی مضبوطی کاثبوت ہے۔یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہنے کاامکان ہے۔یہی تعلقات کی اصل بنیاد مضبوطی کاثبوت اورتعلقات کی اصل روح ہے۔
زمینی حقیقتیں فوری تبدیلی کی نشاندہی نہیں کرتیں،مگرزیرِسطح اندرونی تبدیلیاں جاری ہیں۔یہ سکون طوفان سے پہلے کابھی ہوسکتاہے۔یہ خاموش تبدیلیاں مستقبل کانقشہ اوررخ متعین کریں گی۔متبادل اتحادوں کی تلاش ایک نئے عالمی نظام کی طرف اشارہ ہے۔یہ تبدیلی اہم اورتاریخ کے نئے باب کاآغازہےاور تاریخ کے نئے باب کی تمہیدہے۔اسلامی دنیاکی نئی صف بندی ایک اہم پیش رفت ہے۔جیسا کہ اقبال نے کہا،افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔یہ اتحاد مستقبل میں طاقت کانیامرکزاورنئی قوت کوجنم دے سکتاہے۔یہ اتحاد امکانات سے بھرپورہے۔اقبال کے الفاظ میں ملت کے ساتھ رابطہ استواررکھ۔ یہ اتحاد امکانات کی ایک نئی دنیاکھول سکتاہے۔ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت خطے میں طاقت کے توازن کوبدل سکتی ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت ہےاوریہ تبدیلی امن اورکشمکش دونوں کوجنم دے سکتی ہے۔
نتیجتاً،یہ کہاجاسکتاہے کہ موجودہ کشیدگی وقتی بھی ہوسکتی ہے اورتاریخی بھی،مگراس کے اثرات یقینی طورپرگہرے ہوں گے۔یہ رشتہ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔یہ کہانی ابھی مکمل نہیں،بلکہ ارتقاکے سفرمیں اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ابن خلدون کے مطابق ریاستیں بھی ارتقاکے مراحل اورانسانوں کی طرح عروج وزوال سے گزرتی ہیں۔یہ رشتہ بھی اسی قانون کے تحت ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہاہے۔
بین الاقوامی سیاست محض واقعات کامجموعہ نہیں بلکہ قوت،مفاد،تاریخ اورفکرکاپیچیدہ امتزاج ہے۔یہ بین الاقوامی سیاست کاایک ایسا پیچیدہ فن ہے جہاں ہرفیصلہ کئی پہلورکھتاہے۔یہ سارامنظرنامہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ بین الاقوامی سیاست بھی ایک پیچیدہ شطرنج کی ایسی گنجلک بساط ہے،جہاں ہرچال بظاہرسادہ مگرباطن میں پیچیدہ اورکئی معنی رکھتی ہے۔امریکااور اسرائیل کاتعلق بھی اسی بساط کا ایک ایسامہرہ ہے جوکبھی وزیربنتاہے اورکبھی پیادہ نظرآتاہے،جوکبھی کمزورتودکھائی دیتاہے مگرکھیل سے خارج نہیں ہوتا۔
داخل ہوچکاہے۔تاریخ اس کافیصلہ کرے گی۔یہ کہانی ابھی مکمل نہیں،بلکہ ارتقاکے سفرمیں اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ابن خلدون کے مطابق آج کی کشیدگی کل کی حکمتِ عملی بن سکتی ہے،او آج کااختلاف کل کے اتحادکومزیدمضبوط کرسکتاہے۔تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ تعلقات ختم نہیں ہوتے،صرف اپنی شکل بدلتے ہیں۔امریکااوراسرائیل کے تعلقات بھی اسی پیچیدگی کامظہراور اس کی ایک زندہ مثال ہیں۔ یہ تعلق بظاہرمضبوط مگراندرسے متغیرہے،اوریہی اس کی اصل حقیقت ہے۔یہ تعلق وقتی اختلافات کے باوجود اپنی بنیادوں میں مضبوط ہے،مگراس کی نوعیت بدل رہی ہے۔مستقبل میں یہ تبدیلیاں عالمی سیاست کے نقشے کونئی شکل دے سکتی ہیں۔تاہم مستقبل میں یہ رشتہ نہ ٹوٹے گااورنہ جوں کاتوں رہے گا،بلکہ ایک نئی صورت اختیارکرے گا—اورشاید یہی تاریخ کاازلی اصول ہے۔











