اسلامیانِ ہند کا دیدہ بینامفکّر

:Share

ان دنوں سیکولر ملائیت کے جادو میں مبتلا چند ہندوپاک کے صحافی اور ٹی وی کے شتر بے مہار اینکر پرسن علامہ اقبال کو پاکستان مخالف ثابت کرنے کی مہم میں سرگرمِ عمل ہیںاور اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کیلئے چوہدری رحمت الٰہی کی چند تحریروں اور تقاریر کا سہارا لیتے ہیں۔اس مہم کے محرکات ومقاصد کو سمجھنے کیلئے اسی نوعیت کی پہلی مہم کے احوال ومقامات کی شناسائی ضروری ہے۔اقبال کو پاکستان کا مخالف ثابت کرنے کی پہلی مہم کا آغاز خود پنڈت جواہر لال نہرو نے فرمایا تھا۔انہوں نے تحریکِ پاکستان کی برق رفتار مقبولیت کا اصل راز پالیا تھا ‘وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ اقبال کی شاعری کا فیضان ہے چنانچہ پنڈت جی نے اپنی کتاب”تلاشِ ہند”میں یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ اقبال پاکستان کے تصور کے خلاف ہو گئے تھے ۔اس مہم کے دوران مسٹر تھامسن اور مولانا راغب احسن کی سی شخصیات کے استفسار پر علامہ اقبال کے جوابی خطوط کو بھی استعمال کیا گیا تھا۔ان خطوط میں اقبال نے بڑی قطعیت کے ساتھ چودھری رحمت علی کی پاکستان سکیم کے ساتھ اپنے تعلق کی نفی کی تھی اور اقبال کی نگاہ میںوہ ایک فاشسٹ طرز کی اسکیم لگتی تھی’اس کے برعکس اقبال کا مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کا تصور ایک جدید عوامی جمہوری مملکت کا تصور تھا۔
چوہدری رحمت علی’ ٹوانہ خاندان کے بچوںکے اتالیق بنا کر انگلستان بھجوائے گئے تھے(تفصیلات کیلئے دیکھئے :اقبال دی سپرچوئل فادر آف پاکستان
پاکستان)۔ سنگِ میل
اور ملازمت ختم ہونے کے بعد ان کا مستقل قیام برطانیہ میں ہی رہا ۔چودھری صاحب کی نت نئی پاکستان اسکیموں سے اسلامیانِ ہند کے فکری انتشار کو بھی ہوا ملی ۔١٩٤٠ء کے اجلاس لاہور کے مقابلے میں انہوں نے کراچی میں اپنا اجلاس کرکے قائدِ اعظم کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی تھی۔قرارداد لاہور منظور ہونے کے بعد انہوں نے کئی مسلمان دانشوروں سے ملاقات کرکے اپنا نقطۂ نظر بھی ان کے سامنے رکھا اور جب کہیں سے بھی ان کو پذیرائی نہ مل سکی تووہ اپنے دل پر ناکامی کا داغ لئے لندن لوٹ گئے تھے۔
قیامِ پاکستان کو انہوں نے((عظیم غداری) قراردیا تھا ۔ظاہر ہے کہ علامہ اقبال کسی ایسے شخص کی پاکستان سکیم سے خود کو ہر گزوابستہ نہیں کرسکتے تھے ۔ یہ مہم ان خطوط کے سہارے بھی کامیاب نہ ہو سکی تھی چنانچہ تحریکِ پاکستان کے دوران اسلامیانِ ہند نے اقبال پر اس بہتان کو درخور
اعتنا نہیں سمجھا ۔وجہ یہ کہ قراردادِ لاہور کے فوراً بعد بابائے قوم نے(لیٹرآف اقبال ٹوجناح) کے عنوان سے اقبال اور اپنے درمیان خط وکتابت
شائع کردی تھی جو اب تک صیغۂ راز میں چلی آ رہی تھی۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں قائد ِ اعظم نے اعتراف فرمایا تھا کہ قراردادِ لاہور اقبال کے افکار سے پھوٹی ہے:
(“His views had finally led me to the same conclusion and found same expression in due course in the united will Muslim India as adumbrated in the Lahore resolution of the all India Muslim League passed on 23rd March. 1940.”)
ترجمہ:”متحدہ ہندوستان میں ان (اقبال) کے نظریات نے آخرِکار مجھے بھی اِسی نتیجے پر پہنچا دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا تاثر بھی وہی بنا جس کا
اشارہ ۲۳ مارچ۱۹۴۰ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کی قرار دادِ لاہور کے اعلامیہ میں دیا گیا تھا”۔
مسلم لیگ کے ۱۹۴۰ءکے لاہوراجلاس سے منسلک یومِ اقبال کی تقریب کے ایک اجلاس کی صدارت قائدِ اعظم نے فرمائی تھی تو دوسرے اجلاس کی صدارت شیرِبنگا ل مولوی فضل الحق کے حصے میں آئی تھی۔ہر دوقائدین نے اقبال کو اسلامیانِ ہند کا دیدۂ و بینامفکّر اور قراردادِ لاہور کا صورت گرقراردیا تھا۔نتیجہ یہ کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی شروع کی ہوئی مہم بری طرح ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عوام نے ان سیاستدانوں کی بات نہیں مانی جو تحریکِ پاکستان کے خلاف تھے ‘جب خود تحریکِ پاکستان کے قائدین اقبال کو اپنا” دوست’فلسفی’مفکر اور رہنما”قرار دے رہے تھے تب پاکستان مخالف حلقوں کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو کون پذیرائی بخشتا؟ایسے میں جب پاکستان قائم ہوا تو قدرتی طور پر دنیا بھر میں علامہ اقبال کو پاکستان کا فکری بانی تسلیم کرلیا گیا۔بھارت میں اس آفاقی صداقت کو جھٹلانے کا عمل اب تک اس لئے جاری ہے کہ مہابھارت کا خواب چکنا چور ہو گیااور تعصب کی بناء پریہ زخم مندمل نہیں ہو رہا۔
قدرتی بات ہے کہ بھارت میں رہنے والے پرستارانِ اقبال مجبوری میں تصورِ پاکستان کے باب میں پنڈت جواہر لال نہرو ہی کی لکیر کو پیٹنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ”دی آرڈنٹ پلگرمز”کے مصنف اقبال سنگھ”اقبال:پوئٹ اینڈپولیٹیشن” کے مصنف رفیق زکریا نے اقبال
کے تصور پاکستان کو ایک خود مختار اسلامی مملکت کی بجائے اکھنڈ بھارت کا ایک صوبہ قراردیا ہے۔جارحانہ ہندو اکثریت کے ملک میں اقبال سے عقیدت ومحبت کو سازش کے الزام سے بچانے کیلئے یہ ایک مؤثر استدلال ہے ۔مجھے ان قابلِ احترام پرستارانِ اقبال سے کوئی گلہ نہیں’یہی وجہ ہے کہ ان کی گرانقدر تصنیفات کے اس عیب کی جانب اشارہ تک نہیں کیامگر میں نہرو کی لکیر کے فقیر صحافی اور ٹی وی کے شتر بے مہار اینکر پرسن کی اس سوچی سمجھی مذموم مہم کا قبلہ درست کرنا اپنا ملی فریضہ سمجھتا ہوں۔
ایک مسلمہ حقیقت کو معرضِ شک میں ڈالنے کی یہ دوسری مہم ”ٹریک ٹوسفارت کاری”نے جنم دی ہے ۔اس جاری مہم کے چند سرکردہ افراد نے کہیں بین السطور او رکہیں برملا یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ جب تک پاکستان اپنی جداگانہ نظریاتی اساس کو دھندلاتے دھندلاتے معدوم نہیں کر دیتا ‘پاکستان اور بھارت میں دوستی ناممکن ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل بھی ناممکن ہے’ وہ قاہر وجابرعالمی قوتیں جو اپنے معاشی اورسیاسی استحصال کی خاطر پاکستان اور بھارت کو” مشترکہ دفاع’مشترکہ خارجہ پالیسی اور مشترکہ کرنسی”اپنانے پر مجبور کر رہی ہیں وہ دراصل اس مکروہ سازش کے پیچھے نہ صرف اقوامِ متحدہ میں منظور کشمیر کی حقِ خودارادیت اور کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں کو مٹا دینا چاہتے ہیں بلکہ پاکستان کو مہابھارت میں فقط مسلمان اکثریت کا ایک صوبہ بنانے کی سازش میںمصروف ہیں’چنانچہ پاکستان کیلئے ایک نئی سیکولرنظریاتی اساس کی تلاش میں ایک خاص وظیفہ خوار گروہ اقبال کے جدید اسلامی مملکت کے تصور کی حقیقت کواپنی مرضی کے الفاظ و معنی پہناکرآج کی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔اقبال کا تصور ِ پاکستان ایک جدید اسلامی مملکت کا تصور ہے اور اسلامی طرزِ حیات کواس تصور سے الگ کرناناممکن ہے۔
۱۹۳۰ءکے خطبہ الٰہ آباد سے ربع صدی پیشتر اقبال نے اپنی نظم ”جوابِ شکوہ”میں اسلامیانِ ہند کو اللہ تعالیٰ کی زبانی یہ پیغام دیا تھا:۔
قوم مذہب سے ہے ،مذہب جو نہیں ،تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں ،محفل انجم بھی نہیں
اورخاتمِ رسل ۖسے اپنی محبت کا ظہار کرتے ہوئے ان تمام باطل عقائد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:
کی محمدۖ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
متحدہ ہندوستانی قومیت کے بت کو پاش پاش کرتے وقت انہوں نے مسلمانوں کو یاددلایا تھا کہ ”اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے”۔۱۹۰۷ء سے لیکر اپنی آخری نظم ”حسین احمد” اور اپنے آخری سیاسی بیان”حسین احمد کے نام”تک علامہ اقبال نے اپنی دلسوز لے میں جداگانہ مسلمان قومیت کے خدوخال اجاگر کرتے رہے تھے۔اس جداگانہ مسلمان شناخت کے دشمنوں کو اس بات پر تو اطمینان ہے کہ گزشتہ باسٹھ سالوں سے پاکستان کے حکمران طبقے نے اقبال کی تعلیمات کو فراموش کررکھا ہے مگر وہ اس بات پر بے حدمضطرب ہیں کہ اقبال کا تصور اسلام پاکستانی اور کشمیری عوام کے دلوں میں جاگزیں ہے۔وہ اس امکان سے خوفزدہ ہیں کہ اقبال نے اپنی عہد آفریں تصنیف ”جاوید نامہ”میں جو قرآنی ریاست کا جو انقلابی نقشہ پیش کیا ہے اگر پاکستانی اور کشمیری قوم نے اسے اپنا روڈ میپ بنا لیا تو پھر عالمی شیطانی سیاست کا کیا حشر ہوگا؟اس امکان کو مٹا دینے کی خاطر لادینیت کے
آسیب میں مبتلا عناصر کو ایک بار پھر یہ ضرورت آن پڑی ہے کہ اقبال کو پاکستان مخالف ثابت کرنے کی مہم دوبارہ چلائی جائے ۔اس مہم کے دوران بھی وہی پرانا”سامانِ جنگ”استعمال کیا جا رہا ہے ۔اب ان عقل کے اندھوں کو یہ کون سمجھائے کہ یہ سامان تو تحریکِ پاکستان کے دوران ہی ناکارہ ہو کر رہ گیا تھا۔
یہ کور بصری ‘جناب خالد احمدکے اس بیان کوجو فرائیڈے ٹائمز کی اشاعت (۵تا ۱۵/اپریل۲۰۰۳ء)میں”ڈڈعلامہ اقبال کنسیوپاکستان”کے عنوان سے شائع ہواتھا،کوبطور
اپنی دلیل استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا تھا ۔سوال و جواب ہردو پیش خدمت ہیں
(“Did he imagine a separate state for the Muslims of India or did he propose a separate Muslim state within an India federation in his famous address? Historian seems to have favoured the view that Allama Iqbal did not demand a separate Muslim state ‘outside’ the Indian federation.)
ترجمہ: ” کیا انہوں (اقبال) نے مسلمانانِ ہند کے لیے ایک علیحٰدہ ریاست کا خواب دیکھا تھا یا اپنے مشہور خطبے میں ہندی فیڈریشن کے اندر ہی ایک علیحٰدہ مسلم ریاست تجویز کی تھی؟ بظاہر مؤرخین اس نظریے کے حامی ہیں کہ اقبال نے ہندی فیڈریشن سے علیحد یا باہر کسی مسلم ریاست کا مطالبہ نہیں کیا تھا”۔
یہ خطبہ الٰہ آباد کی سراسر غلط اور گمراہ کن تعبیر ہے۔خطبہ الٰہ آباد کا مرکزی خیال اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ:
اوّل۔اسلامیانِ ہند لندن کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا تجویز کردہ آل انڈیا فیڈریشن کا آئینی خاکہ ہرگز قبول نہیں کرسکتے۔
دوم۔اسلامیانِ ہند جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں۔
سوم۔اس جداگانہ مسلمان قوم کو اپنی اکثریت کے علاقوں میں جداگانہ مسلمان مملکتوں کا حق حاصل ہے۔
چہارم۔موجودہ پاکستان کے خطۂ ارض پر خود مختار اسلامی مملکت کا قیام مقدر ہوچکا ہے۔
جب فکر اقبال کی روسے آل انڈیا فیڈریشن(اکھنڈبھارت)کا سرے سے کوئی وجود نہیں تو پھر اس کے اندر پاکستان کا قیام کیونکر ممکن ہے؟……. جب اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں لندن کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی تجاویز کو فلسفیانہ اور جدید جمہوری اصولوں پر ٹھکرادیا تھا تو برطانوی وزیرِ اعظم نے خطبۂ الٰہ آباد کو ”بہت بڑی شرارت”سے تعبیر کرتے ہوئے افسوس کیا تھا کہ اقبال نے ہمارے سب کئے کرائے پرپانی پھیردیا ہے۔۳۱دسمبر ۱۹۳۰ءکے برطانوی اخبار ات نے اقبال کے اس خطبۂ الٰہ آباد کوآل انڈیا فیڈریشن کے تصور پر ایک انتہائی حملہ قراردیا تھا(تفصیلات کیلئے دیکھئے ”اقبال فراموشی”سنگِ میل)۔عقل دنگ ہے کہ آدمی برطانوی وزیرِ اعظم کے تجزیہ کو حقیقت افروز سمجھے یا ان دوپاکستانی مؤرخین کو جو جنا ب خالد احمد کے دوست اور فلسفی اوررہنماہیں۔
جناب خالد احمد نے اپنے اس کالم میں جن دوپاکستانی مؤرخین کا ذکر کیا ہے وہ تو بھارتیوں سے بھی زیادہ بھارتی ہونے پر نازاں ہیں۔پروفیسر خالد بن سعیداور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی سے مؤرخین اورماہرین ِسیاسیات سے لیکر شیخ محمد اکرام اور عزیز احمد کے سے ماہرین ادب و ثقافت تک کتنے ہی دانشمند انِ کرام نے اپنی عہد آفریں کتابوں میں اقبال کو تصورِ پاکستان کا خالق قرار دیا ہے ۔امریکی اور روسی دانشوروں مثلاً فری لینڈایبٹ اور گورڈن پولن سکایا نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔پولن سکایا اپنے مقالہ”آئیڈیالوجی آف مسلم نیشلزم”میں اس تاریخی صداقت پردرج ذیل الفاظ
میں مہرتصدیق ثبت کرتی ہیں:
(“Iqbal’s philosophical conceptions led him to the conclusion that his ideas of equality and freedom could be embodied only in an Islamic state. And that consequently the Muslims of India had no other course but self-determination and the creation of Pakistan.”)
ترجمہ: ”اقبال کے فلسفیانہ نظریے نے انہیں اسی نتیجے پر پہنچایا کہ ان کے برابری اور آزادی کے خیالات صرف اسلامی ریاست میں ہی پنپ سکتے ہیں اور یہ کہ بالآخر مسلمانانِ ہند کے پاس اورکوئی راستہ نہیں ماسوائے اپنی شناخت پہچانیں اور پاکستان بنائیں۔
یہ تو رہا اس زمانے کے سوویت روس کے مؤرخین کا اعترافِ حقیقت’اب آئیے برطانوی مصنف رچرڈ سائمنزکی کتاب”دی میکنگ آف پاکستان”
کی جانب’وہ اس حقیقت الحقائق پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:
(“Muhammad Iqbal is today universally recognised in Pakistan as the great poet and prophet of nation. His prestige was so great and his enthusiasm so boundless that he became a political leader. In two important speeches towards the end of his life he appeared to foresee the development of Pakistan. In 1930 in his presidential address to the Muslim League, ten years before the league adopted the programme of Pakistan, he demanded as separate Muslim state. It was his policy of the mass contact which Jinnah was to adopt with such success a few years later, and which converted the Muslim League from a middle class to a popular party.
ترجمہ: ”پاکستان میں محمد اقبال آج آفاقی سطح پر ایک عظیم شاعر اور قومی پیغام بر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی خودی اسقدر عظیم اور ان کا جذبہ اتنا لا محدود تھا کہ وہ ایک سیاسی رہنما بن گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری دور کے دو اہم خطبات میںوہ تعمیرِ پاکستان دیکھ رہے تھے۔ مسلم لیگ کے منصوبۂ پاکستان اپنانے سے دس سال پیشتر؛۱۹۳۰ءمیں مسلم لیگ کے صدارتی خطبے میں انہوں نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ کر دیا تھا۔ جناح نے بڑے پیمانے پر روابط کا جو منصوبہ چند سال بعد اسقدر کامیابی سے اپنایا اور جس منصوبے نے مسلم لیگ کو ایک درمیانے درجے کی پارٹی کے درجے سے ایک مقبول پارٹی میں تبدیل کر دیا وہ منصوبہ ُانہیں (اقبال) کا تھا”۔
مجھے اب یقین ہے کہ اب جناب خالداحمد اوران کے حواری جب تحریکِ پاکستان کے ان غیر جانبدار مؤرخین کی دانش سے اعتناء فرمائیں گے تو ان پر بخوبی واضح ہوجائے گا کہ علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں ہندوستان کے اندر ایک مسلمان صوبے کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ برصغیر کی آزادی کے بین الاقوامی سوال کو قوموں کے حقِ خودارادیت کے اصول پر طے کرنے کی خاطر جداگانہ مسلمان قوم کیلئے الگ اور خود مختار مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا تھا اور کشمیر یوں کے حقِ خود ارادیت کا مطالبہ بھی سوفیصد درست ہے جس کو اقوامِ عالم نے اقوامِ متحدہ میں منظور کرکے کشمیریوں کے اس جائز مطالبے کی توثیق کردی ہے۔کشمیریوں پر بے پناہ ظلم و ستم اور ان کی قربانیاں کبھی بھی رائیگاں نہیں جا سکتی انشاء اللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں