Searching for peace in the shadow of war

جنگ کے سائے میں امن کی تلاش

زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اورتاریخ کے اوراق پرایک نئی تحریررقم ہونے کوہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین،جوصدیوں سے تہذیبوں کے عروج وزوال کی گواہ رہی ہے،ایک بارپھرعالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنی ہوئی ہے۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے،اورتاریخ اپنے سینے میں ایک نئی کہانی کوجنم دینے کیلئے بے چین دکھائی دیتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی وہ سرزمین، جہاں کبھی تہذیبوں کے چراغ روشن ہوئے اورجہاں سے علم وحکمت کے قافلے روانہ ہوئے،آج پھر باروداورخون کی مہک سے آلودہ ہے۔ایران پراسرائیل اورامریکا کے حملوں نے عالمی سیاست کوایک ایسے موڑپرلاکھڑاکیاہےاوران حملوں نے اس خطے کوایک ایسے بھنورمیں دھکیل دیاہے جہاں ہر موج اپنے اندرایک ایساطوفان سموئے ہوئے ہے جہاں ہرفیصلہ آنے والے برسوں کی سمت متعین کرے گا۔یہ محض جنگ نہیں،بلکہ قوت اوراخلاق،مفاداوراصول،اورجارحیت ومفاہمت کے درمیان ایک فکری معرکہ بھی ہے۔

عالمی سیاست کے افق پراس وقت ایک ایساہنگامۂ ہستی برپاہے جس میں بارودکی بو،سفارت کاری کی لطافت اورطاقت کے توازن کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں ۔ایران پراسرائیل اور امریکاکے شدیدحملوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کوایک آتش فشاں کے دہانے پرلاکھڑا کیاہے،وہیں اسلام آبادکی خاموش مگرپراثر سفارت کاری نے عالمی نگاہوں کواپنی جانب منعطف کرلیا ہےبظاہریہ ایک جنگ ہے،مگر درحقیقت یہ عالمی قیادت کے نئے معیارات کی تشکیل کالمحہ بھی ہے ۔

اسی ہنگامۂ آشوب میں پاکستان کاکردارایک چراغِ امیدکی مانندابھررہاہے—ایک ایساچراغ جواندھیروں میں راستہ دکھانے کی سکت رکھتاہے۔اقوام عالم نے یہ تسلیم کیاہے کہ پاکستان کا کردارایک ایسے صاحبِ بصیرت ثالث کے طورپرابھررہاہے جونہ صرف حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے بلکہ انہیں سنوارنے کی بھی سکت رکھتاہے۔

اس بحران کے بیچ پاکستان نے ثالثی کی جوسبیل نکالی ہے،وہ محض ایک سفارتی چال نہیں بلکہ ایک فکری وتہذیبی روایت کی بازگشت ہے—وہ روایت جو مفاہمت،توازن اورحکمت کی امین رہی ہے۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بیانات سے اگرچہ یہ عندیہ ملتا ہے کہ فی الوقت تہران مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں،تاہم پسِ پردہ پیغامات کاتبادلہ اس امرکی غمازی کرتاہے کہ سفارتی دریچے ابھی مکمل طورپربندنہیں ہوئے۔اس سارے منظرنامے میں امریکاکی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تائیدایک غیرمعمولی پیش رفت ہے،جواس کےکردارکو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پرمعتبربناتی ہے۔

ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں،ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی جڑیں گہری ہیں۔یہ تنازع صرف حالیہ واقعات کانتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط عدم اعتماد،نظریاتی اختلاف اورجغرافیائی مفادات کاحاصل ہے۔اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اورامریکاکی غیر مشروط حمایت نے اس آگ کومزیدبھڑکادیاہے بلکہ حالیہ تصادم نے اسے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل کردیاہے۔یہ جنگ محض سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی جنگ ہے۔اسرائیل کی عسکری پیش قدمی اورامریکاکی پشت پناہی نے اس تنازع کومحض علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران میں بدل دیاہے۔یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی بھی ہے—ایک طرف طاقت کاغرور،مغربی طاقتوں کاتسلط پسندبیانیہ،اوردوسری طرف ایران کاخودمختاری اور مزاحمت کافلسفہ،اس جنگ کودنیاکی تباہی کی طرف لے جارہاہے۔

ایسے نازک وقت میں اسلام آباد کی سفارت کاری ایک غیرمعمولی اہمیت اختیارکرگئی ہے۔اسلام آبادآج محض ایک دارالحکومت نہیں بلکہ ایک سفارتی مرکز کی صورت اختیارکرچکاہے۔پاکستان نے جس حکمت،تحمل اورتدبرکے ساتھ ثالثی کی راہ اختیارکی ہے،وہ اس کی سیاسی بصیرت کاآئینہ دارہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی عالمی طاقتوں کے درمیان خاموش معاہدے طے پاتے رہے،اورآج بھی وہی روایت نئے رنگ میں جلوہ گرہے۔دنیاکی نظریں یہاں مرکوز ہیں، اوردلی کے ایوانوں میں اس پیش رفت پرتشویش کی لہریں دوڑرہی ہیں۔ بھارتی مبصرین کیلئےیہ ایک کربناک حقیقت ہے کہ جس ملک کووہ طعن وتشنیع کاہدف بناتے رہے،وہی آج عالمی امن کی امیدبن کر ابھررہاہے۔

بین الاقوامی نظام اس وقت ایک عبوری دورسے گزررہاہے۔سردجنگ کے بعدقائم ہونے والایک قطبی نظام اب اپنی افادیت کھورہاہے اور ایک کثیرالقطبی دنیاکی تشکیل ہورہی ہے۔اس نئی دنیامیں علاقائی طاقتوں کاکرداربڑھ رہاہے،اورپاکستان انہی ابھرتی ہوئی قوتوں میں شامل ہوتادکھائی دے رہاہے۔

بھارتی اپوزیشن کے رہنماششی تھرورکی آوازاس بے چینی کی آئینہ دارہے۔ان کایہ اعتراف کہ بھارت کوبھی امن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی، دراصل ایک کھوئے ہوئے موقع کا نوحہ ہے۔پاکستان،مصراورترکی کی پیش قدمی نے جہاں امن کے امکانات کوجلابخشی ہے ،وہیں بھارت کی سفارتی سستی اورناکامی کوبھی نمایاں کردیاہے۔گویاتاریخ نے ایک بارپھرثابت کیاکہ جوقومیں وقت کے تقاضوں کونہیں سمجھتیں،وہ مواقع کے قافلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خاص لطافت ہمیشہ سے موجودرہی ہے—وہ لطافت جوتوازن،احتیاط اورمکالمے پرمبنی ہے۔ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اورامریکا کے ساتھ اسٹریٹجک روابط نے اسے ایک ایسامنفردمقام عطاکیاہے جہاں سے وہ دونوں فریقوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔یہی وہ وصف ہے جوکسی بھی ثالث کومعتبربناتاہے۔اسلام آبادآج محض ایک انتظامی دارالحکومت نہیں بلکہ سفارتی حکمت کامرکزبن چکاہے۔یہاں ہونے والی ملاقاتیں،خفیہ پیغامات اورپس پردہ روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پرایک سنجیدہ اورذمہ دارکرداراداکرنے کیلئےتیارہے۔

پاکستان کی سفارت کاری ہمیشہ ایک خاص توازن کی حامل رہی ہے۔یہ نہ تومکمل طورپرکسی ایک بلاک کاحصہ بنتی ہے اورنہ ہی خود کوتنہائی کاشکارہونے دیتی ہے ۔ یہی اعتدال اسے ایک قابلِ اعتمادثالث بناتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکا بطورثالث ابھرنامحض ایک فردکی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی عزم اورادارہ جاتی ہم آہنگی کامظہرہے۔واشنگٹن اورتہران کے درمیان پل کاکرداراداکرناایک ایساکارنامہ ہے جوپاکستان کی سیاسی بصیرت اورعلاقائی اہمیت کودوچندکردیتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ اپنے اوراق میں ایک نئے باب کااضافہ کر رہی ہے۔

امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اعتمادکا اظہارہے—وہ اعتمادجوبرسوں کی شراکت داری اورباہمی مفادات کے نتیجے میں پروان چڑھاہے۔ٹرمپ انتظامیہ کایہ جھکاؤپاکستان کیلئےایک سفارتی سرمایہ ثابت ہوسکتاہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کایہ کہناکہ ایران فی الحال مذاکرات کاخواہاں نہیں، بظاہرایک سخت مؤقف معلوم ہوتاہے،مگرسفارت کاری کی زبان میں یہ ایک دروازہ بندہونے کے ساتھ ساتھ کئی کھڑکیوں کے کھلے رہنے کااشارہ بھی ہوتا ہے۔دراصل سفارتی زبان کا ایک نازک پہلو ہے۔بسااوقات انکارکے پردے میں اقرار کی رمق چھپی ہوتی ہے۔ پیغامات کاتبادلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دروازے مکمل طورپربند نہیں ہوئے۔پیغامات کاتبادلہ اس بات کی دلیل ہے کہ پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

بھارت میں اس پیش رفت پرجواضطراب پایاجاتاہے،وہ اس کے اندرونی خدشات کی عکاسی کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب ایک حریف کی کامیابی دوسرے کیلئےسوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔بھارت میں اس پیش رفت پرجو ردعمل سامنے آرہاہے،وہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کااظہارہے۔ بھارتی صحافیوں کی جانب سے پاکستان کی ممکنہ کامیابی کو “سفارتی انقلاب”قراردیناایک غیر معمولی تلخ اعتراف ہے۔یہ وہی پاکستان ہے جسے اکثر تنقیدکانشانہ بنایاجاتارہا،اورآج وہی ملک عالمی امن کی امید بن کرابھررہاہے۔

برسوں سے پاکستان کوناکام ریاست قراردینے والے آج اسی کے کردارکوسراہنے پرمجبورہیں۔اگرپاکستان اس آگ کوبجھانے میں کامیاب ہوجاتاہے تویہ نہ صرف ایک جنگ کاخاتمہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پرطاقت کے توازن میں ایک نمایاں تبدیلی بھی ہوگی۔تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان کی کامیابی بھارت کیلئےایک سفارتی دھچکاہوسکتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب دلی کو اپنے فیصلوں پرنظرثانی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔بھارتی اپوزیشن ششی تھرورکابیان ایک اعتراف ہے—ایک ایسااعتراف جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ بھارت ایک اہم موقع کھوبیٹھاہے۔ششی تھرورکا بیان دراصل ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کی سفارتی کمزوری صاف جھلکتی ہے۔ان کا یہ کہناکہ حکومت کوامن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی،اس بات کااعتراف ہے کہ بھارت ایک اہم موقع گنوا بیٹھاہے اوریہ عظیم ناقابل تلافی سیاسی حادثہ مودی جیسے نااہل کے دورمیں ہواہے۔

ثالثی بذاتِ خودکوئی معجزہ نہیں،مگراس کی کامیابی ایک قوم کی ساکھ کونئی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے۔آج دنیاکی نظریں اسلام آبادپر مرکوزہیں۔یہ شہر، جو کبھی صرف ایک دارالحکومت سمجھاجاتاتھا،اب عالمی سفارت کاری کامرکزبنتاجارہاہے۔ہربیان،ہرملاقات اورہر پیش رفت کوبغوردیکھاجارہاہے۔گویایہ شہر ایک ایسے اسٹیج میں بدل چکاہے جہاں عالمی سیاست کاڈرامہ اپنے عروج پرہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کا کرداراداکیا—پاکستان ماضی میں بھی عالمی ثالثی میں اہم کرداراداکر چکاہے۔یہ ایک ایسی روایت ہے جوآج بھی زندہ ہے۔یہ وہی شہرہے جس نے کبھی واشنگٹن اوربیجنگ کوقریب لانے میں کلیدی کردارادا کیاتھا۔آج پھروہی داستان نئے اندازمیں رقم ہورہی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی سطح پرثالثی کا کرداراداکیاہو۔ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کےدرمیان پل کاکرداراداکیاتھا۔یہ روایت آج بھی زندہ ہے اورایک نئے باب کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔

پاکستان کی حکمت عملی مفاہمت اورتوازن پرمبنی ہے،جواسے ایک مؤثرثالث بناتی ہے۔دنیاکی نظریں اس وقت اسلام آبادپرمرکوزہیں۔یہ شہرایک ایسے اسٹیج میں تبدیل ہوچکاہے جہاں عالمی سیاست کے اہم کرداراپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اس کی صلاحیتوں کوتسلیم کررہی ہیں۔امریکاکااعتمادپاکستان کیلئےایک اہم سفارتی سرمایہ بن چکاہے اورکبھی یہی کردارپاکستان نے دوحہ میں افغان امریکامذاکرات میں بھی بڑی خوش اسلوبی سے اداکیاتھا س کے بعدامریکا کا فغانستان سے انخلاممکن ہواتھا۔

ہمیں یہاں بہت محتاط ہو کرآنے والے اقدامات کیلئے ایک واضح اور جامع پالیسی تیارکرناہوگی کہ ایک مرتبہ پھرصدرٹرمپ کی انتظامیہ کایہ اعتماداورانحصار پاکستان کیلئےکہیں کوئی نئی آزمائش نہ بن جائے۔پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلاب قراردینادراصل اس کے کردارکی اہمیت کاجہاں اعتراف ہے وہاں دوحہ میں طالبان کے مذاکرات کے بعداب ہم جس صورتحال سے گزررہے ہیں،فیلڈمارشل عاصم منیرکابطورثالث ابھرناپاکستان کی فیصلہ کن قیادت کا مظہر ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت پاکستان کی فیصلہ کن پالیسیوں کی عکاس ہے۔یہ قیادت نہ صرف داخلی سطح پرمضبوط ہے بلکہ عالمی سطح پربھی اپنااثر دکھا رہی ہے۔ان کی سفارتی سرگرمیاں اورعالمی رہنماؤں سے روابط اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان محض ردعمل دینے والاملک نہیں بلکہ مشکل حالات کوتعمیراتی شکل دینے والا کرداراداکررہاہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بھارت کی پالیسی ایک زمانے تک توازن اوراحتیاط کی مثال سمجھی جاتی تھی۔ایران،خلیجی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ایک نازک توازن پرقائم تھے،مگرحالیہ برسوں میں مودی حکومت نے یہ توازن بری طرح بگاڑدیاہے ۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں واضح تبدیلی آئی ہے۔بھارت کی حالیہ خارجہ پالیسی میں توازن کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے،جواس کیلئےسفارتی چیلنجزپیدا کررہی ہے۔جہاں پہلے وہ توازن کی پالیسی اپناتاتھا،اب اس کاجھکاؤ ایک خاص سمت میں نظر آتا ہے۔یہ تبدیلی اس کے علاقائی تعلقات پراثر اندازہورہی ہے۔

بھارت کاجھکاؤایک خاص سمت میں ہونااس کی غیرجانبداری کومتاثرکررہاہے۔یعنی ایران پرحملوں کے بعد بھارت کامؤقف اورجھکاؤ واضح طورپرامریکااور اسرائیل کے حق میں نظرآتاہے۔اس یک طرفہ رویے نے نہ صرف اس کی غیرجانبداری کومشکوک بنادیابلکہ اسے ایک فریق کے طورپرپیش کیاہے جس نے اس کے علاقائی تعلقات کوبھی متاثرکیاہے۔سفارت کاری میں توازن کھودیناایسے ہی ہے جیسے کشتی بان اپناقطب نماگم کردے —پھرسمتیں دھندلاجاتی ہیں اورمنزل کھوجاتی ہے۔ایران پرحملوں کے بعد بھارت کامؤقف واضح طورپر امریکا اور اسرائیل کے حق میں نظرآتاہے۔اس یک طرفہ رویے نے اس کی غیرجانبداری کومتاثرکیا ہے۔

یہ جنگ ایک پیچیدہ صورت حال اختیارکرچکی ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھاناضروری ہے۔ایران کی جنگ ایک پیچیدہ شطرنج ہے جس میں ہرچال سوچ سمجھ کرچلنی پڑتی ہے،اور ہر چال کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ اسرائیل،امریکا،ایران اوردیگرعلاقائی طاقتیں اس کھیل کے اہم کردارہیں۔پاکستان اس کھیل میں ثالث کا کردار اداکررہاہے،جوسب سے مشکل مگرسب سے مؤثرکردارہوتاہے۔پاکستان کے اس سے عدم تعلق کے باعث ثالثی کاعمل مزیددشوارہوجاتا ہے ۔تاہم امریکاکی حمایت نے پاکستان کووہ اعتمادعطاکیاہے جوبڑے فیصلوں کی بنیاد بنتاہے ۔سفارت کاری میں توازن ہی کامیابی کی کنجی ہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست میں توازن ایک بنیادی اصول ہے۔جوممالک اس توازن کوبرقراررکھتے ہیں،وہی دیرپااثرات چھوڑتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکمت عملی اسی اصول کی عکاس ہے۔پاکستان کوجو اعتمادحاصل ہے،وہ اس کی سب سے بڑی قوت ہے۔امریکاکی حمایت اورایران کے ساتھ تعلقات نے اسے ایک منفردحیثیت دی ہے۔

بھارت نے ابتداہی سے ایک واضح صف بندی اختیارکرلی ہے۔خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی مفادات اورامریکاکے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات نے اسے ایک خاص سمت میں دھکیل دیاہے۔اس کے بیانات اوراقدامات اسی جھکاؤکی عکاسی کرتے ہیں۔بھارت کاکرداراس بحران میں محدوددکھائی دیتاہے۔یہ امربھی قابلِ غورہے کہ بھارت نے کبھی سنجیدگی سے ثالثی کی پیشکش نہیں کی۔امریکاکااس پرعدم اعتماددراصل اسی خلاکی نشاندہی کرتاہے۔یوں بھارت ایک خود مختارثالث کی بجائے ایک تابعداراتحادی کے طورپرسامنے آتاہے۔اس کی پالیسیوں نے اسے ایک ثالث کی بجائے اسے خطے کی ظالم قوت کافعال ساتھی بنا دیاہے۔

بھارت کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی تنقیداس امرکی غمازہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اپنی سمت کھوبیٹھی ہے۔غزہ سے لے کر ایران تک،اس کی کمزور آوازنے اس کے وقارکومتاثرکیا ہے۔عالمی سیاست میں خاموشی اکثربے وزنی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔بھارت کے اندرونی حلقوں میں ہونے والی تنقیداس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ایران جیسے قریبی ہمسائے کے معاملے میں خاموشی یاجانبداری ایک بڑی سفارتی لغزش سمجھی جارہی ہے۔جب جنگ دروازے پردستک دے رہی ہوتوخاموشی بھی ایک کمزوری کی علامت اورایک بھیانک مکروہ جرم بن جاتی ہے۔ یوں عالمی طورپرپاکستان اوربھارت کی قیادت کے اندازمیں واضح فرق نظرآتاہے۔

اس خطے میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے۔ایران کی مزاحمت،اسرائیل کی جارحیت اورامریکاکی مداخلت نے ایک پیچیدہ صورت حال پیداکردی ہے۔ ادھر دوسری طرف اسرائیل اس تنازع میں ایک اہم کردارادا کررہاہے،جس کے بغیرکسی بھی حل کاتصورادھوراہے۔ خلیجی ممالک اس بحران میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اوران کے فیصلے مستقبل کومتاثرکرسکتے ہیں۔ان کے مفادات اورتعلقات اس تنازع کے نتائج پراثراندازہوسکتے ہیں۔یہ خطہ ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہاہے جہاں ہرطاقت اپناکرداراداکررہی ہے۔یہ بحران عالمی سیاست میں ایک نئے باب کاآغازکرسکتاہے۔طاقت کے توازن میں تبدیلیاں اورنئے اتحاداس کے ممکنہ نتائج ہیں۔

اگرپاکستان اپنی ثالثی میں کامیاب ہوتاہے تواس کاعالمی وقارغیرمعمولی حدتک بڑھ جائے گا۔یہ ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ایک کامیاب ثالثی نہ صرف جنگ کوختم کرسکتی ہے بلکہ مستقبل کے تنازعات کیلئےایک مثال بھی قائم کرسکتی ہے۔یہ صورتحال بھارت کیلئےایک سبق ہے کہ خارجہ پالیسی میں توازن اوربروقت فیصلے کتنے اہم ہوتے ہیں۔یادرہے کہ یہ بحران عالمی نظام کی نئی تشکیل کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔پاکستان کاکرداراسے عالمی سطح پرایک نئی پہچان دے رہاہے۔ کامیاب ثالثی نہ صرف جنگ کوختم کرے گی بلکہ مستقبل کیلئےایک مثال قائم کرے گی۔یہ صورتحال جہاں بھارت کیلئےایک اہم سبق ہے کہ سفارت کاری میں توازن اوربروقت فیصلے کتنے ضروری ہوتے ہیں وہاں تاریخ ہمیشہ ان قوموں کا احتساب کرتی ہے جواہم مواقع پردرست فیصلے کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی قیادت کے اندازمیں واضح فرق نظرآتاہے۔جہاں ایک طرف فیصلہ کن اقدامات ہیں،اورپاکستان کی فیصلہ کن قیادت نے اس کے کردارکومزیدمستحکم کیاہے۔جہاں ایک طرف بھارت میں تذبذب اورتردد دکھائی دیتاہے،وہیں پاکستان میں واضح حکمت عملی اورجراتِ اقدام نظر آتی ہے۔قیادت کایہی وصف قوموں کی تقدیربدل دیتاہے۔

بالآخریہ کہنابے جا نہ ہوگاکہ پاکستان ایک نئے سفارتی عہدکی دہلیزپرکھڑاہے۔اگراس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تویہ نہ صرف ایک جنگ کاخاتمہ ہوگابلکہ ایک نئے عالمی بیانیے کاآغازبھی۔اس کے برعکس بھارت کیلئےیہ لمحہ احتساب ہے—ایک ایساآئینہ جس میں اسے اپنی منافقانہ پالیسیوں کی کمزوری صاف دکھائی دے رہی ہے۔تاریخ کاپہیہ گھوم رہاہے،اوراس باراس کی گردش میں پاکستان کا قد واقعی بلندہوتادکھائی دے رہاہے۔

تاریخ ہمیشہ ان قوموں کویادرکھتی ہے جومشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں۔پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موڑپرکھڑاہے۔آنے والے دن اس بحران کے نتائج کاتعین کریں گے ،مگرایک بات واضح ہے کہ پاکستان نے اپنی موجودگی کابھرپوراحساس دلایاہے۔یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ پاکستان ایک نئے سفارتی افق کی طرف بڑھ رہاہے۔اگراس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تویہ نہ صرف جہاں ایک جنگ کا خاتمہ ہوگااورایک نئے عالمی نظام کی بنیادبھی رکھے گا،وہاں ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازبھی ۔یوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ کے افق پرایک نئی سحر طلوع ہورہی ہے—ایک ایسی سحرجس میں پاکستان کاقدواقعی بلندہوجائے گا، اور اس کی آوازعالمی ضمیرکی بازگشت بن کرگونجے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں