The changing global landscape and Pakistan's test

بدلتی عالمی بساط اورپاکستان کاامتحان

آج میں آپ کی توجہ ایک ایسی بین الاقوامی پیش رفت کی طرف مبذول کراناچاہتاہوں جوبظاہرایک تجارتی معاہدہ ہے،مگردرحقیقت جنوبی ایشیااورعالمی سیاست کے توازن میں ایک معنی خیزتبدیلی کی علامت ہے۔امریکا اورانڈیاکے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ—جس کے تحت انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کوکم کرکے18فیصدکیاگیاہے—محض معاشی رعایت نہیں،بلکہ ایک واضح تزویراتی پیغام ہے۔یہ پیغام چین،روس،اورپورے خطے کیلئےہے،اوراس کے مضمرات پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں۔

امریکااورانڈیاکے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ ایک معاشی رعایت نہیں،بلکہ فورس ملٹی پلائرہے—اورفورس ملٹی پلائرہمیشہ میدانِ جنگ سے پہلے معیشت میں تیارکیے جاتے ہیں۔یہ معاہدہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ امریکااب انڈیاکومحض ایک منڈی نہیں،بلکہ ایک اسٹریٹیجک ستون کے طورپردیکھ رہاہے—بالخصوص خطے میں پاک چین کے بڑھتے ہوئے اثرکے تناظرمیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کسی ایک ریاست کو بیرونی سرپرستی کے ذریعے غیرمعمولی تقویت دی جاتی ہے،توخطے میں عدم توازن جنم لیتاہے۔برصغیر کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ایک ریاست کوبیرونی سرپرستی کے ذریعے غیرمعمولی تقویت ملی،خطے میں عدم استحکام نے جنم لیا۔موجودہ امریکا–انڈیا تجارتی معاہدہ اسی تاریخی تسلسل کی ایک نئی کڑی ہے،جسے محض اقتصادی واقعہ سمجھنا سیاسی سادگی ہوگی۔

عالمی سیاست کے افق پرایک اورمعاہدہ اس شان سے نمودارہواہے کہ گویاالفاظ کم اورمفہوم زیادہ ہیں۔امریکااورانڈیاکے مابین تازہ تجارتی معاہدہ محض دو ریاستوں کے درمیان معاشی ہم آہنگی نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک نیازاویہ ہے۔امریکااورانڈیاکے درمیان تازہ تجارتی معاہدہ،جس کے تحت انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کو کم کرنامحض معاشی پیش رفت نہیں بلکہ عالمی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ایک معنی خیزتبدیلی ہے۔امریکانے انڈیا سے درآمد کی جانے والی اشیاپرعائدٹیرف کوکم کرکے18فیصدکر دیاہے۔یہ اعلان بظاہرمعاشی نوعیت کاہے،مگراس کے باطن میں سیاست،حکمتِ عملی اور طاقت کے کئی دھارے بہہ رہے ہیں۔

انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کو18فیصدتک کم کرناانڈیاکی برآمدی صلاحیت،زرِمبادلہ اورصنعتی بنیادکوتقویت دے گا۔یہ تقویت بالواسطہ طورپردفاعی بجٹ،درمیانی سے طویل مدتی خطرہ،ایمپلی فائر،اورفورس سٹرکچرمیں منتقل ہوگی۔یہ ایک فوری نہیں مگریقینی تبدیلی ہے۔یہ معاہدہ،روس–یوکرین جنگ،چین – امریکامسابقت،اورجنوبی ایشیاکی جغرافیائی حساسیت کے پس منظرمیں غیرمعمولی اہمیت رکھتاہے۔پاکستان،جوجغرافیہ،تاریخ اور سیاست کے سنگم پرکھڑاہے، اس تبدیلی سے غیرمتعلق نہیں رہ سکتا۔ایسے فیصلے براہِ راست نہ سہی،بالواسطہ طورپرخطے کی نبض پراثراندازہوتے ہیں۔

ٹرمپ اورمودی نے اس فیصلے کااعلان سوشل میڈیاکے ذریعے کیا—یہ بھی ہمارے عہدکی ایک علامت ہے کہ اب تاریخ کے فیصلے ایوانوں سے نکل کر ڈیجیٹل دیواروں پرلکھے جارہے ہیں۔ٹرمپ نے’’ٹروتھ سوشل‘‘پرواضح کیاکہ امریکااورانڈیاکے درمیان تجارتی معاہدہ طے پاگیاہے۔امریکاانڈیاکوبتدریج ایک اقتصادی،تزویراتی اورعسکری شراکت دارکے طورپرمضبوط کررہاہے،جس کابنیادی مقصد چین کے اثرکومحدودکرناہے۔اس تناظرمیں انڈیاکی معاشی تقویت،خطے میں طاقت کے عدم توازن کوجنم دے سکتی ہے،جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سلامتی پرمرتب ہوں گے۔ٹیرف میں کمی انڈین برآمدات کیلئےنئی راہیں کھولے گی،جس سے انڈیاکی معاشی قوت میں اضافہ متوقع ہے۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ برصغیرمیں معاشی برتری اکثرعسکری اور سفارتی خوداعتمادی میں بدل جاتی ہے۔پاکستان کواس پہلوسے ہوشیاررہناہوگاکہ معاشی عدم توازن کہیں اسٹریٹیجک عدم توازن میں تبدیل نہ ہو۔

امریکا اس وقت تین محاذوں پربیک وقت سرگرم ہے۔چین کاپھیلتاہوااثر،روس کویوکرین جنگ کے ذریعے محدودکرنا،انڈیاکوایک قابلِ اعتمادعلاقائی ستون بنانا،انڈیاکودی جانے والی تجارتی رعایتیں اسی بڑے فریم ورک کاحصہ ہیں۔یہ اقدام چین کے خلاف کنٹینمنٹ آرکیٹیکچرکاحصہ ہے۔انڈیاکومعاشی طورپر مضبوط کرکے امریکاخطے میں ایک ایساشراکت دارچاہتاہے جوخودلڑے،خودخرچ کرے اور امریکی اسٹریٹیجک اہداف کوسہارادے۔اس تناظرمیں پاکستان بنیادی اتحادی نہیں بلکہ حالات کے ساتھی کے درجے میں رکھاجارہاہے۔ انڈیاکی ممکنہ معاشی مضبوطی کابراہِ راست اثراس کی عسکری خوداعتمادی اورسفارتی جارحیت پرپڑسکتاہے۔پاکستان کیلئے یہ لمحہ جذباتی ردِعمل کانہیں،بلکہ ٹھنڈے دل اورکھلی آنکھ سے جائزہ لینے کاہے۔یادرہے کہ امریکا–انڈیا معاہدہ ایک یاددہانی ہے کہ دنیاتیزی سے بدل رہی ہے۔پاکستان کیلئےراستہ وہی ہے جوتوازن،وقاراوربصیرت سے نکلتا ہو—نہ اندھی وابستگی،نہ غیرضروری محاذ آرائی۔

اس معاہدے کے ساتھ ہی انڈیاپرروسی تیل کی خریداری کے باعث اضافی ٹیرف عائدکیاگیاہے۔یہ اقدام ہمیں یاددلاتاہے کہ عالمی سیاست میں دوستی مستقل نہیں ہوتی—صرف مفادمستقل ہوتاہے۔پاکستان کیلئے اس میں واضح سبق ہے کہ توانائی،تجارت اورخارجہ پالیسی کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھاجاسکتا۔یہ معاہدہ اس امرکی یاددہانی ہے کہ امریکا،انڈیاکومحض ایک تجارتی شراکت دارنہیں بلکہ چین کے مقابل ایک تزویراتی ستون کے طورپردیکھتاہے۔اس تناظر میں پاکستان کیلئےچیلنج یہ ہے کہ وہ خودکو کسی بلاک کی محض توسیع کی بجائے ایک خودمختاراور قابلِ اعتمادریاست کے طورپرپیش کرے۔

اس اعلان کی بازگشت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ گزشتہ برس کے دوران امریکااورانڈیاکے تعلقات کئی نشیب وفرازسے گزرے۔ کبھی قربت کی بات ہوئی ،کبھی فاصلے کی دھمکی۔ایسے میں امریکی سفیرسرجیوگورکایہ کہناکہ’’صدرٹرمپ وزیراعظم مودی کوواقعی ایک اچھادوست سمجھتے ہیں‘‘—محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔اس معاہدے کے تحت انڈیانہ صرف امریکاکے ساتھ اپنی ٹیرف اورنان ٹیرف رکاوٹوں کوکم کرے گابلکہ’بائے امیریکن‘ پالیسی کے تحت امریکی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر خریداری کابھی پابندہوگا۔توانائی، ٹیکنالوجی،زراعت،کوئلہ اوردیگرشعبوں میں500ارب ڈالرسے زائد کی خریداری کاعندیہ دراصل امریکی معیشت کیلئےایک تازہ خون ہے۔

انڈیاکی برآمدی معیشت میں اضافے سے دفاعی اخراجات بڑھنے کاامکان،امریکا–انڈیا قربت کے باعث پاکستان پرسفارتی دباؤمیں اضافہ ،خطے میں عسکری بیانیے کی نئی تشکیل،جس میں پاکستان کومحتاط کرداراداکرناہوگا۔انڈیا اس معاہدے کوعالمی سطح پراپنی قبولیت، اہمیت اورداخلی سطح پرمعاشی کامیابی کے طورپر پیش کرے گا۔اس کے نتیجے میں عسکری خوداعتمادی میں اضافہ،خطے میں زیادہ جارحانہ پالیسی اورپاکستان کے خلاف بیانیے میں سختی کاامکان موجودہے۔علاوہ ازیں انڈیاپرروسی تیل کے باعث اضافی ٹیرف یہ واضح پیغام ہے کہ اسٹریٹیجک خودمختاری کی حدوہیں ختم ہوجاتی ہے جہاں امریکی مفادشروع ہوتاہے۔

پاکستان کیلئےسبق واضح ہے کہ توانائی،سپلائی چین اوردفاعی وابستگیوں میں فالتوپن اورتنوع ناگزیرہے۔اسی دوران ایک اورفیصلہ سامنے آیاجواس معاہدے کے مزاج کوسمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتاہے۔امریکانے روس سے انڈیاکی تیل کی خریداری پر25فیصد اضافی ٹیرف عائد کردیا،جس کے بعدیہ مجموعی طورپر 50فیصدتک جاپہنچا یہ اقدام بظاہرمعاشی دباؤہے،مگردرحقیقت یوکرین جنگ کے تناظرمیں روس کوتنہا کرنے کی کوشش کاایک نیا باب ہے۔

انڈیاپرروسی تیل کے باعث عائداضافی ٹیرف دراصل واشنگٹن کایہ پیغام تھاکہ اب دوستی بھی شرائط کے ساتھ ہوگی۔ پاکستان کیلئےاس میں یہ سبق مضمرہے کہ خارجہ پالیسی میں توانائی،تجارت اورسیاست کوایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پاک–بھارت کشیدگی کے دوران بعض مغربی بیانیے دفاعی منڈی کی سیاست سے جڑے رہے۔یہ صورتحال پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ہے کہ وہ خودکومحض عسکری طاقت کے طورپر نہیں،بلکہ علاقائی استحکام کے ذمہ دارفریق کے طورپرپیش کرے۔

ماضی قریب میں انڈین فضائی ناکامیوں کامغربی بیانیہ محض عسکری تجزیہ نہیں تھا—یہ اسلحہ سازی کی عالمی منڈی میں امریکی اسلحہ کی برتری کاپیغام بھی تھاجس سےفرانسیسی پلیٹ فارمزکی ساکھ کمزورہوئی،امریکی سسٹمزکو متبادل کے طورپرپیش کیاگیاجبکہ پاکستانی عسکری فتح میں امریکی اسلحہ کاکوئی حصہ نہیں تھابلکہ پاک چین کی نئی عسکری دانش کاکمال تھا۔

جبکہ دوسری طرف انڈیاآئندہ دفاعی حصول میں زیادہ امریکی انحصارکی طرف جائے گا،جس سے انٹرآپریبلٹی بڑھے گی،انٹیلی جنس شئیرنگ بڑھے گی اور پاکستان کے خلاف نیٹ ورک میں مددملے گی۔اب یہ واضح ہوگیاہے کہ پاکستان کا اصل چیلنج صرف انڈیاہی نہیں بلکہ بدلتی عالمی ترجیحات میں اپنی افادیت کو برقراررکھناہے۔صرف سلامتی کے دلائل اب کافی نہیں؛معاشی،سفارتی اورتکنیکی وزن ناگزیرہوچکاہے۔ان حالات میں جہاں پاکستان کیلئےچین کے ساتھ اسٹریٹیجک ہم آہنگی کومزیدگہرائی دینے کاموقع ضروری ہوگیاہے وہاں غیرجانبداراور متوازن سفارت کاری کے ذریعے امریکااوریورپ میں اعتمادسازی، علاقائی استحکام کے داعی کے طورپرپاکستان کے کردارکواجاگر کرنے کاامکان بھی میسرآگیاہے۔

پاک–بھارت کشیدگی کے دوران انڈین طیاروں اورمغربی اسلحے کی کارکردگی پرامریکی بیانیہ دراصل دفاعی منڈی کی سیاست تھی۔ پاکستان کیلئےیہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت اورعسکری تجربے کومحض طاقت نہیں بلکہ توازن کی علامت کے طور پردنیاکے سامنے رکھے ۔ٹرمپ نے خوداس فیصلے کے پس منظرپرروشنی ڈالتے ہوئے لکھاکہ مودی سے بات کرناان کیلئےاعزازکی بات تھی۔انہوں نے مودی کوایک طاقتور اور قابلِ احترام رہنماقراردیااور یہ بھی واضح کیاکہ بات چیت میں تجارت کے ساتھ ساتھ روس–یوکرین جنگ کے خاتمے پربھی گفتگوہوئی۔

امریکا–انڈیاقربت خودبخودچین–پاکستان اسٹریٹیجک ہم آہنگی کوگہراکرتی ہے تاہم دانش مندی کاتقاضاہے کہ یہ تعلق محض ردِعمل پر نہیں بلکہ طویل المدت مفادپرقائم ہومگرعالمی سطح پر’’ایک بلاک کے حصہ‘‘کےتاثر سے بچا جائے وگرنہ علاقائی خودمختاری کم ہو جائے گی۔پاکستان کوچین کے ساتھ معاشی،تکنیکی اورسفارتی تعاون کوایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی میں ڈھالناہوگا۔چین پاکستان کافطری اسٹریٹیجک شراکت دارہے،مگراس تعلق کو محض عسکری سطح تک محدودنہ رکھاجائے بلکہ معاشی خودانحصاری کے منصوبوں سے جوڑاجائے۔ چین کے ساتھ تعلقات میں احتیاط اورتوازن برقراررکھاجائے اورآنے والے وقت میں خطے میں پاکستان چین کامحور ہونے جا رہاہے جس کیلئے ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے۔چین کے ساتھ ہماری شراکت داری ہماری تزویراتی حقیقت ہے،مگراس تعلق کو ردِعمل کی بنیادپرنہیں بلکہ طویل المدت قومی مفادکی بنیاد پرآگے بڑھاناہو گا ۔چین کے ساتھ تعاون میں معاشی خودانحصاری،ٹیکنالوجی اورعلاقائی رابطہ کاری کومرکزی حیثیت دیناناگزیرہے۔

اسی گفتگوکے نتیجے میں انڈیانے روسی تیل کی خریداری روکنے اورمتبادل کے طورپروینزویلاسے مزیدتیل لینے پرآمادگی ظاہرکی۔ امریکی صدرکے بقول،یہ فیصلہ یوکرین میں جاری خونریزی کوروکنے میں مدددے سکتاہے، جہاں ہرہفتے ہزاروں زندگیاں مٹ رہی ہیں۔ یوں ایک تجارتی معاہدہ اخلاقی جوازکے لبادے میں پیش کیاگیا۔جس کیلئے ضروری ہوگیاہے کہ ہم فوری طورپران اقدامات کی طرف توجہ دیں:
اسی کے ساتھ،امریکاکے ساتھ ہمارے تعلقات کوبھی ازسرِنومتوازن بنیادوں پراستوارکرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں دفاعی بیانیے سے آگے بڑھ کر تجارت ، سرمایہ کاری اورعلاقائی استحکام کے نکات کومرکزِگفتگوبناناہوگا۔امریکاکے ساتھ روابط کی ازسرِنوتشکیل،خارجہ،دفاع اورمعیشت پرمشتمل مشترکہ قومی حکمتِ عملی،امریکاکے ساتھ بامقصدمگرخوددارسفارتی مکالمہ،دفاع کے ساتھ تجارت اورسرمایہ کاری کومرکزی حیثیت دینی ہوگی۔پاکستان کوامریکاکے ساتھ تعلقات میں انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے سے آگے بڑھ کرمعاشی شراکت داری کی بات کرناہوگی اورسفارت کاری کوادارہ جاتی بنیادوں پراستوارکرناہو گا۔دوسری طرف چین کے ساتھ تعاون میں معاشی اور تکنیکی پہلوکوترجیح دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئےفعال سفارت کاری کافوری آغازکرناہوگا۔

اسی تناظرمیں ایران کے گردبڑھتے ہوئے جنگی خطرات میں بظاہرکمی کے اشارے دیے جارہے ہیں۔سفارتی زبان میں یہ عندیہ دیاجارہا ہے کہ معاملہ تصادم کے بجائے گفت وشنیدسے حل کیاجائے گا۔یہ تبدیلی یاتو ایرانی حکومت کوبدلنے کی ناکام کوششوں کے بعدامریکی پسپائی کی علامت ہے،یاپھرمشرقِ وسطیٰ میں عرب ممالک، بالخصوص سعودی عرب،کی طرف سے ایرانی صدرکواپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کا نتیجہ۔

ایران اورمشرقِ وسطیٰ کے حوالے ایران پروقتی سفارتی نرمی،خطے میں آپریشنل اسپیس پیداکرتی ہے۔ایران کے حوالے سے امریکی سفارتی نرمی خطے میں ایک عارضی سکون کاعندیہ ہے۔پاکستان،جوایران،عرب دنیا اورمغرب تینوں سے تعلقات رکھتاہے،اس مرحلے پرپل کاکرداراداکرسکتاہے—بشرطیکہ اس کی سفارت کاری فعال اورمتوازن ہو۔اسٹریٹیجک اسپیس کےاس زریں موقع کومغربی سرحدپر دباؤکم کرنےتوانائی اورلاجسٹکس کے متبادل راستے محفوظ کرنے کیلئے استعمال کرے۔یہ اسپیس عارضی ہے—اسے استعمال کرناہو گا۔

یہ معاہدہ پاکستان کیلئےایک آئینہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں وہی ملک سناجاتاہے جومعاشی طورپرقابلِ اعتبارہو۔محض جغرافیائی اہمیت اب کافی نہیں۔ پاکستان کواپنی تجارت، برآمدات اورسرمایہ کاری کے ماحول کوقومی سلامتی کے تناظرمیں دیکھناہوگا۔پاکستان کیلئےیہ مرحلہ ردِعمل کانہیں بلکہ دوراندیش فیصلوں کاتقاضاکرتاہے۔قومی سلامتی کااصل تقاضا یہی ہے کہ طاقت کوحکمت کے تابع رکھاجائے،نہ کہ حکمت کوطاقت کے تابع۔ایران کے حوالے سے امریکی لچک پاکستان کیلئےایک موقع ہے کہ وہ علاقائی رابطہ کاری کوفروغ دے،توانائی اورتجارت کے منصوبوں میں توازن پیداکرے،خودکوایک ذمہ دار ثالث کے طورپرمنوائے۔ایران اورمشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے حالیہ سفارتی اشارے پاکستان کیلئےایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ ایک پل کاکردار ادا
کرے—نہ محاذ آرائی،نہ لاتعلقی، بلکہ ذمہ دار ثالثی۔

اس تناظرمیں ہماری ترجیحات واضح ہونی چاہئیں:
کوالٹیٹیوایج،الیکٹرانک وارفیئر،آئی ایس آراورملٹی ڈومین ڈیٹرنس صرف روایتی نہیں بلکہ فضائی اورمیزائل دفاع میں اعلیٰ اوربرتری کی مثال ہوناضروری ہیں کیونکہ بیانیے کی جنگ میں خاموشی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اوراس کاعملی اظہارانتہائی ضروری ہے جو گاہے بگاہے اپنے تجربات کی روشنی میں دنیاکوآگاہ کرنا ایک بہترین پالیسی ہے۔

سب سے اہم نکتہ داخلی استحکام بطورتزویراتی ضرورت بن چکاہے۔کوئی بھی خارجہ یادفاعی حکمتِ عملی اس وقت تک بارآورنہیں ہو سکتی جب تک معیشت مستحکم نہ ہو،سیاسی ہم آہنگی موجودنہ ہو،ریاستی بیانیہ واضح اور متفقہ نہ ہو۔یہ نکات قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں پرنہیں بنتی—یہ معیشت،سیاست اورسفارت کے باہمی توازن سے وجودمیں آتی ہے۔داخلی استحکام،سیاسی ہم آہنگی اورواضح قومی بیانیہ ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔

مودی کایہ کہناکہ’’جب دنیاکی دوبڑی معیشتیں اورسب سے بڑی جمہوریتیں مل کرکام کرتی ہیں تواس سے باہمی فائدے کے بے شمار مواقع پیداہوتے ہیں‘‘—درحقیقت عالمی سیاست میں انڈیاکی اس خواہش کی عکاسی ہے کہ وہ خودکوامریکاکے برابرکاشراکت دارثابت کرے،نہ کہ محض ایک علاقائی طاقت۔انڈیااس معاہدے کواپنی عالمی ساکھ کے طورپرپیش کرے گا۔پاکستان کیلئےضروری ہے کہ وہ دفاعی یاجذباتی ردِعمل کی بجائے ایک سنجیدہ، مدلل اورمہذب بیانیہ تشکیل دے—ایسابیانیہ جواسے خطے میں استحکام کی علامت بنائے۔جس کیلئے ضروری ہے کہ نیشنل اسٹریٹیجک کونسل کافعال کردار،خارجہ ومعاشی پالیسی کاباہمی انضمام،دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی لچک عالمی بیانیے میں پاکستان کو’’استحکام کی ریاست‘‘کے طورپر پیش کرناہے۔

تاہم اس پوری پیش رفت کواگرگہرائی سے دیکھاجائے تویہ محض دوستی کی کہانی نہیں بلکہ ایک نوراکشتی بھی ہے۔ابتدا ہی میں اس اقدام کوایک سیاسی چال قرار دیاگیاتھا،جودرست ثابت ہوتی نظرآرہی ہے۔امریکاایک طرف پاک–بھارت کشیدگی میں انڈین طیاروں کی تباہی کاذکردہراکرخطے میں بیانیہ بناتارہا،اور دوسری طرف فرانسیسی رافیل طیاروں کی مایوس کن کارکردگی کواجاگرکرکے امریکی اسلحے کی منڈی گرم کرتارہا۔

یادرہے کہ کوئی بھی تزویراتی فائدہ اس وقت تک پائیدارنہیں ہوتاجب تک داخلی سیاسی اورمعاشی استحکام میسرنہ ہو۔پاکستان کیلئےسب سے بڑاسبق یہی ہے کہ خارجہ کامیابیاں اندرونی کمزوریوں کی تلافی نہیں کرسکتیں۔داخلی استحکام بطورقومی طاقت کااظہارہوتاہے۔

اس بدلتی بساط میں روس ایک بارپھرشش وپنج میں ہے۔یوکرین کے معاملے پریاتواسے مزیدخاموشی اختیارکرناہوگی،یاپھرانڈیاکے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات پرنظرِثانی کرناپڑے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ روس اورانڈیاکے تعلقات جذبات سے زیادہ مفادات پرقائم رہے ہیں۔یہ معاہدہ نہ صرف امریکااورانڈیاکے درمیان تجارت کاباب ہے بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی ایک نئی تحریرہے۔اگریہ کہا جائے توعین درست ہوگاکہ سیاست کے فیصلے وہ نہیں ہوتے جوکہے جائیں،بلکہ وہ ہوتے ہیں جوسمجھے جائیں۔یہ فیصلہ بھی اسی قبیل سے ہے—ظاہرمیں تجارت،باطن میں حکمتِ عملی؛الفاظ میں دوستی،حقیقت میں مفاد۔

یہ مرحلہ ردِعمل کانہیں،پیشگی ہم آہنگی/ پیشگی معیاربندی کامرحلہ ہے۔اگرہم نے اس معاہدے کوصرف خبرسمجھا،توہم دیرسے جاگیں گے۔اوراگرہم نے اسے اسٹریٹیجک سگنل سمجھا،توہم اگلا قدم خودطے کریں گے۔یہی فرق ہے ری ایکٹوفورس اوراسٹریٹیجک اسٹیٹ میں۔میںیہ وقت جذباتی نعروں کانہیں،یہ وقت شکایت کانہیں،حکمت وتدبرکاہے۔یہ لمحہ شورکانہیں،یہ لمحہ توازن اورتاریخ سے سیکھنے کاہے،شعورکاہے۔اگر پاکستان نے تاریخ کے اس موڑپرخود کو سمجھ لیا،تویہی بدلتی دنیااس کیلئےموقع بن سکتی ہے۔اس مرحلے پردرست زاویے سے دنیاکودیکھاتوبدلتی بساط پروہ محض مہرہ نہیں رہے گا—بلکہ ایک باوقار کھلاڑی کے طورپر پہچاناجائے گا—اگرہم نے بدلتی دنیاکوسمجھ کرفیصلے کیے،توپاکستان اس نئی عالمی بساط پرمحض ایک تماشائی نہیں رہے گا،بلکہ ایک باوقاراور مؤثرکردارادا کرے گا۔اوراگرنہ سمجھا،تویہی معاہدے محض دوسروں کی ترقی کی داستان رہ جائیں گے۔اللہ ہمیں درست فیصلوں کی توفیق عطافرمائے ۔ اللھم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں