Pakistan's Gambling: Arbitrator in a Fierce Storm

پاکستان کا جوأ: ایک تیز طوفان میں ثالث

مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرتاریخ کے اس موڑپرکھڑاہے جہاں بارودکی بو،سفارت کاری کی سرگوشیوں کودبادینے کی کوشش کررہی ہے۔ایران پرامریکااور اسرائیل کے حملوں کے بعدشروع ہونے والی یہ جنگ محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست،معیشت اورطاقت کے توازن کوہلاکر رکھ دیاہے۔ایک ماہ سے زائد عرصے پرمحیط یہ کشیدگی اس حقیقت کوآشکارکررہی ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طاقت کی زبان،دلیل اورمذاکرات پرغالب آنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگراس بارمعاملہ کچھ مختلف ہے؛اس بارمیدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذبھی پوری شدت سے گرم ہے۔

یہ تنازع صرف میزائلوں اوربمباری تک محدودنہیں بلکہ اس کے پیچھے ایسے پیچیدہ سیاسی مقاصداورحکمت عملیاں کارفرما ہیں جنہیں سمجھناآسان نہیں۔امریکا کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی پیشکش اوردوسری طرف جارحانہ کارروائیاں،ایک ایسی دوہری پالیسی کوظاہرکرتی ہیں جسے ماہرین“کیرٹ اینڈ اسٹک” کانام دیتے ہیں۔اس حکمت عملی کے ذریعے واشنگٹن بیک وقت دباؤاورترغیب دونوں کااستعمال کررہاہے،لیکن اس کے حقیقی مقاصدآج بھی دھندمیں لپٹے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے غیرمعمولی صبر،حکمت اورمزاحمت کامظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ سفارتی سطح پربھی اپنے مخالفین کوچیلنج کیاہے۔آبنائے ہرمز جیسے حساس جغرافیائی مقام پراس کااثرورسوخ عالمی معیشت کیلئےایک فیصلہ کن عنصربن چکاہے،جس کے اثرات دنیابھرمیں محسوس کیے جارہے ہیں۔

اسی پیچیدہ اورنازک صورتحال میں پاکستان ایک ایسے کردارکے طورپرابھراہے جس کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ایک طرف ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ،دوسری جانب امریکااورخلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط—یہ توازن پاکستان کوایک منفردحیثیت دیتاہے۔اسلام آبادمیں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اورمختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان مشاورت اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ممکنہ طورپرامن کاایک کلیدی معمار بن سکتاہے۔

یہ مضمون اسی تناظرمیں اس جنگ کے پس پردہ عوامل،امریکاکے مبہم اہداف،ایران کی حکمت عملی اورسب سے بڑھ کر پاکستان کے ثالثی کردارکاتفصیلی جائزہ لے گا۔ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیاواقعی سفارت کاری اس آگ کوبجھا سکتی ہے یادنیاایک طویل اورتباہ کن تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ایران پرامریکااوراسرائیل کے حملوں کے بعدمشرق وسطی میں شروع ہونے والی جنگ کوایک ماہ سے زیادہ ہوگیاہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ترکی مصراور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئےکام کرنے والے ممالک میں نمایاں طورپرسامنے ایاہے،پاکستان کے وزیرخارجہ نےکہاہے کہ ایران اورامریکا دونوں نے سہولت کارکے طور پرپاکستان پراعتمادکااظہارکیاہے۔ٹرمپ نے کئی بارپاکستان کے مثبت کردارکے بارے میں بات کی ہے۔

اسی دوران ایک اہم پیش رفت نے اس تنازع کوایک نئے سفارتی موڑپرلاکھڑاکیاہے۔ٹرمپ نے اعلان کیاہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اورآرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیرکی درخواست پرایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے کودو ہفتوں کیلئے مؤخرکرنے پرآمادہ ہیں،بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمزکوفوری،مکمل اورمحفوظ اندازمیں کھول دے۔اس کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے یہ تصدیق بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پرمذاکراتی عمل اسلام آبادمیں جمعے سے شروع ہوگا۔یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کواجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہرکرتی ہے کہ جنگ کے عین بیچ میں بھی مذاکرات کی کھڑکی مکمل طورپربندنہیں ہوئی۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ کا اطلاق لبنان تک نہیں پھیلایاجائے گا،جواس خطے میں ممکنہ پھیلاؤکومحدودکرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

حال ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کی نئی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کررہا ہے جن سے ایران میں امریکا ہکی فوجی کاروائی ختم ہوسکتی ہے لیکن ساتھ ہی اسی شدت سے ایران پرحملے اوردہمکیاں بھی جاری ہیں۔دوسری طرف ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ جنگ ختم کرنے کیلئےامریکا کی طرف سے بھیجے گئے نکات اورشرائط ضرورت سے زیادہ غیرمعقول ہیں۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کئی بارکہہ چکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی براہ راست مذاکرات نہیں کررہا۔

اس پس منظرمیں اج ایران اورامریکی جنگ میں بطورسہولت کارپاکستان کےکردارکوسمجھنے کی کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ دو سوالوں کاجواب دینے کی کوشش بھی کریں گے کہ امریکا اورایران کے درمیان ثالث کیس کردارسے پاکستان کو کیافائدہ ہوسکتاہے،اورامریکاایک ہی وقت میں ایک طرف فوجی جارحیت اوردوسری طرف سفارت کاری کی پالیسی سے کیا حاصل کرناچاہتاہے۔

اس جنگ سے امریکاحاصل کیاکرناچاہتاہے؟یہ ایک ایساسوال ہے جس کاجواب ایک ماہ بعدبھی واضح نہیں اوراس کی ایک وجہ شایدخودٹرمپ کے مختلف بیانات بھی ہیں۔وہ کبھی ایران کوتباہ کرنے،ایران کے خارج جزیرے پر وجود تیل پر کنٹرول حاصل کرنے،پانی اوربجلی کے انفراسٹرکچرکوتباہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں توکبھی ایران کی نئی قیادت کی تعریف بھی کرتے نظرآتے ہیں۔ایک طرف مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمزکو ٹینکرزکیلئےکھول دے تو دوسری طرف دیگرممالک سے کہتے ہیں کہ وہ خودجاکرآبنائےہرمزکاکنٹرول سنبھالیں اور اسے استعمال کریں۔ایران سے مذاکرات کی باتیں بھی کرتے ہیں اورایران کوبمباری کرکے پتھر کےدورمیں پہنچانے کی بھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل ایران کی طرف امریکاکی کیرٹ اینڈسٹک پالیسی کاحصہ ہےیعنی ایک طرف آپ سامنے والے کولبھانے کیلئےکچھ پیشکش کریں، ایک کیرٹ یاگاجراوردوسری طرف اسے ڈرانے کیلئےکچھ دکھائیں،سٹک یعنی چھڑی۔اس وقت گاجرمذاکرات کی پیشکش،ایران کے بجلی اور یل کی تنصیبات پر ملہ نہ کرنا ے تو ھڑی مکمل تباہی کی دھمکی ہے۔

ٹرمپ کے اس طرح کے بیانات سے اب عالمی طورپراعتباراٹھ گیاہے۔جوابھی تک کی صورتحال ہے اس میں ایران کاجورد عمل بڑامضبوط،دانشمندانہ ہے،بڑی حکمت عملی کے تحت ایرانی اپنے قدم بڑھارہے ہیں۔ان کے درمیان جوپیغام رسانی ہے ،اس کے مطابق پانچویں ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں امریکا کیلئے مشکلات اورمسائل بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ امریکی مقاصد کودیکھاجائے تو اس وقت صورتحال اتنی پیچیدہ نظراتی ہے،کوئی نہیں جانتاکہ امریکا کے مقاصدکیاہیں؟یہ بھی واضح نہیں، کیا وہ اس وقت جنگ کو بند کرناچاہتاہے،وہ آبنائے ہرمزکوکھولناچاہتاہے،وہ ایران کو غیرمسلح کرناچاہتاہے،دنیاجانناچاہتی ہے کہ آخرامریکاچاہتاکیاہے؟؟؟

جس وقت جب یہ تنازع شروع ہواتواس وقت سامنےتین مقاصدتھے:ایک تویہ تھاکہ موجودہ ایرانی ریجیم چینج کی جائے اور وہاں ایک ایسی حکومت لائی جائے جوان کے مقاصد کے عین مطابق ہوجیساکہ وینزویلامیں انہوں نے کیادوسرایہ تھاکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کوختم کیاجائے یااس سطح پرلایاجائے کہ وہ اسے جنگی مقاصدکیلئے استعمال نہ کرسکیں۔اورتیسرایہ تھا کہ ان کاجوملٹری انفراسٹرکچرہے اس کواتنامحدودکردیاجائے کہ وہ علاقے کیلئےخطرہ نہ بن سکے۔اس میں بہت زیادہ طاقت نہ رہے۔

لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ اگے بڑھتاگیا،اہستہ اہستہ یہ چیزیں نظرآنا شروع ہوئی،ایران کی طرف سے جتنی مزاحمت ہوئی اورابھی تک ہورہی ہے توان مقاصد کے اندرانہوں نے بڑے ایک سٹریٹیجک طریقے سے وہ امریکاکے مقاصدکوکاؤنٹرکرنا شروع کیا۔جس میں سب سے پہلے تواس تنازعہ کوریجن کے اندراس خوف کے ساتھ پھیلایاگیاکہ اگرآپ کی زمین،ایئرسپیس یا اپ کے کوئی بھی وسائل ایران کے خلاف استعمال ہوئے توآپ کے اوپراسی شدت سے حملہ ہوگا، دوسرااس تنازعہ کوریجن سے باہر نکال کرگلوبل لیول پرلے آئیں ہیں،جس میں آبنائے ہرمزکا پوراکنٹرول ایران کےحق میں چلاجائے۔اب تک ایران اپنے ان دونوں مقاصدکوحاصل کرچکاہے اورساری دنیاپراس جنگ کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں اور”گلوبل سپلائر چین”شدیدمتاثرہورہی ہے۔

یہاں پھرایک سوال ذہن میں ابھرتاہے کہ اس سب میں پاکستان کہاں فٹ ہوتاہے؟پاکستان نے ایک طرح سے جنگ کے پہلے دن سے اپنی پوزیشن واضح رکھی ،مشکل لیکن واضح، ایران کادوست،امریکاکااتحادی اوران تمام ممالک کابھی دوست جوایران کے جوابی حملوں کی زدمیں ائے ہیں۔ظاہرہے اس پوزیشن کوبرقراررکھناآسان نہیں ہے لیکن فی الحال ایسالگتا ہے کہ پاکستان اس مشکل راستے کوکافی کامیابی سے نمٹارہاہے۔امریکااسرائیل اورایران کے درمیان جنگ جاری ہے،دونوں طرف سے حملے رکے نہیں ہیں لیکن اچانک سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی نظرآرہی ہے۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام اباد میں ترکی سعودی عرب مصر اورپاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان جنگ بندی کیلئےدوروزہ مشاورتی صلاح مشورہ ہوا، ان ملاقاتوں کوجنگ شروع ہونے کے بعدامریکااورایران کوبراہ راست مذاکرات تک پہنچانے کیلئےسب سے منظم علاقائی کوشش قراردیاجارہاہے۔

اس ملاقات سے چندگھنٹے پہلے پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدرمسعودپژشکیان کے ساتھ فون پربات کی،ایک اوراہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان نے پچھلے سال ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پردستخط کیے۔ماہرین کے مطابق اس کے تحت سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان فوجی تعاون تومزیدگہراہواہی ہے،ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن پربھی اس کااثرپڑسکتاہے۔اس معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی ایک ملک پرحملے کودونوں ممالک پرحملہ تصورکیاجائے گا۔

ایران پاکستان کاہمسایہ ملک ہے،دونوں کے درمیان900کلومیٹرلمبی سرحدہے اورپاکستان ایران کواپنا برادرملک کہتاہے۔پھر پاکستان میں کوئی امریکی اڈے بھی نہیں اوران خلیجی ممالک کے برعکس جواب تک ثالث کاکردار اداکرتے ائے ہیں۔ پاکستان فی الحال جنگ کاحصہ نہیں ہے اورشاید سب سے اہم بات کہ پاکستان امریکااورایران کے درمیان کرداراداکرنے کیلئے تیارہے توموجودہ صورتحال میں پاکستان کاکردارکتنااہم ہے اوروہ کس حد تک ڈی ایسکلیشن یاجنگ کے خاتمے کو حاصل کرسکتاہے؟

تاہم اگرعلاقائی سلامتی اوردفاع کی بات کریں جیساکہ ابھی گلوبلائزیشن میں جو ملٹی پولیرٹی کی طرف منتقلی ہورہی ہے،اس میں ریجن کاستحکام بہت ضروری ہے۔پاکستان اپنے ریجن کاایک ایساملک ہے جس کواس چیزکاادراک ہے،اگرچہ اس کے مشرق اورشمال میں مسلسل حالات خراب کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے طوریہ کوشش کررہاہے کہ تمام ممالک کوساتھ لے کرچلے اوراس ریجن میں جنگ کے شعلوں کوبجھاسکے۔اب اگریہ جنگ طویل ہوتی ہے اور سعودی عرب اس میں براہ راست شامل ہوجاتاہے توپاکستان کیاکرے گا؟جبکہ پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے۔میرے خیال میں اس سوال کوتھوڑاسااگراس طریقے سے دیکھ لیں کہ اگرسعودی عرب ابھی تک اس تنازعہ میں کیوں نہیں آیاتو وہیں سے جواب مل جائے گا۔تاہم یہ امن مذاکرات جواس وقت ہورہے ہیں اورپاکستان اس میں بہت ہی نمایاں کرداراداکر رہاہے،آخرپاکستان کواس کاکیافائدہ ہے؟

تواس کوجواب یہ ہے کہ پاکستان کیلئےتومعاشی،سفارتی اورعسکری،ان تمام چیزوں کواگرآپ دیکھیں توپاکستان کیلئےیہ بہت بڑامسئلہ ہوگا،اگر یہ تنازعہ آگے بڑھتاہے۔اس جنگ کوروکنے میں ہی پاکستان کافائدہ ہے۔یہ بات واضح ہے جنگ کی وجہ سے پاکستان میں ایک طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ اوربڑھتی ہوئی مہنگائی دوسری طرف یہ خدشہ کہ اگرجنگ بڑھتی گئی اوراگر اس میں سعودی عرب براہ راست شامل ہوگیاتوپاک سعودی دفاعی معاہدے کے پیش نظرپاکستان کامؤقف کیاہوگا؟ اورپھرپاکستانی عوامی رائے جواس جنگ کےامریکااوراسرائیلی کاروائی کے شدیدخلاف ہے،اس سب کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرپاکستانی ساکھ کاسوال بھی ہے۔اگرپاکستان کی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں توعالمی سفارت کاری کی دنیامیں یہ بہت بڑی فتح ہو گی۔

اسی دوران چین نے بھی پاکستان کی ثالثی کیلئےحمایت کااظہارکیاہے۔پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈارکے چین کے دورے کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے کوشش کررہاہے کہ وہ ایران اورامریکاکوبات چیت کیلئے راضی کرے اوراسلام ابادمیں دونوں کوبراہِ راست مذاکرات کی میزپرلانے کیلئے اپنے ہاں میزبانی کرے۔ابھی تک ایساہو نہیں پایالیکن پاکستان اس میں ضرورکامیاب ہواہے کہ اس نے ملٹی لیٹرل قسم کاپلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی ہے جس میں اس نے پہلے تین مسلم ممالک سعودی عریبیہ مصر اورترکی کے وزرائے خارجہ کواسلام اباد میں مدعوکیا،اس کے بعد پاکستان کے وزیرخارجہ فوراًہی چین بھی چلے گئے جہاں سے پاکستان کے اس مصالحتی میزبانی کی مکمل حمائت حاصل کی،جس میں چین نے پاکستان کے ساتھ مل کراس جنگ کورکوانے کی کوششوں کیلئےایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا۔

اس کے بعدپاکستان کی حکومت کے اوپرکافی نظریں ہیں کہ پہلے تووہ ایک متوقع ثالث کے طورپرسامنے آیا،لوگ توقع نہیں کررہے تھے کہ پاکستان ایساکردار اداکرسکتاہے یاکرے گالیکن اب وہ سامنے اگیاہےتوکافی نظریں اس کےاوپرہیں کہ کیاوہ واقعی ایران کوراضی کرپائے گاکہ وہ امریکاسے بات چیت کرلے۔ تو بہت سے ماہرین کاماننا ہے کہ یہ بہت مشکل ہوگا کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کافقدان ختم کرناکسی ایک ملک کیلئےممکن نہیں ہوگاکہ وہ اکیلے اس کوکوئی گارنٹی فراہم کرسکے لیکن اگرایک ملٹی لٹریل قسم کاپلیٹ فارم ہوتاہے توشاید اس میں کامیابی کے مواقع زیادہ ہوں گےاور اگرچین کی مرضی اور منظوری بھی اس میں شامل ہوجاتی ہے توایران کے اوپرچین کیونکہ ایک انفولئنس رکھتاہے،سوچ میں کامیابی کے مواقع زیادہ بڑھ جاتے ہیں لیکن اب ساری نظریں پاکستان پرہیں کہ کیاوہ واقعی ہی ان فریقین کوبات چیت پر راضی کر سکتا ے اورچین کی مددسے کیاوہ ضمانت فراہم کرسکتاہے جوایران کو چاہیے جس کے بعدکہ اسے کامیابی ہوگی اوروہ دونوں کواسلام اباد میں ایک میزپرجنگ بندی کیلئے مذاکرات کروانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

چین ایرانی تیل کاسب سے بڑاامپورٹرہے اورایران پراقتصادی پابندیوں کے باوجودکسی نہ کسی طرح ایران کاتیل خریدتارہا ہے۔چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ ایران اورخلیجی ریاستوں کی خود مختاری،علاقائی سالمیت،قومی آزادی اورسلامتی کاتحفظ کیاجاناچاہیے۔تنازعات کے حل کیلئےمذاکرات اورسفارت کاری ہی واحدقابل عمل اپشن ہے۔اپ کوپتہ ہے بیجنگ اورتہران نے2021میں25سالہ سٹریٹیجک معاہدے پردستخط کیے تھے جوکئی غیرملکی مبصرین کے مطابق امریکاکیلئےایک وارننگ تھا،اس معاہدے میں دفاعی سازوسامان میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی فروخت سے لے کرکلچرل ایکسچینجزتک شامل تھے۔بین الاقوامی پابندیوں کی شکارایرانی معیشت کیلئےچین ایک لائف لائن سمجھاجاتاہے۔2025میں چین نے ایران سے بھیجے گئے تیل کا80فیصدسے زیادہ حصہ خریدااوروہ بھی بہت زیادہ رعایتی داموں پر۔یوایس چائنااکنامک اینڈسیکیورٹی ریویو کمیشن کے مطابق چین نے2025 میں ایران کے ساتھ 9.96 بلین ڈالرکی بائیلیٹرل یادوطرفہ تجارت کی،ان اعدادوشمارمیں2025میں چین کوغیر رپورٹ شدہ ایرانی خام تیل کی برآمدات میں تقریبا31.2 بلین ڈالرشامل نہیں ہیں جوکہ اگر شامل کیے جائیں تومجموعی دوطرفہ تجارت کا75فیصدسے زیادہ حصہ ہے۔ ان اعداد وشمار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چین کیلئےایران میں جنگ بندی ضروری اوراہم کیوں ہے۔

اس وقت جو صورتحال ہے اس میں کوئی سفارتی حل مشکل ضرور نظر اتا ہے لیکن شاید ناممکن نہیں۔ ایران کی مذاکرات کی لمبی تاریخ ہے۔ انسائڈ 28 فروری کے اامریکا اور اسرائیلی حملوں سے پہلے جو مذاکرات جاری تھے ان کے بارے میں کئی سفارتی اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایران بہت اگے تک جانے کو تیار تھا، تو کیا اب یہ سفارتکاری کیلئےکوئی جگہ باقی ہے یا پھر یہ جنگ فی الحال ایسکلیٹ ہی ہوتی رہے گی؟

دونوں اطراف کوشش کررہی ہیں کہ سفارتی ذرائع سے جنگ ختم ہوجائے لیکن دونوں سائڈزفی الحال اپنے اپنے اینڈزپریہ کوشش بھی کررہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ فوائدسمیٹ سکیں،مثلاًجو ایرانینزہیں ان کی کوشش یہ ہے کہ بس اس دفعہ جنگ ختم ہوتی ہے توکسی طریقے کی گارنٹی بھی دی جائے کہ یہ جنگ دوبارہ نہیں ہوگی اورامریکاکی کوشش ہے کہ وہ جب جنگ ختم کریں تو اس طرح کی صورت حال ہوکہ وہ دنیاکوبتاسکیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی ہے۔لیکن موجودہ صورتحال دیکھیں توامریکااورایران کی جوپوزیشنز ہیں وہ اتنی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اتنی ناقابل بھروسہ ہیں، مصالحتی ٹیم میں شامل ممالک سوچ رہے ہیں کہ سفارت کاری اورڈپلومیسی کی شروعات کہاں سے ہوگی؟

اس مشکل مرحلے کاآغازیقیناًفریقین کے اس یقین سے ہوگاکہ وہ واقعی جنگ ختم کرناچاہتی ہیں اوردوسرامرحلہ پرجہاں امریکااورایران شاید اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کافی عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیارنہیں بناناچاہتے اورسب سے بڑاامریکاکابھی سٹریٹیجک گول اس جنگ کے اندریہی تھاکہ ایران نیو کلیئر پاورنہ بنے۔جواختلافی نکات ہیں وہ تھوڑے ہیں لیکن وہ ایک مسئلہ توہوں گے لیکن اگربات شروع ہوگی تووہ شایدسب سے پہلے نیوکلیئرسے ہوگی۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ یہ مذاکرات کی جوبات ہورہی ہے،جو ڈپلومیسی کاٹریک چل رہاہے اس میں چین کاکیاکردارہے،چین کتنااہم ہے؟

جنگ کے اندرجو تین چارمختلف کھلاڑی ہیں جیسے کہ عرب ریاستیں ہیں،ایران ہے،امریکااوراسرائیل ہے توچین کاکچھ پلیئرز پہ توانفلوئنس ہے لیکن کچھ پلیئرز پہ چین کااس طرح انفلوئنس نہیں ہے کہ چین بطورضامن کوئی رول اداکرسکے البتہ چین کے آنے کایہ فائدہ ہوسکتاہے کہ چین کاایران پہ کافی زیادہ انفلوئنس ہے تواگرچائنہ اس پراسس کےاندراتاہے توشاید ایران کیلئے اس پراسس کی کریڈیبلٹی بڑھ جائے۔اورجہاں تک پاکستان کے کردارکاسوال ہے،پاکستان کی جس طرح سے ایک نمایاں سفارتی کوششیں ہیں اوراس وجہ سے پاکستان عالمی طورپر توجہ کامرکزبھی بناہواہے اورنمایاں طورپر سامنے بھی آیاہے،چین کو واقعی ایسالگتا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کو شاید کامیاب بنانے میں کردار ادا کر سکتاہے۔

چین یہ سمجھتا ے کہ پاکستان کے عرب ممالک،ایران کے ساتھ اب امریکاکے ساتھ کافی بہترتعلقات ہی، اورپھردیکھنایہ ہے کہ پاکستان اس جنگ سے براہِ راست متاثربھی ہورہاہے۔پاکستان ایران کاہمسایہ ہے،اگرحالات زیادہ خراب ہوتے ہیں،توایران کے ساتھ پاکستان پربھی ایک امپیکٹ ائے گا تو ان حالات میں پاکستان پراس جنگ کے مہلک اثرات پڑسکتے ہیں۔اس وقت امریکاکی یہ جنگ بہت ہی نازک موڑپرہے۔اگرسفارت کاری ناکام ہوجاتی ہے توٹرمپ کے پاس بہت زیادہ اپشنزنہیں بچیں گے ایک اپشن یہ ہے کہ ٹرمپ یہ کہہ کر فتح کااعلان کردیں گے کہ انہوں نے ایران کی فوج کومکمل طورپرتباہ کردیاہےاور آبنائے ہرمزکو کھلواناان کی ذمہ داری نہیں۔اس سے عالمی معیشت پرجس طرح کے اثرات پڑھ سکتے ہیں ، اس کااندازہ پچھلے تین چارہفتوں میں ہی ہوگیاہے یاپھرٹرمپ اس جنگ میں مزیدتوسیع کردیں کیونکہ اب تک ٹرمپ نے اپنے رویے سے ثابت کر دیاہے کہ وہ کبھی بھی اپنے بیانات سے منحرف ہوکردنیا کی تباہی کے فیصلے کرسکتے ہیں۔

اس وقت4ہزارسے زیادہ امریکی میرینزبحری جہازوں پرخلیج فارس کی طرف بڑھ رہے ہیں،اے جی سیکنڈایربون کے پیرک ٹروپس سٹینڈبائی پرہیں اورمزید ری انفورسنمنٹس کی بات بھی ہورہی ہے۔ایک فل سکیل انویژن یابھرپورزمینی حملہ میں یہ ممکن ہے کہ امریکاخلیج فارس میں خارق سمیت کچھ جزیروں کوقبضے میں لینے کی کوشش کریں۔یہ اپشن بھی امریکا کیلئےمشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ایران پہلے ہی کہہ چکاہے کہ وہ ایک لمبی جنگ کیلئےتیارہے۔ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ایک لمبی جنگ کیلئےایران شایدامریکاسے زیادہ تیارہے اورایران نے گزشتہ ہفتے اسے دہرایابھی ہے تواس وقت امریکاکیلئے زمینی جنگ کتناحقیقی آپشن ہوگااورکیاامریکا ایساکرسکتاہے؟

تو اس سلسلے میں اگر تو ہم افغانستان یاعراق والے تناظرمیں سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں تواس طرح کاکچھ نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ اس بات کاقوی امکان ہے کہ امریکاکچھ چھوٹاآپریشن کرسکتاہے اوریہ معاملہ بھی تتب ممکن ہوگا جب امریکا سٹریٹیجکلی کسی بندگلی میں داخل ہوجائے گاجہاں اس کے پاس انخلاءکایاوہاں سے نکلنے کاکوئی راستہ نہ ہو۔میرے خیال میں اس طریقے سے دیکھنازیادہ مناسب ہوگاکہ اس طرح کی ایک ایڈونچر کرناکےمقاصدکیاہیں۔ممکن توہوسکتاہے لیکن اس سے منسلک جوخطرات ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔

ایران کے اس دعوے کے باوجودکہ اس وقت امریکاکے ساتھ کوئی بھی مذاکرات نہیں ہورہے،اس بات سے انکارنہیں کیاجا سکتاکہ دونوں ممالک کے درمیان خاص طورپرپاکستان کے ذریعے رابطے ضرورہورہے ہیں۔امریکانے اپنی شرائط سامنے رکھی ہیں توایران نے اپنی۔ماہرین کہتے ہیں کہ امریکاکالیکڈ15 نکاتی پلان امن کامنصوبہ کم اورایران کیلئےہتھیارڈالنے کا منصوبہ زیادہ دکھائی دیتاہے۔اسی طرح ایران کے مطالبات جن میں آبنائے ہرمزپرایرانی کنٹرول، جنگ کے نقصانات کی تلافی اورمشرق وسطیٰ سے امریکااڈوں کاخاتمہ شامل ہے،جوامریکاکومنظور نہیں ہوگا۔

یہ واضح ہے کہ اگریہ جنگ لمبی کھینچتی ہے تواس کے خطے پرپاکستان پراورپوری دنیاپرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ مضمون کے آغازمیں دوسوال سامنے رکھے تھے کہ امریکااورایران کے درمیان ثالث کیس کردارسے پاکستان کوکیافائدہ ہو سکتاہے اورامریکا ایک ہی وقت میں ایک طرف فوجی توسیع اوردوسری طرف سفارت کاری کی پالیسی سے کیاحاصل کرنا چاہتاہے؟

جہاں تک پاکستان کاسوال ہے توآپ اس معاملے کوچاہے پاکستانی معیشت،عوامی رائے عامہ یاعالمی سفارت کاری کے زاویے سے دیکھیں،پاکستان کواس جنگ کی جاری رہنے سے جتنانقصان ہورہاہے،اس کے خاتمے میں سے اسے اتناہی فائدہ ہوگا۔امریکاکے اہداف اورمقاصداب بھی غیرواضح ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران پراسرائیل اورامریکا کی جنگ نے بہت کچھ بدل دیاہے۔جہاں ریجیم چینج کی کھلم کھلاباتیں ہوئیں وہیں خطے میں نئے اتحادکی طرف اشارے بھی ہونے لگے ہیں ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیااس مرتبہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یاپھرتاریخ اس امریکاجنگ کوعالمی سیاست میں ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ کے طورپریادکرے گی۔

یادرکھیں!جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں،وہ قوموں کی تقدیروں،معیشتوں اورآنے والی نسلوں کے مستقبل پربھی گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔ ایران اورامریکاکے درمیان جاری یہ کشمکش بھی محض دوریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ ایک وسیع ترعالمی طاقت کے کھیل کاحصہ ہے،جس میں ہرقدم کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ایک ماہ سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجودنہ توامریکاکے مقاصدپوری طرح واضح ہوسکے ہیں اورنہ ہی یہ جنگ کسی منطقی انجام کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔

تاہم اس تمام ترغیر یقینی صورتحال میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آئی ہے:طاقت کے باوجودکوئی بھی فریق مکمل برتری حاصل نہیں کرسکا۔ایران کی مزاحمت اورامریکاکی دوہری حکمت عملی نے اس تنازع کوایک پیچیدہ بندگلی میں لا کھڑاکیاہے جہاں سے نکلنے کاراستہ صرف اورصرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن نظرآتاہے۔

یہیں پرپاکستان کاکردارغیرمعمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے۔ایک ایسے وقت میں جب دنیاکے بڑے کھلاڑی اپنے اپنے مفادات کے جال میں الجھے ہوئے ہیں ،پاکستان نے ایک متوازن اورذمہ دارانہ پالیسی اپناتے ہوئے خودکوایک ممکنہ ثالث کے طور پرپیش کیاہے۔اگرچہ یہ راستہ آسان نہیں—اعتمادکی کمی، متضاد مفادات اورشدید جذباتی ماحول اس عمل کومزید مشکل بناتے ہیں—لیکن اس کے باوجودپاکستان کی کوششیں ایک امیدکی کرن ضرورہیں۔

پاکستان کیلئےبھی یہ محض سفارتی کامیابی کامعاملہ نہیں بلکہ اس کی اپنی سلامتی،معیشت اورعلاقائی استحکام کاسوال ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں،ممکنہ علاقائی جنگ اورداخلی دباؤ—یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنازع کاخاتمہ پاکستان کے مفادمیں ہے۔اگروہ اس نازک مرحلے پرکامیاب ثالثی کرلیتاہے تویہ نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کو مضبوط کرے گابلکہ ایک نئی سفارتی تاریخ بھی رقم کرے گا۔آخرکارسوال یہی باقی رہتا ہے:کیادنیاطاقت کے بجائے مکالمے کوترجیح دے گی؟کیاامریکااورایران اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میزپرحل کرنے پرآمادہ ہوں گے؟اورکیاپاکستان واقعی اس تاریخی موقع کوایک پائیدارامن میں بدلنے میں کامیاب ہوسکے گا؟

تاریخ کے اوراق اس وقت پلٹ رہے ہیں—اورآنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ جنگ ایک اورتباہ کن باب ثابت ہوگی یا امن کی جانب ایک فیصلہ کن موڑ،تاہم “آج سے پندرہ سال قبل اس پیشگوئی کا بہت مذاق اڑایا گیاتھا کہ آئندہ دنیاکے اہم فیصلے پاکستان کے مشوروں سے طے ہوں گے” ،آج رب العزت نے پاکستان کووہ مقام عطافرمایاہے۔الحمداللہ رب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں