When Silence Speaks

جب خاموشی بولنے لگے

عصرِحاضرکی عسکری دنیامیں جہاں قوتِ بازوسے زیادہ قوتِ علم اورخاموش تیاری فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے،وہاں چین کے جدید اور پراسرارطویل فاصلے تک مارکرنے والے فضاءسے فضاءمیں وارکرنے والے میزائل پی ایل–17کی پہلی جھلک کامنظرِعام پرآنا محض ایک تصویرنہیں،بلکہ طاقت کے توازن میں ایک معنی خیزاشارہ ہے،ایسااشارہ جوبہت کچھ کہہ کربھی بہت کچھ ناگفتہ چھوڑدیتا ہے۔پی ایل–17کی منظرِعام پرآنے والی پہلی جھلک کومغرب میں محض ایک عسکری تصویرنہیں سمجھاگیابلکہ اسے چین کی اس طویل المدت حکمتِ عملی کاایک اورباب تصورکیاگیاہے جس میں خاموشی،ابہام اورتدریج بنیادی اوصاف ہیں۔مغربی عسکری ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ چین جوکچھ دکھاتاہے،اس سے کہیں زیادہ چھپاکررکھتاہے—اورجوچھپاکررکھتاہے،وہی اصل پیغام ہوتاہے۔

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں عالمی طاقتوں کی کشمکش محض نظری نہیں رہی بلکہ براہِ راست خطے کی فضاؤں،سمندروں اور سرحدوں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔چین کے عسکری عروج اوراس کے جدیدہتھیار،خصوصاًپی ایل–17، پاکستان کیلئےنہ صرف ایک اتحادی کی طاقت کامظہرہیں بلکہ ایک نئے تزویراتی ماحول کااعلان بھی۔بدلتاہواعالمی عسکری توازن، خصوصاًچین کی جدید فضائی صلاحیتوں(جیسے پی ایل–17)کاظہور،جنوبی ایشیااوربحرالکاہل کے خطے میں طاقت کے روایتی تصورات کوازسرِنوتشکیل دے رہاہے۔پاکستان،اپنی جغرافیائی حیثیت اورتزویراتی شراکت داریوں کے باعث،اس تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہونے والاملک ہے۔

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اب دونہیں بلکہ کم ازکم تین ستونوں پرکھڑی دکھائی دیتی ہے::چین،امریکااوربھارت۔ان تینوں کی باہمی کشمکش محض عسکری نہیں بلکہ تہذیبی،معاشی اورنفسیاتی بھی ہے۔دنیامیں طاقت کاتوازن بدل رہاہے،چین نئی اور بہت طاقتوردفاعی ٹیکنالوجی لارہاہے،جس سے امریکااوربھارت دونوں اپنی حکمتِ عملی پردوبارہ غورکررہے ہیں۔دفاعی تجزیہ نگاروں کی آراءاگرچہ محتاط ہیں،مگران میں اضطراب کی ہلکی سی لرزش نمایاں ہے۔ان کے مطابق پی ایل–17ممکنہ طورپردنیاکاسب سے طویل رینج رکھنے والافضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل ہوسکتاہے،اوراگریہ اندازے درست ثابت ہوئے تومغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی برتری کیلئےیہ محض ایک نیاہتھیارنہیں بلکہ ایک نئی حکمتِ عملی کااعلان ہوگا۔امریکااس سہ فریقی مثلث میں اب بھی خودکوعالمی نظم کانگہبان سمجھتاہے،مگرچین کی خاموش،مسلسل اورسائنسی پیش قدمی اس تصورکوچیلنج کررہی ہے۔پی ایل–17اسی چیلنج کی ایک مثال ہے—ایک ایساہتھیارجواعلان سے زیادہ سوال اٹھاتاہے۔امریکی دفاعی حلقوں میں پی ایل–17کوخاص طورپرگیم چینجرکے تناظرمیں دیکھاجارہا ہے۔مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی حکمتِ عملی برسوں سے طیارہ برداربحری بیڑوں اوران کے گردقائم فضائی تحفظ پرقائم رہی ہے،مگر 400کلومیٹریااس سے زائدرینج رکھنے والافضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل اس تصورکی بنیادوں میں دراڑڈال سکتاہے۔

چین اورپاکستان کے مابین دفاعی تعاون محض معاہدوں اورمشقوں تک محدود نہیں،بلکہ ایک مشترک تزویراتی شعورکی صورت اختیار کرچکاہے۔ایسے میں پی ایل–17جیسے میزائل پاکستان کیلئےبالواسطہ طورپرایک حفاظتی چھتری کاتصورپیداکرتے ہیں،خاص طورپر جب خطے میں طاقت کاجھکاؤبھارت کی جانب بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہوں۔چین کی طویل فاصلے تک مارکرنے والی فضائی صلاحیت خطے میں فضائی بالادستی کے تصورکومحدودکررہی ہے۔اس کے نتیجے میں بھارت کی فضائی آپریشنل آزادی متاثرہوسکتی ہے،جوبالواسطہ طورپرپاکستان کیلئےایک ڈیٹرنس سٹیبلائزر(بازدارتوازن)کاکردارادا کرسکتی ہے۔یہ تبدیلی پاکستان کیلئےبراہِ راست جنگ کاپیغام نہیں،بلکہ ایک موقع بھی ہے کہ خطے میں طاقت کاتوازن برقراررہے اور کوئی ملک بلاروک ٹوک برتری حاصل نہ کرسکے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تصویرحالیہ ایام میں چینی سوشل میڈیا پرگردش کرتی رہی ہے،مگراس کے وقت اورمقام کے بارے میں سرکاری سطح پرکوئی تصدیق سامنے نہیں آسکی۔گویایہ تصویربھی چین کی عسکری روایت کے مطابق—خاموشی میں بولنے والی ایک علامت ہے۔امریکامیں عسکری تجزیہ کاراس نکتے پرمتفق دکھائی دیتے ہیں کہ پی ایل–17کااصل ہدف محض دشمن طیارے نہیں بلکہ ہائی ویلیوایئراثاثے ہیں—جیسے فضائی ری فیولنگ ٹینکرز،ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز”اواکس”اورکمانڈاینڈکنٹرول پلیٹ فارمز ۔ یہ وہ آنکھیں اورشریانیں ہیں جن کے بغیرجدید فضائی جنگ اندھی اورکمزورہوجاتی ہے۔

پاکستانی عسکری منصوبہ بندی میں فضائی طاقت ہمیشہ ایک فیصلہ کن عنصررہی ہے۔اگرچین خطے میں طویل فاصلے تک مارکرنے والی فضائی صلاحیت میں برتری حاصل کرتاہے تواس کافائدہ پاکستان کوایک اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی صورت میں مل سکتاہے—ایسی گہرائی جوبراہِ راست تصادم کے بغیرتوازن قائم رکھے۔چین کے ساتھ پاکستان کی دفاعی شراکت داری محض ہتھیاروں کے حصول تک محدودنہیں بلکہ مشترکہ تزویراتی مفادات پرمبنی ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی فضائی برتری پاکستان کوایک محفوظ اسٹریٹیجک ماحول فراہم کرسکتی ہے،بشرطیکہ پاکستان اپنی پالیسی خودمختاری برقراررکھے۔چین کی مضبوطی کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کولاپرواہوجانا چاہیے،بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان کواپنی دفاعی اورسفارتی پالیسی زیادہ سمجھ داری سے چلانی ہوگی۔

بھارت اس منظرنامے میں خودکوامریکاکافطری اتحادی تصورکرتاہے،مگراس کی جغرافیائی حقیقت اسے چین کے بالکل سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چینی عسکری ترقی،خصوصاًفضائی طاقت،بھارت میں محض تشویش نہیں بلکہ بےچینی پیداکررہی ہے۔بھارتی اسٹریٹیجک حلقوں میں یہ احساس گہراہوتاجارہا ہے کہ اگرچین فضاؤں میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلیتاہے توجنوبی ایشیامیں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں نہیں رہے گا—اوریہی احساس بھارت کو تیز تر عسکری تیاری اورمغربی اتحادوں کی طرف دھکیل رہاہے۔

تصویرمیں ایک پی ایل–17میزائل یااس کاہم قامت ماڈل ایک اسٹینڈپررکھادکھائی دیتاہے۔اس کے سامنے کھڑاشخص،جس کاچہرہ ڈیجیٹل پردے میں چھپایاگیاہے،خوداس رازداری کااستعارہ بن جاتاہے جوچینی دفاعی منصوبہ بندی کی پہچان ہے۔بیشترعسکری ماہرین کاخیال ہے کہ یہ اصل میزائل نہیں بلکہ اس کاماڈل ہے،تاہم اس کاحجم بعینہٖ حقیقی میزائل کے مطابق ہے—اورعسکری دنیامیں حجم اکثرسچ بولتاہے۔

پینٹاگون کے اندراس میزائل کوچین کی حکمتِ عملی کاایک فطری تسلسل سمجھاجارہاہے۔یعنی ایساہتھیارمخالف رسائی /علاقے سے انکارجوبراہِ راست جنگ چھیڑنے کے بجائے دشمن کومیدان میں آنے سے پہلے ہی روک دے۔اس زاویے سے دیکھاجائے توپی ایل–17 طاقت کے اظہارسے زیادہ طاقت کے نفسیاتی استعمال کاآلہ بن جاتا ہے۔پی ایل17جیسے نظام امریکا اور بھارت کے دفاعی تعاون کومزید گہراکرسکتے ہیں۔بھارت اورامریکاکے بڑھتے ہوئے تعلقات خطے میں دباؤبڑھاسکتے ہیں،اس لیے پاکستان کیلئےضروری ہے کہ وہ نہ جذبات میں آئے اورنہ ہی تنہائی کاشکارہو۔پاکستان اس رجحان کومحض خطرے کے طورپر نہیں بلکہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کے موقع کے طورپردیکھناچاہیے،خاص طورپرفضائی دفاع اورالیکٹرانک وارفیئرمیں۔تاہم اس منظرنامے کادوسراپہلوبھی نظر اندازنہیں کیاجاسکتا۔ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری مسابقت پاکستان پردباؤڈال سکتی ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے—اورتاریخ گواہ ہے کہ دباؤکے لمحوں میں غیرجانبداررہناسب سے مشکل امتحان ہوتاہے۔

چینی میڈیاکے مطابق پی ایل سیریزدراصل چین کی پیپلزلبریشن آرمی کیلئےتیارکیے گئے فضاءسے فضاء میں مارکرنے والے میزائلوں کاایک تسلسل ہے۔اس سلسلے میں کم فاصلے کیلئےپی ایل–10،درمیانی فاصلے کیلئے پی ایل–11اورپی ایل–12جیسے میزائل پہلے ہی چین کے دفاعی منظرنامے میں اپنی جگہ بناچکے ہیں۔ مغربی عسکری دنیا میں ایک اورتشویش اس امرپربھی پائی جاتی ہے کہ اگرپی ایل–17جیسے میزائل بڑی تعدادمیں فعال ہوگئے توامریکی اوراتحادی فضائی قوت کوزیادہ فاصلے سے،زیادہ محتاط اورزیادہ مہنگے آپریشنزکرنا پڑیں گے—اورجنگ میں“مہنگا”ہونااکثراس کے غیرمؤثرہونے کی علامت بن جاتاہے۔

پاکستان کیلئےاصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑاہے،بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حدتک خودمختارعسکری اورسفارتی فیصلہ سازی برقراررکھ سکتاہے۔چین کی طاقت میں اضافہ موقع بھی ہے اورامتحان بھی—موقع توازن کا،امتحان خودی کا۔پاکستان پربلاک پولیٹکس کا دباؤبڑھ سکتاہے،علاقائی کشیدگی میں اضافہ پاکستان کی معاشی ترجیحات کومتاثرکرسکتاہے،کسی ایک طاقت پرحدسے زیادہ انحصار اسٹریٹیجک کمزوری بن سکتاہے۔امریکا اس سہ فریقی کھیل میں بھارت کو ایک مہرے کے طورپردیکھتاہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے کھیل میں مہرے اکثرخودکوبادشاہ سمجھنے لگتے ہیں—اوریہی غلط فہمی بڑے سانحات کوجنم دیتی ہے۔اصل طاقت صرف ہتھیارنہیں ہوتے؛اصل طاقت یہ ہوتی ہے کہ ملک معاشی طورپرمضبوط ہو،سفارتی طورپرمتوازن ہواورعسکری طورپرہوشیار۔

اطلاعات کے مطابق پی ایل–17کم ازکم گزشتہ ایک دہائی سے تیاری کے مختلف مراحل سے گزر رہاہے،مگراس کے باوجودسرکاری سطح پراس کے بارے میں معلومات نہایت محدودرکھی گئی ہیں۔ نہ یہ میزائل کسی عظیم الشان فوجی پریڈکی زینت بنا،نہ کسی مشق کی ویڈیوزمیں نمایاں ہوا،البتہ 2016کے بعدسے چند دور بین نگاہوں نے اسے جے–16لڑاکاطیارے پرنصب حالت میں دیکھ لیا۔یورپی دفاعی تجزیہ کارنسبتاًکم شورمچاتے ہوئے،مگرگہری نگاہ سے اس پیش رفت کودیکھ رہے ہیں۔ان کے نزدیک پی ایل–17اس بات کی علامت ہے کہ چین اب صرف علاقائی طاقت نہیں رہابلکہ عالمی عسکری معیارمتعین کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کررہاہےاور یہی بات یورپ کیلئےطویل المدت تشویش کاباعث ہے۔

اگرپاکستان نے دانش مندی سے اس بدلتے توازن کوپڑھ لیا،تووہ محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہے گابلکہ خطے میں استحکام کی آوازبن سکتاہے اوراگر یہ موقع ضائع ہواتوطاقتوروں کی کشمکش میں کمزورکی حیثیت ہمیشہ تاریخ کاتلخ باب رہی ہے۔اگرپاکستان نے دانش مندی سے فیصلے کیے توبدلتی دنیامیں وہ کمزور نہیں بلکہ ایک ذمہ داراورمؤثرریاست کے طورپرابھرسکتاہے۔فضائی دفاعی نظام اورالیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری،چین کے ساتھ دفاعی تعاون میں ٹیکنالوجی ٹرانسفرپرزور،امریکااوردیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن سفارتی روابط،خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئےسفارتی کردارکوفعال بنانانہ مصرف وقت کاتقاضہ بلکہ انتہائی اہم ہے۔چین،اس کے برعکس،براہِ راست تصادم سے گریزکرتے ہوئے طاقت کو(بازدارقوت)ڈیٹرنس کے طورپراستعمال کررہاہے۔پی ایل–17 جیسے میزائل اسی فلسفے کی توسیع ہیں،لڑنے کیلئےنہیں، بلکہ لڑائی سے روکنے کیلئےہیں۔

انہی محدودتصاویرکی بنیادپرایک امریکی عسکری تجزیاتی ویب سائٹ نے اندازہ لگایاہے کہ پی ایل–17کی لمبائی چھ میٹر(تقریباًبیس فٹ)سے زیادہ ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک ریڈارگائیڈڈطویل فاصلے تک مارکرنے والامیزائل ہے،جس کی رینج ممکنہ طورپرچارسوکلومیٹرسے تجاوزکرسکتی ہے—اوریہی عددعالمی عسکری حلقوں میں تشویش کاباعث بن رہی ہے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے،وہاں پی ایل–17کومحض ایک دورافتادہ بحرالکاہلی مسئلہ نہیں سمجھاجارہا۔بھارتی اسٹریٹیجک حلقے اسے براہِ راست سینو–انڈین طاقت کے توازن سے جوڑکردیکھتے ہیں،خاص طورپراس پس منظرمیں کہ چین اوربھارت کے درمیان سرحدی تناؤپہلے ہی ایک مستقل حقیقت بن چکاہے۔

یوں پاکستان کیلئےپی ایل–17جیسے ہتھیاروں کی معنویت میزائل کی رینج سے زیادہ،سیاسی بصیرت کی وسعت میں مضمرہے—کہ طاقت کوکیسے دیکھاجائے، کیسے سمجھاجائے،اورکیسے متوازن رکھاجائے۔اس سہ فریقی طاقت کے توازن میں پاکستان ایک خاموش مگراہم عامل ہے۔اس کی جغرافیائی حیثیت،چین کے ساتھ قربت،اوربھارت کے ساتھ تاریخی تناؤ—سب اسے ایک ایسے مقام پرلاکھڑا کرتے ہیں جہاں ایک غلط قدم خطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتاہے۔

پاکستان کیلئےاصل چیلنج کسی ایک ہتھیاریاملک کانہیں،بلکہ بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کوبروقت سمجھنے اوراس کے مطابق خودکو ڈھالنے کاہے۔قومی سلامتی کاتقاضا یہی ہے کہ طاقت،حکمت اورمعاشی استحکام کوایک ہی حکمتِ عملی میں سمویاجائے۔اگردانش مندی غالب رہی تویہی سہ فریقی توازن جنوبی ایشیاکوایک نئی سرد جنگ سے بچاسکتاہے۔اوراگرغرور،خوف یاغلط اندازے غالب آئے،توتاریخ ایک بارپھریہی کہے گی کہ طاقت نے عقل پرسبقت لے لی۔اس کے مقابلے میں اس وقت امریکی فضائیہ کے زیرِاستعمال سب سے زیادہ رینج رکھنے والافضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل اے آئی ایم 120ڈی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً160کلومیٹربتائی جاتی ہے۔یہ تقابل خوداپنی زبان میں بہت کچھ کہہ دیتاہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچین پی ایل–17جیسے طویل فاصلے کے میزائلوں کواپنے مغربی تھیٹرمیں مؤثرطریقے سے تعینات کردیتاہے توبھارتی فضائیہ کی آپریشنل آزادی محدودہوسکتی ہے—خصوصاًان طیاروں کیلئےجوری فیولنگ یافضائی نگرانی پر انحصارکرتے ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے دسمبرمیں کانگریس کوپیش کی گئی چین کی فوجی طاقت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں اس پہلوکی صراحت کی گئی ہے کہ پی ایل–17سے لیس جے–16لڑاکاطیارے کی حملہ آورصلاحیت1400کلو میٹرسے زائدہوسکتی ہے—یعنی خطرہ محض میزائل تک محدودنہیں بلکہ پورے فضائی نظام تک پھیلاہواہے۔اسی تناظرمیں بھارت میں اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں،میزائل ٹیکنالوجی اورشراکت داروں کے انتخاب پر ازسرِنوغورکی آوازیں بلند ہورہی ہیں ۔امریکا،فرانس اوراسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کومحض ہتھیاروں کی خریدنہیں بلکہ ٹیکنالوجیکل توازن کے ایک ذریعہ کے طورپردیکھاجارہاہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ایل–17کے سیکرسسٹم میں جدیداے ای ایس اے ریڈارشامل ہوسکتاہے،جوپہلے ہی پی ایل–15میزائل میں استعمال ہوچکاہے ۔پی ایل–15کو2015میں عملی سروس میں شامل کیاگیاتھا اور اس کی رینج200کلومیٹرسے زائدبتائی جاتی ہے—یوں پی ایل–17اس ارتقائی سلسلے کی اگلی اور کہیں زیادہ خطرناک کڑی معلوم ہوتاہے۔بین الاقوامی طاقت کے توازن کے وسیع تر منظرنامےمیں پی ایل–17ایک واضح اشارہ ہے کہ دنیااب ایک بارپھر ملٹی پولرعسکری نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔وہ دور،جب ایک یادوطاقتیں فضاؤں پربلاشرکتِ غیرے حاکم تھیں،آہستہ آہستہ تاریخ کے اوراق میں سمٹتا دکھائی دیتاہے۔

چینی میڈیاکے مطابق پی ایل–17کی تصویرپہلی مرتبہ2016میں منظرِعام پرآئی تھی،جب اسے جے–16لڑاکاطیارے پرآزمائشی مراحل کے دوران دیکھا گیا۔جے–16چین کاطاقتورترین ہیوی ملٹی رول فائٹرجیٹ ہے اور اب تک یہی واحدطیارہ ہے جس پرپی ایل–17 کی تنصیب کی تصدیق ہوئی ہے—گویایہ ہتھیاراوریہ طیارہ ایک دوسرے کیلئےہی تراشے گئے ہوں۔عسکری تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ طاقت کا توازن ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ ان ہتھیاروں کے تصورسے بدلتاہے۔پی ایل–17شایدابھی پوری طرح عملی صورت میں سامنے نہ آیاہو،مگراس کاتصورہی اتحادی منصوبہ بندی،فضائی مشقوں اوردفاعی بجٹ کی سمت متعین کرنے لگاہے۔

چین کے نقطۂ نظرسے دیکھاجائے توپی ایل–17نہ جارحیت کااعلان ہے،نہ جنگ کی دعوت؛بلکہ یہ اس فلسفے کی توسیع ہے جس میں کہاجاتاہے”ایسی طاقت حاصل کروکہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے”۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عسکری طاقت سفارت کاری کی زبان بولنے لگتی ہے۔یوں پی ایل–17کو اگرمحض ایک میزائل سمجھاجائے تویہ اس کے اثرات کوکم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔درحقیقت یہ ایک علامت ہے—اس علامت کی کہ عالمی طاقت کامرکزبتدریج حرکت میں ہے،اورفضائیں بھی اب اسی حرکت کی گواہ بن رہی ہیں۔

اگرعسکری تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تووہ یہ کہ خاموش تیاری سب سے بلنداعلان ہوتی ہے۔پی ایل–17بھی شایداسی خاموشی کانام ہے—ایک ایسانام جو ابھی پوری طرح پکارانہیں گیا،مگرجس کی بازگشت بحرالکاہل کے افق پرسنائی دینے لگی ہے۔طاقت جب حکمت سے خالی ہوتوفتنہ بن جاتی ہے،اورحکمت جب طاقت سے عاری ہوتودعارہ جاتی ہے۔آج کی دنیاکودونوں درکارہیں—اورپاکستان کوان دونوں کے بیچ اپناراستہ خودتراشناہے۔طاقت کازمانہ شورسے نہیں، توازن سے پہچاناجاتاہے۔جوقوم توازن سمجھ لیتی ہے،وہی تاریخ میں اپنامقام محفوظ رکھتی ہے۔یہ تحریرخبرنہیں،بلکہ تاریخ کے حاشیے پرلکھی جانے والی وہ سطرہے جسے وقت آہستہ آہستہ نمایاں کرتا ہے۔پی ایل–17شایدآج ایک مبہم سایہ ہے،مگرطاقت کی تاریخ میں سائے اکثرآنے والے طوفانوں کی خبر دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں