Last trip, first return

آخری سفر،پہلی واپسی

زمین و آسمان کے درمیان: فراق، وصال اور حیاتِ جاوداں

کل تک وہ ہمارے درمیان تھے۔ان کانام لیاجاتاتوکسی چہرے پرشناسائی کی روشنی پھیل جاتی،کسی گھرمیں ایک مانوس آوازسنائی دیتی، کسی رشتے کواپنے ہونے کااطمینان ملتا۔پھرایک خبر آئی،اوروہی دنیا،جس کےراستے،موسم اورمعمولات ہمیں معلوم تھے،یکایک اجنبی ہو گئی۔بھائی جان رخصت ہوگئے۔رشتےکے اعتبارسے وہ میرے بہنوئی تھے،مگرمحبت نےانہیں بھائی کامقام دے رکھاتھا۔ بعض تعلقات کو شجرۂ نسب میں ایک نام دیاجاتاہے،لیکن دل اپنی لغت میں ان کیلئےکہیں زیادہ گہرالفظ محفوظ رکھتاہے۔

میں سفرِواپسی میں تھا۔جہازکی کھڑکی سے باہربادل تھے،اندرمسافروں کی خاموش مصروفیت۔اسی اثنامیں پائلٹ کی آوازآئی؛اس نے پروازکی بلندی کاذکرکیا: ساٹھ ہزارفٹ۔میرے لیے اس لمحے اس عددکی پیمائش اہم نہ رہی۔ذہن میں ایک ہی خیال ابھراکہ انسان زمین سے کتنابھی بلندہوجائے،زمین پرچھوٹ جانے والے ایک عزیزکی یاداس کے ساتھ سفرکرتی ہے۔میں آسمان کی طرف جارہاتھااورمیرادل ایک قبرکی طرف لوٹ رہاتھا۔

میں نے قریباًاسّی کتابیں لکھی ہیں۔زندگی کےکم ہی ایسے موضوعات ہوں گے جن پرقلم نہ اٹھایاہو۔میرے کالم اورمضامین روزلاکھوں لوگوں تک پہنچتے ہیں ۔مگرغم کے بعض لمحے انسان کواپنی تمام عبارتوں کےسامنے خاموش کھڑاکردیتے ہیں۔قلم سے دوسروں کیلئے تسلی لکھی جاسکتی ہے؛اپنےسینےمیں اٹھنےوالی ٹیس کیلئےلفظ ڈھونڈنادشوارہوتاہے۔علم موت کو سمجھنے میں مدددیتاہے،لیکن محبت اس کے واقع ہوجانے پربہرحال روتی ہے۔
اسی خاموشی میں قرآن کایہ اعلان دل میں گونجا:
ہرجان کوموت کاذائقہ چکھناہے،پھرتم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤگے(العنکبوت:29:57)
یہ آیت انسان کےسامنے دوحقیقتیں رکھتی ہے:موت آئے گی،اوراس کےبعدواپسی ہے۔پہلی حقیقت دل کوہلادیتی ہے؛دوسری اسے بے سمت نہیں ہونے دیتی۔ہم اپنے عزیز کی جدائی پراس لیے نہیں روتے کہ ہمیں موت کاعلم نہ تھا۔ہم اس لیے روتے ہیں کہ علم،قربت کابدل نہیں بن سکتا۔

گھرمیں کسی کےانتقال کےبعدسب سےزیادہ دل دہلادینے والی چیزاکثرکوئی بڑی علامت نہیں ہوتی۔ایک خالی کرسی ہوتی ہے۔میزپر رکھاہواکوئی معمولی سا سامان ہوتاہے۔فون میں محفوظ ایک نام ہوتاہےجسے انگلی چھوسکتی ہے،مگردوسری طرف سےجواب نہیں آتا۔ انسان حیران رہ جاتاہے کہ ایک شخص کی موجودگی کتنی جگہ گھیرتی تھی،اوراس کی غیرموجودگی اس سے بھی زیادہ جگہ کیسے گھیرنےلگی۔

جولوگ باہرسے تعزیت کیلئےآتے ہیں،وہ ایک واقعے کی خبرسن کرآتے ہیں۔اہلِ خانہ اس واقعے کوہرصبح نئے سرےسےدریافت کرتے ہیں۔دروازہ کھلتاہے تونگاہ بےاختیاراس جانب اٹھتی ہےجہاں وہ آیاکرتےتھے۔دسترخوان بچھتاہے توایک جگہ اپناسوال لے کرسامنے آتی ہے۔خوشی کاکوئی چھوٹاسالمحہ پیداہوتا ہے توفوراًخیال آتاہے:یہ خبرانہیں سناتے توکتنے خوش ہوتے۔فراق کی اصل سختی اسی تسلسل میں ہے۔وفات ایک دن واقع ہوتی ہے؛جدائی روزمرہ زندگی کےاندردیرتک اترتی رہتی ہے۔سوگ کا احترام اسی بات میں ہے کہ ہم غم زدہ شخص سے جلدمعمول پرآنے کامطالبہ نہ کریں۔اسےاپنےعزیزکانام لینےدیں، یادسنانےدیں،کبھی رونےدیں اورکبھی خاموش رہنےدیں۔ محبت کواپنے نقصان کااعتراف کرنےکیلئےوقت چاہیے۔
جوشخص دل کےگھر میں مدت سے رہ رہاتھا
اس کے چلے جانے پہ گھردیرتک اداس رہا
رسول اللہ ﷺکےاپنے صاحبزادے ابراہیم کی وفات پرآنسوبہے۔آپﷺنےبتایاکہ آنکھ اشک بارہوتی ہے اوردل غمگین،مگرزبان سے وہی بات نکلتی ہے جورب کوپسندہو۔اس اسوۂ مبارک میں اہلِ غم کیلئےبڑی وسعت ہے:صبرکامطلب پتھرہوجانانہیں۔آنسومحبت کی زبان ہیں؛ صبریہ ہے کہ غم کےباوجود بندہ اپنے رب سے بدگمان نہ ہو۔

ہوائی جہاز کی کھڑکی سےزمین دیکھوں توشہراپنی وسعت کھودیتے ہیں۔جن شاہراہوں پرانسان اپنی اہمیت کےاحساس کےساتھ چلتاہے، وہ باریک لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔عمارتیں جن کےنام پرتاریخیں لکھی جاتی ہیں،چھوٹےنشانات بن جاتی ہیں۔بلندی نگاہ کازاویہ بدل دیتی ہے،مگرانسان کی حقیقت بھی یاد دلاتی ہے:ہماری مصروف زندگیاں بہت بڑی معلوم ہوتی ہیں،جبکہ عمرایک محدودمہلت ہے۔

زمین پرہم منصوبے بناتے ہیں،گھرتعمیرکرتے ہیں،اولادکیلئےخواب دیکھتے ہیں،ملکوں کےمستقبل پربحث کرتےہیں۔یہ سب زندگی کے جائزاورضروری کام ہیں۔خرابی وہاں پیداہوتی ہےجہاں مسافراپنے سفرکوقیامِ ابدی سمجھنےلگے۔وہ سامان اتناجمع کرے کہ منزل کاخیال ہی بھول جائے،اورمصروفیت اس قدر بڑھا لے کہ کسی عزیزکے ساتھ بیٹھنے کی مہلت بھی اسے فضول معلوم ہو۔

موت جب گھرکے قریب آتی ہے توہماری ترجیحات کی فہرست خاموشی سے بدل دیتی ہے۔جن بحثوں میں فتح ضروری لگتی تھی،وہ بے وقعت محسوس ہوتی ہیں ۔جن معافیوں کوہم کل پرٹالتے رہے،ان کی تاخیردل میں کانٹےکی طرح چبھتی ہے۔آدمی پوچھتاہے:کیامیں نےان سے کافی گفتگو کی؟ان کی خیریت دل سے پوچھی؟محبت کااظہارکیا،یایہ سمجھتارہاکہ انہیں معلوم ہی ہوگا؟

شایدموت کی یادکاسب سے بامعنی اثریہی ہے کہ وہ زندہ لوگوں کےساتھ ہمارے برتاؤکوبہترکردے۔جوآج سامنےبیٹھاہے،اس کیلئےآج وقت نکالیے۔ جس سےناراضی ہے،وہاں صلح کی کوئی راہ تلاش کیجیے۔جس کاحق دیناہے،اسےاداکیجیے۔جنازےسےلوٹ کراگرہماری زندگی میں کوئی نرمی نہ آئے توہم نےایک بہت گہری نصیحت سن کربھی اسے اپنی عادتوں تک نہیں پہنچنےدیا۔
قرآن اہلِ مصیبت کی زبان پر یہ کلمات رکھتا ہے:
بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنےوالے ہیں۔( البقرۃ(2:156)
یہ جملہ اکثرہم خبرسنتے ہی پڑھ لیتے ہیں۔مگرکبھی اس کے دونوں حصوں کے درمیان ٹھہرکردیکھیے۔ہم اللہ ہی کے ہیں،ہماری جان،ہماری قوت،ہماری عمراور وہ عزیزبھی جنہیں ہم اپناکہتے ہیں،سب اسی کےعطاکردہ ہیں۔اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔رخصتی ایک ایسی کائنات میں واقع ہورہی ہےجس کا پرور دگارہمیں جانتاہے،ہمارے غم کوجانتاہے،اورہمارے عزیزسے بھی بے خبرنہیں۔ا س عقیدے کوغم زدہ دل پرحکم کی طرح نہیں رکھناچاہیے۔اس کے پاس بیٹھ کر،اس کاہاتھ تھام کر،آہستہ آہستہ سمجھنا چاہیے۔”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ” پڑھنے والاشخص یہ بھی کہہ سکتاہے کہ میرادل ٹوٹ رہاہے۔اللہ کےحضوربندگی اوردل میں شدیدفراق ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ دعاکبھی آنسوؤں سےبھی اداہوتی ہے۔

ہم اپنے عزیزوں سےگہری محبت کرتےہیں،مگرانہیں وقت کی گرفت سےمحفوظ نہیں رکھ سکتے۔ماں اپنےبچےکوسینے سےلگاتی ہے، پھربھی اسےہردکھ سے نہیں بچاسکتی۔بھائی بھائی کی فکرکرتاہے،مگراس کی عمرمیں اپنی طرف سے ایک دن نہیں بڑھاسکتا۔اس بے بسی کااحساس انسان کوعاجزبناتاہے۔وہ سمجھتاہے کہ حفاظت کی آخری امیداس ذات سےہےجس کے سپردہم اپنے پیاروں کوزندہ بھی کرتےہیں اوررخصت ہونے پربھی۔

جب میں اپنے بہنوئی کیلئے« إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھتاہوں تویہ الفاظ میرے دکھ کوچھوٹانہیں کرتے۔یہ میرے دکھ کوایک پناہ دیتےہیں ۔ میں اپنےرب سےکہتاہوں:وہ ہمارے درمیان رہے،ہم نے ان سےمحبت کی،اب انہیں تیری رحمت کےسپردکرتے ہیں۔ہماری نگاہ وہاں تک نہیں پہنچتی جہاں وہ گئےہیں؛تیری رحمت وہاں بھی پہنچتی ہے۔

انسانی تاریخ نےموت کے سامنے ہمیشہ سوال اٹھائے ہیں۔فاتحین نے سلطنتوں کی سرحدیں بڑھائیں،مگراپنی عمرکی سرحدآگے نہ لے جا سکے۔اہلِ دانش نےزمانےکی گرہیں کھولیں، مگراپنےعزیزکی جدائی میں ان کی آنکھیں بھی نم ہوئیں۔شاعرنےبقاکی آرزوکولفظ دیے؛ معمارنےپتھرپراپنانام کندہ کیا۔ہر عہدنےاپنے طریقےسےفناکےمقابل کھڑےہونےکی کوشش کی۔

اسلام انسان کی اس بے قراری کوحقیرنہیں سمجھتا۔وہ اس سےسنجیدہ سوال کرتاہے:اگردنیاہی ہرعمل کی آخری منزل ہوتوانصاف کی تکمیل کہاں ہوگی؟ان محبتوں کاکیاہوگاجوموت کے سبب ادھوری رہ گئیں؟ان مظلوموں کاحساب کہاں ہوگاجن کی فریادزمین پرنہ سنی گئی؟آخرت پرایمان انہی سوالوں کے سامنے جوابدہ زندگی کاتصوررکھتاہے۔یہ ہمیں بتاتاہےکہ دنیامیں کیاہوا،اس کی اخلاقی اہمیت موت کے ساتھ مٹ نہیں جاتی۔

قرآن کہتاہے:
آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کےروز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہےجو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔(آلِ عمران3:185)

اس پیمانےکےسامنےشہرت کی چمک مدھم پڑجاتی ہے۔میرےلکھےہوئے صفحات،پڑھے جانے والے کالم اورقارئین کی تعدادمیرے لیے ذمہ داری کا باعث ہیں؛یہ میرے لیے نجات کاپروانہ نہیں۔کتابوں کی تعدادسے بڑھ کرسوال یہ ہے کہ ان میں حق کےساتھ کتناانصاف کیا۔ الفاظ نےکسی دل کوامیددی یانفرت میں اضافہ کیا؟قلم نےکمزورکےحق میں آواز اٹھائی یاطاقتورکی پسندکالحاظ کیا؟جوشخص عمربھر زندگی پرلکھتارہاہو،موت اسےاپنی تحریرکاسب سے کڑا قاری بنادیتی ہے۔
کتابِ عمرکےاوراق جب پلٹتے ہیں
تولفظ کم،اپنے اعمال زیادہ دکھتے ہیں

یہ خیال دل میں خوف بھی پیداکرتاہے اوراصلاح کی گنجائش بھی۔ابھی ہم زندہ ہیں۔ابھی قلم اٹھایاجاسکتاہے،حق اداکیاجاسکتاہے،معافی مانگی جاسکتی ہے،دعا کی جاسکتی ہے۔کسی عزیزکی وفات ہمیں یہ مہلت دکھاتی ہے۔کل کااختیارہمارے پاس نہیں؛آج کاایک حصہ اب بھی ہے۔

فراق محسوس کیاجاتاہے؛وصال کی امیدایمان سے قوت پاتی ہے۔ان دونوں کےدرمیان فرق سمجھناضروری ہے۔جس شخص کوہم نے سپردخاک کیا،اس کے بارےمیں اپنی خواہش کویقینی فیصلےکی صورت میں بیان کرناہمارے اختیارمیں نہیں۔ہم اس کیلئےرحمت،مغفرت اورجنت کی دعاکرتےہیں۔اللہ سےاچھا گمان رکھتے ہیں۔آخرت کےوعدوں سے امیدلیتے ہیں،مگر کسی فردکےانجام کاعلم اللہ ہی کےسپرد کرتے ہیں۔

اس احتیاط میں امیدکی کمی نہیں،ادب ہے۔قرآن اہلِ ایمان کیلئےجنت میں اپنےاہل سےملنےکی بشارت بھی بیان کرتاہے:
جو لوگ ایمان لاۓ ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی (جنت میں ) ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں(الطور52:21)

یہ بشارت جدائی جھیلنے والے دل کوایک افق دیتی ہے۔دنیاکی ملاقاتیں گھڑیوں میں ناپی جاتی ہیں؛آخرت کی کامیابی اس وقت کی محتاج نہیں جس کےختم ہونے سےہم یہاں ڈرتے رہتے ہیں۔وصال کی امیدفراق کی تکلیف کوفوراًختم نہیں کرتی۔جب تک ہم یہاں ہیں،ہمیں خالی کرسی بھی دکھائی دے گی،پرانی تصویر بھی رلائے گی۔مگرامیداس دکھ کےاندررہنےکی قوت دیتی ہے۔وہ کہتی ہےکہ محبت کودعاکاراستہ دو۔مرحوم کاذکرخیرسےکرو۔ان کےاہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے رہو۔ان کی کوئی اچھی بات اپنی زندگی میں جگہ دو۔اگران پرکسی کاحق باقی ہوتواسے معلوم کرکےاداکرنےمیں مدددو۔یادکو محض ایک زخم بنا رہنے دینےکی بجائے خیرکاسبب بھی بناؤ۔

مجھےاپنے بہنوئی کی یادآئےگی تومیں شایدبہت سی باتیں دہراناچاہوں گا:ان کالہجہ،کوئی پرانی ملاقات،کوئی ایسی بات جس کی اہمیت اس وقت پوری طرح محسوس نہ ہوئی تھی۔غم کی یہی فطرت ہے۔وہ معمولی لمحوں کوغیرمعمولی بناکرواپس لاتاہے۔ان یادوں سےفرار کی ضرورت نہیں۔انہیں احترام سے تھامنےکی ضرورت ہے،پھران کے ساتھ اللہ کےحضوردعالےجانے کی۔

ایک موت خاندان کےہرفردتک الگ راستےسےپہنچتی ہے۔میری بہن جوخودگزشتہ تین ہفتوں سے دنیامافہیاسے بے خبربسترپراللہ کی رحمت کی طلبگارہیں، یقیناًان کیلئےیہ شوہرکی جدائی ہے؛ان کےبچوں اوردوسرے عزیزوں کیلئےرشتے کی صورت مختلف ہوگی۔میری اپنی اداسی میں بھائی جیسی قربت کارنگ ہے ۔ ہم ایک دوسرے کاغم پوری طرح اپنےاندرمنتقل نہیں کرسکتے،لیکن ایک دوسرے کیلئے جگہ بناسکتے ہیں۔

غم کےابتدائی دنوں میں اہلِ خانہ کےگردلوگ جمع ہوتےہیں۔پھرزندگی اپنی رفتارپرچلنے لگتی ہےاورتعزیت کرنےوالوں کی آمدکم ہو جاتی ہے۔اسی کے بعد بھی ساتھ کی ضرورت باقی رہتی ہے۔کبھی ضروری کام سنبھال دینا،کبھی فون کرکےحال پوچھ لینا،کبھی مرحوم کا نام محبت سےلےلینا،کبھی بغیرکسی نصیحت کے بیٹھ رہنا—یہ سب صبرمیں حصہ داری کی صورتیں ہیں۔گھروالوں کواپنی طاقت ثابت کرنےپرمجبورنہ کیجیے۔ان کے ساتھ اتنی دیررہیے کہ وہ اپنی کمزوری بھی بےخوف ظاہرکرسکیں۔

قرآن نےصبرکرنےوالوں کو بشارت دی ہے،لیکن اس بشارت سےپہلےآزمائش کاذکربھی کیاہے:خوف،نقصان اورجانوں کی کمی۔
اور ہم ضرور تمہیں خوف وخطر ، فاقہ کشی ، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں۔(البقرۃ:155:2-157)

گویاوحی انسانی تکلیف کے واقع ہونےسےآنکھ نہیں چراتی۔صبرتک پہنچنےکاراستہ اس دکھ کےبیچ سےگزرتاہے۔کسی کیلئےیہ راستہ خاموش دعاہے،کسی کیلئے بچوں کی ذمہ داری اٹھانا،کسی کیلئےروزایک دن گزارلینا۔ایسے وقت میں یہ بھی یادرہناچاہیےکہ مضبوط دکھائی دینےوالاشخص بھی سہاراچاہتاہے۔جس نے زندگی بھردوسروں کومشورہ دیاہو،وہ بھی اپنے عزیزکی وفات پرکسی مہربان آوازکا محتاج ہوسکتاہے۔میں نے بہت لکھا،بہت کہا؛آج شایدمجھے زیادہ سننے،زیادہ یادکرنے اوراپنے رب کےسامنےکم الفاظ میں زیادہ دل رکھنےکی ضرورت ہے۔

اس ساعتِ غم میں جن عزیزوں،دوستوں اورخیرخواہوں نے تعزیت،دعااوراپنی محبت سے مجھے اورمیرے اہلِ خانہ کوسہارادیا،میں ان سب کاتہِ دل سے شکرگزارہوں۔بالخصوص پاکستان سےمیرے روحانی بیٹےحافظ طاہرنے بروقت،لمحہ بہ لمحہ،جس خلوص سے میری دلجوئی کی،وہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ان کے الفاظ میں قرآن کی یادبھی تھی،صبرکی تلقین بھی، اور ایک محبت کرنے والے بیٹے کی وہ اپنائیت بھی جس نے اس فراق کی گھڑی میں مجھے حوصلہ اورڈھارس دی۔بعض اوقات غم کابوجھ کسی دلیل سےہلکانہیں ہوتا؛اللہ تعالیٰ کسی مخلص انسان کی زبان سےایساتسلی بخش کلمہ عطافرمادیتاہےجودل تک پہنچ جاتاہے۔حافظ طاہرکےالفاظ میرے لیے اسی عنایت کاوسیلہ بنے اورمیں نے انہیں ہرگھڑی اپنے ساتھ ہی کھڑا دیکھا ۔اللہ تعالیٰ انہیں اوران تمام احباب کو جزائے خیرعطا فرمائے جنہوں نےہماری جدائی کےدکھ میں ہمیں اپنی دعاؤں اورمحبت میں یادرکھا۔

پروازجاری تھی۔بادلوں کے اوپرروشنی پھیلی ہوئی تھی،اورنیچے زمین کہیں دورتھی۔مجھےخیال آیاکہ ہوائی سفرمیں ہم اپنی منزل تک پہنچنے کیلئےپائلٹ، جہاز اوراس کے نظام پراعتمادکرتے ہیں۔زندگی کےسفرمیں بھی ہم بہت سی چیزیں جانتےہوئےبہت کچھ نہیں جانتے۔ اگلاموڑہماری نگاہ سےاوجھل رہتاہے۔ عزیز کی موت اس نادیدہ حدکواچانک سامنےلےآتی ہے۔

میں کھڑکی سےباہردیکھتارہا۔فراق کادرداپنی جگہ تھامگراسی دردمیں ایک دعانے جنم لیا:یااللہ،جسے ہم واپس نہیں لاسکتے،اسے اپنی رحمت سےمحروم نہ رکھ۔ ہمیں اس کیلئےخیرکاسبب بنا ۔ہمارے دلوں میں اس کی یادکے ساتھ شکربھی باقی رکھ—اس مدت کاشکرجو ہمیں اس کے ساتھ ملی،ان ملاقاتوں کاشکرجن میں ہم ہنسے،ان باتوں کاشکرجواب ہمارے پاس امانت ہیں۔

انسان اکثروصال کوصرف دوبارہ ملنےکانام سمجھتاہے۔یہاں،زندگی کےاندر،وصال کی ایک اورصورت بھی ممکن ہے:اپنےعزیزکی یاد سےپیداہونے والی خیر کےذریعے اس کی محبت سے جڑے رہنا۔یہ آخرت کی ملاقات کابدل نہیں؛یہ فراق کےزمانےمیں دل کوعطاہونے والاایک کام ہے۔دعامیں اس کانام لینا، اس کےپیاروں کاخیال رکھنا،اپنی زندگی کی اصلاح کرنا، یہ سب محبت کوزندہ عمل میں ڈھالتے ہیں۔
قرآن کاارشادہے :آگاہ رہو،اللہ کےذکرہی سےدل اطمینان پاتے ہیں(الرعد:13:28)
اطمینان کامطلب یہ نہیں کہ یادآنابندہوجائے۔ممکن ہے دل مطمئن بھی ہواورآنکھ نم بھی۔بندہ اللہ کےفیصلےکےسامنےسرجھکائے،پھربھی اپنےعزیز کیلئے روئے ۔مجھے اسی جمعِ کیفیت میں تسلی ملتی ہے:ایمان مجھے محبت ترک کرنےکونہیں کہتا؛وہ مجھےسکھاتاہےکہ محبت،جدائی کےبعددعابن کرکیسے جاری رہتی ہے

جہازبالآخرزمین پراترآئے گا۔مسافراپناسامان اٹھائیں گے،اپنےاپنےگھروں کی طرف چل دیں گے۔میں بھی اپنےگھرکی طرف لوٹوں گا، مگرجانتاہوں کہ اس سفرسےپہلےوالاشخص بن کر نہیں لوٹ سکتا۔ایک عزیزکی موت نےمجھےدوبارہ یاددلایاہےکہ عمرکے صفحات گنےہوئےہیں،اوران پرلکھی جانے والی عبارت صرف قلم سےنہیں بنتی۔ہمارے فیصلے،ہمارے تعلقات،ہماری امانت داری،ہماری عبادت، ہماری مہربانی—یہ سب اس عبارت کےالفاظ ہیں۔

اپنےبہنوئی کیلئےمیری دعاہے:اے اللہ،ان کی لغزشوں سےدرگزرفرما،ان کی نیکیوں کوقبول فرما،ان کی قبرکوکشادگی اورنورعطافرما۔ ان کی اہلیہ،بچوں اورتمام اہلِ خانہ کوایساصبر دے جس میں تیراقرب ہو۔ہمیں توفیق دےکہ ان کےحقوق اوران کی محبت کاپاس رکھیں۔اور جب ہماری اپنی واپسی کاوقت آئےتوہم سےرحمت کامعاملہ فرمانا۔

میں زمین وآسمان کے درمیان بیٹھایہ سطوردل میں ترتیب دے رہاہوں۔نیچے انسانی بستیاں ہیں؛اوپربے کناروسعت۔میرے اندرایک بھائی کی جدائی ہے،اوراس جدائی کےساتھ اپنے رب سےامید۔میں جانتاہوں کہ اگلی ملاقات کاوقت،مقام اورانجام میرےعلم میں نہیں۔اسی لیے میں دعویٰ نہیں کرتا؛دعا کرتا ہوں۔شایدفراق ووصال کی کیفیت سمجھنےکیلئےآج میرے پاس یہی سب سےسچی بات ہے:
ہم اپنےعزیزکے جانے پرروتے ہیں،اس کیلئےرحمت مانگتے ہیں،اوراپنی باقی زندگی اس احساس کےساتھ گزارتےہیں کہ ایک دن ہمیں بھی لوٹناہے۔زمین پرہماراساتھ مختصرتھا،مگراس کی محبت نے جوخیرسکھائی،اسےباقی رکھنااب ہمارے ہاتھ میں ہے۔
بچھڑکےبھی وہ دعاؤں میں ہم سفررہے گا
چراغِ یادہمارے دلوں میں گھررہے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں