یہ زمین سیارہ انسان کا نہیں ہے ، انسان اس زمین کا ایلین ہے ۔ڈاکٹر ایلیس سِلور نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ان کی کتاب «انسان زمین سے نہیں ہیں: ثبوت کی سائنسی تشخیص» میں اس خیال کی مزید وضاحت ملتی ہے۔ ڈاکٹر ایلس سلور نے اس کتاب میں 17وجوہات پیش کی ہیں کہ انسان اس سیارے پر رہنے کیلئےکیوں موزوں نہیں ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ وجوہات ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارا اصل تعلق کسی دوسرے سیارے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ زمین ایک نوع کے طور پر ہماری کچھ ضروریات پوری کرتی ہے، لیکن یہ ہمارے لیے اتنی موزوں نہیں جتنا ہمیں یہاں لانے والوں نے ابتدا میں سوچا تھا۔
اس ضمن میں سلور زمین پر رہنے کیلئےہماری غیر موزونیت کی چند مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان سورج کی روشنی کی زیادہ مقدار اچھی طرح برداشت نہیں کرتے، حالانکہ ہمیں روزانہ اس کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں بڑی تعداد میں لوگوں کے دائمی کمر درد کو اس خیال کی دلیل قرار دیتے ہیں کہ ہمارا اصل تعلق کم کششِ ثقل والے سیارے سے ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری حیاتیاتی ترتیب چوبیس گھنٹے کے بجائے پچیس گھنٹے کے دن کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئےزیادہ موزوں ہے۔
سلور یہ امکان بھی پیش کرتے ہیں کہ ہم الفا سینٹوری (ستاروں کا نظام)سے آئے ہوں۔ ان کے مفروضے کے مطابق ممکن ہے ہمارے آبائی سیارے کو کسی تباہ کن واقعے کا سامنا کرنا پڑا ہو اور چند باشندے وہاں سے بچ کر زمین پر آنے میں کامیاب ہوئے ہوں۔کتاب میں مجموعی طور پر تیرہ اہم مفروضے اور سترہ عوامل شامل ہیں، جن کی بنیاد پر سلور انسان کے غیر ارضی تعلق کا خیال پیش کرتے ہیں۔ اس بحث کے ساتھ وہ چند بنیادی سوالات بھی اٹھاتے ہیں: ہم یہاں کیسے پہنچے؟ ہم یہاں کب پہنچے؟ ہمارا آبائی سیارہ کیسا ہے؟ کن ستاروں کے گرد ہمارے آبائی سیارے کے گردش کرنے کا سب سے زیادہ امکان ہے؟ اگر خلائی مخلوقات موجود ہیں تو ہم ان کا پتہ کیوں نہیں لگا سکتے؟ اور کیا ہم خود اجنبی ہیں؟
اس کتاب میں ڈاکٹر ایلس سلور سائنسی برادری اور دیگر حلقوں میں موجود شواہد اور افکار کی بنیاد پر ان سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کے روابط بھی دیے گئے ہیں جہاں ان شواہد اور متعلقہ مسائل پر مزید تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ اس مختصر کتاب کا مقصد آگاہی پیدا کرنا، بحث کی حوصلہ افزائی کرنا اور قارئین سے مزید شواہد جمع کرنا ہے۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور آرکیالوجسٹ ہے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غورکریں۔ ذہن میں رہے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکہتا۔اس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رہتا رہا ہے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رہتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دہوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باہر اور تکلیف دہ ہوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر زمین سیارے پر پھینک دیا گیا تھا ۔ جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا تھا ۔۔۔ لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزاکے طور پر کسی کو بجھوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل ۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ہے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں ۔اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ہے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں:
1۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
2؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔
3؛ ایک بہی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ہے مہینوں دھوپ میں رہنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کاتعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
4؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گہر اس سیارے پر نہیں۔کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گہر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہو۔
5؛ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دہوپ ہے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتہ بیمار ہونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ہے۔
6؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دہوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی۔ یہ اتنا نازک مزاج تھاکہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رہتا ہے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتاہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔
یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رہنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچہ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون، اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ہے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھاسکوں گا۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ہے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہیں ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا ﷺ نے بے شمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں متعددباریہی بتا یا جس کامفہوم یہ ہے کہ: اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے، یہ تمہارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے ، جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔ اچھے اعمال پر تم کو وہ جنت ملے گی جہاں کی زندگی انتہائی خوبصورت پرسکون اور عیاشی سے بھرپور ہوگی ۔
نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا جنت کہاں ہے تو آپ ﷺ نے جواب دیا آسمانوں میں۔۔ اس نے پوچھاجہنم کہاں ہے آپ ﷺ نے جواب دیا اسی زمین پر ۔











