تاریخ کے اوراق میں بعض حادثات محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ زمانے کی تقدیرکارخ موڑنے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنی سانسیں روک کرکسی بڑے حادثے یاکسی غیرمعمولی تبدیلی کاانتظار کرتا محسوس ہوتاہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جومحض ایک سانحہ نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک نئے موڑکی علامت بن جاتے ہیں۔تاریخ کی کتاب میں بعض ابواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتاہے کہ زمانہ ایک نئے موڑپرکھڑاہے۔
حالیہ بحران بھی اسی قبیل کاایک لرزہ خیزباب ہے جسے ایران کے رہبرِاعلیٰ سیدعلی خامنہ ای کی شہادت اوراس کے بعدپیداہونے والی کشیدگی کےتناظرمیں دیکھا جارہاہے۔امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتا ہوادباؤگویاایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ بن گیاجس نے پورے خطے کواضطراب میں مبتلاکردیا ۔گویایہ بحران بھی اسی نوعیت کاایک لمحہ معلوم ہوتاہے،جسے بعض حلقوں نے ایران کے رہبرِاعلیٰ سیدعلی خامنہ ای کے مبینہ قتل اورایران کے خلاف بڑھتی ہوئی امریکی واسرائیلی جارحیت کے تناظرمیں دیکھا،اسی نوعیت کاایک لرزہ خیزباب معلوم ہوتاہے۔
ایران کے رہبرِاعلیٰ سیدعلی خامنہ ای کے قتل کی خبراوراس کے بعدایران کے خلاف امریکااوراسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی نے خطے کوایک ایسے دہانے پرلاکھڑاکیاجہاں سے جنگ کے شعلے پورے عالم کواپنی لپیٹ میں لے سکتےتھے۔حالیہ بحران بھی اسی نوعیت کاایک باب معلوم ہوتاہے۔سیدعلی خامنہ ای کی شہادت کے بعدجو سیاسی وعسکری ہلچل پیداہوئی اس نے مشرقِ وسطیٰ کے افق پرخطرے کے سیاہ بادل جمع کردیے۔اس واقعے نے خطے کوایسی آتش فشانی کیفیت کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے جس کی تپش شایدآنے والی نسلیں بھی محسوس کریں۔
یہ واقعہ محض ایک شخص کی شہادت نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی بھونچال کی علامت تھاجس نے خطے کی تزویراتی بساط کوہلاکر رکھ دیا۔سیاسی افق پرپھیلی ہوئی یہ غیریقینی کیفیت محض حادثاتی نہیں لگتی؛اس کے پس منظرمیں ایک ایساشطرنجی منصوبہ کارفرما دکھائی دیتاہے جس کامقصدایران کے دفاعی حصارکواندرسے کمزورکرناتھا۔اس سانحے کے بعدپیداہونے والی غیریقینی فضاکسی اچانک حادثے کانتیجہ نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک ایسے پیچیدہ منصوبے کی جھلک پیش کرتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی حصارکواندر سے کمزورکرناتھا۔
اس کےبعدپیداہونے والی بے یقینی دراصل ایک ایسے منصوبے کی ابتدامعلوم ہوتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی نظام کواندرسے کمزورکرنااوراسے سیاسی وعسکری انتشارمیں مبتلاکرناتھا۔امریکااوراسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف بڑھتاہوادباؤاس حقیقت کا پتہ دیتاہے کہ خطے میں طاقت کی بساط پرایک نئی بازی کھیلی جارہی تھی۔اس واقعےکےبعد پیداہونے والی بے یقینی محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے منصوبے کی ابتدادکھائی دیتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی حصارکو اندرسےکمزورکرنااوراسے سیاسی انتشار میں مبتلاکرناتھا۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ عالمی سیاست کے پردوں کے پیچھے ایک ایسی بساط بچھائی جاچکی تھی جس پرمہرے آہستہ آہستہ اپنی جگہ سنبھال رہے تھے۔اس حقیقت کی جھلک اس بیان میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جوروسی صدرولادی میرپیوٹن نے کچھ عرصہ قبل عالمی برادری کے سامنے پیش کیاتھا—ایک ایسابیان جس کی گونج سفارتی ایوانوں میں دورتک سنائی دی۔اس منظرنامے کے پس منظرمیں روسی صدرکاوہ انتباہ خاص اہمیت اختیارکرجاتاہے جوانہوں نے عالمی برادری کے سامنے واضح طور پربڑی صراحت سے پیش کیاتھاکہ افغانستان کی سرزمین ایک بارپھردہشتگردی کی نرسری بنتی جارہی ہےجہاں افغان سرزمین کوایک بارپھر خطرناک عسکری کھیل کامیدان بنائے جانے کاامکان ہے۔ان کے بقول وہاں پچیس ہزارسے زائدتربیت یافتہ جنگجو جمع کئے جا رہے ہیں،جن میں بڑی تعداد اسلامک اسٹیٹ-صوبہ خراسان کے عسکریت پسندوں کی ہے،جو شام اورعراق کے میدانوں میں خون آشام تجربات سے گزرچکے ہیں۔
اس پس منظرمیں روسی صدرکاوہ انتباہ غیرمعمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جمع ہونے والی شدت پسند قوتوں کی طرف دنیاکی توجہ مبذول کرواتے ہوئے خبردارکیاتھاکہ افغانستان کوایک بار پھربڑی طاقتوں کے تصادم کامیدان بنایاجارہاتھا ۔پیوٹن کے الفاظ گویاایک نئے“گریٹ گیم ” کی دستک تھے—وہ کھیل جس میں طاقتیں مہرے بدلتی ہیں مگرہدف وہی رہتاہے۔پیوٹن کے اس بیان کوکئی مبصرین نے ایک ایسے نئے عالمی کھیل کی جھلک قراردیاجس میں افغانستان کوایک بارپھر بڑی طاقتوں کے تصادم کا میدان بنانے کی تیاری ہورہی تھی۔
پیوٹن کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہردوڑادی کیونکہ اس سے ظاہرہوتاتھاکہ افغانستان کوایک بارپھرعالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنایاجارہاہے۔خطے کی جغرافیائی سیاست کوازسرِنوترتیب دینا۔اس تناظرمیں ایران کوکمزورکرنااورپاکستان کودباؤمیں لاناایک وسیع ترحکمتِ عملی کاحصہ دکھائی دیتاہے۔
اس عالمی شطرنج کے کھیل میں ایک اوراہم موڑاُس وقت آیاجب ایران پردبا ؤکے بڑھتے ہوئے بادلوں کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کااسرائیل کادورہ سامنے آیا۔یہ داستان اُس وقت مزید معنی اورسنسنی خیزرخ اختیارکرتی ہے جب ایران پردباؤکے بڑھتے بادلوں سے محض دودن قبل مودی کااسرائیل میں غیرمعمولی استقبال سامنے آتاہے۔اسرائیلی پارلیمنٹ میں ان کی تقریراوروہاں ہونے والی ملاقاتوں کوبعض دفاعی حلقوں نے محض سفارتی سرگرمی قرار دینےسے انکارکیا۔ان کے مطابق اس دورے میں خطے کی وسیع تر تزویراتی صورت حال پرتفصیلی مشاورت ہوئی جس میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پربھی بات چیت ہوئی۔
اسرائیلی پارلیمان میں ان کی تقریرنے سفارتی فضامیں ایسی سرگوشیاں جنم دیں جنہیں بعض دفاعی مبصرین محض رسمی آداب نہیں سمجھتے۔دفاعی جریدوں اورخفیہ رپورٹوں کے مطابق اس دورے میں“آپریشنل کوآرڈینیشن ”کے خدوخال زیرِ بحث آئے۔مبصرین کاخیال ہے کہ اس حکمتِ عملی کے تحت افغانستان کوایک ایسے مرکزمیں ڈھالنے کی کوشش کی گئی جہاں سے ایران کے خلاف دباؤبڑھایاجا سکے۔اس کھیل میں اقتصادی مفادات،سی پیک جیسے منصوبوں کونقصان پہنچانے کی خواہش اورعلاقائی اثرورسوخ کی کشمکش سب ایک دوسرے میں پیوست نظرآتے ہیں۔
اس منظرنامے میں امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درمیان ایک ایسی ہم آہنگی کی جھلک دکھائی دی جس کامقصدخطے میں اپنے سیاسی وعسکری مفادات کومستحکم کرناتھا۔اس تناظرمیں یہ تاثرپیدا ہواکہ امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درمیان ایک ایسا تعاون فروغ پارہاہے جس کامقصد خطے میں اپنے سیاسی اورعسکری مفادات ک مضبوط بناناہے۔ان حلقوں کے مطابق امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درمیان ایسی حکمتِ عملی زیرِ غورتھی جس کے تحت افغانستان کوایک ایسے مرکز میں تبدیل کیاجائے جہاں سے ایران کے خلاف دباؤبڑھایاجاسکے۔اس منصوبے میں اقتصادی مفادات،خطے میں اثرورسوخ کی جنگ اور چین کے تعاون سے بننے والے منصوبوں خصوصاًسی پیک کوکمزورکرنے کی کوششیں بھی شامل سمجھی جاتی ہیں۔
عالمی سیاست کی تاریخ اس امرکی شاہدہے کہ جب بڑی طاقتیں کسی ریاست میں تبدیلیِ حکومت کاارادہ کرتی ہیں تووہ عموماًداخلی شورش کوہوادیتی ہیں۔تاریخ کے اوراق پرنگاہ دوڑائی جائے توایک تلخ حقیقت باربار سامنے آتی ہے:جب بڑی طاقتیں کسی ملک میں “رجیم چینج”کاارادہ کرتی ہیں تووہ میدان میں ایسی قوتیں تلاش کرتی ہیں جواندرونی خونریزی کے ذریعے ریاستی ڈھانچے کوکمزور کرسکیں۔عالمی سیاست کے تجربات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جب بڑی طاقتیں کسی ملک میں تبدیلیِ حکومت کاارادہ کرتی ہیں تووہ براہِ راست مداخلت سے پہلے داخلی انتشارپیداکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں امریکاکے زیرِاثردنیاکے مختلف خطوں میں ایسے درجنوں واقعات رونماہوچکے ہیں جہاں مقامی یاغیرریاستی گروہوں کواستعمال کر کے سیاسی نظام کوعدم استحکام سے دوچارکیاگیا۔اسی طرزِعمل کی مثالیں لیبیا ،شام اورعراق میں دیکھی گئیں جہاں شدت پسندگروہوں نے اسی نوعیت کاپیچیدہ کردارادا کیاتھا۔ایران کے معاملے میں مسئلہ یہ تھاکہ داخلی سطح پرایسی کوئی طاقت موجودنہ تھی جوپاسدارانِ انقلاب کامقابلہ کرسکے ۔ ماضی میں مریم رجوی اوررضا پہلوی جیسے ناموں کے ذریعے سیاسی دباؤبڑھانے کی کوششیں بھی خاطرخواہ نتائج نہ دے سکیں۔اسی وجہ سے بیرونی عناصرنے ایسے بیرونی جنگجوؤں عناصرکو استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جوبیرونی میدانوں میں لڑائی کاتجربہ رکھتے تھے۔
اسی تناظرمیں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ شام اورعراق کے میدانوں سے بچے کھچے سرگرم شدت پسند گروہوں کے ہزاروں جنگجوؤں کوافغانستان منتقل کیاگیا۔ان کے بارے میں کہاگیا کہ انہیں ہرات اورمشہدکے راستوں سے ایران میں داخل ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔منصوبہ یہ تھاکہ ایران کے متعددصوبوں میں بیک وقت شورش پیداکی جائے تاکہ ایرانی فوج اورسیکورٹی ادارے داخلی بحران میں الجھ جائیں۔اس سیاسی افراتفری کے دوران بیرونی طاقتوں کوایران کی سیاسی سمت پراثراندازہونے کاموقع مل سکتاتھااوربعد ازاں سیاسی مداخلت کادروازہ کھل سکتاتھا۔جب ایک ریاست اندرونی انتشارمیں گرفتار ہوجاتی ہے توبیرونی طاقتوں کیلئےاس کے معاملات میں مداخلت کرناآسان ہوجاتاہے۔جدید مواصلاتی آلات اورخفیہ راستوں کے استعمال کی اطلاعات بھی اسی منصوبے کاحصہ بتائی گئیں اورگوریلاطرزکی کارروائیوں کامنصوبہ بھی شامل بتایاگیا۔
بعض مبصرین کے نزدیک ان تمام خطرات کے بیچ پاکستان کاکردار ایک فیصلہ کن عنصرکے طورپرسامنے آیاکہ اگرسرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں نہ ہوتیں توصورتِ حال کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتی تھی۔ایسے نازک مرحلے پرپاکستان کاکردارنہایت اہمیت اختیارکرگیا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحدہزاروں کلومیٹر پرپھیلی ہوئی ہے اوراس کے بیشتر علاقے دشوارگزار پہاڑی سلسلوں پرمشتمل ہیں۔جہاں سے دراندازی کے امکانات ہمیشہ موجودرہتے ہیں۔پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ان اطلاعات کے بعد سرحدی علاقوں میں سخت کارروائیاں کیں اورشدت پسندعناصرکے ٹھکانوں کونشانہ بنایااوران کے نقل وحرکت کے راستوں کومحدود کردیاگیا۔
اس تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کوایک ایسی رکاوٹ کے طورپرپیش کیاجاتاہے جس نے ممکنہ دراندازی کے راستوں کومحدودکر دیا۔دوسری جانب امریکی سیاست میں اس بحران کے حوالے سے بیانات بھی سامنے آئے جن میں ٹرمپ کی سخت زبان اورایران میں عوامی احتجاج کی اپیلیں شامل تھیں۔ اگریہ کارروائیاں نہ ہوتیں توافغانستان میں موجودہزاروں جنگجو ایران اورپاکستان دونوں کی سرزمین میں داخل ہوکروسیع پیمانے پر خونریزی کاباعث بن سکتے تھے۔ اس طرح پاکستان ایک ایسی رکاوٹ بن کرابھراجس نے اس ممکنہ بحران کوپھیلنے سے روک دیا۔
سرحدی علاقوں میں سرگرم عسکری گروہوں کی فہرست بھی کم ہولناک نہیں بتائی جاتی۔ مبصرین کے مطابق ان میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں سرگرم عسکری گروہوں میں اسلامک اسٹیٹ صوبہ خراسان کے علاوہ دیگرشدت پسند تنظیموں کےدھڑے بھی شامل بتائےجاتے ہیں جوجوزجان،ننگرہار،کنڑ اور خوست کے علاقوں میں موجودتھے۔بعض رپورٹس یہ دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان میں کارروائیوں سے منسلک گروہوں کو افغانستان کے بعض علاقوں میں پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ان گروہوں کا ہدف نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی عدم استحکام پیداکرنا بتایا جاتاہے۔اطلاعات کے مطابق ان عناصرکونہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی دہشتگردی پھیلانے کاٹاسک دیاگیاتھا۔
اس صورتِ حال میں پاکستان کیلئے یہ محض ہمسایہ ملک کی مددکامعاملہ نہیں بلکہ اپنی داخلی سلامتی کابھی سوال تھا۔یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی،انٹیلی جنس تعاون اورعسکری کارروائیوں کے ذریعے اس ممکنہ خطرے کومحدود کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی دوران ایک اورمحاذبھی زیرِبحث آیا:کرد مسلح گروہوں کی ممکنہ نقل وحرکت۔ بعض اطلاعات کے مطابق ترکی اورعراق کے سرحدی خطوں سے ایسے جنگجوؤں کوایران میں داخل کرانے کی کوششوں کوروکنے میں علاقائی تعاون نے اہم کرداراداکیا۔اس صورتِ حال میں پاکستان اورترکی دونوں کے اقدامات کوبعض تجزیہ نگارخطے میں استحکام کی کوشش قراردیتے ہیں ۔ بعض اطلاعات کے مطابق علاقائی تعاون اورخفیہ معلومات کے تبادلے کے باعث ان منصوبوں ک ناکام بنایاگیا۔اس سلسلے میں پاکستان اورترکی کے اقدامات کو خطے میں استحکام کیلئےاہم قراردیاگیا۔اس پورے منظرنامے میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجودغیر ریاستی عناصرایک ایسابارودی ذخیرہ بن چکے ہیں جوکسی بھی لمحے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاویے سے دیکھاجائے توواضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاایک نہایت حساس دورسے گزررہے ہیں۔ایسے حالات میں کسی ایک واقعے کادائرہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتابلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ایک چھوٹاساواقعہ بھی بڑی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتاتھا۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرافغانستان میں موجودشدت پسند عناصرایران میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے توصورت حال ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیارکرسکتی تھی جس میں عالمی طاقتیں بھی ملوث ہوجاتیں۔
یوں کہاجا سکتاہے کہ اس پیچیدہ اورخطرناک صورت حال میں پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اور علاقائی تعاون نے ایک ایسے بحران کوپھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیاجو باآسانی وسیع جنگ کاسبب بن سکتاتھا۔ اس پس منظرمیں بعض مبصرین پاکستان کوخطے میں استحکام کاایک اہم ستون قراردیتے ہیں جس نے نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ ہمسایہ ممالک کے امن کیلئے بھی کردار اداکیا۔بعض مبصرین کے نزدیک یہ وہ لمحہ تھاجب پاکستان نے محض اپنی سرحدوں کانہیں بلکہ پورے خطے کے امن کادفاع کیا۔
تاریخ کے تناظرمیں دیکھاجائے توایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کسی ریاست کا ایک فیصلہ پورے خطے کے مستقبل پراثراندازہو۔اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے توممکن تھا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آجاتاجس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوتے۔اس پس منظرمیں پاکستان کے اقدامات کوبعض حلقے خطے کے استحکام کی ایک اہم کوشش قراردیتے ہیں۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاویے سے دیکھاجائے توحاصلِ کلام یہ معلوم ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاایک ایسے تاریخی موڑپر ھڑے ہیں جہاں چھوٹے سے اقدام کے بھی عالمی اثرات مرتب ہو کتے ہیں۔ وں محسوس ہوتا ے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست ایک نئے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں طاقت،مفاد اورنظریات کی کشمکش نے پیچیدہ صورت اختیارکرلی ہے۔اگر اس پورے بحران کوایک تمثیل میں سمیٹاجائے تویوں کہاجا سکتاہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرمہرے توبہت ہیں،مگر اصل بازی وہی جیتتاہے جوصبر،بصیرت اورتدبرکے ساتھ اپنے قدم بڑھاتاہے۔بعض مبصرین کے نزدیک حالیہ واقعات نے یہ تاثر ضرورپیداکیاہے کہ علاقائی تعاون نے ایک ممکنہ بڑے بحران کوٹالنے میں کرداراداکیا—اوراگرایساہے تویہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کیلئےایک اہم موڑبھی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات نے ایک ایسے بحران کوپھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیا جو باآسانی ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا تھا۔یوں کہاجاسکتاہے کہ عالمی سیاست کی اس پرپیچ بساط پرپاکستان نے کم ازکم اس مرحلے پرایک ایسا کرداراداکیاجس نے خطے کومزیدبڑے تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنے میں مدددی۔یہی وہ لمحہ ہے جب تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ رقم کرتی ہے اور آنے والی نسلیں اس کے اثرات کوسمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاریخ کایہ باب ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرکبھی کبھی ایک ریاست کابروقت اوردانشمندانہ اقدام پورے خطے کی تقدیر بدل دیتاہے۔اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے توممکن تھاکہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتاجس کے اثرات پوری دنیاپرمرتب ہوتے۔ایسے میں پاکستان کے اقدامات کوبعض مبصرین ایک ایسے حفاظتی حصارکے طورپردیکھتے ہیں جس نے اس ممکنہ بحران کومحدود رکھنے میں مدددی۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ عالمی سیاست کے اس پرپیچ دورمیں طاقت کے کھیل کے ساتھ ساتھ حکمت،تدبراوربروقت اقدام بھی اہم کردارادا کرتے ہیں۔اگر خطے میں بعض ریاستیں بروقت فیصلے نہ کرتیں توممکن تھاکہ یہ بحران ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہوجاتا۔اس حقیقت نے ایک بارپھریہ ثابت کردیا کہ کبھی کبھی تاریخ کےدھارے کوموڑنے کیلئےایک مضبوط اوردوراندیش فیصلہ ہی کافی ہوتاہے۔





