Fear of nuclear apocalypse

ایٹمی قیامت کااندیشہ

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش کامیدان رہی ہے،مگرحالیہ کشیدگی نےاس خطےکوایک ایسےدہانے پرلا کھڑا کیا ہے جہاں تاریخ کی سانسیں بھی بوجھل محسوس ہوتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین آج پھرتاریخ کے ایک ایسےموڑپرکھڑی ہے جہاں زمانے کی سانسیں تھم سی گئی ہیں اور سیاست کے افق پربارودکی بوپھیلتی محسوس ہوتی ہے۔اورخطےکی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک موڑپرکھڑی ہے جہاں ہر قدم تاریخ کے دامن میں نئی ہلچل پیداکررہاہے۔امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرپے درپے حملوں کے بعدایران کی جوابی کارروائیوں نے عالمی منظرنامے کوایک نئے اضطراب سے دوچارکردیا ہے۔

گویامشرقِ وسطیٰ کی سرزمین آج ایک ایسے اضطراب میں مبتلاہے جس کی گونج تاریخ کے طویل ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ طاقت کی سیاست اپنے تمام ہتھیاروں کےساتھ میدان میں اترآئی ہے،اورافق پر جنگ کے بادل اس طرح گہرے ہورہے ہیں جیسے صدیوں کی خاموشی ایک طوفان میں ڈھلنے کوہو۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضااس وقت ایسے اضطراب سے لبریزہے جیسے تاریخ کسی نئے طوفان کے آنے کی آہٹ سن رہی ہو۔طاقت کی بساط پرمہرے حرکت میں ہیں،سفارت کاری کے ایوانوں میں بے چینی کی سرگوشیاں ہیں،اور عالمی سیاست کے افق پراندیشوں کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرمسلسل حملوں کےبعدایران کی جوابی کارروائیاں اس امرکی شہادت دے رہی ہیں کہ تہران نے دباؤکے سامنے سرجھکانے کی بجائے مزاحمت کاپرچم بلندرکھاہے۔ایران کی سخت اوربے باک کارروائیوں نے عالمی سیاست کے آسمان پرایک ایساطوفان برپاکردیاہے جس کی گھن گرج دوردورتک سنائی دے رہی ہے۔تہران نے سخت دباؤ،سفارتی دبستانوں کی چالاکیوں، دھمکی،میڈیاکے شور اور پروپیگنڈے کے طوفان کے باوجودہتھیارڈالنے سے انکارکردیاہے۔

تہران نے دباؤ،دھمکی اورسفارتی تنہائی کے باوجودہتھیار ڈالنے سے انکارکرکے یہ واضح کردیاہے کہ وہ اس معرکے کومحض ایک جنگ نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کی بقاکاسوال سمجھتاہے۔امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرمسلسل حملوں کےبعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے اس خطے کوایک ایسی کشیدگی کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے جس کے مضمرات کااندازہ لگاناآسان نہیں۔ایسے میں یہ سوال عالمی ضمیرکوبجلی کی طرح کچوکے لگا رہاہے کہ کیاامریکاوہی ہولناک راستہ اختیارکرسکتاہے جودوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اس نے جاپان کے شہروں ہیروشیمااورناگاساکی پرایٹم بم گراکرلمحوں میں خاکسترکردیاتھا؟

یہ سوال محض سیاسی قیاس آرائی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک اندوہناک باب کی بازگشت ہے،جوآج کے عالمی ضمیرکوپھرسے جھنجھوڑرہی ہے۔اگرتاریخ کی وہ بھیانک بازگشت دوبارہ سنائی دی تویہ محض ایک عسکری فیصلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ضمیر پرایک اورزخم ہوگا۔تاریخ کی وہ لرزہ خیزداستان آج بھی انسانی یادداشت میں ایک ایسے زخم کی مانندموجودہے جس کی کسک کبھی مدھم نہیں پڑی۔اگروہی سانحہ ایک بارپھردہرایاگیاتویہ صرف ایک ملک کی تباہی نہ ہوگی بلکہ انسانیت کی پیشانی پرایک اورسیاہ دھبہ اورتہذیبِ انسانی کےضمیرپرایک اورزخم کااضافہ ہوگا۔تاریخ کی وہ لرزہ خیزداستان آج بھی انسانی ضمیرپر ایک ایسے نقش کی طرح ثبت ہے جسے وقت کی دھول بھی مٹانہیں سکی۔اگرتاریخ کی وہ قیامت ایک بارپھردہرائی گئی تویہ صرف ایک عسکری فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ انسانی تہذیب کے ضمیرپر ایک اورگہرا انمٹ زخم ثبت ہوجائے گاجس کے بعدموجودہ دنیااک گہری تاریکی اوردھوئیں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔۔تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کی سرزمین ہمیشہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنی رہی ہے،مگر آج جومنظرنامہ ابھررہا ہے اس کی سنگینی پہلے سے کہیں زیادہ گہری اور خوفناک محسوس ہوتی ہے۔

جوہری ہتھیارمحض جنگی قوت کے مظاہرنہیں بلکہ انسان کی ایجادکردہ وہ قیامت ہیں جولمحوں میں شہروں کوملبے اورزندگیوں کو خاموشی میں بدل دیتی ہیں۔ اگرخدانخواستہ ایران پرایٹمی حملہ ہواتوتباہی کاوہ منظر نامہ سامنے آئے گاجسے بیان کرنے کیلئےالفاظ بھی کانپتے ہیں۔جوہری ہتھیارمحض جنگی قوت کی علامت نہیں بلکہ قیامت کے دروازے کی ایک کنجی ہیں۔جوہری ہتھیارکی تباہی محض بارودکی گھن گرج نہیں ہوتی؛یہ ایک ایسی خاموش قیامت ہے جس کے اثرات وقت کے دریاؤں میں دو تک بہتے چلے جاتے ہیں۔ایک لمحہ آتاہے جب روشنی کاایک اندھا کردینے والاشعلہ آسمان کوچیردیتاہے،اورپھر شہر،بستیاں اور زندگی کے چراغ یکایک بجھنے لگتے ہیں۔

اگرخدانخواستہ ایساسانحہ رونماہوتاہے تواس کی تباہی کااندازہ صرف اعدادوشمارسے نہیں لگایاجاسکتا۔جوہری ہتھیارکی تباہی ایک ایسی آگ ہے جس کی لپٹیں صرف لمحوں میں لاکھوں زندگیاں نگل لیتی ہیں۔زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات ایک ہی آن میں زندگی کی قندیل بجھابیٹھیں گے۔فوری ہلاکتیں تومحض اس قیامت کاپہلامنظر ہوں گی؛جوہری حملہ ایک ایسی قیامت ہے جولمحوں میں شہر کوملبے میں اورزندگی کوخاموشی میں بدل دیتا ہے۔ایٹمی ہتھیارمحض جنگی قوت کااظہارنہیں بلکہ قیامت کاایک استعارہ ہیں۔

خاکم بدہن ایساہولناک حادثہ رونماہوگیااورایران کی سرزمین پرایسی آگ اتری تولمحوں میں بستیاں خاکستراورزندگیاں خاموش ہوجائیں گی۔ہزاروں انسان ایک ہی آن میں مٹی کی آغوش میں جاسوئیں گے،بلکہ راکھ بن سکتے ہیں ،مگراصل المیہ اس کے بعدشروع ہوتاہے۔ تابکاری کے زخم نسلوں تک جسموں اور زمینوں میں سرایت کرتے رہیں گے۔تابکاری کی وہ پوشیدہ آگ نسلوں کے جسموں میں نہ صرف بیماریوں کابیج بودیتی ہے بلکہ زمین کے ذروں،پانی کے قطروں اورفضا کی لہروں میں سرایت کرکے نسلوں تک اپنااثرچھوڑتی ہے۔، زمین کی زرخیزی کوماند کردیتی ہے اورہوامیں ایک ایسازہرگھول دیتی ہے جس کی بازگشت دہائیوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

گویاایٹمی تباہی صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ مقدرپرلکھی جانے والی ایک اندوہناک داستان ہوتی ہے۔پوری دنیاکامشترکہ المیہ بن جاتی ہے،کیونکہ اس کےاثرات سرحدوں کی دیواریں پھلانگ کرانسانیت کے اجتماعی مقدرکومتاثرکرتے ہیں۔یہ وہ زخم ہے جووقت کے مرہم سے بھی مکمل طورپرنہیں بھرتا۔یوں ایک ایٹمی حملہ صرف ایک قوم کی بربادی نہیں بلکہ پوری دنیا کی اجتماعی تقدیرپرایک تاریک سایہ ڈال دیتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایٹمی حملے کے اثرات صرف ایک قوم یاایک خطے تک محدودنہیں رہتے بلکہ پوری انسانیت کی اجتماعی تقدیرپرایک تاریک سایہ ڈال دیتے ہیں۔

یوں ایک ایٹمی حملہ صرف ایک ملک کانہیں بلکہ پوری دنیاکامشترکہ سانحہ بن جاتاہے،کیونکہ اس کے اثرات سرحدوں اورسمندروں سے ماوراہوکرپوری انسانیت کی تقدیرپراثراندازہوتے ہیں۔گویایہ ایساپتھرہے جواگرعالمی جھیل میں پھینکاجائے تواس کی لہریں دوردور تک پھیلتی چلی جاتی ہیں۔اوریہ بھی یاد رکھیں کہ ایران پراس کے اثرات محض عسکری یاجغرافیائی حدوں تک محدود نہ رہیں گے بلکہ اقوام عالم کواس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔گویاایک شہرکی تباہی دراصل پوری انسانیت کے مستقبل کولرزادیتی ہے۔

ایران کے پڑوس میں آباد ممالک بھی اس قیامت خیزمنظرنامے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ایران کے گردوپیش پھیلاہوا جغرافیہ بھی اس سانحے سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔خلیجی ریاستیں،جوآج عالمی سیاست کے نازک توازن پرقائم ہیں، جن کی معیشتیں اوربستیاں اسی خطے کی فضاؤں سے بندھی ہوئی اورجوآج سیاسی مفادات کے نازک سہارے پرکھڑی ہیں،تابکاری کے اثرات سے کیسے بچ سکیں گی؟ ایران کے ہمسایہ ممالک ترکی اورپاکستان بھی اسی جغرافیائی دائرے میں سانس لیتے ہوئے بدن ہیں،جہاں سرحدیں کاغذی لکیروں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ہواکی سمتیں اورتابکاری کے بادل کسی سرحدکونہیں پہچانتے اورہواکے دوش پرسفر کرنے والی آفتیں کسی سیاسی معاہدے کی پابند نہیں ہوتیں۔اورنہ ہی یہ کسی ویزے یاپاسپورٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ایسے میں وہ عرب حکمران بھی اس ہولناک حقیقت کاسامناکرنے پرمجبورہوں گے جنہوں نے سیاسی قربت کے اظہارمیں امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ اوران کے خاندان کوہیرے، موتی، شاہانہ قیمتی تحائف اوراعلیٰ اعزازات سے نوازا۔اگرآگ بھڑک اٹھی تواس کی تپش دوست اوردشمن دونوں کویکساں جھلسا سکتی ہے۔اگر آگ بھڑک اٹھی تواس کی تپش صرف ایک ملک کونہیں بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جب آگ بھڑکتی ہے تووہ دوست اور دشمن دونوں کی سرحدوں کویکساں جلانے لگتی ہے۔

تاہم اس بحران کاسیاسی پہلوعسکری پہل سے کہیں زیادہ دھماکہ دارلرزہ خیزہے۔سیاسی اعتبارسے اس بحران کی گونج اوربھی زیادہ شدیدہوسکتی ہے۔ چندروز قبل ٹرمپ اورروسی صدرپوتن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگواسی اضطراب اورتشویش کی علامت ہے۔ روس نے اس جنگ کے امکانات پرسخت تحفظات کااظہاراورگہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے فوری جنگ بندی کامطالبہ کیاہے۔عالمی سیاست کے ایوانوں میں یہ احساس تیزی سے پھیل رہاہے اوران کےایوانوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہاہے کہ اگراس آگ کوابھی نہ روکاگیا تویہ ایک ایسا شعلہ بن سکتی ہے جوپورے عالمی نظام کوبھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہیں اوراگراس شعلے کوابھی نہ بجھایا گیاتویہ محض ایک علاقائی بحران نہیں رہے گابلکہ عالمی نظام کی بنیادوں کوہلادینے والاطوفان اورمعاشی ستونوں کوہلادینے والازلزلہ ثابت ہوسکتاہے۔

اسی تناظرمیں یہ اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ روس اورچین اس بحران پرمسلسل رابطے میں ہیں۔بیجنگ نے واضح الفاظ میں واشنگٹن کوجنگ روکنے کا مشورہ دیاہے اورایران کی اعلیٰ قیادت کوممکنہ امریکی حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاعات پرسخت تشویش اورناراضی کااظہارکیاہے۔چین اورروس کے بیانات اس بات کاعندیہ دیتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اس خطرے کومحسوس کررہی ہیں جو اگربے قابوہوگیاتوزمین کی سیاست ایک نئے اورخطرناک موڑپرپہنچ سکتی ہے۔ عالمی سفارت کاری کے پردوں کے پیچھے ایک خاموش مگرنہایت فیصلہ کن کشمکش اوراہم مکالمہ جاری ہے،سفارت کاری کے ایوانوں میں اگرچہ الفاظ دھیمے ہوتے ہیں،مگر ان کے معنی بہت دورتک سفرکرتے ہیں۔بظاہرخاموش میزوں کے گردبیٹھے ہوئے سفارت کاردراصل اس آگ کے گردحصار باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں جواگر بے قابوہوگئی توپوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔جہاں بڑی طاقتیں اس خطرے کوبھانپ رہی ہیں کہ عقل وتدبر کاچراغ بجھ گیاتوطاقت کی تلواریں دنیاکواندھیرے میں دھکیل سکتی ہیں،اوراگر طاقت کی سیاست نےعقل کی رہنمائی کھودی تودنیاایک نئی تباہی کے دہانے پرجا کھڑی ہوگی۔

بعض تجزیوں میں یہ امکان بھی زیرِ بحث آرہاہے کہ اگرحالات مزیدبگڑتے ہیں توروس ایران کواپنی جوہری“چھتری”کے دائرے میں لے سکتاہے۔اس کا مطلب یہ ہوگاکہ ایران پرمزیدجوہری حملہ دراصل روس کے خلاف ایٹمی جارحیت تصورکیاجائے گا۔ایسی صورت میں عالمی سیاست کاتوازن لمحوں میں ٹوٹ سکتاہے اوردنیاایک بارپھراس مقام پرپہنچ سکتی ہے جہاں تیسری عالمی جنگ کے سائے نمایاں ہونے لگتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہوگاجب انسانیت کواپنی تاریخ کے آئینے میں جھانک کرفیصلہ کرناہوگاکہ آیاطاقت کے غرورکوترجیح دی جائے یاعقل وتدبر کی روشنی کو۔یادرہے کہ جہاں تاریخ ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ جنگ کے طبل بجانے والے اکثراس کی ہولناکیوں سے بے خبرہوتے ہیں،مگر جب بارودکی بوفضامیں پھیلتی ہے توانسانیت کاپوراقافلہ اس کی قیمت اداکرتاہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تاریخ انسانیت کوخبردارکرتی ہے کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے اکثرتہذیبوں کوملبے میں بدل دیتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے میں اصل سوال طاقت کانہیں بلکہ عقل وانسانیت کاہے۔اگرعالمی قیادت نے ہوش کے چراغ کوروشن نہ رکھاتومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جوصرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیرکواپنی لپیٹ میں لے لے۔ تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جنگ کی راہ بظاہرمختصر دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔

اس تمام منظرنامے کا حاصل یہی ہے کہ دنیااس وقت ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں عقل،تدبراورسفارت کاری ہی انسانیت کوبچا سکتے ہیں۔اصل سوال طاقت کانہیں بلکہ عقل وانسانیت کاہے۔اگرعالمی قیادت نے تدبرکاچراغ روشن نہ رکھاتومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جس کی لپٹیں صرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیاکو اپنی گرفت میں لے لیں گی۔جنگ کی راہ بظاہرمختصر اورآسان دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔اگرعالمی قیادت نے دانش مندی کا چراغ روشن نہ رکھا تومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جس کی تپش پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جنگ کی راہ بظاہرمختصر اورپرجوش دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔تاریخ ہمیں بارباریہ سبق دیتی ہے کہ جنگ کے فیصلے اکثرجوش میں کیے جاتے ہیں،مگران کی قیمت ہمیشہ انسانیت کو ہوش میں آکراداکرناپڑتی ہے۔انسانیت کی بقااسی میں ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے فیصلے کرنے والے یہ یادرکھیں کہ ایک لمحے کی غلطی کبھی کبھی صدیوں کی پشیمانی بن جاتی ہے۔

آج دنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے فیصلے کرنے والوں کو یہ یادرکھناچاہیے کہ جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کی لپٹیں دوست اور دشمن کے درمیان فرق نہیں کرتیں۔حقیقت یہی ہے کہ دنیااس وقت ایک ایسے سنگم پرکھڑی ہے جہاں ایک فیصلہ انسانیت کوامن کے ساحل تک لے جاسکتاہے اوردوسرا فیصلہ اسے تباہی کے گرداب میں دھکیل سکتاہے۔اگرعقل و تدبرکاچراغ بجھ گیاتومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جس کی تپش پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

جنگ کے طبل بظاہرقوت کااعلان ہوتے ہیں،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ ان کی گونج اکثرتہذیبوں کے ملبے میں گم ہوجاتی ہے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ طاقت کی راہ بظاہرمختصر دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتیہے۔اگرعالمی قیادت نے دانش مندی کاچراغ روشن رکھاتویہ بحران بھی تاریخ کے صفحات میں ایک آزمائش کے طورپردرج ہوجائے گا؛لیکن اگر جذبات نے عقل پرغلبہ پالیاتو مشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ بن سکتی ہےجس کی لپٹیں پوری دنیاکے آسمان کوسرخ کر دیں۔

انسانیت کی بقااسی میں ہے کہ دنیاکے رہنما طاقت کے غرورکے بجائے عقل،تدبراورامن کی راہ اختیارکریں، کیونکہ ایک لمحے کی غلطی کبھی کبھی صدیوں کی پشیمانی بن جاتی ہے۔ان تمام امکانات اوراندیشوں کے درمیان انسانیت کے سامنے اصل سوال یہی ہے کہ کیادنیا طاقت کے نشے میں تاریخ کے سب سے بھیانک تجربے کودوبارہ دہرانے کی متحمل ہوسکتی ہے؟اگرعالمی قیادت نے دانش،تدبر اورسفارت کاری کا چراغ روشن نہ رکھا تومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جس کی لپٹیں صرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیر کواپنی گرفت میں لے لیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں