Modern wars and the challenge of state order

عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

عصرِحاضرکی بین الاقوامی سیاست ایک بارپھراس موڑپرآن کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت کاسکہ چلتاہے اوراصول کتابوں میں رہ جاتے ہیں۔سامراجی رویوں کی وہ پرانی دستاویزیں جنہیں تاریخ نے مردہ سمجھ لیاتھا،نئے عنوانوں اورنئی اصطلاحات کے ساتھ پھرزندہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔وینزویلامیں امریکی اقدام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کے افق پر ابھرتاہواوہ بادل ہے جس کے پیچھے بہت سے سوال پوشیدہ ہیں۔طاقت کابے لگام استعمال،منرونظریے کی نئی قرت،فوجی مداخلت کی تازہ مثالیں،عالمی اداروں کی خاموشی اورچھوٹے ممالک کی بے بسی یہ سب مل کر ہمارے عہد کی وہ تصویربناتے ہیں جس میں امن ایک خواب اورانصاف ایک نایاب شئے دکھائی دیتاہے۔تاریخ نے بارہاثابت کیاہے کہ جب بڑی طاقتیں خود کوقانون سے ماوراسمجھنے لگتی ہیں توکمزوراقوام کی تقدیرمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے۔

یہ مضمون اسی پس منظرمیں وینزویلاکے واقعات کوپرکھنے،امریکی طاقت کے طرزِاستعمال کوسمجھنے،عالمی ردِعمل کوجانچنے اورخاص طورپراس سوال کاجائزہ لینے کی کوشش ہے کہ اس تمام ہنگامے کے بعددنیاکے محصورومحکوم خطوں میں کیاردِعمل جنم لے گا،اورعالمی نظام آئندہ کس سمت بڑھتاہوا نظرآتاہے۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے وینزویلامیں فوجی کارروائی کے بعدجس لب ولہجے میں گفتگوکی،اس نے دوصدی پرانے منروڈاکٹرائن کونئے رنگ میں زندہ کردیا۔ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں براہ راست فوجی کارروائی بظاہرایک ملک کے خلاف اقدام ہے،مگردر حقیقت یہ پوری دنیاکیلئے ایک اعلان ہے۔یہ اقدام چین،روس اوردنیاکی دیگرمقتدر مگر آمرانہ حکومتوں کیلئے ایک خاموش پیغامِ بھی ہے کہ طاقت کی لغت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب بھی سامراجی قوتوں نے خودکوعالمی منصف قرار دیا ، دنیامیں نیاعدم توازن جنم لیتارہا۔اب سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ نے محض وینزویلاپرحملہ کیاہے،یادنیاکے سیاسی نقشے پرنئے خطوط کھینچ دیے ہیں؟کیایہ کارروائی محض ایک ملک تک محدودواقعہ ہے یاچین وروس جیسی طاقتوں کیلئے بھی ایک نئے سیاسی نقشِ قدم کی نشاندہی؟ تاریخ کہتی ہے کہ نظریات جب طاقت کے سائے میں بولتے ہیں تومحض جملے نہیں رہتے،وہ سمتیں متعین کرتے ہیں۔

وینزویلاکے صدرنیکولس مادوروکی گرفتاری اورامریکی جیل میں قیددراصل اس نظریے کی مجسم صورت ہے کہ طاقت جب قانون بن جائے تو انصاف پس پشت چلاجاتاہے۔ٹرمپ کااعلان کہ”ہم وینزویلاکوچلائیں گے”جیسے جملوں نے عالمی سفارت کاری میں ہلچل مچادی بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دورِجسارت کااشارہ ہے۔ٹرمپ کایہ عندیہ کہ ضرورت پڑی توزمینی فوج بھی اتاریں گے،ایک نئی روش کی خبردیتاہے گویا طاقت کوزبان سے نہیں،عمل سے ثابت کرنے کازمانہ دوبارہ پلٹ آیاہے۔وزیرِخارجہ مارکو روبیوکے رابطے اورڈیلسی روڈریگیز کارضامندلہجہ اس امرکی علامت ہے کہ چھوٹے ممالک کے پاس انکارکاحوصلہ کم ہوتاجارہا ہے۔ٹرمپ کایہ کہناکہ”وہ مہربان ہیں،مگرچارہ نہیں”عالمی سیاست کافقرہ نہیں،پوری تاریخ کا بین السطورخلاصہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیاکسی ملک کودوردرازسے کنٹرول کیاجاسکتاہے؟یہ سوال محض تجزیہ نہیں،تاریخ کاامتحان ہے۔کیادوربیٹھے طاقتور ، مقامی معاشروں کے مزاج سمجھے بغیرمحض عسکری دباؤ سے اپنے اہداف حاصل کرپائیں گے؟تاریخ نے اس کاجواب کئی بارنفی میں دیاہے۔طاقت سے حکومت تو گرائی جاسکتی ہے،مگردلوں پرحکم نہیں چلتا۔وہ مقامی مزاحمت،وہ پوشیدہ نفسیات،وہ قومیت کاشعور یہ سب ایسے عوامل ہیں جوکسی بھی”ریموٹ حکومت”کوعدم استحکام میں دھکیل دیتے ہیں۔امریکی سوچ کہتی ہے ہاں!مگرزمینی حقیقتیں بتاتی ہیں کہ قومیں کنٹرول سے نہیں،رضامندی سے چلتی ہیںاوررضامندی تاریخ کاسب سے نایاب جوہرہے۔امریکی حکام کویقین ہے کہ منصوبہ کامیاب رہے گا،مگرتاریخ کاحافظہ کچھ اور کہتاہے۔

بین الاقوامی تھنک ٹینکس پہلے ہی خبردارکرچکے تھے کہ اچانک معزولی،ریاست کے دھڑوں کوٹکراتی گلیوں میں بدل سکتی ہے۔ طاقت جب اداروں سے بڑی ہوجائے تواقتدار، سیاست نہیں رہتاغلبے کی رسہ کشی بن جاتاہے کرائسزگروپ اورنیویارک ٹائمزپہلے ہی وینزویلامیں ممکنہ افراتفری سے خبردارکرچکے تھے۔طاقت کاخلاکبھی خالی نہیں رہتا۔جہاں حکومت ٹوٹے وہاں اسلحہ بولتاہے اور گروہ زورآزماتے ہیں۔یہی خوف ہے کہ اگرریاست کے داستاں گوکمزورپڑجائیں،توقصہ گوئی کاحق بندوق سنبھال لیتی ہے۔

مادوروکی معزولی امریکی عسکری قوت کے عملی مظاہرہ کے طورپرپیش کی گئی۔حیرت کی بات یہ کہ ایک امریکی فوجی بھی نہ مرا،اورمقصدحاصل ہوا مگرتاریخ سوال کرتی ہے کیایہی کامیابی ہے؟لیکن سوال یہ ہے کہ کیاصرف جانی نقصان نہ ہوناہی اخلاقی فتح ہے؟کیااقوام کی خودمختاری بھی کوئی معنی رکھتی ہے؟وینزویلاکے اندرخوشی کی لہریں کچھ حلقوں نے ضرور دکھائیں ،مگر سرحدوں سے باہراضطراب بڑھا۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں نتائج اپنی حقیقی شکل میں آنے کیلئیوقت کے طویل پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں؟

ٹرمپ کی نیوزکانفرنس میں لہجہ فاتحانہ تھا۔فتح کے ترانے بجتے رہے،مگرتاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ طاقت کے بل پرحکومتیں بدلیں مگرسماج نہ بدلا؛تاریخ کے اوراق میں درج عراق، افغانستان اوردیگرممالک کی ناکام داستانیں گواہ ہیں کہ عسکری فتح کے بعد سیاسی امن قائم کرنافقط اعلان سے ممکن نہیں ہوتا۔عراق سے افغانستان تک مثالیں دستک دیتی ہیں کہ عسکری جیت کے بعدسیاسی امن قائم کرنا میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔اصل جنگ عسکری کارروائی کے بعدشروع ہوتی ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں کے تجربات چیخ چیخ کرکہتے ہیں کہ بندوق راستہ بناتی ہے مگرمنزل نہیں دیتی۔قومیں بیرونی قوت کے فیصلے کو قبول نہیں کرتیں،وہ وقت کے ساتھ اپنافیصلہ صادر کرتی ہیں اوروقت کسی کاقیدی نہیں۔2003کاعراق آج بھی ناسورکی طرح لہورستا ہے۔افغانستان میں دودہائیوں کے بعدامریکی افواج کاذلت آمیزانخلادنیاکویاددلاتاہے کہ طاقت کے ایوانوں کی عمارت ریت پرکھڑی ہوتو ہواکی پہلی لہرہی کافی ہوتی ہے۔تاریخ خاموش نہیں وہ ماضی کے آئینے میں حال کودیکھتی ہے۔

1823ء میں منرونے جوجملہ کہاتھا،ٹرمپ نے اسے نیالہجہ عطاکیا۔ٹرمپ کایہ کہناکہ ہم نے منرونظریہ بہت پیچھے چھوڑدیامحض فقرہ نہیں،مغربی نصف کرے کے سیاسی نقشے پرایک تازہ لکیرہے۔ہم نے اسے پیچھے چھوڑدیاگویااب صرف عدم مداخلت نہیں،بلکہ تسلط کاکھلااعلان ہے۔مغربی دنیا کوہماراحلقہ قراردیناصرف نعرہ نہیں،عالمی سیاسیات کانیاضابطہ ہے۔پیغام واضح ہے امریکااپنی جغرافیائی برتری پرکوئی سوال برداشت نہیں کرے گا۔

کولمبیاکے صدرکودھمکی،میکسیکوکے بارے میں نشاندہی،ہیٹی کوانتباہ ،یہ الفاظ نہیں،پالیسی کے سائے ہیں۔طاقت جب گفتگوسے انکارکردے تو سفارت گری کاچراغ مدھم پڑجاتاہے اور اندیشے گہرے ہوجاتے ہیں جس کابالآخرانجام قوموں کی تباہی کے سوااورکچھ نہیں ہوتا۔ہیٹی میں حکومت کی تبدیلی بندوق کے سائے میں ہوئی۔گولیاں کم چلیں،مگر آنسوبہت بہے۔30برس گزرے مگرخوشحالی ابھی مقروض ہے۔یہ مثال وینزویلاکیلئے بھی ایک خاموش تنبیہ ہے۔

کیوباہمیشہ سے امریکی نفسیات میں ایک کانٹارہاہے۔سوشلسٹ روایت اورکیریبیئن کی جغرافیائی اہمیت نے اسے مستقل”ٹارگٹ”بنارکھا ہے۔ روبیو کی خاندانی نسبت اس معاملے کومزید
حساس بنادیتی ہے۔ٹرمپ کے لہجے میں تنبیہ بھی تھی،دعویٰ بھی اورارادہ بھی۔ماضی کی مداخلتوں نے کئی خطوں کوتجربہ گاہ بنادیا،مگرنتائج آج بھی ٹھوکریں کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ہیٹی کی مثال ثابت کرتی ہے کہ حکومتیں بدلی جاسکتی ہیںمگرقومیں نہیں۔ٹرمپ نے”جمہوریت”کالفظ استعمال نہیں کیا،نہ ماریاکوریناماچاڈوپراعتمادکااظہارکیااور نہ گونزالیزپرگویافیصلہ عوام نہیں ،طاقت نے کرناہے۔یہیں سے سوال اٹھتاہے کہ کیاجمہوریت محض نعرہ رہ گئی ہے؟وینزویلاکی قیادت جمہوریت کاسواطاقت کی تبدیلی یانظام کی بقا؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جن کے جواب طاقت کے پہاڑتلے کچلے گئے ہیں۔

کوئی بیرونی طاقت اندرونی دراڑوں کے بغیرکامیاب نہیں ہوتی۔مادوروکے خلاف اندرکے ہاتھوں نے ہی راستہ ہموارکیا۔مگریہی حقیقت فوج کے عزت دارجرنیلوں کیلئے شرمندگی کاسامان بھی ہے۔وہ مزاحمت نہ کرسکے اورتاریخ سوال چھوڑگئی۔ حکومت کے حامیوں کے مالی مفادات،مسلح ملیشیا، کولمبین گوریلا،بدعنوانی کے جال اورملیشیاکی طاقتیہ سب وہ آگ ہے جوکسی بھی وقت شعلہ بن سکتی ہے۔اقتدارکی رسہ کشی جب اسلحہ تھام لے تو ریاست کامستقبل سوالیہ نشان بن جاتاہے۔مادوروقیدمیں ہیں مگر شاویزکانظام اپنی جڑوں سمیت موجودہے۔فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے جال، ملیشیائیں اور مسلح گروہ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ کھیل ختم نہیں ہوا؛ اب دراصل کھیل شروع ہوا ہے۔

وینزویلاکے تیل ومعدنی ذخائرہوں یاگرین لینڈکی برف تلے چھپی دولت ،طاقتیں ہمیشہ زمین سے نہیں،زیرِزمین دولت سے بندھی ہوتی ہیں۔عالمی سیاست کے اشارے بتا رہے ہیں کہ شمال وجنوب دونوں،ایک ہی نگاہ کے دائرے میں ہیں۔اب خوف صرف جنوب تک محدود نہیں۔ قطب شمالی کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اوراس کے نیچے سونے کی نیند سوتے ذخائرجاگنے کوہیں۔گرین لینڈپرامریکی نگاہیں اسی خاموش لالچ کی ترجمان ہیں۔

بین الاقوامی قانون کبھی دنیاکی امیدتھامگرآباددنیامیں جنگل کے قانون کی واپسی کاخطرہ بڑھتادکھائی دیتاہے۔جب بڑے ملک قانون کو ”پسندوناپسند” کے ترازومیں تولنے لگیں، تو عدالت تاریخ کے حضورخاموش کھڑی رہ جاتی ہے اورعالمی وبین الاقوامی قوانین ایک ٹوٹے ہوئے آئینے کی مانند کرچی کرچی ہوکرانسانیت کوبری طرح مجروح کردیتی ہیں۔

مادوروآپریشن نے یہ سوال سنگین کردیاہے کہ بین الاقوامی قانون محض کتابی جملہ ہے یا واقعی قوتِ نافذہ رکھتاہے۔جب طاقتوراپنی مرضی سے قانون کی تعبیربدلنے لگے توکمزور قوموں کیلئے انصاف خواب بن جاتاہے۔مگردوسری طرف یورپی طاقتیں جانتی ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی کھلی خلاف ورزی ہے،مگرخاموش ہیں۔شایدمعاشی مفادطاقتور ہے ،شایدخوف غالب مگرتاریخ ان کی خاموشی بھی ریکارڈکر رہی ہے۔

مادوروکی چینی سفارت کاروں سے ملاقات کے بعدچین کی شدید مذمت اس امرکی علامت ہے کہ دنیاایک نئے بلاک کی تشکیل کے قریب ہے۔ سرد جنگ کی راکھ میں چنگاریاں پھر دہک رہی ہیں۔ٹرمپ کے اس اقدام نے روس اورچین کیلئے ایک کھلاپیغام اورایک نئی مثال قائم کردی ہے کہ اگر امریکا کرسکتاہے توچین تائیوان میں اورروس یوکرین میں کیوں نہیں ؟تاہم چین نے مذمت توکی ہے مگر ساتھ ہی دنیاسوچ رہی ہے کہ اگریہ راستہ چل نکلاتوتائیوان،یوکرین اوردیگر خطے بھی اسی منطق کاشکارہوسکتے ہیں اوران کو روکنے کیلئے بھلاکیاجوازباقی رہ گیاہے۔ایک لکیرپارہوچکی ہے؛اب ہرقوت اپنی تشریح کاحق مانگے گی۔یہی خوف سینیٹرمارک وارنر نے بیان کیاکہ اب ہرملک اپنی تشریح لے کرکھڑاہو جائے گااوردنیانظم سے بے نظم کی طرف ڈھل جائے گی۔

یہ واقعات محض خبریں نہیںیہ آنے والے برس کی تمہیدہیں۔تاریخ کی پیشانی پرلکھاجارہاہے کہ طاقت کامرکزمتحرک ہے،اوردنیا لرزاں۔ریڈار اور کمانڈرخاموش کردیے گئے، فلائٹ کمانڈر پلٹ گئے، دفاعی نظام معطل، اینٹی ایئرکرافٹ گنز خاموش رہیںیہ صرف ٹیکنالوجی نہیں،اندرونی غداری کاشاخسانہ تھا۔گویااندرسے چراغ گل کیے گئے تھے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ایبٹ آباد ہویاتہرا ن،جہاں اندرسے دروازہ کھلے،باہروالا زیادہ دیردستک نہیں دیتا۔ طاقت ہمیشہ باہرسے نہیں گرتی،اکثراندرسے ڈھے جاتی ہے۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ کامیابی صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اندرونی مضبوطی سے بنتی ہے۔جہاں کمانڈٹوٹے،وہاں ریاستیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔

بیرونی دشمن کی سازشیں ہمیشہ رہتی ہیں،مگرسب سے بڑاسوراخ اندرسے ہوتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں،روم،عثمانی خلافت ،سویت یونین زیادہ تراندرونی کمزوریوں سے گریں،نہ کہ باہرکے حملوں سے۔امریکاکی جدید طاقت بھی وہاں ناکام دکھائی دی، صومالیہ میں عوامی مزاحمت کے آگیافغانستان میں مقامی اتحادیوں کے دھوکے کے باعث، ایران میں داخلی نظم و ضبط اورجوابی تدبیرکے باعث۔ نتیجہ یہ کہ اداروں کی مضبوطی،قوم کے اندراتحاد،فوجی قوت سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی کی صفائی یہی وہ بنیادی سبق ہے کہ چین آف کمانڈ کی حفاظت سب سے بڑا دفاع ہے جوپاکستان کیلئے نہایت فیصلہ کن ہے۔

چین آف کمانڈکیاہے؟فیصلہ کہاں بنتاہے؟کس کوحکم پہنچتاہے؟کون اسے نافذکرتاہے؟قیادت کوگمراہ کرنا،غلط معلومات پہنچانا، فیصلوں میں تاخیر پیداکرنا،کمانڈ میں دراڑڈالنا،نہ صرف ان سب کابروقت تدارک کرکے ایسے عناصرکی سختی سے سرکوبی کرنااور انہیں آہنی ہاتھوں سے انجام تک پہنچانا ریاست کی سب سے اولین ذمہ داری ہے کیونکہ ریاست کی نازک ترین جگہ یہی ہے۔جدیدجنگ میں اصل ہدف میزائل سسٹم نہیں،ٹینک نہیں،فوجی اڈے نہیں بلکہ فیصلہ سازی کادماغ،اعصابی نظامِ ریاست،کمانڈوکنٹرول سینٹرہیں، اس لئے پاکستان کیلئے خاص سبق یہی ہے کہ خفیہ اداروں کی ہم آہنگی،سول واطلاعاتی جنگ میڈیا+سوشل میڈیاپردشمن کی طرف سے افراتفری پھیلانے والے موادسے بچاؤ،ملٹری قیادت میں اعتماد،اندرونی غداروں ،لیکرزاورسہولت کاروں کی روک تھام کامضبوط نظام قائم موجودہو۔اگرچین آف کمانڈ محفوظ ہودشمن جیت نہیں سکتاچاہے اس کے پاس کتنی بھی ٹیکنالوجی ہو۔

یادرکھیں کہ تیسری دنیاکے ممالک پرواضح ہوچکاہے کہ اب جنگیں صرف سرحدوں پرنہیں ہوتیں بلکہ کرنسی پرحملہ،سوشل میڈیاکے ذریعے انتشار ، سیاسی تقسیم پروکسی وارپرجاری ہیں ۔ معاہدے کمزورہیں،اقوامِ متحدہ غیرموثرہے،بڑی طاقتیں اپنامفاددیکھتی ہیں جس کی بنا پر تیسری دنیا کے ممالک لازماً ایٹمی ڈیٹرنس، ایٹمی ٹیکنالوجی،میزائل نظام،دفاعی اتحادکی طرف جائیں گے۔ اسی پس منظرمیں چین،روس اورپاکستان تیسری دنیا کی اس دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نئے عالمی اتحادکے ممکنہ مراکز بن رہے ہیں۔پاکستان پہلے ہی ایٹمی طاقت،جنگی تجربہ اوراسٹریٹجک محل وقوع رکھتا ہے،اسی لئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد خلیجی ممالک پاکستان سے سکیورٹی شراکت چاہتے ہیں،اس کی بنیادی وجوہ خطے میں اسرائیل وایران تنازع،امریکاپراعتبارکی کمزوری، خودمختاردفاع کی ضرورت لازم سمجھی جارہی ہے۔پاکستان کیلئے بنیادی سبق یہ ہے کہ صرف ہتھیار کافی نہیں، اصل ضرورت محفوظ ،متحد،بیدار قیادت ،طاقتورچین آف کمانڈ،قومی وحدت اوراندرونی استحکام انتہائی ضروری ہے۔اگراندرسے غداری نہ ہوتو نیاکی بڑی سے بڑی طاقت جدید ترین ہتھیاروں کے باوجودکسی قوم کوشکست نہیں دے سکتی۔

ریاستیں توپوں سے نہیں بکھرتیں،نظم کی ٹوٹتی ہوئی زنجیروں سے بکھرتی ہیں۔جب چین آف کمانڈٹوٹ جائے توعسکری قوت ریت کا گھربن جاتی ہے۔ریاستیں ہتھیاروں سے نہیں ، نظم سے قائم رہتی ہیں۔جب کمان ٹوٹتی ہے توفوجیں طاقتورہوتے ہوئے بھی ہارجاتی ہیں اورجب نظم سلامت ہوتو کمزوربھی سرخروہوجاتے ہیں۔پاکستان،پاکستان،ترکی، ایران سب مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔سلامتی ووقارکا رازاس نظم میں پوشیدہ ہے۔یہی سبق وینزویلاسکھاگیااوریہی سبق پاکستان سمیت پوری دنیاکیلئے پیغام ہے کہ ملکوں کی سلامتی توپ وتفنگ سے نہیں، وفاداری اورنظمِ کمان سے عبارت ہوتی ہے۔ایک سادہ جملے میں مرکزی سبق یہی ہے کہ ریاست کودشمن باہرسے کم،اندرسے زیادہ توڑتاہے، اس لیے پاکستان کیلئے سب سے اہم کام مضبوط اورمحفوظ چین آف کمانڈہے۔

دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے ،طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورمعدنی دولت کی کشش نے تاریخ کودوبارہ متحرک کردیاہے۔ سیاست اب محض بیانات کاکھیل نہیں رہی؛یہ اعصاب،معیشت،ٹیکنالوجی اورداخلی اتحادکامعرکہ ہے۔تاریخ ہمیشہ خاموش نہیں رہتی ،وہ فیصلے محفوظ رکھتی ہے ، اوروقت آنے پرسنابھی دیتی ہے تاہم تاریخ کے منصف جلدی فیصلہ نہیں کرتے۔وہ منتظررہتے ہیںقلم ٹک ٹک کرتارہتاہے،اوروقت صفحہ پلٹتارہتا ہے۔آج جوطاقتوردکھائی دیتاہے،کل خودکٹہرے میں کھڑاہوسکتاہے۔اصل طاقت وہی ہے جو عدل کے ترازومیں قائم رہ سکے۔

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بیرونی جارحیت کی کامیابی ہمیشہ بارود،بمباری اورٹیکنالوجی کی مرہونِ منت نہیں رہی؛اس کے پیچھے اکثروہی خنجرکارفرما رہاہے جواندرسے لگتاہے۔ وینزویلا کے حالیہ واقعات ہوں یاماضی کے ابواب ،جہاں اندرونی صفوں میں رخنہ نہ پڑا،وہاں امریکاجیسی بڑی عسکری قوت بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجودکامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی بلکہ ذلت آمیز انجام کی تاریخ سے امریکی ندامت بھری پڑی ہے۔

صومالیہ میں پھنسے ہوئے امریکی دستے ہوں،افغانستان کی شکستہ وادیوں سے ہونے والاانخلا ہو یا تہران میں ناکام کارروائی ،ہر جگہ ایک ہی سبق رقم ہوا کہ بیرونی طاقت اس وقت تک ناقابلِ تسخیرنہیں ہوتی جب تک اندرونی دیوارسلامت رہتی ہے۔جس ریاست میں نظمِ کمان برقراررہے،قومی عزم بیدارہواوراداروں کارشتہ عوام کے اعتماد سے جڑارہے، وہاں ٹیکنالوجی کے پہاڑبھی ریت ثابت ہوتے ہیں۔اسی پس منظرمیں ایک اورلمح فکریہ سامنے آتاہے۔جب چھوٹے ممالک یہ دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کمزوراور طاقتور کی مرضی کے تابع ہوچکا
ہے،تو ان کے دلوں میں یہ احساس جنم لیتاہے کہ اپنی بقاکیلئے خودکفالت اوردفاعی خودانحصاری ناگزیرہے۔یہ بھی بعیدنہیں کہ تیسری دنیاکے کئی ممالک اپنی سلامتی کے تصورکوایٹمی و اسٹریٹجک صلاحیت سے جوڑنے لگیں،اوراس راہ میں وہ چین، روس یاپاکستان جیسے ممالک کی طرف دیکھیں جوپہلے ہی دفاعی میدان میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون،اوردیگرعرب ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی،اسی بدلتے ہوئے عالمی احساس کاعکاس ہے۔

لیکن تاریخ کایہ باب ہمیں ایک اورسبق بھی دیتاہے اکہ ا صل قوت ہتھیارنہیں،ایمان دارقیادت،قومی وحدت اوراداروں کے درمیان مضبوط اعتمادہے۔جوقومیں اندرسے ٹوٹ جائیں، انہیں باہرسے صرف دھکادیناپڑتاہے؛اورجواندر سے مضبوط ہوں،انہیں بڑے سے بڑاطوفان بھی جھکانہیں سکتا۔وقت اپنے فیصلے محفوظ رکھتاہے مگر تاریخ آج بھی یہی کہہ رہی ہے کہ سلامتی کی بنیاداسلحے سے زیادہ اتحادمیں ہے،اوردفاع کاپہلا مورچہ ریاست کے اندرکانظم وضبط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں