Searching for a lost truth

ایک گمشدہ سچ کی تلاش

یہ وہ ساعتِ نازک ہے جس کے دہانے پرکھڑے ہوکرانسان کویوں محسوس ہوتاہے جیسے تاریخ اپنی کروٹ بدلنے کوہے—ایک ایسا موڑ،جہاں واقعات محض خبریں نہیں رہتے بلکہ زمانے کی تقدیرلکھتے ہیں۔دوستو!جس موضوع پرہم گفتگوکرنے جارہے ہیں،وہ اس تنازع کاایک حقیقی نقطۂ انقلاب ہے؛اوراس سے پہلے کہ ہم اس کے باطن میں اترکراس کے تہہ درتہہ حقائق کوآشکار کریں،یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ کوئی قیاس آرائی یابے بنیادگمان نہیں۔جوکچھ پیش کیاجا رہا ہے،وہ مستندذرائع سے اخذکردہ ہے—اورہم آپ کواس کے ایک ایک پہلوسے روشناس کرائیں گے۔

تاریخ کے وسیع وعریض کینوس پربعض اوقات ایسے مناظرابھرتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تہذیبوں کےسفرمیں سنگِ میل کادرجہ رکھتے ہیں ۔ اورتاریخ کے اوراق میں بعض لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ عہدسازموڑبن جاتے ہیں —ایسے موڑجہاں طاقت کے توازن بدلتے ہیں،بیانیے ٹوٹتے ہیں،اورحقیقت اپنے تمام تر جلال کے ساتھ نقاب الٹ دیتی ہے۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب طاقت کے ایوان لرزتے ہیں،جب فیصلے تقدیربن جاتے ہیں،اورجب قوموں کی حکمتِ عملیوں کااصل چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔آج کاعالمی منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہے—ہم ایک ایسے ہی لمحۂ انقلاب سے گزررہے ہیں، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بارپھرعالمی سیاست کے دھارے کونئی سمت دینے کیلئےآمادہ دکھائی دیتی ہے اورایک ایسامنظرجہاں مشرقِ وسطیٰ کی خاک آلود سرزمین ایک بارپھرعالمی سیاست کے دھارے کوموڑنے جارہی ہے۔

یہ بحران کسی ایک ملک،ایک خطے یاایک وقتی تصادم تک محدودنہیں رہا،بلکہ اب یہ ایک ہمہ گیرتغیرکی صورت اختیارکرچکاہے—ایک ایساتغیرجس نے نہ صرف امریکاکی عالمی برتری کو چیلنج کیاہے بلکہ اس کے اخلاقی جوازکوبھی سوالیہ نشان بنادیاہے۔یہ بحران وقتی نہیں،بلکہ تدریجی ارتقاکانتیجہ ہے—ایساارتقا جو برسوں سے خاموشی کے پردے میں پنپ رہاتھااوراب ایک طوفان کی صورت اختیارکرچکاہے۔اس طوفان نے نہ صرف امریکاکی عسکری برتری کوچیلنج کیا ہے بلکہ اس کے اخلاقی جوازکو بھی متزلزل کردیاہے۔

صورتِ حال اس نہج پرپہنچ چکی ہے جہاں واشنگٹن کی گرفت ڈھیلی نہیں بلکہ تقریباًٹوٹ چکی ہے۔اس بحران کامرکزایک ایسااتحادی ہے جس پرامریکانے اپنے علاقائی وجودکی بنیادرکھی تھی—اورعجب ستم یہ کہ عین اُس لمحے جب اسے اس اتحادی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی،وہی ہاتھ اس کے خلاف اٹھ کھڑاہوا۔ امریکاکی نگاہ سے دیکھاجائے تویہ ایک ایسادھوکہ ہے جس کاشائبہ تک نہ تھا؛مگر ایران،جوصبروتدبرکی طویل حکمتِ عملی پرکاربندرہا،شاید مدتوں سے اس گھڑی کامنتظرتھا۔

یہ وہی عراق ہے جس پرامریکانے دودہائیوں تک اپنی توانائیاں،اپنے وسائل اوراپنی حکمتِ عملی نچھاورکی۔2003میں امریکانے عراق پرحملہ کیا—ایک ایساحملہ جسے دنیاکے سامنے “مہلک ہتھیاروں”کےجوازاورایک ناگزیراقدام کے طورپرپیش کیاگیا۔دلیل یہ دی گئی کہ عراق کے پاس ایسے مہلک ہتھیار موجود ہیں جوعالمی امن اورانسانیت کیلئےخطرہ بن سکتے ہیں۔یہ بیانیہ اس شدّت سے پھیلایاگیاکہ عالمی ضمیراس کے زیرِاثرآگیا۔عالمی میڈیانے اس بیانیے کو اس شدّت سے فروغ دیاکہ دنیاکی بڑی تعداداس فریب کوحقیقت سمجھ بیٹھی۔ مگرجب جنگ کی دھول بیٹھی،توحقیقت کاچہرہ بالکل مختلف تھا۔نہ کوئی جوہری یامہلک ہتھیارملا،نہ کوئی فوری خطرہ، نہ کوئی عالمی خطرہ— البتہ تیل کے بے پایاں ذخائر ضرور ریافت ہوئے جس کیلئے ایک ہنستا، وشحال ریاستی ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہوچکاتھا۔

اس کے بعدامریکانے عراق کوازسرِنوتعمیر کرنے اوراپنے سانچے میں ڈھالنے کامہنگاترین منصوبہ شروع کیا— ایک ایسا منصوبہ جس پرکھربوں ڈالرصرف کیے گئے،جس میں فوجی تربیت سیاسی نظام کی تشکیل،اورسفارتی ڈھانچے کی تعمیرشامل تھی۔ کھربوں ڈالر خرچ کرکے ایک نئی فوج تشکیل دی گئی؛سیاسی ڈھانچہ ازسرِ نو بنایاگیا؛اوربغدادمیں دنیاکاسب سے بڑاسفارت خانہ تعمیرکیاگیا۔یہ سب اخراجات عراق کے تیل کے ذخائرسے پورے کئے گئے۔اس بات کی علامت تھاکہ عراق امریکاکیلئےمحض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک ستون تھا۔یہ سب کچھ اس یقین کے ساتھ کیاگیاکہ عراق ایک وفاداراتحادی بنے گا— لیکن آج، یہی ستون نہ صرف لرزرہاہے بلکہ خوفناک دراڑوں کاشکارہے—اوروہ سرمایہ،وہ عسکری قوت،وہ سیاسی ڈھانچہ،سب اسی طاقت کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں جس نے انہیں تشکیل دیاتھا۔اطلاعات یہ ہیں کہ وہی اڈے جوامریکانےاپنے دفاع کیلئے تیارکئے،اب امریکی افواج پرحملوں کیلئےاستعمال ہو رہے ہیں،اوروہی عناصر جنہیں تربیت دی گئی،دشمن کونشانے فراہم کررہے ہیں۔تاریخ نے ایک بارپھر ثابت کیاکہ قوموں کی وفاداریاں محض جبراورطاقت کی دھونس سے نہیں خریدی جاسکتیں۔

جہاں امریکانے طاقت،سرمایہ اورعسکری برتری پرانحصارکیا،وہیں ایران نے ایک مختلف راستہ اختیارکیا— ایک ایساراستہ جوبظاہر سست مگراندر ے نہایت مضبوط تھا۔خاموش،تدریجی اور تہذیبی اثرورسوخ پرمبنی۔ایران نے عراق میں نہ صرف مذہبی وثقافتی روابط کو مضبوط کیابلکہ سماجی اورخاندانی سطح پربھی اپنی جڑیں گہری کیں۔ایران نے اربوں ڈالرکے معاہدوں سے نہیں، بلکہ تہذیبی رشتوں، مذہبی وابستگیوں،خاندانی تعلقات اورخاموش دراندازی کے ذریعے عراق کےاداروں میں اپنی موجودگی مضبوط کی۔ایران نے عراق میں ثقافتی،مذہبی اورسماجی روابط کو فروغ دیا۔جب واشنگٹن عظیم الشان عمارتیں تعمیرکررہا تھا ، تہران دلوں میں گھرکررہاتھا—اوراب یہ خاموش جدوجہداپنے نتائج دکھارہی ہے۔یہ بحران ایک اورحقیقت ک بھی بے نقاب کررہاہے کہ وفاداریاں محض سرمایہ کاری سے نہیں خریدی جاسکتیں۔امریکانے عمارتیں بنائیں،ایران نے رشتے بنائے۔ایک نے ڈھانچہ کھڑاکیا،دوسرے نے دلوں میں جگہ بنائی—اعتمادپیدا کیا،اورایک ایسا نیٹ ورک قائم کیاجووقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتاگیا۔یہ حکمتِ عملی کسی فوری نتیجے کی متقاضی نہیں تھی—بلکہ یہ صبر تسلسل اورتدبرکاتقاضاکرتی تھی اورآج، جب حالات بدل رہے ہیں،تو یہی حکمتِ عملی اپنااثردکھارہی ہے۔یہ وہ جنگ تھی جو بندوقوں سے نہیں،تعلقات سے لڑی گئی—اورآج اس کے نتائج پوری شدت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔عراق کی سیاسی قیادت،اس کے سکیورٹی ادارے،اور اس کے داخلی فیصلے اب اس اثر سے آزادنہیں رہے—اورتاریخ گواہ ہے کہ آخرکارفیصلہ دل ہی کرتے ہیں، دیواریں نہیں۔

عراق کی موجودہ پالیسی—خصوصاً اس کی خاموشی—ایک گہرا پیغام رکھتی ہے۔بغدادکی خاموشی—جوبظاہر سکوت ہے—درحقیقت ایک فیصلہ ہے۔عراق کی سیاسی قیادت—خصوصاًوزیر اعظم—ایسی قوتوں کے زیرِاثر ابھری ہے جن کی جڑیں تہران سے جاملتی ہیں۔ عرب لیگ کی اپیلوں کے باوجودعراق کی طرف سے نہ کوئی مذمت آئی،نہ تحقیق کااعلان،نہ امن کی اپیل ۔اورجولوگ علاقائی سیاست کے رموزسے واقف ہیں،وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلنداعلان ہوتی ہے—ایسااعلان جسے زبان پرلانا شاید ممکن نہ ہو،مگرجس کے اثرات ناقابلِ انکارہوتے ہیں۔

علاقائی سطح پرجب عراق سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرے،توبغداد کی خاموشی نے سب کچھ کہہ دیا۔نہ کوئی بیان، نہ کوئی تردید،نہ کوئی اقدام—یہ وہ خاموشی ہے جودراصل ایک اعلان ہے،ایک ایسااعلان ج زبان پرنہیں آتا مگرحالات میں جھلک جاتاہے۔یہ سکوت دراصل اس حقیقت کامظہرہے کہ عراق اب اس راستے پر گامزن ہوچکاہے جہاں سے واپسی آسان نہیں۔جب عرب دنیانے اس سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرے،تو اس نے سکوت اختیار کیا۔یہ سکوت محض خاموشی نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہے—ایسا فیصلہ جسے زبان پرلانا شاید ممکن نہ ہو،مگرجس کے اثرات واضح ہیں۔یہ خاموشی اس امرکی علامت ہے کہ عراق اب ایک نئے راستے پر گامزن ہوچکاہے—ایساراستہ جہاں اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں،اوراس کی وفاداریاں نئی سمت اختیارکررہی ہیں۔

گزشتہ بہترگھنٹوں میں امریکی اہداف پرحملوں میں جوشدت آئی ہے،وہ کسی اتفاق یاحادثے کانتیجہ نہیں معلوم ہوتی۔ایران نے کھلے عام ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے،اورریاستی ذرائع ابلاغ نے انہیں ایک منظم عسکری حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاہے۔جوکبھی “باغی گروہوں”کی کارروائی سمجھی جاتی تھی، اب ایک مربوط فوجی مہم کے طورپر سامنے آ رہی ہے—جس میں عراقی اور ایرانی قوتیں بظاہر ایک ہی صف میں دکھائی دیتی ہیں۔

اس بدلتی ہوئی فضاکی سب سے واضح علامت وہ حکمِ انخلا ہے جوعراق میں امریکی سفارت خانے نے جاری کیا ہے—ایساحکم جو کسی تاخیرکامتحمل نہیں، بلکہ فوری اطاعت کاتقاضا کرتا ہے ۔امریکی سفارت خانے کی تازہ ہدایات اس خطرے کی شدت کوعیاں کرتی ہیں:امریکی شہریوں کومتنبہ کیاگیاہے کہ وہ نہ صرف عراق چھوڑدیں بلکہ بغدادمیں واقع سفارت خانے اوراربیل میں قونصل خانے سے بھی دوررہیں—کیونکہ یہ مقامات اب براہِ راست عسکری اہداف بن چکے ہیں۔یہ کیساالمیہ ہے کہ ایک ریاست اپنے شہریوں کواپنے ہی سفارتی مراکز سے دوررہنے کی تلقین کررہی ہے۔

واشنگٹن کاامریکی شہریوں کوفوری طورپرعراق چھوڑنے کی ہدایت نہ صرف ایک غیرمعمولی قدم ہے بلکہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے فوری انخلاکا حکم اس بحران کی سنگینی کوعیاں اور متکبر طاقت کی پسپائی کااستعارہ بھی ہے۔امریکی شہریوں کوہدایت دی گئی ہے کہ وہ فی الفورعراق چھوڑدیں۔ فضائی حدودبندہو چکی ہیں،اوراب خروج کاواحدراستہ خشکی ہے—اردن، کویت ، سعودی عرب یا ترکی کی جانب۔یہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں؛یہ اس حقیقت کااعلان ہے کہ فضابھی اب محفوظ نہیں رہی۔یہ ایک ایسااعتراف ہے جو کسی بھی سپرپاورکیلئےآسان نہیں ہوتا۔اس سے پہلے بھی انخلاکے اعلانات ہوتے رہے ہیں،مگراس بارمعاملہ مختلف ہے—یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے،جواس امرکی غمازہے کہ خطرہ محض خارجی نہیں بلکہ اندرونی بھی ہوچکاہے۔

یہ محض احتیاطی تدبیرنہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرانخلاہے—اس اعتراف کے ساتھ کہ جس سرزمین پربرسوں سرمایہ کاری کی گئی،وہ اب مخالف قوتوں کامورچہ بن چکی ہے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بعض ریاستی عناصران حملوں کوروکنے کی بجائے سہولت فراہم کررہے ہیں؛دفاعی نظام عین اس وقت خاموش ہوجاتے ہیں جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔سوال یہ ہے:کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یاایک منظم حکمتِ عملی کاحصہ؟یہ وہ لمحہ ہے جہاں طاقتورریاستیں بھی اپنے قدم پیچھے کھینچنے پرمجبورہوجاتی ہیں—اوریہی وہ لمحات ہیں جہاں تاریخ ان کے فیصلوں کامحاسبہ کرتی ہے،جہاں طاقتورریاستیں اپنی حدودکوتسلیم کرنے پرمجبورہوجاتی ہیں—اوران کی اصل حیثیت سامنے آتی ہے۔

اگریہ صورت حال مزیدبگڑتی ہے تواس کے اثرات افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔وہاں امریکی انخلاکے وقت جدیداسلحہ پیچھے رہ گیاتھا؛مگرعراق میں معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے—پیٹریاٹ میزائل سسٹمز،انٹیلیجنس ڈھانچے،ریڈا تنصیبات،اورایک ایسا جغرافیائی محلِ وقوع جوبے حدقیمتی ہے۔اگر یہ سب ہاتھ سے نکل گیاتویہ محض ایک عسکری نقصان نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک تزویراتی سانحہ ہوگا۔

یہ بحران صرف خارجہ محاذتک محدود نہیں رہا،بلکہ اب اس کی بازگشت خودامریکاکے اندرسنائی دے رہی ہے۔امریکی سیاسی حلقوں میں ایک بے چینی،غیر معمولی اضطراب،اورایک گہری تشویش پائی جاتی ہے۔متعددامریکی رہنما—خواہ وہ سابق عہدیداران ہوں یا موجودہ سیاسی شخصیات،کھلے عام اس امرکااظہار کررہے ہیں کہ موجودہ قیادت نہ صرف عالمی امن کیلئےخطرہ بن چکی ہے بلکہ خود امریکاکی ساکھ کوبھی مجروح کررہی ہے۔

ٹرمپ،جوخودکوایک مضبوط اورفیصلہ کن رہنماکے طورپرپیش کرتے ہیں،اب تنقیدکامرکزبن چکے ہیں۔خصوصاًٹرمپ کی حالیہ تقریر —جس سے دنیاکوامیدتھی کہ شاید وہ جنگ بندی کااعلان کریں گے—شایدوہ ایک نئے باب کاآغازکریں گے—مگرایسا نہ ہوسکا۔ایک بار پھرمایوسی کاسبب بنی۔ان کے الفاظ میں امن کاذکر ضرورتھا،مگران کے اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیے۔یہ وہ تضادہے جواب امریکی سیاست کامستقل وصف بنتاجارہاہے۔

بین الاقوامی سیاست میں الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے،مگراس سے کہیں زیادہ اہمیت عمل کی ہوتی ہے۔جب ایک ریاست اپنے وعدوں سے انحراف کرے،اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹے، اوراپنے ہی اصولوں کی نفی کرے—تویہ صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت بن جاتاہے۔ٹرمپ کی تقریرمیں امن، مذاکرات اوراستحکام کی بات ضرورکی گئی—مگرعملی اقدامات اس کے برعکس نظرآئے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں میں یہ تضادنمایاں ہے اوریہی وہ تضاد ہے جواب امریکی سیاست کی پہچان بنتاجارہاہے۔

ایک طرف امن کی بات،دوسری طرف عسکری کارروائیاں؛ایک طرف مذاکرات کا اعلان، دوسری طرف پابندیاں— اس دوغلے پن نے نہ صرف عالمی برادری کوششدرکردیاہے بلکہ امریکی عوام کوبھی ایک اخلاقی مخمصے میں مبتلاکردیاہے۔اورآج یہ دوغلاپن نہ صرف عالمی سطح پرامریکا کی ساکھ کومتاثرکررہاہے بلکہ اس کے اپنے عوام کوبھی مایوس کررہاہے۔امریکی عوام،جو خودکوجمہوریت، انصاف اوراخلاقی برتری کاعلمبردارسمجھتے ہیں،اب ایک ایسے موڑپر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے ہی نظام پرسوال اٹھانے پڑرہے ہیں۔

اس بحران کاسب سے فوری اورشدید اثرعالمی توانائی کی منڈی پرپڑاہے۔آبنائے ہرمز—جودنیاکی توانائی کاایک اہم راستہ ہے—اب عملی طورپربندہوچکی ہے ۔اس بندش نے عالمی توانائی کی فراہمی کوشدیدمتاثرکیاہے اوراب اس بحران کاایک سنگین اورخطرناک پہلو—عالمی توانائی کی منڈی۔آبنائے ہرمزکی بندش کے باعث روزانہ گیارہ ملین بیرل تیل عالمی منڈی سے غائب ہورہاہے—یہ مقدار ماضی کے بڑے تیل بحرانوں سے بھی دوگنی ہے۔قیمتیں آسمان کوچھورہی ہیں،اوراگریہ سلسلہ جاری رہاتوعالمی معیشت ایک نئے بھونچال سے دوچارہو سکتی ہے۔یہ صورت حال نہ صرف صنعتی ممالک کیلئےچیلنج ہے بلکہ ترقی پذیرممالک کیلئےایک معاشی بحران بن چکی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صورت حال ماضی کے بڑے توانائی بحرانوں سے بھی زیادہ سنگین ہے۔دنیابھرکی حکومتیں ہنگامی اقدامات کررہی ہیں —کہیں ایندھن کی راشن بندی،کہیں قیمتوں پر کنٹرول،کہیں متبادل ذرائع کی تلاش کی طرف تیزی سے منتقل ہورہی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بحران نے ایک بارپھرریاستی کنٹرول کے رجحان کوتقویت دی ہے۔دنیابھرکی حکومتیں ہنگامی اقدامات کررہی ہیں—کہیں ایندھن کی راشن بندی،کہیں قیمتوں پرقدغن،کہیں توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب تیزرفتارپیش قدمی۔ریاستی کنٹرول کابڑھتاہوادائرہ۔ جب وسائل محدودہوتے ہیں،توریاستیں اپنے اختیارات کووسیع کرتی ہیں۔نقل وحرکت کی پابندیاں،توانائی کے استعمال پرقدغن،اور روزمرہ زندگی میں حکومتی مداخلت— یہ سب اس نئے دورکی علامتیں ہیں اوریہ سب اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحران کے وقت ریاستیں کس طرح اپنے دائرۂ اختیار کووسیع کرتی ہیں۔اس منظرمیں ایک عجب مماثلت وبائی دورسے بھی جھلکتی ہے—فرق صرف یہ ہے کہ اس بارخطرہ ایک وائرس نہیں بلکہ ایک جغرافیائی وسیاسی تصادم ہے۔نقل وحرکت کی پابندیاں،ریاستی ہدایات پرانحصار،اور روزمرہ زندگی کانظم ونسق حکومتی فیصلوں کے تابع ہوگیا ہےجوبعدازاں فسطائیت کاراستہ بھی اختیارکرسکتاہے جوانسانیت کیلئے ایک اوربڑا عذاب بن سکتاہے۔

جہاں بیشترممالک قلیل مدتی حل تلاش کررہے ہیں،وہیں برطانیہ نے اس بحران کوایک طویل مدتی موقع کےطورپرلیاہے۔متبادل توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف پیش قدمی،جیسے شمسی توانائی اورہیٹ پمپس،ماحولیاتی پالیسیوں کانفاذ،اورتوانائی کی خودکفالت کی کوششوں کولازمی قراردے کروہ ایک طویل مدتی تبدیلی کی راہ ہموارکررہاہے۔دیگرممالک بھی اپنے اپنے اندازمیں اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ وہ اقدامات ہیں جومستقبل کی سیاست کونئی جہت دے سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیایہ تبدیلی اتنی تیزہو سکتی ہے کہ موجودہ بحران پراثر اندازہو؟

جوکچھ آج ہورہ ہے وہ محض ایک خلل اوربحران نہیں— یہ ایک ازسرِنوتعمیراورایک نئی عالمی ترتیب کی تشکیل ہے۔امریکاکی تزویراتی برتری چیلنج ہورہی ہے،ایران کی حکمت عملی اپنے نتائج کے لحاظ سے کامیاب دکھائی دے رہی ہے،اورعالمی نظام ایک نئے توازن کی تلاش میں ہے۔عالمی توانائی کانظام، جس پر دہائیوں سے انحصارتھا،بکھررہاہے۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکاکی بنائی ہوئی تزویراتی عمارت دراڑوں کاشکارہے او بغداد،تہران،واشنگٹن اوربیجنگ میں ہونے والے فیصلے آنے والی دہائی کی سمت متعین کریں گے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف حکومتیں نہیں کررہیں—اورتاریخ لکھی نہیں جارہی—بلکہ تشکیل پارہی ہے اورخوداپنے لیے ایسا راستہ چن رہی ہے جہاں مستقبل میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ فردِواحدکے ہاتھ میں دنیا کی تقدیرکے فیصلے لکھنے کی طاقت ہو۔اور شایدسب سے اہم سوال یہی ہے،کیادنیااس نئے راستے کیلئےتیا ہے؟یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کاشایدسب سے اہم سوال یہی ہے،کیا انسانیت اس نئی دنیاکیلئےتیارہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں