تہران میں سابق ایرانی رہبراعلیٰ کی آخری رسومات میں انڈیاکی جانب سے نچلی سطح کاوفدبھیجنے کے کیامعنی ہیں؟تہران کی فضاان دنوں ایک عجب کیفیت سے دوچارہے—گویاوقت اپنی رفتارسست کرکے ایک عہدکے اختتام پرماتم کناں ہو۔تہران کی سرزمین اس وقت ایک ایسے لمحۂ تاریخ سے گزررہی ہے جس میں آنسوبھی خاموش ہیں اورصدائیں بھی بوجھل۔تہران کی فضامیں بچھاہواسوگ محض ایک رہنماکی رحلت کانہیں،بلکہ عالمی ضمیرکی آزمائش کامنظرنامہ ہے۔
ایران کے سابق رہبرِاعلیٰ آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی آخری رسومات نہ صرف ایک قومی سانحہ ہیں بلکہ ایک تہذیبی اورسیاسی عہد کی علامتی تدفین بھی۔ ایسے میں ہندوستان کی جانب سے نچلی سطح کےوفد کی روانگی محض ایک سفارتی اقدام نہیں بلکہ ایک معنی خیزاشارہ ہے—ایسااشارہ جس کی بازگشت بین الاقوامی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔
اے اہلِ نظر!ذراٹھہرواورتہران کی اس فضا کومحسوس کروجہاں تاریخ آنسوؤں میں بھیگ رہی ہے اورامت کی نبض ایک عظیم رہبر کے فراق میں دھڑک رہی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں کرداروں کی پہچان ہوتی ہے،جہاں دوستی اورمنافقت کے پردے چاک ہوتے ہیں!اور ایسے میں ہندوستان کانچلی سطح کاوفد؟یہ تعزیت نہیں،یہ سردمہری کااعلان ہے!یہ وہ لمحہ ہے جہاں خاموشی بھی بولتی ہے—اورآج یہ خاموشی چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ وفاداریاں بدل چکی ہیں۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رحلت محض ایک شخصیت کارخصت ہونانہیں بلکہ ایک فکری عہد،ایک نظریاتی قلعہ اورایک روحانی مرکزکاڈھل جاناہے۔ ایسے موقع پرکسی بھی ریاست کاردعمل محض رسمی نہیں ہوتابلکہ اس کے باطن میں اس کی سفارتی ترجیحات، اخلاقی قدریں اورنظریاتی وابستگیاں عیاں ہوتی ہیں۔ایسے موقع پرہندوستان کانچلی سطح کاوفدبھیجناکسی سفارتی نزاکت کانہیں بلکہ ایک شعوری سردمہری کااظہارہے۔گویاایک خاموش جملہ ہے—ایساجملہ جس میں لفظ کم اورمعنی زیادہ ہیں۔یہ اقدام بظاہرتعزیت ہےمگر درحقیقت فاصلے کااظہار بھی-یہ اقدام تعزیت کے پردے میں چھپی ہوئی سیاسی بے حسی ہے—گویاایک عظیم سانحے کومحض ایک رسمی فائل نوٹ میں سمیٹ دیاگیا ہو۔سوال یہ نہیں کہ وفدآیا،بلکہ سوال یہ ہے کہ کون نہیں آیا—اورکیوں نہیں آیا۔
یہ سات دن،اے سامعین!صرف سوگ کے نہیں بلکہ عالمی ضمیرکے امتحان کے دن ہیں —یہ امت کے شعورکی کسوٹی ہیں!دنیاکے حکمران سرجھکائے کھڑے ہیں۔دنیابھرسے سربراہان کااجتماع ایک طرح سے اس حقیقت کااعتراف ہے کہ رہبرِاعلیٰ ایک عالمی روحانی وسیاسی علامت تھےمگرکچھ ایسے بھی ہیں جواپنی نگاہیں چرارہے ہیں۔ایران میں سات روزہ سوگ کی یہ تقریبات جہاں عالمی قیادت کے اجتماع کامنظرپیش کریں گی،وہیں ہندوستانی وزارتِ خارجہ کایہ اعلان کہ بہارکےگورنرسیدعطاحسنین اوروزیر مملکت برائے امور خارجہ پبِترامارگریٹا شرکت کریں گے،ایک جانبدارسفارتی توازن کی عکاسی کرتاہے۔
بظاہریہ اقدام تہذیبی روابط کی پاسداری ہے،مگراس کے پسِ پردہ سیاسی مصلحتوں کاایک پیچیدہ جال بھی محسوس ہوتاہے۔ہندوستان کا وفد آیاضرورہے، مگر اس کی قامت چھوٹی ہے،اس کاپیغام مدھم ہے!کیایہ وہی ملک ہے جوتہذیبوں کاامین کہلاتاتھا؟یااب یہ مفادات کااسیر ہوچکاہے؟دنیابھرکے رہنماجب تہران کارخ کررہے ہیں،تومودی کامحدودنمائندہ وفدایک کھلا تضاد بن کرابھرتاہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے”تہذیبی روابط”کی دہائی دینادراصل ایک سفارتی پردہ داری ہے،جس کے پیچھے مفادات ومنافقت کی بے نقاب سیاست کھڑی ہے۔
ہندوستانی وفدکی شرکت کواگر تہذیبی روابط کاتسلسل کہاجائے توبھی اس میں ایک احتیاط کاپہلونمایاں ہے—گویاتعلق باقی بھی رکھا جائے اورفاصلے بھی برقرار رہیں۔اسلامی تناظرمیں تعزیت محض رسم نہیں بلکہ اخوتِ ایمانی کاتقاضاہے،اوریہی وہ میزان ہے جس پر ایسے اقدامات تولے جاتے ہیں۔اسلامی دنیااس رویے کومحض رسمی شرکت نہیں بلکہ تعلقات کی درجہ بندی کے طورپردیکھ رہی ہے—اوریہ درجہ بندی ہندوستان کیلئےکوئی اعزازنہیں بلکہ باعثِ ندامت تصورکی جارہی ہے جس کی مکمل ذمہ دارمودی کی پالیسیاں ہیں۔
اگردعوت تھی اورتم نہ آئے—تویہ انکارہے!اوراگر دعوت نہ تھی—تویہ تمہاری تنہائی کااعلان ہے!اے اہلِ اقتدار!تاریخ تم سے سوال کرے گی کہ تم کہاں تھے جب ایک عظیم روح کوسپردِخاک کیاجارہاتھا؟تمہاری کرسی نے تمہیں روک لیایاتمہاری ترجیحات نے تمہیں بے حس بنادیا؟اوراگردعوت ہی نہ تھی،تویہ سفارتی تنہائی کااعلان اوردونوں صورتوں میں نتیجہ ہندوستان کے حق میں نہیں جاتا۔دعوت کاہونایانہ ہونااپنی جگہ،مگرعدم شرکت خودایک سیاسی بیان ہے۔مودی کانہ جانااورنمائندہ وفدکابھیجنااس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ نئی دہلی نےاپنے سفارتی وزن کواس موقع پرمکمل طورپراستعمال نہیں کیا۔
تاہم مودی کی عدم شرکت اوراس کے بجائے ایک نمائندہ وفدکی روانگی،سفارتی لغت میں ایک نرم انکارکے مترادف سمجھی جارہی ہے۔وزیراعظم کانہ جانا دراصل ایک سیاسی فیصلہ ہے—ایسافیصلہ جوعالمی منظرنامے پریہ پیغام دیتاہے کہ نئی دہلی نے تہران سے فاصلہ اختیارکرلیاہے۔اپوزیشن کی شرکت اس خلا کوپرنہیں کرتی،بلکہ اسے مزیدنمایاں کرتی ہے۔کانگریس قیادت،بشمول ملکارجن کھرگے اورسلمان خورشید،کی ممکنہ شرکت اس موقع کومزیدسیاسی رنگ دے رہی ہے—گویاداخلی سیاست اورخارجی سفارت ایک ہی صفحے پررقم ہورہے ہوں۔کانگریسی قیادت کی ممکنہ شرکت داخلی سیاست کے اس پہلوکو اجاگر کرتی ہے،جہاں قومی بیانیہ ایک نہیں رہتابلکہ کئی آوازوں میں بٹ جاتاہے۔
یہاں تصویرمکمل طورپرواضح ہوجاتی ہے۔ہندوستان نےعملاًاپنے آپ کواس محورمیں کھڑاکرلیاہے جہاں طاقت،اصولوں پرغالب آجاتی ہے۔ایران پر حملوں کے وقت خاموشی اختیارکرنامحض سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔جب ظلم کے مقابل خاموشی اختیارکی جائے تووہ خاموشی خودظلم کاحصہ بن جاتی ہے۔حالیہ عالمی تناظرمیں،خصوصاًایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستان کاجھکاؤمغربی بلاک کی جانب واضح دکھائی دیتاہےاوراس کے ایران سے تعلقات کوکمزورکرتادکھائی دیتاہے۔اسلامی دنیامیں یہ تاثر گہراہورہاہے کہ طاقت کے سامنے اصول پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
قرآن کی تعلیمات ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کادرس دیتی ہیں،مگریہاں خاموشی اختیارکی گئی—اوریہی خاموشی سب سے بلند صدابن گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان-ایران تعلقات کی وہ قدیم ریشمی ڈور،جوصدیوں سے قائم تھی،اب تناؤکاشکارنظرآتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں نقاب گرتے ہیں،جہاں اصول اورمفادکی کشمکش نمایاں ہوجاتی ہے! جب ایران پر آگ برس رہی تھی،تم کہاں کھڑے تھے؟ تمہاری خاموشی نے تمہیں بے نقاب کردیا!یادرکھو—ظلم کے سامنے خاموش رہنے والاخودظالم کے صف میں کھڑاہوتاہے!اور آج تمہاری خاموشی ایک گواہی ہے—ایسی گواہی جوتاریخ کے سینے پر ثبت ہوچکی ہے!
کانگریس کی جانب سے حکومت پر نقید،خصوصاً پون کھیڑاکابیان،اس خاموشی کو”مجرمانہ” قراردیتاہے—ایک ایسالفظ جوسیاسی لغت میں شدیدترین اخلاقی الزام کی حیثیت رکھتاہے۔سیاسی اختلاف جب اخلاقی سوال میں ڈھل جائے تواس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیان صرف تنقیدنہیں بلکہ ایک اخلاقی مقدمہ ہےجس میں خاموشی کوجرم کےدرجے میں رکھاگیاہے۔یہ تنقیدمحض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔
اپوزیشن کی تنقیدمحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے:کیاہندوستان نے اپنی اخلاقی سمت کھودی ہے؟”مجرمانہ خاموشی”کالفظ محض الزام نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہے—اوریہ فیصلہ عوامی ضمیرکی عدالت میں سنایاجارہاہے۔یہ آوازیں،یہ تنقیدیں—یہ محض سیاست نہیں،یہ ضمیرکی پکارہے!جب کوئی”مجرمانہ خاموشی”کہتاہے تووہ دراصل تمہاری روح کو جھنجھوڑرہاہوتاہے!کیاتم سن رہے ہو؟یااقتدارکے ایوانوں نے تمہارے کان بندکردیے ہیں؟اسلامی سیاسی فکرمیں حکمران کی ذمہ داری صرف مفادکاتحفظ نہیں بلکہ عدل کا قیام بھی ہے۔
سلمان خورشید کی شرکت،اگرچہ ذاتی وجماعتی نمائندگی کااظہارہے،مگراس میں ایک ادبی وقاربھی جھلکتاہے۔خورشیدکی شرکت ایک کمزورسی کوشش اور ایک نرم سفارتی اشارہ ہے اس تاثرکو زائل کرنے کی،جو حکومتی رویے نے پیداکیاہے۔گویاایک ٹوٹی ہوئی ڈورکو مکمل طورپرٹوٹنے سے بچانے کی کوشش۔ان کااندازِبیان اورذمہ داری کااحساس اس بات کامظہرہے کہ سیاست میں بھی وقاراورتہذیب کی گنجائش باقی ہے۔گویاوہ تاریخ کے اس نازک موڑپرہندوستانی ضمیرکی ایک نرم مگربامعنی آوازبن کرابھررہے ہوں مگرحقیقت یہ ہے کہ نمائندہ وفودکبھی بھی قیادت کے فقدان کونہیں چھپاسکتے۔یہ ایساہی ہے جیسے کسی بڑے زخم پرمعمولی مرہم رکھ کراسے چھپانے کی کوشش کی جائے۔ایک فرداٹھتاہے،نمائندگی کرتاہے،مگر اے صاحبانِ اقتدار!کیاقومیں نمائندوں سے چلتی ہیں یاقیادت سے؟یہ شرکت نہیں،یہ ایک کمزورساتاثرہے—ایک ایسی کوشش جوحقیقت کوچھپا نہیں سکتی۔
اوردیکھو!اپنے ہی ملک کےعلماکوروک دیاگیا!ایک عاشق کواس کے محبوب کےجنازے میں جانے سے روکنا—یہ کیسی سفارت ہے؟یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ وہ زخم ہے جوصرف دلوں پرنہیں،تاریخ پرلگتا ہے۔مذہبی جذبات اوربین الاقوامی احترام کوداخلی سیاسی ترجیحات کے نیچے رونددیاگیاہے۔ایک عالم کواس کے روحانی پیشواکے جنازے میں جانےسےروکنامحض زیادتی نہیں،بلکہ ایک تہذیبی بےحسی ہے۔یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک روحانی محرومی ہے۔کشمیری شیعہ علماآغاسیدحسن الموسوی الصفوی اورمسرور عباس انصاری کوروکے جانے کاواقعہ نہایت افسوسناک اورایک خاموش المیہ ہے—ایساالمیہ جوسرکاری فائلوں میں شایدمحض ایک نوٹ ہو،مگردلوں میں ایک زخم بن کررہ جاتاہے۔انڈیامیں شیعہ برادری کی نمایاں موجودگی کے باوجودکشمیری علما کو ایران جانے سے روکناایک ایسااقدام ہے جونہ صرف مذہبی جذبات کومجروح کرتاہے بلکہ ایک کھلی ناانصافی ہے۔اورہندوستانی جمہوریت کے دعوؤں پربھی سوالیہ نشان ثبت کرتاہے۔اسلامی اخوت کےتناظرمیں یہ اقدام دلوں میں فاصلے بڑھانے کاسبب بنتاہے۔ایک عاشق کواپنے محبوب کے جنازے میں جانے سے روکنا تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بن کررہتاہے۔
محبوبہ مفتی کی ممکنہ شرکت اس بیانیے میں ایک اوررنگ بھرتی ہے—ایک ایسارنگ جوکشمیر کی سیاسی ومذہبی حساسیتوں کو عالمی منظرنامے سے جوڑتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس بات کی علامت ہے کہ کشمیرکادل اب بھی ایران کے ساتھ دھڑکتاہے۔یہ جذباتی رشتہ سیاسی سرحدوں سے ماوراہے—اوریہی وہ رشتہ ہے جوامتِ مسلمہ کوایک لڑی میں پروتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے کہ عوامی سطح پرتعلقات ابھی زندہ ہیں،مگر حکومتی سطح پرانہیں دانستہ کمزورکیاجارہاہے۔یہ دوہرارویہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتاہے جہاں ریاست اورعوام ایک ہی صفحے پرنہیں رہے۔ گویا کشمیر کادل اب بھی دھڑک رہاہے،وہ اب بھی وفاکاچراغ جلائے ہوئے ہے!مگرسوال یہ ہے—کیادہلی کے ایوانوں میں بھی وہی روشنی باقی ہے؟یاوہاں اندھیروں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں؟
سوشل میڈیاپراٹھنے والی آوازیں دراصل عوامی ضمیراورعوامی شعورکی بیداری کامظہراورایک اجتماعی سوال ہیں:جب عوام سوال کرتے ہیں تووہ بغاوت نہیں کرتے،دراصل اپنے حکمرانوں کوآئینہ دکھاتے ہیں —وہ سچ کامطالبہ کرتے ہیں!آج ہرسوال ایک تیرہے،ہر آوازایک للکارہے!کہاں ہے وہ روایت؟کہاں ہے وہ وقار؟یاسب کچھ مفادات کی بھینٹ چڑھ چکاہے؟کیا ہندوستان نے اپنی سفارتی روایت ترک کردی ہے؟جب بڑے رہنماؤں کی وفات پراعلیٰ سطح کی نمائندگی ایک روایت ہو،تواس سے انحراف خودایک منفی پیغام بن جاتاہے ۔ سمیتاشرما اور ششی تھروراوردیگرکی آراءاس خلاکی نشاندہی کرتی ہیں۔ ہندوستانی سفارت کاری میں ایک خلامحسوس کیاجارہاہے—ایسا خلاجوشاید مستقبل میں مزید گہراہوجورسمی تعزیت اورحقیقی ہمدردی کے درمیان پیداہو چکاہے۔
تہذیبی رشتوں کی بات کرنااب محض ایک رسمی جملہ رہ گیاہے۔تہذیبی جغرافیہ وقت کی دھول سے محفوظ رہتاہے،مگرسیاسی جغرافیہ مفادات کی آندھی میں بدلتا رہتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف مفاد کی زبان بولی جاتی ہے،اورہندوستان نے بھی یہی زبان اختیارکرلی ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کھیل میں وہ نہ مکمل طورپرمغرب کاحصہ بن پایاہے اورنہ مشرق کااعتبار برقرار رکھ سکا ہے—نتیجتاًایک سفارتی خلاپیداہوچکاہے۔
یہ ایک تاریخی تلخ سچ ہے کہ تہذیبیں نہیں مرتیں—مگرضمیرمرجاتے ہیں!تعلقات باقی رہتے ہیں—مگراعتبارٹوٹ جاتاہے!آج ہندوستان ایک ایسے موڑپر کھڑاہے جہاں نہ وہ مکمل دوست رہاہے،نہ مکمل غیر!یہ بے سمتی ایک خطرہ ہے—ایک ایساخطرہ جوقوموں کواندر سے کھوکھلاکردیتاہے!ہندوستان اورایران کاتعلق صدیوں پرمحیط ہے،مگر حالیہ دہائیوں میں یہ تعلق مفادات کی بھٹی میں پگھلتادکھائی دیتاہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہےکہ عالمی تنہائی کسی بھی ملک کیلئےخطرناک ہوتی ہے۔ماہرینِ بین الاقوامی امورکایہ کہناکہ تہذیبی رشتے اپنی جگہ،مگرقومی مفادات کی بساط پرسب کچھ قربان ہوجاتاہے،ایک تلخ حقیقت ہے۔ہندوستان کی مبینہ سفارتی تنہائی اورہمسایہ ممالک کی پیش قدمی اس حقیقت کومزید نمایاں کرتی ہے۔
سینٹرل ایشیاکے مورپرنظررکھنے والےکاکہناہے کہ ہم انڈیاایران کے رشتے کوتہذیبی،ثقافتی اورتاریخی کہتے ہیں لیکن گذشتہ40برسوں سے جب سےدنیاکی سپرپاورکی سمت بدل گئی،ترجیحات بدل گئيں ہیں توانڈیانے بھی اپنے قومی مفادات کے تحت اقدام کیے ہیں اورسب سے خطرناک بات جوانڈیا کے حصے میں آئی ہے کہ جنگ کے دوران انڈیا کے نیوی کے اہم اور اعلیٰ افسرکایہ بیان کہ انہوں نے انڈین نیوی کی دعوت پرآئے ہوئے ایرانی جہازکی مخبری کی تھی جس کے جواب میں امریکااوراسرائیل نے حملہ کرکےاس جہازکوتباہ کردیا جس میں80سے زائدایرانی افسرشہیدکردیئے گئے جبکہ یہ جہازانڈیاکی دعوت پرمشترکہ مشقوں کےبعدواپس جارہاتھا۔یقیناًیہ جہاں جنگی جرائم میں شمارہوتاہے وہاں ایران کیلئے بھی بڑاسانحہ ہے کہ اسے انڈیا(مودی)کی منافقانہ دوستی کاچہرہ نظرآگیا۔اب وہ کس منہ سے اس تدفین میں شرکت کیلئے وفدکوبھیج رہے ہیں؟
یہ محض سفارتی لغزش نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران اورسانحہ ہے۔ایک مہمان کے ساتھ خیانت اسلامی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ ایک مہمان ریاست کے جہازکی مخبری کرنانہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعتمادکے قتل کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف سفارتی بداعتمادی بلکہ اخلاقی زوال کی ایک سنگین مثال ہے۔جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والایہ واقعہ ایران کیلئےایک ناقابلِ فراموش صدمہ ہے—اورہندوستان کیلئےایک سفارتی داغ ہے۔ایسی حرکتیں قوموں کے درمیان صدیوں پرمحیط تعلقات کولمحوں میں خاک میں ملادیتی ہیں۔یہ صرف ایک خبرنہیں،یہ ایک جرم ہے!ایک مہمان کے ساتھ خیانت؟یہ وہ عمل ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی!یہ صرف ایک جہازنہیں تھا—یہ اعتمادتھاجوتباہ ہوا!
مودی حکومت کی خاموشی،اوربعدازاں محض رسمی تعزیت،ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں جذبات کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے۔یہ تضاداب ڈھکاچھپانہیں رہا،یہ اپنی جگہ ایک مکمل کہانی ہے۔ایک طرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہونااوردوسری طرف ایران کیلئےرسمی تعزیت—یہ دورویہ پن عالمی سطح پرسوالات کوجنم دیتاہے۔ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب اصولوں کی نہیں بلکہ مواقع کی اسیردکھائی دیتی ہے۔یہ دوغلا پن عالمی سطح پرواضح ہوچکاہے۔ اسلامی دنیامیں اس طرزِعمل کوشک کی نگاہ سے دیکھاجا رہاہے۔یہ صرف تضادنہیں—یہ ایک کھلادھوکے اورمنافقت کااعلان ہے!ایک طرف تم کھڑے ہو،دوسری طرف تم خاموش ہو!یہ منافقت کاعمل اب چھپ نہیں سکتا!دنیادیکھ رہی ہے،امت دیکھ رہی ہے،تاریخ لکھ رہی ہے!اس کے برعکس دیگر ممالک ،خصوصاًپاکستان کی کھلی مذمت ایک مختلف سفارتی زاویہ پیش کرتی ہے۔
اسد الدین اویسی کابیان عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔اویسی کی آوازایک فردکی نہیں اورنہ ہی محض اپوزیشن کی سیاست ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہراسوال ہے—جوہردل میں گونج رہا ہے!جواس بحث کو یک عوامی اور سیاسی جہت دیتاہے۔ اگرمودی اسرائیل جاسکتے ہیں توایران کیوں نہیں؟اس سوال کاکوئی سفارتی جواب نہیں—صرف سیاسی مجبوری ہے۔اور یہ سوال سفارت کے ایوانوں میں گونج رہاہے۔
یہی وہ نقطہ اورمقام ہے جہاں تاریخ اپنافیصلہ محفوظ کرتی ہے اور ہاں نقاب اترتے ہیں۔ سفارت کاری میں چہرے نہیں،کرداریادرکھے جاتے ہیں۔سفارت کاری اگرصرف مفادکاکھیل بن جائے تواس میں اعتبارباقی نہیں رہتا۔ایران کے ساتھ دوستی کےدعوے اورعملی سرد مہری کایہ رویہ دراصل ایک بڑے تضادکی علامت ہے—دوستی کے دعوے اورعملی سرد مہری کاتضاد۔اگر تعلقات مفاد کی بنیادپرہوں تووہ دیرپانہیں ہوتے۔تہران کی یہ خاموش فضاشاید آنے والے وقتوں میں اس سوال کاجواب خوددے گی—کہ کون سچاتھااورکون محض اداکاری کررہاتھا۔
تاریخ ایسے لمحات کوبھولتی نہیں؛وہ انہیں محفوظ رکھتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں فیصلہ کرسکیں کہ کون سچاتھااورکون محض کردار اداکررہاتھا۔اوراب،اقوام عالم کے امن پسند افرادکامودی سے آخری سوال!کیاتم اس چہرے کے ساتھ تہران جاؤگے؟کیاتم اس تاریخ کاسامنا کرسکوگے؟یادرکھو—اقتدارعارضی ہے،مگرکرداردائمی!آج تم جولکھ رہے ہو،کل وہی تمہارا تعارف ہوگا!فیصلہ تمہیں کرناہے—کہ تم تاریخ میں کیسے یادرکھے جاؤ؟دنیامیں امن کے علمبردار کے طورپر،یاایک خاموش منافق تماشائی کے طورپر؟تاہم مجھے مودی کے کردارپر قطعاًکوئی تعجب نہیں کیونکہ وہ سیاست میں چانکیہ کواپنااستادمانتاہے اوردنیا چانکیہ کی پرفریب اوردھوکہ دہی پرمبنی سیاسی سازشوں سے بخوبی واقف ہے!
آخرکارسوال وہی رہ جاتاہے—کیاسفارت کاری میں اصولوں کی کوئی جگہ باقی ہے؟یاپھرہرتعلق،ہردوستی،ہرتعزیت محض مفادات کی میزان پرتولی جاتی ہے؟اگرایساہے توپھرتہران کی یہ خاموش فضامودی اوراس کے وفدسے یہی پوچھ رہی ہے:کس منہ سےآئےہو؟











