From tension to contemplation

کشیدگی سے تدبر تک

سرحدیں کبھی صرف نقشے پرکھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتیں؛وہ تاریخ کے اوراق پرثبت وہ نشانات ہوتی ہیں جن کے پیچھے نسلوں کی ہجرتیں،تہذیبوں کی آمیزشیں اورخون وآہن کی کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔پاک۔افغان خطہ بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے جہاں پہاڑخاموش نہیں،بلکہ عہدوں اورعہدشکنیوں کے گواہ ہیں؛جہاں ہوامیں صرف گردنہیں اڑتی،بلکہ ماضی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔

آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی لہرسفارتی بیانات سے نکل کرباقاعدہ مسلح تصادم کی صورت اختیارکرچکی ہےاور افغانستان کی جانب سے پاکستان پرکھلے حملوں نے جنگ کاآغازکردیاہے،تویہ محض دو ریاستوں کانزاع نہیں رہابلکہ پورے خطے کے مستقبل کاسوال بن چکاہے۔یہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں ،بلکہ ایک ایسے خطے کاامتحان ہےجوصدیوں سے تہذیبی ربط،مذہبی ہم آہنگی اورجغرافیائی وابستگی میں بندھا ہواہے۔بندوق کی آوازاگرچہ لمحاتی فیصلہ سناتی ہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ تدبر،اعتدال اور حکمت کے پلڑے میں ہوتاہے۔اس پس منظرمیں یہ جائزہ نہ کسی فریق کی وکالت ہے،نہ کسی الزام کی ترجمانی؛ بلکہ ایک سنجیدہ کاوش ہے کہ حالات کے دھندلکے میں حقیقت کی کرن تلاش کی جائے،اوراس بحران کومحض خبرنہیں بلکہ فہم کے دائرے میں دیکھاجائے—بالخصوص اب جبکہ جنگ کی آگ سرحدکے دونوں جانب بھڑک اٹھی ہے۔

برصغیر اور خراسان کی سرحدیں محض جغرافیہ نہیں، تاریخ کی سلگتی ہوئی سطریں ہیں۔ یہاں پہاڑ گواہ ہیں کہ طاقت کی بازگشت کبھی بندوق سے سنائی دی، کبھی معاہدے کی سیاہی سے۔ حالیہ ایام میں جب پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوں—ننگرہار، پکتیا اور خوست—میں فضائی ضربیں لگائیں تو یہ اقدام ایک عسکری کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی اعلان تھا کہ ریاست اپنی حدود کے تحفظ کے باب میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔

سنیچر (21 فروری) کی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا اور خوست میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں نے خطے کی فضا کو ایک بار پھر بارود کی بُو سے آلودہ کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے ان کارروائیوں کو محض ایک محدود عسکری آپریشن سمجھنا سادہ لوحی ہو گی۔ یہ دراصل ایک پیغام تھا—داخلی بھی اور خارجی بھی۔ داخلی سطح پر یہ باور کرانا مقصود تھا کہ ریاست اپنی رِٹ قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؛ خارجی سطح پر یہ اشارہ کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان “حقِ دفاع” کے اصول کے تحت پیش قدمی کرے گا۔

سنیچر (21 فروری)کی شب پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار،پکتیا اورخوست میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اوردولتِ اسلامیہ خراسان کے سات مراکزکونشانہ بنایاگیاجہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔اور80شدت پسندہلاک ہوئے۔اسلام آباد کے مطابق نشانہ وہ مراکزتھے جہاں تحریک طالبان پاکستان اوردولتِ اسلامیہ خراسان کے مسلح عناصرسرگرم تھے۔دعویٰ کیاگیاکہ متعددشدت پسندمارے گئے۔ کابل نے اسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قرار دیتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیااورجواب دینے کی تنبیہ کی۔اوراب وہ تنبیہ عملی اقدام میں ڈھل چکی ہے۔یوں توپ کی آوازسفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بنی اوراب وہ باب باقاعدہ جنگی مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔

آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی لہردوبارہ ابھری ہے،تویہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ ایک ایسے خطے کاامتحان ہے جوصدیوں سے تہذیبی ربط،مذہبی ہم آہنگی اورجغرافیائی وابستگی میں بندھاہواہے۔بندوق کی آوازاگرچہ لمحاتی فیصلہ سناتی ہے، مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ تدبر،اعتدال اورحکمت کے پلڑے میں ہوتاہے۔اس پس منظرمیں یہ جائزہ نہ کسی فریق کی وکالت ہے،نہ کسی الزام کی ترجمانی؛بلکہ ایک سنجیدہ کاوش ہے کہ حالات کے دھندلکے میں حقیقت کی کرن تلاش کی جائے،اوراس بحران کومحض خبر نہیں بلکہ فہم کے دائرے میں دیکھاجائے۔

برصغیراورخراسان کی سرحدیں محض جغرافیہ نہیں،تاریخ کی سلگتی ہوئی سطریں ہیں۔یہاں پہاڑگواہ ہیں کہ طاقت کی بازگشت کبھی بندوق سے سنائی دی،کبھی معاہدے کی سیاہی سے۔حالیہ ایام میں جب پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوں—ننگرہار،پکتیااور خوست—میں فضائی ضربیں لگائیں تویہ اقدام ایک عسکری کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی اعلان تھاکہ ریاست اپنی حدودکے تحفظ کے باب میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔

کابل نے اسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قراردیتے ہوئے سرحدی خلاف ورزی قرار دیااوردعویٰ کیا گیا کہ عام شہری،حتیٰ کہ خواتین واطفال بھی اس کی زد میں آئے۔ عام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیااور جواب دینے کی تنبیہ کی۔جدید عالمی قانون میں ریاستی خودمختاری ایک مقدس اصول ہے،اور اس کی خلاف ورزی کو اکثر جارحیت کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔یوں ایک محدود کارروائی بھی سفارتی بحران میں ڈھل سکتی ہے۔یوں توپ کی آوازسفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بن گئی۔

یہ سارا قضیہ دراصل اُس معاہدے کی تعبیرسے جڑاہے جسے دوحہ معاہدہ کے نام سے جاناجاتاہے۔دوحہ معاہدہ بنیادی طورپرامریکااور افغان طالبان کے درمیان طے پایاتھا،مگراس کے اثرات پورے خطے پرمرتب ہوئے ۔اس عہدنامے میں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت شامل تھی۔افغان پاکستان کااستدلال یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدہ کی روح کی پاسداری نہیں کی،اس شرط کی روح مجروح ہوئی ہے؛اورافغان سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کیلئےاستعمال ہورہی ہے اوریہ طرزِعمل دوحہ معاہدہ کی روح کے منافی ہے۔دوسری جانب افغان طالبان کامؤقف ہے کہ پاکستان اپنی داخلی شورش کوبیرونی رخ دینے کی کوشش کررہاہے جس کابوجھ دوسروں کے کاندھوں پرنہیں ڈالاجاسکتا۔یوں معاہدے کی تعبیراختلاف کامرکزبن گئی ہے۔اوراب جنگ نے اس اختلاف کومزید گہراکردیاہے۔

پاکستان کامؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کوافغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسرہیں۔کابل کاجواب یہ ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔یہاں مسئلہ الفاظ کانہیں،تعبیرکاہے—اورتعبیرہمیشہ اعتمادکی آغوش میں پلتی ہے،بداعتمادی کے سایے میں نہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں“عہد”اور“الزام”کے درمیان سچائی کی لکیردھندلاجاتی ہے،اورتاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب معاہدے اعتمادکے بغیرہوں تو وہ کاغذکے پرزے بن کرہوامیں اڑجایاکرتے ہیں۔ یہاں سوال صرف معاہدے کی تشریح کانہیں،بلکہ اعتمادکی فضاکاہے۔جب نیتوں پرشبہ ہو توالفاظ اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔

صدرپاکستان نے خبردارکیاکہ افغانستان میں موجودغیرتسلیم شدہ حکومت دہشتگردعناصرکوپناہ دے رہی ہے،جونہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ دنیاکوایک نئے“نائن الیون”کی دہلیزتک لاسکتی ہے۔یہ اشارہ یقیناً11ستمبرحملوں کی طرف تھا—وہ سانحہ جس نے عالمی سیاست کادھاراموڑدیاتھا۔صدر نے جس“نئے نائن الیون”کاخدشہ ظاہرکیا،وہ محض خطیبانہ اندازنہیں بلکہ سفارتی حکمتِ عملی اورسفارتی دباؤکاحربہ بھی ہے۔عالمی توجہ کوایک ایسے بحران کی طرف مبذول کراناجوبظاہرعلاقائی مگردرحقیقت بین الاقوامی نوعیت رکھتاہے۔

ان کابیان محض داخلی سیاست کاجملہ نہیں،بلکہ عالمی ضمیرکوجھنجھوڑنے کی ایک کاوش ہے کہ جب سرحدیں بے قابوہوجائیں توآگ کی چنگاری دوردرازبستیوں کوبھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔صدرپاکستان نے حالیہ بیان میں عالمی برادری کومتنبہ کیاکہ اگرغیرریاستی گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسررہیں تودنیاایک نئے سانحے کی دہلیزپرآسکتی ہے جس نے عالمی سیاست کوجھنجھوڑدیاتھا۔ان کابیان دراصل عالمی برادری کومتحرک کرنے کی کوشش سمجھاجارہاہے۔11ستمبرحملوں کے بعدعالمی سیاست نے دہشتگردی کے خلاف اجتماعی کارروائی کاتصوراپنایا۔پاکستان اسی عالمی یادداشت کوجگاناچاہتاہے تاکہ افغانستان کامسئلہ عالمی ترجیح بن سکے۔یہ بیان دراصل عالمی برادری کومخاطب ہے:اگرآج خاموشی اختیارکی گئی توکل کانقصان مشترک ہوگا۔مگراب سوال یہ ہے کہ جب جنگ چھڑ چکی ہوتو کیاعالمی برادری محض بیانات تک محدودرہے گی یاعملی سفارت کاری کاراستہ اختیار کرے گی؟افغانستان کی جانب سے باقاعدہ حملوں کی خبریں آ رہی ہیں—سرحدی چوکیوں پر ولہ باری،فضائی حدود ی خلاف ورزی کے الزامات، وربعض مقامات پر زمینی جھڑپیں—تو صورت حال ایک محدود تنازع سے بڑھ کر کھلی جنگ کے دہانے پرپہنچ چکی ہے۔جنگ کا آغازہمیشہ تیزہوتا ہے، مگراس کااختتام اکثرطویل اورتھکادینے والا۔

مگراس بیچ ایک اورپہلوبھی ہے:تجارت کی بندراہیں،معیشت کی رکی ہوئی سانسیں،اورعوامی اضطراب۔جب سرحدی گزرگاہیں بندہوتی ہیں توبارودسے زیادہ نقصان روٹی کوپہنچتاہے۔معاشی تنگی سماجی بے چینی کوجنم دیتی ہے،اوریہی بے چینی شدت پسندی کیلئےنرم زمین بن سکتی ہے۔گزشتہ کئی ماہ سے اس نئی صورت حال میں سب سے بڑا سوال عسکری نہیں بلکہ معاشی اورانسانی ہے۔سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بندش، تجارت کی معطلی،ایندھن اورخوراک کی قلت، بیانات تند — اورپاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔یہ سب جنگ کے وہ پہلوہیں جوگولی سے زیادہ دیرپازخم دیتے ہیں۔پاک۔ افغان تجارت جوکبھی اربوں ڈالرتک پہنچتی رہی،اب تقریباًمنجمد ہے۔سرحدی آبادیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے،اورمہاجرین کے ایک نئے ریلے کاخدشہ سر اٹھارہاہے۔یوں عسکری کشیدگی معاشی بحران کواورمعاشی بحران عسکریت کوجنم دیتاہے۔سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کب تک اس کشیدگی کابوجھ اٹھا سکتے ہیں؟کیا مکالمے کی کوئی کھڑکی ابھی باقی ہے،یاتاریخ ایک بارپھر“رجیم چینج”کے پرانے نسخے کودہرانے کی طرف بڑھ رہی ہے؟

ادھرپاکستان اپنے آپ کودہشتگردی کے مقابل ایک حصارقراردیتاہے۔پاکستان کے مطابق خطرہ صرف کوئٹہ یالاہورتک محدودنہیں بلکہ اس کی پرچھائیں مغربی دارالحکومتوں تک پھیل سکتی ہیں۔اس مؤقف کی تقویت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اُن رپورٹس سے بھی ہوتی ہے جن میں افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کاذکرملتاہے،جن میں القاعدہ کانام بھی شامل ہے۔چین،ایران، تاجکستان اورازبکستان جیسے ممالک کی تشویش اس امرکی دلیل ہے کہ معاملہ سرحدی کشمکش سے بڑھ کرعلاقائی استحکام کاسوال بن چکاہے۔

پاکستان خودکو“فرنٹ لائن اسٹیٹ”قراردیتاہے—یعنی وہ دیوارجس پرپہلی ضرب پڑتی ہے۔“دیوار”والااستعارہ دراصل2001کےبعدکی پاکستانی حکمتِ عملی کی توسیع ہے،جب پاکستان نے خودکو دہشتگردی کےخلاف جنگ میں اولین مورچہ قراردیاتھا۔یہ بیانیہ عالمی ہمدردی اورمعاونت حاصل کرنے کاذریعہ بھی ہے—کیونکہ جودیوار گرتی ہے،اس کے ملبے تلے سب دب سکتے ہیں۔یعنی پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی حصار ہے۔ان کاکہناہے کہ خطرہ صرف مقامی شہروں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی سے جڑا ہواہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ نے افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے،جن میں القاعدہ بھی شامل ہے۔ہمسایہ ممالک—تاجکستان، ایران،ازبکستان اورچین—سب تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب علاقائی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں دولتِ اسلامیہ خراسان اورالقاعدہ کی موجودگی کی تصدیق علاقائی ممالک کے خدشات کوتقویت دیتی ہے۔سلامتی کونسل کی رپورٹ میں اس علاقائی اضطراب کے واضح ذکرنے خطے میں کشیدگی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ چین کوسنکیانگ کے تناظرمیں،ایران کوسرحدی سلامتی کے حوالے سے،اور تاجکستان کوغیر ملکی جنگجوؤں کی نقل وحرکت پرتشویش ہے۔یہ مسئلہ اب محض پاک۔افغان تنازع نہیں رہا،بلکہ وسطی وجنوبی ایشیا کی مشترکہ سلامتی کاسوال بن چکاہے۔اس صورتِ حال پرچین، ایران،تاجکستان اور ازبکستان سمیت متعدد ممالک تشویش کااظہارکر چکے ہیں۔

عالمی منظرنامے پربھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔دنیا پہلے ہی یوکرین اورمشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں الجھی ہوئی ہے اوراب توخطے میں ایران پرامریکی واسرائیلی حملوں نے مزیدتشویش پیداکردی ہے۔افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظراندازکرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے—چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔ اب اگرپاک۔افغان جنگ طول پکڑتی ہے تویہ خطہ ایک بارپھرعالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن سکتاہے۔

افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظرانداز کرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے—چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔پاکستان دہشتگردوں اوردنیاکے مابین ایک دیوارہے۔لیکن دیواریں اگر مسلسل ضرب سہتی رہیں توان میں دراڑیں پڑہی جاتی ہیں۔ہدف صرف کوئٹہ یالاہور نہیں،بلکہ لندن اورنیویارک تک پھیلاہواہے۔شدت پسندی سرحدی پٹیوں سے نکل کر شہری مراکزتک پہنچ چکی ہے، جس سے پاکستان کی برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ریاستی ادارے اسے وجودی چیلنج کے طورپردیکھ رہے ہیں۔

شام کے محاذ کے سرد ہونے کے بعدمشرقِ وسطیٰ کے جنگجوافغانستان کارخ کررہے ہیں۔عالمی سیاست اس وقت دیگرتنازعات میں الجھی ہوئی ہے،جس کے باعث افغانستان عالمی ترجیحات میں پیچھے چلاگیاہے۔یعنی دنیااس وقت روس۔یوکرین تنازع اورایران۔امریکا کشیدگی میں الجھی ہوئی ہے،مگرافغانستان کی خاموش آندھی کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ بن سکتی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اس بحران کونظراندازکرنامستقبل میں بڑے خطرات کودعوت دے سکتا ہے۔

وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے بیانات سے پہلے ہی یہ تاثرابھراتھاکہ اگرکابل کی موجودہ انتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کوپورانہ کرے تو متبادل امکانات پرغور کیا جا سکتاہے۔مگراب جنگ کے آغازنے اس بحث کومزیدپیچیدہ بنادیاہے۔تاہم کئی سفارتی حلقے اس حکمتِ عملی کو پرخطرقراردیتے ہیں۔“رجیم چینج”کا تصور کاغذپرجتناآسان دکھائی دیتاہے،زمینی حقائق میں اتناہی پرخطرثابت ہوتاہے۔عراق،لیبیااورخود افغانستان کی تاریخ اس کی مثال ہے۔تاہم فوجی کارروائی مسئلے کاحل نہیں؛بیک چینل ڈپلومیسی ہی کشیدگی کم کرسکتی ہے جس کیلئے ایسے افرادکی ضرورت ہے جوامت مسلمہ کادرداوران دونوں فریقوں کے درمیان قابل احترام اوراثرونفوذرکھنے والے سمجھے جاتے ہوں۔

پاک افغان تعلقات کے ماہرین کے مطابق یقیناًافغانستان میں غیرملکی جنگجوموجودہیں،مگر فوجی کارروائی مسئلے کامستقل حل نہیں۔وہ “بیک چینل ڈپلومیسی”کو ناگزیرقراردیتے ہیں—کیونکہ توپ کی گھن گرج سے زیادہ دیرپا اثرکبھی کبھی خاموش مکالمہ ڈال جاتاہے۔لیکن یہاں بھارت کے مکارانہ سازشی زاویہ اور علاقائی شطرنج کوسمجھنا بھی اہم ہے کہ اب یہ شواہد کے ساتھ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بھارت افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی مددکرتاہے،جس کی بھارت تردیدتوکرتاہے لیکن پاکستان کی طرف سے دئیے گئے ٹھوس شواہدکےخلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہے۔بھارت کی یہ مکارانہ سازش خطے کو “پراکسی سیاست”کی طرف دھکیل رہی ہے،جہاں براہِ راست جنگ کی بجائے بالواسطہ محاذآرائی کے امکانات بڑھ رہے ہیں جودوایٹمی قوتوں کے ردعمل میں ساری دنیاکیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کی برداشت اب آخری حدوں کوچھورہی ہے،کیونکہ شدت پسندی سرحدی علاقوں سے نکل کردارالحکومت تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان استحکام چاہتاہے اوراس سلسلے میں چین کی جانب دیکھ رہاہے—گویامشرق کی سفارت کاری سے مغرب کی بے چینی کا تدارک چاہتاہوجبکہ دوسری طرف افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے داعش قیدیوں اورشدت پسند قیدیوں کی حوالگی کامطالبہ کیا،جسے پاکستان نے مستردکردیا۔اس معاملے نے دونوں ملکوں کے مابین اعتمادکی فضااور سفارتی تناؤکومزیدمتاثرکیاہے۔

پاکستان کامؤقف ہے کہ ایساکوئی معاہدہ موجودنہیں۔قیدیوں کاتبادلہ بین الاقوامی قانون اوردوطرفہ معاہدات کاتقاضاکرتاہے،محض بیانات کا نہیں۔فی الوقت سفارتی اورتجارتی تعلقات منجمدہیں۔پاکستان کامؤقف ہے کہ مذاکرات میں ثبوت پیش کیےگئے،مگر کابل مسئلے کے وجود ہی کوتسلیم کرنے پرآمادہ نہیں —اورجب مرض کااقرارنہ ہوتوعلاج کی راہ کیسے نکلے؟یادرہے کہ سفارتی وتجارتی روابط کی معطلی نے عوامی سطح پربھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔طویل جموددونوں معاشروں میں بداعتمادی کوگہراکرسکتاہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق عسکری راستہ دیرپااستحکام فراہم نہیں کرتا۔ان کے مطابق پسِ پردہ مذاکرات اورعلاقائی تعاون ہی کشیدگی کم کرنےکامؤثرذریعہ ہوسکتے ہیں۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیادونوں ریاستیں طاقت کےاستعمال سے آگے بڑھ کراعتمادسازی اور مکالمے کی راہ اختیارکرسکتی ہیں؟تاریخ کا سبق یہی ہے کہ پائیدارامن توپ کے دہانے سے نہیں بلکہ تدبر،صبراورسیاسی بصیرت سے جنم لیتاہے۔

اسی تناظر میں“حکومت کی تبدیلی”کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔وزیر دفاع کے بیان اوردیگر سرکاری مؤقف سے یہ تاثرضرور ابھراکہ پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی چاہتاہے اوراس تاثرکو تقویت ملی کہ اگر کابل میں موجودانتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کو پورانہ کرے تومتبادل راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ مگرمبصرین خبردارکرتے ہیں کہ رجیم چینج کانسخہ اکثرزخم کوگہراکردیتاہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ طالبان کے اندرکسی معتدل دھڑے کی تقویت زیادہ قابلِ عمل راستہ ہو—تاکہ تبدیلی اندرسے آئے،باہرسے مسلط نہ کی جائے۔

تاہم سفارتی حلقوں سے وابستہ شخصیات—کاخیال ہے کہ عسکری راستہ مزیدانتشارکوجنم دے سکتاہے،اس لیے پسِ پردہ مذاکرات اور علاقائی ہم آہنگی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔تاہم چندممکنہ راستے یہ ہوسکتے ہیں کہ بیک چینل مذاکرات کی بحالی،مشترکہ سرحدی نگرانی کانظام،علاقائی کانفرنس جس میں چین، ایران اوروسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہوں،طالبان کے اندرمعتدل عناصرکی حوصلہ افزائی کی جائے۔یہ راستے مشکل ضرور ہیں ، مگربندگلی سے بہترہیں۔

پاکستان کادعویٰ ہے کہ بھارت اسرائیل سمیت ایک اورملک بھی افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی پشت پناہی کررہے ہیں، اگرچہ متعلقہ ممالک ان الزامات کی تردیدکرتے ہیں۔یہ پہلوعلاقائی سیاست کومزیدپیچیدہ بنادیتاہے۔وسطی ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی پرتشویش رکھتی ہیں۔اس لیے ایک مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی اورہم آہنگی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ بیرونی دباؤ کے بجائے افغان قیادت کے اندرمعتدل عناصرکی تقویت زیادہ مؤثرہوسکتی ہے،تاکہ تبدیلی داخلی سطح پرابھرے نہ کہ مسلط کی جائے۔جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق شدت پسندی کے خلاف جدوجہدناگزیرہے اوراس میں پسپائی ممکن نہیں۔ان کاکہناہے کہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائےگا۔پاکستان کاکہنا ہے کہ وہ صرف یہ چاہتاہے کہ افغانستان ایک ذمہ دار ریاست کے طورپراپنے وعدے پورے کرے۔عسکری کارروائی عوامی غم وغصہ بڑھاسکتی ہے اوربھارت،اسرائیل اوردیگردشمن قوتیں ان جذبات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔لہٰذاضروری ہے کہ بیک چینل رابطے بحال ہوں،تاکہ بداعتمادی کی برف پگھل سکے۔

اس جنگی مرحلے کاسب سے اہم پہلویہ ہے کہ کیادونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف مزیدبڑھیں گے یامحدود تصادم کے بعدسفارتی راستہ تلاش کریں گے؟ جنگ کے ابتدائی بیانات ہمیشہ جذباتی ہوتے ہیں،مگرریاستیں بالآخراپنے مفادات کی بنیادپرفیصلے کرتی ہیں۔اگر جنگ طویل ہوئی تودونوں ممالک کی معیشت، داخلی استحکام اورعلاقائی تعلقات شدیددباؤ میں آجائیں گے۔کچھ سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے اب بھی منقطع نہیں ہوئے۔چین اوربعض علاقائی ممالک ممکنہ ثالثی کیلئے سرگرم ہوسکتے ہیں۔اگرایساہواتویہ بحران ایک بڑے تصادم میں بدلنے سے قبل روکاجاسکتاہے لیکن اگرعسکری کارروائیاں بڑھتی گئیں ، توخدشہ ہے کہ غیر ریاستی عناصر اس افراتفری سے فائدہ اٹھاکرمزید محاذکھول دیں گے۔

پاکستان کامؤقف ہے کہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائے گا۔افغانستان کامؤقف ہے کہ خودمختاری پرسمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔دونوں بیانیے بظاہراپنی جگہ مضبوط ہیں—مگرجنگ ہمیشہ بیانیوں سے زیادہ زمینی حقیقتوں سے طے ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان نے افغان طالبان کوان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے باقاعدہ مضبوط شواہد کے ساتھ ان کاروائیوں کو روکنے کیلئے لاکھ جتن کئے ہیں لیکن افغان رجیم اس معاملہ پرسنجیدگی سے عمل کرنے کی بجائے اس وقت بھارت اوراسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی کاکردار اداکررہی ہے۔

آج اس بحران کاسب سے نازک پہلویہ ہے کہ دونوں ریاستیں داخلی دباؤکاشکارہیں۔عوامی جذبات بھڑکے ہوئے ہیں،میڈیاکابیانیہ سخت ہے،اورسوشل میڈیا پرقومی غیرت کے نعرے گونج رہے ہیں۔ایسے ماحول میں پسپائی یامصالحت کافیصلہ سیاسی طورپرمشکل ہوجاتا ہے—مگرتاریخ گواہ ہے کہ دانشمند قیادت وہی ہوتی ہے جوجذبات کے طوفان میں بھی تدبرکی کشتی کوڈوبنے نہ دے۔پاکستان اور افغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں کانہیں، بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی کاامین ہے۔جنگ اس رشتے کووقتی طورپر پانسہ بدل سکتی ہے،مگر اسے مکمل طورپرمنقطع نہیں کرسکتی۔سوال یہ ہے کہ کیادونوں ممالک اس آگ کو محدود رکھ سکیں گے،یایہ شعلے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لیں گے؟

پاکستان اورافغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں سے نہیں،بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سے جڑاہے۔پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض دوہمسایہ ریاستوں کابھی نہیں،بلکہ تاریخ،تہذیب اورمذہب کے رشتوں کاآئینہ دارہے۔مگرجب اعتمادکی ڈورکمزورہوجائے،جب سیاست حکمت سے عاری ہوجائے تورشتہ بھی بوجھ بن جاتاہے اورہمسائیگی بھی اجنبیت کاروپ دھارلیتی ہے۔

سوال اب بھی قائم ہے کیامسئلے کاحل بارودمیں ہے یابصیرت میں؟کیارجیم چینج استحکام لاسکتاہے یاانتشارکودعوت دے گا؟اورہاں اصل سوال یہ نہیں کہ توپ چلائی جائے یانہیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیادونوں ریاستیں اپنے داخلی بیانیوں سے اوپراٹھ کرمشترکہ مستقبل کی تعمیرکر سکتی ہیں؟اگرجواب اثبات میں ہے توتاریخ ایک نئے باب کی منتظرہے؛اوراگرنفی میں،تواندیشہ ہے کہ یہ کشیدگی محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ پورے خطے کےامن کواپنی لپیٹ میں لے لے۔

یادرکھیں کہ تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگر مکالمہ بحال ہوجائے توشایدسرحدوں کی گھن گرج پھرسے بازاروں کی رونق میں ڈھل سکے—اوراگرنہیں،تواندیشہ ہے کہ یہ آگ صرف دوملکوں تک محدودنہ رہے گی،بلکہ اس کے شعلے دورافق تک لپکیں گے۔ان تمام پہلوؤں کے بیچ ایک بنیادی سوال ابھرتاہے:کیا طاقت کے استعمال سے پائیدار امن ممکن ہے؟تاریخ کاسبق یہ ہے کہ بندوق راستہ کھول سکتی ہے، منزل نہیں دکھاسکتی۔اگرکابل اپنی سرزمین کومسلح گروہوں سے پاک کرنے کی سنجیدہ کاوش کرے اوراسلام آباد سفارتی مکالمے کی ڈورتھامے رکھے توشاید برف پگھلنے کاامکان پیداہو۔بصورتِ دیگربداعتمادی کایہ کوہِ گراں پورے خطے پرسایہ فگن رہے گا۔

پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض ہمسائیگی نہیں بلکہ تہذیبی اشتراک کاآئینہ دارہے۔پاکستان اورافغانستان کارشتہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سے بندھاہے ۔یہ وہ ہمسائیگی ہے جسے دشمنی کے سانچے میں ڈھالناآسان، مگرامن کے قالب میں ڈھالنادشوارہے۔اگرباہمی ذمہ داریوں کااحساس غالب آجائے توکشیدگی کی یہ دھندچھٹ سکتی ہے؛بصورتِ دیگریہ بحران نہ صرف دوملکوں بلکہ پورے خطے کے امن کواپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔آج فیصلہ صرف دوریاستوں کانہیں،آنے والی نسلوں کے مستقبل کاہے یاتوخطہ باہمی بصیرت سے استحکام کی راہ چنے،یاپھرتاریخ ایک اوربے سکونی کاباب رقم کرے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے بل پر کھڑی کی گئی عمارتیں دیرپا نہیں ہوتیں؛ پائیدار بنیادیں ہمیشہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام سے استوار ہوتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا رشتہ محض سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی، مشترک اقدار اور انسانی روابط کا امین ہے۔ اگر یہ رشتہ کمزور پڑتا ہے تو دراصل پورا خطہ عدم استحکام کے بھنور میں اتر جاتا ہے۔

تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگرموجودہ جنگ کو بروقت سفارتی تدبر سے روکاگیاتویہ بحران ایک آزمائش کے طورپریادرکھاجائے گا۔اگر نہیں،تواندیشہ ہے کہ یہ تصادم محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ جنوبی ووسطی ایشیاکے امن واستحکام کوطویل عرصے کیلئے متاثرکردے۔انتخاب اب بھی ممکن ہے—یاتوتصادم کی راہ کووسعت دی جائے،یاتدبرکی شاہراہ تلاش کی جائے۔جنگ کاآغازہوچکاہے،مگراس کااختتام ابھی تاریخ نے نہیں لکھا۔یہ فیصلہ آج کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کوایک اورمحاذدے کرجائیں یاایک مشکل مگرپائیدار امن کی بنیاد رکھیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات کی تپش کو تدبر کی ٹھنڈک سے متوازن کیا جائے؛ عسکری دباؤ کو سفارتی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے؛ اور الزام کے شور میں مکالمے کی آواز کو دبنے نہ دیا جائے۔ اگر قیادتیں اپنے اپنے بیانیوں سے بلند ہو کر مستقبل کی نسلوں کے حق میں فیصلہ کریں تو یہ بحران بھی تاریخ کے اوراق میں ایک آزمائش کے طور پر درج ہو گا—نہ کہ ایک مستقل زخم کے طور پر۔ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ سرحدوں پر اٹھنے والی چنگاریاں کسی ایک دیس تک محدود نہ رہیں، اور وہ آگ جسے بروقت حکمت سے بجھایا جا سکتا تھا، آنے والے کل کے افق کو سرخ کر دے۔انتخاب آج بھی ممکن ہے—یا تو تصادم کی راہ، یا تدبر کی شاہراہ۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہم نے کون سا راستہ چنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں