The mask of lies, the revelation of truth

جھوٹ کانقاب،سچ کاانکشاف

زمانہ اپنی رفتارمیں ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔کبھی یہ امن کی نرم ہواؤں میں سانس لیتاہے اورکبھی فتنوں کی آندھیوں میں الجھ کراپنی شناخت کھوبیٹھتاہے۔آج کاعالمی منظرنامہ اسی اضطراب کی تصویرہے جہاں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے کرداربظاہرامن کے پیامبر ہیں،مگر پسِ پردہ ان کے عزائم ایسے پیچیدہ جال بُنتے ہیں جن میں سچائی اکثرالجھ کررہ جاتی ہے۔یہ رپورٹ اسی الجھن کوسلجھانے کی ایک کاوش ہے—ایسی کاوش جس میں تاریخ کی صدائیں،حال کی گونج اور مستقبل کے خدشات یکجاہوکرایک فکری داستان رقم کرتے ہیں۔اس تحریرمیں محض واقعات کابیان نہیں بلکہ ان کے پسِ منظر،ان کے اثرات اوران کے مضمرات کاایک سنجیدہ و متوازن جائزہ پیش کیاگیا ہے ،تاکہ قاری محض خبرنہ پڑھے بلکہ حقیقت کے قریب ترپہنچ سکے۔

عصرِحاضر کی سیاست، جسے کبھی توازن وتدبرکاآئینہ دارسمجھاجاتاتھا،اب شطرنج کی ایسی بساط بن چکی ہے جہاں مہروں کی چالیں خفیہ،نیتیں پیچیدہ اورنتائج انسانیت کیلئےتباہ کن ہوتے جارہے ہیں۔عصرِحاضرکی عالمی سیاست ایک ایسے گرداب میں داخل ہوچکی ہے جہاں حق وباطل کی تمیزدھندلاگئی ہے اورسفارتی مسکراہٹوں کے پسِ پردہ خنجرکی چمک نمایاں ہونے لگی ہے۔طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے کرداربظاہرامن کے پیامبر نظرآتے ہیں،مگران کے ہاتھوں میں سازشوں کے وہ دھاگے ہوتے ہیں جن سے عالمی امن کاکفن بُناجاتاہے۔عالمی سیاست آج ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں حقیقت اورفریب کے درمیان لکیردھندلاچکی ہے۔

ایسے میں پاکستان کے حساس اداروں کی جانب سے بھارت کی مبینہ فالس فلیگ منصوبہ بندی کوبے نقاب کرنامحض ایک انٹیلی جنس کامیابی نہیں بلکہ غیرمعمولی پیش رفت اورتاریخ کے اوراق میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ اقدام محض اس خطے کوایک بڑی تباہی سے بچانے کاہی نہیں بلکہ ایک فکری اورسفارتی معرکہ بھی ہے،جس نے خطے کی سیاست میں ہلچل پیداکردی ہے۔جونہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی ضمیرکیلئےبھی لمحۂ فکریہ ہے۔اس مکروہ اور خطرناک فالس فلیگ کاقبل ازوقت انکشاف محض ایک خبرنہیں بلکہ ایک پردہ چاک حقیقت ہے،جوسفارتی چالوں کے پیچیدہ جال کوآشکارکرتی ہے۔یہ انکشاف اس خاموش جنگ کااظہار ہے جومیدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں،منصوبوں اورخفیہ کمروں میں لڑی جارہی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارت کی خفیہ کمیونیکیشن کوڈی کوڈکرلیاہے۔یہ عمل کسی معمولی تکنیکی مہارت کانتیجہ نہیں بلکہ یہ جہاں برسوں کی تربیت،صبرآزما تحقیق اورفکری ژرف نگاہی کاثمرہے وہاں فکری بیداری،قومی غیرت اور پیشہ ورانہ بصیرت کامظہرہے ۔یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ جدیددنیامیں معلومات ہی اصل طاقت ہیں۔گویااسرارکے دبیزپردے کو چاک کرکے گویاتاریکی کے سینے میں چھپے رازوں کوچراغِ تدبرسے روشن اورحقیقت کی کرن کونمایاں کردیاگیاہو۔

یہ کامیابی اس امرکی دلیل بھی ہے کہ جدیدجنگیں اب بارودسے نہیں بلکہ معلومات سے لڑی جاتی ہیں،اورجس کے پاس معلومات کا خزانہ ہووہی اصل میدان کافاتح ہوتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کی یہ کامیابی نہ صرف دفاعی اورذہنی برتری کامظہرہے بلکہ سفارتی سطح پربھی ایک مضبوط دلیل فراہم کرتی ہے کہ یہ کامیابی دراصل دشمن کے ارادوں کو قبل ازوقت سمجھ کر انہیں ناکام بناکراپنی عسکری ٹیکنالوجی کابھی بہترین اعلان ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کوئی نیاحربہ نہیں،بلکہ تاریخ کاایک تلخ باب ہیں۔جہاں جھوٹ کوسچ کے قالب میں ڈھال کر پیش کیاجاتاہے۔یہ حکمت عملی کامقصددراصل عالمی رائے عامہ کوگمراہ کرکے اپنے اقدامات کوجائزقراردیناہوتاہے،یہ وہ پراناہتھیارہے جسے طاقتورریاستیں اپنے مذموم عزائم کوجوازدینے کیلئےاستعمال کرتی رہی ہیں۔جونہی مصدقہ اطلاعات کے مطابق معلوم ہواکہ بھارت ایک با پھراسی مکارروش کواستعمال کرنے کی تیاری میں ہے،تاکہ اپنے اقدامات کوجوازفراہم کیاجاسکے توپاکستانی اداروں نے اسے فوری طورپرناکام بنانے کیلئے شواہدکے ساتھ اس کوناکام بنانے کاآپریشن شروع کردیا۔

یہاں بھی یہی اندیشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ ایک مصنوعی واقعہ تخلیق کرکے اس کاالزام پاکستان پرڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔جس کیلئے پاکستانی قیدیوں کورہاکرکے استعمال کرنے کاارادہ ظاہرکیاگیاہے۔یہ طرزِعمل اس کہاوت کی عملی تصویرہے کہ“چورمچائے شور”، تاکہ اصل مجرم خودکوپردۂ اخفامیں رکھ سکے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی منصوبے میں پاکستانی قیدیوں کواستعمال کرنے کاارادہ شامل ہے،جنہیں مقبوضہ کشمیرکے سرحدی علاقوں میں لے جاکرکسی کارروائی کاحصہ بنایاجا سکتاہے ۔یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اقدارکی کھلی توہین بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی عکاسی کرتاہے۔قیدی،جو پہلے ہی بے بسی کی علامت ہوتے ہیں،انہیں سیاسی کھیل کامہرہ بناناظلم کی انتہاہے۔اس سے بڑھ کرانسانیت کی تضحیک اورکیاہوسکتی ہے کہ بے بس افرادکوسیاسی کھیل کامہرہ بنادیا جائے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اپنی اخلاقی بنیادیں کھودیتی ہے اورمحض طاقت کے بے رحم کھیل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

اس منصوبے کامقصدایک مصنوعی واقعہ تخلیق کرکے اس کاالزام پاکستان پرعائد کرناہے،تاکہ سرحدی کشیدگی کوہوادی جاسکے۔ذرائع کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کے بعداس کاالزام پاکستان پرعائد کرکے جہاں سرحدی کشیدگی کوہوادینے کی کوشش ہوگی وہاں پاکستان میں جاری امن مذاکرات کوسبوتاژکیا جا کے۔یہ حربہ اس پرانے اصول پرمبنی ہے کہ “پہلے جرم کرو، پھر شور مچاؤ”۔ یہ وہی پراناحربہ ہے جس کے ذریعے جنگوں کوجواز فراہم کیاجاتارہاہے۔ایسی حکمت عملی نہ صرف خطے کوجنگ کے دہانے پر لے جاتی ہے بلکہ عالمی امن کوبھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا متاثرہوتی ہے،کیونکہ جدیددنیامیں کسی بھی خطے کاعدم استحکام عالمی سطح پر اثرانداز ہوتا ہے یہ حکمتِ عملی تاریخ کے ان سیاہ ابواب کی یاد دلاتی ہے جہاں جنگ کے شعلے جھوٹ کی چنگاری سے بھڑکائے گئے۔

بھارت کابنیادی مقصدپاکستان کی فوج کومشرقی سرحدپرمصروف رکھنابتایاجارہاہے،تاکہ اس کی توجہ تقسیم ہوجائے اوردیگرمحاذوں پر اس کی توجہ کمزورکی جاسکے۔یہ ایک کلاسیکی عسکری حکمت عملی ہے جس میں دشمن کومختلف محاذوں پر لجھا کراس کی قوت کو تقسیم کیاجاتاہے۔تاہم یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ایسی حکمت عملی اکثرالٹااثربھی ڈالتی ہے اورخطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کاسبب بن سکتی ہے۔یہ اقدام اس بات کاغمازہے کہ دشمن براہِ راست مقابلے کی بجائے بالواسطہ مکروہ سازشوں کوترجیح دے رہا ہے۔

جہاں تاریخ کے اوراق گواہ ہیں وہاں ماضی کے کئی واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فالس فلیگ آپریشنز کی اس نوعیت کی کارروائیاں نئی نہیں۔ چھتی سنگھ پورہ کاواقعہ، ممبئی حملے،پٹھانکوٹ،اورکشمیر میں حالیہ دہشتگردی—یہ سب ایسے واقعات ہیں جن پرسوالیہ نشان ہمیشہ موجود رہا۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی سطح پربھی بھارت پرالزامات لگتے رہے ہیں،جن میں بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں کے قتل کے واقعات شامل ہیں۔نکہل گپتاکے اعتراف نے بھی اس بحث کو تقویت دی ہے،اوراس بیانیے کومضبوط کیاہے کہ خفیہ کارروائیاں عالمی سیاست کاحصہ رہی ہیں جس نے عالمی سطح پرتشویش کوجنم دیاکہ خفیہ ایجنسیاں بعض اوقات اپنے سیاسی مقاصد کیلئےغیرروایتی طریقے اختیارکرتی ہیں۔ یہ تمام واقعات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات اکثرپس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

حالیہ بیانات اور اقدامات نے خطے میں نئی صف بندیاں پیداکردی ہیں۔طاقتور ممالک کے درمیان اتحاداورمخالفت کے نئے زاویے سامنے آ رہے ہیں،جس سے عالمی سیاست مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔یہ صورت حال اس بات کی غمازہے کہ دنیاایک نئے جیوپولیٹیکل دورمیں داخل ہورہی ہے،جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئے تعلقات تشکیل پارہے ہیں۔عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں جس سے عالمی توازن متاثرہورہا ہے ۔ بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں بیانات نے خطے میں کشیدگی کو نئی جہت دی ہے۔یہ صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کیلئےعلاقائی توازن کوداؤپر لگارہی ہیں۔

ایران اورفلسطینی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردارکوسراہنااس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دارقوت اورمعاملہ فہم ریاست کے طورپرابھررہا ے۔ایران کی جانب سے “بلینک چیک”جیسااظہارِاعتمادسفارتی تاریخ میں ایک اہم موڑکی حیثیت رکھتاہے۔یہ اعتماد محض الفاظ کاکھیل نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی جدوجہدکانتیجہ ہے،جس میں پاکستان نے مسلسل توازن اوراعتدال کی پالیسی اپنائی ہے اوریہ اعتمادسفارتی کامیابی کااہم سنگِ میل ہے۔

پاکستان میں امن مذاکرات کیلئےعلاقائی ممالک کی شرکت ایک مثبت پیش رفت ہے۔سعودی عرب،ترکی اوردیگر ممالک کی شمولیت اس بات کااشارہ ہے کہ دنیااب تصادم کی بجائے مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے جوامن وسلامتی کی طرف لیکرجاتاہے۔اگریہ سلسلہ جاری رہاتویہ خطے کیلئےایک نئے دورکاآغازثابت ہوسکتاہے۔

روس اورچین کی جانب سے پاکستان کے اقدامات کی حمایت عالمی سطح پرایک اہم پیش رفت اورایک اہم تبدیلی کااشارہ ہے۔یہ اس بات کی علامت اورثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اب یکطرفہ جبر،جارحیت اورظلم کی پالیسیوں کے بجائے متوازن نقطہ نظراورحکمت کو اہمیت دی جارہی ہے ۔خودبھارت میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پرتنقید اس بات کاثبوت ہے کہ داخلی سطح پرشدید اختلافات موجودہیں،جواس کی عالمی پوزیشن کومتاثر کررہے ہیں اورمودی کی مکارانہ پالیسیوں کوقبولیت حاصل نہیں۔اب توعام عوام بھی مودی کے اس شرمناک کردارپرانگلیاں اٹھارہے ہیں کہ ہندوستان کی کبھی ایسی سبکی نہیں ہوئی اوربالخصوص مودی نے ایران اور فلسطین کودھوکہ دیکریہ تمثیل”بغل میں چھری اورمنہ میں رام رام”درست ثابت کردی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق مودی افغانستان کے ذریعے پراکسی جنگ کودوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہاہے،جوکہ اب اس خطے کیلئے نہایت خطرناک ہیں۔یہ حکمت عملی ماضی میں بھی تباہ کن نتائج کاسبب بنی ہے،اوراگردوبارہ دہرائی گئی تواس کے اثرات مزیدشدیدہو سکتے ہیں۔ایران میں داخلی انتشارپیداکرکے اسے شام جیسی صورتحال میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہوئیں، اور ایران میں رجیم چینج کی کوششوں کاناکام ہونااس بات کی دلیل ہے کہ داخلی استحکام اورعوامی حمایت کسی بھی بیرونی مداخلت کوناکام بناسکتی ہے۔جس میں پاکستان کی حکمت عملی کاکردار نمایاں رہا۔

امریکی پالیسیوں میں تضادات عالمی سیاست کی پیچیدگی کوظاہرکرتے ہیں۔عالمی طاقتیں بھی اب غیر قینی صورتحال کاشکارہیں۔ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اوردوسری طرف دباؤبڑھایاجاتاہے—یہ دوہرامعیارعالمی اعتمادکومجروح کرتاہے۔امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کودوبارہ استعمال کرنے کی کوششیں عالمی سیاست میں ان کی ناکامی کے اعتراف کوظاہرکرتی ہیں،جبکہ ایران کی جانب سے انکاراس بات کاثبوت ہے کہ اب ریاستیں زیادہ خودمختارفیصلے کررہی ہیں۔

سعودی عرب اوردیگرعرب ممالک کے حوالے سے بیانات نے خطے میں بے چینی پیداکی ہے۔اوریہ تاثرمضبوط ہورہاہے کہ عالمی طاقتیں یکطرفہ مفادات پر مبنی ہیں اوراپنے مفادات کیلئے اسرائیل کوترجیح دے رہی ہیں۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھر بڑی تبدیلیوں کے دہانے پرکھڑاہے۔

توانائی سپلائی لائنزکومتاثرکرنے کی کوششیں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی جنگ بھی ہے۔چین جیسے بڑے اقتصادی طاقت کوکمزورکرناعالمی سیاست کا ایک اہم ہدف بن چکاہے۔ایران اوروینزویلاکے ذریعے چین کی توانائی سپلائی لائن کومتاثر کرنے کی کوششیں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاشی جنگ کاحصہ ہے۔یادرہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعدایران کے توانائی وسائل اورافزودہ یورینیم پرکنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ایک بڑے تصادم کاپیش خیمہ بن سکتی ہیں یہ صورت حال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیاکیلئےخطرناک ہے۔
ان تمام حالات کے تناظرمیں دنیاکو تباہی سے بچانے کیلئےچند بنیادی اقدامات ناگزیرہیں۔
٭عالمی سطح پرشفافیت کوفروغ دیاجائے-
٭مکالمے اورسفارتکاری کوہرحال میں جنگ پرترجیح دی جائے-
٭علاقائی تعاون کوفروغ اوراتحادکومضبوط بنایاجائے-
٭عالمی اداروں کوغیرجانبداراورمؤثربنایاجائے-
٭میڈیاکوذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہیے-
٭انسانی حقوق کوہرپالیسی کامرکزبنایاجائے-
٭انسانی حقوق کوسیاسی مفادات پرفوقیت دی جائے-
٭میڈیاکوذمہ دارانہ کرداراداکرنے کاپابندبنایاجائے-

دنیاکی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کےکھیل ہمیشہ دیرپانہیں ہوتے،مگران کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔یہ دنیااگرچہ سازشوں، مفادات اور طاقت کی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے،کشیدگی اورعدم اعتمادکے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے،مگرتاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریکی کبھی دائمی نہیں ہوتی،ہرتاریکی کےبعدسویراضرورہوتاہے۔شرط یہ ہے کہ قومیں ہوش کے ناخن لیں،اورقیادتیں ذاتی مفادات سے بالاہوکرانسانیت کے وسیع ترمفادکومقدم رکھیں۔اگر قیادتیں بصیرت،دیانت اورانسانیت کواپناشعا بنالیں ت یہی دنیاامن کاگہوارہ بن سکتی ہے۔یوں شایدیہ زمین،جوآج بارودکی بوسے بوجھل ہے،کل امن کے پھولوں سے مہک اٹھے۔امیدکی ایک کرن ہمیشہ باقی رہتی ہے۔یہی امیدہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اورجوآج بھی انسانیت کے چراغ کوروشن رکھے ہوئے ہے—کہ کل کاسورج شایدآج کی دھندکو چیرکرایک نئی روشنی لے کرطلوع ہو۔

پس، ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم محض واقعات کے تماشائی نہ بنیں بلکہ حقیقت کے متلاشی بن کرایک بہتراورپرامن دنیاکی تشکیل میں پناکرداراداکریں—کہ یہی تاریخ کاتقاضاہے اور یہی انسانیت کامقدربھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں