Echoes of silent embassy

خاموش سفارت کی بازگشت

عالمی سیاست کے افق پرجب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں توسفارت کاری کے چراغ ازخود روشن ہوجاتے ہیں۔عالمی سیاست کے پیچیدہ اورپرآشوب منظر نامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اورافق پرمفاہمت کی ہلکی سی روشنی نمودارہوتی ہے۔یہی کیفیت حالیہ ایام میں دیکھی گئی جب چین کی سرزمین پرپاکستان اور افغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات کاانعقادہوا۔یہ محض سفارتی سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک ایساتاریخی لمحہ تھاجس میں تلخیوں کے طویل سلسلے کومکالمے کی شیرینی سے بدلنے کی سعی کی گئی۔گویایہ اجتماع الفاظ کانہیں بلکہ ارادوں کاسنگم تھا—ایک ایساسنگم جہاں ماضی کے زخموں پر مستقبل کے امکانات کامرہم رکھاجارہاتھا۔

یہی منظرحالیہ دنوں میں دیکھنے میں آیاجب چین کے خطۂ اورمچی میں پاکستان اورافغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات کاانعقاد ہوا۔یہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہ تھی بلکہ تاریخ کے دھندلکوں میں ایک ایساچراغ تھاجس نے مستقبل کی راہوں کومنورکرنے کی جسارت کی۔یہ محض نشست وبرخاست نہ تھی بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدتھی جس میں بارودکی بوکے بجائے مکالمےکی مہک محسوس ہونے لگی ہے۔گویایہ نشست محض الفاظ کاتبادلہ نہ تھی بلکہ ارادوں کاامتحان اورنیتوں کاآئینہ تھی۔

امریکااورایران کے درمیان جنگ بندی نے اگرچہ وقتی طورپرعالمی فضامیں سکون پیداکیا،مگراس سکون کے پس پردہ طاقت کے توازن کی ایک نئی ترتیب جنم لے رہی تھی اوراسی پس منظر میں چین نے اپنی روایتی حکمت ودانائی کے ساتھ اسی موقع کوغنیمت جانتے ہوئے اپنی سفارتی بصیرت کامظاہرہ کیااورپاکستان و افغانستان کوایک میزپرلاکریہ پیغام دیاکہ مشرق اب محض تماشائی نہیں بلکہ عالمی سیاست کافعال معمارہے۔چینی وزارت خارجہ کا“جامع حل”کابیان دراصل ایک فکری دستاویز،اورایک فکری منشورکی حیثیت رکھتاہے —ایسامنشورجس میں جزوی تدابیرکی بجائے ہمہ جہت حکمت عملی کی جھلک دکھائی دیتی ہے،ایسا نقشہ جس میں مسائل کے جزوی نہیں بلکہ کلی حل کی جستجو نمایاں ہے۔جواس امرکی غمازی کرتاہے کہ مسائل کوسطحی نہیں بلکہ گہرائی میں جاکرحل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اس امرکااعلان بھی ہے کہ مسائل کاحل وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پرسوچنے سے ممکن ہے۔

پاکستان کاکردار اس پورے منظرنامے میں نہایت اہمیت کاحامل رہاہے۔امریکااورایران کے درمیان کشیدگی میں اس کی خاموش سفارت کاری ایک ایسے پل کی مانندتھی جس نے دو متحارب قوتوں کووقتی طورپرقریب لانے میں مدددی۔ پاکستان نے جہاں عالمی سطح پرامریکاوایران کے درمیان مفاہمت میں ایک خاموش مگرمؤثرکرداراداکیا،وہیں چین نے علاقائی سطح پر ثالثی کافریضہ سنبھال کرایک بارپھراپنے“مشرق کے دانا”ہونے کاثبوت دیتے ہوئے ثالث کی حیثیت سےاپنے کردارکواس مہارت سے نبھایاکہ دونوں فریق نہ صرف آمادۂ گفتگوہوئے بلکہ ایک مثبت فضابھی قائم ہوئی۔گویاچین نے علاقائی سطح پرثالثی کاکرداراداکرتے ہوئے نہ صرف اپنی سفارتی بصیرت کامظاہرہ کیابلکہ یہ بھی واضح کیاکہ اب عالمی طاقت کاتوازن محض عسکری قوت سے نہیں بلکہ سفارتی حکمت سے طے ہوگا۔

ماضی کے برعکس اس بارمذاکرات میں تلخی کی جگہ ٹھہراؤاوربے یقینی کی جگہ متوازن فضااوراحتیاط نے لے لی—گویاسفارت کاری نے جذبات پرغلبہ پالیاہو—گویافریقین نے تلخی کے بجائے تدبرکوترجیح دی ہو۔اگرچہ ماضی میں بھی پاک افغان مذاکرات کےکئی باب رقم ہوچکے ہیں،مگراس بارکی فضامیں ایک سنجیدگی، ایک ٹھہراؤاورایک مثبت ارتعاش محسوس کیاجارہا
ہے۔اہم سوال یہی ہے کہ آیایہ مذاکرات محض الفاظ کی بازی گری ثابت ہوں گے یاواقعی حالات کومعمول پرلانے کاپیش خیمہ بنیں گے اور ایک مستقل امن کی بنیاد رکھیں گے؟ ؟تاریخ گواہ ہے کہ نیتوں کی صداقت سے زندگی اورعمل کی استقامت ہی معاہدوں کودوام بخشتی ہے۔

اگرارادے مضبوط ہوں تومعاہدے محض کاغذی نہیں رہتے بلکہ عملی شکل اختیارکرلیتے ہیں۔تاریخ کاسبق یہی ہے تاہم اگرنیتوں میں کھوٹ ہوتوبہترین الفاظ بھی بے اثرہوجاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان مذاکرات کی کامیابی یاناکامی کادارومدارہے۔اگران مذاکرات کے پیچھے اخلاص اورسنجیدگی موجودہے توبعید نہیں کہ یہ خطہ ایک نئے دورمیں داخل ہوجائے—ایسا دورجہاں اختلافات کوتصادم کی بجائےمکالمےسے حل کیاجائے۔

اورمچی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک خاموش دریاکی مانندتھے—بظاہرساکت،مگراندرہی اندرگہرے بہا کے حامل۔یہ مذاکرات بظاہر خاموش تھے،مگر ان کی معنوی گونج خطے کے طول وعرض اوردورتک سنائی دے رہی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے گزشتہ برس اکتوبرسے جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئےایک جامع حل تلاش کرنے پراتفاق کیا
ہے۔یہ بیان اس امرکامظہرہے کہ اب وقتی تدابیرکی بجائے دیرپاحکمت عملی کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے۔یہ بیان دراصل اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ اب وقتی اقدامات کی بجائے دیرپاامن اورمستقل امن کی تلاش کی جارہی ہے—ایساامن جومحض سرحدوں تک محدودنہ ہوبلکہ عوام کے دلوں تک پہنچے۔

چینی ترجمان کے الفاظ میں جوتوازن اوروقارہے،وہ سفارتکاری کے اعلیٰ اصولوں کی عکاسی کرتاہے۔دونوں ممالک کایہ عہدکہ وہ کوئی ایساقدم نہیں اٹھائیں گے جوصورتحال کومزیدپیچیدہ بنائے ، دراصل ایک اخلاقی معاہدہ ہے—ایسامعاہدہ جوتحریری نہ ہونے کے باوجوداپنی معنوی قوت میں مضبوط ہے۔گویایہ اعلان نہیں بلکہ ایک اخلاقی میثاق ہے—ایسامیثاق جس میں تحمل،تدبراورتوازن کی روح کارفرماہے۔چین کامذاکراتی فریم ورک فراہم کرنااس بات کاثبوت ہے کہ وہ اس عمل کووقتی نہیں بلکہ مسلسل اورمربوط سلسلہ دیکھنا چاہتاہے۔

اجلاس میں اس حقیقت کوبھی تسلیم کیاگیا کہ جنوبی ایشیا کاامن،پاکستان اورافغانستان کے باہمی تعلقات سے مشروط ہے۔دہشتگردی کواس رشتے کی سب سے بڑی رکاوٹ قراردینادراصل اس ناسورکی نشاندہی ہےجوبرسوں سے اس خطے کےجسم میں پیوست ہے،دوسرے الفاظ میں دہشتگردی کواس رشتے کی سب سے بڑی رکاوٹ قراردینا دراصل اس مرض کی تشخیص ہے جوبرسوں سے اس خطے کو لاحق ہے۔ جب تک اس ناسورکاعلاج نہیں کیاجاتا۔چین کامکالمے پرزور دینااس امرکاثبوت ہے کہ توپ وتفنگ نہیں بلکہ گفتگوہی مسائل کا حقیقی مداوا
ہے۔امن کی کوئی بھی کوشش ادھوری رہے گی۔مکالمے اورمشاورت پرزور دینا دراصل اس اصول کی توثیق ہے کہ بندوق کی گولی وقتی خاموشی تولاسکتی ہےمگردیرپاامن نہیں۔یہ اس بات کااعلان ہے کہ اب بندوق کی بجائےزبان اوردلیل کوترجیح دی جائےگی۔

پاکستان کی جانب سے بظاہرخاموشی اختیارکرناایک معنی خیزحکمت عملی اوردانشمندانہ سکوت معلوم ہوتاہے،جس میں شایدغوروفکر کی گونج پوشیدہ ہے۔ سفارتکاری میں بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلیغ بیان ہوتی ہے اورالفاظ سے زیادہ خاموشی بولتی ہے۔اور سفارتکاری کے میدان میں یہ خاموشی اکثر حکمت کاپیرہن اوڑھے ہوتی ہے۔یہ خاموشی شایداس بات کی غماز ہے کہ پس پردہ سنجیدہ غور وفکرجاری ہے اورکسی حتمی مؤقف سے قبل تمام پہلوؤں کاباریک بینی سے جائزہ لیاجارہاہے۔

اگرچہ مذاکرات میں اعلیٰ سطح کے نمائندے شریک نہیں تھے،تاہم سفیروں کی ملاقاتیں اورمثبت بیانات اس بات کاثبوت ہیں کہ پس پردہ ایک سنجیدہ پیش رفت اورسفارتی عمل جاری و ساری ہے۔تاہم یہ وہ خاموش سفارتکاری اورسفارتی روابط کاتسلسل ہے جواس بات کا عندیہ ہے کہ پس پردہ ایک سنجیدہ پیش رفت جاری ہے۔سفیروں کی ملاقاتیں اورمثبت بیانات اس خاموش سفارتکاری کے مظاہر ہیںی۔یہ وہ خاموش سفارتکاری ہے جواکثر بڑے فیصلوں کی بنیادبنتی ہے اورجس کے اثرات فوری طور پرنہیں بلکہ بتدریج ظاہرہوتے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے مراحل میں یہ مذاکرات مزیداعلیٰ سطح تک پہنچیں گے۔

دوسری جانب پاکستان کاسکیورٹی بیانیہ اپنی جگہ واضح اوردوٹوک ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن اس امرکی دلیل ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو محض سیاسی اورعارضی خطرہ نہیں بلکہ اپنی بقاسے جوڑکردیکھتا ہے ۔ افغان سرزمین کےپاکستان کےخلاف استعمال کامسئلہ محض ایک شکایت نہیں بلکہ ایک دیرینہ خدشہ ہے جودونوں ممالک کےتعلقات پرسایہ فگن رہاہے جواب ایک مطالبے کی صورت اختیارکرچکاہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو —یہ مطالبہ دراصل قومی سلامتی کااستعارہ ہے۔

افغانستان کی جانب سے آنے والے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کیلئےسنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں امیدکی کرن اوراعتدال کی جھلک ملتی ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی راہ میں دیوارنہیں بنیں گے،جواس امرکاثبوت ہے کہ دونوں فریق اب تصادم کی بجائے تعاون کی راہ پرگامزن ہوناچاہتے ہیں۔یہ بیان دراصل جہاں اس حقیقت کااعتراف ہے کہ اختلافات فطری ہیں،مگران کاحل ہی اصل دانشمندی ہے وہاں افغانستان کی جانب سے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کیلئےسنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں ایک امیدجھلکتی ہے—ایسی امید جو اگرعملی اقدامات میں ڈھل جائے توخطے کیلئےایک نئی صبح کاآغازہوسکتاہے۔

قطرمیں افغان ترجمان سہیل شاہین کامحتاط بیان سفارتی نزاکت کاآئینہ دارہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بارمذاکرات میں فریقین کا رویہ نسبتاًنرم اور شائستہ رہا،جوخوش آئندتبدیلی کاثبوت ہے کہ دونوں ممالک اب ماضی کی تلخیوں کوپس پشت ڈال کرمستقبل کی طرف دیکھناچاہتے ہیں۔گویاتلخ یادوں کے باوجودمستقبل کی طرف ایک مثبت قدم بڑھایاجارہاہے۔

گزشتہ اکتوبرکی کشیدگی اس خطے کی تاریخ کے ناقابل یقین اورافسوس کے وہ اہم لمحات ہیں جب دوبرادرمسلم ممالک کے درمیان دشمن اپنی چالوں میں کامیاب رہااورکشیدگی،فضائی حملے اور جوابی کارروائیوں نے اس خطے کی تاریخ کے وہ ابواب رقم کئے جوخون آلود سطروں سے لکھے گئے۔یہ اس امرکی یاددہانی ہیں کہ جنگ کاراستہ ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتاہے۔یہی تجربہ اب دونوں ممالک کو مذاکرات کی اہمیت کااحساس دلارہاہے۔ یہی پس منظران مذاکرات کومزیداہم بناتاہے،کیونکہ یہ محض حال کانہیں بلکہ ماضی کے زخموں کابھی مداواہیں۔

سرحدی بندش اورتجارتی تعطل نے دونوں ممالک کومعاشی اورسماجی سطح پرشدیدمتاثرکیا۔تجارت کارک جانادراصل زندگی کی روانی کارک جانا،عوامی زندگی کیلئے جان لیواثابت ہورہاہے—اور یہی احساس اب دونوں فریقین کومکالمے کی میزتک لے آیاہے اوراب دونوں ممالک اس حقیقت کوتسلیم کررہے ہیں کہ معاشی روابط کوسیاسی اختلافات سے الگ رکھناضروری اورناگزیر ہے۔

اگرچہ باضابطہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا،مگرسات روزہ مذاکرات اس بات کاثبوت ہیں کہ بات چیت سنجیدگی سے ہوئی۔یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک مسلسل مکالمہ تھاجس میں دونوں فریقین نے اپنے مؤقف کھل کربیان کیے۔یہ محض رسمی نشستیں نہیں بلکہ ایک مسلسل اورگہرامکالمہ تھا۔سات دن کامسلسل مکالمہ اس بات کاثبوت ہے کہ دونوں فریق سنجیدگی سے حل کےمتلاشی ہیں۔

پاکستان کامؤقف واضح ہے کہ وہ افغانستان میں موجود شدت پسندگروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی چاہتاہے جوایک عرصہ درازسے دشمن ملک کی پراکسی وارکاآلہ کاربنے ہوئے ہیں اور پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں نہ صرف ملوث ہیں بلکہ ان حملوں کی مکمل ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔پاکستان کایہ مطالبہ اس کے داخلی امن اوراستحکام سے جڑاہواہے۔اس مسئلے کوحل کیے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔یہ مطالبہ محض سیاسی دباؤنہیں بلکہ ایک مسلسل تجربے کانچوڑہے اوریہ مطالبہ اس کے داخلی امن سے جڑاہواہے اوراس کے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کامؤقف نہایت واضح ہے۔اسے دہشتگرد تنظیم قراردینااوراس کے نیٹ ورک کوختم کرنا وہ اقدامات ہیں جو اعتماد کی بحالی کیلئےضروری اقدامات ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کااصراردراصل اس کے داخلی امن کاتقاضاہے۔جنگ بندی اور سرحد پارحملوں کی روک تھام ایسے نکات ہیں جوکسی بھی پائیدارامن کیلئےناگزیرہیں۔اب اصل کسوٹی عملدرآمدہے۔اگریہ مذاکرات اگلے مرحلے میں اعلیٰ سطح تک پہنچتے ہیں تویہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ابتدائی بیج نے جڑپکڑ لی ہے اوریہی ان مذاکرات کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔بصورت دیگریہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔

دیگرشدت پسند تنظیموں کامسئلہ بھی اسی زنجیرکی کڑیاں ہیں۔جب تک ان عناصرکی سرگرمیاں کم نہیں ہوتیں،اعتمادکی فضامکمل طور پرقائم نہیں ہوسکتی۔ان کی سرگرمیوں میں کمی ہی اس بات کاثبوت ہوگی کہ مذاکرات کامیاب ہورہے ہیں۔داعش اورالقاعدہ جیسے عناصراس خطے کیلئےمشترکہ خطرہ ہیں۔اگرچہ القاعدہ کی سرگرمیاں محدودہوچکی ہیں،مگرداعش ایک ابھرتا ہواچیلنج ہے جس پردونوں ممالک کومشترکہ حکمت عملی اپناناہوگی۔ان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ہی دیرپاامن کی ضمانت دے سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں حملوں میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے—جواس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شاید پس پردہ کچھ پیش رفت ہورہی ہے۔گویا طوفان کے بعدایک ہلکی سی خاموشی،جو کسی بڑے تغیرکا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے۔شدت پسند عناصرکی نقل مکانی کی اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ عملی اقدامات کیے جارہے ہیں ،اگرچہ ان کی مکمل تفصیلات واضح طورپرسامنے نہیں آئیں۔افغانستان کامؤقف کہ تجارت کوسیاست سے الگ رکھاجائے،ایک عملی اورمعقول اورحقیقت پسندانہ تجویزہے۔سرحدی راستوں کی بحالی دونوں ممالک کے عوام کیلئےفائدہ منداورزندگی کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

بالآخر، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نہ پاکستان طویل جنگ کامتحمل ہوسکتاہے اورنہ افغانستان۔امن ہی وہ واحدراستہ ہے جودونوں کو استحکام کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ماضی کی ناکام کوششیں اس بات کی یاددہانی ہیں کہ صرف مذاکرات کافی نہیں،بلکہ نیت،اعتماد اورعمل کاامتزاج انتہائی ضروری ہے۔تحریری ضمانت کامطالبہ اوراس پر اختلاف،گزشتہ ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ رہا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان اعتمادکی کمی اوراختلاف واضح اور نمایاں ہوجاتاہے۔پاکستان کا مطالبہ اور افغان طالبان کا مؤقف دراصل دومختلف زاویہ ہائے نظرکی عکاسی کرتے ہیں—ایک سلامتی کے تناظرمیں سوچتاہے، اوردوسرا خودمختاری اورنظریاتی وابستگی کے پس منظرمیں۔

اورمچی مذاکرات اس طویل داستان کاایک نیا باب ہیں اورچین کی ثالثی نے اس عمل کوایک نئی جہت دی ہے۔اگریہ سلسلہ اسی سنجیدگی سے جاری رہاتوبعید نہیں کہ یہ خطہ، جومدتوں سے اضطراب اوربے یقینی کاشکاررہا ہے،ایک دن امن واستحکام کاگہوارہ بن جائے۔یہ مذاکرات محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک امید ہیں—اورامید ہی وہ قوت ہے جواگر حقیقت کاروپ دھارلے توتاریخ کادھارابدل دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں